Baaghi TV

Tag: آئینی بینچ

  • آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ نے مقدمات کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ کیسز نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی آئینی بینچ میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر بھی 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں۔

    آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف دے دیا، قاضی فائز عیسی کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی، وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ کوئی بھی شخص براہ راست چیف جسٹس تعینات نہیں ہوسکتا، پہلے بطور جج تعیناتی ہوتی ہے پھر چیف جسٹس بنایا جاتا ہے، وزیراعلی بلوچستان نے قاضی فائز عیسی کی تعیناتی کی سمری بھی نہیں بھیجی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظرثانی میں دوبارہ اصل کیس نہیں کھول سکتے،عدالتی فیصلوں کیخلاف یہ کوئی اپیلیٹ بنچ نہیں ہے،

    آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی
    علاوہ ازیں ایک دوسرے کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ماحولیات سے متعلق تمام معاملات کو دیکھیں گے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملک میں ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں،جسٹس نسیم حسن شاہ کو خط آیا تھا کہ اسلام آباد کو صنعتی زون بنایا جا رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، گاڑیوں کا دھواں ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہے، کیا دھویں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی۔

    مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم، ماربل فیکٹری کام کر رہی ، سوات کےخوبصورت مقامات آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ لاہور شہر ایک سائڈ سے واہگہ بارڈر دوسری جانب سے شیخوپورہ تک پھیل گیا ہے،زرعی زمینوں پر ڈی ایچ اے اور دیگر سوسائیٹیز بنائی جا رہی ہیں،جو علاقہ زلزلے کی زد میں نہیں آتے وہاں ہائی رائز عمارتیں بنائی جائیں، آنے والی نسلوں کےساتھ ہم کیا سلوک کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باعث کھیت کھلیان ختم ہو رہے، کاشت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، قدرت نے زرخیز زمین دی ہے لیکن سب اسے ختم کرنے پر تلے ہوئے، آپ اپنی نسلوں کے لیے کیا کر کے جا رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پنجاب کی حالت دیکھیں سب کے سامنے ہے، اسلام آباد میں بھی چند روز قبل ایسے ہی حالات تھے،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ انوائرمنٹ پروٹیکشن اٹھارٹی اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی؟ 1993ء سے معاملہ چل رہا ہے، اب ختم کرنا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پورے ملک کو ماحولیات کے سنجیدہ مسئلے کا سامنا ہے، پیٹرول میں کچھ ایسا ملایا جاتا ہے جو آلودگی کا سبب بناتا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم اور ماربل فیکٹری کام کر رہی ہیں، سوات میں چند ایسے خوبصورت مقامات ہیں جو آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،آئینی بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    بے بنیاد مقدمہ بازی،آئینی بینچ نے درخواست گزاروں کو کیا جرمانہ
    آئینی بینچ نے بےبنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزاروں کو آج مجموعی طور پر 60 ہزار روپے کے جرمانے عائد کردیے،غیر ملکی خواتین ، مردوں سے پاکستانیوں کی شادیوں پر پابندی کی درخواست خارج کرتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا،درخواست گزار محمود اختر نقوی ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدالت کیسے کسی کو منع کرے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جو درخواست گزار کی استدعا ہے کیا ایسا ممکن ہے ؟کیا کسی سرکاری ملازم کو غیر ملکی سے شادی سے روکا جاسکتا ہے؟ اگر روکنے کا قانون موجود ہے تو وہ بتادیں ؟ عدالت نے درخواست 20 ہزارروپے جرمانے کے ساتھ خارج کردی،
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ایسی درخواستوں کو اجازت دی تو یہ درخواست بھی آجائے گی شادیوں سے روکا جائے،

    پی ڈی ایم دور حکومت میں قانون سازی کیخلاف درخواست بھی 20 ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج ہوئی،آئینی بنچ نے غیر ملکی جائیدادوں کیخلاف کیس میں درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 60 ہزار مقدمات ایسے ہی مقدمات کے سبب زیر التوا ہیں،

    سپریم کورٹ نے غیر ملکی اثاثوں ،بینک اکاؤنٹس کیخلاف درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کردی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ معاملہ پر قانون سازی کیلئے درخواست گزار اپنے حلقہ کے منتخب نمائندہ سے رجوع کرے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،الیکشن کمیشن غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں پر قانون سازی کیسے کر سکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست میں کوئی قانونی بات نہیں کی گئی،درخواست گزار نے کہا کہ غیرملکی اثاثوں بینک اکاؤنٹس پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ معاملے پر قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،کن لوگوں کے غیر ملکی اثاثے یا بینک اکاؤنٹس ہیں کسی کا نام نہیں لکھا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کا نہیں کہہ سکتے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ قانون سازی کیلئے درخواست گزار حلقہ کے نمائندےسے رجوع کریں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ سے غیرموثر درخواستیں خارج کرنے کا سلسلہ جاری ہے،آئینی بینچ نے 2024 کے عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی، درخواست گزار وسیم سجاد نے موسم کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی،عدالت نے الیکشن شیڈول کیخلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے.جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ درخواست گزار وسیم سجاد سپریم کورٹ وکیل نہیں ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس درخواست پر ڈبل جرمانہ ہونا چاہیے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف تھا کہ الیکشن فروری کی بجائے مئی میں کروائے جائیں،

  • سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ کی رجسٹرار اور انتظامی افسران سے میٹنگ ہوئی

    جسٹس امین الدین کے چیمبر میں ہوئی میٹنگ کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ کے مطابق میٹنگ میں جسٹس امین الدین کو زیرالتوا آئینی مقدمات پر بریفنگ دی گئی،سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کردی،مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ سربراہ آئینی بنچ 2سینئر ججز سے مل کر کریں گے،3رکنی ججز کمیٹی کم از کم 5ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے گی،کمیٹی کے ایک رکن جج بیرون ملک ہیں،وطن واپسی پر کمیٹی کا اجلاس ہوگا،

    سپریم کورٹ میں سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اجلاس میں آئینی بینچ کی ورکنگ اور طریقہ کار پر غور کیا گیا۔اجلاس میں 184(1) ،184(3) ، 186 اور انسانی حقوق کے مقدمات پر بحث ہوئی،اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اور مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ 6 نومبر کا اجلاس کمیٹی ممبر جسٹس جمال خان مندوخیل کی عدم دستیابی پر ملتوی کیا گیا تھا، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر کی کمیٹی آئینی بینچ بنائے گی، آئندہ اجلاس بعد میں شیڈول کیا جائے گا، اجلاس میں رجسٹرار سلیم خان، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس شریک ہوئے

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • بار بار سوال سامنے آتا  کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ،جسٹس منصور علی شاہ

    بار بار سوال سامنے آتا کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کا تذکرہ کیا گیا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیس آئینی بینچ سنے گا، ہم ریگولر بینچ میں کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال کوئی آئینی بینچ نہیں تو یہ جو غیرآئینی بینچ بیٹھا ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا کیا ہم غیر آئینی ہیں؟مطلب جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھتا تب تک آئینی کیسزنہیں سنے جائیں گے،ہم اس کیس کو سن بھی لیں تو کوئی ہمیں پوچھ نہیں سکتا، بار بار سوال سامنے آتا ہے کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ، اگر ہم کیس کا فیصلہ کر بھی دیتے ہیں تو کیا ہو گا؟ ہمیں کون روکنے والا ہے؟ نظرِ ثانی بھی ہمارے پاس آئے گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا دائرہ اختیار ہے، آئینی کیسز ریگولر بینچ نہیں سن سکتا، وکلاء کی طرف سے بھی کوئی معاونت نہیں آ رہی،

    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ابھی ہم یہ کیس سن سکتے ہیں یا نہیں؟،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ تھوڑا وقت دیں تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی جس میں ابھی وقت لگے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی کہ کیا کیس آئینی بینچ سنے گا یا ریگولر بینچ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم آپ کی گزارش پر کوئی نکتہ نظر نہیں دے سکتے، کیس کو ملتوی کر دیتے ہیں، ہم صرف گپ شپ لگا رہے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • سندھ اسمبلی،آئینی بینچ کے قیام کے لئے قرارداد منظور

    سندھ اسمبلی،آئینی بینچ کے قیام کے لئے قرارداد منظور

    سندھ اسمبلی ا جلاس، آئینی بینچ کے قیام کے لیے قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی

    26 ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبہ سندھ میں آئینی بنچ کے قیام کے لئے قرارداد کثرت رائے سےمنظور کی گئی،127 اراکین نے قرارداد پیش کرنے کی حمایت کی ،جماعت اسمبلی کے رکن نے قرارداد پیش کرنے کی مخالفت کی،ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر رائے شماری میں حصہ لیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان بننے کا انتظار کررہے تھے،صحیح وقت پر ہم قرار داد لے کر آئے ہیں ، اب جوڈیشل کمیشن بنی ہے اس کے بعد ہم نے قرار داد پیش کی ،26ویں آئینی ترمیم سےتمام صوبے مستفید ہوں گے ،بلاول بھٹو نے تمام سیاسی جماعتوں کو مطمئن کیا ،پی ٹی آئی نے بھی جوڈیشل کمیشن میں اپنے دو ممبران دئیے ہیں ، ہمیں ججز کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا ہے ،

    بشریٰ بی بی کی ضمانت ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    بشریٰ بی بی پیش نہ ہوئی،نیب پراسیکیوٹر کا وارنٹ جاری کرنے کی استدعا

    مؤکلوں کا رخ زمان پارک کی طرف،بشریٰ بی بی بھی پہنچ گئیں

  • سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ نے سوئی نادرن کے زائد بلنگ کیس کو نمٹا دیا ہے

    سوئی نادرن گیس کے زائد بلنگ سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی، دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ اس کیس کی نظرثانی تو ابھی زیرِ التوا ہے، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب یہ کیس آئینی بینچ میں جائے گا، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ” سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں، کچھ مقدمات ہمارے پاس بھی رہنے دیں”،اس کیس میں کوئی آئینی یا قانونی سوال موجود نہیں ہے، زیرِ التوا نظرثانی کیس میں درخواست گزار سوال اٹھا سکتے ہیں۔

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، آئینی بنچز کو مقدمات کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے

    عدالت نے اسلام آباد میں شُفہ سے متعلق مقدمہ آئینی بنچ کو بھجوا دیا ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تو آئینی شقوں کی تشریح کرنا ہوگی،یہ مقدمہ تو اب آئینی بنچ کو منتقل ہونا چاہیے، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن ہونا یہی چاہیے، نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،آفس کو ہدایت کی ہے جن مقدمات میں کوئی قانون چیلنج ہوا ہے انکی الگ کیٹیگری بنائی جائے، جن مقدمات میں آئین کی تشریح کی ضرورت ہوئی وہ ساتھ ساتھ منتقل کرتے رہیں گے،

    نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ کے مختلف بنچز نے گزشتہ روز بھی مقدمات آئینی بنچ کو منتقل کیے تھے

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • 40 فیصد  مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    اسلام آباد: آئینی ترمیم کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد زیرالتوا کیسوں کے سائلین کو جلد انصاف ملنے کی امید ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کی عدالتوں نے آئینی درخواستوں کی سماعت معطل کر دی ہے، آئندہ ماہ سے ملک بھر کی عدالتوں میں زیرسماعت 40 فیصد درخواستیں آئینی بنچوں کو منتقل کی جائیں گی، سپریم کورٹ اور پانچوں ہائی کورٹس کی آئینی درخواستوں اور رٹ پٹیشنز کے فیصلے آئینی بنچ کریں گے، جس سے مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی۔

    ملک میں ضلع، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے عوام کو یہ امید ہے کہ یہ آئینی ترمیم انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کرے گی،یہ بات بھی اہم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 37ڈی میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست سستے اور آسان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

    اس کی دو اہم وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ آئینی بنچوں میں منتقل ہونے والے تقریباً 40 فیصد مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی، اور دوسری وجہ ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہے، جو وقتاً فوقتاً ان کی کارکردگی کو جانچے گا۔