Baaghi TV

Tag: آئینی بینچ

  • سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاسوں میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع اور ججز تعیناتی سے متعلق قوانین کی منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمیشن کے دوسرے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع دی گئی، عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تعیناتی کے لیے رولز کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے دو اجلاسوں کی سربراہی کی، پہلے اجلاس کا آغاز صبح 11 بجے ہوا جو 8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں ججوں کی تقرری رولز کے مسودے کا جائزہ لیا گیا۔جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن نے اجلاس کے دوران مانگی گئی عوامی رائے کا بھی جائزہ لیا۔دوران اجلاس آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ 7، 6 کے تناسب سے ہوا، ووٹنگ میں 7 ممبران نے بینچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔اجلاس میں جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی۔جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق کچھ رولز میں معمولی تبدیلی کے ساتھ قوانین کی منظوری بھی دی گئی۔ججز تعیناتی کے حتمی مسودے میں نئے ایڈیشنل ججز کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہے جبکہ کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا یا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہو گا۔رپورٹ کے مطابق مسودے میں ہائی کورٹ چیف جسٹس کے لیے 3 نام زیر غور آئیں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ہائی کورٹ سے 5 نام تجویز کیے جائیں گے۔ججز قوانین کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں 3 جنوری تک طلب کی گئی ہیں جبکہ ان ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی۔

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت ہوئی

    آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر تمام مقدمات کی سماعت موخر کر دی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آج صرف فوجی عدالتوں والا مقدمہ ہی سنا جائے گا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں،کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے ہر شخص کو اس کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلے بتائیں عدالتی فیصلے میں دفعات کالعدم کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کوبھی مدنظر رکھیں کہ آرمی ایکٹ 1973کے آئین سے پہلے بنا تھا، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خرابیاں ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں میرے الفاظ قانونی نوعیت کے نہیں تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں،فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کورکمانڈر ہائوس کا ہی ہے،اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں،تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائوں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کا کیا ہوگا؟نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا کہ عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی،

    سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کو فیصلے سنانے کی اجازت دے دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی، آئینی بینچ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے۔جن ملزمان کو سزائوں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے،

    فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی آئینی بنچ نے 26 ویں ترمیم کا کیس جنوری کے دوسرے ہفتے میں سننے کا عندیہ دے دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے فوجی عدالتوں کا کیس ختم ہوا تو 26 ویں ترمیم کا کیس دوسرے ہفتے سنیں گے،

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

  • سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ نے پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر کی دائر درخواستیں خارج کر دی ہیں

    آئینی بینچ نے پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستوں کو مسترد کرنے کا فیصلہ دیا،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس ختم ہو چکا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈیننس کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کر دی ہے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت کمیٹی کے ایکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون آجائے تو آرڈیننس خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت بنی کمیٹی ختم ہوگئی، کمیٹی کے فیصلوں کو پاس اینڈ کلوز ٹرانزیکشنز کا تحفظ ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین صدر پاکستان کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف گوہر علی خان، افراسیاب خٹک، احتشام الحق اور اکمل باری نے آرڈیننس کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں،بیرسٹر گوہر کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار دیا جائے،ترمیمی آرڈیننس عدلیہ کی آزادی اور قانون و آئین کے برخلاف ہے، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ آرڈیننس ایمرجنسی حالات میں ہی جاری ہوسکتا ہے،ایسی کوئی ایمرجنسی صورتحال نہیں تھی کہ آرڈیننس جاری کیا جاتا، آرڈیننس کے اجراء کی کوئی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں؟ درخواست پر فیصلے تک آرڈیننس کو معطل کیا جائے،پی ٹی آئی نے آرڈیننس سے پہلے والی ججز کمیٹی بحال کرنے کی بھی استدعا کر دی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • سپریم کورٹ،اصغر خان کیس،حساس اداروں میں سیاسی سیل ختم؟ رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،اصغر خان کیس،حساس اداروں میں سیاسی سیل ختم؟ رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں حساس اداروں میں سیاسی سیل ختم کرنے کی رپورٹ طلب کرلی

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو وزارت دفاع کا جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی سیل تو حساس اداروں میں اصغر خان کیس فیصلہ کے بعد ختم کر دیئے تھے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے حساس اداروں میں سیاسی سیل تھے۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حساس اداروں میں سیاسی سیل تھا۔جن لوگوں نے 1990 کا الیکشن چوری کیا ان کیخلاف کیا ایکشن ہوا۔اسلم بیگ، اسد درانی،یونس حبیب نے الیکشن چوری کا اعتراف کیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں انکوائری بند کردی ہے۔جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ کیا سیاستدانوں میں تقسیم رقم ریکور کرلی گئی۔بڑے بڑے سیاسی نام ہیں جن میں رقم تقسیم کا الزام لگایا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے کی انکوائری میں رقم تقسیم کے شواہد نہیں ملے۔اصغر خان درخواستگزار تھے انکا انتقال ہو چکا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے کا جو کام کرنے کا تھا کیا وہ کیا گیا۔کیا حساس اداروں کے سربراہان نے سیاسی سیل کا خاتمہ کا بیان حلفی دیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حساس اداروں کا آئین و قانون کے تحت سیاست میں کوئی کردار نہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر پہلے بیان حلفی نہیں لیا تو حساس اداروں کے سربراہان سے آج بیان حلفی لے لیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصغر خان کیس فیصلہ پر عمل کیا گیا ہے۔حساس اداروں میں سیاسی سیل کو عدالتی فیصلہ کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے عدالت کو مطمئن کرے کہ عدالتی فیصلہ پر عمل ہو چکا ہے،عدالت نے وزارت دفاع کی رپورٹ طلب کرکے کیس سماعت ملتوی کردی

    سپریم کورٹ،عمران خان کو خیبر پختونخوا منتقلی کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    سپریم کورٹ نے سویلینز کو عام جیلوں میں منتقل کرنےکی استدعا مسترد کردی

    سپریم کورٹ،صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،ارشد شریف قتل کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیس کی سماعت ہوئی

    چھبیسویں ترمیم کے فیصلے تک فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت موخر کرنے کی درخواست خارج کر دی گئی،سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو 20 ہزار روپے جرمانہ کر دیا،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے فیصلہ کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت روکنے کی درخواست خارج کردی ،دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جیلوں میں پڑے ہیں، اُن کا سوچیں،وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ 26 آئینی درخواستوں کا فیصلہ ہونے تک فوجی عدالتوں کا مقدمہ نہ سنا جائے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئینی بینچ کو تسلیم کرتے ہیں، جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میں عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پھر آپ کمرہ عدالت چھوڑ دیں، جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن نے نامزد کیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا 26 آئینی ترمیم کالعدم ہو چکی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کی طرف سے تاخیری حربے استعمال ہو رہے ہیں،ہر سماعت پر ایسی کوئی نہ کوئی درخواست آ جاتی ہے،اگر 26 ترمیم کالعدم ہوجائے تو عدالت فیصلوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے،

    عدالت نے حفیظ اللہ نیازی کو روسٹرم پر بلایا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے حفیظ اللہ نیازی سے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کیس چلانا چاہتے ہیں،حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میں یہ کیس چلانا چاہتا ہوں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کوئی پیارا زیرحراست نہیں اس لئے تاخیر چاہتے ہیں،اگر عدالت کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں کرتے تو یہاں سے چلے جائیں،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے درخواست خارج کی۔

    انسداد دہشتگردی عدالتوں نے ملزمان کی ملٹری کو حوالگی کیسے دی؟ جسٹس نعیم اختر افغان
    ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، آرمی ایکٹ فوج کے ساتھ کام کرنے والی کمپنیز ملازمین پر بھی لاگو ہے،یا تو پھر یہ شقیں بھی کالعدم کردیں پھر کہیں سویلین کا وہاں ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ وہ توسویلین کی الگ قسم ہوتی ہے ،خواجہ حارث نے کہا کہ جی بالکل، آرمی ایکٹ سویلین کی کیٹیگری کی بات ہی کرتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کا کیس آرمی ایکٹ کی اس شق میں نہیں آتا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کور کمانڈرز جب اپنےگھرکو بطور دفتر استعمال کریں تو کیا اسے دفتر ڈیکلئیر کرتے ہیں؟ یہ بات کتنی درست ہے کہ یہ آئیڈیا بعد میں آیا کور کمانڈر کا گھربھی دفتر تھا، خواجہ حارث نے کہا کہ میں ایسے کسی نوٹیفکیشن کی طرف نہیں جا رہا، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ یہ بتائیں انسداد دہشتگردی عدالتوں نے ملزمان کی ملٹری کو حوالگی کیسے دی؟ کیا اے ٹی سی کورٹس کا وجوہات پر مبنی کوئی آرڈر موجود ہے؟ آپ یہ سوال نوٹ کر لیں بیشک آخر میں اس کا جواب دیں، خواجہ حارث نے کہا کہ فوج اور سیویلنز میں فرق مصنوعی ہے،فوجی اہلکار بھی اتنے سویلنز ہیں جتنے عام شہری،

    فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کا مطلب فوجی عدالتوں کا اختیار تسلیم کرنا ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی
    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کا کیس کل تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے وفاقی فوجی عدالتوں کو مقدمات کا فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کر دی جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کا مطلب فوجی عدالتوں کا اختیار تسلیم کرنا ہوگا،حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میرا بیٹا ڈیڑھ سال سے فوجی تحویل میں ہے، طویل ترین ریمانڈ کیخلاف نہ ہائیکورٹ جا سکتا ہوں، نہ کسی اور عدالت، یا میرے بیٹے کو سزا سنانے دیں یا اُسے جیل بھیجنے کا حکم دے دیں، جسٹس امین الدین خان نے سرزنش کرتے ہوئے جیل میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ ہونے تک سماعت نہ کرنے کی درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ میں 9 مئی کی دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پی ٹی آئی کے سویلین ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کرنے کے خلاف مقدمہ کی سماعت مؤخر کرنے کے لیے ایک متفرق درخواست جمع کرائی گئی تھی،درخواست گزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے استدعا کی تھی کہ پہلے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ جاری کیا جائے۔

  • خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدالت کو بچوں کے حقوق کا احساس ہے۔

    یونیسیف اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام سیمینار سے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد بچوں کو عدالت میں سنا جائے گا، ہمیں بچوں کو سننا ہوگا،بچے پیش ہوتے ہیں لیکن ہم نہیں سنتے،خدا کیلئے بچوں کو بھی سنیں، آئندہ کوئی بچہ عدالت میں پیش ہو تو اسکو بھی عدالتی عمل میں شامل کریں، بچے نہ صرف ہمارا مستقبل ہیں، ہمارا حال بھی ہیں، بچے کل کے لوگ نہیں آج کے افراد ہیں۔ماتحت عدلیہ کے ججز کو بتانا چاہتا ہوں بچوں کیلئے انصاف کس قدر اہم ہے،بدقسمتی سے ہمارے سامنے جب بچہ پیش ہوتا ہے ہم اسکو سنتے نہیں ہیں، ایک جج کو کمرہ عدالت میں بچوں کو سننا ہوگا،عدلیہ کو بچوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے، بچوں کو عدالتی نظام سے دور رکھنے کی ضرورت ہے، بچوں کو بھی کیسز سے گزرنے میں 15 یا 20 سال نہیں لگنے چاہئیں،ملک میں 25 ملین سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے بچوں کو سائبربلنگ جیسے نئے خطرات کا بھی ذکر کیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کے دوران آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ کیا،جسٹس منصورعلی شاہ نے ہال میں موجود جسٹس جمال مندوخیل کو مخاطب کر دیا اور کہا کہ بچوں سے متعلق آئین کے آرٹیکل 11 تین کی تشریح کی ضرورت ہے میں اب یہ تشریح کر نہیں سکتا آپ کر سکتے ہیں آئی ایم سوری، مجھے یہ بار بار کہنا پڑ رہا ہے میں مگر اب کیا کروں میں یہ تشریح کر نہیں سکتا ،

    بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس منصور علی شاہ نے مستعفیٰ ہونے کی تردید کردی ہے، بچوں کے انصاف سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کی خبروں کی تردید کردی،صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپکے مستعفی ہونے سے متعلق افواہیں درست ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے جواب دیا کہ پتہ نہیں آپ کو یہ فکر کہاں سے لاحق ہوئی، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ، بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، ابھی ایک کانفرنس پر آیا اس کے بعد دوسری پر جا رہا ہوں، ہاتھ میں نظام کو جتنا بہتر کرنے کا اختیار ہے وہ استعمال کریں گے۔

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

  • عمران توہین عدالت سمیت اہم کیسز سماعت کیلئے مقرر

    عمران توہین عدالت سمیت اہم کیسز سماعت کیلئے مقرر

    بانی پی ٹی آئی عمران خان توہین عدالت کیس سمیت متعدد کیسز سماعت کیلئے مقرر ہو گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو کرے گا۔وفاقی حکومت کی جانب سے 25 مئی کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیس

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی بینچ 11 دسمبر کو سماعت کرے گا، درخواست شہری محمود اختر نقوی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئیں، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 12 دسمبر کو سماعت کرے گا۔

    غیرقانونی افغان باشندوں کا کیس

    غیرقانونی افغان باشندوں کی بے دخلی کیخلاف دائر درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئیں، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 9 دسمبر کو سماعت کرے گا، افغان باشندوں کی واپسی کے نگران حکومت کے فیصلے کیخلاف فرحت اللہ بابر نے رجوع کیا تھا۔

    سانحہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست

    سانحہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، بانی تحریک انصاف نے 9 مئی سانحہ کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو سماعت کرے گا، بانی تحریک انصاف نے درخواست میں سویلین کے ملٹری کورٹ ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمات کیخلاف کیس

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کیخلاف مقدمات کے اندراج کیخلاف درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی بینچ 10 دسمبر کو سماعت کرے گا، سیمابیہ طاہر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    جیل منتقلی

    بانی تحریک انصاف کو اڈیالہ جیل سے خیبر پختونخوا جیل میں منتقل کرنے کی درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو سماعت کریگا، شہری قیوم خان نے سکیورٹی وجوہات پر عمران خان کی جیل سے منتقلی کی درخواست دائر کی تھی۔

    8 فروری انتخابات دھاندلی کیس

    8 فروری کے عام انتخابات میں دھاندلی کےخلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست 11 دسمبر کو سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 11دسمبر کو سماعت کرے گا۔

    فون ٹیپنگ

    فون ٹپینگ کا 28 سالہ پرانا مقدمہ بھی سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا، جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 11 دسمبر کو سماعت کریگا، سپریم کورٹ میں فون ٹیپنگ کیلئے ڈیوائسز کی تنصیب کیخلاف 1996 سے مقدمہ زیر التوا تھا۔

  • سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ ججز کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت کا معاملہ،ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کیس سماعت کے لیے نیا بینچ بنے گا.

    ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کمیشن کے دو ممبران بینچ کا حصہ ہیں وہ کیسے کیس سن سکتے ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اعتراض لگا کر واپس کیا تو کیا آپ دوبارہ جوڈیشل کمیشن گئے،جوڈیشل کمیشن ایک نام تجویز کرتا ہے تو وہ پارلیمانی کمیٹی جاتا ہے، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ سماعت کی

    دوسری جانب پاکستان تحریک نے سپریم کورٹ آئینی بنچ میں الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 کیخلاف درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کی غرض سے واپس لے لی، ریٹائرڈ ججز کی الیکشن ٹریبونل کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ٹیک اپ کر لیا ہے اسلیے پی ٹی آئی نے فی الحال آئینی بنچ سے درخواست واپس لےلی۔بیرسٹر گوہر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست واپس لے لی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں، ہم یہ اعتراضات دور کر کے دوبارہ درخواست دائر کریں گے،

  • لاپتہ افراد کا معاملہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل

    لاپتہ افراد کا معاملہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس میں اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے-

    باغی ٹی وی : جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بینچ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کی، آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس میں اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کر لیں۔

    دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میری نظر میں لاپتہ افراد کا کیس انتہائی اہم ہے، لاپتہ افراد کے کیسز ہائیکورٹس اور سپر یم کورٹ میں چل رہے ہیں،لوگوں کی زندگیاں ہیں ہزاروں لوگ لاپتہ ہے، یہاں اعتزاز احسن لطیف کھوسہ جیسے سیاستدان کھڑے ہیں، اس مسئلہ کا حل پارلیمنٹ نے نکالنا ہے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید اقبال وینس نے دلائل میں کہا کہ کابینہ میں لاپتہ افراد کا معاملہ گزشتہ روز ڈسکس ہوا ہے، کابینہ نے سب ذیلی کمیٹی بنا دی ہے جو اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی، حکومت لاپتا افراد کا معاملہ حتمی طور پر حل کرنا چاہتی ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے اب تک کتنی ریکوریاں کی ہیں؟ جسٹس حسن اظہر رضوری نے کہا کہ کیا کوئی لاپتا افراد کمیشن کے پاس ڈیٹا ہے کس نے افراد کو لاپتہ کیا، جو لاپتہ لوگ واپس آئے کیا انہوں نے بتایا کون اٹھا کر لے کر گیا؟-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتہ افراد واپس آنے پر کچھ نہیں بتاتے، لاپتہ افراد واپس آنے پر کہتے ہیں شمالی علاقہ جات میں آرام کے لیے گئے تھے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ملک ڈیپ اسٹیٹ بن گیا ہے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کو بات کرنے سے روک دیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کھوسہ صاحب عدالت میں سیاسی بات نہ کریں، پارلیمنٹ کا عام یا مشترکہ اجلاس بلا کر مسئلے کو حل کریں،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا لاپتہ افراد کے معاملے کو 26ویں ترمیم کی طرح حل کیا جائے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم بھی اپنے وقت پر دیکھی جائے گی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ لاپتہ افراد سے بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قوم اور عدالت آپ پارلیمنٹرین کی طرف دیکھ رہی ہے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس عدالتی اختیارات نہیں ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نےکہا کہ کھوسہ صاحب آپ کےتحریک انصاف کے لوگ بھی اٹھائے گئےلطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل تحریک انصاف کے لوگوں کو بھی اٹھایا گیاجسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے آکر بتایا کہ انہیں کون اٹھا کر لے کر گیا؟ لطیف کھوسہ نے بتایا کہ جو اٹھائے گئے ان کے بچوں کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل میں کہا کہ لوگوں کے دس، بیس سال سے پیارے لاپتا ہیں، عدالت نے گزشتہ سماعت لاپتا کے حوالے سے حکم دیا تھا اور آج وہ گزشتہ سماعت کا آرڈر بینچ کو نہیں مل رہا جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ لاپتا افراد کے کیس میں عدا لت کا آرڈر بھی مسنگ ہوگیا۔

    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتا افراد کے ایک کلاسک مقدمہ میں 25 وکیل پیش ہوئے، بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر لاپتا افراد گھر آگئے عدالت نے واپس آنے والے افراد کو پیش ہونے کا حکم دیا لیکن بازیابی کے بعد وہ افراد کسی عدالتی فورم پر بیان کے لیے پیش نہیں ہوئے۔

    جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیئے کہ بازیاب افراد کے بیان ریکارڈ کرنے کا ایک مقصد تھا اور مقصد یہ تھا اگر آرمی سے کوئی ملوث ہے تو کورٹ مارشل کے لیے جی ایچ کیو کو لکھا جائے، اگر دیگر ادارے ملوث ہیں تو ان کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے، لاپتا افراد کے کسی مقدمے کو مثال بنانا ہے تو اپنے اندر جرات پیدا کریں، لاپتا افراد سے واپس آنے والوں میں کوئی تو کھڑا ہو۔

    آئینی بینچ کے جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ لاپتا افراد کے کچھ کیسز میں افراد ریاست کو برباد اور بدنام بھی کرتے ہیں، لاپتا افراد کے نام پر آزادی کی جنگ بھی چل رہی ہے، سسٹم میں کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کے بعد 350 افراد لاپتا ہوگئے، اسٹیٹ آفیشل گزشتہ عدالتی احکامات کی نافرمانی کر رہے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کوئی شہری لاپتا نہیں ہوگا، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ہم لاپتا افراد کیس میں حل کی طرف جانا چاہتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتا افراد کا حل یہ ہے اسٹیک ہولڈرز سر جوڑ کے بیٹھیں، غور کریں کہ لاپتا افراد کا مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے، پارلیمنٹ کو عدالت نے سپریم تسلیم کیا ہے لہٰذا پارلیمنٹ خود کو سپریم ثابت کرے،اعتزاز احسن نے کہا کہ جو لاپتا افراد اینکر کے گھروں سے برآمد ہوئے ان کو بلایا جائے جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم انہیں بھی بلائیں گے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو مضبوط کریں تو کون اٹھائے گا۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو لاپتا ہوا اس سے پوچھیں کتنا تشدد ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ سے ریکارڈ کے مطابق پوچھیں گے، آپ سے پوچھیں گے آپ نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے پارلیمنٹ میں کتنی تقرریں کیں، سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی۔

  • آئینی بینچ کے سربراہ کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سے معذرت

    آئینی بینچ کے سربراہ کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سے معذرت

    اسلام آباد: آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور ممبر جسٹس جمال مندوخیل نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سننے سے معذرت کرلی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں6 رکنی بنچ نے مختلف مقدمات کی سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کیخلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سنیارٹی بنیادی حق نہیں اس سے ہٹ کر چیف جسٹس تعیناتی کی مثالیں موجود ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کمیشن کے دو رکن یہ مقدمہ نہیں سن سکتے،بینچ نے دوسرے بینچ میں کیس لگانے کا حکم دے دیا۔

    آڈیولیکس کمیشن کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا حالیہ امن وامان کی صورتحال کے باعث معاملہ کابینہ میں پیش نہیں ہوسکا، اب آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔

    بینچ نے جیلوں میں قیدیوں کو یکساں سہولیات کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

    سپریم کورٹ نے بجلی کمپنی کے ساتھ حکومتی معاہدوں کیخلاف درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کردیئے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا ہم معاہدوں کو ختم کر سکتے ہیں؟جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ عوامی مفاد کا مقدمہ ہے ہم مداخلت کرسکتے ہیں، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے اسٹون کرشنگ کیس میں رپورٹ جمع کرائی، عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی رپورٹ وکلا کو فراہمی کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔