Baaghi TV

Tag: آئینی بینچ

  • سپریم کورٹ، آڈیو لیکس کمیشن،وفاقی وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، آڈیو لیکس کمیشن،وفاقی وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،آڈیوز لیکس کمیشن کیس: وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کردی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت میں کہا کہ عدالت مختصر تاریخ دے دے،سوال یہ ہے حکومت آڈیوز کی انکوائری چاہتی ہے یا نہیں، یہ معاملہ کابینہ میں پیش کیا جانا تھا،اسلام آباد میں امن و عامہ کی صورتحال کی وجہ سے کابینہ میں پیش نہ ہوسکا، وقت دے دیں آڈیو لیکس کا معاملہ آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائیگا، کابینہ کی آڈیوز لیکس پر فیصلہ سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا،وکیل پی ٹی آئی بابر اعوان نے کہا کہ آڈیوز کی قانونی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کو حکومت سے ہدایات لینے دیں، حکومتی ہدایات آنے پر معاملہ کو دیکھیں گے،جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی

    دوسری جانب سُپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے قیدیوں کو یکساں سہولیات دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کردی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اس طرح کی درخواستیں سُپریم کورٹ نہ لائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قیدیوں کی سہولیات کا جائزہ لینا سُپریم کورٹ کا کام ہے؟جیل قوانین پر اعتراض ہے تو متعلقہ صوبے یا ہائیکورٹ سے رجوع کریں

    سپریم کورٹ آئینی بینچ ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال مندوخیل نے کیس کی سماعت سےمعذرت کر لی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم دونوں جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہیں، جسٹس امین الدین نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کے ممبر تھے،آئینی بینچ نے کیس دوسرے آئینی بینچ میں لگانے کی ہدایت کردی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سنیارٹی سے ہٹ کر چیف جسٹس کی تعیناتی کی مثالیں موجود ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کمیشن کے دو رکن یہ کیس نہیں سن سکتے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف جوڈیشل کمیشن کو فریق بنایا گیا،

    خیبرپختونخواہ حکومت نے سٹون کرشنگ پر تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی
    علاوہ ازیں سپریم کورٹ: آئینی بنچ میں خیبرپختونخواہ میں سٹون کرشنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، خیبرپختونخواہ حکومت نے سٹون کرشنگ پر تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی،وکیل خیبر پختونخوا کوثر علی شاہ نے کہا کہ ہر ایک سٹون کرشر کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کی گئی ہے، شرائط پر پورا نہ اترنے والے دو سو سے زائد کرشنگ پلانٹس کو بند کیا گیا ہے ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس مقدمہ میں اعتزاز احسن مرکزی وکیل ہیں، اعتزاز احسن خرابی صحت کے باعث آج نہیں آسکے،خیبرپختونخواہ حکومت کی رپورٹ کا جائزہ نہیں لیا، آئینی عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

  • میڈیا   زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    میڈیا زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ، آئینی بینچ، بچوں کے اغواء کا معاملہ،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ کوئٹہ بچے کے اغواء سے متعلق ایک خفیہ پیش رفت رپورٹ جائزہ کیلئے آئی ہے،استدعا ہے کہ آئینی بینچ چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لے،بچے کی بازیابی کیلئے مشترکہ جے آئی ٹی قائم کرنے پر پیش رفت ہو رہی ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے سے زیر التوا ہے، یہ تاثر نہ لیا جائے کہ آئینی بنچ نے ازخود نوٹس لیا ہے،

    آئینی بنچ نے چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا،وکیل بلوچستان حکومت نے کہا کہ استدعا ہے کہ کوئٹہ میں جاری دھرنا ختم کروایا جائے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ لوکل انتظامیہ کا کام ہے، ہمارا نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بچے کی زندگی کو محفوظ بنانا ہے، وکیل بلوچستان حکومت نےکہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ٹھیک ہے ہائیکورٹ چلے جائیںوفاق سے اگر کوئی معاونت درکار ہو فراہم کرے،

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے بچے کے والد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف سے تعاون ہوگا، ہم سب آپ کیلئے پریشان ہیں، بچے کے والد نے کہا کہ مجھے میرا بچہ چاہیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئی جی صاحب نے ساری تفصیلات چیمبر میں بتا دی ہے یہ آرام سے نہیں بیٹھے،کئی باتیں بتائیں جو آپ کو نہیں بتا سکتے تحقیقات خراب ہوں گی،ہائیکورٹ نظر رکھے ہم رپورٹ سے کافی حد تک مطمئن ہیں، بچے کا پولیس سے تعاون چاہیے یہ آئی جی بتائیں گے،میڈیا اس کیس کی زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،ہم نے سپریم کورٹ میں بچے کا معاملہ نمٹایا نہیں ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروائیں، ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہاکہ دھرنا ختم کریں یہ ہماری درخواست ہے، دھرنے سے معاملہ حل ہوتا تو ہم بھی بیٹھنے کیلئے تیار ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ دھرنا این جی اوز نے دیا ہوگا اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، آپ دباؤ نہ ڈالیں مسئلہ حل کرنے کی طرف جائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جتنا دباؤ ہوگا بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،

    احتجاج سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسند کھل کر بول پڑے،سب بتا دیا

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • آئینی بینچ کا پی ٹی آئی احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے سے انکار

    آئینی بینچ کا پی ٹی آئی احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے سے انکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پُرتشدد احتجاج کے دوران ہلاکتوں کے معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی استدعا مسترد کردی-

    باغی ٹی وی : جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی سے متعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختوا ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختوا نے گزشتہ روز تحریک انصاف کے بلیو ایریا میں احتجاج اور انتظامیہ کے گرینڈ آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز دونوں اطراف سے ہلاکتیں ہوئیں، آئینی بینچ ازخود نوٹس لے سکتا ہے لہٰذا آئینی بینچ ان واقعات پر ازخود نوٹس لے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش ہوکر سیاسی باتیں نہ کریں۔

    آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جو معاملہ ہمارے سامنے سرے سے ہے ہی نہیں اسے ہم نہیں دیکھ سکتے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں ہے، اس پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

    بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے کی زبانی استدعا مسترد کر دی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 24 نومبر سے شروع ہونے والے احتجاج میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکاروں کی شہادتیں ہوچکی ہیں،دوسری جانب سوشل میڈیا پر چند لوگوں کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شیلنگ سے کئی مظاہرین کی اموات ہوئی ہیں مظاہرین کی اموات کی خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔ اپنی ناکامیوں اور کو تاہیوں کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کی اموات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ کل رات کے پولیس اور رینجرز آپریشن میں کسی قسم کے آتشی اسلحے کا استعمال نہیں کیا گیا۔

  • سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں جماعت اسلامی نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر نیب سے رجوع کرنے کی حامی بھرلی

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پانامہ میں مخصوص کیس میں جے آئی ٹی بنائی گئی۔علم نہیں پانامہ اسکینڈل کے باقی مقدمات کدھر گئے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ یہی ہمارا موقف ہے باقی کیسز کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب کو اس سلسلے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کسی معلومات پر بھی ایکشن لے سکتا ہے،جماعت اسلامی کی درخواست نیب کیلئے انفارمیشن ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نیب کا اختیار ترامیم کے بعد کم ہوگیا ہے۔نیب نئی ترامیم کے مطابق ہی معاملہ کو دیکھ سکتا ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ نیب ہماری درخواست پر پانامہ کی تحقیقات کرے۔پانامہ پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی مثال موجود ہے۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کس کیس میں کیا ہوا عدالت کا کنسرن نہیں ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جے آئی ٹی پانامہ اسکینڈل کس قانون کے تحت بنائی گئی تھی۔کیا نیب قانون میں جے آئی ٹی کی گنجائش ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ پانامہ اسکینڈل میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب سے داد رسی نہ ہوتو سپریم کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ جائیے گا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ آئینی بینچ نے گلگت بلتستان اعلی عدلیہ تقرری کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی،عدالت نے کیس کی سماعت درخواست گزار وکیل مخدوم علی خان کی درخواست پر کیس ملتوی کیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حالات کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آسکا۔گلگت بلتستان عدلیہ میں تقرریوں کا معاملہ اہم ہے۔ویڈیو لنک سے دلائل دینا مشکل ہوگا،عدالت کوئی آئندہ ہفتہ کی تاریخ دے دے،میں اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر آکر دلائل دونگا۔

    سپریم کورٹ کا تلور شکار کیخلاف کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں تلور شکار کیخلاف کیس سن چکا ہوں ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تلور شکار کا تصور مارخور کے آفیشل شکار کیطرح ہے۔مارخور کے شکار کو ٹرافی ہنٹنگ کانام دیا گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تلور کے شکار اور آئیبیکس ٹرافی ہنٹنگ میں فرق ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو تلور تو ہجرت کرنے والے پرندے ہوتے ہیں۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین بحالی کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کردیا،سپریم کورٹ نے درخواست پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر دیئے،سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا،جسٹس امین الدین خان پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ نے اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے پراگرس رپورٹ طلب کرلیں

    عدالت نے کہا کہ بتایا جائے متاثرین آباد کاری اور منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 2005 کا زلزلہ آئے 19 سال تو گزر چکے ہیں۔اتنے عرصہ بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو چکے ہونگے۔بتایا جائے حکام نے متاثرین کی بحالی کیلئے ابتک کیا کام کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ زلزلہ کے بعد گھروں کی تعمیر کیلئے جنگلات زمین کیوں الاٹ کی گئی۔زلزلہ سے جہاں گھر گر گئے وہیں دوبارہ تعمیر کر دیتے۔حکومت تعمیرات کے چکر میں پڑنے کی بجائے متاثرین کو رقم دے دیتی۔متاثرین کو رقم ملتی وہ ابتک اپنے گھر خود بنا چکے ہوتے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی تباہیاں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔نشت گفتن برخاستن سے زیادہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کچھ نہیں ہوا۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی وفاق اور صوبے کے تعاون سے ہونی تھی۔قدرتی آفات کو روک نہیں سکتے لیکن لڑ تو سکتے ہیں۔ محکموں کی بیڈ گورننس اور عدم تعاون سے متاثرین مشکلات جھیل رہے ہیں۔بیڈ گورننس کی وجہ سے معاملات عدالتوں میں آتے ہیں۔محکمے اپنا کام کرے تو عدالتوں میں کیسز نہ آئے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ زلزلہ سے کتنے لوگ متاثر ہوئے۔متاثرین کیلئے ابتک کتنے گھر بنائے گئے۔وفاقی اور صوبائی حکومت کی زلزلہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کی پرفارمنس کیا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ متاثرین کیلئے کتنے فنڈز آئے۔متاثرین کئے فنڈز میں کتنا کہاں پر خرچ ہوا۔عدالتی سوالات پر جامع رپورٹ دی جائے۔جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی

    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق درخواست آئینی بینچ نے نمٹا دی
    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہائیکورٹ کا کام ہے ،درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں تبدیل ہوئے ،ہر چیف جسٹس نے ججز کو ٹرانسفر کیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ داود صاحب کیا ہائیکورٹ آزاد ہے یا نہیں،درخواست گزار نے کہا کہ ہائیکورٹ آزاد ہے لیکن پالیسی کیلئے ہدایات ضروری ہےجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد ہے تو انکو اپنا کام کرنے دیں،ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہونے سے متفق ہوں لیکن یہ ہمارا کام نہیں ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس آے تو تین مرتبہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہوئی ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہر چیف جسٹس کا اپنا اختیار ہوتا ہے،ہر جج بڑے شہر میں بیٹھنے کی خواہش رکھتا ہے،آپ کیوں انتظامی کاموں کے پیچھے پڑ گئے ہیں ،درخواست پڑھی تو اخیال آیا یہ میاں داود کی ہوگی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ دادو صاحب آج ہم آپکی بات نہیں مان رہے،درخواست گزار نے کہا کہ پھر عدالت اجازت دے کہ ہائیکورٹ جا سکوں،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد ہر نمٹا دی

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ کے سامنے حمزہ شہباز کو وزیر اعلی سے ہٹانے کا معاملے پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز نظر ثانی پر پرویز الہی کو نوٹس جاری کردیا،آئینی بینچ نے ایڈیںشنل اٹارنی جنرل و دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے نظر ثانی پر سماعت کی

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن پر وفاقی حکومت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لے کر آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس امین الدین ک سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن کیس کی سماعت کی۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آڈیو لیک کمیشن لائیو ایشو ہے، کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کمیشن کے ایک اور رکن سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات کے لیے مہلت دے دیں، معلوم کرنے دیں کیا حکومت نیا کمیشن بنانا چاہتی ہے، آڈیو لیک کے معاملے پر قانونی نقطہ تو موجود ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نیا کمیشن بنتا ہے تو یہ مقدمہ تو غیر مؤثر ہو جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغواء کا نوٹس لے لیا۔عدالت نے کوئٹہ سے اغواء بچے کی بازیابی پر بھی رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ میں چھ دن سے ایک اغوا بچہ نہیں ڈھونڈا جا رہا۔ایک بچہ کے اغوا پر پورا صوبہ بند ہے حکومت کو فکر نہیں۔یہ ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟

    سپریم کورٹ،مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج
    مراد علی شاہ نا اہلی کیس،سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج کر دی ،عدالت نے عدم پیروی پر نا اہلی کی درخواست خارج کی،محمود اختر نقوی نے نا اہلی کی درخواست دائر کی تھی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    ٹریفک حادثات میں اموات کے خلاف درخواست،سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا
    سپریم کورٹ،ملک کی مرکزی شاہراوں پر ہیوی ٹریفک کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، درخواست گزار عباس آفریدی نے کہا کہ روزانہ 70 لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ لوگ لٹک لٹک کر کیوں سفر کرتے ہیں، عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی، عدالت نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے،عدالت نے این ایچ اے کو بھی نوٹس جاری کردیا،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی،جی ٹی روڈز پر اوور لوڈڈ ٹرکس کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی

    ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کیخلاف آئینی درخواست قابل سماعت قرار
    سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر اعتراض ختم کر دیا،عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سمیت تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی جوابات جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر سماعت کی ،میاں دائود ایڈووکیٹ ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے پیش ہوئے، جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا اہم معاملہ ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ صرف لاہور ہائیکورٹ کی بات کر رہے ہیں، باقی ہائیکورٹس میں شاید ایسا نہ ہوا ہو، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں نے بطور حوالہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تمام نوٹیفکشنز ساتھ لگائے ہیں،اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے عدلیہ کی ساکھ مجروح کر دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چلیں اس مسئلے کو دیکھتے ہیں، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اب ہم اس مسئلے کو دیکھیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر رکھی تھی،درخواست میں پانچ ہائیکورٹس کے رجسٹرارز، چاروں صوبوں او روفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیاکہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان صوابدیدای اختیارات کا غیرآئینی استعمال کر تے ہیں،ہائیکورٹس کے اکثر چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری خزانہ بادشاہوں کی طرح لٹا تے ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اختیارات کے ناجائز استعمال بدترین مثالیں قائم کیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بہترین کارکردگی کے نام پر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے افسروں اور اہلکاروں میں 6 جولائی2021 سے دو ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،عدالتی تاریخ میں آج تک کسی چیف جسٹس کے سٹاف کو اڑھائی برس کی مدت پر مشتمل ایڈوانس انکریمنٹ دینے کی مثال نہیں ملتی، سابق چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل دیگر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی طور پر ایڈوانس انکریمنٹ دیئے گئے،ایڈوانس انکریمنٹ تبادلہ شدہ رجسٹرار ہائیکورٹ اور دو ماہ قبل تعینات ہونیوالے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھی دیئے گئےسابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریڈر اور انکی اہلیہ سینئر سول جج کو 4 سال کی تعلیمی چھٹی بمعہ تنخواہ دینے کی منظوری دی گئی،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیگر متعدد ملازمین کو بھی بغیر کسی قانونی جواز اور اختیار کے چھ چھ ماہ، ایک ایک سال کی چھٹیوں کی منظوری دی،ریڈر اور انکی اہلیہ کی تعلیمی چھٹی کیلئے کسی یونیورسٹی کا ریکارڈ اور قانون تقاضہ فائل کے ریکارڈ پر موجود نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کے 50 سے زائد ملازمین کی سزائیں ایک دستخط سے ختم کرنے کے درجنوں نوٹیفکیشنز ایک ہی دن جاری کئے گئے، صوابدیدی اختیارات کے تحت سزائیں ختم کرنا قانون تحت قائم سروس ٹربیونلز کو غیرفعال کرنے کے مترادف ہے، لاہور ہائیکورٹ کے دو ڈپٹی رجسٹرار شہباز انور اور شہباز اشرف کی سزائیں ختم کے انہیں بھی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کو سزائیں ختم کرانے کیلئے خود ہی اپنا نیا انکوائری افسر مقرر کرنے کی اجازت دی گئی، ایڈوانس انکریمنٹس کے علاوہ دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی سزائیں ختم کر کےانہیں ترقیاں بھی دیدی گئیں،اب لاہور ہائیکورٹ کا کوئی نیا افسر دونوں ڈپٹی رجسٹرار کی فائلوں کی انکوائری کا ذمہ اٹھانے کو تیار نہیں ،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی فائلیں ایک برانچ سے دوسری برانچ گھوم رہی ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے زیادہ تر نوٹیفکیشنز ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل 6مارچ کو جاری کئے گئے، ہائیکورٹس کے ملازمین کے ساتھ اقربا پروری کا سلوک کرکے عدلیہ کو بدنام کیا گیا، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوبائی اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ریٹائرمنٹ سے 1 ماہ قبل جاری کئے گئے تمام نوٹیفکشنز کا عدالتی جائزہ لیا جائے،لاہور ہائیکورٹس کے افسران کو دی گئی ایڈوانس انکریمنٹس غیرقانونی قرار دے کر واپس سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے،

  • ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے نمٹا دی،

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی درخواست پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، جسٹس عائشہ ملک نے درخواست گزار کے وکیل حامد خان سے دریافت کیا کہ آیا وہ یہ کیس چلانا چاہتے ہیں کہ نہیں، 4 ججز کے حوالے سے ایشو تھا یہاں تو ججز ریٹائر بھی ہوچکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 5 لوگوں نے ایک ساتھ حلف اٹھایا تو عمر کے حساب سے سینیارٹی طے ہوگی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو اکیڈمک ایکسرسائز کرنے کا کہہ رہے ہیں۔دوران سماعت وکیل حامد خان نے موقف اپنایا کہ تھا کہ ججز کا نوٹیفکیشن ساتھ ہونے کے بعد اگر حلف ایک دن تاخیر سے بھی لیں تو سینیارٹی برابر ہی ہوگی،جسٹس فرخ عرفان نے امریکا میں ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس کو آگاہ کر کے حلف ایک دن بعد اٹھایا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج جب تک حلف نہیں اٹھاتا تب تک وہ جج نہیں ہوسکتا ،جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان سے استفسار کیا کہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست دی ہے، فیصلے میں غلطی کیا ہے وہ بتائیں، اگر کوئی شخص نوٹیفکیشن کے ایک ماہ تک حلف نہیں لیتا اور بعد میں وہ انکار کر دے تو کیا ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بہتر ہے اس معاملے کو اوپن رکھیں کسی اور کیس میں طے کر لیں گے۔عدالت نے نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مستقبل میں کسی اور مقدمے میں سینیارٹی کے اصول کا معاملہ طے کریں گے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ میری جانب سے درخواست بروقت دائر کی گئی تھی، اب نظر ثانی کیس زیر التواء ہے، چاہتا ہوں کہ کسی مقدمے میں اس معاملے کو دیکھا جائے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہم سے غیر آئینی کام کیوں کروانا چاہتے ہیں، امیدواران کی مرضی ہے سیاسی جماعت میں شامل ہوں یا نہ ہوں،سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مولوی اقبال صاحب آپ پھر اسی طرف جا رہے ہیں جس وجہ سے پابندی لگی تھی،عدالت نے درخواست پر رجسڑار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

    اعلیٰ عدالتی فورمز پر ٹرائل مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم طے کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون سمیت کئی قوانین میں ٹائم لائن موجود ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ٹائم لائن کے لیے پارلیمنٹ سے جاکر قانون سازی کروا لیں،درخواست گزار حسن رضا نے کہا کہ ٹرائل مکمل ہوتے ہوتے 20 سے 40 سال لگ جاتے ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ایسی عمومی باتیں نہ کریں اور الزام نہ لگائیں، سسٹم پرفیکٹ نہیں ہے لیکن پیش رفت ہو رہی ہے، آپ کی درخواست نیشنل جوڈیشل پالیسی سے متعلق ہے، آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست پر کسی کو ہدایت نہیں جاری کریں گے، جہاں اصلاحات ہو رہی ہیں وہاں جاکر شمولیت اختیار کریں، یہ ہمارا کام نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم آئین اور قانون کے تابع ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ عدالتی ریفارمز کے لیے لاء اینڈ جسٹس کمیشن موجود ہے، وہاں رجوع کریں۔ عدالت نے دلائل کے بعد درخواست خارج کر دی۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • سپریم کورٹ، آرمی چیف کی توسیع کے خلاف درخواست خارج

    سپریم کورٹ، آرمی چیف کی توسیع کے خلاف درخواست خارج

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    آرمی چیف کی توسیع کیخلاف درخواست سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے عدم پیروی پر خارج کردی۔رجسٹرار آفس کے درخواست پر نا قابل سماعت کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فیصلہ کیا۔

    بول نیوز کیخلاف تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں پر سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس عائشہ ملک نے تنخواہوں سے متعلق از خود نوٹس کیس سننے سے انکار کردیا،عدالت نے کہا کہ بول نیوز ملازمین تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے نیا آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ معزز جج صاحبہ نے از خود نوٹس سننے سے انکار کیا ہے۔آج عدالتی کاروائی کو ملتوی کر رہے ہیں،تنخواہوں کا کیس نئے آئینی بینچ میں سماعت کیلئے لگے گا۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اعلی عدلیہ ججز کی پارلیمنٹ میں تقریروں کیخلاف درخواست خارج کر دی، عدالت نے درخواست گزار محمد اختر نقوی کی عدم پیروی پر درخواست خارج کی،آئینی بینچ نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے،جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی

    سپریم کورٹ، ایک وقوعہ پر دو مقدمے، درخواست خارج
    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں ایک وقوعہ پر 2ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل درخواستگزار وسیم احمد خان کی سرزنش کردی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ایسے کیسز کی وجہ سے زیرالتوا مقدمات کی تعداد60ہزار ہو چکی ہے،ہمیں 60ہزار زیرالتوا مقدمات بار بار یاد کرائے جاتے ہیں،کیوں نہ آپ کی درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کریں،آپ تو وکیل ہیں آپ بھی ایسے کیسز عدالتوں میں دائر کریں گے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ صغران بی بی کیس میں عدالت فیصلے دے چکی ہے،دوسر ی ایف آئی آر کے اخراج کیلئے ہائیکورٹ کیوں نہیں گئے؟سپریم کورٹ آئینی بنچ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

  • سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں سماعت،درخواست گزار کو جرمانہ

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں سماعت،درخواست گزار کو جرمانہ

    سپریم کورٹ ، آئینی بینچ نے الیکشن میں 50 فیصد سے زائد ووٹ والے امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کی درخواست خارج کردی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انتخابات میں 50 فیصد سے زائد ووٹ والے امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کے تحت امیدوار کو الیکشن میں 50 فیصد ووٹ لازمی قرار دیا جائے، الیکشن میں ڈالے ووٹوں پر کامیاب امیدوار کا فیصلہ ہوتا ہے، ووٹرز ووٹ ڈالنے نہ جائے تو ان کا کیا ہوسکتا ہے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بتایا جائے درخواست گزار کا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، آئین کے کن آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہو رہی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر نیا قانون بنوانا ہے تو سپریم کورٹ کے پاس اختیار نہیں،جسٹس عائشہ کے استفسار پر درخواست گزار محمد اکرم نے عدالت میں کہا کہ سارے بنیادی حقوق اس درخواست میں اٹھائے سوال سے جڑے ہیں، ہماری زندگی کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زندگی کا فیصلہ تو پارلیمنٹ نہیں کرتی،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام لوگوں کو ووٹ کا حق ہے، پولنگ کے دن لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں ووٹ ڈالنے نہیں جاتے، ووٹرز ووٹ نہ ڈالیں تو یہ ووٹرز کی کمزوری ہے۔

    جرمانہ کم از کم 100 ارب کریں تاکہ ملک کا قرضہ کم ہو، وکیل ،آپ کی اتنی حیثیت نہیں، جسٹس امین الدین
    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فروری 2024 کے الیکشن میں ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر درخواست گزار محمد اکرم نے جواب دیا کہ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر آئین کی توہین کررہے ہیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بے بنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزار پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا، درخواست گزار نے عدالت سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ جرمانہ کم از کم 100 ارب کریں تاکہ ملک کا قرضہ کم ہو، آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 100ارب کا جرمانہ دینے کی آپ کی حیثیت نہیں،آئینی بینچ نے درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

    آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل نمٹا دی گئی
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7رکنی آئینی بینچ نے آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل پر سماعت کی، درخواست گزار مولوی اقبال حیدر ویڈیو لنک کے زریعے پیش ہوئے ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کو عدالتی احاطے میں اجازت دی، یہ آپ کے کے لیے کافی ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ یہ معاملہ طے ہوچکا ہے، میری درخواست غیرمؤثر ہوچکی ہے ،بعدازاں آئینی بینچ نے درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

    علاوہ ازیں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انکم لیوی ٹیکس ایکٹ 2013 کے خلاف 1178 مقدمات کی سماعت کی۔دوران سماعت ایف بی آر کے وکیل نے بتایا کہ مقدمے کے بہت سے فریقین کو نوٹسز نہیں موصل ہوسکے، مقدمے میں لاہور اور کراچی 2 ہائیکورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا، 400 لوگوں کے ایڈریسز شاید درست نہیں،آئینی بینچ نے نوٹسز کی تعمیل بذریعہ اخبار اشتہار کروانے کا حکم دے دیا،وکیل نے کہا کہ مقدمے میں اپیلوں کے قابل سماعت ہونے کا بھی ایشو شامل ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اس ایشو کوسنیں گے، کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

    سپریم کورٹ، بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج
    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج کردی ،عدالت نے عدم پیروی پر درخواست خارج کردی ،کیس کی سماعت سات رکنی آئینی بینچ نے کی،درخواست گزار محمود اختر نقوی عدالت پیش نہ ہوئے، عدالت نے درخواست گزار کو آج طلب کر رکھا تھا ، تاہم عدالت نے عدم پیروی پر درخواست خارج کر دی،

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کیسز کی سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ نے کورٹ روم نمبر 3 میں کیسز کی سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی کنونشن سنٹر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کرلیا.عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس معاملہ پر شائد واجبات بعد میں ادا کر دیئے گئے تھے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سوموٹو کیس میں سابق وزیر اعظم کو بھی نوٹس کیا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کنونشن سنٹر کو ادارہ کی پالیسی کے مطابق چلائیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے واجبات ادائیگی کی معلومات لے لینے دیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ معلومات لیں ہمیں کچھ دیر میں بتادیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا.

    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس،رپورٹ طلب
    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس کی سماعت ہوئی،آئینی بینچ نے التواء درخواست پر کاروائی دو ہفتوں کےلئے ملتوی کردی،عدالت نے ایف آئی اے اور ایف بی آر کو غیر ملکی خفیہ بنک اکاؤنٹس پر رپورٹ طلب کرلی،دوران سماعت وکیل حافظ احسان نے دلائل پیش کیے کہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم ہوچکی ہے، قانونی پراسس کے تحت خفیہ اکاؤنٹس اور ریکوری پر کارروائی چل رہی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیس میں ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تمام ایجنسیوں کو رپورٹ کے احکامات جاری ہوئے،ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ ایف بی آر اور ایف آئی اے کا ہے، ایجنسیوں کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیس کو ختم کرنا ہے تو رپورٹ دے دیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ایف آئی اے اور ایف بی آر سے غیرملکی خفیہ بینک اکاؤنٹس اور لوٹی گئی رقم کی واپسی پر متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی اور التوا کی درخواست پر 2 ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کردی۔

    سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بینچ میں چلے گا،جسٹس امین الدین
    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے انسداد دہشت گردی کیس پر ازخود نوٹس کیس درخواست گزار کی استدعا پر نمٹا دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ہے، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بنچ میں چلے گا، سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بینکنگ آرڈیننس کے تحت اپیل کے معاملے پر کیس نمٹا دیا،آئینی بینچ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سروس اسٹرکچر سے متعلق کیس کی سماعت بھی ملتوی کردی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے متعلق تمام مقدمات یکجا کر کے فریقین کو نوٹس جاری کردیے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ نے الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق کیس کو غیر مؤثر ہونے کے سبب نمٹا دیا۔

    سپریم کورٹ میں سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی توہین عدالت کیس میں وکیل کو جواب کے لیے مہلت دے دی گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی پیش نہیں ہوئیں، اگر کوئی فورم اختیار کیے بغیر کارروائی کرے تو ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں پر یاسمین عباسی ذاتی حیثیت میں پیش ہوتی رہیں، معاملہ ابھی تو غیر مؤثر نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، ہم کیوں سابق وفاقی محتسب کی طرف جا رہے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا وفاقی محتسب کی کارروائی ہائیکورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے، یاسمین عباسی کو نوٹس کر کے کارروائی سے آگاہ کیا جائے، حکمِ امتناع کے بعد محتسب کی کارروائی توہینِ عدالت تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ توہینِ عدالت کا نوٹس چیئرمین پرسن وفاقی محتسب کو جاری کیا گیا، یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، موجودہ وفاقی محتسب کو نوٹس کردیں، وہ آکر بتا دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے اس کا کیا ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کے جج اور وفاقی محتسب دونوں نے ایک دوسرے کو توہینِ عدالت نوٹسز جاری کیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیئرمین محتسب آ کر بتادیں گے وہ معاملہ چلانا چاہتے یا واپس لینا چاہتے ہیں،عدالت نے وکیل وفاقی محتسب کو معاملے پر ہدایات لےکر جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔