Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، رانا ثنااللہ

    شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، رانا ثنااللہ

    رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کا شور تو ہے لیکن عملی کام نہیں ہورہا، نئے صوبوں بنانے کے لیے ایک آئینی طریقہ کار ہے۔

    فیصل آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تمام پارلیمنٹرین شہر فیصل آباد کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، موجودہ حکومت صنعتکاروں کو درپیش تمام مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تاکہ معیشت کا پہیہ رواں رہے،رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے 2018 کے بعد ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے نتیجے میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ سابق حکومت کے دور میں ہوا، لیکن اگر یہ فیصلہ کرنا ہی تھا تو وقت پر کیوں نہ کیا گیا؟ موجودہ حکومت رواں برس عوام کو ریلیف اور سبسڈی دینا چاہتی تھی، مگر آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا، ہم نے دشمن ملک کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکے کیے اور معرکہ حق میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، پاکستان اب بھی امن کا خواہاں ہے اور حملہ نہیں کرے گا، تاہم دفاع ضرور کرے گا،ہمارے سپہ سالار نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا جواب پوری دنیا دیکھے گی اور اس موقع پر سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر متحد تھی، جو دشمن کے مقابلے میں ملک کے دفاع کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔

    تنگوانی:دو قبائل میں فائرنگ، ایک شخص قتل، دوسرا زخمی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوگئی، پی ڈی ایم اے

    ایشیا کپ، پاک بھارت میچ کے ٹکٹس بلیک میں فروخت ہونے لگے

  • آئی ایم ایف کا  سیلاب پر دکھ کا اظہار، بحالی فنڈز اور بجٹ اقدامات کا جائزہ لینے کا اعلان

    آئی ایم ایف کا سیلاب پر دکھ کا اظہار، بحالی فنڈز اور بجٹ اقدامات کا جائزہ لینے کا اعلان

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرض پروگرام کے جائزہ مشن میں حکومت کی مالیاتی پالیسی اور ہنگامی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہیر بینسی نے کہا کہ مشن یہ دیکھے گا کہ آیا مالی سال 2026 کا بجٹ، اس میں مختص اخراجات اور ہنگامی اقدامات سیلاب کے باعث درکار اخراجات پورا کرنے کے لیے کافی اور لچکدار ہیں یا نہیں۔نمائندے کے مطابق سیلاب متاثرین کے لیے حکومتی اخراجات، ریلیف اور بحالی کے اقدامات اور بجٹ ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ بحالی اور امداد کے فنڈز کا تخمینہ بھی لگایا جائے گا۔ آئی ایم ایف مشن کا دوسرا جائزہ لینے کے لیے رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اچانک آنے والے سیلاب سے اب تک 972 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ پنجاب بھر میں فصلیں، مویشی اور مکانات تباہ ہو چکے ہیں جبکہ سیلابی ریلے سندھ کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور مزید مشکلات کا خدشہ ہے۔

    غزہ پر اسرائیلی حملےجاری، مزید 40 فلسطینی شہید

    میانمار: راکھین میں فضائی حملہ، 19 طلبہ ہلاک، 22 زخمی

    اسحٰق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ٹیلیفونک رابطہ

    جسٹس ظفر احمد راجپوت سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مقرر

  • آئی ایم ایف کو سستی بجلی فراہمی کے لیے دو تجاویز پیش کی گئی ہیں،سیکرٹری پاور

    آئی ایم ایف کو سستی بجلی فراہمی کے لیے دو تجاویز پیش کی گئی ہیں،سیکرٹری پاور

    پاور ڈویژن نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو سستی بجلی فراہمی کیلئے دو تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

    قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزارت توانائی سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیامتعلقہ حکام کی جانب سے کمیٹی کو آئی پی پیز سے متعلق بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ 2015 میں 9765 میگا واٹ آئی پی پیز کی انسٹالڈ کپیسٹی تھی، 2024 میں 25642 میگاواٹ آئی پی پیز کی انسٹالڈ میگا واٹ کیسٹی ہے، 2015 میں میں کپیسٹی پرچیز پرائس 141 ارب سالانہ تھی جو اب 1.4 ٹریلین ہےمالی سال 2015 میں 58 بلین کلو واٹ آور اور 2014 میں 90 بلین کلو واٹ آور بجلی پیدا ہوئی۔

    سید نوید قمر نے کہا کہ پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے کی وجہ کوئلے پر ڈال رہا ہے، جنید اکبر خان نے کہا کہ گنے کے پھوک سے 200 فیصد تک بجلی کی پیداوار دکھائی گئی ہے یہ کس طرح ممکن ہے سی پی پی اے حکام نے کہا کہ گنے کے پھوک سے 45 فیصد بجلی پیداوار کا اندازہ لگایا گیا تھا تاہم پیداوار بینج مارک سے زیادہ رہی۔

    امریکی ویزے کیلئے نئی ”ویزا انٹیگریٹی فیس“ وصول کرنے کا فیصلہ

    سیکرٹری پاور نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو سستی بجلی فراہمی کے لیے دو تجاویز پیش کی گئی ہیں ایک موجودہ صنعتوں کو دوسری شفٹ میں عالمی نرخوں پر بجلی دینا او ر دوسری ،نئی صنعتوں، ڈیٹا مائننگ اور کرپٹو کو کم ریٹ پر بجلی فراہم کرنا، آئی ایم ایف سے ان تجاویز پر بات چیت جاری ہے، اور منظوری کی صورت میں ان پر عملدرآمد کے لیے وفاقی کابینہ سے فوری منظوری لی جائے گی۔

    تاہم اجلاس میں رکن کمیٹی عمر ایوب نے کہا کہ ’حکومت آئی ایم ایف کی طرف دیکھنے کے بجائے خود فیصلہ کرے،سیکرٹری پاور نے تسلیم کیا کہ درآمدی ایند ھن پر انحصار نے بجلی کو مہنگا کر دیا ہے اور اب ترجیح مقامی ذرائع جیسے تھر کوئلہ، پن بجلی اور متبادل توانائی کو دی جا رہی ہےجامشورو پاور پلانٹ کو تھر کوئلے پر منتقل کیا جائے گا، تھر کوئلہ دیگر پلانٹس تک لانے کے لیے ریلوے ٹریک بچھانے کی منصوبہ بندی ہے اور آئندہ 10 سالوں میں درآمدی فیول پر نیا پلانٹ نہیں لگے گا۔

    :پنجاب میں کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کا قیام، کمیشننگ تقریب میں مریم نواز کی شرکت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 200 یونٹ کے بعد سلیب بڑھنے پر اہم فیصلہ کرتے ہوئے وزارت سے مکمل بریفنگ طلب کرلی،جنید اکبر نے کہا کہ بتایا جائے 200 یونٹ سے زائد استعمال پر سلیب پر چھے ماہ والی پالیسی کیوں عائد کی گئی، شازیہ مری نے کہا کہ جب ملک میں اضافی بجلی موجود ہے تو سندھ اور خیبر پختو نخواہ میں سولہ سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کیوں ہورہی ہے؟انہوں نے الزام لگایا کہ ’تھر کوئلے سے سستی بجلی بنانے کے منصوبے مافیا کے دباؤ پر برسوں روکے گئے‘ اور ساہیوال پلانٹ کی مخالفت کو ”بیوقوفی“ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ایک دفعہ بھی 200 ہونے سے زیادہ بجلی استعمال ہو تو چھ مہینے زیادہ بل آئے گا، اس کا کوئی حل بتا دیں،سیکریٹری پاور نے کہا کہ تین چار سال میں 200 یونٹس تک کے صارفین 11 ملین سے بڑھ کے 18 ملین پر چلے گئے ہیں، 58 فیصد صارفیں 200 یونٹس یا اس سے نیچے والے ہیں، حد کو بڑھا دیں گے تو اور سبسڈی چاہئے ہو گی۔

    وزیراعظم اور صدر کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز تیز تر کرنے کی ہدایت

    انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہماری بات چیت چل رہی ہے کہ 2027 تک اس چیز سے نکل جائیں، اور بی آئی ایس پی کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ سبسڈی پر جائیں200 یونٹ تک کو اتنا سبسڈائز کر رہے ہیں، 18 ملین صارفین اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، استعمال201 یونٹس پر چلا جاتا ہے تو سبسڈی پھر بھی ہوتی ہے، چھ مہینے کو کم کرنے پر غور کر لیتے ہیں۔

  • آئی ٰ ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر   نےعہدے سے استعفیٰ دیدیا

    آئی ٰ ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نےعہدے سے استعفیٰ دیدیا

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے-

    آئی ایم ایف کے مطابق آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ فنڈ کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ آئندہ ماہ(اگست )کے اختتام پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گی،وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں بطورگریگوری اینڈ اینیا کافی پروفیسر آف اکنامکس اپنی نئی تعلیمی ذمہ داریاں سنبھالیں گی

    آئی ایم ایف کے مطابق گیتا گوپیناتھ نے جنوری 2019 میں آئی ایم ایف میں بطور چیف اکانومسٹ شمولیت اختیار کی تھی اور جنوری 2022 میں انہیں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے اہم عہدے پر ترقی دی گئی ان کے دور میں عالمی معیشت کوکورونا وبا، مہنگائی کا بحران، جنگیں اور تجارتی نظام کی ازسرنو ترتیب جیسے درپیش کئی غیرمعمولی چیلنجز کا سامنا رہا ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں آئی ایم ایف نے کلیدی کردار ادا کیا، گیتا گوپیناتھ کے جانشین کے تقرر کا اعلان منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا جلد کریں گی۔

    ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے گیتا گوپیناتھ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گیتا ایک شاندار رفیق کار اور غیرمعمولی فکری رہنما رہیں انہوں نے فنڈ کے مشن اور اس کے رکن ممالک سے اپنی بھرپور وابستگی کا مظاہرہ کیا وہ نہ صرف ایک مایہ ناز ماہرِ معاشیات ہیں بلکہ ایک اعلیٰ منتظم بھی ثابت ہوئیں جنہوں نے ہر موقع پر اپنے ساتھیوں کی پیشہ ورانہ ترقی اور فلاح کا خاص خیال رکھا، اپنے تجزیاتی وقار کے ساتھ ساتھ گیتا نے پالیسی سازی میں عملی رہنمائی فراہم کی انہو ں نے آئی ایم ایف کے ملٹی لیٹرل سرویلنس، مالی و زری پالیسی، قرضوں اور بین الاقوامی تجارت پر کام کی نگرانی کی اور ارجنٹائن و یوکرین جیسے ممالک کے پروگراموں میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

    آئی ایم ایف کی تاریخ میں پہلی خاتون چیف اکانومسٹ کا اعزاز حاصل کرنے والی گیتا گوپیناتھ کی دانشمندی کو عالمی سطح پر سراہا گیاانہوں نے عالمی معیشت پر جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی سب سے اہم رپورٹ ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک کے معیار کو بلند رکھا بالخصوص کورونا وبا کے دوران جب عالمی معیشت غیرمعمولی بحران سے دوچار تھی گیتا گوپیناتھ نےانٹیگریٹڈ پالیسی فریم ورک پر بھی اہم کام کیا جو ممالک کو مالی و اقتصادی استحکام کے لیے موزوں پالیسیاں اپنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    انہوں نے کورونا وبا کے دوران عالمی سطح پر ویکسینیشن کے لیے واضح ہدف اور اخراجات کا تعین کرنے والی پینڈیمک پلان کی مشترکہ تیاری میں بھی نمایاں کردار ادا کیاجسے عالمی سطح پر ایک فکری سنگِ میل قرار دیا گیا اپنے الوداعی بیان میں گیتا گوپیناتھ نے کہا کہ آئی ایم ایف میں بطور چیف اکانومسٹ اور فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر میری خدمات کا دور میرے لیے باعثِ فخر رہا میں نے فنڈ کے غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل عملے، منیجمنٹ، ایگزیکٹو بورڈ اور دنیا بھر کے ممالک کے حکام کے ساتھ قریبی طور پر کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    میں کرسٹالینا جارجیوا اور ان کی پیش رو کرسٹین لاگارڈ کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے عالمی سطح پر خدمات انجام دینے کا یہ نایاب موقع فراہم کیا اب میں تعلیمی میدان میں واپسی کے ساتھ بین الاقوامی معیشت اور مالیات پر تحقیق کو مزید وسعت دوں گی تاکہ نئی نسل کے ماہرینِ اقتصادیات کی تربیت کر سکوں۔

  • ٹیکس چھوٹ پر آئی ایم ایف کے تحفظات ،چینی کی درآمد کا ٹینڈر واپس لے لیا

    ٹیکس چھوٹ پر آئی ایم ایف کے تحفظات ،چینی کی درآمد کا ٹینڈر واپس لے لیا

    درآمدی چینی پر ٹیکس چھوٹ پر آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد حکومت نے چینی کی درآمد کے لیے جاری کیا جانے والا ٹینڈر واپس لے لیا۔

    ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا ٹینڈر واپس لے کر50 ہزار میٹرک ٹن چینی کی درآمد کا نظرثانی ٹینڈر جاری کرکے 50 ہزار ٹن چینی کی درآمد کے لیے 22 جولائی تک بولیاں طلب کر لیں،حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے تمام ڈیوٹیز معاف کر دی تھیں ، ٹی سی پی نے 11 جولائی کو 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا ٹینڈر جاری کیا تھا تاہم آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد حکومت نے ٹینڈر واپس لے لیا۔

    واضح رہے کہ چینی کی قیمت ملکی تاریخ میں پہلی بار 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے پر تحفظات ظاہر کیے تھے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے جس کے بعد حکومت نے چینی کی درآمد پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر غور شروع کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق چینی درآمد کا فیصلہ مکمل طور پر ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے، نجی شعبے کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر بھی غور جاری ہے-

  • پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا،وزیر خزانہ

    پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ کا کہناہے کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا، جس کے نتیجے میں دوسری قسط جاری ہوئی-

    وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے معروف عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’موڈیز‘ کی ٹیم کے ساتھ ورچوئل اجلاس کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان کی معاشی صورت حال، اصلاحاتی اقدامات، اور معاشی استحکام کی جانب ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔

    وزیر خزانہ نے موڈیز کی ٹیم کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا، جس کے نتیجے میں دوسری قسط جاری ہوئی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) میں بھی پیش رفت ہوئی ہے انہوں نے پاکستان کی معیشت میں مہنگائی میں نمایاں کمی، پالیسی ریٹ میں نرمی، روپے کی قدر میں استحکام، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، ترسیلات زر میں اضافہ اور جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر کے 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے جیسے مثبت اشاریے بھی پیش کیے۔

    کانگریسی رہنما پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے پر بھارتی میڈیا پر برس پڑیں

    وزیر خزانہ نے بجٹ میں شامل مالیاتی اقدامات، تجارتی اصلاحات، برآمدات پر مبنی ترقی اور کفایت شعاری پر بھی روشنی ڈالی انہوں نے امریکا کے ساتھ ترجیحی ٹیرف تک رسائی کی بات چیت کو بھی تعمیری اور مثبت قرار دیا، محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ سے ایک ارب ڈالر کا کمرشل فنانسنگ معاہدہ کیا ہے، جب کہ پانڈا بانڈ کے اجرا اور یوروبانڈ مارکیٹ تک دوبارہ رسائی کی تیاری بھی جاری ہے۔

    ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں بہتری کے لیے وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل اصلاحات، ٹیکنالوجی کا استعمال اور سخت مانیٹرنگ پر زور دیا اور بتایا کہ وزیر اعظم ذاتی طور پر ان اصلاحات کی نگرانی کر رہے ہیں ان کا ہدف آئندہ 2 برس میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 13 تا 13.5 فیصد تک لے جانا ہے، موڈیز ٹیم کی جانب سے پوچھے گئے تمام سوالات کے جوابات وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم نے دیے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ معاشی اصلاحات، نجکاری اور ادارہ جاتی بہتری کے حکومتی اقدامات عالمی سطح پر تسلیم کیے جائیں گے،پاکستان پائیدار ترقی، عالمی اعتماد کی بحالی اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے جڑنے کے عمل میں پوری سنجیدگی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

    ائیر انڈیا حادثہ:پائلٹ کے ڈپریشن اور دماغی مسائل میں مبتلا ہونے کا انکشاف

  • پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،لیکن بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے –

    عالمی مالیاتی فنڈ کے پاکستان میں نمائندے ماہر بینیچی نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) میں اپنے لیکچر میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) خطے اور پاکستان میں بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے فنڈ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔

    ایس ڈی پی آئی میں ماہرینِ معیشت، محققین اور پالیسی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں ترقی 2025 اور اس کے بعد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے لیکن بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس سے محتاط اور دور اندیش پالیسی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔’

    وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے،شرجیل میمن

    پاکستان پر بات کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت ملک کی کارکردگی ’ اب تک مضبوط رہی ہے’ ، اور انہوں نے مئی 2025 میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا کہا کہ ابتدائی پالیسی اقدا ما ت نے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ قائم کرنے میں مدد دی ہے۔’

    انہوں نے زور دیا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پاکستان کی طویل المدتی معاشی پائیداری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسی اصلاحات جو ٹیکس کے نظام میں برابری کو مضبوط بنائیں، کاروباری ماحول کو بہتر کریں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    انہوں نے آئی ایم ایف کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت پاکستان کی موسمیاتی اصلاحات کی پیش رفت کو بھی اُجاگر کیا بینیچی کے مطابق، آر ایس ایف ایسے ممالک کو مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ وہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں اور بین الاقوا می موسمیاتی وعدوں کو پورا کر سکیں-

  • سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک بڑی شرط پوری کر دی-

    گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا،صدر مملکت کی منظوری کے بعد سول سرونٹس ترمیمی ایکٹ 2025 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق تمام وفاقی سرکاری افسران کو اپنے اور اہل خانہ کے ملکی و غیر ملکی اثاثے ڈیجیٹل طور پر فائل کرنا ہوں گے، یہ تفصیلات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے عوامی سطح پر دستیاب ہوں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، کسی بھی افسر کی ذاتی معلومات کی رازداری کو یقینی بنایا جائے گا، اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گزٹ نوٹیفکیشن کی کاپی تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو بھجوا دی ہے تاکہ ترمیمی قانون پر فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    ترمیمی ایکٹ کے تحت سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں نیا سیکشن 15-A شامل کیا گیا ہے جس کے تحت افسران کو ہر سال اپنی اور اہل خانہ کی مالی حیثیت، جائیداد اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی،علاوہ ازیں اثاثوں کی فائلنگ کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے سرکاری ریکارڈ کو شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔

    ڈی جی خان سمیت ملک بھرمیں 6 اور 7 جولائی کو شدید بارشیں، اربن فلڈ کا الرٹ، بلوچستان ،نالوں میں طغیانی

  • وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بیشتر ممالک کو مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

    دنیا بھر میں معاشی سست روی کے ساتھ ساتھ افراط زر یعنی مہنگائی بھی معیشتوں کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے،اعدادوشمار کے مطابق وینزویلا اور زمبابوے مہنگائی کی بلند ترین سطح پر ہیں، جہاں افراط زر کی شرح بالترتیب 180 اور 92 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے یہ شرحیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور وہاں کی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب بڑی معیشتوں میں افراط زر کی صورتحال نسبتاً قابو میں ہے امریکہ میں مہنگائی 3 فیصد، برطانیہ میں 3.1 فیصد، فرانس میں 1.3 فیصد اور جرمنی میں 2 فیصد پر ہے، جو عالمی اوسط کے قریب تصور کی جا سکتی ہےبھارت میں مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد تک محدود رہی، جو گزشتہ برس کی 5.9 فیصد سے کم ہے، بنگلہ دیش میں یہ شرح 10 فیصد ہے جبکہ سری لنکا میں افراط زر کی شرح 12 فیصد پر رہنے کی توقع ہےپاکستان میں حکومت کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد رہی، تاہم آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق یہ 5.1 فیصد ہے، جو اب بھی خطے کے کئی ممالک سے بہتر تصور کی جا سکتی ہے۔

    عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہے، جہاں خوراک، توانائی اور درآمدات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتا ہے، مہنگائی کی اس بلند لہرجیسی صورتحال کے پیش نظر ماہرین سخت مالی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔

    نان فائلرز کے لئے بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

  • آئی ایم ایف کا صنعتی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات مرحلہ وار ختم کر نے کا  مطالبہ

    آئی ایم ایف کا صنعتی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات مرحلہ وار ختم کر نے کا مطالبہ

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے زور دیا ہے کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اور صنعتی زونز کو دی گئی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے۔

    آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان کو 2035 تک تمام مراعات کے خاتمے کا ایک جامع پلان تیار کرنا ہوگا، جو رواں سال کے آخرتک مکمل کرکے پیش کیا جانا لازمی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ پلان پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاہدے کے تحت مرتب کرنا ہوگا، تاکہ مالیاتی نظم و ضبط اور محصو لات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کے باعث حکومت کو تمام مالیاتی اہداف ہر صورت حاصل کرنا ہوں گے-

    بھارتی اخبارات نے مودی کی انتخابی چالوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

    وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کو شامل کرنا اور اس کی تکمیل یقینی بنانا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ بجٹ خسارے اور مالیاتی پابندیوں کے باعث حکومت کو کفایت شعاری کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔

    علی امین گنڈاپور کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر