وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے شرائط میں نرمی یا رعایت حاصل نہ ہو سکی تو حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی میں 50 سے 55 روپے تک کے اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر معیشت کو مزید سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہےحکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاہم، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر عالمی ادارے نے رعایت نہ دی تو اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پر 50 سے 55 روپے تک لیو ی لگانے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں سستا ترین ڈیزل پاکستان میں فراہم کیا جا رہا ہے اور ڈیزل پر لیوی صفر ہونے کی وجہ سے اس کا بوجھ پیٹرول پر منتقل کرنا پڑاہ آئی ایم ایف کے تعاون کے بغیر موجودہ معاشی حالات میں نظام چلانا ممکن نہیں ہے، اس لیے معاہدے کی خلاف ورزی کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ملک معاشی مشکلات کا شکار ہوا تو ہمارے پاس اربوں ڈالرز کے اسٹریٹجک ذخائر موجود نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر 100 ارب روپے کے فنڈز سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی، وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار معاشی استحکام کے لیے دن رات کوشاں ہیں-
علی پرویز ملک نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب پیٹرول کی قیمتوں میں 80 روپے کی کمی کی گئی تو سیاسی مخالفین نے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے انتہائی کٹھن حالات میں تیل کی دستیابی کو یقینی بنایا اور عوام کو بڑی تکلیف سے بچایا، وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ علاقائی تعاون کے ذریعے توانائی کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔
