Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • آئی ٰ ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر   نےعہدے سے استعفیٰ دیدیا

    آئی ٰ ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نےعہدے سے استعفیٰ دیدیا

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے-

    آئی ایم ایف کے مطابق آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ فنڈ کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ آئندہ ماہ(اگست )کے اختتام پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گی،وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں بطورگریگوری اینڈ اینیا کافی پروفیسر آف اکنامکس اپنی نئی تعلیمی ذمہ داریاں سنبھالیں گی

    آئی ایم ایف کے مطابق گیتا گوپیناتھ نے جنوری 2019 میں آئی ایم ایف میں بطور چیف اکانومسٹ شمولیت اختیار کی تھی اور جنوری 2022 میں انہیں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے اہم عہدے پر ترقی دی گئی ان کے دور میں عالمی معیشت کوکورونا وبا، مہنگائی کا بحران، جنگیں اور تجارتی نظام کی ازسرنو ترتیب جیسے درپیش کئی غیرمعمولی چیلنجز کا سامنا رہا ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں آئی ایم ایف نے کلیدی کردار ادا کیا، گیتا گوپیناتھ کے جانشین کے تقرر کا اعلان منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا جلد کریں گی۔

    ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے گیتا گوپیناتھ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گیتا ایک شاندار رفیق کار اور غیرمعمولی فکری رہنما رہیں انہوں نے فنڈ کے مشن اور اس کے رکن ممالک سے اپنی بھرپور وابستگی کا مظاہرہ کیا وہ نہ صرف ایک مایہ ناز ماہرِ معاشیات ہیں بلکہ ایک اعلیٰ منتظم بھی ثابت ہوئیں جنہوں نے ہر موقع پر اپنے ساتھیوں کی پیشہ ورانہ ترقی اور فلاح کا خاص خیال رکھا، اپنے تجزیاتی وقار کے ساتھ ساتھ گیتا نے پالیسی سازی میں عملی رہنمائی فراہم کی انہو ں نے آئی ایم ایف کے ملٹی لیٹرل سرویلنس، مالی و زری پالیسی، قرضوں اور بین الاقوامی تجارت پر کام کی نگرانی کی اور ارجنٹائن و یوکرین جیسے ممالک کے پروگراموں میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

    آئی ایم ایف کی تاریخ میں پہلی خاتون چیف اکانومسٹ کا اعزاز حاصل کرنے والی گیتا گوپیناتھ کی دانشمندی کو عالمی سطح پر سراہا گیاانہوں نے عالمی معیشت پر جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی سب سے اہم رپورٹ ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک کے معیار کو بلند رکھا بالخصوص کورونا وبا کے دوران جب عالمی معیشت غیرمعمولی بحران سے دوچار تھی گیتا گوپیناتھ نےانٹیگریٹڈ پالیسی فریم ورک پر بھی اہم کام کیا جو ممالک کو مالی و اقتصادی استحکام کے لیے موزوں پالیسیاں اپنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    انہوں نے کورونا وبا کے دوران عالمی سطح پر ویکسینیشن کے لیے واضح ہدف اور اخراجات کا تعین کرنے والی پینڈیمک پلان کی مشترکہ تیاری میں بھی نمایاں کردار ادا کیاجسے عالمی سطح پر ایک فکری سنگِ میل قرار دیا گیا اپنے الوداعی بیان میں گیتا گوپیناتھ نے کہا کہ آئی ایم ایف میں بطور چیف اکانومسٹ اور فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر میری خدمات کا دور میرے لیے باعثِ فخر رہا میں نے فنڈ کے غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل عملے، منیجمنٹ، ایگزیکٹو بورڈ اور دنیا بھر کے ممالک کے حکام کے ساتھ قریبی طور پر کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    میں کرسٹالینا جارجیوا اور ان کی پیش رو کرسٹین لاگارڈ کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے عالمی سطح پر خدمات انجام دینے کا یہ نایاب موقع فراہم کیا اب میں تعلیمی میدان میں واپسی کے ساتھ بین الاقوامی معیشت اور مالیات پر تحقیق کو مزید وسعت دوں گی تاکہ نئی نسل کے ماہرینِ اقتصادیات کی تربیت کر سکوں۔

  • ٹیکس چھوٹ پر آئی ایم ایف کے تحفظات ،چینی کی درآمد کا ٹینڈر واپس لے لیا

    ٹیکس چھوٹ پر آئی ایم ایف کے تحفظات ،چینی کی درآمد کا ٹینڈر واپس لے لیا

    درآمدی چینی پر ٹیکس چھوٹ پر آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد حکومت نے چینی کی درآمد کے لیے جاری کیا جانے والا ٹینڈر واپس لے لیا۔

    ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا ٹینڈر واپس لے کر50 ہزار میٹرک ٹن چینی کی درآمد کا نظرثانی ٹینڈر جاری کرکے 50 ہزار ٹن چینی کی درآمد کے لیے 22 جولائی تک بولیاں طلب کر لیں،حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے تمام ڈیوٹیز معاف کر دی تھیں ، ٹی سی پی نے 11 جولائی کو 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا ٹینڈر جاری کیا تھا تاہم آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد حکومت نے ٹینڈر واپس لے لیا۔

    واضح رہے کہ چینی کی قیمت ملکی تاریخ میں پہلی بار 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے پر تحفظات ظاہر کیے تھے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے جس کے بعد حکومت نے چینی کی درآمد پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر غور شروع کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق چینی درآمد کا فیصلہ مکمل طور پر ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے، نجی شعبے کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر بھی غور جاری ہے-

  • پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا،وزیر خزانہ

    پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ کا کہناہے کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا، جس کے نتیجے میں دوسری قسط جاری ہوئی-

    وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے معروف عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’موڈیز‘ کی ٹیم کے ساتھ ورچوئل اجلاس کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان کی معاشی صورت حال، اصلاحاتی اقدامات، اور معاشی استحکام کی جانب ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔

    وزیر خزانہ نے موڈیز کی ٹیم کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا، جس کے نتیجے میں دوسری قسط جاری ہوئی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) میں بھی پیش رفت ہوئی ہے انہوں نے پاکستان کی معیشت میں مہنگائی میں نمایاں کمی، پالیسی ریٹ میں نرمی، روپے کی قدر میں استحکام، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، ترسیلات زر میں اضافہ اور جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر کے 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے جیسے مثبت اشاریے بھی پیش کیے۔

    کانگریسی رہنما پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے پر بھارتی میڈیا پر برس پڑیں

    وزیر خزانہ نے بجٹ میں شامل مالیاتی اقدامات، تجارتی اصلاحات، برآمدات پر مبنی ترقی اور کفایت شعاری پر بھی روشنی ڈالی انہوں نے امریکا کے ساتھ ترجیحی ٹیرف تک رسائی کی بات چیت کو بھی تعمیری اور مثبت قرار دیا، محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ سے ایک ارب ڈالر کا کمرشل فنانسنگ معاہدہ کیا ہے، جب کہ پانڈا بانڈ کے اجرا اور یوروبانڈ مارکیٹ تک دوبارہ رسائی کی تیاری بھی جاری ہے۔

    ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں بہتری کے لیے وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل اصلاحات، ٹیکنالوجی کا استعمال اور سخت مانیٹرنگ پر زور دیا اور بتایا کہ وزیر اعظم ذاتی طور پر ان اصلاحات کی نگرانی کر رہے ہیں ان کا ہدف آئندہ 2 برس میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 13 تا 13.5 فیصد تک لے جانا ہے، موڈیز ٹیم کی جانب سے پوچھے گئے تمام سوالات کے جوابات وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم نے دیے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ معاشی اصلاحات، نجکاری اور ادارہ جاتی بہتری کے حکومتی اقدامات عالمی سطح پر تسلیم کیے جائیں گے،پاکستان پائیدار ترقی، عالمی اعتماد کی بحالی اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے جڑنے کے عمل میں پوری سنجیدگی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

    ائیر انڈیا حادثہ:پائلٹ کے ڈپریشن اور دماغی مسائل میں مبتلا ہونے کا انکشاف

  • پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،لیکن بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے –

    عالمی مالیاتی فنڈ کے پاکستان میں نمائندے ماہر بینیچی نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) میں اپنے لیکچر میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) خطے اور پاکستان میں بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے فنڈ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔

    ایس ڈی پی آئی میں ماہرینِ معیشت، محققین اور پالیسی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں ترقی 2025 اور اس کے بعد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے لیکن بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس سے محتاط اور دور اندیش پالیسی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔’

    وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے،شرجیل میمن

    پاکستان پر بات کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت ملک کی کارکردگی ’ اب تک مضبوط رہی ہے’ ، اور انہوں نے مئی 2025 میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا کہا کہ ابتدائی پالیسی اقدا ما ت نے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ قائم کرنے میں مدد دی ہے۔’

    انہوں نے زور دیا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پاکستان کی طویل المدتی معاشی پائیداری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسی اصلاحات جو ٹیکس کے نظام میں برابری کو مضبوط بنائیں، کاروباری ماحول کو بہتر کریں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    انہوں نے آئی ایم ایف کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت پاکستان کی موسمیاتی اصلاحات کی پیش رفت کو بھی اُجاگر کیا بینیچی کے مطابق، آر ایس ایف ایسے ممالک کو مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ وہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں اور بین الاقوا می موسمیاتی وعدوں کو پورا کر سکیں-

  • سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک بڑی شرط پوری کر دی-

    گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا،صدر مملکت کی منظوری کے بعد سول سرونٹس ترمیمی ایکٹ 2025 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق تمام وفاقی سرکاری افسران کو اپنے اور اہل خانہ کے ملکی و غیر ملکی اثاثے ڈیجیٹل طور پر فائل کرنا ہوں گے، یہ تفصیلات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے عوامی سطح پر دستیاب ہوں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، کسی بھی افسر کی ذاتی معلومات کی رازداری کو یقینی بنایا جائے گا، اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گزٹ نوٹیفکیشن کی کاپی تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو بھجوا دی ہے تاکہ ترمیمی قانون پر فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    ترمیمی ایکٹ کے تحت سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں نیا سیکشن 15-A شامل کیا گیا ہے جس کے تحت افسران کو ہر سال اپنی اور اہل خانہ کی مالی حیثیت، جائیداد اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی،علاوہ ازیں اثاثوں کی فائلنگ کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے سرکاری ریکارڈ کو شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔

    ڈی جی خان سمیت ملک بھرمیں 6 اور 7 جولائی کو شدید بارشیں، اربن فلڈ کا الرٹ، بلوچستان ،نالوں میں طغیانی

  • وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بیشتر ممالک کو مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

    دنیا بھر میں معاشی سست روی کے ساتھ ساتھ افراط زر یعنی مہنگائی بھی معیشتوں کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے،اعدادوشمار کے مطابق وینزویلا اور زمبابوے مہنگائی کی بلند ترین سطح پر ہیں، جہاں افراط زر کی شرح بالترتیب 180 اور 92 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے یہ شرحیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور وہاں کی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب بڑی معیشتوں میں افراط زر کی صورتحال نسبتاً قابو میں ہے امریکہ میں مہنگائی 3 فیصد، برطانیہ میں 3.1 فیصد، فرانس میں 1.3 فیصد اور جرمنی میں 2 فیصد پر ہے، جو عالمی اوسط کے قریب تصور کی جا سکتی ہےبھارت میں مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد تک محدود رہی، جو گزشتہ برس کی 5.9 فیصد سے کم ہے، بنگلہ دیش میں یہ شرح 10 فیصد ہے جبکہ سری لنکا میں افراط زر کی شرح 12 فیصد پر رہنے کی توقع ہےپاکستان میں حکومت کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد رہی، تاہم آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق یہ 5.1 فیصد ہے، جو اب بھی خطے کے کئی ممالک سے بہتر تصور کی جا سکتی ہے۔

    عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہے، جہاں خوراک، توانائی اور درآمدات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتا ہے، مہنگائی کی اس بلند لہرجیسی صورتحال کے پیش نظر ماہرین سخت مالی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔

    نان فائلرز کے لئے بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

  • آئی ایم ایف کا صنعتی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات مرحلہ وار ختم کر نے کا  مطالبہ

    آئی ایم ایف کا صنعتی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات مرحلہ وار ختم کر نے کا مطالبہ

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے زور دیا ہے کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اور صنعتی زونز کو دی گئی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے۔

    آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان کو 2035 تک تمام مراعات کے خاتمے کا ایک جامع پلان تیار کرنا ہوگا، جو رواں سال کے آخرتک مکمل کرکے پیش کیا جانا لازمی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ پلان پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاہدے کے تحت مرتب کرنا ہوگا، تاکہ مالیاتی نظم و ضبط اور محصو لات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کے باعث حکومت کو تمام مالیاتی اہداف ہر صورت حاصل کرنا ہوں گے-

    بھارتی اخبارات نے مودی کی انتخابی چالوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

    وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کو شامل کرنا اور اس کی تکمیل یقینی بنانا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ بجٹ خسارے اور مالیاتی پابندیوں کے باعث حکومت کو کفایت شعاری کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔

    علی امین گنڈاپور کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

  • آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ

    آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ

    آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ ہو گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ ہو گیا ہے تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں نرمی کا امکان ہے جبکہ انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد موجودہ 6 لاکھ رو پے سے بڑھائی جا سکتی ہے اور ماہانہ 83 ہزار روپے تنخواہ تک ٹیکس فری کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ممکنہ نئی شرح کے مطابق ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 2.5 فیصد ہونے کا امکان ہے، ایک لاکھ 83 ہزار روپے پر انکم ٹیکس 12.5 فیصد ہو سکتا ہے، دو لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 22.5 فیصد مقرر کیے جانے کا امکان ہے، تین لاکھ 33 ہزار روپے تک کی تنخواہ پر ٹیکس 27.5 فیصد ہو سکتا ہے، جبکہ تین لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد تنخواہ پر انکم ٹیکس 32.5 فیصد تک ہو سکتا ہے۔

    عید کے دوران ٹرینوں پر 20 فیصد خصوصی رعایت کا اعلان

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بجٹ مذاکرات میں دفاعی ضروریات مؤخر نہ کرنے کا دو ٹوک مؤقف اپنایا ہے، جس پر آئی ایم ایف نے دفاعی بجٹ میں ضروری اضافے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، بجٹ مذاکرات کے دوران پاکستان کی دفاعی ترجیحات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

    پنجاب کابینہ کی صحافی کالونی فیزٹو کیلئے 40کروڑ روپے گرانٹ کی منظوری

  • بِٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو بجلی فراہم کرنے کے فیصلے پر آئی ایم ایف کا اظہار تشویش

    بِٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو بجلی فراہم کرنے کے فیصلے پر آئی ایم ایف کا اظہار تشویش

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بِٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس شعبے کو بجلی فراہم کرنے کے حکومت پاکستان کے فیصلے پر اظہار تشویش کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف کو اعتماد میں نہ لینے اور بجلی ٹیرف پر حکومت سے وضاحت طلب کر لی آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ قرض پروگرام میں رہتے تمام اقدامات مشاورت سے کیے جائیں، بِٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلجنس کیلئے بجلی ٹیرف پر بھی وضاحت طلب کی ہے، آئی ایم ایف وفد سے بِٹ کوائن مائننگ کو بجلی فراہم کرنے پر ورچوئلی بات چیت ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق کرپٹو کرنسی کا اسٹیٹس تاحال لیگل نہ ہونے پر بجلی مختص کرنے پر وضاحت مانگی، وزیرخزانہ محمداورنگزیب اور ترجمان وزارت خزانہ حکومتی مؤقف دینے سے گریزاں ہیں،معاشی ٹیم کو بجٹ پر مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے سخت سوالوں کا سامنا ہے، بجلی فراہمی کے اقدام پر آئی ایم ایف کی جانب سے مزید سخت بات چیت کا خدشہ ہے۔

    بینکوں سے کیش نکالنے پر نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس دُگنا کرنے کی تجویز

    غیرقانونی کال سینٹر کیس: ملزم ارمغان کیخلاف چالان جمع نہ کروانے پر عدالت برہم

    جوہری ہتھیاروں کو ایران بھی ناقابل قبول سمجھتا ہے،ایرانی وزیر خارجہ

  • آئی ایم ایف  کی ٹیکس بڑھانے کیلئے سخت اقدامات کی تجویز

    آئی ایم ایف کی ٹیکس بڑھانے کیلئے سخت اقدامات کی تجویز

    اسلام آباد: آئی ایم ایف نے ٹیکس بڑھانے کیلئے سخت اقدامات کی تجویز دیدی۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ ٹیکس نا دہندگان کے خلاف مزید سخت اقدامات لیےجائیں، ٹیکس حکام کے اختیارات کےاستعمال میں اضافہ اور شفافیت لائی جائے، ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال مزید بڑھایا جا ئے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پی او ایس پر ٹیکس چوری کا جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ٹیکس چوری پر جرمانے کے ساتھ فوجداری مقدمات درج کرنے کی بھی تجویز ہے، سولر پینلز سمیت تمام ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز ہے جبکہ کھاد، اسپرے اور زرعی آلات پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنےکی تجویز ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ میں زرعی ان پٹس اور مشینری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ پرتعیش اشیاء کی فہرست میں مزید اشیاء شامل کرکے ٹیکس میں اضافےکی بھی تجویز ہے، پرتعیش اشیاء پر سیلز ٹیکس 25 فیصد سے بڑھانے کی تجویز ہے۔