Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    اسلام آباد: حکومت نے عوام کو ریلیف کے لیے متبادل ذرائع سے آمدن کا پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے متعلق مذاکرا ت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور حکومت نے بجٹ میں سپر ٹیکس میں کمی، ریئل اسٹیٹ اور تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبو ں کو ریلیف دینے کی تجویز کے تحت متبادل ذرائع سے ریونیو اکٹھا کرنے کا پلان آئی ایم ایف کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے ان ریلیف اقدامات سے متعلق سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور ابھی تک حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان کسی ریلیف پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے آئی ایم ایف نے صوبائی اخراجات کم کرنے، آمدن بڑھانے اور زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ادارے نے زور دیا ہے کہ اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ریونیو کا توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف طبقوں کے لیے ٹیکس ریلیف چاہتی ہے تاہم آئی ایم ایف اس حوالے سے فراہم کردہ ڈیٹا اور حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا فی الوقت آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت سے ہر تجویز پر ڈیٹا طلب کر رہی ہے اور معاشی ٹیم کی جانب سے مسلسل جوابات دیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ فی الحال کسی نئی شرط پر بھی اتفاق نہیں ہوا ہے آئی ایم ایف نے عدالتی مقدمات سے حاصل ممکنہ ریونیو کو بھی مدنظر رکھنے کی ہدایت کی ہے اس وقت مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلق 770 ارب روپے کے مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے 30 جون تک 250 ارب روپے کے مقدمات کے فیصلے حکومت کے حق میں آنے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا سالانہ ٹیکس ہدف دو حصوں میں تقسیم ہوگا اور 14 ہزار ارب روپے سے زائد کا ہدف تجویز کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کم از کم 500 ارب روپے مالیت کے مقدمات کے فیصلے آئندہ مالی سال میں یقینی بنائے جائیں تاکہ بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پابند ہے اور تمام فیصلے باہمی رضامندی سے کیے جائیں گے۔

  • پاکستان کا  امارات کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

    پاکستان کا امارات کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

    حکومت نے 30 جون تک کمرشل بینکوں سے مزید ایک ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے تین بڑے بینکوں سے اس مقصد کے لیے باضابطہ قرض کی درخواست کر دی ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے شارجہ اسلامک بینک، ابوظبی اسلامک بینک اور عجمان بینک سے ایک ارب ڈالر کے قرض کی درخواست کی ہے۔

    یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پوری کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس کے تحت حکومت کو 30 جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو 13.9 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاہدے کی شرائط میں قرض کا بنیادی مقصد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینا اور بیرونی مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاہدے کے تحت مالیاتی نظم و ضبط اور ذخائر کی بہتری کے اہداف پر کام کر رہی ہے۔

    افغانستان اور بھارت ٹرانزٹ ٹریڈ دوبارہ فعال، واہگہ بارڈر سے درجنوں ٹرک بھارت روانہ

    تنگوانی: بھینس چوری کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ، گھر کا مالک شدید زخمی

    وکلا کی عدم موجودگی،عمران خان کا پولی گراف ٹیسٹ کرانے سے انکار

  • آئی ایم ایف  مذاکرات: پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق

    آئی ایم ایف مذاکرات: پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق

    اسلام آباد: حکومت اور آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں 5 روپے کاربن لیوی عائد کرنے پر اتفاق ہوا جب کہ آئندہ مالی سال فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے زائد کرنے کی تجویز بھی ہے-

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق 2027 تک پٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے پر بات چیت ہوئی، پٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی کا نفاذ نئے بجٹ سے شروع کر دیا جائے گا، پٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی میں بتدریج اضافہ بھی کیا جا سکے گا، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فیسیلٹی پروگرام تک عائد رہے گی۔

    پی سی بی نے کوچنگ اسٹاف کی تقرری کیلئے اشتہار جاری کر دیا

    استعمال شدہ گاڑیوں کی ڈیوٹیز کی مجموعی شرح نئی گاڑیوں سے 40 فیصد زیادہ ہوگی اور یہ فرق ہر سال 10 فیصد کم کیا جائے گا جب کہ 2030 تک مکمل خاتمہ متوقع ہے، آئی ایم ایف نے سابقہ فاٹا/پاٹا کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور کھاد پر جنرل سیلز ٹیکس کی عمومی شرح نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال زرمبادلہ ذخائر 17 ارب 68 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی، آئندہ مالی سال کمرشل بینکوں اور بانڈز کے اجرا سے 5 ارب ڈالر سے زائد کے حصول کا تخمینہ لگایا گیا ہے، رواں مالی سال مرکزی بینک کے پاس 14 ارب ڈالر کے ذخائر ہونے کی شرط عائد کی گئی ہے۔

    پاکستان نے گولڈن ٹیمپل پر حملہ نہیں کیا، دفتر خارجہ کی بھارتی الزامات کی تردید

    آئی ایم ایف وفد سے آج بھی وزارت خزانہ، ایف بی آر، مرکزی بینک حکام کے مذاکرات کریں گے۔

  • آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا،بجٹ مذاکرات کا دوسرا دور شروع

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا،بجٹ مذاکرات کا دوسرا دور شروع

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا جب کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی ٹیم کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 سے متعلق پالیسی سطح کے مذاکرات شروع ہوگئے۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات کے دوسرا مرحلے کیلئے پاکستان کی معاشی ٹیم میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، پلاننگ کمیشن، اکنامک افیئرز ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم حکام شامل ہیں جب کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ اسٹیٹ بینک حکام کے بھی مذاکرات شیڈول ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ آمدنی اور اخراجات سمیت بجٹ تخمینہ جات پر حتمی مذاکرات ہوں گے آئی ایم ایف کا وفد 22 مئی تک بجٹ کے حوالے سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں قیام کرے گاآئی ایم ایف وفد کے ساتھ اسٹیٹ بینک حکام کے بھی مذاکرات ہوں گے۔

    رومانیہ:صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار کو شکست

    تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے پر بھی بات چیت ہوگی اور اس حوالے سے حکومت سالانہ 10 سے 12 لاکھ تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس فری کرنے کوشش کرے گی،ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ایف بی آر انکم ٹیکس میں ریلیف کی کوشش کرے گا جب کہ مذاکرات 23 مئی تک جاری رہیں گے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ 22 مئی تک تمام بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی جب کہ نئے مالی سال کا بجٹ 2 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    پاک بھارت کشیدگی: اس سال شیڈول ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ

    2027-28 تک پاکستان کا بیرونی مالیاتی خلا 88 کھرب روپے سے تجاوز کر جائے گا جب کہ اگلے مالی سال میں پاکستان کا بیرونی مالیاتی فرق 19.75 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے 2026-27 میں بھی مالی خلا 19.35 ارب ڈالر رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، 2027-28 میں مجموعی غیر ملکی ذخائر 23 ارب ڈالر تک متوقع ہیں ترسیلات زر 36 ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم رہنے کا امکان ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.85 ارب ڈالر تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، آئی ایم ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ 2030 تک نجکاری سے کوئی آمدنی متوقع نہیں۔

    شیخ مجیب کی بائیوپک میں حسینہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ گرفتار

  • پاکستان میں نئے مالی سال کا بجٹ آئندہ ماہ پیش ہو گا

    پاکستان میں نئے مالی سال کا بجٹ آئندہ ماہ پیش ہو گا

    سلام آباد: پاکستان میں نئے مالی سال کا بجٹ 2 جون کو پیش ہو گا۔

    پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ سے متعلق پالیسی مذاکرات کا سلسلہ آج سے شروع ہو رہا ہے، جو 23 مئی تک جاری رہے گا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس اہداف، اخراجات، اور قرضوں کی واپسی جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو ہدایت دی ہے کہ آمدن کو 20 کھرب روپے تک لے جایا جائے، جبکہ رواں سال ملک کی موجودہ آمدن 17.8 کھرب روپے رہی ہے آئی ایم ایف اس بات پر زور دے رہا ہے کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں سخت کنٹرول لایا جائے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔

    پاکستان کی حمایت پر بھارت کا ترکی و آذربائیجان سے تجارتی و تعلیمی بائیکاٹ

    ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئندہ مالی سال میں تقریباً 19 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واپس کرنے ہیں، جس کے پیش نظر آئی ایم ایف قرضوں کی پائیدار ادائیگی پر زور دے رہا ہے،مذاکرات میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے پر بھی بات چیت ہوگی، جبکہ پاکستان کی جانب سے سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے پاکستان آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی کرائے گا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 11 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

    نور مقدم قتل کیس:عدالت کا آج ہی فیصلہ سنانے کا عندیہ

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی سے متعلق اپنی پیش گوئی میں نمایاں کمی کر دی ہے ادارے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے اس سے قبل اکتوبر 2024 میں آئی ایم ایف نے یہ شرح 3.2 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا۔

    آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ ”ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی“ کے تحت پہلی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمیوں میں کمزوری اور عالمی غیر یقینی صورتحال نے ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے پہلی سہ ماہی میں ترقی کی شرح 1.3 فیصد جب کہ دوسری سہ ماہی میں 1.7 فیصد رہی، جو خریف فصلوں کی کم پیداوار اور صنعتی شعبے کی مسلسل سست روی کی نشاندہی کرتی ہے۔

    ایئر چیف مارشل کی اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت

    مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ میں عمومی مہنگائی کم ہو کر 0.7 فیصد پر آ گئی، تاہم بنیادی مہنگائی اب بھی تقریباً 9 فیصد کی بلند سطح پر موجود ہے آئندہ مہینوں میں مہنگائی میں نمایاں اضافے کا امکان ہے رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر رہنے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجہ برآمدات میں استحکام اور ترسیلات زر میں بہتری ہے موجودہ مالی سال میں حکومت کے جاری اخراجات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 18.9 فیصد کے برابر رہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں انہیں 17.8 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  • نئے مالی سال میں بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا کرنے کا فیصلہ

    نئے مالی سال میں بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا کرنے کا فیصلہ

    حکومت پاکستان نے نئے مالی سال 2025-26 کے آغاز پر بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حکومت نے یہ اقدامات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بجٹ سے قبل طے پانے والے معاشی اہداف کے تحت کیے ہیں۔آئی ایم ایف کو یقین دہانیاں، عوام کو نیا مالی بوجھ برداشت کرنا ہوگا،حکومتی ذرائع کے مطابق یکم جولائی 2025 سےبجلی ٹیرف کی سالانہ ری بیسنگ ہوگی.گیس ٹیرف میں یکم جولائی اور 15 فروری 2026 کو ایڈجسٹمنٹس ہوں گی،پیٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کی جائے گی،صوبے بجلی اور گیس پر کوئی سبسڈی نہیں دیں گے.

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے حکومت بینکوں سے 1252 ارب روپے کا قرض لے گی، جو آئندہ 6 سالوں میں صارفین سے بجلی بلوں کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔ اس کے لیے بجلی کے بلوں میں 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج بھی شامل کیا جائے گا، اور حکومت کو سرچارج میں اضافہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

    حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب صرف مستحق افراد کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی جبکہ عمومی سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔ گردشی قرضے کو 2031 تک مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان جولائی میں کابینہ سے منظور کرایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ جنوری 2025 تک بجلی کا گردشی قرضہ 2444 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے،جون 2024 تک گیس کا گردشی قرضہ 2294 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے.رواں سال کی پہلی ششماہی میں توانائی شعبے کو 450 ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے.آئی پی پیز سے مذاکرات کے ذریعے جون 2025 تک 348 ارب روپے کی ادائیگیاں طے کی گئی ہیں.

    سعودی ایئرلائن کا ایران سے 10 سال بعد فضائی آپریشن بحال

    اسلامیہ کالج پشاور ہراسگی کیس ،اساتذہ کو رومانی تعلقات سے گریز کی ہدایت

    بلوچستان ،قلعہ عبداللہ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بھارت نے پانی روکا تو ردعمل دہائیوں تک محسوس کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کے خلاف کامیابی نواز شریف کی ہدایت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے: ایاز صادق

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 214 گھنٹوں میں شہداء کی تعداد 125 ہوگئی

  • آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی

    آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معیشت سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں معیشت کی بتدریج بحالی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں شرحِ نمو 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں یہ شرح 3.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔2026-27 تک پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 4.1 فیصد اور 2027 سے 2030 کے دوران 4.5 فیصد رہنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ معیشت میں بہتری ممکن ہے۔

    تاہم رپورٹ کے ساتھ مہنگائی کی تشویشناک صورتحال بھی سامنے لائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال میں افراطِ زر کی شرح 5.1 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے، مگر آئندہ مالی سال میں یہ بڑھ کر 7.7 فیصد تک جا سکتی ہے۔طویل مدتی پیشگوئی میں 2026 سے 2030 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 6.5 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ محتاط امیدوں اور سخت مالی نظم و ضبط کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

    امریکی ریاستیں تباہی کے مناظر پیش کرنے لگیں،21 افراد ہلاک

    بھارتی پائلٹ تربیت بھول گئے، ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا، ویڈیو وائرل

    بھارتی پائلٹ تربیت بھول گئے، ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا، ویڈیو وائرل

    نیرج چوپڑا کیریئر بیسٹ تھرو کے باوجود ارشد ندیم کا عالمی ریکارڈ نہ توڑ سکے

    غزہ میں سیز فائر کے لیے قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات جاری

  • پاکستان کا بھارت کے ساتھ کشیدگی پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

    پاکستان کا بھارت کے ساتھ کشیدگی پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

    پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان آئی ایم ایف سے اسٹریٹجک، معاشی اور مالیاتی معاملات پر آئندہ مذاکرات میں صورتحال سے آگاہی فراہم کرے گی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 14 مئی سے شروع ہوں گے، جن میں نہ صرف موجودہ معاشی صورتحال بلکہ سپر ٹیکس میں کمی جیسے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ذرائع کے مطابق حکومت سپر ٹیکس میں کمی کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی کوشش کرے گی۔

    واضح رہے کہ 2022 میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جس میں سیمنٹ، اسٹیل، شوگر، آئل اینڈ گیس، ایل این جی ٹرمینلز، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری شامل تھیں۔ اس وقت بڑی صنعتوں پر مجموعی طور پر 10 فیصد سپر ٹیکس کے ساتھ ٹیکس کی مجموعی شرح 39 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس سے متعلق مختلف عدالتوں میں 200 ارب روپے کے مقدمات زیر التوا ہیں، جن کے باعث ایف بی آر کو ریونیو وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10.4 فیصد ہے، جسے جون تک 10.6 فیصد اور آئندہ مالی سال کے لیے 11 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مالیاتی مذاکرات پاکستان کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ سپر ٹیکس میں کمی اور کشیدگی کی صورتحال دونوں ہی ملک کی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

  • بھارت کو آئی ایم ایف میں بھی پاکستان کے خلاف رسوائی

    بھارت کو ایک اور جگہ منہ کی کھانی پڑی ،آئی ایم ایف نے پاکستان مخالف بھارتی مطالبہ مسترد کردیا ہے.

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نمائندہ آئی ایم ایف ماہر بنیسی نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 9 مئی کو اپنے شیڈول کے مطابق ہی ہوگا، جس میں پاکستان کی درخواست پر بھی غور ہوگا۔ ہم دوسرے ممالک کے خدشات پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھارت کی جانب سے پاکستان کی امداد روکنے کا مطالبہ نظر انداز کردیا ہے۔ آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 9 مئی کو اپنے شیڈول کے مطابق ہی ہوگا۔

    دوسری جانب وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں کلائمیٹ فنانسنگ سے متعلق 1.3 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کی منظوری متوقع ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فنڈز 28 ماہ میں اقساط میں ملیں گے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے 2.3 ارب ڈالر پیکیج ملنے کاامکان ہے۔ بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو مجموعی طور پر 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 25 مارچ 2025 کو طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت نےآئی ایم ایف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ اس بارے میں بھارتی حکومت کے ایک عہدیدار کے غیرملکی خبررساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو کے حوالے سے شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بھارت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دی گئی مالی امداد کا ازسرِ نو جائزہ لے، تاہم اس مطالبے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    پاکستانی خاتون سے شادی بھارتی پولیس اہلکار کو پڑی مہنگی

    حوثی ملیشیا کے میزائل حملے، اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بج گئے

    پی ایس ایل 10،اسلام آباد کی کوئٹہ کیخلاف بیٹنگ جاری

  • پاکستان کو آئی ایم ایف سے 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو تقریباً 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

    آئی ایم ایف حکام کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 9 مئی کو ہوگا جس میں پاکستان کو قرض پروگرام کی اگلی قسط جاری کرنےکے لیے مشن کی سفارشات کاجائزہ لیا جائے گاایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے سفارشات کی منظوری کی صورت میں اگلی قسط کی رقم 12 مئی تک پاکستان کو مل جائے گی موسمیاتی تبدیلی کےاثرات سے نمٹنے کے لیے رقم کی پہلی قسط جاری کرنے کی منظوری بھی اجلاس میں زیر بحث آئے گی،اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی سےنمٹنے کے لیے رقم کی منظوری ہوئی تو پاکستان کو تقریباً 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

    پی ٹی اے کا اسٹار لنک کو فوری طور پر لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد نے ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر فراہم کرنے کی سفارش کر رکھی ہے، پاکستان کا دورہ کرنے والے جائزہ مشن نے 25 مارچ کو قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کی سفارش کی تھی۔

    روس نے یوکرین میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا