Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • آئی ایم ایف ڈیل زمینی حقائق پرمبنی نہیں،عمران خان کی حکومت کےخاتمےکی سازش کا دعویٰ غلط ہے،وزیر خارجہ

    آئی ایم ایف ڈیل زمینی حقائق پرمبنی نہیں،عمران خان کی حکومت کےخاتمےکی سازش کا دعویٰ غلط ہے،وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سابق وزیراعظم عمران خان کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ امریکہ نے ان کی حکومت کے خاتمے کی سازش کی تھی۔

    باغی ٹی وی : ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ایک انٹرویو میں بلاول نے کہا کہ پاکستان میں ایسے وزرائے اعظم کی تاریخ ہے جنہیں مختلف طریقوں سے غیر جمہوری، غیر آئینی طور پر ہٹایا گیا ہے بلاول بھٹو نے عمران خان کے امریکی سازش کے دعوؤں کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ عمران خان کی برطرفی درحقیقت پاکستانی جمہوریت کے لیے ایک سنگ میل تھی-

    بھارت سے یاسین ملک کی زندگی کی بھیک نہیں مانگیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے،مشعال ملک

    بلاول نے کہا کہ ہمارے پاس ایک وزیر اعظم تھا جسے ہٹا دیا گیا اور پھانسی دی گئی بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی توجہ دنیا بھر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے چیلنجز پرہے پڑوسی ممالک اور مغرب کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ عمران خان زیادہ سے زیادہ انتہا پسندانہ موقف اپنانے، امریکہ مخالف جذبات کو بھڑکانے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتا ہے کر رہا ہے۔

    بلاول نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو ختم کرنےکوشاں ہیں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو بھی وزیر خارجہ رہےچین اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے آغاز کی ایک تاریخ ہے جو میری پارٹی اور میرے ملک سے جڑی ہوئی ہے۔ میرے نانا نے ہنری کسنجر اور نکسن کے زمانے میں دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی رابطے کو آسان بنانے میں کردار ادا کیا .

    امید ہے اب لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہوگی ، شیخ رشید

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی والدہ ے نظیر کا قاتل کبھی پکڑا نہیں گیا، اور اقوام متحدہ کی انکوائری سے پتا چلا کہ پاکستانی حکام ان کی حفاظت یاان کی موت کی صحیح تفتیش کرنےمیں ناکام رہے ہیں عوام کی نظروں میں بڑے ہونے کے باوجود وہ اپنی حفاظت سے نہیں ڈرتے۔خوف ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ کوئی واقعی میں نہیں دے سکتا، خاص طور پر اگر وہ سیاست میں ہوں۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کو پرانا قرار دے دیا کہا کہ آئی ایم ایف ڈیل زمینی حقائق پر مبنی نہیں ، جب ڈیل پر بات ہوئی حالات بالکل مختلف تھے آئی ایم ایف سے معاہدہ کورونا ، افغانستان سے امریکہ کے انخلا ، یوکرین جنگ اور افراط زر سے پہلے ہواپاکستان جیسے ملک پر موجودہ حالات میں معاہدے پر عمل کراناممکن نہی

    ان کا کہنا ہے کہ موجود حالات میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے شرائط کو پورا کرنے کی توقع کرنا غیر منصفانہ ہو گا ۔ عالمی برادری سے کیے وعدے پورے کرنے کے ساتھ ہمیں آئی ایم ایف سے نئے معاہدے کی ضرورت ہے ۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق سماعت آج ساڑھے 11 بجے تک ملتوی

  • چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال دنیا کی 100 بااثرشخصیات میں شامل

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال دنیا کی 100 بااثرشخصیات میں شامل

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال دنیا کی 100 بااثرشخصیات میں شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے ٹائم میگزین نے 5 سے زائد شعبوں سے تعلق رکھنے والے دنیا کے 100 بااثر ترین افراد کی فہرست جاری کر دی ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کا ٹائم میگزین میں تعارف اعتزاز احسن نے لکھا کہ ملک میں مالی اور معاشی بحران کے دوران سابق حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل میں بڑھتے سیاسی درجہ حرارت میں کمی میں نرم خو جسٹس عمر عطا بندیال نے اہم کردار ادا کیا۔

    کولمبیا اور کیمبرج سے تعلیم یافتہ قانون دان اپنی ذاتی دیانت داری کے لئے بڑے پیمانے پر قابل احترام سمجھے جاتے ہیں۔

    اپریل کے اوائل میں، بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے وزیر اعظم خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔

    چیف جسٹس پاکستان کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے اعتزازا حسن کا کہنا ہے کہ "جب دوسرے ادارے آنے والے انتخابات سے پہلے فائدے کی جنگ لڑ رہے ہیں، عدالت حتمی ثالث کے طور پر سامنے آئی۔”

    فہرست میں سیاست دانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں زیادہ سربراہان مملکت ہیں جیسے جوبائیڈن، شی جن پنگ، ولادیمیر پوٹن، وولودیمیر زیلنسکی اور احمد ابے شامل ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال 17 ستمبر 1958 کو لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کوہاٹ، راولپنڈی، پشاور، اور لاہور سے حاصل کی، جبکہ کولمبیا یونیورسٹی سے معیشت میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی بعد ازاں انہوں نے کیمبرج سے لا ٹرائپوس ڈگری حاصل کی اور لندن کے معروف لنکنز ان میں بطور برسٹر خدمات انجام دیں 1983 میں آپ بطور ایڈوکیٹ لاہور ہائی کورٹ کی فہرست میں شامل ہوئے اور کچھ سالوں بعد بطور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان خدمات انجام دیں۔

    لاہور میں اپنی پریکٹس کے دوراب جسٹس بندیال نے عموماً کمرشل بینکنگ، ٹیکس اینڈ پراپرٹی کے معلامات حل کیے، جسٹس 1993 کے بعد جسٹس عہدے پر فائز ہونے تک آپ نے بین الاقوامی تجارتی تنازعات کو بھی سنبھالا جسٹس عمر بندیال سپریم کورٹ اور لندن اور پیرس کی متعدد بین الاقوامی عدالتوں میں بطور ثالثی بھی پیش ہوچکے ہیں۔

    جسٹس عمر بندیال کو 4 دسمبر 2004 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج طور پر مقرر کیا گیا تھا ان کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نومبر 2007 کے پروویژنل کونسٹی ٹیوشن آرڈر (پی سی او) کے حلف لینے سے انکار کردیا تھا، اس وقت 3 نومبر 2007 کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی تاہم عدالت کی بحالی کے سلسلے میں وکلا تحریک کے نتیجے میں انہیں جج کے عہدے پر بحال کردیا گیا تھا۔

    بعد ازاں جسٹس عمر بندیال نے دو سال کےلیے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خدمات انجام دیں جبکہ جون 2014 میں ان کا تقررسپریم کورٹ میں کردیا گیا اعلیٰ عدلیہ میں اپنے کریئر کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے سرکاری اور نجی قانون کے مسائل پر کئی اہم فیصلے سنائے، ان میں دیوانی اور تجارتی تنازعات، آئینی حقوق اور مفاد عامہ کے معاملات شامل ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 1987 تک پنجاب یونیورسٹی لا کالج لاہور میں کنٹریکٹ لا اور ٹارٹس لا بھی پڑھایا اور لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے اس کی گریجویٹ اسٹڈیز کمیٹی کے رکن رہے۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے قطر میں شروع

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے قطر میں شروع

    اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے درمیان ساتویں اقتصادی جائزہ مذاکرات آج سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوں گے-

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں بتایا گیا کہ خزانہ ڈویژن کی ٹیم آئی ئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ مشاورت کے لیے دوحہ روانہ ہو گئی ہےاجلاس بدھ سے شروع ہوں گے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کا پروگرام ٹریک پر آجائے گا اور پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط مل جائے گی-


    اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے طے کردہ شرائط پر نظر ثانی کے حوالے سے بھی بات چیت کی جائے گی اور آئی ایم ایف سے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت آنے کے بعد پہلی بارمذاکرات پچھلے ماہ اپریل میں ہوئے تھے اور مذاکرات کےبعد وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نےکہا تھا کہ انہوں نےحکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سےقرض پروگرام کی مالیت اوردورانیہ بڑھانے کی درخواست کی ہے۔

    انہوں نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایم ایف ’بڑی حد تک راضی ہوگیا ہے تاہم اب باضابطہ مذاکرات ہونے جارہے ہیں سابق وزیر اعظم عمران خان نےجو معاہدے کیے ان کی پابندی کی جائے گی یہ معاہدے عمران خان کے نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے ہیں-

    انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے دیوالیہ ہونےکےخدشات نہیں نئی حکومت کو مشکل فیصلےکرنا ہوں گےانہوں نے رواں سال ٹیکس بڑھانے کے امکانات کو بھی رد کر دیا تھا غربت میں کمی کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

    مفتاح اسماعل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امیروں کو سبسڈی دی جاتی ہے، حکومت یہ بوجھ نہیں برداشت کر سکتی آئی ایم ایف نے 2019 میں پاکستان کےلیے چھ ارب ڈالرز کا قرضہ منظور کیا تھا تاہم قرضے سے مشروط اصلاحات میں سست روی کے سبب مرحلہ وار قرض جاری ہونے میں تاخیر ہوئی۔

    واشنگٹن پہنچنے پر بدھ کو اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پیٹرول پر سبسڈی ختم کرتے ہوئے ٹیکس بحال کیے جائیں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ صنعتوں پر فوری ٹیکس استثنی ختم کیا جا سکتا ہے۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    اسلام آباد:پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات 18 مئی سے شروع ہوں گے۔آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں شروع ہورہےہیں ۔گزشتہ ماہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضاباقر نے کہا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    ذرائع کے مطابق کل سے شروع ہونے والا مذاکراتی اجلاس 25 مئی تک ختم ہو جائے گا۔یہ بھی کہا جارہاہے ہے کہ ان مذاکرات میں آئی ئی ایم ایف کی طرف سے زیادہ زور اس بات پرہوگا کہ زیادہ سے زیادہ ریونیواکٹھا کیا جائے،اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کے ذریعے دی گئی غیر فنڈ شدہ سبسڈی کو ختم کرنا بھی کل کے مذاکرات کے مرکزی نقاط میں سے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مئی کے پہلے پندرہ دن میں سبسڈی کی رقم تقریباً 55 ارب روپے ہے۔دوسرے پندرہ دن میں یہ تقریباً 70 ارب روپے ہو جائے گا۔آئی ایم ایف مالی سال 23 کے لیے محصولات کی وصولی بڑھانے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

     

     

    بین الاقوامی معاشی اعداد و شمار رکھنے والے ادارے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر عمل کرنا مشکل رہا ہے۔ سیاسی حالات درپیش ہوں تو مشکل فیصلے لینے میں تاخیر کرنی پڑتی ہے۔

    دوسری طرف سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ حکومت کو پیٹرولیم پر 350 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نےقیمت بڑھانے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت دس روپے کم کردی،

    سابق وزیرخزانہ کاکہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دُگنی ہوچکی ہیں، اب ملکی تاریخ میں 5600 ارب روپے کا وفاقی بجٹ خسارہ ہونے جا رہا ہے۔

  • عمران خان کے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد کے پابند ہیں،مفتاح اسماعیل

    عمران خان کے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد کے پابند ہیں،مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ جو جو وعدے عمران خان نے کئے، وہ تمام وعدے ہمیں پورے کرنے پڑیں گے کیونکہ وہ وعدے وزیر اعظم پاکستان نے کئے تھے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 4 سال پہلے جب ہم نے حکومت چھوڑی گندم ایکسپورٹ کرتے تھے پی ٹی آئی حکومت نے چینی ایکسپورٹ کی اور مہنگی امپورٹ بھی کی، اس سال پھر ہم گندم ایکسپورٹ کریں گے، گنا، گندم اور کپاس تینوں کی پیدوار ان کے دور میں کم ہوئی ہے، کیا فوڈ سیکیورٹی میں مشکوک افراد کو بٹھایا گیا ہے؟

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں تمام اشیاء کی پیداوار ہوئی ہےفوڈ سیکیورٹی میں ایسے افسر لگائے گئے جو کرپشن میں ملوث ہیں، پنجاب حکومت کی مدد سے کھاد اور گندم اسمگل کی گئی، یہ ایف آئی اے کی رپورٹ آئی ہے جو عمران خان نیازی کی حکومت کی ہے اٹک میں کتنے پیسے دے کر افسران لگوا رہا تھا، گندم افغانستان اسمگل کروائی گئی-

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ کیا یوریا کی اسمگلنگ کرائی گئی ہے؟ یوریا کی اسمگلنگ میں بہت سے لوگ ملوث ہوتے ہیں، پنجاب حکومت کے بغیر یہ اسمگلنگ ممکن نہیں ہوتی ہم زراعت کو ٹھیک نہ کر سکے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا اس سال 45 بلین ڈالرز کا تجارتی خسارہ ہوگا، چینی سستی دےرہےہیں،مزید سستی دینے کا کہہ دیا-

    عمران خان کی فول پروف سیکیورٹی دی جائے،شہباز گل نے سیکرٹری داخلہ کو خط لکھ دیا

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس سال پاکستان کا امپورٹ 75 ملیں ڈالر ہے، گندم اس وقت بہت مہنگی ہے جب ہم گئے تھے آٹا 35 تھا اب 80 تک جا پہنچا ہے، ہم گھی پر بھی سبسڈی دے رہے ہیں، کورونا میں بہت نقصان ہوا لیکن اس کا پاکستان کو بھی فائدہ بھی ہوا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ آئی ایم ایف نے ڈیڑھ ملین ڈالر ادا کئے، دنیا بھر سے بہت سارا پیسہ ملا، آخری وقت میں حکومت بچانے کے لئے تیل عمران نے سستا کیا، عمران خان اب تو بھنگڑے ڈال رہے ہیں لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ سب بگاڑ کر گئے ہیں ہم نے کہاں ڈالر چھوڑا تھا اور اب ڈالر کہاں ملا ہمیں عوام خود دیکھ لیں، عمران خان کے علاوہ سب غدار ہیں، یہ کہتے ہیں ایکسپورٹ بڑھا ہے لیکن اس کے نتائج دیکھ لیں، پہلے سال 5 ملین کم تھا دوسرے سال بھی کم تھا اور تیسرے سال 25 فیصد بڑھا ہے جب پیسوں سے سبسڈی دی وہ پیسے کہاں ہیں مجھے بھی بتا دیں، میں وزیر خزانہ آیا ہوں مجھح بتا دیں وہ ہیسے کہاں ہے؟ سبسڈی کے لئے جو فنڈز ہیں وہ بھی شہباز حکومت نے جاری کئے۔

    عمران خان کوسکیورٹی خطرات لاحق ، ائیر پورٹس پر وی آئی پی پروٹوکول مانگ لیا گیا

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان اقتدار چھوڑنے کے بعد پریشان ہو چکے ہیں عمران خان خرچہ کم کرنے کی باتیں کرتے رہے لیکن انہوں نے ایک پیسے کا خرچ کم نہیں کیا۔ حکومت چالاکیوں سے نہیں بلکہ سنجیدگی سے چلتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہباز شریف تمام چیزوں کی قیمت بڑھنے کے ذمہ دار ہیں کیونکہ عمران خان تو ٹماٹر کی قیمتیں دیکھنے نہیں آئے تھے۔ پیٹرول پمپس پر لائنیں لگانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھائیں گے بلکہ عوام کو ریلیف دیں گے لیکن عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں تو کبھی نہ کبھی ہمیں ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات خوش اسلوبی سے حل کریں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اسد عمر سے امید ہے وہ عمران خان کے ساتھ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ وہ مجھ سے حساب مانگنے کے بجائے اپنے پونے 4 سال کا حساب دیں 10 اعشاریہ 5 ارب ڈالر کا اسٹیٹ بینک کا ریزور تھا جو ابھی موجود ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اے شوکت ترین وعدہ کر کے گئے تھے، ہم نے وعدے نہیں کئے تھے آئی ایم ایف سے، عمران خان نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیااس پر عملدرآمد کے پابند ہیں خان صاحب کہتے تھےنواز شریف کا شاہی خرچ ہےلیکن عمران صاحب کاخرچہ تو اس سے بھی زیادہ تھاانہوں خرچہ کم کیسے کیا؟ پہلے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ وزیر اعظم ہاؤس کے ساتھ چلتا تھا، اب اس کے اخراجات الگ ظاہر کئے جا رہے تو وزیر اعظم ہاؤس کاخرچہ کم ہو گیامیں نے کہا تھا کہ پٹرول مصنوعات کی قیتمیں بڑھائی جائیں، لیکن وزیر اعظم مزید قیمتیں بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔

    حمزہ شہبازکا ایکشن ،شریف فیملی کی شوگر ملوں سے چینی 70 روپے کلو دینے کا فیصلہ

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا فیصلہ

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا فیصلہ

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا فیصلہ

    وزیراعظم شہبازشریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ہے۔ پچھلی حکومت کی بدترین نالائقی، نااہلی اور فاش غلطیوں کی سزا عوام کو نہیں دے سکتے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سخت شرائط قرض حاصل کرنے کے عوض عمران خان کی سابقہ حکومت نے طے کی تھیں۔ مہنگائی سے ستائی اور نڈھال عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالنے کی حتی الامکان کوشش کی جارہی ہے۔

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی سمری مسترد کردی۔ پچھلی حکومت کی نالائقی، نااہلی اور غلطیوں کی سزا عوام کو نہیں دے سکتا۔ مہنگائی کی ستائی عوام پہ مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔شکریہ شہباز شریف

    واضح رہے کہ اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور آئی ایم ایف نے بھی پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے،

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طئے پاگیا

    حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طئے پاگیا

    اسلام آباد: ن لیگ کی نئی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے کامیاب بات چیت کی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط بآسانی مان لی ہیں ، قرض کا موجودہ پروگرام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کے لیے بجلی اور پٹرول کے نرخ مرحلہ وار بڑھانا ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق واشنگٹن میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، گورنر اسٹیٹ بینک اور وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات ہوئی، 3 روز میں آئی ایم ایف سے بات چیت کے 4 دور ہوئے، معاشی اصلاحات کے لیے آئی ایم ایف کے روڈ میپ پر عمل درآمدجاری رکھنے پراتفاق ہوا، جس کے مطابق بجلی اور پٹرول کی سبسڈی مرحلہ ختم کی جائے گی جبکہ بجلی کے نقصانات کم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

    اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ بات چیت میں پاکستان آمدن بڑھانے کے لیے اصلاحات پر متفق ہے جبکہ پاکستان میں غریب طبقے کے لیے سبسڈیز جاری رکھنے پر آئی ایم ایف راضی ہوگیا ہے۔

    آئی ایم ایف کو انکم سپورٹ پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں اور صحت کارڈ کی سہولت پر بھی آئی ایم ایف راضی ہے۔

    پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے لیے کوششیں کی جائیں گی، اسی ماہ پاکستان اور آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل ٹیم پروگرام کی توسیع پر کام کریں گی اور ٹیکنیکل ٹیم دو طرفہ ڈیٹا کا جائزہ لیں گے۔

    پاکستانی وفد اور آئی ایم ایف حکام کے واشنگٹن مذاکرات پر وزارت خزانہ کا اعلامیہ جاری ہوگیا ہے،آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مس اینٹونیٹ سیہ، ڈائریکٹر ایم سی ڈی جہاد ازور اور مشن چیف ناتھن پورٹر شامل تھے

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا، گورنر سٹیٹ بنک اور دیگر حکام شامل تھے،وفد نے ساتویں جائزہ کو مکمل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا،

    وزیر خزانہ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے غریب طبقے کو محفوظ رکھنے کے اقدامات پر روشنی ڈالی،عالمی تیل کی قیمتوں اور مالیاتی نظم و ضبط لانے کے لئے حکومت کی ترجیحات اور کوششوں کو بھی بیان کیا،

    آئی ایم ایف نے پاکستانی وفد سے مکمل حمایت کا اظہار کیا، مشن چیف مسٹر ناتھن پورٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف کا مشن مئی میں پاکستان کا دورہ کرے گا، آئی ایم ایف وفد حکومت کی اعلان کردہ پٹرول اور بجلی پر سبسڈی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرے گا،

    پاکستانی وفد کی ورلڈ بنک کے ایم ڈی ایکسل وان ٹراٹسنبرگ، نائب صدر ہارٹ وِگ شیفر اور دیگر عہدیداروں سے بھی ملاقات کی گئی ، ادھر جاری پروگرام، قرضوں اور منصوبوں کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ مزید امداد کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا ،وزیر خزانہ نے بینک کی طرف سے فراہم کی جانے والی مالی اور تکنیکی مدد پر بینک حکام کا شکریہ ادا کیا

    ایم ڈی آپریشنز نے بھی پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی

    یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد قرضے کی حد آٹھ ارب ڈالر ہونے کی اطلاعات ہیں

    ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرض کی حد میں اضافےکا امکان ہے، جولائی 2019 میں آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی جبکہ آئی ایم ایف اب تک 3 ارب ڈالر قرض پاکستنا کو دے چکا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ آئی ایم ایف قرضے کی معیاد کو ایک سال کی توسیع دے سکتا ہے، آئی ایم ایف کا پیر کو اعلان متوقع ہے جبکہ عالمی مالیاتی ادارے کا مشن مئی کے وسط میں آسکتا ہے، مشن بجٹ تجاویز پر بات چیت کریگا جبکہ مشن کا فیول سبسڈی پر بھی بات کرنے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے قرض کی حد میں اضافے سے اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رحجان رہنے کا امکان ہے، اسٹاک مارکیٹ میں 400 سے 600 پوائںٹس اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ ڈالر کی قیمت میں آئندہ ہفتے 2 سے 3 روپے کمی ہونے کا امکان ہے۔

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل جو آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے گئے ہوئے ہیں انکا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف حکام سے میری ملاقات ہوئی ہے، آئی ایم ایف حکام چاہتے ہیں کہ پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی جائے،ہم بھی متفق ہیں کہ ایسی سبسڈیز کے ان حالات میں متحمل نہیں رہ سکتے جو دی جا رہی ہیں، اس سبسڈی کو کم کرنا پڑے گا فیول سبسڈی دے کر عمران خان نے آنے والوں کے لئے جال بچھایا۔غریب افراد کے لیے بعض طرح کی سبسڈی برقراررکھنا چاہتے ہیں، پاکستان میں سبسڈی سے زیادہ تر ایلیٹ کلاس کو فائدہ ہوتا ہے۔

    دوسری جانب واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا چاہتے ہیں ایک سال کے اندر انتخابات کی طرف جائیں گے تیل کی عالمی قیمتوں نے ہمارے لئے مشکلات پیدا کی ہیں پاکستانی معیشت کو درآمدات سے برآمدات کی جانب لے کر جانا چاہتے ہیں کوشش ہے کہ ریزرو میں 50 فیصد تک اضافہ ہو پاکستان میں معاشی استحکام کیلئے کوشاں ہیں

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • آئی ایم ایف سے پاکستان کے مذاکرات آج سے شروع

    آئی ایم ایف سے پاکستان کے مذاکرات آج سے شروع

    آئی ایم ایف سے پاکستان کے مذاکرات آج سے شروع ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر واشنگٹن پہنچ گئے جہاں وہ عالمی بینک کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے جب کہ آج عہدے کا حلف اٹھانے والے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل میٹنگ میں آن لائن شریک ہوں گے۔

    عمران خان کی آئین شکنی ، آئی ایم ایف نے قرض پروگرام معطل کر دیا

    آئی ایم ایف سے پاکستان کے مذاکرات آئندہ بجٹ پر ہوں گے جس میں آئی ایم ایف کو 7 ہزار ارب ٹیکس وصولی سے آگاہ کیا جائے گا اور اخراجات سے متعلق معاملات پر بات ہوگی۔

    آئی ایم ایف سے پاکستان کے مذاکرات ساتویں قسط کے لیے ہو رہے ہیں جس میں پاکستان کی جانب سے پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھانےکی شرط پر رعایت مانگی جائےگی۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات 24 اپریل تک جاری رہیں گے اور اجلاس کی کامیابی پر پاکستان آئی ایم ایف سےایک ارب ڈالرحاصل کرسکےگا۔

    منحرف ہونا اتنا بڑا جرم ہےتو وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی؟،سپریم کورٹ

    قبل ازیں نئی حکومت بننے پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بیان سامنے آیا تھا جس میں ادارے کا کہنا تھا کہ مجوزہ نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے پرعزم ہیں نئی حکومت بننےکے بعد قرض پروگرام میں شمولیت پر بات ہوگی، نئی حکومت سے معاشی پالیسیوں پر بات چیت کی جائے گی۔

    آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ اس کا پاکستان کے لیے اپنا قرض پروگرام معطل کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، مجوزہ نئی حکومت کےساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا

  • بحران زدہ سری لنکا نے قرض نادہندہ ہونے کا اعلان کر دیا

    بحران زدہ سری لنکا نے قرض نادہندہ ہونے کا اعلان کر دیا

    غیر ملکی زرمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر کا سامنا کرتے ہوئے، سری لنکا نے منگل کو اعلان کیا کہ بحران کا شکار ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج کے زیر التواء اپنے بیرونی قرضوں کے حوالے سے بات کرے گا قرض کی فراہمی کی معطلی آئی ایم ایف کے ساتھ مجوزہ انتظامات کے مطابق ایک منظم اور متفقہ تنظیم نو کے زیر التواء عبوری مدت کے لیے ہوگی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سری لنکن وزارت خزانہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا کی حکومت کی یہ پالیسی ہوگی کہ وہ عام قرض کی خدمات کو معطل کر دے 12 اپریل 2022 کو واجب الادا متاثرہ قرضوں کی رقم پر لاگو ہوگا –

    سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    یہ پالیسی تمام بین الاقوامی بانڈز، مرکزی بینک اور غیر ملکی مرکزی بینک کے درمیان سویپ کے علاوہ تمام دو طرفہ قرضوں، کمرشل بینکوں اور ادارہ جاتی قرض دہندگان کے ساتھ تمام قرضوں پر لاگو ہوگی قرض کی فراہمی کی معطلی آئی ایم ایف کے ساتھ مجوزہ انتظامات کے مطابق ایک منظم اور متفقہ تنظیم نو کے زیر التواء عبوری مدت کے لیے نافذ رہے گی۔

    حکومت نے جنوری میں اپنی درآمدات کی ادائیگی کے لیے ڈیفالٹ کے مطالبات کی مزاحمت کی اس کے بعد خوراک، گیس اور بجلی کی قلت کے باعث معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے لوگ ملک بھر میں مظاہرے کر رہے ہیں اور حکومت کو غیر ملکی کرنسی کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے غلط طریقے سے نمٹنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

    ایک تجزیہ کار، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ قرض کی یکطرفہ معطلی ہے، قرض دہندگان کے ساتھ بات چیت یا رضامندی کی درخواست کا نتیجہ نہیں”۔

    فلپائن :سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 30 ہزارافراد بے گھر ہوگئے

    سری لنکا کے بیرونی قرضوں کی فراہمی کی ذمہ داریوں کو 6 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ سمجھا جاتا تھا جنوری میں، 500 یو اسی ڈی ملین کے خودمختار بانڈ کی ادائیگی طے کی گئی۔جولائی میں مزید ایک بلین ڈالر کی ادائیگی واجب الادا ہے۔

    مرکزی بینک کے سابق ڈپٹی گورنر، ڈبلیو اے وجیوردینا نے کہا کہ حکومت کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے بہت کم ذخائر رہ گئے ہیں اور اس وجہ سے کوئی آپشن دستیاب نہیں ہے اس کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد قرض کی خدمات کو معطل کرنے کی پالیسی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    سری لنکا کو 1948 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے بجلی کی طویل بندش اور ایندھن، خوراک اور دیگر روزمرہ کی ضروریات کی قلت پر لوگ ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ صدر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    صدر گوٹابایا راجا پاکسے نے اپنی حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرمبادلہ کا بحران ان کی وجہ سے نہیں تھا اور معاشی بدحالی بڑی حد تک وبائی بیماری تھی جس کی وجہ جزیرے کے ملک کی سیاحت کی آمدنی اور اندرون ملک ترسیلات زر میں کمی تھی۔

    یوکرینی صدر نے جنوبی کوریا سے طیارہ شکن میزائل سسٹم اور جنگی ساز و سامان مانگ لیا