Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • تنخواہ دار طبقے کو دیاگیا ریلیف ،پھرملکی معیشت پربوجھ  بنے گا:آئی ایم ایف

    تنخواہ دار طبقے کو دیاگیا ریلیف ،پھرملکی معیشت پربوجھ بنے گا:آئی ایم ایف

    اسلام آباد:آئی ایم ایف کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو دیئے گئے ریلیف پر اعتراض،اطلاعات کے مطابق ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ماہانہ دو لاکھ روپے کمانے والوں پر کم ٹیکس رکھنے پر اعتراض ہے۔

    ایف بی آر کے ذرائع نے کہا ہے کہ فنانس بل 2022 میں ماہانہ دو لاکھ تک کمانے والوں پر 7 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا گیا ہے آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ ماہانہ دو لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 10 فیصد کی جائے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف دو لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے آئی ایم ایف نے چھٹے جائزے کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 125 ارب روپے کے محصولات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ذرائع ایف بی آر کے مطابق فنانس بل 2022 میں آئی ایم ایف مطالبے کے برخلاف 47 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیدی۔ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔

    ادھروزیرمملکت برائے خزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ امریکا سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

     

    بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    قائمہ کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھاکہ اس وقت آئی ایم ایف سے بجٹ پر بات چیت ہورہی ہے اور بہت سی چیزوں پر آئی ایم ایف وضاحت مانگ رہا ہے جس پرکام کررہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف کے حوالے سے بھی امریکا سے بات چیت ہوئی ہے، پچھلی حکومت کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی، ہم دوبارہ ملکی ساکھ کو بحال کر رہے ہیں۔

    وزیرمملکت کا کہنا تھاکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ امریکا بھی کامیاب رہا اور پاکستان کے امریکا سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔

    آئی ایم ایف کو نئے مجوزہ بجٹ پر تحفظات ہیں،وزیر خزانہ

  • آئی ایم ایف کے معاہدے کیوجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی  قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ،وزیراعظم

    آئی ایم ایف کے معاہدے کیوجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے پر پی ٹی آئی حکومت نے دستخط کیے تھے۔

    قیمتوں میں اضافے کے باعث لاکھوں کی دیہاڑیاں


    ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف اور پی ٹی آئی حکومت کی ڈیل کی تفصیلات سے متعلق جلد قوم کو اعتماد میں لیں گے۔ ہم بہت جلد معاشی مشکلات سے نکلیں گے انشاءاللہ-


    وزیر اعظم نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ میں حیران ہوں کہ جن لوگوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک کا بدترین معاہدہ کیا اور واضح طور پر برے معاشی فیصلے کیے ان میں سچ کا سامنا کرنے کا ضمیر ہے یا نہیں؟ وہ کیسے بے گناہ ہونے کا بہانہ کر سکتے ہیں جب کہ قوم جس کرب سے گزر رہی ہے وہ صاف ظاہر ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا تھا کہ 20روز میں تیسری بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 24 روپے 3 پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 233 روپےہوگئی –

    ڈیزل کی نئی قیمت 263 روپے 31 پیسے ہو گئی جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 59 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی،لائٹ ڈیزل فی لیٹر 29 روپے 61 پیسے اضافہ ہوا ،مٹی کا تیل 29 روپے59 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا جس کے بعد مٹی کےتیل کی قیمت 211 روپے 43 پیسے ہوگئی ،لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 207 روپے47 پیسے ہو گئی-

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب پٹرولیم مصنوعات کے معاملے میں کوئی نقصان برداشت نہیں کرے گی کبھی ملکی حالت میں اتنا بگاڑ نہیں دیکھا، جس کی وجہ عمران خان کی نااہلی، کورونا کے بعد ہونے والی عالمی سطح پر مہنگائی ہے، اس دوران پاکستان دنیا کا تیسرا مہنگا ترین ملک بن گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مسلم لیگ ن کو دبوچنے کے لیے ایک جال بچھایا پھر آئی ایم ایف سے معاہدے کیے، اب ہم ان ہی معاہدوں پر عمل پیرا ہیں اور انشاء اللہ ہم اس میں کامیاب ہوجائیں گے، سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے 30 روپے فی لٹر پیٹرول لیوی اور ٹیکس لگانے کا معاہدہ کیا تھا جب خان صاحب چھوڑ کر گئے تو عالمی مارکیٹ میں پٹرول 80 سے 85 ڈالر تھا آج قیمت اضافے کے بعد 120 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اس کے باوجود ہم پٹرول سستا فروخت کررہے تھے اور آج بھی دنیا کے اعتبار سے قیمتیں کم ہیں۔

    منی لانڈرنگ کیس: مونس الٰہی ایف آئی اے کے سامنے پیش

    انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہم بھی مجبوری میں سب جاننے کے باوجود بھی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں، وزیراعظم نے پیٹرول اسکیم بھی اسی وجہ سے متعارف کروائی جس کے تحت 80 لاکھ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیئے جائیں گے جبکہ جون سے مزید 60 لاکھ لوگوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

    وزیرخزانہ نے کہا تھا کہ کورونا کے دور میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول 6 اور 7 ڈالر میں دستیاب تھا مگر ہم نے اُس سے فائدہ نہیں اٹھایا، ہم نے پہلے بھی مشکل فیصلے کیے اور آئندہ بھی کریں گے، یہ مشکل چند مہینوں کی ہوگی مگر امید ہے کہ ہم جلد اس سے نکل جائیں گے، ہم نے ویسے ہی بجٹ میں غریبوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جبکہ امیروں پر نئے ٹیکس لگائے ہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی تھی،حماد اظہر

  • 30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا دبائو ہم پر بھی تھا لیکن ہم نے عوام کے حق میں فیصلے کئے،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا نے کورونا پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاون لگایا، پاکستان میں بھی لاک ڈاون لگانے کے لیے مجھ پر دباو ڈالا گیا اگر لاک ڈاون لگاتا تو مزدور کیا کرتا،دباو ڈالنے والوں سے پوچھا لاک ڈاون لگایا تو غریب کھانا کہاں سے کھائےگا؟چین نے جہاں لاک ڈاون لگایا وہاں گھروں میں کھانا پہنچایا گیا،کہا گیا عمران خان لاک ڈاون نہیں لگارہا اس پر مقدمہ درج کراو،دنیا اعتراف کررہی ہے کہ ہم نے بہتر اقدامات کیے،بھارت نے لاک ڈاون لگایا تو بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا کورونا کے دوران ہم نے انڈسٹری کو چلنے دیا، کورونا کے دوران عوام کو احساس کیش پروگرام کے تحت رقم فراہم کی گئی،پہلے یہ ایک دوسرے کیخلاف لڑتے تھے ایک دوسرے کو چو رکہتے تھے، صحت کارڈ پر مزدور بھی مہنگے اسپتال لاہور کے ڈاکٹرز اسپتال میں علاج کراسکتا تھا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جس حکومت کو نااہل کہتے تھے اس نے معیشت اور غریبوں کو بچایا ہم 30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے، امریکا نے ان کو ہم پر مسلط کیا ہے،ہم نے بجلی بھی 4 روپے فی یونٹ سستی کی، آئی ایم ایف کا ہم پر بھی پریشر تھا،ہماری حکومت نے غریب لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے، موجودہ حکومت نے 2 ماہ میں ہمارے ساڑھے 3 سال سے زیادہ مہنگائی کر دی،جب 60روپے 3مہینے میں پیٹرول کی قیمت بڑھائی تو ان کی حقیقت سامنے آئی،اب اور مہنگائی آنے والی ہے، ابھی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی،انہیں عوام کی نہیں امریکا کی فکر ہے، اپنے حقوق کیلئے پرامن احتجاج کی تیاری کریں، حکومت غریب طبقے کو ہماری طرح 12 ہزار روپے دے، چوروں کے ٹولے کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا ہے،بلاول اور فضل الرحمان نے لانگ مارچ کیا ہم نے کوئی پکڑ دھکڑ نہیں کی میں نے تو انہیں کھانا اور کنٹینر دینے کی پیشکش بھی کی، جب راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہےتو پارلیمنٹ ختم،یہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں ملک کا سارا نظام تباہ کر رہے ہیں، یہ اقتدار میں رہ گئے تو ملک کو وہ نقصان پہنچائیں گے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

  • آئی ایم ایف کو نئے مجوزہ بجٹ پر تحفظات ہیں،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف کو نئے مجوزہ بجٹ پر تحفظات ہیں،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نئے بجٹ میں اضافی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف نمائندے نے برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز سے انٹرویو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا ابتدائی تخمینہ ہے، حکام کے ساتھ محصولات اور اخراجات پر مزید وضاحت کیلئے بات چیت جاری ہے، اقتصادی استحکام کے لیے پالیسیوں کے نفاذ میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔

    بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی

    دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو نئے مجوزہ بجٹ پر تحفظات ہیں، آئی ایم ایف مزید براہِ راست ٹیکسز کا خواہاں ہے، حکومت پراعتماد ہے ، بجٹ میں مطلوبہ رد و بدل کر لیے جائیں گے۔

    قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا عندیہ دے دیا ہےایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت ہمیں ڈیزل پر 53 روپے اور پیٹرول پر 23 روپے نقصان ہو رہا ہے، اگر قیمتیں نہیں بڑھاتے تو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اگر پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھیں تو آئی ایم ایف بھی معاہدہ نہیں کرے گا،مفتاح اسماعیل

    انہوں نےکہا تھا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھیں تو آئی ایم ایف بھی معاہدہ نہیں کرےگا،دو بار ہم نے 30 ،30 روپے پیٹرول بڑھایا ہے،اگر ہم یہ چیزیں مہنگی نہیں کریں گے تو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا میں نے معیشت کو پڑھا ہوا ہے، آج پاکستان کی معیشت پر بات کروں گا، جب حکومت ہمیں ملی تو معاشی مسائل تھے، میں نے پاکستان کے یہ حال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔

    وزیر خزانہ نےکہا تھاکہ 2013 میں ہماری حکومت آئی پانچ سو 3 ارب روپے کا سرکلر ڈیڈ تھا، پاور کا محکمہ 15 سو ارب روپے کا نقصان دے رہا ہے، کوئلے سے بجلی کا یونٹ سب سے سستا تھا مہنگائی کا کوئی توڑ نہیں ہے، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ کوئلے کی بھی قیمت بڑھ رہی ہے۔

    پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

  • اگر پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھیں تو آئی ایم ایف بھی معاہدہ نہیں کرے گا،مفتاح اسماعیل

    اگر پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھیں تو آئی ایم ایف بھی معاہدہ نہیں کرے گا،مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس وقت ہمیں ڈیزل پر 53 روپے اور پیٹرول پر 23 روپے نقصان ہو رہا ہے، اگر قیمتیں نہیں بڑھاتے تو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    وزر خزانہ نے کہا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھیں تو آئی ایم ایف بھی معاہدہ نہیں کرے گا،دو بار ہم نے 30 ،30 روپے پیٹرول بڑھایا ہے،اگر ہم یہ چیزیں مہنگی نہیں کریں گے تو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا میں نے معیشت کو پڑھا ہوا ہے، آج پاکستان کی معیشت پر بات کروں گا، جب حکومت ہمیں ملی تو معاشی مسائل تھے، میں نے پاکستان کے یہ حال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔

    رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ 2013 میں ہماری حکومت آئی پانچ سو 3 ارب روپے کا سرکلر ڈیڈ تھا، پاور کا محکمہ 15 سو ارب روپے کا نقصان دے رہا ہے، کوئلے سے بجلی کا یونٹ سب سے سستا تھا مہنگائی کا کوئی توڑ نہیں ہے، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ کوئلے کی بھی قیمت بڑھ رہی ہے۔

    قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا گیا کیونکہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں۔ ایک ہزار 100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی اور 500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا۔ 16 روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے لیکن یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں۔

    آصف زرداری کی لاہور میں شجاعت حسین سے اہم مشاورت

    انہوں ںے کہا تھا کہ رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی اور 30، 35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں لیکن اگر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے۔ ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی۔

    وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے۔ 2 اعشاریہ 4 ارب کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔ پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، اس لیے ہمیں معیشت سنبھالنا ہو گی۔ فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔

    انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بہت مشکل فیصلے لیے ہیں اور اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو وہ بھی لیں گے کیونکہ اس وقت کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا اور انہوں ںے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گےہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کاسامنا ہےہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے اور کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں۔ عوام کاساتھ چاہتا ہوں اور پیٹرول مہنگا کر کے پیسے گھر نہیں لے جا رہے۔ اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں۔

    کسانوں کےحالات پرخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے،عمران خان

  • شوکت ترین نے 20 ہزار ارب روپے قرض لینے کا اعتراف کر لیا

    شوکت ترین نے 20 ہزار ارب روپے قرض لینے کا اعتراف کر لیا

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعتراف کرلیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 20 ہزار ارب روپے کا قرض لیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے لکھا کہ عمران صاحب کی ایم ایف سے سخت شرائط پر معاہدہ، ڈالر 115 سے 189 پر لے جانے، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کے ظلم ڈھانے کے علاہ قیراط، خیرات اور کرپشن کے ثمراث کا اعتراف بھی جلد ہوگا۔

    صدر پاکستان کی بھارت میں پرامن مسلم مظاہرین پر وحشیانہ تشدد کی پرزور مذمت


    مریم اورنگزیب نے کہا کہشوکت ترین صاحب نے آخر کار اعتراف کر ہی لیا کہ عمران صاحب نے چار سال کی حکومت میں 20 ہزار ارب روپے کا قرض لیا جو تاریخ پاکستان میں لئے گئے مجموعی قرض کا 76 فیصد ہے۔ ایسے بہت سے اعتراف ابھی عمران صاحب نے کرنے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے مہنگائی کے حوالے سے کہا تھا کہ نئی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی ۔اور ملک میں پہلے کی نسبت بے روزگاری میں اضافہ ہو گا ۔اور انہیں کسی بھی قسم کا آئی ایم ایف سے کوئی رلیف نہیں ملے گا ۔

    پنجاب کابینہ میں توسیع کا دوسرا مرحلہ، مشاورت مکمل ،20 افراد کا آج حلف اٹھانے کا امکان

    مزید تفصیلات کے مطابق اسی حوالے سے ہی شوکت ترین نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی تھی ۔جس میں ان کا کہنا تھا کہ کل مفتاح اسماعیل نے ایک کنفیوز بجٹ پیش کیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کس قسم کا بجٹ پیش کیا گیا ہے انہوں نے اپنے حوالے سے بات کی اور کہا کہ ۔ کہ ہم نے تو 30 برس میں سب سے زیادہ جی ڈی پی گروتھ بڑھائی تھی ۔

    شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی پہلے سی بہت زیادہ ہو چکی ہے ۔ چند مہینوں میں ہی مہنگائی 24 فیصد تک ہو چکی ہےبیروزگاری پہلے کی نسبت مزید بڑھ گئی ہے ان کا کہنا تھا کہ ۔ہمارا خیال ہے بے روزگاری کی شرح 25 سے 30 فیصد تک جائے گی اور یہ کہ پٹرولیم لیوی بڑھانے سے پٹرول 35 روپے فی لیٹر مزید بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی مہنگائی کے ساتھ کیسے کاروبار چلیں گے ۔

    ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزارسے تجاوز

  • پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پٹرول کی قیمتیں بڑھائیں تو سابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کا معاہدہ تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا اور یہ طے تھا کہ تیل کی قیمتیں 30 روپے تک بڑھائی جائیں گی ،آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف کے معاہدے کی کاپی باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، معاہدہ فروری 2022 میں کیا گیا تھا جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابھی تک جمع نہیں ہوئی تھی،تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا

    تحریک انصاف کی حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے 4 فرروی 2022 کو چند دستاویزات جاری کی گئیں تھیں اس وقت جاری کی گئی پریس ریلیز میں میں ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین کا بیان اور ایگزیکٹو بورڈ کے خیالات کا خلاصہ شامل کیا گیا رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 4 سے متعلق مشاورت اور آئی ایم ایف انتظامات سے متعلق امور پر عملے کی رپورٹ پر غور کیا گیا،

    18 نومبر 2021 کو پاکستان کے حکام کے ساتھ اقتصادی پیشرفت اور پالیسیوں پر ختم ہونے والی بات چیت کے بعد آئی ایم ایف کے عملے کے ذریعہ تیار کردہ معلوماتی ضمیمہ اس وقت کی پیشرفتوں کے بارے میں معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے والی ایک اضافی معلومات اسٹاف رپورٹ اور ایگزیکٹو بورڈ کی بحث کے جواب میں پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا بیان شامل تھا-

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آمدنی. پائیدار مالیاتی اصلاحات اور ٹیکس انتظامیہ کی کوششوں کی وجہ سے وفاقی ٹیکس ریونیو میں 25 فیصد سے زیادہ اضافے کا امکان ہے۔ اسے پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کو نئے ریونیو ہدف سے ہم آہنگ کرنے کو یقینی بنا کر ماحولیاتی ٹیکس کے اعلیٰ عمل سے بھی مدد ملے گی۔ اس طرح ہم پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں 8 روہے فی لیٹر اضافہ کریں گے اور ہم مالی سال 2022 کے لیے ہر ماہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو فی لیٹر بڑھانے کا عہد کرتے ہیں جب تک کہ زیادہ سے زیادہ قیمت 30 روپے فی لیٹرنہ بڑھا دی جائے۔ اور نئے ترجیحی ٹیکس یا چھوٹ جاری کرنے کے طریقہ کار سے گریز کریں۔

    آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دسمبر میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی فی لیٹر 4 رپوے فی مہینہ اضافہ جاری رکھے گا جب تک کہ زیادہ سے زیادہ 30 روپے لیٹر حاصل نہ ہو جائے جو ماضی میں موجود تھا۔ آئی ایم ایف نے مارہ فروری میں مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور قیمتوں پر ٹیکس نہیں لگایا جس کی وجہ سے آنے والی نئی حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا، معاہدے کے تحت پاکستان کوگزشتہ سال 5 نومبر یکم دسمبر اور رواں سال یکم جنوری کو پیٹرول و ڈیزل پر4، 4 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانا تھی پی ٹی آئی حکومت نے معاہدے کے برعکس جنوری کے بعد پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا اور سیلزٹیکس بھی صفرکردیا

    عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو انہوں نے پٹرول کی قیمتیں مستحکم کر دیں اور کہا کہ پانچ ماہ تک یہی قیمتیں رہیں گی، عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو آنے والی اتحادی حکومت ایک ماہ تک سوچ بچار کرتی رہی کہ قیمتیں بڑھائیں یا نہیں، لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف حکومت کے کئے گئے معاہدے کے تحت موجودہ حکومت کو پٹرول کی قیمتیں 30 روپے بڑھانا پڑیں جس کے بعد تحریک انصاف نے ہی احتجاج کا اعلان کیا، اور معاہدہ کرنے والی سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے بیان دیئے کہ یہ سب موجودہ حکومت کر رہی

    تحریک انصاف کے رہنما، وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے معاہدے کے اعتراف کر چکے ہیں پی ٹی آئی کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے قبول کرلیا کہ موجودہ مہنگائی، ڈالر، پٹرول اور بجلی کی قیمیتیں آئی ایم ایف سے ہمارے کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے بڑھیں ہیں.

    پروگرام کے دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ معاشی مسائل تو پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی تھے اور ان کی حکومت میں ہی آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے گئے اور مانا گیا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی اور آپ ہی کے دور میں بیرونی قرض بھی بڑھا مگر اس وقت تو آپ نے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی .189 تک تو ڈالر کی قیمت پی ٹی آئی کی حکومت چڑھا کر گئی ہے مگر اس وقت بھی ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی گئی کیونکہ اس وقت آپ حکومت میں تھے.پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے حالانکہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ڈیل تھی آئی ایم ایف کے ساتھ ،اب آپ کہ رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے تو دو ماہ پہلے آپ کی حکومت تھی تو تب ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا تھا ؟

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ آپ بالکل درست کہ رہے ہیں (یعنی شاہ محمود قریشی نے تسلیم کر لیا کہ ان کی حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوئے تھے جس کے مطابق پٹرول اور بجلی کی قیمتیں مرحلہ وار بڑھانا تھیں ) انہوں نے جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ معاشی مشکلات چند ہفتوں کی پیدا کردہ نہیں ہیں،عمران خان بھی یہی کہ رہے ہیں کہ معاشی چیلینجز راتوں رات پیدا نہیں ہوئے، کزشتہ 30 سال مسلم لیگ ن اور پیپلزپارتی برسراقتدار رہے ہیں.

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک بھی قوم کو بتا چکے ہیں کہ عمران خان ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے گئے تھے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں گے،مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،عمران خان نے پیٹرول کی 10 روپے قیمت بڑھا کر کہااب یہی رہے گی ،ہمیں لگا شاید کابینہ کی منظوری سے ہوا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا،سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کو تباہ کرنا چاہ رہے تھے، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپے تھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی،عمران خان حکومت ختم ہونے سے پہلے سبسڈی کا اعلان کیوں کرکے گئے؟ آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    تحریک انصاف کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے قوم کو سچ بتانا چاہئے اور عمران خان میں اتنی جرات ہونی چاہئے کہ وہ قوم کو سچ بتائیں کہ یہ معاہدہ ہم کر کے گئے تھے، پاکستانی قوم کو مہنگائی میں جکڑنے کے ذمہ دار عمران خان اور انکی کابینہ ہے جنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ 30 روپے پٹرول کی قیمت بڑھانے کا معاہدہ کیا، اب سب سامنے آ چکا،عمران خان جو یوٹرن خان کے نام سے مشہور ہیں قوم کو جھوٹ بتانے کی بتائیں سچ بتائیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک انصاف کے احتجاج میں بھی اس بات کو بتایا جائے کہ یہ گڑھا تحریک انصاف نے ہی عوام کے لئے کھودا تھا، اب صرف سیاست کی جا رہی ہے

    اینکر غریدہ فاروقی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پٹرول قیمت میں اضافہ عوام پر بہت سنگین بوجھ تو ہے ہی لیکن یہ اُسیIMFمعاہدے کی شرائط ہیں جو عمران خان حکومت میں کیا گیا۔عمران خان حکومت ہوتی تو بھی پٹرول بجلی کی یہی قیمت ہوتی۔قیمتیں منجمد سیاسی فائدے،عدم اعتماد کوآتے دیکھکر کی گئیں تھیں۔ حقائق یہی ہیں؛کسی کو برالگےتو کیا کیاجائے۔

    فواد چودھری کہتے ہیں کہ مہنگائی کے اس طوفان کی ذمہ دارنون لیگ تو ہے ہی لیکن پیپلز پارٹی، MQM، BAP, فضل الرحمنٰ اور لوٹوں کو مت بھولیں جو اس جرم میں نون لیگ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں موجودہ تباھی کی ذمہ داری اس پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے یہ سب نون پر ڈال کر خود میسنے بنے ہوئے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، موجودہ مہنگائی کی ذمہ دار عمران خان ہیں، سابق حکومت نے ایسے معاہدے کئے جس سے ملک میں اب مہنگائی میں اضافہ ہوا، اگر عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تیل کی قیمتیں 30 روپے بڑھانے کا معاہدہ نہ کرتی تو تیل کی قیمتوں میں اب اتنا اضافہ نہ ہوتا، بلکہ کم ہوتا، عمران خان کی جانب سے ایسے غلط فیصلے کئے گئے جس کا خمیازہ قوم آج بھگت رہی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت ہوتی تو کیا وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق تیل کی قیمت نہ بڑھاتی؟

    علاوہ ازیں سابق گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر بھی انکشاف کر چکے تھے کہ آئی ایم ایف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ چاہتا ہے،آئی ایم ایف بجلی کے ریٹ بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے،

  • آئی ایم ایف سے ہمارے معاہدوں کی وجہ سے پٹرول اور بجلی مہنگے ہوئے ، شاہ محمود قریشی کا اعتراف

    آئی ایم ایف سے ہمارے معاہدوں کی وجہ سے پٹرول اور بجلی مہنگے ہوئے ، شاہ محمود قریشی کا اعتراف

    پی ٹی آئی کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے قبول کرلیا کہ موجودہ مہنگائی، ڈالر، پٹرول اور بجلی کی قیمیتیں آئی ایم ایف سے ہمارے کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے بڑھیں ہیں.

    دنیا نیوز کے پروگرام آن دی فرنٹ کے میزبان کامران شاہد کے ساتھ گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیانات کو توڑ موڑ کرپیش کیا جا رہا ہے، عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ملکی معیشت تنزلی کا شکار رہے گی توااللہ نہ کرے ملک ڈیفالٹ کر سکتا ہے اور اس پر انہوں نے حوالے دیئے کہ جب ملک ڈیفالٹ کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے.

    پروگرام کے دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ معاشی مسائل تو پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی تھے اور ان کی حکومت میں ہی آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے گئے اور مانا گیا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی اور آپ ہی کے دور میں بیرونی قرض بھی بڑھا مگر اس وقت تو آپ نے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی .

    189 تک تو ڈالر کی قیمت پی ٹی آئی کی حکومت چڑھا کر گئی ہے مگر اس وقت بھی ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی گئی کیونکہ اس وقت آپ حکومت میں تھے.پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے حالانکہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ڈیل تھی آئی ایم ایف کے ساتھ ،اب آپ کہ رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے تو دو ماہ پہلے آپ کی حکومت تھی تو تب ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا تھا ؟

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ آپ بالکل درست کہ رہے ہیں (یعنی شاہ محمود قریشی نے تسلیم کر لیا کہ ان کی حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوئے تھے جس کے مطابق پٹرول اور بجلی کی قیمتیں مرحلہ وار بڑھانا تھیں ) انہوں نے جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ معاشی مشکلات چند ہفتوں کی پیدا کردہ نہیں ہیں،عمران خان بھی یہی کہ رہے ہیں کہ معاشی چیلینجز راتوں رات پیدا نہیں ہوئے، کزشتہ 30 سال مسلم لیگ ن اور پیپلزپارتی برسراقتدار رہے ہیں.

  • اگلے مہینے جب لوگ نکلیں گے توکسی کے کہنے پر بھی واپس نہیں جائیں گے،شیخ رشید

    اگلے مہینے جب لوگ نکلیں گے توکسی کے کہنے پر بھی واپس نہیں جائیں گے،شیخ رشید

    راولپنڈی: سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ کیا بیساکھیوں کے سہارے اور آئی ایم ایف کی خیرات سے حکومت چلائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیر داخلہ نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتےہوئےلکھا کہ گیارہ اتحادی جماعتوں پرمشتمل حکومت جتنا بھی زور لگا لے دنیا کی کوئی طاقت ان کو گھر جانے سے نہیں روک سکتی، اگلے مہینے جب لوگ نکلیں گے تو وہ کسی کے کہنے پر بھی واپس نہیں جائیں گے عوام پر مہنگائی کا جو طوفان آنے والا ہے اس سے یہ حکومت عوام کے غیظ و غضب سے نہیں بچ سکتی۔

    مہنگا پٹرول،جماعت اسلامی نے کل ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر دیا


    سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک وہاں پہنچ گیا ہے جہاں سے چلانا سیاسی پارٹیوں کے بس میں نہیں موجودہ حکومت کے کرپٹ لوگ نیب، اے این ایف اور ایف آئی اے میں اپنے افسر لگا کرکیس ختم کروائیں گے اور گھرچلے جائیں گے، ان میں ملک کی تباہ حال معیشت کو بچانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔

    سابق وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ ایک ووٹ کی اکثریت، بیساکھیوں کا سہارا اور آئی ایم ایف کی خیرات، کیسے چلے گی یہ حکومت؟، اگر عمران خان گھر میں بھی بیٹھ جائے تو یہ گیارہ اتحادی پارٹیاں ایک مہینہ بھی اکٹھی نہیں چل سکتیں۔

    دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہےجماعت اسلامی کےسیکریٹری اطلاعات قیصر شریف کا کہنا ہےکہ سراج الحق کی اپیل پر تمام صوبائی اورضلعی ہیڈکوارٹرز میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔مظاہروں میں مختلف شعبہ فکر سے تعلق رکھنےوالےافراد کی کثیر تعداد شرکت کرےگی قائدین جماعت ریلیوں اور مظاہروں سے خطاب کریں گے۔

    قیصر شریف کا مزید کہنا تھا کہ موجود حکومت نے وہی کام کیے جو پی ٹی آئی حکومت میں جاری تھے۔ جماعت اسلامی ظالمانہ اقدامات پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔ قوم کا مقدمہ چوکوں، چوراہوں، پارلیمنٹ سمیت تمام فورمز پر لڑا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے عوام پر کرایوں کا بم گرا دیا گیا پبلک ٹرانسپورٹرز کی جانب سے 300 روپے تک کرائے میں اضافہ کر دیا گیا مختلف ٹرانسپورٹرز کی جانب سے مختلف کرایوں میں اضافہ کیا گیا-

  • شوکت ترین پیسے کہاں رکھ کر گئے؟ ہمیں بتا دیں، وزیر خزانہ

    شوکت ترین پیسے کہاں رکھ کر گئے؟ ہمیں بتا دیں، وزیر خزانہ

    شوکت ترین پیسے کہاں رکھ کر گئے؟ ہمیں بتا دیں، وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ گزشتہ رات وزیراعظم شہبازشریف کے خطاب کوسراہا گیا ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کیا گیا اورمہنگائی آئے گی،پیٹرول مہنگا نہ کرتے تو زیادہ مہنگائی اور روپے کی قدر بھی کم ہوتی ،شہباز شریف کی غریب پرور ہونا روایت ہے،جو مہنگائی کا طوفان پچھلی حکومت کی وجہ سے آیا اس کا تدارک ضروری ہے آبادی کے ایک تہائی افراد کو جون میں وظیفہ دینے کا اعلان کیا،غریب عوام کی مدد کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،اگلے سال وظیفے میں اضافہ بھی کریں گے، وزیر اعظم کی ہدایت پر، ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے اندازہ ہے کہ بسوں کے کرائے بھی بڑھیں گے،40 ہزارسے کم آمدن والوں کو میسج کے ذریعے پیسے بھیجے جائیں گے ، ملک میں 85 فیصد پیٹرول 40 فیصد امیر ترین گھرانے استعمال کرتے ہیں ایک کروڑ 40 لاکھ گھرانے ایسے ہیں جن کی آمدن 40 ہزارسے کم ہے ان گھرانوں کو ادائیگی جون سے کی جائے گی شناختی کارڈ کے ذریعےتصدیق کے بعد 2 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شوکت ترین کا معاہدہ ڈیزل کی قیمت 300 اور پیٹرول 260 روپے کرنا تھا، ہم شوکت ترین کے والے فارمولے پر عمل نہیں کررہے شوکت ترین کہہ گئے تھے کہ وہ پیسے رکھ کے گئے ہیں،ہمیں بتا دیں وہ پیسے کہاں ہیں، ہمیں کہیں نہیں ملے نہیں پتہ کہ آئندہ پیٹرول کی قیمت بڑھے گی یا نہیں،بجلی کی قیمت بڑھانے کی میرے پاس کوئی سمری نہیں ہے،ریلیف ا سکیم سے فائدہ اٹھانے کےلیے 786 نمبر پر شناختی کارڈنمبر بھیجا جاسکتا ہے، جو مستحق ہوگا اسے فوری رقم دی جائے گی، آئی ایم ایف سے اس بار نجکاری کی کوئی بات نہیں ہوئی،پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی، بین الاقوامی منڈی میں بڑھ گئی تھی حکومت کا ڈیزل کی مد میں سبسڈی ختم کرنے کا ارادہ تھا، 114 روپے سبسڈی ختم اور 30 روپے لیوی لگنے سے بڑھتے ہیں، ہم ابھی اضافی ٹیکس نہیں لگارہے، توقع تو یہی ہے کہ یکم سے پیٹرول نہیں بڑھے گا،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو کیا اس سے ملک کی معیشت دیوالیہ ہوجاتی،ہم چینی 70 روپے فی کلو بیچیں گے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک پراسس ہے،اوگرا سمری پیٹرولیم پھر فنانس اور اس کے بعد وزیراعظم کو جاتی ہے،ابھی تک سمری نہیں آئی اور آئے گی تو مزید غور کیا جائے گا، ابھی قیمتیں بڑھائی ہیں،نہیں لگتا 4،2 روزمیں دوبارہ بڑھیں گی،وظیفہ دینے سے 28 کروڑروپے کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی، بےنظیر انکم سپورٹ والے رجسٹرڈ افراد کو دو دن تک پیسے دے دیئے جائیں گے،سعودی عرب ہماری مزید مدد کرنا چاہتا ہے جس پر جولائی میں بات کروں گا آئی ایم ایف سے نجکاری کی کوئی بات نہیں ہوئی، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ جون میں ہو جائے گا، فورسز کا بجٹ 1340 ارب روپے ہے اس اس میں فورسز کو ملنے والی گرانٹ بھی شامل کر لیں تو یہ بجٹ 1400 ارب روپے بنتا ہے فورسز کا بجٹ جی ڈی پی کے 2 فیصد سے بھی کم ہے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل