Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں تحریک انصاف آئی ایم ایف کا پروگرام منسوخ کرانا چاہتی ہے، وزیرخزانہ خیبرپختونخوا تیمورجھگڑا مفتاح اسماعیل سے دوماہ سے وقت مانگ رہا ہے، مفتاح کہتے ہیں صوبے سرپلس دینگے، سیلاب سے تباہی آئی ہے، صوبے کہاں سے سرپلس دیں گے، مفتاح اسماعیل سیلاب آیا ہے، دل بڑا کرو گوری چمڑی سے گھبرانے کے بجائے آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لیں، کورونا جب آیا تھا تومیں نے آئی ایم ایف سربراہ سے بات کرکے ریلیف لیا تھا۔ سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی ہے، حکومت کو ہمت پکڑ کر آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے۔

    جہلم میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو بڑے امتحان میں ڈالا ہے،اللہ کبھی کبھی اپنی مخلوق کوآزماتا ہے،اللہ نے ہمیں ایک آزمائش دی ہے ہم سب وعدہ کرتے ہیں اللہ ہم اس امتحان میں فیل نہیں ہونگے،سوات، چترال سمیت ہر جگہ عذاب آیا ہوا ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے تونسہ، راجن پور،ڈی جی خان نہیں جا سکا، سیلاب سے فصلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا،بلوچستان، سندھ میں لوگوں کا برا حال ہے، اس امتحان سے ملکر قوم مل کر لڑتی ہے، ایسے امتحان سے ہم سب نے ملکرمقابلہ کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2010کے سیلاب میں ہر پاکستانی نے مل کر مقابلہ کیا تھا، آج بھی ہم سب نے مل کر اس امتحان کا مقابلہ کرنا ہے،نوجوانوں کی ٹائیگرفورس بنائی ہے،ٹائیگرفورس متاثرہ علاقوں میں جا کر حکومتوں کی مدد کرے گی،پیر کی شام کو ایک ٹیلی تھون کرونگا،پاکستان اوربیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کرونگا،احساس پروگرام کی طرح اس پروگرام میں بھی ثانیہ نشترکوسربراہ بنائیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ اللہ کا امتحان ہے،ہم ڈیمزبناسکتے ہیں،ہمیں فخرہے ہماری حکومت نے پاکستان میں 10 ڈیمزبنانا شروع کیے،50 سال بعد بھاشا، داسو، مہمند ڈیم بن رہے ہیں۔ جب ڈیم ہوتے ہیں تو بارش کے پانی کو قابو کیا جاسکتا ہے،وہی بارش کا پانی تباہی کے بجائے رحمت بن جاتا ہے،چین میں 80 ہزارٹوٹل ڈیم ہے،چین میں 5 ہزاربڑے ڈیم ہے،پاکستان میں ڈیم نہ بنا کربڑی کوتاہی کی گئی،جتنی بھی حکومتیں آئی سب سے سوال پوچھتا ہوں آپ لوگوں کوخیال کیوں نہ آیا،پچاس سال میں کسی حکومت نے ملک میں ڈیم بنانے کا نہیں سوچا،تحریک انصاف کی حکومت کوپہلی دفعہ ڈیم بنانے پرمبارکباد دیتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نوشہرہ میں 2010ء میں سیلاب کے دوران ڈوب گیا تھا،ہماری حکومت نے نوشہرہ میں بند بنائے تھے، یہی بند نوشہرہ کو بچائیں گے، اگر عثمان بزدار اربوں روپے سے بند نہ بناتے تو تونسہ نے ڈوب جانا تھا، سندھ میں بارش آئے تو ڈوب جاتا ہے اوردوسری طرف پینے والا پانی نہیں ملتا،لاہورکے اندر ہم نے انڈر گراؤنڈ پانی کو اکٹھا کرنے کا پلان بنایا،اگر ڈیم بنا ہوتا تو ڈیرہ اسماعیل خان میں تباہی کو روکا جاسکتا تھا،پانی کوتباہی بنانے کے بجائے نعمت بنانا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اخبارات میں ہمارے خلاف کمپین چل رہی ہے، ایک میڈیا ہاؤس ہمیشہ پیسے لیکرچوروں کی حفاظت کرتا ہے،کمپین کررہے ہیں اس وقت جلسے نہیں کرنے چاہئیں، لفافوں کان کھول کرسن لو،میں سیاست نہیں کر رہا حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، 30 سال سے ملک لوٹنے والوں کے خلاف حقیقی آزادی کی جنگ لڑرہا ہوں،ملک میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑرہا ہوں۔ پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ہماری جدوجہد سیلاب اورجنگوں کے دوران بھی جاری رہے گی، جب تک حقیقی آزادی نہیں ملتی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کاکہنا تھا کہ چوروں کا ٹولہ کان کھول کرسن لے تم جیسے چوروں سے آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، فکر نہ کرو، سیلاب کے دوران ہم وہ کام کریں گے جو تم ساری زندگی بھی نہیں کرسکتے، تم چوروں کو تو کوئی پیسے دینے کو بھی تیارنہیں، بھگوڑا لندن بیٹھ کرہمیں درس دے رہا ہے سیاست نہیں کرنی چاہیے،نوازشریف مفرور مجرم، شہبازشریف، ڈیزل، زرداری سن لو حقیقی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، زرداری کوپیسوں کی بیماری ہے جب پیسہ دیکھتا ہے تواس کی مونچھیں اوپرنیچے ہوجاتی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے بھی جدوجہد کروں گا،سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کروں گا لیکن تمہیں نہیں چھوڑنا،دو ڈاکو خاندانوں کے آنے سے پہلے پاکستان برصغیرمیں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ڈاکو خاندان مسلط ہوئے توہم بھارت، بنگلادیش سے بھی پیچھے رہ گئے، شہبازشریف،مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں ہماری وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام فیل ہو جائے گا،شہبازشریف اوران کے اتحادیوں نے قرضے لوگوں پرچڑھائے،جب ہم نے اقتدارسنبھالا تواس وقت سب سے زیادہ بیرونی خسارہ تھا،موجودہ حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق تحریک انصاف حکومت میں 6 فیصد گروتھ ہو رہی تھی، ہمارے دورمیں چارفصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، ہم یہ پاکستان چھوڑ کر گئے تھے، ہماری حکومت نے پہلی دفعہ 10 لاکھ علاج کے لیے انشورنس دی، سازش کرکے ہماری حکومت گرائی اورچارماہ بعد ملک کا دیوالیہ نکال دیا،آج ملک میں مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ہمارے دور میں 16 فیصد اور آج مہنگائی 45 فیصد ہے، ان کا توسارا شور ہی مہنگائی کے خلاف تھا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کہہ رہا ہے آئی ایم ایف پروگرام ہم ناکام بنانا چاہتے ہیں،دوماہ سے تیمورجھگڑا میٹنگ کے لیے بلاتا رہا،سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی کدھرسے سرپلس ہوگا، گوری چمڑی سے اتنا نہ گھبراؤآپ کوآئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے ملک میں سیلاب آیا ہوا ہے،دل بڑا کرو، ٹرانسپلانٹ کرالو، آئی ایم ایف سے بات کرو۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے بیانات سے شرمندگی ہوتی ہے، امپورٹڈ حکومت ایک غیرتمند قوم کو شرمندہ کررہی ہے،ان کا چوری کا پیسہ بیرون ملک پڑا ہے یہ ان کے غلام ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں سیلاب آیا ہوا ہے، سیلاب کی وارننگ کے دوران سب سے بڑی پارٹی کو کیسز کر کے دیوار سے لگایا جا رہا ہے، 25مئی کوپرامن احتجاج کرنے والوں پر شیلنگ، مقدمات درج کیے گئے، ہمارے دورمیں انہوں نے دھرنے دیئے کسی کو نہیں روکا، 25 مئی کو ظلم کیا گیا، اس وقت جمہوریت اورہماری آزادی کو مسلط ٹولے سے خطرہ ہے، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، پولیس کے ساتھ مل کربھی یہ بری طرح ہارے، اب یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں ان کوپتا ہے الیکشن میں پھینٹا پڑے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اب یہ تکنیکی طریقے سے مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں، آج تک آئین وقانون کے دائرے میں رہ کرسیاست کی، 25 مئی کو تشدد کیا گیا، انتشار کے ڈر کی وجہ سے دھرنا ختم کیا تھا، مجھ پردہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا، میرے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کی دنیا میں خبر پھیل گئی، شہبازگل کوعدالت میں پیش کرنے کے بجائے اسے برہنہ کر کے جنسی تشدد کیا گیا، میں نے کہا شہبازگل پرتشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، کیا قانونی کارروائی کا کہنا دہشت گردی ہے؟ دنیا میں دہشت گردی کا مقدمہ بننے پر مذاق اڑایا گیا، مسٹر ایکس کے بعد اب اسلام آباد میں ’مسٹروائی کو تحریک انصاف کو ڈرانے کے مشن پر بھیجا گیا ہے، مسٹروائی غور سے سن لو ہم ایک پُر امن سیاسی جماعت ہیں، ایک طرف کہتے ہیں سیلاب میں سب کواکٹھا ہونا چاہیے، چاروں صوبوں کواکٹھا رکھنے والی جماعت کے خلاف سازش اس ملک سے بھی غداری ہے، یہ ملک کی جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازش ہے، جتنا میرے اندرسٹیمنا پوری جدوجہد کرونگا۔ ایک ہم نے سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کرنی ہے،دوسرا سب حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار ہو جائیں کپتان سب سے آگے ہوگا۔

  • مفتاح اسماعیل ناکامی کا سارا ملبہ ہم پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ،اسد عمر

    مفتاح اسماعیل ناکامی کا سارا ملبہ ہم پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ،اسد عمر

    رہنما پاکستان تحریک انصاف اور سابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل کی ناکامی کی مشہوری تو نواز شریف بیان کر رہے ہیں،مفتاح اسماعیل ناکامی کا سارا ملبہ ہم پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی: کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نااہل ہے، ساڑھے چار ماہ ہو گئے ابھی تک ان سے آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہو رہا مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں پی ٹی آئی کی وجہ سے آئی ایم ایف سےمعاہدہ نہیں ہوپارہا مفتاح اسماعیل ناکامی کا سارا ملبہ ہم پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں مفتاح اسماعیل کی ناکامی کی مشہوری تو نواز شریف بیان کر رہے ہیں۔

    عمران خان نے صرف اپنی پبلسٹی کے لیے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دورے کی خبریں چلوائیں،زاہد خان

    وزیر خزانہ خیبر پختونخوا سے متعلق سوال پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ تیمور جھگڑا نے خط میں 24 گھنٹے میں اپنی مدد کا اظہار کیا، خط میں کہا گیا کہ ہم وفاق کی مدد کے لیے تیار ہیں، 2 ماہ میں انھوں نے صوبائی حکومت سے ملاقات تک نہیں کی تیمور جھگڑا صوبے کا حق مانگ رہے ہیں، حکومت کی جانب سےاپنی ناکامی کا ملبہ تیمورجھگڑا پر ڈالنے کی کوشش کی گئی خبردار اگرکسی نےان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ڈنڈے سے ملک کو چلائیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے جن دعوؤں پر آپ نے حرام کے پیسے سے حکومت گرائی اس میں ناکام ہوئےجو بھی ہو رہا ہےوہ آپ کی ناکامی کی وجہ سے ہو رہا ہےآپ نااہل ہیں اور آپ نے عوام کی زندگی مشکل نہیں مشکل تر بنا دی ہے ہم نے بہت بہتر پوزیشن میں آئی ایم ایف سے بات چیت کی تھی اور ہم ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کررہے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف جگہوں سے عمران خان سے فنڈز ریزنگ کی اپیل کی گئی۔ پی ٹی آئی فنڈریزنگ سے متعلق محرکات کو دیکھ کر مشاورت کرے گی اوراعلان کیاجائےگا متاثرین کی مدد کرنا ہم سب کا فرض ہےاور میری اپیل ہے صوبائی حکومتیں بھرپور کردار ادا کریں۔سب کو ہدایات ہیں کہ سب نے بھرپور مدد کرنی ہے، انسانی آفت ایسی چیز ہے جس پر سیاست نہیں بنتی۔

    ان کا کہنا ہے کہ سیلاب کی صورتحال بہت خراب ہے، قوم کی اچھی بات یہ ہے کہ مشکل وقت میں اکٹھا ہوجاتی ہے۔عمران خان کی پارٹی کو ہدایت ہے کہ اپنے علاقوں میں اور دیگر مقامات پر متاثرین کی مدد کرنی ہے سیلاب متاثرین کی جس قدر مدد ہوسکے کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے غیرقانونی نوٹس کے خلاف درخواست دائر کی ہے پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن کے جو فیصلے آرہے ہیں اس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرتا رہے اور ہم مانتے رہیں تو ایسا نہیں ہوگا۔آئین واضح ہے الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے۔سپر یم کورٹ یا ہائیکورٹ آرٹیکل 204 کے تحت کارروائی کرسکتی ہے۔

    پی ٹی آئی چاہتی ہے عمران خان کی حکومت نہ ہو تو سب کچھ داؤ پر لگا دو،مفتاح اسماعیل

  • پاکستان کی شرح نمو 3.5 فیصد رہے گی. آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت سست روی کا شکار ہے لہٰذا عالمی ادارے کا اندازہ ہے کہ شرح نمو 3.5 فیصد رہے گی۔

    روپے کی قدر میں کمی اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں سے کمزور معاشی حالات اور رواں مالی سال کے آخر تک مہنگائی کی 20 فیصدشرح اس سست روی کی وجہ ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے ساتویں جائزے کی تکمیل کے لیے بات چیت کے دوران عالمی ادارے نے رواں مالی سال کے لیے اپنے تخمینوں پر نظرثانی کی ہے جو اس نے گزشتہ جائزوں کے وقت کی تھی۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاشی ترقی کے گزشتہ سال کے طے شدہ ہدف کو 3.5 فیصد کر دیا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کے ہدف کو بھی 4.5 ارب ڈالر تک کم کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مصروف رہے گی تاہم مہنگائی کی شرح میں ایڈجسٹمنٹ کی جا رہی ہے۔

    نظرثانی شدہ تخمینوں کو 29 اگست کو ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا،اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر قرض کی قسط کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

    رواں ہفتے کی مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا تھا کہ غیر معمولی طور پر شدید اور طویل مون سون بارشوں کے باعث سیلاب نے کپاس اور موسمی فصلوں کے لیے خطرات پیدا کر دیئے ہیں،جس سے رواں سال معاشی ترقی کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں،تاہم مانیٹری پالسی میں پہلے سے طے شدہ 3 سے 4 فیصد کا تخمینہ برقرار رکھا گیا۔

    حکومت نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا ہے۔

    دوسری جانب حکومت پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو بھجوائے گئے لیٹرآف انٹینٹ کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد اور زرعی شعبے کی ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان ہے۔

    لیٹرآف انٹینٹ کے مطابق اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات پر 10.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا جس کے بعد پٹرولیم قیمت میں 20 روپے تک اضافے کا امکان ہے۔ ٹیکس اہداف میں کمی ہوئی تو زرعی شعبے کی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائیں گی جبکہ آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ زرعی ادویات، کھاد اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔

    زرعی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے 150 ارب روپے کا ریونیو مل سکے گا۔ٹیئر1 اور ٹیئر 2 کے سگریٹس پر بھی مزید اضافی ٹیکسز لگا دیے جائیں گے، شوگر ڈرنکس پر ٹیکسز عائد کر کے 60 ارب روپے تک کا ریونیو لیے جانے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں اہداف حاصل نہ ہوئے تو اکتوبر سے اقدامات ہوں گے۔

  • پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

    واشنگٹن: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت ساتویں اور آٹھویں جائزے کے معاملات طے پا گئے ہیں تاہم آئی ایم ایف بورڈ معاہدے کی حتمی منظوری دے گا۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام نے پاکستان کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے مشترکہ 7ویں اور 8ویں جائزے کو مکمل کرنے کے لیے پالیسیوں پر عملے کی سطح پر معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

    بلند بین الاقوامی قیمتیں، اور تاخیری پالیسی کارروائی نے مالی سال 22 میں پاکستان کی مالی اور بیرونی پوزیشن کو خراب کیا، شرح مبادلہ میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اور غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہوئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوری ترجیح مالی سال 23 کے لیے حال ہی میں منظور کیے گئے بجٹ کے مستقل نفاذ، مارکیٹ سے طے شدہ شرح مبادلہ کی مسلسل پابندی، اور ایک فعال اور محتاط مالیاتی پالیسی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کے لیے سماجی تحفظ کو بڑھانا، اور ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) اور گورننس کی کارکردگی کو بہتر بنانے سمیت ساختی اصلاحات کو تیز کرنا ضروری ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی مہنگائی اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، زائد طلب کے سبب معیشت اتنی تیز تر ہوئی کہ بیرونی ادائیگیوں میں بڑا خسارہ ہوا۔

    عالمی مالیاتی فنڈ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 1 ارب 17 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے تاہم پاکستان کو حالیہ بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا، صوبوں نے بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کیلیے یقین دہانی کرائی ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیمیں شرح سود سے منسلک رہیں گی۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق بورڈ کی منظوری سے مشروط، تقریباً 1,177 ملین ڈالر (SDR 894 ملین) دستیاب ہوں گے، جس سے پروگرام کے تحت کل ادائیگی تقریباً 4.2 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ مزید برآں، پروگرام کے نفاذ میں مدد کرنے اور مالی سال 23 میں اعلیٰ فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی فنانسنگ کو متحرک کرنے کے لیے-

    آئی ایم ایف بورڈ جون 2023 کے آخر تک EFF کی توسیع اور SDR 720 ملین تک رسائی میں اضافے پر غور کرے گا۔ EFF کے تحت کل رسائی کو تقریباً 7 بلین امریکی ڈالر تک لے آئیں۔

    پاکستان ایک مشکل معاشی موڑ پر ہے۔ ایک مشکل بیرونی ماحول جو کہ گھریلو پالیسیوں کے ساتھ مل کر گھریلو مانگ کو غیر پائیدار سطح تک پہنچاتا ہے۔ نتیجتاً معاشی حد سے زیادہ گرمی نے مالی سال 22 میں بڑے مالی اور بیرونی خسارے کو جنم دیا، افراط زر میں اضافہ ہوا، اور ریزرو بفرز کو ختم کیا۔

    "معیشت کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے مطابق پالیسی اقدامات لانے کے لیے، کمزوروں کی حفاظت کرتے ہوئے، پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہیں:

    مالی سال 2023 کے بجٹ کا مستقل نفاذ۔ بجٹ کا مقصد جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے بنیادی سرپلس کو ہدف بنا کر حکومت کی بڑی قرض لینے کی ضروریات کو کم کرنا ہے، جو کہ موجودہ اخراجات پر پابندی اور وسیع ریونیو کو متحرک کرنے کی کوششوں کے ذریعے خاص طور پر زیادہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کا تحفظ کیا جائے گا، اور سماجی معاونت کی اسکیموں کو وسعت دینے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جائے گی۔ صوبوں نے مالی اہداف تک پہنچنے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور اس سلسلے میں ہر صوبائی حکومت نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    پاور سیکٹر میں اصلاحات میں تیزی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے کمزور نفاذ کی وجہ سے، مالی سال 22 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے (CD) کا بہاؤ نمایاں طور پر بڑھ کر تقریباً 850 بلین پی آرز تک پہنچنے کی امید ہے، پروگرام کے اہداف کو اوور شوٹنگ، پاور سیکٹر کی عملداری کو خطرہ، اور بار بار بجلی کی بندش کا باعث بنتا ہے۔

    پاور سیکٹر کی صورتحال کو بہتر بنانے اور لوڈ شیڈنگ کو محدود کرنے کے لیے حکام اصلاحات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جن میں تنقیدی طور پر، بجلی کے نرخوں کی بروقت ایڈجسٹمنٹ بشمول تاخیر سے ہونے والی سالانہ ری بیسنگ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

    مہنگائی کو مزید معتدل سطح تک لے جانے کے لیے فعال مانیٹری پالیسی۔ جون میں ہیڈ لائن افراط زر 20 فیصد سے تجاوز کر گئی، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو نقصان پہنچا۔ اس سلسلے میں، مانیٹری پالیسی میں حالیہ اضافہ ضروری اور مناسب تھا، اور مانیٹری پالیسی کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہوگی کہ افراط زر کو 5-7 فیصد کے درمیانی مدتی مقصد تک مسلسل نیچے لایا جائے۔

    اہم بات یہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کی ترسیل کو بڑھانے کے لیے، دو بڑی ری فنانسنگ اسکیموں EFS اور LTFF (جن میں حالیہ مہینوں میں بالترتیب 700 bps اور 500 bps کا اضافہ کیا گیا ہے) کی شرحیں پالیسی کی شرح سے منسلک رہیں گی۔ زر مبادلہ کی شرح میں زیادہ لچکدار سرگرمی کو بڑھانے اور ذخائر کو مزید محتاط سطح تک دوبارہ بنانے میں مدد کرے گی۔

    غربت کو کم کرنا اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرنا۔ FY22 کے دوران، غیر مشروط کیش ٹرانسفر (UCT) کفالت سکیم تقریباً 80 لاکھ گھرانوں تک پہنچ گئی، وظیفہ میں مستقل اضافہ کے ساتھ PRs 14,000 فی خاندان، جب کہ PRs 2,000 (Sasta Fuel Sasta Diesel, SFSD) کی ایک بار کیش ٹرانسفر کے ساتھ۔ تقریباً 8.6 ملین خاندانوں کو دی گئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے۔ FY23 کے لیے، حکام نے BISP کے لیے 364 بلین PRs مختص کیے ہیں (FY22 میں PRs 250 سے زیادہ) تاکہ 9 ملین خاندانوں کو BISP حفاظتی جال میں لایا جا سکے، اور SFSD سکیم کو اضافی غیر BISP، نچلے متوسط ​​طبقے تک بڑھایا جا سکے۔

    فائدہ اٹھانے والے گورننس کو مضبوط کریں۔ گورننس کو بہتر بنانے اور بدعنوانی کو کم کرنے کے لیے، حکام ایک مضبوط الیکٹرانک اثاثہ جات کے اعلان کا نظام قائم کر رہے ہیں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں (بشمول قومی احتساب بیورو) کا ایک جامع جائزہ لینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی میں ان کی تاثیر کو بڑھایا جا سکے۔

    "مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے لیے SLA کو بنیاد بناتے ہوئے، بیان کردہ پالیسیوں کا مستقل نفاذ، پائیدار اور زیادہ جامع ترقی کے لیے حالات پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ اس کے باوجود حکام کو عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پروگرام کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ضروری اضافی اقدامات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    "آئی ایم ایف کی ٹیم مذاکرات کے دوران نتیجہ خیز بات چیت اور تعاون پر پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔”

    دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ ہوجانے کا اعلان کیا ہے-

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جلد مل جائیں گے جبکہ معاہدے میں مدد اور کوششوں پر وزیر اعظم، ساتھی وزرا، سیکرٹریز اور وزارت خزانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں پاکستان کو بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا جبکہ پاکستان کو طلب اور رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ بھی برقرار رکھنا ہو گا۔

  • آئی ایم ایف ہماری ناک سے لکیریں نکلوا چکا ہے،وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    آئی ایم ایف ہماری ناک سے لکیریں نکلوا چکا ہے،وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    فیصل آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کی وہ شرائط بھی مان لیں جن کی مخالفت کرتے رہے،عمران نیازی نے ملکی معیشت اور اداروں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی حوالے سے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے عمران نیازی نے ملکی معیشت اور اداروں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔

    ملک میں سری لنکا والی صورتحال نہ ہونیکی وجہ عمران خان کی مدبرانہ سیاست ہے: فوادچوہدری

    رانا ثنا اللہ نےکہا کہ عمران خان سب سے بڑا فسادی اور فتنہ ثابت ہوا ہے جبکہ یہ اسلام آباد کو آگ لگانا چاہتا تھا جسے ہم نے ناکام بنایا دہشت گردی کے واقعات کو بہت جلد ختم کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) ہماری ناک سے لکیریں نکلوا چکا ہے اور ماہر معاشیات کے مطابق کیئر ٹیکر حکومت بھی پاکستان کو مستحکم نہ رکھ سکے گی نواز شریف نے بھی الیکشن کا ہی مشورہ دیا ہے۔

    سلمان رفیق اور ایاز صادق نے وزارتوں سے استعفے دے دیئے

    وزیر داخلہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن عوامی مسائل حل کرنے کی سوجھ بوجھ رکھتی ہے اور ہم نے آئی ایم ایف کی وہ شرائط بھی مان لیں جن کی مخالفت کرتے رہے، پاکستان کو اگر کمزور کر دیا گیا تو اس کے اثرات برے ہوں گے اس لیے پاکستان کا معاشی طور پر بہتر ہونا ضروری ہے۔

    پی آئی اے عملے نے فرض شناسی کی مثال قائم کردی

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل آیاہے تو دوسری جانب وزیر خزانہ نے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کس کے حکم پر کیا انہوں نے بھی بتا دیا ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے روس سے سستا تیل نہیں خریدا، امپورٹڈ حکومت عوام پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہی ہے حکومت خود کو 11سوارب روپے کا این آر او دے رہی ہے،پیٹرول کی قیمت میں 99 روپے،ڈیزل کی قیمت میں 133 روپے کا اضافہ کیا گیا عوام کل ہمارے احتجاج میں شامل ہوں

    سابق وزیرخزانہ سینٹرشوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف موجودہ حکومت سے پیشگی اقدامات چاہتا ہے آئی ایم ایف پھر اس کو اپنے بورڈ میں لے جانے پرغور کرے گا،855 ارب پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی،11فیصد سیلز ٹیکس کی شرائط ہیں یہ لوگ پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے اوپر کر سکتے ہیں بجلی کی قیمتوں میں فوری اضافے کی شرط ہے صوبوں سے 800 ارب روپے کے صوبائی سرپلس پر دستخط کئے گئے، صوبوں نے صرف 80 ارب روپے دکھائے

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ،سابق وفاقی وزیرشیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پیٹرول میں15روپے اور ڈیزل میں14 روپے اضافہ کر دیا گیا،جولائی میں مہنگائی کے اور ٹیکے لگیں گے لوگ گھریلو سامان بیچ کر گزارہ کررہے ہیں ابھی بجلی کا بل بھی آنا ہےعوام کو ریلیف نہیں تکلیف ملے گی،ووٹ بیچنے والے کو عہدے اور پارٹی ٹکٹ مل رہے ہیں عنقریب حکومت کا سیاسی جنازہ دھوم سے نکلے گا،

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کرنے ٹی وی پر نہیں جانا تھا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کااعلان ایک اور ساتھی نے کرنا تھا وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ مجھے اور مصدق ملک کو ایسا کرنا چاہیے

    واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ شب کیا ہے، پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد مہنگائی کی لہر آنے کا امکان ہے،پیٹرول کی قیمت میں 14روپے 85 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 23 یسے کا  اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہوگئی ہے

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    لوٹ مار کا نیا طریقہ، گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی بھر دیا گیا

  • آٓئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بہت جلد ملیں گے لیکن بوجھ عوام کو ہی اٹھانا ہوگا. وزیراعظم

    آٓئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بہت جلد ملیں گے لیکن بوجھ عوام کو ہی اٹھانا ہوگا. وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے بہت جلد1.9 ارب ڈالر ملیں گے لیکن بوجھ عوام کو ہی اٹھانا ہوگا کیونکہ ہماریاصل منزل خودانحصاری ہے.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں میں نا صرف تاخیر کی بلکہ گیس کے سستے اور طویل مدتی معاہدے نہ کرنے کے باعث ملک کو نقصان پہنچایا ہے. لہزا ہم سپر ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہونے دینگے.

    انہوں نے دعوی کیا کہ زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے کسانوں کو سہولیات فراہم کریں گے اور سرخ فیتے ، پرمٹ، این او سی، دفاتر اور سفارش کا چکر اب ختم ہونا چاہیے.
    اس کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے سالانہ دو ارب ڈالر کی بچت ہوگی اور اس کوئلے سے بجلی کے پلانٹس چلائے جائینگے.

    ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کا چیلنج سب نے ملکر ققبول کیا ہے، اس ذمہ داری کو ہم نبھائیں گے،خودانحصاری ہی کسی قوم کی سیاسی اور معاشی آزادی کی ضمانت ہوتی ہے اس کے بغیر کوئی قوم آزادنہ فیصلے نہیں کرسکتی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ: پاکستان میں وسائل اور باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے، تجارت، معیشت، سیاست ، سفارتکاری اور صحافت تمام شعبوں میں قابل افراد موجود ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ریکوڈک میں ارب ڈالر کا خزانہ دفن ہے لیکن ابھی تک ہم نے اس سے ایک پائی نہیں کمائی الٹا مقدموں پر اربوں روپے ضائع کر دیئے گئے۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے باعث یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا ایم ای ایف پی، معاشی نظم و ضبط ضروری ہے، یکم جولائی سے مزید معاشی مشکلات ہوسکتی ہیں، یکم جولائی سے مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، میمورینڈم آف اکنامکس اینڈ فنانشنل پالیسیز معاشی نظم و ضبط لازم قرار دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایم ای ایف پی پر بات چیت جاری ہے، یکم جولائی سے پٹرول پر5 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ 10 روپے لیوی عائد ہو سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے بجلی مزید مہنگی ہوسکتی ہے، توانائی کے نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف ملا ہے، سرکاری اداروں میں نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف بھی ملا ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ مزید کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کیلئے دو ارب ڈالر کی دو قسطیں جاری کرنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کے رواں ہفتے پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ میں بتایا کہ ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزہ کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسی فریم پروگرام کی کاپی موصول ہوگئی ہے۔

  • بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے ڈیل ہو گئی ہے یہ بڑی اچھی بات ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہونے کا مطلب آئی ایم ایف کے ساتھ چین، سعودی عرب، یو اے ای کی جو ایڈ تھی وہ اس کے ساتھ مشروط تھی، اب آئی ایم ایف کے بعد ان ممالک سے بھی ایڈ آئے گی، چین، سعودی عرب، یو اے ای سے، اب قطر سے بھی گیس پر بات کر رہےہیں، یہ بہت اچھی خبر ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ زندگی میں کوئی بھی ملک سبسڈیز نہیں دیتا، یہاں پر یہ دیکھ لیں کہ پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا، لیکن سڑکوں پر رش کم نہیں ہوا، اسی طرح گاڑیاں چل رہی ہیں، سب کچھ ہو رہا ہے، میں حکومت کو کہتا ہوں کہ سبسڈیز دے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ والوں کو دے، گاڑیوں والوں کو سبسڈیز نہیں ملنی چاہئے، انکو ڈبل چارج کر کے اپنا ریونیو جمع کر سکتے ہیں اور نیچے کے لوگوں کو مزید بھی سبسڈی دے سکتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ٹرانسپورٹ سسٹم ہے ہی نہیں، شہباز شریف جب لندن میں آخری تھے تو وہاں ٹیکسی پر سفر کی ویڈیو سامنے آئی تھی، مین بھی جب لندن ہوتا ہوں تو وہاں دیکھتے ہیں لمبا سفر ہو تو کیوب پر چلے جائیں، صاف ستھرا سفر، سب اس میں سفر کرتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کو اچھا کرنا ہو گا، حکومت پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ بنائے اور اس پر کام کرے،اگر حکومت خود سے شروع کرنے کا سوچے گی تو نہیں ہو سکتا میں بہت لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی گاڑی کی بجائے اوبر کریم پر سفر کرتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی مصنوعات عمران خان پہن رہے ہیں، اسکا بائیکاٹ کریں، امریکہ مردہ باد کا نعرہ کیوں نہیں لگاتے، لگائیں ،تھوڑے دن میں اس پر یوٹرن نظر آئے گا، کیونکہ عمران خان نے کوئی ایسی بات آج تک نہیں کی جس کی تردید خود سے نہ کی ہو.صدر عارف علوی نے جو قوانین واپس کئے وہ ترامیم 2019 میں تحریک انصاف خود لے کر آئی تھی، ن لیگ نے تو کچھ کیا ہی نہیں، انکے پاس مخالفت برائے مخالفت ہے، لوگوں کو بھڑکا کر رکھنا ہے، 2019 کی نیب ترامیم اٹھا لیں جو پارلیمنٹ میں پیش ہوئیں، وہ خود تحریک انصاف نے پیش کیں

  • سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں

    سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں

    کولمبو:آئی ایم ایف ہی مشکل میں کام آتی ہے ، کوئی کسی کے ساتھ اس طرح معاشی تعاون نہیں کرتا جس طرح آئی ایم ایف کرتی ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ دیوالیہ ہونے کے بعد سری لنکا نے تیل کی درآمدات پر ادائیگیوں کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے امیدیں جوڑ لیں۔

    سری لنکامیں مزید حالات ابترپاورسیکٹریونین کی طرف سےہڑتال کی دھمکی:ہرطرف اندھیرے…

    سری لنکا میں معاشی بحران سنگین شدت اختیار کرگیا ہے اور سری لنکن وزیراعظم نے آنے والے دنوں میں غذائی قلت کی بھی گھنٹی بجا دی ہے۔سری لنکن وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں آئندہ آنے والے مہینوں میں تقریباً 50 لاکھ افراد غذائی قلت کا براہ راست شکار ہوسکتے ہیں۔دوسری جانب سری لنکا میں ایندھن کی شدید قلت کے باعث سرکاری ملازمین کو 2 ہفتے گھر سے کام کرنے کا حکم جاری کردیاگیا ہے۔

    اگر اسی طرح چلتا رہا تو ملک سری لنکا کی طرف جائے گا، عمران خان

    خبرایجنسی کے مطابق سری لنکا کی وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن نے پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی اور نجی گاڑیوں کوپیٹرول نہ ملنے کے باعث صرف ضروری عملے کو دفاتربلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے قبل سری لنکا میں سرکاری ملازمین کے ہفتے میں 4 دن کام کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

    ایندھن کا بحران:سری لنکا میں اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند

    سری لنکا میں اسکول بھی دو ہفتے کیلئے بند کردیے گئے ہیں اور وزارت تعلیم نے آن لائن کلاسز بجلی کی فراہمی سے مشروط کردی ہیں۔ وزارت تعلیم نے اساتذہ اورطلبہ کو بجلی کی فراہمی پر آن لائن کلاسز کو یقینی بنانے کیلئے کہا ہے۔سری لنکا میں تیل کی درآمدات پرادائیگیاں نہ ہونے کے باعث ایندھن کاسنگین بحران ہے اور بیل آؤٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت کررہا ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد پیر کو کولمبو جا کر قرض دینے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔