Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • ایران اور عمان آبنائےے گزرنے والے تجارتی جہازوں سےٹیکس وصول کریں گے،ایسوسی ایٹڈ پریس

    ایران اور عمان آبنائےے گزرنے والے تجارتی جہازوں سےٹیکس وصول کریں گے،ایسوسی ایٹڈ پریس

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے دوران ایک اہم اور نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ منگل کے روز اِس منصوبے پر بات چیت کی گئی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے اور فیس عائد کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے۔

    ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران اس رقم کو تعمیرِ نو کے کاموں میں استعمال کرے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عمان اپنی حاصل کردہ رقم کس مقصد کے لیے خرچ کرے گا۔

    آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سمندری حدود میں واقع ہے، لیکن اب تک دنیا اسے ایک بین الاقوامی آبی راستہ سمجھتی آئی ہے جہاں سے گزرنے کے لیے کبھی کوئی فیس ادا نہیں کی گئی ایران اب یہ چاہتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے حصے کے طور پر اسے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

    ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیس جہاز کی قسم، اس پر لدے سامان اور دیگر حالات کو دیکھ کر مقرر کی جائے گی ،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ،ہم عمان کے ساتھ مل کر ایک ایسا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں جس کے تحت جہازوں کو یہاں سے گزرنے کے لیے اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرنے ہوں گے تاکہ اس راستے سے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا سکے۔

    عالمی سطح پر اس تجویز کو شدید تنقید اور تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ جدید تاریخ میں کبھی بھی کسی قدرتی آبی گزرگاہ پر اس طرح یکطرفہ طور پر فیس لاگو نہیں کی گئی،بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی قدرتی آبنائے کے ساحلی ممالک وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے صرف مخصوص خدمات جیسے کہ رہنمائی یا ٹگ بوٹ کی فیس لے سکتے ہیں، لیکن محض گزرنے کا ٹیکس نہیں لگا سکتے اس کے برعکس نہر سوئز یا نہر پانامہ جیسے راستے انسانوں نے خود کھود کر بنائے ہیں، اس لیے وہاں فیس وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس فیصلے پر اصرار کرتا ہے تو عالمی برادری کے لیے اسے روکنا مشکل ہوگا کیونکہ ایران کے پہاڑی ساحلوں پر موجود مضبوط فوجی پوزیشنز اسے یہ طاقت دیتی ہیں کہ وہ دور تک جہازوں کو نشانہ بنا سکے۔

  • آبنائے  ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے امریکا ٹیکس وصول کرے گا،ٹرمپ

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے امریکا ٹیکس وصول کرے گا،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اب امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے خود ٹیکس وصول کر سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کی جانب سے جہازوں سے وصول کیے جانے والے ٹیکس کے باوجود جنگ ختم کر دیں گے، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیوں نہ ہم خود یہ ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیں؟ایران عسکری طور پر شکست کھا چکا ہے اور چونکہ امریکا اس جنگ میں فاتح بن کر ابھرا ہے، اس لیے اس راستے پر کنٹرول اور وہاں سے ہونے والی آمدنی پر بھی ہمارا حق ہونا چاہیے۔

    صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران اب صرف نفسیاتی حربے استعمال کر رہا ہے اور سمندر میں چند بارودی سرنگیں بچھا کر ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ہار چکا ہے کسی بھی امن معاہدے کی پہلی شرط یہ ہوگی کہ تیل کی ترسیل کے لیے سمندری راستہ مکمل طور پر آزاد اور محفوظ ہو۔

    واضح رہے کہ ایران نے حال ہی میں ایک ایسا نظام اپنایا ہے جس کے تحت وہ چند مخصوص جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے بدلے ان سے بھاری رقم وصول کرتا ہے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو یہ فائدہ اٹھانے دینے کے بجائے خود یہ نظام سنبھالنا پسند کریں گے۔

    اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا اس ٹیکس کی وصولی کا آغاز کب اور کیسے کرے گا، لیکن اس بیان نے عالمی منڈیوں اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج  30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 35 ممالک کے ساتھ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت کریں گے۔

    دنیا کے تقریباً 35 ممالک جمعرات کے روز ایک اہم ورچوئل اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے باعث بند ہونے والی اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔

    امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ یہ اجلاس برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی سربراہی میں منعقد ہوگا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح مؤثر سفارتی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی بحال کی جا سکتی ہے، پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور ضروری اشیاء کی ترسیل کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے –

    اسٹارمر نے کہا کہ گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا آسان نہیں ہوگا، لیکن تمام ممکنہ سفارتی اور سیاسی اقدامات پر غور کیا جائے گا تاکہ جہازوں اور عملے کی حفاظت کے ساتھ اہم اشیا کی ترسیل دوبارہ شروع کی جا سکے وہ اجلاس میں شامل ممالک جو پہلے ہی محفوظ راستے کے لیے تعاون کرنے پر تیار ہیں، اس ہفتے کی بات چیت میں حصہ لیں گے اجلاس کے بعد برطانیہ اپنے عسکری منصوبہ سازوں کے ساتھ بھی حکمت عملی تیار کرے گا تاکہ ہرمز کی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔

    عالمی رہنما ایران کی جانب سے اس سمندری راستے کے بند ہونے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، کیونکہ یہاں سے دنیا کے پانچویں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہےاس بندش کے بعد عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کئی ممالک نے اپنی اسٹراٹیجک تیل اور گیس کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بحران کم کیا جا سکے۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    فرانس کے نیول چیف ایڈمرل نکولس ووجور نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بحال کرنے کے موجودہ اقدامات ناکافی ہیں، اس معاملے پر چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز پیرس میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی نیول چیف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے چین کو کردار ادا کرنا پڑے گا، اب تک چین کی بحریہ کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عملی اقدام کرتے نہیں دیکھا گیا، چینی اور ایرانی حکام کے درمیان جہازوں کی محدود آمد و رفت کے حوالے سے سیاسی سطح پر رابطے جاری ہیں تاہم یہ اقدامات معمول کی بحر ی ٹریفک بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے، اسی لیے چین کو اس معاملے میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے اپنی بے چینی ظاہر کرنا ہوگی۔

    ایڈمرل ووجور کے مطابق فرانس اس معاملے پر دیگر ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سیاسی سطح پر یہ طے کیا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کو مستقل بنیادوں پر کن شرائط کے تحت دوبارہ کھولا جا سکتا ہے ،طے ہوجانے کے بعد شرائط طے ہوجانے کے بعد اس عمل کی نگرانی کے لیے فوجی کردار بھی ضروری ہوگا، جس کے لیے ماضی میں یورپی یونین کے تحت چلنے والے ’ایجینور مشن‘ جیسے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ماہرین آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائے کے حوالے سے بھی جائزہ لے رہے ہیں، جنہیں ہٹانا ضروری ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی، یہ معاملہ صرف فرانس کا نہیں بلکہ خلیجی ممالک، امریکا اور دیگر یورپی ممالک سمیت تمام شراکت داروں کے لیے اہم ہے اور اس پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

  • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو ووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پوسٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کا یہ اقدام خوش آئند اور تعمیری ہے، اس کی تعریف ہونی چاہیے،یہ پیشرفت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ہے، یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرےگا، مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنےکا واحد راستہ ہے۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے-

  • پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ روزانہ 2 پاکستانی جہاز اس اہم بحری راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کی سپلائی بھی مستحکم ہوگی۔

    اس پیش رفت کو موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔

    trumptrump

    ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کرنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہےاس اقدام سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    امریکی صدر اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ بھی شیئر کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا اس تسلسل کو ماہرین پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے۔

    ادھر حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی ، موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق، پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جائے گی ایرانی پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ ایران اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے، اس لیے دیگر عالمی تجارتی راہداریوں کی طرح یہاں بھی فیس لینا ایک ”فطری عمل“ ہے ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنا ئے ہرمز پر اس کے اختیار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور یہ مطالبہ اس کی جنگ بندی کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

    دوسری جانب اس پیش رفت کے عالمی معیشت پر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے ماہر معاشیات ولیم لی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنا ایک ”نفسیاتی چال“ ہے تاکہ مارکیٹ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ تیل کی سپلائی برقرار رہے گی۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ خلیج کے علاقے سے روزانہ 10 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے وہ کسی حد تک محفوظ ہے، لیکن عالمی منڈی میں خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا آسان نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔ ولیم لی کے مطابق اصل مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے، اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر بڑی معیشتیں بھی کردار ادا کریں، خاص طور پر چین، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں تاہم اب تک چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کرنے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے۔

  • آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر  ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کو حملے کی دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے سخت ردعمل دیا ہے-

    ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈ ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیا نے سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جو ابھی بند تو نہیں اگر امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا تو اس کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک تباہ شدہ تنصیبات دوبارہ بحال نہیں ہو جاتیں۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے پاور پلانٹس بلکہ توانائی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنائے گا اس کے علاوہ ان علاقائی ممالک کے پاور پلانٹس پر بھی حملوں کا عندیہ دیا گیا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں یا امریکی کمپنیوں کی شراکت داری ہے ایرانی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جائیں گے جب کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

    ایرانی فورسز نے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انتباہات کے باوجود اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی حالیہ دنوں میں ایران نے کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے جب کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو روکنے کا عندیہ دیا ہے، جنہیں وہ اپنے خلاف کارروائی میں شامل قرار دیتا ہے ایران کی پارلیمنٹ بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جب کہ اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ سمندری آمد و رفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً مفلوج ہو چکی ہے تجزیاتی ادارے کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد رہ گئی ہے

  • آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔

    عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گاخطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

  • ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران نے جاپان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دے دیا-

    جاپان ، نیدرلینڈز، اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں اور آبنائے کی مؤثر بندش کی مذمت کی گئی تھی،اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہےجاپان کے حوالے سے اس بات کا تازہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ پر جزوی یا منتخب ناکہ بندی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہم نے آبنائے کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، یہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جو ہمارے دشمن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی وہ ممالک جو ہم پر حملہ کرتے ہیں، دیگر ممالک کے جہاز آبنائے سے گزر سکتے ہیں،ہم ان ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ محفوظ گزرگاہ کا کوئی طریقہ نکالا جا سکے، ہم انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں صرف ہم سے رابطہ کرنا ہوگا تاکہ اس راستے کے بار ے میں بات چیت کی جا سکے۔

    شاہد آفریدی کا پاک فوج کے شہداء کو خراج عقیدت

    واضح رہے کہ جاپان اپنی خام تیل کی درآمدات کا 90 فی صد سے زیادہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، تاہم 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے یہ آبی گزرگاہ عملی طور پر بند رہی ہے۔

    عمران خان کی ان کے بچوں سے بات کرادی گئی