Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 36 گھنٹوں کے اندر ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ’سینٹرل کمانڈ‘ نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بحری راستوں سے ایران آنے اور جانے والی تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے آبنائے ہرمز سے یہ پابندی صرف ایران کے لیے ہے، دیگر بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور جہاز رانی کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز اس رکاوٹ کو عبور نہیں کر سکا جبکہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس مڑ کر خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ کا رخ کیا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت جاری ہے پریس ٹی وی کے مطابق امریکی دھمکی کے باوجود کم از کم چار جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں پر آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کیا، جن میں سے دو جہاز باقاعدہ طور پر اس اہم گزرگاہ کو عبور کر گئے۔

    ایرانی میڈیا نے میرین ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والا بحری جہاز ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی پر 74 ہزار ٹن مکئی اتارنے کے بعد 13 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ جہاز نے آبنائے میں ایرانی جزیرے لارک کے قریب کا راستہ اختیار کیا،اسی طرح کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا اور بعد ازاں آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ یہ جہاز 31 ہزار ٹن میتھانول لے کر 31 مارچ کو ایرانی بندرگاہ بوشہر سے روانہ ہوا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق چین کا ایک ٹینکر ’رچ اسٹاری‘ بھی رات کے وقت لارک جزیرے کے جنوب میں ایران کے منظور شدہ روٹ سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گیا بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جہازوں کے سگنلز میں خلل اور ممکنہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث در ست ٹریکنگ مشکل ہو گئی ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، جب کہ ایرانی فوجی قیادت نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر حملے کی صورت میں پورے خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود چینی بحری ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود چینی بحری ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب

    آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایک چینی بحری ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کا شکار ایک چینی بحری ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہےبحری آمد و رفت پر نظر رکھنے والے اداروں ’میرین ٹریفک‘ اور ’ایل ایس ای جی‘ کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ’رچ اسٹاری‘ نامی یہ ٹینکر امریکی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد خلیج سے باہر نکلنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔

    اس ٹینکر اور اس کی مالک کمپنی ’شنگھائی شوان رن شپنگ‘ پر امریکا نے پہلے ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی پاداش میں پابندیاں لگا رکھی تھیں،اس بار اس جہاز نے اپنا سفر متحدہ عرب امارات کی حمریہ بندرگاہ سے شروع کیا جہاں سے اس پر سامان لادا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکا نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ وہ اس راستے کو پوری طرح کنٹرول کر رہا ہے، لیکن اس چینی جہاز کے گزر جانے سے اب اس ناکہ بندی کی سختی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک اور امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ’مرلی کشن‘ بھی اسی سمت بڑھ رہا ہے اور آج اس کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا امکان ہے یہ جہاز 16 اپریل کو عراق سے خام تیل لینے والا ہے یہ وہی جہاز ہے جو ماضی میں ’ایم کے اے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور روس و ایران کے تیل کی ترسیل میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

  • کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر کسی کے لیے نہیں، ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا-

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا دفاع ان کا ایک فطری اور قانونی فریضہ ہے، اور اسی بنیاد پر ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا، تاہم دشمن سے وابستہ بحری جہازوں کو اس آبنائے سے گزرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی دیا جائے گا۔

    ایرانی افواج کے مطابق دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایران کے قواعد و ضوابط کے مطابق دی جائے گی دشمن کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے پیش نظر، حتیٰ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی، ایران آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے لیے ایک مستقل اور سخت نظام نافذ کرے گا۔

    مسلح افواج نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی عمل ہے اور یہ سمندری قزاقی کے مترادف ہے اگر ایران کی بندرگاہوں اور سمندری سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی خطے میں بحری راستوں کی حفاظت ایران کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور جو جہاز ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔

  • آبنائے ہرمز میں  پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے آمنے سامنے آںے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں کو سخت فوجی وارننگ دے کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے گزر گئے۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کی جانب سے نشر کی گئی فوٹیج میں مبینہ طور پر ایرانی بحریہ اور امریکی نیوی کے درمیان ریڈیو پر ہونے والی گفتگو دکھائی گئی ہے اس ویڈیو اور آڈیو میں سمندر میں کشیدہ ماحول کی عکاسی کی گئی، جس میں ایرانی فورسز کی جانب سے بار بار دی گئی وارننگ کو دکھایا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نیوی نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک امریکی میزائل ڈسٹرائر کو فوری طور پر راستہ بدلنے اور بحر ہند کی جانب واپس جانے کا حکم دیا آڈیو میں ایک ایرانی اہلکار کو کہتے سنا گیا کہ آپ کو فوراً اپنا راستہ تبدیل کرنا ہوگا، بصورت دیگر آپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران کی جانب سے جاری کردہ آڈیو میں امریکی جہاز کی طرف سے محتاط مگر واضح جواب بھی سنائی دیتا ہے، جس میں کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی کارروائی انجام دے رہا ہے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ وارننگ صرف ایک جہاز تک محدود نہیں تھی بلکہ خلیج عمان میں موجود تمام جہازوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ ایرانی جنگی جہازوں سے کم از کم 10 میل کا فاصلہ رکھیں، بصورت دیگر بغیر کسی مزید اطلاع کے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اس دوران بار بار حتمی وارننگ بھی جاری کی اور کہا کہ اگر احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی پاسدارانِ انقلاب نے بعد ازاں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • برطانیہ  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔

    ایک بیان میں ترجمان برطانوی حکومت نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ہرمز کھلنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ عالمی معیشت پر اور ملک میں مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا ،تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی۔ ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 10 بجے پا کستانی وقت کےمطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج شام 7 بجے سے شروع ہوگی ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمدورفت پر ہوگا ناکہ بندی کا نفاذ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والےجہازوں پربھی ہوگا۔دیگر ملکوں کے پورٹس سے جہازو ں کی آمدورفت کی ناکہ بندی نہیں ہوگی۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے نظا م کے تحت فیس ادا کرنا ہوگی،حکومت قومی مفادات کے تحت اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول اور مؤثر مینجمنٹ قائم کرے گی، جبکہ انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

    دوسری جانب ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال ہو جائے گی،لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، جس سے تیل کی پیداوار میں بتدریج بہتری آنے کی امید ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ نیوی کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا یہ آپریشن آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے-

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر براڈ کوپر نےکہ آج ہم نے ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد ہی اس راستے سے بحری صنعت کو بھی آگاہ کریں گے تاکہ یہاں سے تجارت کی آزادانہ آمد و رفت کو فروغ دیا جا سکے۔

    امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج میں داخل ہو گئے ہیں جو ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے وسیع مشن کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اس آپریشن کا مقصد دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنا ہے جو گزشتہ چھ ہفتوں سے عملی طور پر بند رہی جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں تاریخی خلل پیدا ہوا۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • آج امریکی  بحریہ کے کئی جنگی جہاز  آبنائے  ہرمز  سے گزرے  ہیں،امریکی ویب سائٹ

    آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں،امریکی ویب سائٹ

    امریکی نیوز ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق یہ واقعہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار پیش آیا ہے اور یہ اقدام ایران کے ساتھ کسی قسم کی ہم آہنگی کے بغیرکیا گیا اس کارروائی کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کے لیے اعتماد بڑھانا تھا تاکہ وہ اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ آپریشن بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، اہلکار کے مطابق امریکی بحری جہاز مشرق سے مغرب کی سمت آبنائے ہرمز سے خلیج کی طرف گئے اور پھر واپس اسی راستے سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب کی طرف روانہ ہوئے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز یواے ای کی فجیرہ بندرگاہ سے آبنائے ہرمز روانہ ہوا تھا لیکن ایرانی فورسز کی دھمکی پر امریکی جنگی بحری جہاز واپس لوٹ گیا ایرانی فوج نے اسلام آباد میں وفدکو امریکی جنگی جہاز کی پیش قدمی سے آگاہ کر دیا تھا اور ایران نےثالث کو جنگی جہازکو آگے بڑ ھنے کی صورت میں نشانہ بنانے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی باضابطہ وارننگ موصول نہیں ہوئی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب ہم آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا عمل شروع کر رہے ہیں، ہرمز سے بارودی سرنگوں ہٹانے سے چین، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس اور جرمنی بھی مستفید ہوں گے۔

  • ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے،امریکی میڈیا

    ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے،امریکی میڈیا

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ سمندر بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے میں دشواری آبنائے ہرمز کھولنے میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں-

    نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں،امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں،یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں،امریکی حکام کے بقول بارودی سرنگیں نہ ہٹائے جانے کے باعث ہی تاحال آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدور فت بحال کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔