Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی اسکواڈ فراہم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے یہ راستہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہےاس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بحریہ کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس لیے فی الحال جہازوں کو فوجی حفاظت فراہم کرنا ممکن نہیں،امریکی بحریہ کا یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے مختلف دکھائی دیتا ہے، ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو فوجی محافظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیر کو فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی ٹینکروں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزاریں گے تاہم ابھی تک کسی جہاز کو اسکواڈ نہیں دیا گیا-

    امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ڈین کین نے کہا کہ فوج اس حوالے سے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاہم ایک امریکی اہلکار کے مطابق ابھی تک کسی بھی تجارتی جہاز کو امریکی بحریہ کی طرف سے اسکواڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

    رہنما مسلم لیگ ن نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ

    اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ جہاز اس راستے سے گزرے ہیں، لیکن زیادہ تر جہاز رانی معطل ہے اور سینکڑوں جہاز سمندر میں لنگر انداز ہو کر انتظار کر رہے ہیں دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر رہی تو عالمی تیل منڈی کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا آسان نہیں ایران سمندری بارودی سرنگیں اور کم قیمت حملہ آور ڈرون استعمال کر کے جہاز رانی کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    یورپی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز آن دی مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ کے سربراہ عادل باکوان کے مطابق ’فی الحال امریکا، فرانس یا کوئی بھی عالمی اتحاد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    گزشتہ ہفتے ایران نے مبینہ طور پر بارودی مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی کے ذریعے عراقی پانیوں میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچایا تھا ماہر ین کا کہنا ہے کہ اگر جہازوں کو فوجی اسکواڈ دیا بھی جائے تو تیز رفتار کشتیوں یا ڈرون کے جتھوں کے حملوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔

  • امریکا کا آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکا کا آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی دی ہے، تاہم ایران نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مذاکرات نہیں کرےگا۔

    امریکا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے، یہ کارروائی خطے میں سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی۔ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران کے ساتھ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

    ایران کا اسرائیل کے بن گورین ائیرپورٹ پر حملہ

    امریکی حکام کے مطابق اب تک امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی، ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

    واضح رہے کہ جنگ کے دوران اب تک 1300 سے زیادہ ایرانی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والی 170 بچیاں اور اسٹاف بھی شامل ہیں ایران نے خطے میں موجود امریکی بیسز پر جوابی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پر بھی فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں جس کے بعد اس جنگ کا دائرہ کار خطے میں وسیع ہوگیا ہے۔

    متحدہ میں ایران کے سفیر نے منگل کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملے میں ایرانی سفارت خانے کے چار اہلکار جان سے گئے۔

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ

    ایرانی سفیر نے اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکربٹری جنرل اور سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کے صدور کو ایک ہنگامی خط بھی ارسال کیا ہے۔

    خط میں بتایا گیا کہ 8 مارچ کو اسرائیل نے بیروت کے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایرانی سفارتی عملے کے چار ارکان شہید ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہدا میں سفارت خانے کے سیکنڈ اور تھرڈ سیکرٹری، ملٹری اتاشی اور ملٹری مشن آفیسر شامل ہیں۔

    دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق وسطی بیروت میں واقع رمادا ہوٹل کے ایک اپارٹمنٹ پر ہونے والے اس حملے میں مجموعی طور پر چار افراد جاں بحق جبکہ دس زخمی ہوئے۔

    پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کی گزرگاہ بنے گی، یا پھر جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    پیر کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ایک موقع پر 18 ڈالر 35 سینٹ یا تقریباً 19.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 111.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں قیمت 15 ڈالر 24 سینٹ اضافے کے ساتھ 107.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتی دیکھی گئی اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 16 ڈالر 50 سینٹ یا 18.2 فیصد اضافے کے ساتھ 107.40 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ سیشن کے دوران یہ 111.24 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی تھی، گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کروڈ میں 27 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 35.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ڈی جی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 4 دہشتگرد ہلاک

    رپورٹ کے مطابق عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جب کہ اس سے قبل قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی رہی تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے، اگرچہ یہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ سپلائی چین، تیل کی تنصیبات اور شپنگ کے خطرات بدستور برقرار رہیں گے۔

    ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان

  • ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر دی

    ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر دی

    ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے پیغام جاری کیا ہے کہ آبنائے ہرمزکوبند کردیا ہے اس وقت کسی جہاز کوآبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق دنیا کے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائےہرمز کےراستے سے گزرتا ہے، آبنائے ہرمز صرف 40 کلومیٹر چوڑا ہے آبنائے ہرمز سے سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہےدنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہےاوپیک رکن ممالک عودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق ایشیائی ممالک کو زیادہ تر خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی برآمد کرتے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ کشیدگی:عالمی ہوا بازی اور معشیت مفلوج ،دبئی بند

    قطر، دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس برآمد کنندگان میں سے، اپنی تقریباً تمام ایل این جی آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیجتا ہےاوپیک پلس کے سرفہرست پروڈیوسر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ہنگامی منصوبوں کے تحت حالیہ دنوں میں تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے دوسرے راستے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ سال جون میں کہا تھا کہ موجودہ یو اے ای اور سعودی پائپ لائنوں سے تقریباً 2.6 ملین بیرل یومیہ (بیرل پر ڈے) غیر استعمال شدہ صلاحیت ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے دستیاب ہو سکتی ہےبحرین میں مقیم امریکی پانچویں بحری بیڑے کو علاقے میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کا کام سونپا گیا ہے-

    پاکستان ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی مذمت کرتا ہے، دفترخارجہ

    قبل ازیں جنوری 2012 میں، ایران نے امریکی اور یورپی پابندیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی، مئی 2019 میں، آبنائے ہرمز کے باہر، متحدہ عرب امارات کے ساحل پر، چار جہازوں، جن میں دو سعودی آئل ٹینکرز بھی شامل تھےپر حملہ کیا گیا تین بحری جہاز، دو 2023 میں اور ایک 2024 میں، ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب یا اس میں قبضے میں لیا تھا کچھ قبضے ایران سے متعلق امریکی ٹینکرز کے قبضے کے بعد ہوئے،گزشتہ برس ایران نے اپنی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر غور کیا تھا۔

    رہبر اعلٰی سمیت اہم کمانڈرز اور شخصیات محفوظ ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

  • امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے.

    امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں اور ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہیں تاہم اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے،زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

    ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیویگیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو،مشرقی سمت سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور کئی ہفتوں کی سخت بیانات بازی اور جنگ کے خدشات کے بعد منعقد ہواگزشتہ برس جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر جنگ بڑھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

    امریکی حکومت آبنائے ہرمز کو دنیا کا سب سے اہم تیل کا بحری راستہ قرار دیتی ہے کیونکہ یہ توانائی پیدا کرنے والے خطے کو بحر ہند سے ملاتا ہے، جنوری کے اواخر میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکی فوج نے ایران کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے سے خبردار کیا تھا بعد ازاں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا۔

    واشنگٹن اس سے قبل بھی ایران پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر چکا ہے، 2019 میں متحدہ عرب امارات نے خلیجِ عمان میں اپنے علاقائی پانیوں میں 4 جہازوں پر تخریبی حملوں کی اطلاع دی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں جہازوں کو براہِ راست کسی نئی دھمکی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان

    ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان

    ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا۔

    ایران نے فوجی مشقوں کے تناظر میں فضائی حدود کا نوٹم جاری کر دیا ہے، نوٹم کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف پرواز 29 جنوری تک 25 ہزار فٹ سے نیچے نہ کی جائیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مشقیں 9 کلو میٹر کی حدود میں ہوں گی، پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں آئے تو حملہ کردیں گے،امریکی صدر گفتگو زیادہ کرتے ہیں، جنگ کا فیصلہ تو میدان میں ہوگا-

    صدر یو اے ای اور صدر آصف زرادری کی ملاقات،دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

    دوسری جانب یورپی یونین کے اہم سفارتکاروں نے منگل کے روز کہا کہ وہ ایران میں مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی وجہ سے ایران پر پابندیوں کے نئے سلسلے کے پہلے مرحلے کے طور پر پاسداران انقلاب کے کئی سینیئر حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے 27 رکنی یورپی اتحاد کے اس پابندیوں کے ارادے کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پاسداران انقلاب کے 21 عہدیداروں پر پابندیاں عائد ہوں گی جن کے اکاؤنٹس کو منجمد کیا جائے گا۔ یہ بات حتمی صورت میں جمعرات کے روز وزرائے خارجہ کی اہم میٹنگ میں طے کی جائے گی۔

    یورپی یونین سے متعلق سفیروں نے کہا بدھ کے روز ہی اس سلسلے میں منظوری کا اشارہ ملے گا جس پر جمعرات سے باضابطہ طور پر عمل کا اعلان کیا جائے گا سفارتکاروں کے مطابق 10 ایسی ایرانی شخصیات پابندیوں کی زد میں آئیں گی جو ایرانی ڈرون طیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی سے متعلق ہیں اور جنہوں نے ڈرون طیارے یوکرین جنگ کے دنوں میں روس کو فراہم کیے ہیں۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    پابندیوں کی اس نئی لہر کے حوالے سے یورپی یونین کے ارکان اس بات بھی غور کر رہے ہیں کہ ایران کی پاسداران انقلاب کور کو دہشت گرد ادارہ ڈکلیئر کر دیا جائے اور اس کے لیے جواز یہ فراہم کیا جا رہا ہے کہ پاسداران نے مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیے ہیں اور یوکرین جنگ میں روس کی مدد کی ہے۔

    امریکہ میں قائم ایک این جی او کے مطابق ایران میں مظاہروں کے دوران 6000 کے لگ بھگ لوگ مارے گئے ہیں جبکہ ابھی یہ این جی او مزید 17000 کی ہلاکتوں کے بارے میں جانکاری کی کوشش کر رہی ہےایران کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 3017 افراد مظاہروں کے دوران مارے گئے ہیں جن میں راہگیر اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

    بھارت:ریاست مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کا طیارہ تباہ

  • چین  ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز بند نہ ہو،امریکا کا  مطالبہ

    چین ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز بند نہ ہو،امریکا کا مطالبہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے باز رکھے، کیونکہ ایسا اقدام ایران کے لیے "معاشی خودکشی” کے مترادف ہوگا۔

    امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے یہ اہم سمندری راستہ بند کیا تو اس کے نتائج عالمی معیشت اور بالخصوص چین کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ چین اپنی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً نصف حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور دنیا کا 20 فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی منڈیوں، خصوصاً چین کو جاتا ہے۔

    سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اگر ایران ہرمز کو بند کرتا ہے تو سب سے پہلے چین کو غصہ آنا چاہیے کیونکہ ان کا زیادہ تر تیل وہیں سے آتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس صورتحال کا اثر امریکا اور دیگر عالمی معیشتوں پر بھی پڑے گا، مگر چین سمیت ایشیائی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دی ہے، جو حالیہ امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران کے ممکنہ ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    خیبرپختونخوا: بارش و آندھی سے حادثات، 6 افراد جاں بحق

    روس، چین اور پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش

    روس، چین اور پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش

    برٹش ایئرویز کا قطر اور یو اے ای کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ

  • ایران کا  آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان

    ایران کا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان

    ایران نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کا کوئی بھی بحری بیڑہ اب یورپ تک نہیں پہنچ سکے گا ایران کا یہ حملہ امریکا کی جانب سے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، تاہم ان تنصیبات کو حملے سے پہلے خالی کرا لیا گیا تھا اور وہاں کوئی حساس جوہری مواد موجود نہیں تھا۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’امریکا اب براہ راست جنگ میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ’امریکا تھوڑا انتظار کرے، اسے ہمارے حملوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔‘

    پاسداران انقلاب نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جنگ ایران کے لیے شروع ہو چکی ہے اور ’ہم مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی اثاثوں کو نشانہ بنائیں گے۔‘

    علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال ایک وسیع پیمانے کی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور خطے میں غیر معمولی فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔

  • امریکا نے جنگ میں ساتھ دیا تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی،ایران کی دھمکی

    امریکا نے جنگ میں ساتھ دیا تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی،ایران کی دھمکی

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دیا تو وہ آبنائے ہرمز بند کر دے گا۔

    آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے، جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس گزرتی ہے۔ روزانہ تقریباً 90 اور سالانہ 33 ہزار کے قریب بحری جہاز یہاں سے سفر کرتے ہیں۔ روزانہ 21 ملین بیرل سے زائد خام تیل اسی آبی گزرگاہ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے دنیا بھر کو پہنچایا جاتا ہے، جن میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ اور شمالی امریکا شامل ہیں۔

    یہ اہم سمندری گزرگاہ مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیاء، یورپ، امریکا اور دیگر علاقوں سے جوڑتی ہے۔ اس آبی پٹی کی چوڑائی تقریباً 33 کلومیٹر ہے، جس میں دو بڑی شپنگ لینز موجود ہیں جن کی چوڑائی تین، تین کلومیٹر ہے اور بڑے آئل ٹینکرز انہی راستوں سے گزرتے ہیں۔قطر، جو دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرتا ہے، بھی اسی آبی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کے ایک جانب خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے۔ خلیج فارس میں ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان واقع ہیں۔چین اپنی معیشت کی ضروریات کا نصف تیل اسی خطے سے منگواتا ہے، جاپان اپنی 95 فیصد جبکہ جنوبی کوریا 71 فیصد خام تیل اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ ان ممالک کی برآمدات مثلاً گاڑیاں اور الیکٹرانکس بھی انہی راستوں سے خلیجی ممالک کو پہنچتی ہیں۔

    عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو ایران آبنائے ہرمز کو بطور ٹرمپ کارڈ استعمال کرے گا۔ ایران بارودی سرنگیں بچھانے، آبدوزوں، جنگی کشتیوں اور اینٹی شپ میزائلوں کی تعیناتی کر سکتا ہے، جس سے تیل کی ترسیل معطل ہو سکتی ہے اور قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز نہ صرف ایران کے لیے اسٹریٹجک چوک پوائنٹ ہے بلکہ یہ دنیا کی توانائی ترسیل کی شہ رگ بھی ہے، تاہم اس کی بندش خود ایران کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

  • عالمی توانائی کی لائف لائن آبنائے ہرمز بند  ہو جائے تو کیا ہو گا؟

    عالمی توانائی کی لائف لائن آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟

    ایران نے اسرائیل سے جنگ کے تناظر میں خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہےیہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہو ماضی میں بھی ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر ایسی دھمکیاں دی ہیں، جو تجارت کو محدود کرنے اور عالمی تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

    اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دیتا ہے تو اس کے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ؟ خلیج فارس اور خیلج عمان کو جوڑنے والی آبنائے ہرمز سے پوری دنیا کو تیل کی 3 فیصد اور ایل این جی کی5 فیصد ترسیل کی جاتی ہے ایران، اسرائیل جنگ نے آبنائے ہرمز میں تجارت اور دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی بندش کے خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔

    سندھ پولیس کی سینیارٹی لسٹ جاری،فہرست میں ہوشربا انکشاف

    عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی محض دھمکی ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو ہلا کر رکھ سکتی ہےصرف 33کلومیٹر چوڑی آبنائے ہرمز کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے، خلیج فارس کے اندر 8 ممالک ایران، عراق، کویت، سعودی عرب ،بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان موجود ہیں ان تمام ممالک سے مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی چوک پوائنٹ سے گزر تا ہے۔

    1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کی جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی رسد اور برآمدات کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اور اس تنازع کو اسی وجہ سے تاریخ میں ’ٹینکر جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    عالمی رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال آبنائے ہرمز سے روزانہ 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، جو عالمی پیٹرولیم استعمال کا 20 فیصد ہے جبکہ ہر ماہ تقریباً 3 ہزار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں 2023 میں آبنائے ہرمز سے 90 ارب کیوبک میٹرز ایل این جی کی ترسیل کی گئی، جو گلوبل ایل این جی ٹریڈ کا 20 فیصد تھا، ایران، اسرائیل جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان

    دفاعی اور معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کے لیے ایک لائف لائن ہے۔