Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر  ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کو حملے کی دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے سخت ردعمل دیا ہے-

    ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈ ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیا نے سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جو ابھی بند تو نہیں اگر امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا تو اس کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک تباہ شدہ تنصیبات دوبارہ بحال نہیں ہو جاتیں۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے پاور پلانٹس بلکہ توانائی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنائے گا اس کے علاوہ ان علاقائی ممالک کے پاور پلانٹس پر بھی حملوں کا عندیہ دیا گیا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں یا امریکی کمپنیوں کی شراکت داری ہے ایرانی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جائیں گے جب کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

    ایرانی فورسز نے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انتباہات کے باوجود اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی حالیہ دنوں میں ایران نے کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے جب کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو روکنے کا عندیہ دیا ہے، جنہیں وہ اپنے خلاف کارروائی میں شامل قرار دیتا ہے ایران کی پارلیمنٹ بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جب کہ اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ سمندری آمد و رفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً مفلوج ہو چکی ہے تجزیاتی ادارے کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد رہ گئی ہے

  • آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔

    عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گاخطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

  • ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران نے جاپان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دے دیا-

    جاپان ، نیدرلینڈز، اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں اور آبنائے کی مؤثر بندش کی مذمت کی گئی تھی،اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہےجاپان کے حوالے سے اس بات کا تازہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ پر جزوی یا منتخب ناکہ بندی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہم نے آبنائے کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، یہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جو ہمارے دشمن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی وہ ممالک جو ہم پر حملہ کرتے ہیں، دیگر ممالک کے جہاز آبنائے سے گزر سکتے ہیں،ہم ان ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ محفوظ گزرگاہ کا کوئی طریقہ نکالا جا سکے، ہم انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں صرف ہم سے رابطہ کرنا ہوگا تاکہ اس راستے کے بار ے میں بات چیت کی جا سکے۔

    شاہد آفریدی کا پاک فوج کے شہداء کو خراج عقیدت

    واضح رہے کہ جاپان اپنی خام تیل کی درآمدات کا 90 فی صد سے زیادہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، تاہم 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے یہ آبی گزرگاہ عملی طور پر بند رہی ہے۔

    عمران خان کی ان کے بچوں سے بات کرادی گئی

  • فرانسیسی صدر  کا ایران سےآبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ

    فرانسیسی صدر کا ایران سےآبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فرانسیسی صدر میکرون کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کی گئی، فرانسیسی صدر میکرو ن نے ایرانی صدر پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں حملوں کو فوری بند کیاجائے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد از جلد بحال کی جانی چاہیے‏۔

    میکرون نے کہا کہ نیا سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک ہی سب کے لیے امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے، فریم ورک کو یہ ضمانت بھی دی جائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    کوسٹ گارڈز کی گوادر میں کارروائی، اعلی کوالٹی کی منشیات برآمد کرلیں

    ایتھوپیا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں، پاکستان کا اظہار افسوس

    اماراتی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ

  • آبنائے ہرمز  معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    آبنائے ہرمز معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے اتحادی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد فراہم نہیں کرتے تو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کو مستقبل میں بہت خراب صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تعاون نہیں کرتے تو نیٹو کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی اپنی متوقع ملاقات کو مؤخر بھی کر سکتے ہیں، وہ بیجنگ پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ چین اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے میں کردار ادا کرے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ اور چین خلیج فارس سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ امریکا کا انحصار اس خطے کے تیل پر نسبتاً کم ہے جو ممالک اس آبی راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں کہ وہاں کوئی خراب صورتحال پیدا نہ ہو۔

    آبنائے ہرمز معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بالکل مناسب ہے کہ وہ لوگ جو اس آبنائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ بھی برا نہ ہو اگر اس معاملے پر مثبت ردعمل سامنے نہیں آتا یا منفی جواب دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نیٹو کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے تاہم ایران کی جانب سے اس آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد یہ گزرگاہ عملاً بند ہو گئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہےتیل کی قیمت جو پہلے تقریباً 65 ڈالر فی بیرل تھی، وہ بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

    یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کےپاس 40 لاکھ کہاں سے آئے؟دفترِ خارجہ نے تحقیقات شروع کر دیں

    آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہونے کا امکان ہے امریکی اخبار کے مطابق آئل انڈسٹری نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏توانائی کا بحران مزید بگڑنے کا امکان ہے تیل کمپنیوں کے مطابق آبنائے ہرمزکی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہوسکتا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔

  • امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر ساحلی علاقوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہو سکتے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔

    امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس کوشش میں حصہ لیں گے تاکہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے کو محفوظ بنایا جاسکے ،دنیا کے متعدد ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے بحریہ تعینات کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے اس دوران امریکا ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں یا جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    تاہم انہوں نے اس بات کی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کون سے ممالک اس اقدام میں عملی طور پر شامل ہوں گے دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کن ممالک نے اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    خیال رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

  • آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران خلیج میں کم از کم 17 جہازوں پر حملے ہوئے ہیں-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان میں تیل کے ٹینکر، کارگو اور دیگر کمرشل جہاز شامل ہیں یہ حملے مختلف ملکوں کے جھنڈوں والے جہازوں پر ہوئے جن میں تھائی لینڈ، مالٹا، مارشل آئلینڈز، جاپان اور پاناما کے جہاز شامل ہیں، جنگ کے پہلے دن، یعنی 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے خلیج فارس میں نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ایران کے جوابی حملوں میں متعدد غیر ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی ترسیل تقریباً رک گئی۔

    اس دوران ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا ابتدائی دنوں میں ہونے والے ان حملوں نے خطے کے کئی ممالک کو اپنی تیل کی پیداوار کم کرنے پر مجبور کیا اور عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    یکم مارچ کو مارشل آئی لینڈز کا ایم کے ڈی وی وائے او ایم تیل کا ٹینکر عمان کے ساحل کے نزدیک پروجیکٹائل لگنے سے حملے کا شکار ہوا جس میں ایک عملے کا رکن ہلاک ہوا اسی دن جبرالٹرز کے پرچم والا ہرکولیس اسٹار اورپلاؤ کے پرچم والا سکائی لائٹ بھی حملے کا نشانہ بنے اور عملے کو نکالنا پڑا۔

    2 مارچ کو امریکی جھنڈے والا اسٹینا امپریکٹو بحرین میں حملے سے آگ پکڑ گیا اور عملے کو ایمرجنسی طور پر نکالا گیا اسی طرح 3 مارچ کو مارشل آئی لینڈز کے لبرا ٹریڈر اور پاناما کے گولڈ اوک نے متحدہ عرب امارات کے فجیرا کے قریب معمولی نقصان اٹھایا4 مارچ کو مالٹا کا سفین پریسٹیج ٹینکر بھی نشانہ بنایا گیا، جب کہ 5 مارچ کو عراق کے خور ال زبیر بندرگاہ کے قریب سونانگول نیمبی کو دھماکے سے نقصان پہنچا اسی طرح 6 اور 7 مارچ کو مزید حملے ہوئے، جن میں ایک ٹگ بوٹ اور سعودی عرب کے شمال میں ممکنہ ڈرون حملہ شامل ہیں۔

    ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

    11 مارچ کو آبنائے ہرمز میں کئی جہاز حملے کا شکار ہوئے، جن میں تھائی لینڈ کا میری ناری، جاپان کا ون میجسٹی، مارشل آئی لینڈز کا اسٹارگونیتھ اور تیل کے ٹینکر سیف سی وشنو اورزیفروس شامل ہیں 12 مارچ کو عراقی سمندری حدود میں الفاو بندرگاہ کے قریب دو ٹینکروں پر حملہ ہوا جس میں عملے کا رکن ہلاک ہوا جبکہ 25 افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔ بحری حکام کے مطابق خلیجی پانیوں میں مزید چار جہاز بھی پروجیکٹائل حملوں کا شکار ہوئے۔

    ان حملوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی نقل و حمل کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی مصنوعا ت گزرتی ہیں ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اس تنگ پانی سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تیل اور ایل این جی کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی اور بین الاقوامی تجارت میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام طویل ہوا تو دنیا بھر میں ایندھن اور شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی اسکواڈ فراہم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے یہ راستہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہےاس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بحریہ کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس لیے فی الحال جہازوں کو فوجی حفاظت فراہم کرنا ممکن نہیں،امریکی بحریہ کا یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے مختلف دکھائی دیتا ہے، ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو فوجی محافظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیر کو فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی ٹینکروں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزاریں گے تاہم ابھی تک کسی جہاز کو اسکواڈ نہیں دیا گیا-

    امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ڈین کین نے کہا کہ فوج اس حوالے سے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاہم ایک امریکی اہلکار کے مطابق ابھی تک کسی بھی تجارتی جہاز کو امریکی بحریہ کی طرف سے اسکواڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

    رہنما مسلم لیگ ن نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ

    اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ جہاز اس راستے سے گزرے ہیں، لیکن زیادہ تر جہاز رانی معطل ہے اور سینکڑوں جہاز سمندر میں لنگر انداز ہو کر انتظار کر رہے ہیں دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر رہی تو عالمی تیل منڈی کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا آسان نہیں ایران سمندری بارودی سرنگیں اور کم قیمت حملہ آور ڈرون استعمال کر کے جہاز رانی کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    یورپی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز آن دی مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ کے سربراہ عادل باکوان کے مطابق ’فی الحال امریکا، فرانس یا کوئی بھی عالمی اتحاد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    گزشتہ ہفتے ایران نے مبینہ طور پر بارودی مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی کے ذریعے عراقی پانیوں میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچایا تھا ماہر ین کا کہنا ہے کہ اگر جہازوں کو فوجی اسکواڈ دیا بھی جائے تو تیز رفتار کشتیوں یا ڈرون کے جتھوں کے حملوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔

  • امریکا کا آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکا کا آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی دی ہے، تاہم ایران نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مذاکرات نہیں کرےگا۔

    امریکا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے، یہ کارروائی خطے میں سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی۔ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران کے ساتھ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

    ایران کا اسرائیل کے بن گورین ائیرپورٹ پر حملہ

    امریکی حکام کے مطابق اب تک امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی، ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

    واضح رہے کہ جنگ کے دوران اب تک 1300 سے زیادہ ایرانی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والی 170 بچیاں اور اسٹاف بھی شامل ہیں ایران نے خطے میں موجود امریکی بیسز پر جوابی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پر بھی فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں جس کے بعد اس جنگ کا دائرہ کار خطے میں وسیع ہوگیا ہے۔

    متحدہ میں ایران کے سفیر نے منگل کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملے میں ایرانی سفارت خانے کے چار اہلکار جان سے گئے۔

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ

    ایرانی سفیر نے اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکربٹری جنرل اور سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کے صدور کو ایک ہنگامی خط بھی ارسال کیا ہے۔

    خط میں بتایا گیا کہ 8 مارچ کو اسرائیل نے بیروت کے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایرانی سفارتی عملے کے چار ارکان شہید ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہدا میں سفارت خانے کے سیکنڈ اور تھرڈ سیکرٹری، ملٹری اتاشی اور ملٹری مشن آفیسر شامل ہیں۔

    دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق وسطی بیروت میں واقع رمادا ہوٹل کے ایک اپارٹمنٹ پر ہونے والے اس حملے میں مجموعی طور پر چار افراد جاں بحق جبکہ دس زخمی ہوئے۔

    پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کی گزرگاہ بنے گی، یا پھر جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    پیر کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ایک موقع پر 18 ڈالر 35 سینٹ یا تقریباً 19.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 111.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں قیمت 15 ڈالر 24 سینٹ اضافے کے ساتھ 107.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتی دیکھی گئی اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 16 ڈالر 50 سینٹ یا 18.2 فیصد اضافے کے ساتھ 107.40 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ سیشن کے دوران یہ 111.24 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی تھی، گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کروڈ میں 27 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 35.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ڈی جی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 4 دہشتگرد ہلاک

    رپورٹ کے مطابق عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جب کہ اس سے قبل قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی رہی تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے، اگرچہ یہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ سپلائی چین، تیل کی تنصیبات اور شپنگ کے خطرات بدستور برقرار رہیں گے۔

    ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان