Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو ووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پوسٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کا یہ اقدام خوش آئند اور تعمیری ہے، اس کی تعریف ہونی چاہیے،یہ پیشرفت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ہے، یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرےگا، مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنےکا واحد راستہ ہے۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے-

  • پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ روزانہ 2 پاکستانی جہاز اس اہم بحری راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کی سپلائی بھی مستحکم ہوگی۔

    اس پیش رفت کو موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔

    trumptrump

    ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کرنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہےاس اقدام سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    امریکی صدر اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ بھی شیئر کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا اس تسلسل کو ماہرین پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے۔

    ادھر حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی ، موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق، پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جائے گی ایرانی پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ ایران اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے، اس لیے دیگر عالمی تجارتی راہداریوں کی طرح یہاں بھی فیس لینا ایک ”فطری عمل“ ہے ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنا ئے ہرمز پر اس کے اختیار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور یہ مطالبہ اس کی جنگ بندی کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

    دوسری جانب اس پیش رفت کے عالمی معیشت پر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے ماہر معاشیات ولیم لی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنا ایک ”نفسیاتی چال“ ہے تاکہ مارکیٹ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ تیل کی سپلائی برقرار رہے گی۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ خلیج کے علاقے سے روزانہ 10 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے وہ کسی حد تک محفوظ ہے، لیکن عالمی منڈی میں خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا آسان نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔ ولیم لی کے مطابق اصل مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے، اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر بڑی معیشتیں بھی کردار ادا کریں، خاص طور پر چین، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں تاہم اب تک چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کرنے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے۔

  • آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر  ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کو حملے کی دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے سخت ردعمل دیا ہے-

    ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈ ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیا نے سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جو ابھی بند تو نہیں اگر امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا تو اس کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک تباہ شدہ تنصیبات دوبارہ بحال نہیں ہو جاتیں۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے پاور پلانٹس بلکہ توانائی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنائے گا اس کے علاوہ ان علاقائی ممالک کے پاور پلانٹس پر بھی حملوں کا عندیہ دیا گیا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں یا امریکی کمپنیوں کی شراکت داری ہے ایرانی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جائیں گے جب کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

    ایرانی فورسز نے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انتباہات کے باوجود اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی حالیہ دنوں میں ایران نے کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے جب کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو روکنے کا عندیہ دیا ہے، جنہیں وہ اپنے خلاف کارروائی میں شامل قرار دیتا ہے ایران کی پارلیمنٹ بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جب کہ اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ سمندری آمد و رفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً مفلوج ہو چکی ہے تجزیاتی ادارے کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد رہ گئی ہے

  • آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔

    عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گاخطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

  • ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران نے جاپان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دے دیا-

    جاپان ، نیدرلینڈز، اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں اور آبنائے کی مؤثر بندش کی مذمت کی گئی تھی،اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہےجاپان کے حوالے سے اس بات کا تازہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ پر جزوی یا منتخب ناکہ بندی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہم نے آبنائے کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، یہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جو ہمارے دشمن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی وہ ممالک جو ہم پر حملہ کرتے ہیں، دیگر ممالک کے جہاز آبنائے سے گزر سکتے ہیں،ہم ان ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ محفوظ گزرگاہ کا کوئی طریقہ نکالا جا سکے، ہم انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں صرف ہم سے رابطہ کرنا ہوگا تاکہ اس راستے کے بار ے میں بات چیت کی جا سکے۔

    شاہد آفریدی کا پاک فوج کے شہداء کو خراج عقیدت

    واضح رہے کہ جاپان اپنی خام تیل کی درآمدات کا 90 فی صد سے زیادہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، تاہم 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے یہ آبی گزرگاہ عملی طور پر بند رہی ہے۔

    عمران خان کی ان کے بچوں سے بات کرادی گئی

  • فرانسیسی صدر  کا ایران سےآبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ

    فرانسیسی صدر کا ایران سےآبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فرانسیسی صدر میکرون کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کی گئی، فرانسیسی صدر میکرو ن نے ایرانی صدر پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں حملوں کو فوری بند کیاجائے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد از جلد بحال کی جانی چاہیے‏۔

    میکرون نے کہا کہ نیا سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک ہی سب کے لیے امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے، فریم ورک کو یہ ضمانت بھی دی جائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    کوسٹ گارڈز کی گوادر میں کارروائی، اعلی کوالٹی کی منشیات برآمد کرلیں

    ایتھوپیا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں، پاکستان کا اظہار افسوس

    اماراتی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ

  • آبنائے ہرمز  معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    آبنائے ہرمز معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے اتحادی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد فراہم نہیں کرتے تو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کو مستقبل میں بہت خراب صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تعاون نہیں کرتے تو نیٹو کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی اپنی متوقع ملاقات کو مؤخر بھی کر سکتے ہیں، وہ بیجنگ پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ چین اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے میں کردار ادا کرے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ اور چین خلیج فارس سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ امریکا کا انحصار اس خطے کے تیل پر نسبتاً کم ہے جو ممالک اس آبی راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں کہ وہاں کوئی خراب صورتحال پیدا نہ ہو۔

    آبنائے ہرمز معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بالکل مناسب ہے کہ وہ لوگ جو اس آبنائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ بھی برا نہ ہو اگر اس معاملے پر مثبت ردعمل سامنے نہیں آتا یا منفی جواب دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نیٹو کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے تاہم ایران کی جانب سے اس آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد یہ گزرگاہ عملاً بند ہو گئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہےتیل کی قیمت جو پہلے تقریباً 65 ڈالر فی بیرل تھی، وہ بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

    یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کےپاس 40 لاکھ کہاں سے آئے؟دفترِ خارجہ نے تحقیقات شروع کر دیں

    آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہونے کا امکان ہے امریکی اخبار کے مطابق آئل انڈسٹری نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏توانائی کا بحران مزید بگڑنے کا امکان ہے تیل کمپنیوں کے مطابق آبنائے ہرمزکی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہوسکتا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔

  • امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر ساحلی علاقوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہو سکتے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔

    امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس کوشش میں حصہ لیں گے تاکہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے کو محفوظ بنایا جاسکے ،دنیا کے متعدد ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے بحریہ تعینات کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے اس دوران امریکا ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں یا جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    تاہم انہوں نے اس بات کی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کون سے ممالک اس اقدام میں عملی طور پر شامل ہوں گے دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کن ممالک نے اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    خیال رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

  • آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران خلیج میں کم از کم 17 جہازوں پر حملے ہوئے ہیں-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان میں تیل کے ٹینکر، کارگو اور دیگر کمرشل جہاز شامل ہیں یہ حملے مختلف ملکوں کے جھنڈوں والے جہازوں پر ہوئے جن میں تھائی لینڈ، مالٹا، مارشل آئلینڈز، جاپان اور پاناما کے جہاز شامل ہیں، جنگ کے پہلے دن، یعنی 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے خلیج فارس میں نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ایران کے جوابی حملوں میں متعدد غیر ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی ترسیل تقریباً رک گئی۔

    اس دوران ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا ابتدائی دنوں میں ہونے والے ان حملوں نے خطے کے کئی ممالک کو اپنی تیل کی پیداوار کم کرنے پر مجبور کیا اور عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    یکم مارچ کو مارشل آئی لینڈز کا ایم کے ڈی وی وائے او ایم تیل کا ٹینکر عمان کے ساحل کے نزدیک پروجیکٹائل لگنے سے حملے کا شکار ہوا جس میں ایک عملے کا رکن ہلاک ہوا اسی دن جبرالٹرز کے پرچم والا ہرکولیس اسٹار اورپلاؤ کے پرچم والا سکائی لائٹ بھی حملے کا نشانہ بنے اور عملے کو نکالنا پڑا۔

    2 مارچ کو امریکی جھنڈے والا اسٹینا امپریکٹو بحرین میں حملے سے آگ پکڑ گیا اور عملے کو ایمرجنسی طور پر نکالا گیا اسی طرح 3 مارچ کو مارشل آئی لینڈز کے لبرا ٹریڈر اور پاناما کے گولڈ اوک نے متحدہ عرب امارات کے فجیرا کے قریب معمولی نقصان اٹھایا4 مارچ کو مالٹا کا سفین پریسٹیج ٹینکر بھی نشانہ بنایا گیا، جب کہ 5 مارچ کو عراق کے خور ال زبیر بندرگاہ کے قریب سونانگول نیمبی کو دھماکے سے نقصان پہنچا اسی طرح 6 اور 7 مارچ کو مزید حملے ہوئے، جن میں ایک ٹگ بوٹ اور سعودی عرب کے شمال میں ممکنہ ڈرون حملہ شامل ہیں۔

    ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

    11 مارچ کو آبنائے ہرمز میں کئی جہاز حملے کا شکار ہوئے، جن میں تھائی لینڈ کا میری ناری، جاپان کا ون میجسٹی، مارشل آئی لینڈز کا اسٹارگونیتھ اور تیل کے ٹینکر سیف سی وشنو اورزیفروس شامل ہیں 12 مارچ کو عراقی سمندری حدود میں الفاو بندرگاہ کے قریب دو ٹینکروں پر حملہ ہوا جس میں عملے کا رکن ہلاک ہوا جبکہ 25 افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔ بحری حکام کے مطابق خلیجی پانیوں میں مزید چار جہاز بھی پروجیکٹائل حملوں کا شکار ہوئے۔

    ان حملوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی نقل و حمل کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی مصنوعا ت گزرتی ہیں ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اس تنگ پانی سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تیل اور ایل این جی کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی اور بین الاقوامی تجارت میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام طویل ہوا تو دنیا بھر میں ایندھن اور شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔