Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے،قالیباف

    امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے،قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار باقر قالیباف نے واشنگٹن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ دوسرے ممالک کے جہاز تو اس اہم راستے سے گزر سکیں مگر ایران کو اس کی اجازت نہ ہو باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا کہ اگر ان کا ایک بھی بحری جہاز (مائن سوئپر) ایک انچ بھی آگے بڑھا تو ایران براہِ را ست فائرنگ کرے گا، اور یہ بات وہ امریکی وفد کو دو ٹوک الفاظ میں بتا چکے ہیں۔

    باقر قالیباف نے حالیہ جنگی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب تک دشمن کے 170 سے 180 ڈرونز تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکا کے جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیارے کو مار گرانا کوئی معمولی بات نہیں ہے دشمن اب زمینی حقیقت اور ایران کی طاقت کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوگاامریکا کے ساتھ بات چیت میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بہت بڑا فاصلہ موجود ہے جسے ختم کرنا فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔

    دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز صرف اسی صورت میں ہوگا جب امریکا اپنے حد سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹے گا۔

    کونسل کے مطابق جنگ کے شروع میں ہی امریکا نے جنگ بندی کے لیے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دس نکات پر مبنی ایک فریم ورک بھی تسلیم کیا تھا، جس کے بعد ایران پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔ تاہم اب امریکا نے نئی تجاویز پیش کی ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا کیونکہ تہران اپنی قوم کے مفاد پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔

    سیکیورٹی کونسل نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان کی ترسیل ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے جب تک امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولا جائے گا، اب اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کے بتائے ہوئے روٹس پر چلنا ہوگا اور مخصوص فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔

    اس کشیدگی کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک 23 جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دو ٹوک کہا ہے کہ جب تک تمام نکات پر سو فیصد اتفاق نہیں ہو جاتا، امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کا محاصرہ ختم نہیں کرے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اس سخت موقف کی وجہ سے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا دور کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

  • آبنائے ہرمز  بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    آبنائے ہرمز بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا بھارت نے اس واقعے پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔

    بھارت نے ان واقعات پر نئی دہلی میں ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایران سے بھارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اقدامات درخواست کی، جس پرایرانی سفیر نے بھارت کے تحفظات ایرانی حکومت تک پہنچانے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

    بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی بھیجا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا اور اس گزرگاہ کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

    ہفتے کے روز ایرانی افواج کے مشترکہ کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ماضی میں معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے بعد محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے ناکہ بندی کے بہانے سمندری قزاقی جاری رکھی ہوئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث اب صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی ہے اور آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں ہے۔

    ایرانی حکام نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا ایران کے اس سخت مؤقف نے خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔

  • امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکی نیوی نے خلیج فارس میں اپنے جدید اور انتہائی مہنگے جاسوس ڈرون کی تباہی کی تصدیق کردی-

    ایرانی نیوز ایجنسی ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق امریکی نیوی کے مطابق MQ-4C ٹرائٹن نامی بغیر پائلٹ نگرانی کرنے والا طیارہ 9 اپریل کو خلیج فارس کے علاقے میں تباہ ہوا، حکام نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے، تاہم اس کے اسباب کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ڈرون کے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز سے غائب ہونے کے بعد متعدد ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، اگرچہ اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واقعے نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ایک انتہائی جدید اور قیمتی ڈرون ہے، جس کی مالیت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی زیادہ قیمت کے باعث اب تک صرف 20 طیارے ہی سروس میں شامل کیے گئے ہیں یہ ڈرون طویل فاصلے تک سمندری نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور 13 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے ساتھ وسیع علاقے پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس میں جدید ریڈار سسٹم، الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ سینسرز نصب ہوتے ہیں جو سمندر میں جہازوں اور دیگر اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ڈرون کے غائب ہونے سے قبل اس کی پرواز میں اچانک تبدیلی آئی اور وہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آتے ہوئے 10 ہزار فٹ سے کم سطح پر پہنچ گیااس دوران ڈرون نے ہنگامی سگنل بھی نشر کیے، جن میں پہلے کمیونیکیشن کی خرابی کا کوڈ اور بعد میں مکمل ایمرجنسی کا کوڈ شامل تھا امریکی نیوی کےمطابق یہ ڈرون خلیج فارس اور آبنائےہرمز میں نگرانی کا مشن مکمل کرنے کےبعد اٹلی کے نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا میں اپنے اڈے کی جانب واپس جا رہا تھا۔

    واضح رہے کہ 2019 میں بھی ایران نے اسی نوعیت کے ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔

  • سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 36 گھنٹوں کے اندر ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ’سینٹرل کمانڈ‘ نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بحری راستوں سے ایران آنے اور جانے والی تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے آبنائے ہرمز سے یہ پابندی صرف ایران کے لیے ہے، دیگر بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور جہاز رانی کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز اس رکاوٹ کو عبور نہیں کر سکا جبکہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس مڑ کر خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ کا رخ کیا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت جاری ہے پریس ٹی وی کے مطابق امریکی دھمکی کے باوجود کم از کم چار جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں پر آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کیا، جن میں سے دو جہاز باقاعدہ طور پر اس اہم گزرگاہ کو عبور کر گئے۔

    ایرانی میڈیا نے میرین ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والا بحری جہاز ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی پر 74 ہزار ٹن مکئی اتارنے کے بعد 13 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ جہاز نے آبنائے میں ایرانی جزیرے لارک کے قریب کا راستہ اختیار کیا،اسی طرح کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا اور بعد ازاں آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ یہ جہاز 31 ہزار ٹن میتھانول لے کر 31 مارچ کو ایرانی بندرگاہ بوشہر سے روانہ ہوا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق چین کا ایک ٹینکر ’رچ اسٹاری‘ بھی رات کے وقت لارک جزیرے کے جنوب میں ایران کے منظور شدہ روٹ سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گیا بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جہازوں کے سگنلز میں خلل اور ممکنہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث در ست ٹریکنگ مشکل ہو گئی ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، جب کہ ایرانی فوجی قیادت نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر حملے کی صورت میں پورے خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود چینی بحری ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود چینی بحری ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب

    آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایک چینی بحری ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کا شکار ایک چینی بحری ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہےبحری آمد و رفت پر نظر رکھنے والے اداروں ’میرین ٹریفک‘ اور ’ایل ایس ای جی‘ کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ’رچ اسٹاری‘ نامی یہ ٹینکر امریکی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد خلیج سے باہر نکلنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔

    اس ٹینکر اور اس کی مالک کمپنی ’شنگھائی شوان رن شپنگ‘ پر امریکا نے پہلے ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی پاداش میں پابندیاں لگا رکھی تھیں،اس بار اس جہاز نے اپنا سفر متحدہ عرب امارات کی حمریہ بندرگاہ سے شروع کیا جہاں سے اس پر سامان لادا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکا نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ وہ اس راستے کو پوری طرح کنٹرول کر رہا ہے، لیکن اس چینی جہاز کے گزر جانے سے اب اس ناکہ بندی کی سختی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک اور امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ’مرلی کشن‘ بھی اسی سمت بڑھ رہا ہے اور آج اس کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا امکان ہے یہ جہاز 16 اپریل کو عراق سے خام تیل لینے والا ہے یہ وہی جہاز ہے جو ماضی میں ’ایم کے اے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور روس و ایران کے تیل کی ترسیل میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

  • کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر کسی کے لیے نہیں، ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا-

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا دفاع ان کا ایک فطری اور قانونی فریضہ ہے، اور اسی بنیاد پر ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا، تاہم دشمن سے وابستہ بحری جہازوں کو اس آبنائے سے گزرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی دیا جائے گا۔

    ایرانی افواج کے مطابق دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایران کے قواعد و ضوابط کے مطابق دی جائے گی دشمن کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے پیش نظر، حتیٰ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی، ایران آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے لیے ایک مستقل اور سخت نظام نافذ کرے گا۔

    مسلح افواج نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی عمل ہے اور یہ سمندری قزاقی کے مترادف ہے اگر ایران کی بندرگاہوں اور سمندری سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی خطے میں بحری راستوں کی حفاظت ایران کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور جو جہاز ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔

  • آبنائے ہرمز میں  پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے آمنے سامنے آںے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں کو سخت فوجی وارننگ دے کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے گزر گئے۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کی جانب سے نشر کی گئی فوٹیج میں مبینہ طور پر ایرانی بحریہ اور امریکی نیوی کے درمیان ریڈیو پر ہونے والی گفتگو دکھائی گئی ہے اس ویڈیو اور آڈیو میں سمندر میں کشیدہ ماحول کی عکاسی کی گئی، جس میں ایرانی فورسز کی جانب سے بار بار دی گئی وارننگ کو دکھایا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نیوی نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک امریکی میزائل ڈسٹرائر کو فوری طور پر راستہ بدلنے اور بحر ہند کی جانب واپس جانے کا حکم دیا آڈیو میں ایک ایرانی اہلکار کو کہتے سنا گیا کہ آپ کو فوراً اپنا راستہ تبدیل کرنا ہوگا، بصورت دیگر آپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران کی جانب سے جاری کردہ آڈیو میں امریکی جہاز کی طرف سے محتاط مگر واضح جواب بھی سنائی دیتا ہے، جس میں کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی کارروائی انجام دے رہا ہے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ وارننگ صرف ایک جہاز تک محدود نہیں تھی بلکہ خلیج عمان میں موجود تمام جہازوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ ایرانی جنگی جہازوں سے کم از کم 10 میل کا فاصلہ رکھیں، بصورت دیگر بغیر کسی مزید اطلاع کے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اس دوران بار بار حتمی وارننگ بھی جاری کی اور کہا کہ اگر احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی پاسدارانِ انقلاب نے بعد ازاں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • برطانیہ  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔

    ایک بیان میں ترجمان برطانوی حکومت نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ہرمز کھلنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ عالمی معیشت پر اور ملک میں مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا ،تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی۔ ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 10 بجے پا کستانی وقت کےمطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج شام 7 بجے سے شروع ہوگی ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمدورفت پر ہوگا ناکہ بندی کا نفاذ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والےجہازوں پربھی ہوگا۔دیگر ملکوں کے پورٹس سے جہازو ں کی آمدورفت کی ناکہ بندی نہیں ہوگی۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے نظا م کے تحت فیس ادا کرنا ہوگی،حکومت قومی مفادات کے تحت اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول اور مؤثر مینجمنٹ قائم کرے گی، جبکہ انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

    دوسری جانب ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال ہو جائے گی،لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، جس سے تیل کی پیداوار میں بتدریج بہتری آنے کی امید ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔