Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے امریکا کو 6 شرائط پیش کر دیں

    آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے امریکا کو 6 شرائط پیش کر دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل کھولنے کے لیے امریکا کو 6 سخت شرائط پیش کر دی ہیں-

    ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل، جسے پولیٹ بیورو جیسا اختیار حاصل ہے، نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا اپنا “رویہ درست” نہیں کرتا امریکا کو نہ صرف ایران کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا بلکہ خطے میں جنگ کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور اپنی فوجی موجودگی کا انخلا بھی یقینی بنانا ہوگا،امریکا کو ایران کو جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ دینا، پابندیاں ختم کرنا اور منجمد اثاثے غیر مشروط طور پر واپس کرنا ہوں گے۔

    دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ان مطالبات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم واشنگٹن اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنائی جائے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جہازرانی کے حوالے سے ایک معاہدہ قریب ہے، خاص طور پر ٹرانزٹ روٹ کے تعین پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی دیگر شرائط سے مشروط ہوگی انہوں نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا۔

    عمان، جو ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے کہا ہے کہ بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں جاری ہے، جبکہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کی مذمت بھی کی ہے،ایران نے عملی طور پر اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور وہ گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا خواہاں ہے، جس کی امریکا مخالفت کرتا ہے، جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت ہرمز کے مستقبل کے انتظامات پر ایران اور عمان کے درمیان بات چیت کی گنجائش رکھی گئی تھی،یہ مذاکراتی عمل 60 روزہ مدت کے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم اس میں توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے، عباس عراقچی

    آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی نہیں ہےآبنائے ہرمز کی مکمل بحالی امریکا کی جانب سے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے۔

    ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت کو آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیےعمان مذاکرات کا مقصد فی الحال عارضی بحری راستے قائم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے محدود آمدورفت ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی پیچیدگیوں کے باوجود ان عارضی راستوں کے تعین کا عمل جاری ہے، جو اب آخری مراحل میں ہے۔

    ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی جانب سے فراہم کیے گئے نقشوں کی بنیاد پر ان عارضی راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے جلد نتائج سامنے آنے کی توقع ہے تاہم ان اقدامات کو آبنائے ہرمز کی عمومی یا مکمل بحالی نہیں کہا جا سکتا ہے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونا ضروری ہیں، جن میں خاص طور پر امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ شامل ہے۔

    انہوں نے اسلام آباد میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی افواج بارہا انتباہ کے باوجود متبادل بحری راستے زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں،ایران نہ تو معاہدے کی خلاف ورزی برداشت کرے گا اور نہ ہی کسی فریق کو آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار اور کنٹرول کو چیلنج کرنے کی اجازت دے گا۔

    اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ ہے اور اس کے لیے ایران کے پاس اپنا قانونی اور دفاعی طریقہ کار موجود ہے انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے الگ ہے۔

    پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک بحری گزرگاہ یا آبی راستہ نہیں بلکہ ایران کے اہم جغرافیائی اثاثے اور طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، جسے ایران کی دفاعی اور خودمختاری سے متعلق پالیسیوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مکمل طور پر ان شرائط سے مشروط ہے جو ایران نے باضابطہ طور پر طے کرکے امریکا تک پہنچائی ہیں۔

  • آبنائے ہرمز تب کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے،پاسدارانِ انقلاب

    آبنائے ہرمز تب کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے،پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اسی صورت مکمل طور پر کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہاہےکہ،آبنائے ہرمز کا کھلنا عمان کے ساتھ جاری مذاکرات سے براہِ راست منسلک نہیں اور کسی بیرونی فریق کو ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ملک کی جغرافیائی اور تزویراتی طاقت کا اہم ذریعہ ہے،انھوں نے زور دیا کہ اگر دشمن ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتی ہے تو ایران کی تمام شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک عارضی انتظام پر اتفاق کے امکانات بڑھ گئے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے بحری انتظام کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم اس کے مکمل نفاذ کے لیے مزید معاملات طے ہونا باقی ہیں۔

    قبل ازیں امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران، امریکا اور عمان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری سمجھوتے پر کام کر رہے ہیں یہ مجوزہ انتظام تقریباً 60 روز کے لیے ہو سکتا ہے جس میں بعد ازاں توسیع کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے نامہ نگار باراک راویڈ نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے منتظر ہیں۔

  • آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو ’حادثہ‘، کمپنی کا  بیان جاری

    آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو ’حادثہ‘، کمپنی کا بیان جاری

    یونان کی شپنگ کمپنی گیس لاگ نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے اس کے مائع قدرتی گیس بردار جہاز کو پیش آنے والے واقعے کے بعد صورتحال قابو میں ہے اور جہاز پر موجود تمام افراد محفوظ ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ گیس لاگ شنگھائی نامی ایل این جی ٹینکر کو 31 جولائی کو آبنائے ہرمز سے روانگی کے دوران ایک ’واقعہ‘ پیش آیا،کمپنی نے واقعے کی نوعیت یا اس کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جہاز یا اس پر موجود مائع قدرتی گیس کے کارگو کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔

    گیس لاگ کے مطابق واقعے کے فوراً بعد کمپنی نے اپنا ہنگامی ردعمل کا منصوبہ فعال کر دیا، متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی اور جہاز کی حالت کا مکمل جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا گیااس کی اولین ترجیح جہاز پر موجود عملے کی حفاظت ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام افراد محفوظ ہیں اور ان کا مکمل حساب موجود ہے،ماہرین جہاز کی تکنیکی حالت اور ممکنہ نقصان کا تفصیلی معائنہ کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیجی سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی بحری جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی ہےترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہےاسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم کرنے اور 22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

    ترجمان نے پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 جولائی کو قطری قیادت اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے الگ الگ رابطے کیے جن میں انہوں نے تمام فریقین پر ہر ممکن تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا قطری قیادت نے اس موقع پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔

    طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کیا اس دورے کا مقصد پاکستان کے د یرینہ دوست ملک قطر کے امیر اور قطری قیادت سے تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرنا تھا۔ پاکستانی قیادت نے اس موقع پر قطر کے ساتھ یکجہتی اور قریبی تعلقا ت کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں ایک دوست ملک کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ بھی کیا اس موقع پر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا دونوں ممالک نے اقتصادی روابط میں اضافے، سفارتی مکالمے کو مضبوط بنانے اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان اور پرتگال کے درمیان سالانہ دوطرفہ مشاورت بھی منعقد ہوئی پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے یورپ سفیر عائشہ علی نے جبکہ پرتگال کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ پالیسی سفیر ہیلینا مالکاٹا نے کی دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے تفصیلی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور او آئی سی کے رکن ممالک میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے موجود ہیں اور پاکستان ملک میں موجود تمام چینی شہریوں اور عملے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

    انہوں نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان اس جرم کی سخت مذمت کرتا ہے، تاہم یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے، شبیر حسین برطانوی شہری ہیں، ان کی پرورش بھی برطانیہ میں ہوئی، اس لیے حکومت پاکستان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کی جانب سے چارج شیٹ دائر کیے جانے کی بھی مذمت کی انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات اور جعلی ٹرائلز کے ذریعے حریت قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت سیاسی نعرے بازی اور سنسنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

  • پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز تاحکم ثانی مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان

    پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز تاحکم ثانی مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان

    ایران نے آبنائے ہرمز کو تاحکم ثانی عارضی طور پر بند کردیا،امریکی مداخلت ختم ہونے تک آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت روکنے کا اعلان کردیا-

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ اقدام ایک بحری جہاز پر انتباہی فائرنگ کے بعد کیا گیا ایران کا دعویٰ ہے کہ جہاز غیر منظور شدہ اور غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مزید کہا کہ آبنائے ہرمز خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رہے گی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگردشمن نے اس واقعے کو بہانا بنا کر کوئی غلط قدم اٹھایا تو اسے ’سخت ردعمل‘ کا سامنا کرنا پڑے گا،ایرانی نیوی کے مطابق، متعدد بحری جہازوں نے خبردار کیے جانے کے باوجود مقررہ راستےکی پابندی نہیں کی، ایک جہاز کو وارننگ فائر کےبعد روک لیا گیا۔

    امریکا نے ایران کےخلاف رواں ہفتے میں تیسری فضائی کارروائی کی سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں کیے گئے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز کو نشانہ بنایا، حملےمیں جہاز میں آگ لگ گئی، انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جہاز سفر جاری رکھنے کے قابل نہ رہا، عملے کا ایک رکن لاپتا ہے۔

    سینٹ کام کا کہنا ہے ایران کو پہلے بھی رویہ بدلنے کا موقع دیا گیا، کارروائی کا مقصد ایران کی بحری حملوں کی صلاحیت کو کمزورکرناہے، فضائی کارروائی امریکی صدر کی ہدایت پر کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے عمان، قطر، اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا پاسداران انقلاب کے مطابق، عمانی بندرگاہ پر امریکی طیارہ بردار جہازوں کے لاجسٹک سپورٹ مراکز پر اچانک حملہ کیا، ایندھن بھرنے والے پلیٹ فارمز کو تباہ کردیا، قطر میں العدید فضائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جنگی طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کے ایک مرکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تباہ کردیا۔

    ایران نے کسی بھی نئے حملے یا خلاف ورزی کا بھرپور جواب دینے کا اعلان بھی کردیا۔

  • آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم بات چیت،عباس عراقچی مسقط پہنچ گئے

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم بات چیت،عباس عراقچی مسقط پہنچ گئے

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اپنے ہم منصب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم بات چیت کریں گے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دورے کے بارے میں بتایا کہ وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ خطے کی صورتحال، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان جاری باہمی مشوروں کا حصہ ہے دونوں وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنا نے کے لیے مناسب طریقے بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا پرانا معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا.

    دوسری طرف امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ تہران آنے والے چند دنوں میں سب کے سامنے ایک عوامی بیان جاری کرے گا کہ آبنا ئے ہرمز کا راستہ کھلا ہے اور وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا.

    ایران کے بڑے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جمعہ کے روز ایک سخت بیان دیا انہوں نے کہا کہ ہم امریکیوں پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے، اور مذاکرات کے دوران میں نے امریکی نائب صدر پر واضح کر دیا تھا کہ ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں ہے.

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کا یہ سمندری راستہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہےیہ راستہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے کیونکہ ایران اس پر اپنا کنٹرول جتا رہا ہے اور اس نے پچھلے دنوں مبینہ طور پر وہاں جہازوں پر حملے بھی کیے تھے، جس کے جواب میں امریکا نے ایران کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی-

  • ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی

    ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے امریکی حملوں اور دھماکوں کی ویڈیو فوٹیج شیئر کی ہے ویڈیو میں بندر عباس میں مختلف مقامات پر دھماکوں اور فضائی حملوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں حالیہ حملوں کے دوران 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملے آبنائے ہرمز میں 3 بحری جہازوں پر تہران کے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    امریکی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، جہاز شکن میزائل صلاحیتوں اور آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں موجود اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی فوجی تنصیبات پر امریکا کے نئے فضائی حملے 10 روز قبل کیے گئے حملوں کے مقابلے میں دائرہ کار اور شدت کے اعتبار سے 4 سے 5 گنا بڑے ہیں، ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، ساحلی نگرانی کے نظام، اینٹی شپ کروز میزائل تنصیبات، بندرگاہی سہولتوں اور ڈرون لانچنگ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، سیریک اور جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں الجزیرہ نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جزیرہ قشم میں کم از کم 6، سیریک میں 7 سے 9 جبکہ بندر عباس میں 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں یہ حملے ایسے وقت کیے گئے جب لاکھوں ایرانی سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔

    خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دیا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب شہید سپریم لیڈر اور دیگر کے جسدِ خاکی عراق لے جائے گئے ہیں امریکی کارروائی کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا ایران آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی محفوظ آمد و رفت کا واحد محفوظ راستہ وہی ہے جس کی نشاندہی ایران نے کی ہے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھونس اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا،ایران دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی، مزید حملوں کی دھمکیاں، تیل پر پابندیاں، جنوبی ایران پر حملے اور لبنان میں صہیونی جارحیت کی مسلسل حمایت شامل ہے، دھونس اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا، ایران ہرگز نہیں جھکے گا۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس عہد شکنی کے تمام نتائج کی ذمے داری امریکی حکومت پر عائد ہو گی۔

    تہران نے تجارتی جہازوں پر حملوں سے متعلق خبروں اور بیانات کو مشکوک الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے ٹینکر نے ایرانی تنبیہات کو نظر انداز کیا تھا، تاہم اس پر حملے کی براہِ راست ذمے داری قبول نہیں کی جبکہ برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق دیگر 2 جہازوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور دونوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔

    رپورٹ کے مطابق تینوں حملے عمان یا متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب پیش آئے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ جہاز عمان کے قریب واقع بحری راستہ استعمال کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق ایک ٹینکر عمان کے ساحل کے قریب حملے کا نشانہ بننے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیاتھا-

  • آبنائے ہرمز کی سلامتی ساحلی ریاستوں کی ذمہ داری ہے، ایران

    آبنائے ہرمز کی سلامتی ساحلی ریاستوں کی ذمہ داری ہے، ایران

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ساحلی ریاستوں کی ذمہ داری ہے، بحران پیدا کرنے والے اپنی مہم جوئی کے نتائج کے ذمہ دارخود ہوں گے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز غیر علاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ، آبنائے ہرمزکی سلامتی کا ضامن ہونے کے ناطے آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف خبردار کرتے ہیں آبنائے ہرمز کی سلامتی ساحلی ریاستوں کی ذمہ داری ہے، بحران پیدا کرنے والے اپنی مہم جوئی کے نتائج کے ذمہ دارخود ہوں گے۔

    قبل ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا تھا کہ اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد حالات بدل چکے ہیں ، اب امریکا کو تجارت کے حوالے سے موجودہ حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا۔ امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ازبکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کے دوران باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد حالات ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوئے ہیں ، حالیہ پیشرفت نے امریکا کو نئے حقائق قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے، موجودہ ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے ، امید ہے کہ مستقبل میں پابندیاں اٹھانے کی بنیاد بھی تیار ہو جائے گیامریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

  • آبنائے ہرمز  پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے،قالیباف

    آبنائے ہرمز پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے،قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ہم مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے ایران کی جانب سے اس وقت جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، ان کا مقصد صرف پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

    سرکاری میڈیا سے گفتگو میں قالیباف نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کی فیس سے صرف 60 روزہ عارضی استثنا دیا گیا ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران اپنے مؤقف میں کوئی نرمی لائے گا آبنائے ہرمز ہماری علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے امریکا یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو عسکری بنا دیا ہے ہم کسی بھی قیمت پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    قالیباف نے آبنائے ہرمز کو خدا کی عطا کردہ نعمت اور ایران کا سب سے مؤثر ذریعۂ طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی انتظامی اور قانونی امور پر ایران اور عمان کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہو چکا ہے، آبنائے ہرمز سے بغیر کسی ٹیکس یا لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، کیونکہ اس سمندری راستے پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے اور وہاں بحری جہازوں کی آمدورفت انہی اصولوں کے مطابق ہوگی جو ایران طے کرے گاہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ ہر وقت مشورہ کرتے رہتے ہیں، اگر امریکا نے ایران کو اپنا تیل بیچنے سے روکنے کی کوشش کی، تو پھر یاد رکھے کہ دنیا میں کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

    ایرانی اسپیکر کے مطابق ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان کشیدگی سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے جس کے لیے تہران اور واشنگٹن اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ لبنان کی جانب سے بھی جلد نمائندہ نامزد کیے جانے کی توقع ہےایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد صرف دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا جا چکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مؤثر سفارت کاری اور مضبوط دفاعی طاقت مل کر نتائج دے سکتی ہیں۔

    انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام، دفاعی صلاحیتیں اور یورینیم افزودگی کا حق کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے بقول یورینیم افزودگی ہمارا قانونی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اگر تمام امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو مذاکرات جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر مفاہمتی یادد اشت کی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔