Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے ، جنہیں ”چھپی محافظ“ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھیجی گئیں چھوٹی آبدوزوں کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے بلومبرگ کے مطابق ایران کے پاس ”غدیر کلاس“ کی کم از کم 16 منی آبدوزیں موجود ہیں بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق ہر آبدوز میں 10 سے کم اہلکار سوار ہوتے ہیں۔

    ان آبدوزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو ٹارپیڈوز یا چین میں تیار کردہ دو سی-704 اینٹی شپ کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امن تجاویز پر اختلافات برقرار ہیں اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

    پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

    انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

  • صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

    صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

    پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

    انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی تجویز احمقانہ ہے، اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران کے ساتھ نمٹ کر دنیا کے لیے خدمات پیش کر رہے ہیں،ایران کے حوالے سے کوئی دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہا ہوں، ہم نے بڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    ایران نے آبنائے ہرمز میں باقاعدہ ایک بحری اتھارٹی قائم کردی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی قائم کردی بحری اتھارٹی آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے اور ان سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی مجاز ہوگی ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ایک فارم فراہم کیا جا رہا ہے جس میں ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات مانگی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے سرکاری چینل نے بھی رواں ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے قواعد و ضوابط بھیج دیے ہیں،یران نے اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو 28 فروری سے بند کر رکھا ہے ،حالات اس وقت اور کشیدہ ہوگئے جب 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کردی جو تاحال جاری ہے اور اس وجہ سے جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

  • فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’(Charles de Gaulle) کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے،تاکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے –

    فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتا ہے صدر امانوئل میکرون کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندر ی راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

    بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزرتے ہوئے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کو بروقت شروع کیا جا سکے ‘شارل ڈی گول’ اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تعینات ہوں گے۔

    اس مشن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون کی قیادت میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے یہ مشن صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری تجارت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اسی وجہ سے تقریباً 40ممالک اس ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی میں شریک ہیں امریکا اور ایران کو بھی الگ الگ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل دو بارہ معمول پر آ سکے-

  • فرانسیسی  طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی شپنگ کمپنی کے ایک جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمانی ساحل کا رخ کر لیا، جب کہ اسی کمپنی کے ایک اور جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق فرانسیسی شپنگ کمپنی کے کنٹینر بردار جہاز سیگون نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمان کے ساحل کے ساتھ سفر شروع کر دیا ہے، یہ جہاز اس سے قبل خلیجی پانیوں میں موجود تھا اور منگل کے روز آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا تھا۔

    اعداد و شمار فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق بدھ کے روز یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر محفوظ راستے پر گامزن ہو گیا، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے تاہم اسی فرانسیسی کمپنی کے ایک اور جہاز سان انتونیو پر منگل کے روز اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اس حملے میں جہاز کے عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے ہیں، کمپنی کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا،دوسری جانب فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کے لیے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا،چارلس ڈیگال طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 20 رافیل جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کے ساتھ کئی جنگی فریگیٹس بھی موجود ہیں۔

    فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق فرانسیسی بحریہ کا فلیگ شپ جہاز اپنے ہمراہ جنگی جہازوں کے ساتھ نہر سویز عبور کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب بڑھ رہا ہے، اس پیشگی تعیناتی کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے درکار وقت کم سے کم ہو۔

    فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس اور اس کے شراکت دار نہ صرف آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں بل کہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں فرانس چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا

    ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ جاسک کے قریب دو میزائلوں نے ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی جہاز نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے رکنے کے انتباہ کو نظر انداز کیا۔

    یہ مبینہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے پیر سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس مشن کے لیے 15 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے، جنگی جہاز اور ڈرونز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز پر میزائل حملے میں نقصانات کی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں امریکی صہیونی ڈسٹرائزر کے داخلے کو روک دیا ہے۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے ایک سخت اور فوری وارننگ کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے،دوسری جانب سینئر امریکی عہدیدار نے امریکی جہاز کا ایرانی میزائل کا نشانہ بننے کی خبر کی تردید کر دی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب بھی نہ جائےیرانی افواج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن ایرانی مسلح افواج سے رابطے میں رہ کر کی جائے۔

    ایرانی فوجی کمانڈر میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے غیر ملکی بحری بیڑوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کے بہا نے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہوں،ا مریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے نے عالمی تجارت اور معیشت کی سلامتی کو خطر ے میں ڈال دیا ہے۔

    میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے کہا کہ شرپسند امریکا کے حامیوں کو محتاط رہنا چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ناقابلِ تلافی پچھتاوا ہو، کیونکہ امریکا کی جارحا نہ کارروائیوں کا نتیجہ حالات کو مزید پیچیدہ بنانے اور بحری جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے یہ مشن پیر کی صبح شروع کیا جائے گا جس کا مقصد ان ممالک کے جہازوں کو آزاد کرانا ہے جو مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازع میں فریق نہیں ہیں دنیا کے کئی ممالک نے اپنے پھنسے ہوئے جہاز اور عملہ نکالنے کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے جس کے جواب میں انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک کو بھرپور تعاون کا یقین دلائیں، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں میں کھانے پینے کے سامان سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی اشیاء کی شدید کمی ہو چکی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد ان کمپنیوں اور ملکوں کو ریلیف دینا ہے جنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کے بقول یہ اقدام فریقین کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر اس انسانی ہمدرد ی کے عمل میں کسی نے بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کر رہے ہیں اور یہ عمل سب کے لیے انتہائی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس مشن کے تحت تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا کیونکہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے ہونے والی تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے،سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس دفاعی مشن کے لیے ہمارا تعاون علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے، جبکہ ہم بحری محاصرہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    اس بڑے آپریشن کی کامیابی کے لیے امریکی فوج اپنے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز، 100 سے زائد طیاروں، جدید ڈرونز اور 15 ہزار فوجی اہلکاروں کا استعمال کرے گی تاکہ اس عالمی تجارتی راہداری میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار  کی علامت ہے،ایرانی صدر

    آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا-

    خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے یہ طاقتیں خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران دشمن ممالک کو اس آبی راستے میں داخل نہیں ہونے دے گا-

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ایران کے لیے انتہائی قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلےمیں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائےگی ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

  • آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر

    آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے-

    ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنےنئے پیغام میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے، دو ماہ کی کشیدگی اور امریکی منصوبے کی ناکامی کے بعد خطے میں نیا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اسٹریٹیجک اثاثہ ہرمز صدیوں سے کئی شیطانی طاقتوں کی لالچ کو ابھارتا رہا ہے، خلیج فارس نہ صرف اقوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان کے ذریعے عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اور منفرد راستہ بھی فراہم کرتی ہے، ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کا حصہ تشکیل دیا ہے۔

    سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس مسلم اقوام، بالخصوص اسلامی ایران کے عوام کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بے مثال نعمت ہے، اسلامی انقلاب خطے میں “مغرور طاقتوں” کے اثر و رسوخ کے خاتمے کا اہم موڑ تھا، ایران کی خلیج فارس کے ساتھ سب سے طویل ساحلی پٹی ہے، ایرانی قوم نے خطے کی آزادی اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

  • روسی سُپر یاٹ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی توڑ کر بحفاظت گزر گیا

    روسی سُپر یاٹ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی توڑ کر بحفاظت گزر گیا

    آبنائے ہرمز میں جاری امریکا ایرانی کشیدگی اور بحری پابندیوں کے باوجود روسی ارب پتی الیکسی مورداشوف سے منسلک ایک لگژری سپر یاٹ بحفاظت گزرنے میں کامیاب ہوگیا-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے شپنگ پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ 142 میٹر طویل اور 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی یاٹ نورڈ جمعہ کو تقریباً 1400 جی ایم ٹی پر دبئی کی ایک مرینا سے روانہ ہوئی، ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز عبور کی اور اتوار کی صبح مسقط پہنچ گئی۔

    رائٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کثیر منزلہ تفریحی یاٹ کو اس راستے کے استعمال کی اجازت کیسے ملی، کیونکہ فروری سے ایران نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر نہایت اہمیت کی حامل ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہو تی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق الیکسی مورداشوف جو روسی صدر پیوٹن کے قریبی سمجھے جاتے ہیں باضابطہ طور پر نورڈ کے مالک کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں، تاہم 2025 کے روسی کارپوریٹ ریکارڈ اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ یاٹ 2022 میں ایک روسی کمپنی کے نام رجسٹر کی گئی تھی جو ان کی اہلیہ کی ملکیت ہے۔ یہ کمپنی روس کے شہر چیریپوویتس میں رجسٹرڈ ہے، جہاں مورداشوف کی اسٹیل کمپنی سیورستال بھی رجسٹرڈ ہے۔

    مورداشوف ان روسی شخصیات میں شامل ہیں جن پر یوکرین پر روسی حملے کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے پابندیاں عائد کی تھیں، ان پابندیوں کی وجہ ان کے صدر پیوٹن سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں پیر کے روز مورداشوف کے نمائندے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔