Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا ارنا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار محمد علی بیک کا کہنا ہے کہ اجلاس تہران اور مسقط کے مشترکہ فیصلے کے تحت خطے کے بعض ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا اجلاس کے انعقاد کے مناسب وقت کے حوالے سے ضروری انتظامات اور رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ایران، عمان کے ساتھ قریبی مشاورت کر رہا ہے۔

    دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اجلاس ملتوی ہونے کی تصدیق کر دی ہے،ایکس پر بیان میں کہا کہ ہم ایسے مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں جو ہمارے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کو فروغ دے،انہوں نے اپنے پیغام کے ساتھ بحرین، ایران، عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچموں کی تصویر بھی شیئر کی۔

    واضح رہے کہ یہ اجلاس عمان اور ایران کی اس کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی فریم ور ک کو یقینی بنانا تھا، جو عالمی تیل برآمدات کی اہم شاہراہ ہے، اجلاس میں عراق اور دیگر خلیجی ریاستوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ خلیجی ممالک ایران سے ملاقات کریں تو انہیں اعتراض نہیں، یہ خلیجی ممالک کا اپنا فیصلہ ہے ایران جنگ رواں سال ختم ہو جائے گی، ممکن ہے ایران جنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔

    قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کو پیر کے روز عمان میں اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا ہے، جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان معاملات میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی فوج کی بغیر کپتان ’سیل ڈرون‘ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مطابق امریکی فوج کی بغیر کپتان چلنے والی کشتی کو آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا، ایرانی حکا م کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں امریکی کشتی کا مبینہ جارحانہ مشن ناکام بنا دیا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تباہ کی گئی کشتی کا شناختی نمبر 5838 ہے اور اس کا نام سیل ڈرون (Saildrone) ہے ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں انسان کی مدد کے بغیر چلنے والی کشتی کا ایک حصہ تباہ دکھائی دے رہا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند اور مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے آبی گزرگاہ میں دشمن کی کسی بھی قسم کی موجودگی کو نشانہ بنایا جائے گا دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق اسے عمان کے ساحل کے قریب دو بحری جہازوں کو پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    ادھر یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم شہر موخا پر قبضہ کرلیا ہے، جس کے بعد باب المندب آبنائے پر ان کا کنٹرول مزید وسیع ہوگیا ہے باب المندب دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہوگی،ایران

    آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہوگی،ایران

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہوگی، کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہی

    تہران میں وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی حملوں نے ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری جہازوں کی جانب سے ایرانی جہازوں پر حملے دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں،امریکا اپنی غلطیوں کی قیمت پوری دنیا سے ادا کروانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال کی بنیادی وجہ امریکا اور اسرائیل ہیں، جبکہ خطے میں امن کی راہ میں بھی دونوں ممالک رکاوٹ بن رہے ہیں آبنائے ہرمز میں کسی بھی غیرملکی فوجی موجودگی کو جارحیت تصور کیا جائے گا موجودہ صورتِ حال میں خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اس کے اثرات صرف ایران یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔

    اسماعیل بقائی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی بحری افواج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک نئے محدود علاقے کے قیام اور جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے نقشے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی

    آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی

    ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ’غیر قانونی‘ قرار دیے گئے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا جس کے باعث اس میں آگ بھڑک اٹھی-

    ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آئل ٹینکر دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر رک گیا۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جہاز دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر رک گیا ٹینکر میں ٹکر کے بعد آگ بھڑک اٹھی، تاہم واقعے میں کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع فراہم نہیں کی گئی، آئی آر جی سی نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ جہاز کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

    پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر بحری جہازوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کے لیے تہران کی جانب سے اعلان کردہ طریقہ کار پر عمل کریں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اس سے قبل پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرایا، جس کے نتیجے میں ڈرون خلیج کے پانیوں میں جاگرا۔

    دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق اتوار کو امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا امریکی عہدیدار نے ’ایکسِیوس‘ کو بتایا کہ جولائی کے آخر کے بعد ایرانی سرزمین پر امریکا کی جانب سے یہ پہلا حملہ تھا۔

    حالیہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور خطے میں فوجی کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے، تاہم آئل ٹینکر کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے واقعے میں جانی نقصان یا بارودی سرنگوں کی اصل کے بارے میں فی الحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ڈرون مار گرنے کا دعویٰ

    ایران کا آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ڈرون مار گرنے کا دعویٰ

    ایرانی فورسز نے امریکی ڈرون MQ-9 کو آبنائے ہرمز کے اوپر مار گرنے کا دعویٰ کیا ہے.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا، جس کے نتیجے میں وہ خلیج کے پانیوں میں گر کر تباہ ہوگیا-

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے جدید فضائی دفاع کے ہمہ وقت چوکس جنگجوؤں نے پیر کی صبح طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ خلیج میں گر گیا،بیان میں ایرانی عوام کی میدان میں مسلسل موجودگی کو قوم کے جنگجوؤں کی سب سے بڑی حمایت کے طور پر بھی سراہا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے لارک جزیرے پر دو ایرانی لانچروں کو نشانہ بنایا، جو جولائی کے آخر کے بعد ایرانی سرزمین پر پہلا امریکی حملہ تھا، ایک امریکی اہلکار نے Axios کو بتایا۔

  • آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو پہلے وعدے پورے کرنا ہوں گے، ایران

    آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو پہلے وعدے پورے کرنا ہوں گے، ایران

    ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک مفاہمت طے پاگئی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد امریکا کی جانب سے اپنے وعدے پورے کرنے سے مشروط ہوگا۔

    انادولو ایجنسی کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے گزرنے کے انتظامات پر اتفاق ہوا ہے، لیکن یہ مفاہمت خود بخود نافذ نہیں ہوگی،اس مفاہمت پر عمل درآمد کے لیے دوسری جانب، خصوصاً امریکا کو اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گےجب امریکی وعدے پورے کیے جائیں گے تو ایران بھی اس کے مطابق ضروری اقدامات کرے گا۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے میں جلد بازی نہیں کررہا،ایران اپنی ’’دفاعی کارروا ئیاں‘‘ جاری رکھے گا اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات بھی کرتا رہے گا،یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں اور اگر واشنگٹن دوبارہ سفارت کاری کے راستے پر واپس آنا چاہتا ہے تو اسے ماضی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

    انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ضروری انتظامات عمانی حکومت کے ساتھ مکمل کرلیے گئے ہیں، تاہم مفاہمت پر عمل درآمد کے لیے درکار شرائط پوری کرنے کی ذمہ داری دوسری جانب پر ہےفی الحال آبنائے ہرمز بند ہے، اگر کوئی بحری جہاز اس راستے سے گزرتا ہے تو اسے ایران کے ساتھ رابطے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی اجازت و تعاون سے گزرنا ہوگا۔

    غریب آبادی نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ بعض بحری جہاز تہران کے ساتھ رابطے کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں، قطر اور پاکستان کے ساتھ ایران کی حالیہ ملاقاتیں اور رابطے دونوں ممالک کے ثالثی کردار کے تناظر میں ہوئے قطر اور پاکستان نے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی کہ ’’اسلام آباد مفاہمت‘‘ کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے یا نہیں۔

  • اقوام متحدہ کا  آبنائے ہرمز اور خلیج میں 400 بحری جہاز اور 6 ہزار ملاحوں کے پھنسے ہونے کا دعویٰ

    اقوام متحدہ کا آبنائے ہرمز اور خلیج میں 400 بحری جہاز اور 6 ہزار ملاحوں کے پھنسے ہونے کا دعویٰ

    اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی نے آبنائے ہرمز اور خلیج میں 400 بحری جہاز اور 6 ہزار ملاحوں کے پھنسے ہونے کا دعویٰ کر دیا اور امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آنے کے دعووں کے برعکس صورتحال کو تاحال غیر حل شدہ قرار دے دیا۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز کےمطابق خلیج میں اب بھی 400 تک بحری جہاز تقریباً 6 ہزار ملاحوں سمیت پھنسے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہےاور اس بحران کے خاتمے کے لیےسیاسی عزم، تعاون اور سفارتکاری کی ضرورت ہے۔

    آئی ایم او کے مطابق بعض جہاز اور ان کے عملے خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تاہم بڑی تعداد اب بھی خطرناک حالات میں پھنسی ہوئی ہے ایندھن، کھاد اور دیگر اہم اشیا کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث اس بحران کے عالمی معیشت اور عوام پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    آئی ایم او کے مطابق رواں تنازع کے دوران بین الاقوامی جہاز رانی پر کم از کم 70 حملوں کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں 19 ملاح جاں بحق ہوئے ہیں، ادار ے نے تمام متعلقہ ممالک اور بحری صنعت پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

  • ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر بات چیت، عالمی منڈی میں تیل سستا

    ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر بات چیت، عالمی منڈی میں تیل سستا

    ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جہاز رانی کی مشکلات کم کرنے کے حوالے سے بات چیت بحال ہونے کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 ڈالر فی بیرل سے زیادہ گر گئیں۔

    واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے،بدھ کو برینٹ خام تیل کے سودے 2.30 ڈالر یا 2.6 فیصد کمی کے بعد 86.28 ڈالر فی بیرل پر آگئے، کاروبار کے دوران برینٹ کی قیمت 13 اگست کے بعد کم ترین سطح تک بھی پہنچی،امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈ یٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.08 ڈالر یا 2.53 فیصد کم ہو کر 80.29 ڈالر فی بیرل رہی، ڈبلیو ٹی آئی بھی دورانِ کاروبار 10 اگست کے بعد کم ترین سطح پر آگیا، دونوں اہم بینچ مارکس کی قیمتوں میں منگل کو بھی 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے مذاکرات دوبارہ شروع کردیئے ہیں، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ایران اور عمان کے درمیان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے وقفے وقفے سے بات چیت جاری ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

    ایران اور عمان نے گزشتہ روز بتایا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت کے لیے’مشترکہ عارضی بحری راہداری‘کے معاملے پر بات کی اور اسے بارودی سرنگوں سے پاک کرنے پر بھی اتفاق کیا۔تاہم مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت اب بھی معمول سے کم ہے۔

  • عمانی وزیر خارجہ کل ایران کا دورہ کریں گے

    عمانی وزیر خارجہ کل ایران کا دورہ کریں گے

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسیدی آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے منگل کو تہران کا دورہ کریں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے، پیر کو تہران کا دورہ کریں گے،دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ بغداد کی جانب سے مختلف چینلز کے ذریعے بار بار کی درخواستوں کے بعد ایران نے متعدد عراقی آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے-

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے مال بردار بحری جہازوں کا مفت گزرنا ایران کے ساتھ بات چیت میں بنیادی مسائل میں سے ایک رہا ہے، ایران اور امریکہ اس بات پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں کہ آیا یہ آبنائے کھلا ہے یا بند اور اس پر کس ملک کا کنٹرول ہے ۔

  • آبنائے ہرمز کے قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے جہاز ضبط کیے جائیں گے, ایران

    آبنائے ہرمز کے قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے جہاز ضبط کیے جائیں گے, ایران

    ایران نے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو مالی جرمانے، حراست یا ضبطی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران ان بحری جہازوں کی جانچ کو بھی وسیع کر رہا ہے جن پر خلاف ورزیوں کا الزام ہے علاوہ ازیں ایران نیوی گیشن انتظامات پر امریکہ کے ساتھ تعطل کا شکار ہونے والی بات چیت کے درمیان اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کا استعمال کرنے والے تجارتی آپریٹرز پر بھی دباؤ بڑھا رہا ہے،ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس کی نقل و حمل کی ضروریات کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں نے بعد میں دوبارہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کی تو انہیں جرمانے، حراست یا ضبطی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    شپنگ فرمز پر زور دیا کہ وہ جہازوں کی فہرست کا جائزہ لیں،یہ انتباہ ایران کی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی کی طرف سے ایکس پر شائع ہونے والے ایک بیان میں آیا ہے، اتھارٹی نے خلیجی ریاستوں میں یا وہاں سے سامان منتقل کرنے والی کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چارٹر ترتیب دینے سے پہلے ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے اپنے تازہ ترین رجسٹر کا جائزہ لیںجانچ پڑتال ان جہازوں تک بھی پھیلے گی جو رجسٹر پر پہلے سے موجود جہازوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس میں جہاز کی منتقلی، ٹرانس شپمنٹ اور دیگر متعلقہ سمندری سرگرمیاں شامل ہیں۔