Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، قطری وزیراعظم

    دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، قطری وزیراعظم

    دوحہ: قطرکے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہےکہ قطر چند ہفتوں میں ایل این جی پیداوار معمول پرلانےکا ارادہ رکھتا ہے لیکن ایل این جی پیداوار معمول پرلانا ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے سے مشروط ہوگا

    برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکا ایران ہاٹ لائن انتہائی اہم ہے، ہاٹ لائن کا مقصد غلط معلومات اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنا ہے بعض عناصر معاہدہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، ضروری ہے کہ جہازوں کو ملنے والی کسی بھی دھمکی کی ایران سے تصدیق کی جائے قطر آبنائے ہرمز سےگزرنے پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا-

    قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران نےکوئی مجوزہ ماڈل پیش کیا تو انہیں اس کے حق میں دلائل دینا ہوں گے اور ہمیں ایران کے مجوزہ ماڈل کا جائزہ لینا ہوگا دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، امید ہے 30 دن میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی قطر چند ہفتوں میں ایل این جی پیداوار معمول پرلانےکا ارادہ رکھتا ہے لیکن ایل این جی پیداوار معمول پرلانا ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے سے مشروط ہوگا۔

  • اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسےملاحوں کو نکالنے کا مشن شروع کردیا

    اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسےملاحوں کو نکالنے کا مشن شروع کردیا

    اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے مرحلہ وار انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (IMO) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا عمل ایران، عمان، خطے کے دیگر ساحلی ممالک، امریکا اور عالمی بحری صنعت کے تعاون سے انجام دیا جائے گا اس آپریشن کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی گئی ہیں اور محفوظ بحری آمدورفت کے تمام انتظامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جا چکی ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تجارتی اور مال بردار جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنس گئے تھے تاہم گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد بحری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    شپنگ انٹیلی جنس ادارے کلیپر کے مطابق پیر کے روز کم از کم 36 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    عمان کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ آئی ایم او کے منصوبے کے تحت انخلا کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ موجودہ حالات میں کسی بھی ممکنہ حادثے یا جہازوں کے تصادم کے خطرات سے بچا جا سکے بحری راستے میں غیر معمولی دباؤ کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم اور تدریجی انداز میں بحال کرنا ضروری ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئی بھی ملک یہاں سے گزرنے پر فیس وصول نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول خطے کے تمام ممالک اس مؤقف سے اتفاق کریں گے۔

    دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپس نہیں جائے گی، اگر چہ دونوں فریق اس اہم آبی راستے کو کھلا رکھنے کے لیے رابطے کے مستقل ذرائع قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔

  • آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کو روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اس اہم بحری گزرگاہ میں تیل اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کے جواب میں ہم آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں۔

    صورتحال کے بارے میں زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ایران نے بندش کا اعلان کیا ہے، لیکن سمندری راستوں سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رکی نہیں ہے اطلاعا ت کے مطابق بعض بحری جہاز عمان کی سمندری حدود سے گزر رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی بلکہ جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

    اُدھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور وہاں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے دوسری جانب اسرائیلی وزیرا عظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے اسرائیلی حکام کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • مستقبل میں اگر  آبنائے ہرمز پر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا،ٹرمپ کی سخت وارننگ

    مستقبل میں اگر آبنائے ہرمز پر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا،ٹرمپ کی سخت وارننگ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا –

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی 60 روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی فیس نہیں لی جائے گی، اور اس کے بعد بھی کوئی ٹول نافذ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ یہ امریکا کے مفاد میں ہو،اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار نہ کر سکا تو امریکا اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس را ستے پر چارجز عائد کر سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے اس سے قبل بھی عندیہ دیا تھا کہ امریکا اس اسٹریٹجک راستے پر سیکیورٹی فیس یا ٹول سسٹم متعارف کرا سکتا ہے، جس کے بدلے واشنگٹن خطے میں سلامتی کی خدمات فراہم کرے گا ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور خطے میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، جبکہ امریکا کے سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری آمدورفت بدستور جاری ہے۔

    آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز رہی ہے عالمی توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے اس علاقے کی صورتحال عالمی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے مفاہمتی یادداشت کے مطابق 60 روزہ عبوری دور میں اس راستے کو کھلا رکھنے اور کسی بھی فریق کو ٹول عائد کرنے سے روکا گیا ہے۔

  • آج 50 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے ہیں،امریکی فوج

    آج 50 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے ہیں،امریکی فوج

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے ایرانی پاسداران انقلاب کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج 50 سے زائد تجارتی جہاز بحفاظت گزرے ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ امریکی افواج علاقے میں موجود ہیں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے چوکنا ہیں عالمی اہمیت کی اس بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے 20 جون کو آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر 55 تجارتی جہاز بحفاظت گزرے اور ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل اور دیگر تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا۔

    سینٹکام نے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کی تازہ ایڈوائزری کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ جہاز ایک مخصوص بین الاقوامی بحری راستے کے ذریعے محفوظ طریقے سے سفر کر رہے ہیں اور اس راستے پر کسی قسم کی غیر قانونی پابندی یا رکاوٹ موجود نہیں-

    واضح رہے کہ ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر اور پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہےدونوں ممالک کے متضاد دعوؤں نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے

  • معاہدے کی خلاف ورزی ، ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان

    معاہدے کی خلاف ورزی ، ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان

    ایران نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے بعد امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی اور وعدہ خلافی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے،امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ترجمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے ، یہ دشمن کی وعدہ خلافی کا پہلا جواب ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو دشمن کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کی خاطر مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنے علیحدہ بیان میں تصدیق کی کہ ہفتے کی صبح سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطا بق یہ تصدیق پاسداران انقلاب کے ایک فوجی ذریعے نے کی کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اب ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند ہے یہ اقدام امریکا کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے تمام تجارتی، تیل بردار اور دیگر بحری جہازوں کو سختی سے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز امریکا، ایران اور پاکستان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سے آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا تھا جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی تھی۔

  • معاہدے کے باوجود جہاز مالکان  آبنائے ہرمز پر جانےکو تیار نہیں، جاپان کی معروف شپنگ کمپنی کا انکشاف

    معاہدے کے باوجود جہاز مالکان آبنائے ہرمز پر جانےکو تیار نہیں، جاپان کی معروف شپنگ کمپنی کا انکشاف

    جاپان کی معروف شپنگ کمپنی مٹسوئی او ایس کے لائنز کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ جہاز مالکان فوری طور پر اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے سفر دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے جاپان کی معروف شپنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوتارو تامورا نے کہا کہ صرف معاہدے کا اعلان کافی نہیں ہوگا بلکہ زمینی حقائق میں بھی واضح تبدیلی نظر آنا ضروری ہے،شپنگ کمپنیوں کو یقین دلانا ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی صورتحال واقعی بہتر ہو چکی ہے اور بحری جہازوں کو کسی قسم کے فوجی یا سلامتی خطرات کا سامنا نہیں رہے گا۔

    ان کے مطابق متعلقہ ممالک کے درمیان معاہدے کے عملی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی شپنگ لائنز اعتماد کے ساتھ دوبارہ اس راستے کا استعمال شروع کریں گی معاہدے کو صرف کاغذی شکل میں نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ ہوتے دیکھنا ضروری ہے تاکہ جہاز مالکان اور انشورنس کمپنیاں خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی جس میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے آبنا ئے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور جمعہ تک مکمل طور پر کھل جائے گی معاہدے پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی حالات کے باعث کئی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیشرفت ہے، تاہم عالمی شپنگ انڈسٹر ی ابھی صورتحال کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہی ہے۔

  • اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ  طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا،ٹرمپ

    اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہونے جا رہے ہیں،اس معاہدے کے طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہوں گے انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ تھا ہمارا ایران کے ساتھ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں ہے اور وہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری، تیاری یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکے گا، اتوار کو ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا میری انتظامیہ کے ماضی کی امریکی حکومتوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے بیان میں اوباما انتظامیہ کے اُس فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت معاہدے کے وقت ایران کو اربوں ڈالر کے فنڈز واپس کیے گئے تھے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔

    امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت آنے پر اسے محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے گا ’حالات معمول پر آنے کے بعد امریکا ایران کے پہاڑوں میں دفن جوہری مواد تک رسائی حاصل کرے گا اور اسے بی ٹو بمبار طیاروں اور ماہر پائلٹس کی مدد سے باہر نکال کر ایران یا امریکا میں مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نےکہا کہ وہ ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ عمل تیزی کے ساتھ شروع ہوگا تاہم انہوں نے ایران کو دبے لفظوں میں ایٹمی حملے کی دھمکی ہوئے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کے پاس آخری متبادل موجود ہے، جسے وہ دوبارہ استعمال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے لے کر ممکنہ امن معاہدے تک، پاکستان نے مرکزی ثالث کے طور پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس پورے عمل میں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر متحرک نظر آئے، جنہوں نے خود بھی ایران کے دورے کیے اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا۔

    ٹرمپ کے اس بیان سے قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی شہباز شریف کے اس بیان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کیا تھا جب کہ عرب میڈیا نے عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد کی اتوار کو پاکستان آمد کا بھی دعویٰ کیا ہے جو ممکنہ طور پر اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوگا۔

  • امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ

    امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ

    امریکی فوج کا اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے قریب گرکر تباہ ہوا تاہم اس واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار عملےکے دو ارکان کو ریسکیو کر لیا گیا ہے تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کے نتیجے میں تباہ ہوا یا یہ کسی فنی خرابی، تکنیکی مسئلے یا حادثاتی صورتحال کا شکار ہوا امریکی حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حادثہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے وا قعے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر میں موجود عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

    اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ محفوظ ہیں اور ہیلی کاپٹر گرنےسےمتعلق باضابطہ رپورٹ جلد جاری کریں گے،جبکہ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ سامنے آسکے گی-

  • امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، امریکی فوج نے ایک تجارتی بحری جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ جہاز نے ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری محاصرے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، گمبیا کے پرچم تلے چلنے والا تجارتی جہاز ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جہاز کو متعدد بار متنبہ کیا گیا، تاہم اس نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیاحملے کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا اور ایران کی جانب اپنا سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اب تک پانچ تجارتی جہازوں کو غیر فعال کیا جا چکا ہے، جبکہ 116 دیگر جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ ایرانی بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکیں امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور پابندیوں یا محاصرے کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔