Baaghi TV

Tag: آذربائیجان

  • طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے "المناک حادثے” پر معافی مانگ لی-

    باغی ٹی وی: رواں ہفتے قازقستان میں آذربائیجان ایئرلائنز کے طیارے کے حادثے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہوئے تھے یہ طیارہ بدھ کے روز آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے روس کے جمہوریہ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی کی جانب جا رہا تھا راستے میں، یہ قازقستان کی حدود میں لینڈنگ کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق روسی صدارتی دفتر کریملن سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ صدر پیوٹن نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے روسی فضائی حدود میں طیارہ حادثے پر معذرت کی ہے تاہم انہوں نے روسی غلطی کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا، روسی صدر نے ٹیلیفون پر آذر بائیجان کے صدر سے طیارہ حادثے پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں بتایا کہ آذربائیجان کے طیارے کی لینڈنگ کے وقت گروزنی میں فضائی دفاعی نظام فعال تھا، اس وقت یوکرینی ڈرون حملے ہو رہے تھے۔

    غزہ ملین مارچ بین الاقوامی دنیا پر ایک مثبت اثر ڈالے گا،حافظ نعیم

    روس کے صدارتی محل کریملن کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے حادثے کو "المناک” قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی تاہم انہوں نے حادثے میں روس کے ممکنہ کردارکے بارے میں کچھ نہیں کہا کریملن کے بیان میں کہا گیا ہے "اس وقت گروزنی، موزدوک اور ولادیکاوکاز پر یوکرینی ڈرونز کے حملے ہو رہے تھے، اور روسی فضائی دفاعی نظام ان حملوں کو روکنے میں مصروف تھا۔”

    ڈاکٹرعاصم کے خاندان کی صحت کے شعبے میں شاندار خدمات ہیں، آصف زرداری

    آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ طیارہ "روسی فضائی حدود میں بیرونی جسمانی اور تکنیکی مداخلت کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں مکمل کنٹرول ختم ہوگیا” آذربائیجان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کی باڈی میں متعدد سوراخ، مسافروں اور عملے کو پہنچنے والے زخم، اور بچ جانے والے افراد کے بیانات حادثے میں بیرونی مداخلت کو ظاہر کرتے ہیں۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ابتدائی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طیارہ ممکنہ طور پر روسی فضائی دفاعی نظام کی وجہ سے تباہ ہوا، جبکہ یورپی یونین نے حادثے کی "آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات” کا مطالبہ کیا ہے روس، آذربائیجان اور قازقستان کے حکام حادثے کی وجوہات کی تحقیقات میں مصروف ہیں، اور ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ بیرونی اثرات کو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، روسی حکام نے اس معاملے پر کوئی واضح تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے-

    نیو ایئر نائٹ: پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان مکمل

  • پاکستان کاآذربائیجان سےگیس سپلائی کا معاہدہ

    پاکستان کاآذربائیجان سےگیس سپلائی کا معاہدہ

    پاکستان کاآذربائیجان سےگیس سپلائی کااہم معاہدہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل اور آذربائیجان کی سوکار کمپنی کا گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدہ ہوا،پاکستان اسٹیٹ آئل نے معاہدے کی تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردیں۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گیس سپلائی کا معاہدہ ہوا،خط کے مطابق پی ایس او اور سوکار معاہدے کی رسمی منظوری 24دسمبر کو موصول ہوئی۔پی ایس او کو معاہدے پر دستخط کی اجازت وزارت توانائی نے 3 دسمبر کو دی،گیس سپلائی معاہدے پر عملدرآمد مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا۔پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان معاہدہ توانائی کے شعبے میں بڑا قدم ہے۔واضح رہے پاکسستان کو اس وقت گیس کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث گھریلو صارفین کو محدود اوقات کے لیے گیس دی جا رہی ہے جبکہ سردیوں میں صنعتوں کو مکمل گیس کی سپلائی بند ہے.

    ٹیکس جمع نہ کروانے پر شادی ہالز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

  • آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ قازقستان میں تباہ ہونے والے طیارے کو روسی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکی حکام نے بھی طیارے کے میزائل کا نشانہ بننے کے امکان کے ابتدائی اشارے ملنے کا کہہ دیا ہے،رپورٹ کے مطابق طیارے نے اس علاقے سے اپنا رُخ تبدیل کیا جہاں روسی دفاعی نظام نصب ہے جبکہ قازق حکام کا کہنا ہےکہ طیارہ حادثے کی تحقیقات ابھی کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکیں۔آذربائیجان کے طیارے کی کرئش ہونے کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جس سے اس بات کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں کہ روسی اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم نے اس طیارے کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق، تحقیقات میں یہ ممکنہ طور پر ایک "غلط شناخت” کا معاملہ ہو سکتا ہے، جہاں روسی فوجی یونٹس نے غیر ارادی طور پر اس طیارے کو نشانہ بنایا۔

    یہ حادثہ کرسمس کے دن قازقستان کے شہر آکٹاؤ کے قریب پیش آیا، جس میں 67 افراد میں سے کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس حادثے کے حوالے سے اہم معلومات ہیں جن میں سے ایک دوسرے بلیک باکس کا ملنا ہے، جو اس حادثے کی اصل وجہ کے بارے میں اہم تفصیلات فراہم کر سکتی ہے۔

    طیارہ باکو سے گروزنی (روس) جا رہا تھا، اور یہ آکٹاؤ کے قریب ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ روسی میڈیا کے مطابق طیارہ گروزنی میں شدید دھند کے باعث راستہ تبدیل کر رہا تھا۔فلائٹ ریزلٹ ویب سائٹ کے مطابق، یہ پرواز مقامی وقت کے مطابق 7:55 پر روانہ ہوئی تھی اور تقریباً 2.5 گھنٹے بعد حادثہ پیش آیا۔ حکام نے یہ وضاحت نہیں کی کہ طیارہ کس وجہ سے کاسپین سمندر کے اوپر سے گزر رہا تھا، جب کہ باکو اور گروزنی سمندر کے مغرب میں اور آکٹاؤ اس کے مشرق میں واقع ہیں۔

    دوسرے بلیک باکس کو حادثے کے مقام سے تلاش کر لیا گیا ہے، جس سے تحقیقات میں مزید مدد ملنے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان بلیک باکسز کو پڑھنے میں تقریباً دو ہفتے لگیں گے۔قازقستان کے نائب وزیر اعظم، کاناٹ بوزمبایف نے بتایا کہ ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے جس میں قازقستان، آذربائیجان اور روس کے نمائندے شامل ہوں گے، تاہم روس اور آذربائیجان کے حکام کو فرانزک تحقیقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    حادثے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو پائلٹ اور ایک فضائی میزبان بھی شامل تھے۔ 29 افراد بچ گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق، طیارے میں سوار 37 آذربائیجانی شہری، 16 روسی، 6 کازاخ اور 3 قرغز شہری شامل تھے۔

    طیارے کے حادثے کے بعد، جو ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں، ان میں طیارے کے جسم میں شگاف نظر آ رہے ہیں جو ممکنہ طور پر شیل یا ملبے سے ہونے والے نقصان کی علامات ہو سکتی ہیں۔ آذربائیجان ایئرلائنز نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ حادثہ پرندوں کے ٹکرانے کی وجہ سے پیش آیا تھا، تاہم روسی ایوی ایشن حکام نے بھی اسی وجہ کو حادثے کی توجیہہ کے طور پر پیش کیا تھا۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حادثے کے حوالے سے قیاس آرائیاں نہ کریں، جب تک کہ تحقیقات مکمل نہ ہوں۔ روس، آذربائیجان اور قازقستان کے ماہرین اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کر رہے ہیں، اور اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    آذربائیجان کے مسافر طیارے کا بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

  • وزیراعظم کی  آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان کے سفارت خانے پہنچے جہاں انہوں سفیر سے آذر بائیجان کے طیارے کو پیش آئے حادثے پر اظہار افسوس کیا۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کی آذر بائیجان کے سفارت خانے آمد ہوئی جہاں انہوں ںے سفیر سے ملاقات کی وزیر اعظم نے قزاقستان کے علاقے اکٹاؤ (Aktau) میں آذربائیجان کے ہوائی جہاز کو پیش آنے والے حادثے اور اس میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا۔

    وزیراعظم نے حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور زخمیوں کی جلد از جلد صحتیابی کے لیے دعا کی، وزیراعظم نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام آذربائیجان کے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، آذربائجان اور پاکستان کے مابین مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار پر مبنی بھائی چارے کے مضبوط تعلقات ہیں-

    آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف (Khazar Farhadov) نے وزیراعظم کا ان کی تشریف آوری پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وزیراعظم پاکستان کا ہمارے سفارت خانے آ کر اظہار افسوس کرنا ہمارے لیے انتہائی قابل قدر ہے-

  • عبدالعلیم کی    آذربائیجان کو پی آئی اے  و دیگر اداروں کی نجکاری  میں شامل ہونے کی دعوت

    عبدالعلیم کی آذربائیجان کو پی آئی اے و دیگر اداروں کی نجکاری میں شامل ہونے کی دعوت

    اسلام آباد: وفاقی وزیر وزیر نجکاری اور سرمایہ کاری عبدالعلیم خان نے آذربائیجان کے شہر باکو میں وزیر اکانومی میکائیل جیباروف سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: وفاقی وزارت نجکاری سے جاری بیان کے مطابق وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے آذربائیجان کے ساتھ باہمی تعلقات مضبوط کرنے کا عزم دہراتے ہوئے اقتصادی امور کے وزیرمیکائیل جیباروف کو پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل ہونے کی دعوت دے دی۔

    اعلامیے کے مطابق آذربائیجان کے وزیراکانومی سے ملاقات کے بعد باقاعدہ اجلاس میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے باہمی تجارت، دو طرفہ تعلقات اور تعاون میں اضافے پر بات چیت کی، وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ، نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان نے وزیر معیشت میکائیل جیباروف سے باہمی دلچسپی بالخصوص تجارت میں اضافے اور باہمی معاہدوں سمیت مختلف آپشنز پر بات چیت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان میرا دوسرا گھر ہے اور یہ ہمارے دلوں کے نزدیک ملک ہے اورہم آذربائیجان کے ساتھ باہمی تعلقات مزید بڑھائیں گے۔

    وزارت نجکاری کے مطابق وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کی اجلاس میں آذربائیجان کی حکومت سے پاکستان میں نجکاری کے حوالے سے جی ٹو جی اور بی ٹو بی کی طرز پر شراکت پر مذاکرات ہوئے، عبدالعلیم خان نے مذاکرات کے دوران وزیر اکانومی میکا ئیل جیباروف کو پی آئی اے، زرعی ترقیاتی بینک، ڈسکوز، یوٹیلیٹی اسٹورز اور دیگر منصوبوں کی نجکاری میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

    آذربائیجان کے وزیر اکانومی میکائیل جیباروف نے پاکستان سے باکو تک براہ راست پرواز پراطمینان کا اظہارکیا اوران کا کہنا تھا کہ پاکستان سے باکو کی پرواز سے ہمارے سیاحت کے شعبے میں اضافہ ہوا ہے۔

    وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ، نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آذربائیجان ایل این جی اور رینیوایبل انرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ہمیں تجارت کے حجم میں اضافے کے لیے ٹھوس اور قابل عمل اقدامات کرنے ہوں گے۔

    وفاقی وزیر نے پاکستان میں شعبہ مواصلات میں بھی آذربائیجان کو باہمی تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سکھر سے کراچی موٹروے ایم 6 بندرگاہ سے براہ راست منسلک ہے، آذربائیجان اس میں حصہ لے،ہمیں اس باہمی تعاون اور دو طرفہ امور کو جوائنٹ وینچرز اور ایم او یوز سے آگے لے کر جانا ہے۔

  • جنرل ساحر شمشاد مرزا  کی  آذربائیجان کے صدر  سے ملاقات

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آذربائیجان کے صدر سے ملاقات

    راولپنڈی: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے آذربائیجان کے سرکاری دورے کے دوران آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے آذربائیجان کا سرکاری دورہ کیا۔ جنرل ساحر شمشماد مرزا نے دورے کے دوران آذربائیجان کے صدرالہام علیوف، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، چیف آف جنرل اسٹاف اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات مضبوط کرنے پر بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں کے دوران خطے کی سیکیورٹی اور متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیاملاقاتوں میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان فوجی تعاون میں اضافے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، امن و استحکام کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا گیا آذربائیجان کی قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو سراہا، آذربائیجانی قیادت نے پاکستان کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرنے کے لیے موجودہ تعاون کو وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا۔

  • جے ایف 17 لڑاکا طیارے   آذربائیجان کے فوجی بیڑے میں شامل

    جے ایف 17 لڑاکا طیارے آذربائیجان کے فوجی بیڑے میں شامل

    پاکستان اور چین کے اشتراک سے بنائے گئے جے ایف 17 لڑاکا طیارے آذربائیجان کے فوجی بیڑے میں شامل کرلیے گئے

    آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے باکو میں حیدر علیوف ایئرپورٹ پر پاکستانی فوجی حکام کے ہمراہ جے ایف سیونٹین سی لڑاکا طیارے کی مہارت کا مشاہدہ کیا،جےایف 17سی طیارے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن کے اشتراک سے بنائے گئے ہیں.

    JF-17C (بلاک III) جیٹ طیارے ہلکے وزن والے، ملٹی رول والے طیارے ہیں جو دن ہو یا رات تمام موسمی حالات میں آپریشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔بریفنگ کے دوران، صدر الہام علیوف کو طیارے کی تکنیکی خصوصیات اور آپریشنل صلاحیتوں کے بارے میں بتایا گیا، جو ہوا سے ہوا اور زمین سے زمین پر مضبوط جنگی صلاحیتوں اور درمیانی اور کم اونچائی پر اعلیٰ صلاحیت کا حامل ہے۔

    اس موقع پر آذر بائیجان کے وزیر دفاع حسنوف کا کہنا تھا کہ ان جدید جیٹ طیاروں کا اضافہ آذربائیجان کی فضائیہ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ "ہماری فوج میں JF-17C کے انضمام کے ساتھ، آذربائیجان کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا،” ۔

    JF-17C طیاروں کا حصول پاکستان اور چین کے ساتھ آذربائیجان کے دفاعی تعاون میں ایک اور سنگ میل ہے۔آذربائیجان کی فوجی جدیدیت اور اس کے ہتھیاروں کی توسیع صدر الہام علیوف کی قیادت میں اہم ترجیحات ہیں۔آذربائیجان اپنی مسلح افواج کی جنگی تیاریوں اور تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، فوجی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

    پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کے اسٹریٹجک تعلقات
    آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان برسوں سے مضبوط سفارتی اور دفاعی تعلقات رہے ہیں، دونوں ممالک بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر باہمی تعاون کی پیشکش کرتے ہیں۔ جولائی 2023 میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے پاکستان کے سرکاری دورے نے اس شراکت داری کو مزید مستحکم کیا، جس سے فوجی تعاون میں اضافے کی راہ ہموار ہوئی۔

  • ایوان صدر میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ

    ایوان صدر میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ

    صدر آصف علی زرداری سے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کی ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کا باہمی دلچسپی کے شعبوں میں سود مند تعاون بڑھانےکے عزم کا اعادہ کیا گیا،توانائی، تجارت، روابط، دفاع اور عوامی روابط کے شعبوں میں پاکستان -آذربائیجان تعاون مزید وسیع کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعلقات مزید بہتر بنانے کی وسیع گنجائش موجود ہے،دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے کیلئے پاکستان اور آذربائیجان کے عوام اور تاجروں کے درمیان باقاعدہ روابط بڑھانے کی ضرورت ہے ،وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان گوادر بندرگاہ کو علاقائی تجارت، روابط ، سیاحت ، خطے میں مشترکہ اقتصادی خوشحالی لانے کے لیے استفادہ کر سکتے ہیں،

    صدر مملکت نےپاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ مفاہمت کی یادداشتوں سے تجارت ، سیاحت، کان کنی ، معدنیات، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، قانون اور انصاف کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو نئی تحریک ملے گی، مشرقی ممالک میں دنیا کو خوشحالی کی طرف لے جانے کی صلاحیت موجود ہے ،پاکستان وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان کے ساتھ پائیدار اور نتیجہ خیز روابط قائم کرنا چاہتا ہے،

    آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اچھے عوامی روابط ہیں،دونوں ممالک کو اقتصادی تعلقات بڑھانے کیلئے کاروباری تعلقات کو فروغ دینا ہوگا،پاکستان اور آذربائیجان قابل ِتجدید توانائی کے شعبے میں مل کر کام کرنے کے امکانات تلاش کر سکتے ہیں،

    بعد ازاں ، صدر مملکت نے ایوان صدر میں صدر الہام علیوف اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا،ظہرانے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، سفارتکاروں اور صحافیوں نے بھی شرکت کی

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار  کی آذربائیجان ہم منصب سے ملاقات

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان ہم منصب سے ملاقات

    اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے آذربائیجان کے وزیرخارجہ جہیون بیراموف نے ملاقات کی-

    اسحاق ڈار نے نے آذربائیجان کے وزیرخارجہ کی وزارت خارجہ میں آمد پر ان کا ستقبال کیا بعدزاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈاراورآذربائیجان کے وزیرخارجہ نے مشترکہ نیوزکانفرنس کی اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا دونوں ممالک میں مضبوط اور دیرینہ تعلقات ہیں، پاکستان آذر بائیجان کی خود مختاری کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے شعبے میں مواقع موجود ہیں، آذر بائیجان کے وزیر خارجہ کے ساتھ باہمی سرمایہ کاری، ثقافت، تعلیم، پارلیمانی وفود کے تبادلوں پر تبادلہ خیال ہوا اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے مسئلہ کشمیر پرمؤقف کوسراہا ہے۔

    آذربائیجان کے وزیر خارجہ جہیون بیراموف نے کہا کہ پاکستان اورآذربائیجان کےدرمیان دوطرفہ مضبوط تعلقات ہیں، دونوں ممالک کےدرمیان تجارت کےشعبے میں مواقع موجود ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت دی …

    نیب ترامیم کیس: عمران خان ویڈیو لنک پر پیش،سپریم کورٹ نے لائیو سماعت درخواست …

    فارمیشن کمانڈرز کانفرنس:9 مئی کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا …

  • ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش جاری،ریسیکیو ٹیمیں روانہ،موسم سرد

    ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش جاری،ریسیکیو ٹیمیں روانہ،موسم سرد

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا ہے،

    ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہےکہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر تلاش کرلیا گیا ہے جب کہ ایرانی ہلال احمر نے اس کی تردید کی ہے۔

    واضح رہے کہ ایرانی صدر آذر بائیجان کے دورے پر تھے، تین ہیلی کاپٹروں کا قافلہ تھا، دو ہیلی کاپٹروں نے محفوظ لینڈ نگ کی تا ہم تیسرے ہیلی کاپٹر بارے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں،ایرانی میڈیا نے پہلے ہیلی کاپٹر کی محفوظ لینڈنگ کی خبر دی اور کہا کہ ہنگامی لینڈنگ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہوئی ہے اور ایرانی صدر تبریز روانہ ہو گئے ہیں تا ہم ایرانی میڈیا نے بعد میں کہا کہ ہیلی تباہ ہو گیا ہے،تاہم کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود ابھی تک تک ہیلی کاپٹر نہ مل سکا نہ ہی ایرانی صدر بارے کوئی خبر سامنے آ سکی، ایرانی صدر رئیسی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی گئی ہے اور سرکاری ٹی وی نے ان کی حفاظت کے لیے دعائیں کی ہیں،حادثےکی خبر سامنے آنے کے بعد مشہد میں بڑی تعداد میں شہری حضرت امام علی رضا کے مزار پر جمع ہوگئے اور صدر رئیسی کی سلامتی کی دعائیں مانگی گئیں-

    متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے قافلے میں ایک ہیلی کاپٹر مبینہ طور پر مشرقی آذربائیجان میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کو بتایا کہ امدادی کارکن "واقعہ” کی جگہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا ہوا اس بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی اور نہ ہی اس میں کون سوار تھا،اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر میں ملک کے وزیر خزانہ امیر عبداللہ بھی صدر کے ساتھ تھے۔وزیر خارجہ بھی ایرانی صدر کے ہمراہ تھے

    تہران ٹائمز کے مطابق صدر کے قافلے میں 3 ہیلی کاپٹر تھے جن میں سے دو بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ گئے،رئیسی مشرقی آذربائیجان صوبے میں قز قلعسی ڈیم کے افتتاح کے لیے تھے، خراب موسم کے باعث امدادی ٹیموں کو صدر تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، ڈرون یونٹس بھی امدادی کارکنوں کی مدد کر رہے ہیں،

    ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی کا کہنا ہےکہ ایران کے مشرقی آذربائیجان صوبے جولفہ کے قریب سرچ آپریشن جاری ہے، خراب موسم کی وجہ سے سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔بین الاقوامی خبررساں ادارے نے ایرانی سرکاری ٹی وی کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ ریسکیو حکام ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں،دشوارگزار علاقے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے ،صدرکے ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن کچھ مواصلاتی مشکلات ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر کے بارے میں پر امید ہیں، حادثےکی جگہ سے آنے والی خبریں تشویش ناک ہیں، ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے پاسداران انقلاب، فوج اور پولیس کو حکم دیا ہےکہ وہ صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں

    موسم سرد،فضائی آپریشن میں مشکلات، زمین آپریشن جاری
    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ہیلی کاپٹر کے جی پی ایس ٹرانسمٹر سے ورزقان شہر کے قریبی علاقے کی نشاندہی ہوئی ہے، صدر اور ان کی ہمراہ اعلی عہدے داروں کی ٹیم 3 ہیلی کاپٹروں سے تبریز ریفائنری کی جانب جا رہی تھی جب صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا،موسم سرد ہے اور کوہرا چھایا ہوا ہے جس کے نتیجے میں صدر کا ہیلی کاپٹر ہارڈ لینڈنگ پر مجبور ہوا،آئی آر آئی بی کے رپورٹر نے بتایا کہ ویزبلیٹی 10 میٹر سے کم ہے، 40 امدادی ٹیمیں جائے حادثہ کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔ایرانی فوج بھی ریسکیو کے کاموں کے لئے متحرک ہو چکی ہے، اس وقت تک جائے حادثہ کی جگہ کا پتہ نہیں چل سکا ،سردی بڑھ گئی ہے، موسم سخت ہے جس کی وجہ سےسرچ آپریشن کا کام مشکل ہوگیا ہے۔ بعض ماہر کوہ پیما بھی امدادی ٹیموں میں شامل ہوگئے ہیں،موسم سرد ہونے کی وجہ سے فضائی امداد کا امکان نہیں ہے لہذا ریسکیو اینڈ آپریشن ٹیمیں زمینی راستوں سے جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں

    ہمیں ابھی تک ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا کوئی سراغ نہیں ملا،ایرانی ہلال احمر
    دوسری جانب ایرانی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی تک ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا کوئی سراغ نہیں ملا،ایرانی حکام نے تبریز ایئرپورٹ پر ایرانی صدر، وزیر خارجہ، مشرقی آذربائیجان کے گورنر اور لاپتہ ہیلی کاپٹر کے عملے کی تلاش کے لیے ایک آپریشنل ہیڈ کوارٹر قائم کر دیا ہے،ایران میں ایرانی صدر کی زندگی کیلئے دعائیں کی جارہی ہیں ،قم میں حضرت فاطمہ معصومہ کی درگاہ پر ایرانی صدر کے لیے دعائیہ تقریب ،شہروں، خانقاہوں اور مساجد میں ایرانی صدر کے لئے دعائیہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ایرانی ہلال احمر کے ترجمان کے مطابق ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی جگہ پر تلاشی کے دوران ہم نے امدادی ٹیموں کے 3 ماہرین کو کھو دیا ہے۔

    ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ،صدر مملکت آصف زرداری،وزیراعظم شہباز شریف کی دعائیں
    پاکستان کے صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ عبداللہیان اور دیگر لوگوں کو لیکر جانے والے ہیلی کاپٹر کی خبر سن کر گہری تشویش ہوئی۔ میں صدر رئیسی کی صحت و سلامتی کیلئے دل سے دعا گو ہوں تاکہ وہ ایرانی قوم کی خدمت کرتے رہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران سے عزت مآب ایرانی صدر کے حوالے سے افسوسناک خبر سنی۔ صدر سید ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر بارے اچھی خبر کا بڑی بے چینی سے انتظار ہے کہ سب ٹھیک ہیں۔ ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں عزت مآب صدر رئیسی اور پوری ایرانی قوم کے ساتھ ہیں۔سینٹر علامہ راجہ ناصر عبا س کا کہنا ہے کہ برادر اسلامی ملک، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی پہاڑی اور جنگلی علاقے میں کرش لینڈنگ کی خبر ہمارے اور ان کے کروڑوں چاہنے والوں کے لیے شدید اضطراب کا باعث ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کے صدر عالم اسلام کے ایک باوقار، مدبر اور بابصیرت رہنما ہیں۔ صدر ابراھیم رئیسی ،ان کے وزیر خارجہ اور ھیلی کاپٹر میں سوار دیگر افراد کی سلامتی کے لیے اہل اسلام سے دعاؤں کی درخواست ہے۔آذربائیجان کے صدر نے ایران کے اعلیٰ حکام کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

    آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ کی خبر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ایکس پر جاری بیان میں آذر بائیجان کے صدر کا کہنا تھا کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کو الوداع کہنےکے بعد اعلیٰ ترین وفد کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ کی خبر سے شدید پریشانی ہے اللہ تعالی کے حضور ہماری دعائیں صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے ساتھ ہیں، ایک پڑوسی، دوست اور برادر ملک کے طور پر جمہوریہ آذربائیجان کسی بھی مدد کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق امریکا کا ردعمل سامنے آگیا ہے،امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق خبروں پر ہماری نظر ہے، ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کریش کی صورتحال پر امریکی صدر جو بائیڈن کو بریفنگ دی گئی ہے،اس وقت ہم اس پر مزید کوئی کمنٹ نہیں چاہتے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثہ سے متعلق خبروں پر گہری تشویش ہے ہم مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کھڑے ہیں، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے وفد کی خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔

    سرکاری نیوز ویب سائٹ ارنا کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ صدر کا ہیلی کاپٹر وٹیکٹڈ ایریا میں گر کر تباہ ہوا، جو کہ ایک جنگل اور پہاڑی علاقہ ہے،تاہم صدر اور ان کی ٹیم کو کس قسم کا ہیلی کاپٹر لے جا رہا تھا اس کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی،ایران مختلف قسم کے ہیلی کاپٹر چلاتا ہے لیکن کئی دہائیوں کی پابندیوں کے باعث نئے طیاروں کی خریداری یا پرزے حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ایران میں اس وقت خدمات انجام دینے والے بہت سے فوجی طیارے ملک کے 1979 کے انقلاب سے پہلے کے ہیں۔الجزیرہ کے مطابق، "ایران میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر، طیارے کافی پرانے ہیں ،اسی لیے ایسے حادثات ایران میں کثرت سے ہوتے ہیں۔

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی زیر صدارت ایرانی سپریم کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے سے ملکی انتظامیہ متاثر نہیں ہوگی، آذربائیجان میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کے زیر صدرات سپریم کونسل کا اجلاس جاری ہے ، جس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے حادثے کا شکار ہونیوالے افراد کی بخیریت بازیابی کی دعا کی ایرانی سپریم نے کہا ہے کہ صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے سے ملکی انتظامیہ متاثر نہیں ہوگی۔

    ایرانی امور خاص کے ایگزیکیوٹیو محسن منصوری کا کہنا ہے کہ صدر ابراہیم رئیس کو ہدافرین سے تبریز لے جانے والے لاپتہ ہیلی کاپٹر میں سوار دو افراد نے حکام کے ساتھ متعدد رابطے کئے ہیں۔ ان میں سے ایک ہیلی کاپٹر کا مسافر تھا اور دوسرا ہیلی کاپٹر کے عملے کا رکن تھا، ایسا لگتا ہے واقعہ ابتدائی طور پر سوچی گئی شدت سے کم پیچیدہ تھا۔ فی الحال دو مربع کلومیٹر کے علاقے میں تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا-

    قبل ازیں ایرانی سید ابراہیم رئیسی اور الہام علی اف نے زیر تعمیر قیز قلعہ سی ڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے صدور سید ابراہیم رئیسی اور الہام علی اف نے آج بروزاتوار 19 مئی 2024، زیرو بارڈر پوائنٹ پر مشترکہ ڈیم قیز قلعہ ڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا،قیز قلعہ سی ڈیم کی تعمیر کے بعد، خدا آفرین ڈیم میں ذخیرہ شدہ پانی، جو کہ قیز قلعہ سی ڈیم کے اوپر کی طرف واقع ہے، مشرقی آذربائیجان، اردبیل اور جمہوریہ آذربائیجان کے میدانی علاقوں میں نہری اور پایاب ورک کے ذریعے سالانہ 2 بلین کیوبک میٹر کے حساب سے زراعت اور برقی توانائی کی پیداوار کے شعبوں کو دیا جائے گی،خدافرین نیٹ ورک کو پانی کی فراہمی، سالانہ 270 گیگا واٹ گھنٹے کی شرح سے بجلی کی فراہمی اور ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے لیے 2 بلین کیوبک میٹر سالانہ کی شرح سے پانی کو منظم کرنا قیزقلعہ سی ڈیم کی تعمیر کے اہداف میں شامل ہیں۔

    خدانخواستہ موجودہ ایرانی صدر کو اس حادثے میں کچھ ہوجاتا ہے تو آگے کیا ہوگا۔

    الجزیرہ کے مطابق صدر کی اچانک موت کی صورت میں ایرانی آئین کہتا ہے کہ پہلے نائب صدر جو فی الحال محمد مخبر ہیں، سپریم لیڈر کی منظوری سے صدر کا عہدہ سنبھالیں گے،حکومت کے ترجمان علی بہادری جہرومی نے بتایا کہ محمد مخبر حکومت کے دیگر ارکان کے ساتھ تبریز روانہ ہوگئے ہیں، حکومتی کابینہ کا اجلاس بھی ہوا ہے جس میں لاپتہ ہیلی کاپٹر کے بارے میں تازہ ترین رپورٹس پیش کی گئی ہیں۔

    ایرانی سیاسی درجہ بندی کے مطابق ریاست کے سربراہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہیں اور صدر کو حکومت کا سربراہ اور سیکنڈ ان کمانڈ سمجھا جاتا ہے،جب سیکنڈ ان کمانڈ کا انتقال ہو جاتا ہے، تب پہلا نائب صدر انچارج ہوتا ہے اور 50 دنوں میں ملک کو نئے صدر کے انتخاب کے لیے الیکشن میں جانے کی ضرورت ہوتی ہے،قطر یونیورسٹی کے پروفیسر مہجوب زویری کے مطابق ابراہیم رئیسی ایرانی سیاست میں ایک بھاری وزن رکھتے ہیں، مہجوب زویری کے مطابق ابراہیم رئیسی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا ہے۔