Baaghi TV

Tag: آڈیو لیکس

  • آڈیو لیکس، افسران کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم

    آڈیو لیکس، افسران کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم

    آڈیو لیکس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،
    عدالتی حکم کے باوجود سینئر افسران عدالت میں پیش نہ ہوئے،سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے بیٹے اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کی۔چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ان افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، ان افسران نے خود سے کیسے طے کر لیا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

    سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے بیمار ہیں، پیش نہیں ہو سکے، ڈی جی آئی بی کی جگہ ڈپٹی ڈی جی پیش ہوئے ہیں،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہا کہ جو افسران بیمار ہیں وہ آئندہ سماعت پر اپنی میڈیکل رپورٹس پیش کریں،ایف آئی اے کی جانب سے ڈائریکٹر وقار الدین سید عدالت میں پیش ہوئے

    واضح رہے کہ عدالت نے آڈیو لیکس کیس میں چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے کو آج طلب کر رکھا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور سی پی این ای کے نمائندگان کو بھی بلایا تھا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • آڈیو لیکس کیس،خود بھی آڈیو لیک کی جا سکتی یا فون ہیک ہو سکتا،وزارت دفاع کا جواب

    آڈیو لیکس کیس،خود بھی آڈیو لیک کی جا سکتی یا فون ہیک ہو سکتا،وزارت دفاع کا جواب

    آڈیو لیکس کیس ،بشری بی بی اور ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کا آڈیو لیکس کے خلاف کیس ،وزارت دفاع کا جمع کروایا گیا جواب سامنے آگیا

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • آڈیو لیکس کیس: ایف آئی اے سمیت دیگر کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت

    آڈیو لیکس کیس: ایف آئی اے سمیت دیگر کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت

    اسلام آباد: آڈیو لیکس کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر عدالت نے ایف آئی اے سمیت دیگر کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سماعت کی،سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ اور اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے وزیر اعظم آفس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آڈیو ٹیپنگ کی آئی ایس آئی، ایف آئی اے ،آئی بی کسی ایجنسی کو بھی آڈیو ٹیپ کرنےکی اجازت نہیں،ایف آئی اے کو پہلے دیکھنا ہے کس نے کال ریکارڈ کی، عدالتی احکامات کے بعد ایف آئی اے ٹیلی کام کمپنیوں کو لکھ رہا ہے ایف آئی اے کو سن آئی پی ایڈریسز تک رسائی چاہیے ہوگی اگر کوئی حکومتی ایجنسی ریکارڈنگز کر رہی ہے تو غیر قانونی کر رہی ہے آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا فلیٹ فارمز سے رپورٹ لینی پڑے گی، تب ہی تحقیقات آگے بڑھ سکتی ہیں۔

    عام انتخابات: کاغذات نامزدگی کی وصولی کا آغاز کر دیا گیا

    جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آئی ایس آئی کہہ رہی ہے آڈیو کہاں سے لیک ہوئی اس کے سورس کا پتہ نہیں لگا سکتی،استفسار کیا کہ آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے ذریعے کیوں ریورٹ فائل کی؟جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو وزیراعظم آفس کے ذریعے ریورٹ فائل کرنی چاہیے تھی۔

    دورانِ سماعت پیمرا کے وکیل نے کہا کہ ہم نے کہا تھا ٹی وی چینلز اس قسم کی آڈیو لیکس نشر نہیں کریں گے، ہم نے یہ معاملہ کونسل آف کمپلینٹ کو بھیجا وہ فیصلہ کریں گے،عدالت نے وکیل پیمرا سے استفسار کیا کہ کیا آپ موثر طریقے سے بطور ریگولیٹر کام کر رہے ہیں؟ کیا آپ نے ٹی وی چینلز کو کسی اور کیس میں فوری ہدایات جاری کیں ہیں؟ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوری طورپر آپ ایکشن نہیں لے سکتے؟معاملہ کونسل آف کمپلینٹ کے پاس جائے گا، فریڈم آف انفارمیشن اور پرائیویسی کا معاملہ ہے کیس بیلنس ہونا چاہیے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو یقینی بنائے۔

    عام انتخابات: کاغذات نامزدگی کی وصولی کا آغاز کر دیا گیا

    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ اعتزاز صاحب آپ بتائیں کیسے اس کیس کو اب آگے بڑھایا جائے؟بشریٰ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہاں نام لینے پر تو پابندی ہے لیکن میری تصویر پورا دن چلتی رہی ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ تو آپ کے الیکشن میں بھی پھر آپ کی مدد کرے گی، بحرحال یہ ایک سیریس ایشو ہے اس کو ایڈریس کریں گے۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل منصور اعوان کو کہا کہ آپ چیک کیجئے گا کوئی خبر تھی کہ آئی بی کو ریکارڈنگ کی اتھارٹی دی گئی کیا ایسا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں چیک کرکے بتا دوں گا۔

    عدالت نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ ڈی جی صاحب آئندہ سماعت پر آپ تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں تماشہ بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیں، اب وفاقی حکومت پر ہے کہ وہ کیسے چلانا چاہتے ہیں، حکومت نے نہیں بتایا تو پھر ہم نیشنل اور انٹرنیشنل عدالتی معاون مقرر کریں گے، بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے سمیت دیگر کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    عمران خان توشہ خانہ،سائفر کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی۔

  • سوشل میڈیا پر آڈیولیک کرنے والے شخص کی شناخت کی صلاحیت موجود نہیں،پی ٹی اے

    سوشل میڈیا پر آڈیولیک کرنے والے شخص کی شناخت کی صلاحیت موجود نہیں،پی ٹی اے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی آڈیولیکس کے خلاف کیس ،پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرایا گیا جواب سامنے آ گیا

    پی ٹی اے کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی تحقیقاتی ایجنسی نہیں ہے، پی ٹی اے کے پاس سوشل میڈیا پر آڈیولیک کرنے والے شخص کی شناخت کی صلاحیت موجود نہیں، پی ٹی اے کے پاس مبینہ آڈیولیک کے سورس کی شناخت کا بھی اختیار نہیں،

    قبل ازیں آڈیو لیکس کیس ، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے عدالتی سوالات پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرا دیا، جواب میں کہا گیا کہ شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے،اینٹلی جنس ایجنسیز جو اندرونی و بیرونی محاذ پر ملکی دفاع میں مصروف ہیں وزیراعظم آفس کا حساس اداروں کے آپریشنز اور ان کردار کی تفصیل میں جانا قومی مفاد میں نہیں وزیراعظم آفس حساس اداروں سے آئین اور ملکی قانون کے مطابق عوامی مفاد میں کام کی امید رکھتا ہے . آڈیو لیکس کیس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے پوچھا ہے کہ کس ایجنسی کے پاس شہریوں کی فون کالز ریکارڈ کی صلاحیت موجود ہے ؟ وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے روز مرہ کے حساس کاموں میں مداخلت نہیں کرتا ، وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے کلیدی ورکنگ میں مداخلت نہیں کرتا ، شہریوں کی ٹیلی فونٹ گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے، فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 قانون نافذ کرنے والے اور اینٹلی جنس اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا فریم ورک فراہم کرتا ہے

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی ٹیلی فونک گفتگو کو خفیہ رکھنے کے کیا سیف گارڈز ہیں ؟ انوسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت دینے کا میکنزم فراہم کرتا ہے شہریوں کی قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی گفتگو کو خفیہ رکھنا اور لیک ہونے سے روکنے کو یقینی بنانا ضروری ہے اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ریکارڈ کی گئی گفتگو کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نا کیا جا سکے ، ٹیلی گراف ایکٹ 1885 میں بھی پیغامات پڑھنے کے لیے وفاقی یا صوبائی حکومت سے اجازت کو لازم قرار دیا گیا ہے ، پیکا آرڈی نینس اور رولز کے تحت بھی حاصل کیے گئے ڈیٹا یا ریکارڈ کو خفیہ رکھنا لازم ہے ،

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ شہریوں کی گفتگو کس نے ریکارڈ اور لیک کیں؟ تحقیقات کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ؟شہریوں کی ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو ریکارڈ کر کے لیک کرنے کا معاملہ وفاقی حکومت کے علم میں ہے ، وفاقی حکومت نے سینئر ججز پر مشتمل اعلی سطح کا انکوائری کمیشن قائم کیا ، انکوائری کمیشن لیک کی گئی آڈیوز کے مصدقہ ہونے کی انکوائری کرے گا

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ تیس اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کرتے ہوئےوفاقی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیا تھا،عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاملہ وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ ایک ماہ میں اپنا تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائیں، دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیئے کہ،یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے دفتروں اور چیمبروں میں ہماری گفتگو بھی ریکارڈ ہو رہی ہو، میں آپکو مناسب وقت دونگا مگر قانونی دائرہ کار متعلق جواب جمع کرایا جائے.

  • آڈیو لیکس کیس،شہریوں کی  گفتگو ریکارڈ کرنے کیلیے لیگل فریم ورک موجود ہے،جواب جمع

    آڈیو لیکس کیس،شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کیلیے لیگل فریم ورک موجود ہے،جواب جمع

    آڈیو لیکس کیس ، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے عدالتی سوالات پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرا دیا، جواب میں کہا گیا کہ شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے

    اینٹلی جنس ایجنسیز جو اندرونی و بیرونی محاذ پر ملکی دفاع میں مصروف ہیں وزیراعظم آفس کا حساس اداروں کے آپریشنز اور ان کردار کی تفصیل میں جانا قومی مفاد میں نہیں وزیراعظم آفس حساس اداروں سے آئین اور ملکی قانون کے مطابق عوامی مفاد میں کام کی امید رکھتا ہے . آڈیو لیکس کیس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے پوچھا ہے کہ کس ایجنسی کے پاس شہریوں کی فون کالز ریکارڈ کی صلاحیت موجود ہے ؟ وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے روز مرہ کے حساس کاموں میں مداخلت نہیں کرتا ، وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے کلیدی ورکنگ میں مداخلت نہیں کرتا ، شہریوں کی ٹیلی فونٹ گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے، فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 قانون نافذ کرنے والے اور اینٹلی جنس اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا فریم ورک فراہم کرتا ہے

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی ٹیلی فونک گفتگو کو خفیہ رکھنے کے کیا سیف گارڈز ہیں ؟ انوسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت دینے کا میکنزم فراہم کرتا ہے شہریوں کی قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی گفتگو کو خفیہ رکھنا اور لیک ہونے سے روکنے کو یقینی بنانا ضروری ہے اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ریکارڈ کی گئی گفتگو کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نا کیا جا سکے ، ٹیلی گراف ایکٹ 1885 میں بھی پیغامات پڑھنے کے لیے وفاقی یا صوبائی حکومت سے اجازت کو لازم قرار دیا گیا ہے ، پیکا آرڈی نینس اور رولز کے تحت بھی حاصل کیے گئے ڈیٹا یا ریکارڈ کو خفیہ رکھنا لازم ہے ،

    جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ شہریوں کی گفتگو کس نے ریکارڈ اور لیک کیں؟ تحقیقات کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ؟شہریوں کی ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو ریکارڈ کر کے لیک کرنے کا معاملہ وفاقی حکومت کے علم میں ہے ، وفاقی حکومت نے سینئر ججز پر مشتمل اعلی سطح کا انکوائری کمیشن قائم کیا ، انکوائری کمیشن لیک کی گئی آڈیوز کے مصدقہ ہونے کی انکوائری کرے گا

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • شہریوں کی کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟عدالت

    شہریوں کی کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟عدالت

    آڈیو لیکس کے خلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،

    کسی ایجنسی کو شہریوں کے فون ٹیپنگ اور ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی، وفاقی حکومت نے عدالت کو آگاہ کر دیا ،جسٹس بابر ستار نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم جاری کیا ، عدالت نے سوال کیا کہ شہریوں کی الیکٹرانک سرویلنس اور کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا وہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس سے متعلق مشاورت کریں گے،اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ مشاورت کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے، وزیراعظم کے سیکرٹری، سیکرٹری دفاع و داخلہ اور چیرمین پی ٹی اے نے اپنا جواب جمع کرایا، حکومت کے جواب کے مطابق کسی ایجنسی کو شہریوں کے فون ٹیپنگ اور ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی، حکومت کے جواب کے مطابق شہریوں کے فون ٹیپنگ یا سرویلینس کے لئے جج سے وارنٹ لیا جا سکتا ہے، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں،

    وزیراعظم آفس بتائے فون ٹیپنگ کی اجازت دی گئی؟ کسی کو اختیار دیا گیا یا وارنٹ حاصل کیے گئے؟ وفاقی حکومت کی جانب سے اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو تفصیلات جمع کرائیں، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری متعلقہ وزارتوں اور حساس اداروں نے سربراہان سے معاونت لے سکتے ہیں،عدالت امید کرتی ہے کہ وفاقی حکومت مطلوبہ معلومات کے ساتھ ایک واضح رپورٹ پیش کرے گی،پاکستان کے پاس باصلاحیت اور فعال نیشنل سیکورٹی انفراسٹرکچر موجود ہے،یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا ریاست کے علم میں آئے بغیر کسی دشمن ایجنسی نے ملک کے اعلی ترین پبلک آفس کی کالز ریکارڈ کر لیں، یہ بھی نہیں مانا جا سکتا ریاست کے علم میں آئے بغیر غیر ریاستی عناصر نے وزیراعظم آفس کی کال ریکارڈ کی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • آڈیو لیکس کیس ، عدالت نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیدیا

    آڈیو لیکس کیس ، عدالت نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی، عدالت نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیدیا،

    عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاملہ وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ ایک ماہ میں اپنا تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائیں، دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیئے کہ،یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے دفتروں اور چیمبروں میں ہماری گفتگو بھی ریکارڈ ہو رہی ہو، میں آپکو مناسب وقت دونگا مگر قانونی دائرہ کار متعلق جواب جمع کرایا جائے.

    اٹارنی جنرل نے آڈیو لیکس کیس کی سماعت ان کیمرہ کرنے کی استدعا کی، جس پرجسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا تحریری جواب جمع کرائیں پھر اسکو دیکھتے ہیں، یہ پاکستان کی تاریخ ہے ، بینظیر بھٹو کیس سے اب تک یہ چیزیں ریکارڈ پر ہیں .کیا آفسز میں یہ ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر اس سے بلیک میل کیا جاتا ہے ؟ آڈیوز پر جو کمیشن بنا اس کے ٹی او آرز میں یہ تھا ہی نہیں کہ یہ آڈیوز ریکارڈ کون کرتا ہے ،اگر ہمارے فون کی نگرانی کی جارہی ہے تو ہمیں پتہ ہونا چاہئیے کہ ایسا کون کررہا ہے؟ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی فیملی کی آڈیو لیک ہوئی، آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہ کسی دشمن ایجنسی نے کیا ہے؟ ریاست پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر ایسا کرنا خوفناک فیصلہ ہے،آڈیو لیکس کے معاملے پر مقصد الزام تراشی نہیں بلکہ شھریوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ انکے حقوق کیا ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ خفیہ اداروں کے پاس نجی فون گفتگو،آڈیو ریکارڈ کرنے کے لامحدود اختیار نہیں اور اس حوالے سے انکی صلاحیت متعلق اِن کیمرہ بریفنگ دی جا سکتی ہے.

    دوران سماعت جسٹس بابر ستار اور اٹارنی جنرل کے درمیان ایک مکالمہ ہوا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن آڈیوز کا ذکر ہے ان کے حوالے سے ابھی تک کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں ، ابھی تک پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ حکومتی ایجنسی نے ریکارڈ کیں ہیں یا نہیں ؟ یہ چیز واضح ہو لینے دیں آڈیوز کس نے ریکارڈ کیں ہیں ،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ خفیہ اداروں کے روزانہ کے معاملات نہیں دیکھتا ، بے نظیر بھٹو (فون ٹیپنگ) کیس بھی ہماری تاریخ ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن خفیہ اداروں کے پاس یہ صلاحیت ہے اس سے متعلق ان کیمرہ کاروائی میں بتا سکتے ہیں ،

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    مبینہ آڈیوز لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت ، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ کر دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس نے آڈیو لیکس بینچ پر اعتراضات کا حقیقی منظر نامہ بھی بیان کردیا،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا تعلق 14 اور 18 جنوری کو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے ہے،آرٹیکل 224 کے تحت پنجاب میں 14 اپریل اور خیبرپختونخوا میں 18 اپریل کو انتخابات ہونا تھے، متعلقہ حکام نے ڈیڈ لائن کے بوجود انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، نتیجتاً پشاور اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر ہوئیں ،درخواستوں میں عام انتخابات کی تاریخ دینے کی استدعا کی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کی مجاز اتھارٹی قرار دے دیا ،گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں،90 دن کی آئینی ڈیڈلائن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری کو چیف جسٹس کو از خود نوٹس کیلئے نوٹ لکھا، 18 فروری کو پنجاب اور کے پی کے اسپیکرز نے سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست دائر کی، مشترکہ درخواست میں عدالت سے پنجاب میں خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ مانگی گئی، اطلاعات کے مطابق اس دوران ہائیکورٹس میں معاملہ التوا کا شکار تھاچیف جسٹس نے 22 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر ازخود لیا، چیف جسٹس نے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے کر 23 فروری کو سماعت کیلئے مقرر کردیا،

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسی دوران 16 فروری کو ٹوئیٹر پر انڈیبل نامی اکاؤنٹ سے تین مبینہ آڈیوز جاری ہوئیں ، ایک مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور ارشد جھوجا کے مابین گفتگو پر مشتمل تھی،ایک مبینہ آڈیو صدر سپریم کورٹ بار اور چوہدری پرویز الٰہی کے مابین تھی،تیسری مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے درمیان تھی،دو ماہ کے دوران نامور شخصیات کی ٹیلی فونک گفتگو کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ جاری ہوئیں 23 اپریل کو مبینہ طور پر چیف جسٹس کی خوش دامن کی بھی آڈیو جاری کی گئی، وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیوز کی تصدیق کئیے بغیر ججز کی تضحیک کیلئے آڈیوز کی توثیق کر دی،وفاقی حکومت نے عدلیہ کی آزادی کو بالائے طاق رکھ دیا،وفاقی وزراء نے مبینہ آڈیو ریکارڈنگز کو ججز کی حکومت کے خلاف تعصب کے ثبوت کے طور پر پیش کیا،منتخب حکومت کے نمائندوں کی جانب سے اعلی عدلیہ کے ججز کی تضحیک کا عمل نا صرف میڈیا بلکہ پارلیمان میں بھی جاری رہا،وفاقی حکومت نے بالآخر 19 مئی کو مبینہ آڈیوز پر ایکشن لیا ، وفاقی حکومت کی جانب سے مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا،کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کی خواہش پہلے آڈیوز کی سچائی جاننا تھی ،انکوائری کمیشن کا مقصد آڈیوز کی درستگی ثابت ہونے پر تادیبی کارروائی کا تعین کرنا تھا،اگر کمیشن اس نتیجے پر پہنچتا کہ آڈیوز جعلی ہیں تو انہیں بنانے والوں کیخلاف کاروائی ہونا تھی،

    وفاقی حکومت نے اعلی عدلیہ کے تین ججز کو انکوائری کمیشن کے لئے چنا، ریکارڈ پر موجود ہے کمیشن کی تشکیل سے پہلے وفاقی حکومت نے چیف جسٹس کو نہ مطلع کیا ، نہ مشورہ کیا اور نہ ہی انکی رضا مندی حاصل کی،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے 22 مئی کو پہلا اجلاس بلایا،کمیشن کے اجلاس کے فوری بعد سپریم کورٹ میں کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں ، 26 مئی کو موجود 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی،اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو بینچ سے الگ ہونے کی درخواست کی،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا جواز چیف جسٹس کی خوش دامن کی مبینہ آڈیو بتایا گیا، عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست کو مسترد کردیا،عدالت نے آڈیوز آئیندہ سماعت تک آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کو کام سے روک دیا،31 مئی کو اٹارنی جنرل نے ججز کی بینچ سے علیحدگی کیلئے درخواست دائر کی، اٹارنی جنرل نے کہا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ سے علیحدگی کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے،لہذا ہمارا فیصلہ صرف چیف جسٹس کی بینچ سے علیحدگی کی درخواست تک محدود ہے ،دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ، مختلف حربوں سے عدالتی فیصلوں میں تاخیر، عدالت کی بے توقیری کی گئی،بے توقیری کا سلسلہ یکم مارچ 2023 سے شروع ہوا، حکومت 4 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے نظر ثانی اپیل کے پیچھے چھپ گئی، وفاقی حکومت کا مقصد اپنی بے عملی کو جواز دینا تھا، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کو سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکی ہے، وفاقی حکومت نے متعدد آئینی مقدمات سے ججز کو الگ کرنے کیلئے درخواستیں دائر کیں، آڈیو لیکس میں بھی مفادات کا ٹکراؤ بے سروپا بنیادوں پر درخواست دائر کی،آڈیو لیکس کیس کیخلاف اعتراض کا مقصد چیف جسٹس پاکستان کو بنچ سے الگ کرنا تھا،وفاقی وزرا نے انتخابات کیس میں عوامی فورمز پر اشتعال انگیز بیانات دیے،وزیروں کا اشتعال انگیز بیانات کا مقصد حکومتی ایجنڈے کو تقویت دینا تھا، سپریم کورٹ نے حکومت کے ان مقدمات کو انتہائی تحمل اور صبر سے برداشت کیا، ججز پر اعتراضات والی حکومتی درخواست عدلیہ پر حملہ ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ججز بینچ پر حکومتی اعتراض مسترد کردیا ،عدالت نے ججز پر اعتراض کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا ،عدالت نے بینچ سے علیحدگی کی درخواست کو مسترد کردیا ،آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا

    حکومت نے چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر اعتراضات کیے تھے ،حکومت نے مفادات کے ٹکرائو پر تینوں ججز کی بنچ سے علیحدگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی ،سابقہ اتحادی حکومت نے پرویز الہی، چیف جسٹس کی خوش دامن سمیت 9 مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا تھا سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میں قائم آڈیو لیکس کمیشن کو پہلے ہی کام سے روک رکھا ہے ،پی ڈی ایم حکومت نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس کیس،وفاق نے عدالت میں مہلت مانگ لی

    ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس کیس،وفاق نے عدالت میں مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس متعلق نوٹس کے خلاف درخواست کے بعد وفاق کی جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی متفرق درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 15 ستمبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے وفاق کی متفرق درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے اس سے قبل چار ستمبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت دے رکھی تھی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ اٹارنی جنرل بیرون ملک ہیں جواب جمع کرانے کے لئے کچھ وقت دیا جائے ،آڈیو لیکس سے متعلق مرکزی کیس 18 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے

    واضح رہےکہ گزشتہ دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر ابوزر چدھڑ سے ٹکٹ کے معاملے پر بات کر رہے تھے جب کہ ثاقب نثار نے بھی آڈیو میں بیٹے کی آواز کی تصدیق کی تھی۔ثاقب نثار کا بیٹا نجم ثاقب تحریک انصاف کے نئے ٹکٹ ہولڈر افراد سے گفتگو کررہا ہے،انکو کہہ رہا ہے ابو 11 بجے تک دفتر آجاتے ہیں،ٹکٹ دلوانے پر انکا شکریہ ادا کرنے آجائیں،ساتھ 1 کروڑ 20 لاکھ سے کم نہیں لانے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی تھی نجم الثاقب نےاسپیکر اسمبلی کی بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کر رکھی ہے۔

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

  • آڈیو لیکس کیس،اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت

    آڈیو لیکس کیس،اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس کیس میں ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک پر خصوصی کمیٹی میں طلبی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستار کیس نے کیس کی سماعت کی، عدالتی معاون بیرسٹر اعتزاز احسن ،وکیل درخواست گزار سردار لطیف کھوسہ اوراٹارنی جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے. عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ قانونی نکات ہیں ان پرآپ کی معاونت چاہئے ہو گی عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں ان کے جوابات کیلئے آپ کو بلایا ہے اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیو لیکس کے معاملے پر کمیشن قائم کیا عدالت نے جو سوالات اٹھائے وہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی ہیں سپریم کورٹ نے بھی ان سوالات پر فیصلہ سنانا ہے

    آپ کو عدالتی سوالات کے جوابات دینے میں کتنا وقت چاہئے ہوگا؟ عدالت
    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے 5 سوالات پر ہی معاونت کریں معاملہ بالآخر سپریم کورٹ میں ہی جانا ہے ہوسکتا ہے ہم کوئی فیصلہ دیں تو وہ سپریم کورٹ کیلئے معاونت ہو،سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ یہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے،حکومت چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کیسے جوڈیشل کمیشن بنا سکتی ہے حکومت کو چاہئے تھا چیف جسٹس سے مشاورت کرتی اور وہ ججز نامزد کرتے ،عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا آپ کو عدالتی سوالات کے جوابات دینے میں کتنا وقت چاہئے ہوگا؟ آپ کو 4 ہفتے کا ٹائم دیتے ہیں،عدالت نے اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی ،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل جواب کی کاپیاں فریقین کو بھی فراہم کریں عدالت نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی خصوصی کمیٹی میں طلبی کے خلاف حکم امتنازع میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 اگست تک ملتو ی کردی

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا