Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے سپیکر محمد سبطین خان کی زیرِ صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات میں محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماہی پروری سے متعلق سوالات پوچھے گئے جن کے جوابا ت صو بائی وزیر علی عباس رضانے دیے۔

    گزشتہ اجلاس میں پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وومن بل 2022 لاہور، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 او ر راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 گورنر پنجاب کو منظوری کے لیے بھجوائے گئے تھے۔تاہم گورنر پنجاب نے بل منظور کیے بغیر واپس بھیج دیے تھے۔

    آج کے اجلاس میں مذکورہ تمام بلز دوبارہ پیش کیے گئے جسے ایوان نے کثرت رائے سے دوبارہ منظور کر لیے۔بعد ازاں ملک احمد خان نے سپیکر کی اجازت سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف ایوان میں قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان حلیم عادل شیخ پر امپورٹڈ حکومت کے ایما پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ وفاقی حکومت حلیم عادل شیخ پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ یہ ظلم کی رات ختم ہونے کے قریب ہے۔ایوان حلیم عادل شیخ پر جھوٹے مقدمات واپس لے کررہا کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ قرارداد کو ایوان نے منظور کر لیا۔

    بعدازاں رکن اسمبلی عمر فاروق نے ایوان میں بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کے خلا ف قراردادپیش کی۔ قراردادمیں کہا گیا کہ ”پنجاب اسمبلی کایہ ایوان پیمراکی جانب سے بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہے۔ ایوان سمجھتاہے کہ بول نیوزکی بندش کے پیچھے ہزاروں صحافیوں کامعاشی قتل عام کرنے کامنصوبہ ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔

    وفاقی حکومت نے بول نیوزکوبندکرکے آزادی صحافت پرگھناؤناوارکیاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ ایوان وفاقی حکومت اورپیمراسے فوری طورپر بول نیوزکی بندش کاحکم نامہ فوری واپس لینے کامطالبہ کرتاہے۔” ایوان نے قراردادکثرت رائے سے منظور کرلی۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکرمحمد سبطین خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 12 ستمبر بروز سوموار سہ پہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب،عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب،عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا جس میں آرمی چیف کی تقرری سے متعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پاک فوج میں چیئرمین پی ٹی آئی کے بیان پر شدید غم و غصہ ہے، آئی ایس پی آر

    وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج صبح 11 بجے ہوگا، کابینہ اجلاس میں سیلاب کی صورت حال اور ریلیف سرگرمیوں پر بریفنگ دی جائے گی،ذرائع کے مطابق عمران خان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی معاشی اور سیاسی صورت حال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

     

    عمران خان کے فوج مخالف بیانات،حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے کی شدید مذمت

     

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اداروں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی عمران نیازی کی مہم ہر روز ایک نئی انتہا کو چھو رہی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ عمران نیازی کی اداروں کوبدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی انتہائی قابل مذمت مہم ہر روز نئی انتہا کو چھو رہی ہے، عمران خان اب براہ راست فوج اور فوجی قیادت پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور زہریلے الزامات لگا رہے ہیں۔


    شہباز شریف نے کا مزید کہا کہ عمران خان اب فوج اور فوجی قیادت کے بارے میں براہ راست کیچڑ اچھال رہے ہیں اور زہریلے الزامات لگا رہے ہیں، عمران خان کا مذموم ایجنڈا واضح طور پر پاکستان کو نقصان پہنچانا اور کمزور کرنا ہے۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے یونیورسٹی آف کمالیہ بل2022 پیش کیا.

    محکمہ سوشل ویلفیئر سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران لیگی رکن ملک ارشد نے صوبائی وزیر غضنفر عباس چھینہ کو دلچسپ مبارکباد دی،ملک ارشد کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے غضنفر عباس چھینہ نے وزیر بننے کے لیے بہت تگ و دو کی ہے، خیر جیسے بھی وزیر بنے میں مبارک باد دیتا ہوں۔

    ایوان میں جہیز فنڈ کے استعمال سے متعلق غلط جواب پر ملک ارشد اور صوبائی وزیر بیت المال کے درمیان تکرارہو گئی،ملک ارشد نے کہا کہ میرے سوال کا جواب محکمے کی جانب سے غلط جواب دیا گیا ہے۔جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھ جائیں میں آپکے خدشات دور کر دیتا ہوں۔ملک ارشد نے کہا کہ میں یہاں نہیں بیٹھوں گا آپ میرے ساتھ ساہیوال چلیں وہاں بیٹھیں گے۔جس پرسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صوبائی وزیر بیت المال کو ملک ارشد کے ساتھ ساہیوال میں جاکر مسئلہ حل کرنے کی رولنگ دے دی.

    صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے ایوان میں خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ملک میں ایسی صورتحال قائم کر دی جسے لوگ سویلین مارشل لاء کہتے ہیں، سویلین مارشل لاء وفاقی وزیر داخلہ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں، راجہ بشارت اور خود بیٹھ کرنجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو کھلوانے کےآرڈر کو دیکھیں گے،عارف حمید بھٹی کو آف ائیر کر دیا سمجھ نہیں آتی کرتے کیا ہیں؟ ، سوشل میڈیا کی خبریں ملکی مفاد میں نہیں ہوتیں، جو حکومت کام کررہی ہے تو انہیں بھیانک خواب آیا کریں گے، شور کوٹ میں بدقسمتی سے یونس نومی قاتلانہ حملے میں شہید ہوئے ہیں ڈی پی او سے رپورٹ لوں گا.

    حسنین بہادر دریشک کا ایوان میں کہنا تھا کہ نہر تین سو کیوسک ہے راوی میں پچاس ہزار کیوسک پانی آ جائے تو کہتے سیلاب آگیا ہے، دو ہزار دس میں سیلاب آیا تھا دریائے سندھ میں دس لاکھ کیوسک تک پانی آیا تو پھر شہروں کے درمیان پانی ہی پانی تھا،یقین دہانی کرواتا ہوں ڈی جی خان اور راجن پور میں ایسا اقدام اٹھائیں گے کہ مسائل حل کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیکا ایوان میں کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کو سنجیدہ ہی نہیں لیاجاتا، کہتے رہے دس سال سے چناب چنیوٹ پر اپنا رخ تبدیل کررہا ہے زرعی زمین دریا برد ہو رہی ہیں،چنیوٹ والے لوگ بہت خوشحال تھے لیکن سیلاب سے وہ بے زمین ہوگئے اب غیر کاشتکار بے گھر اور فصلیں تباہ ہو گئیں وہ سڑک پر آ گئے،چھوٹے چھوٹے بچے بزرگوں کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ہے انہیں لوگ سالن روٹی دے رہے ہیں، اے سی چنیوٹ اتنے نواب ہیں کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں آنا پسند نہیں کرتے،ہم افسر شاہی کی نذر ہوئے ہیں لوگوں کا کیا قصور ہے ان کا نمائندہ لوٹا نہیں ہوتا، رولنگ دیں کہ چنیوٹ میں سرکاری زمین پر بے گھر لوگوں کو پانچ سے دس مرلہ جگہ دیں.

    سپیکر سبطین خان نے کہا کہ ڈی سی چنیوٹ سے پوچھیں کہ لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے،راجہ بشارت نے ایوان میں یقین دہانی کرائی کہ اے سی بھوانہ سے بھی رپورٹ منگوا لی ہے.

    پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی گونج بھی سنائی دی، چودھری ظہیر الدین نے ایوان میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنایا جائے تاکہ سیلابوں سے بچا جائے، جس طرح سیلاب آ رہے ہیں ہمیں کالا باغ ڈیم بنانا ہوگا، کالا باغ ڈیم میں دس میلن ایکٹر پانی اکٹھا ہوگا پچیس ملین ایکٹر پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کےلئے مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی، ڈیموں کو بنانے کےلئے ایک سکیم ہونا چاہئیے کہ نہروں تک انہیں بلترتیب پہنچایا جائے، پاکستانیوں پر سیلاب کی شکل میں ایک عذاب آیا ہے.

    چودھری ظہیر الدین کا مذید کہنا تھا کہ جو سیلاب سے متاثر ہوئے انہیں سرکاری زمین دی جائے،جو ہوٹل سیلاب میں گرے ہیں اس کے بعد ایس او پیز طے کی گئی ہیں کہ دو سو گز سے دور ہوٹل بنائیں گے،لوگ پانی اورآگ کے عذاب کے بعد خوف کے عذاب میں بھی مبتلا ہیں،دریائوں کی گزر گاہوں پر تعمیرات کرکے کر کاشتکاری کی جائے، پینتس ملین ایکٹر پانی سمندر برد کیاجاتا ہے جبکہ دس ملین ایکٹر فصلوں کو درکار ہوتاہے.

    راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں کہا کہ سیلاب پر دنیا ہمدردی اور مدد کرنے کےلئے پہنچ گئی ہے، وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سیلاب زدگان کی مدد کےلئے کوشاں ہے، ویر اعظم ریلیف فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف فراہم کریں، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکیں ادویات اور کھانا نہیں ہے گھر مٹی کے ڈھیر بن چکے ہیں، سیلاب سے پاکستانیوں کے مویشی پانی میں بہہ گئے نہ ان کے گھر اور نہ ہی زمین رہی، سیلاب پر لوگوں کو نہیں بتایا جا رہا ہے کہ حکومت متاثرین کو ادویات خواتین و بچوں کو کیسے ریسکیو کررہی ہے، سیلاب کی صورتحال پر اجلاس تو چل رہا ہے ممبران کی عدم دلچسپی ہے اسے ختم کردیں تاکہ ممبران حلقوں میں جاکر متاثرین کی مدد کر سکیں، کیا وزیر اعلی کو ایوان میں موجود نہیں ہونا چاہئیے، پرویز الہی اپنے بیٹے سمیت بنی گالہ میں حاضریاں لگوا رہے ہیں متاثرین پر کسی کی توجہ نہیں ہے، عدالتی وزیر اعلی کو جنوبی پنجاب کے عوام ڈھونڈ رہے ہیں کدھر ہیں جس نے فنڈز ریلیز کروانے تھے،ان کی زمینیں ہی نہیں تو بیانہ کیا لیں گے، قیامت میں آپکوجوابدہ ہونا چاہیے تھا ہم تو حکومت میں نہیں ہیں.

    اس سے قبل سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی،قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی
    قرارداد کےمتن میں کہا گیا کہ یہ ایوان سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، ٹماٹر 400روپے اور پیاز 300روپے سے زائد کے کلو فروخت ہورہے ہیں، جبکہ باقی سبزیوں کی ریٹ بھی آسمان سے باتیں کررہے ہیں ، سبزی منڈی ،عام مارکیٹ یا دکان ہر جگہ من پسند ریٹ وصول کیے جارہے ہیں، صوبے بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا نام و نشان نہیں ہے، جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں عام مارکیٹ سے غائب ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ  سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے، صوبے میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو متحرک کیا جائے.

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کا پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر عمران خان کے خاتون جج کو دھمکی دینے کے خلاف احتجاج کیا،مسلم لیگ ن کے ارکان نے فتہ خان نامنظور اور خاتون کی توہین نامنظور کے نعرے لگائے ۔لیگی ارکان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

    حنا پرویز بٹ نے کہا عمران خان کے خاتون جج کے متعلق ریماکس ناقابل معافی ہیں۔پولیس کی اعلی قیادت کو دھمکیاں دینا عمران خان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔حیرت ہے کیسا ذہنی مریض وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہا ہے۔کل تک یہ پولیس افسران اور ججز اچھے تھے آج عمران خان کی کرسی چھن گئی تو سب برے لگ رہے ہیں۔

    راحیلہ خادم نے کہا تحریک انصاف ایک فاشسٹ جماعت ہے۔جو خواتین کے متعلق اپنا گندہ ذہن پہلے ہی عیاں کر چکی ہے۔خاتون جج کی تذلیل تمام پاکستانی خواتین کی بے عزتی کے برابر ہے۔ہم خاتون جج زیبا چوہدری کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔سعدیہ تیمور نے کہا عمران خان ایک فتنہ ہے جس کا ایجنڈا ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔اداروں کے افسران کو دھمکیاں قابل مذمت ہے۔تحریک انصاف پاکستان کی دشمن جماعت ہے جو غیر ملکی فنڈنگ سے چل رہی تھی اور انکا ایجنڈا بھی غیر ملکی تھا۔

    کنول لیاقت نے کہا پوری مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت خاتون اور پولیس افسران کے ساتھ کھڑی ہے اب عدلیہ کو بھی چاہیے کہ اس ذہنی مریض کو لگا ڈالے۔اس موقع پر لیگی رکن خلیل طاہر سندھو،سنبل ملک،رابعہ فاروقی،زیب النساء اعوان،راحت افزاء،حسینہ بیگم،طارق گل سمیت دیگر ارکان موجود تھے۔

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا ترمیمی بل پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا.بل صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ کی جانب سے متعارف کرایا گیا،ایوان نے لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،علاوہ ازیں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل بھی پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا،یہ بل بھی صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ نے متعارف کرایا،تاہم ایوان نے راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ذرائع کے مطابق دونوں بل قواعد کو معطل کر کے منظور کرائے گئے.

    میاں محمود الرشید کی جانب سے قواعد معطل کر کے عمران خان پر بے بنیاد مقدمات کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ،قرار داد میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کا یہ ایوان عمران خان پر ہونے والے بے بنیاد مقدمات کی مذمت کرتا ہے، عمران خان پاکستانی قوم ور عالم اسلام کے حقیقی لیڈر ہیں،عمران خان پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، ان مقدمات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے روشن چہرے کو مسخ کیا گیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ان مقدمات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، بین الاقوامی جریدے بھی ایسے واقعات کی مذمت کر رہے ہیں، ایسے اوچھے ہتھکنڈے تحریک انصاف کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے، یہ ایوان عمران خان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے،یہ ایوان امپورٹڈ حکومت کی جانب سے درج کئیے جانے والے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے، سیاسی میدان میں سیاسی طور پر جواب دیا جائے ، قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ متفقہ قرارداد منظور ہونے پر ہاوس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.میاں محمود الرشید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے ذمہ داران ہوش کے ناخن لیں ،ایک ایسا لیڈر جس کے ساتھ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے دل دھڑک رہے ہیں ،منتخب حکومت کو راتوں رات بیرونی سازش کر کے فارغ کیا گیا،عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ قوم نے جس طرح عمران خان کی آواز پر لبیک کہا اس کی مثال نہیں ملتی،یہ عمران خان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا قصور یہ ہے کہ وہ ریاست مدینہ کی بات کر رہا ہے ،وہ اس ملک کے پسے ہوئے طبقے ، جوانوں کے لیے کسانوں کے عوام کی بات کرتا ہے ،اگر یہ جرم ہے تو یہ صرف عمران خان نہیں ان کے ساتھ چلنے والا ہر شخص کرے گا،ملک میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں عوام باہر نہ نکلے ہوں
    ،انہوں نے اس امپورٹڈ حکومت کو مسترد کیا ہے ،کیا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمران خان اور ہمارے اوپر دہشتگردی کے مقدمات درج کر ہمیں دبا لیں گے ،اپوزیشن والے حوصلہ کرتے اور یہاں بیٹھ کر ہماری بات سنتے ،یہ جتنا دبائیں گے عوام عمران خان کے ساتھ نکلیں گے.

    حکومتی اراکین نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا،
    سپیکر پنجاب اسمبلی اراکین کو بار بار نشستوں پر بیٹھنے کی رولنگ دیتے رہے جبکہ حکومتی اراکین سپیکر کی رولنگ کو نظر انداز کرتے رہے،وقفہ سوالات پر لیگی رکن اسمبلی ارشد ملک بھی سپیکر ہاؤس ان آرڈر کا کہتے رہے،حکومتی اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف رہے

    راحیلہ خادم حسین نے کہا کہ ہم آپ کو عزت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن آپ کو عزت راس نہیں آئی،جو خود دسویں فیل ہیں وہ ہمیں جواب دے رہے ہیں، سردار شہاب الدین کا کہنا تھا کہ یہ وطیرہ ہمارا نہیں ہے میں نے ان کو عزت سے جواب دیا ہے ،104 میلین روپے کی آمدن ہوئی اسے سرکاری خزانے میں جمع کرایا ہے ،جو ویکسین تیار ہوتی ہے وہ نو پرافٹ نو لاس پر مہیا کی جاتی ہے ،جو لیب سے آمدن اکٹھی ہوتی ہے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے،انسداد بے رحمی حیوانات ایک سوسائٹی ہے جو پندرہ اضلاع میں کام کر رہی ہے
    ،اس کے لیے بجٹ ن لیگ کی حکومت نے رکھا تھا

    ملک محمد ارشد نےجواب میں کہا گیا ہے موجودہ وزیراعظم ، جبکہ سابقہ وزیر اعظم نے قوم کو کٹوں وچھوں کے پیچھے لگایا گیا،جو جواب دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے ، آج کے وزیر اعظم کی ایسی کوئی پالیسی نہیں تھی ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ جب انہوں نے سوال جمع کرایا تھا اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے اس لیے جواب اسی مطابق دیا گیا ہے

    ملک محمد ارشد کا کہنا تھا کہ یہ ڈیپارٹمنٹ کی غلطی ہے انہوں نے سابق وزیر اعظم نہیں لکھا،مجھے کوئی ایشو نہیں ہے، کل اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی تھے آج آپ ہیں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ اس سکیم کو اس وقت کی اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا،خلیل طاہر سندھو نے ضمنی سوال میں کہا کہ چار مرغیاں اور ایک مرغا دینا تھا، لیکن غلطی سے چار مرغے اور ایک مرغی دے دی گئی،اس کا کیس چل رہا ہے کیا یہ درست ہے،جب اگلا سیشن ہو گا تو میں مقدمہ کی ایف آئی آر لے آؤں گا

    محمد ارشد ملک نے کہا کہ بتائیں کہ کتنی ادویات کم ہیں ساہیوال میں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ میں ان کے پاس جا کر چائے پئیوں گا اور ان کو جواب بھی دوں گا،ان کے اپنے فارم ہاؤس میں ادویات کی ضرورت ہے تو میں مہیا کرا دوں گا،لک ظہیر عباس کھوکھر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں قرار داد منظور کرنے پر پورے ہاؤس کا شکریہ ادا کرتا ہوں،وفاقی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں،عمران خان کو کسی نہ کسی حوالے سے ذچ کرنا، ان کی حرکت کو کنٹرول کرنا، ان کے خلاف مقدمات درج کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی حکومت عمران خان کی پزیرائی سے گھبرائی ہوئی ہے،عمران خان عوامی لیڈر ہیں یہ ان کو پریشان رکھنا چاہتے ہیں ،عمران خان کو عوام میں انے سے روکنے کی کوششوں پر عوام کو تشویش ہے ،وفاقی حکومت نے میرا نام بھی عمران خان کے ساتھ ایف آئی آر میں درج کر ہے پنجاب اسمبلی کی توہین کی ہے،عمران خان جب بھی بلائیں گے ہم ان کی آواز پر لبیک کہیں گے

  • عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں وزارت قانون اور پولیس کے افسران بھی شریک ہیں اور اجلاس میں عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک واقعے کی 2 ایف آئی آر نہیں ہو سکتیں، شہبازگل کے حق میں نکالی گئی ریلی دفعہ 144 کی خلاف ورزی بھی تھی۔ ذرائع کے مطابق کہ وزارت داخلہ نے عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے 2 آپشنز پر رائے مانگ لی ہے۔

    ذرائع کے مطابق رائے مانگی گئی کہ عمران خان پر الگ سے مقدمہ درج ہو یا شہباز گل کیس کا حصہ بنایا جائے۔ عمران خان پر مقدمے کا فیصلہ ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون کی رائے کے بعد کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو گرفتار ہونا چاہیے، دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان پر نیا مقدمہ درج کیا جائے یا پھر شہباز گل والے مقدمے میں ہی انہیں نامزد کیا جائے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • پنجاب اسمبلی اجلاس،حکومت کورم پورا نا کر سکی،اپوزیشن کا ہنگامہ

    پنجاب اسمبلی اجلاس،حکومت کورم پورا نا کر سکی،اپوزیشن کا ہنگامہ

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم کی نذرہو گیا،مہنگائی،امن وامان،آئینی بحران پر عام بحث ایجنڈا میں شامل ہونے کے باجود تیسرے روز بھی نہ ہو سکی،اپوزیشن ارکان کا کورم کی نشاندہی پر شور شرابا،حکومت نے شور شرابا میں چار بل ایوان میں متعارف کردئیے۔

    آنٹی پیرنی کا گلے کا لاکٹ ہاتھ کی انگوٹھی، اس کا حساب کون دے گا؟ طلال چودھری

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی کی زیر صدارت 2 گھنٹے چودہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس میں محکمہ زراعت و آبپاشی کے کئی ماہ پرانے سوالات ایجنڈے میں شامل ہونے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے اعتراضات اٹھا دئیے۔

    ایک پاکستانی سیاسی جماعت کو غیر ملکی فنڈنگ کیوں ہوتی ہے. عطا اللہ تارڑ

     

    صوبائی وزیر راجہ بشارت بولے ایوان میں سوالات کے جواب تاخیر سے آنے پر کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ رولز آف پروسیجر میں ترمیم کی جائے۔پیپلزپارٹی کے سید عثمان محمود نے کہا تین سال پی ٹی آئی حکومت رہی لیکن جواب اب آ رہے۔ڈپٹی سپیکر نے سوالات کے جواب میں تاخیر ہونے کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے کی رولنگ دیدی۔

     

    سرکاری اداروں میں بعض افراد کو ماہانہ 70 سے 80 لاکھ تنخواہیں دینے کا انکشاف

     

    اجلاس میں محکمہ زراعت و آبپاشی سے متعلق سوالات کے جوابات میں صوبائی وزیر حیسن جہانیاں گردیزی نے کہا پی ٹی آئی حکومت کے دور میں شعبہ زراعت نے ترقی کی،جس کا اعتراف ن لیگ کی حکومت نے بھی کیا۔

    جب باری آئی مہنگائی،امن و امان اور آئینی بحران پر بحث کی تو اپوزیشن ارکان نے کورم کی نشاندہی کردی،مہنگائی،آئینی بحران اور امن و امان پر بحث تو نہ ہو سکی لیکن حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابا میں ایوان میں چار بل پیش کر دئیے۔

    راجہ بشارت نے موٹر گاڑیاں ترمیمی بل،سیڈ کارپویشن ترمیمی بل،فیکٹریز ترمیمی بل اور جنگلات ترمیمی بل 2022 ایوان میں متعارف کرائے۔ڈپٹی سپیکر نے بلز کمیٹی کو ریفر کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

    اپوزیشن ارکان نے کورم کی نشاندہی پر شور شرابا کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ڈپٹی سپیکر کورم پورہ نہ ہونے پر اجلاس جمعرات کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے اٹھارہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان نے کی.

    شہباز گل کیس: عدالت نے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 بجے تک ملتوی کردی

    ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزارت داخلہ نے براہ راست کسی چینل کو بند کیا ہے ،اسی حکومت نے پنجاب کے ایوان میں پولیس کو بلا کر اراکین اسمبلی کو مارا پیٹا،میں زبانی قرار داد پیش کرتا ہوں کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر پابندی ختم کی جائے.سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود این او سی پر پابندی ختم نہیں کی جا رہی.اس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان نے کہا کہ کل ایوان میں تحریری طور پر قرارداد پیش کی جائے.

     

    کیسے چیف آف اسٹاف نے آپ سے پوچھے بغیر بات کردی،عطا تارڑ کا عمران خان سے سوال

     

    پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں محکمہ داخلہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دئیے گئے.جوابات صوبائی وزیر داکلہ کی بجائے محمد بشارت راجہ کی جانب سے دئیے گئے.راجہ بشارت نے کہا کہ جوابات کی تاخیر کے لیے کمیٹی کی تشکیل ہونی چاہیے،جوابات آ جاتے ہیں لیکن اسمبلی سیکرٹریٹ میں پڑے رہتے ہیں.

     

    عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

     

    رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے باغبان پورہ تھانے سے جو تفصیلات لی گئی کیا وہ ٹھیک ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں بتا سکتی ہوں کہ کہاں کہاں باغبان پورہ میں منشیات فروشی ہو رہی ہے.اس پر راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ محکمہ کی جانب سے جو بھی جواب آتا ہے منسٹر اس کو اون کرتا ہے ،پولیس جب کارروائی کرتی ہے کچھ دیر کے لیے منشیات فروشی رک جاتی ہے ،جب وہ منشیات فروش گرفتاری کے بعد رہا ہو کر آتے ہیں وہ پھر یہ کام شروع کر دیتے ہیں،معزز ممبر رہنمائی کریں ہم کارروائی کریں گے.

    رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے ایوان کو بتایا کہ باغبان پورہ حق نواز چوک پر منشیات فروشی ابھی بھی جاری ہے ،ساری ساری رات وہاں پر نوجوان نسل منشیات استعمال کر رہی ہے اس پر راجہ بشارت نت یقین دہانی کرائی کہ یہاں پر آپریشن کراتے ہیں جو بھی رپورٹ ہو گی راحیلہ خادم حسین کو آگاہ کریں گے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کوئٹہ کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی.اجلاس میں وفقہ سوالات میں محکمہ داخلہ سے متعلق سوالات کے جوابات وزیر داخلہ کے رخصت پر ہونے کی بنا پر وزیر کوآپریٹوز محمد بشارت راجہ نے دیئے.

    سپیکر محمد سبطین خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات اسمبلی کارروائی کی روح ہے ،تاخیر سے جواب آنے پر سوال کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ محکمہ جات سے سوالات کے بروقت جوابات دریافت کرنے کے لئے کمیٹی بنا دیتے ہیں۔

    اجلاس کے دوران بجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی بندش کے خلاف پریس گیلری سے صحافیوں نے واک آؤٹ کیا.سپیکر نے اراکین اسمبلی، فیاض الحسن چوہان اور چودھری عدنان کو صحافیوں کو منانے کے لیے بھیجا ۔ فیاض الحسن چوہان اور چودھری عدنان کے صحافیوں سے کامیاب مذاکرات کے بعد صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کردیا.

    مسل لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی سردار اویس لغاری نےپوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایجنڈے میں آئینی بحران ،مہنگائی اور امن امان پر بحث بھی رکھی گئی ہے ، امید ہے آنے والے دنوں میں اس پر بحث ہو گی تو دونوں طرف کا موقف سامنے آئے گا
    ،اس سے پنجاب کی عوام کے سامنے ہمارا موقف سامنے آئے گا،اس ہاؤس کی کارروائی بغیر کسی سینسر کے عوام تک پہنچنی چاہیے ،آج ہماری پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کچھ لوگ اسپیکر چیمبر میں پیش ہوئے تھے،بیس جولائی کو جو الیکشن ہوا جس کے نتیجے میں آپ اس نشت پر موجود ہیں ،ایک انتظامی غلطی کی وجہ سے ہمارے پانچ ممبران کو اس وقت کے پریزائیڈنگ افسر نے پندرہ نشستوں کے لیے ایوان میں آنے سے روکا گیا ہے ،آپ سے گزارش ہے رولنگ دیں کے ان پانچ ممبران کو جب تک آپ کی موجودگی میں سنا نہیں جاتا اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے،ایک دن کا پریزائیڈنگ افسر پانچ ممبران کو پندرہ نشستوں کے لیے کیسے روک سکتا ہے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ سردار صاحب آپ نے الیکشن کو چیلنج کیا ہوا ہے، میں اس درخواست کو نکلواتا ہوں اور سیشن کے بعد فیصلہ کرتے ہیں ، تھوڑا سا صبر اور حوصلہ کریں ،اچھی روایت ڈالی جائے گی، اس کرسی سے کوئی غلط بات جائے وہ مناسب نہیں ہے، اس معاملے کو ابھی لیتے ہیں،میں جلد بازی میں کوئی رولنگ نہیں دینا چاہتا، جیسے ڈپٹی اسپیکر نے دس ووٹ اڑا دئیے تھے، جلد بازی والے آرڈرز غلط ہو جاتے ہیں تھوڑا انتظار کریں، پریزائیڈنگ افسر کو متنازع نہ بنائیں ،میں جلد بازی میں جیب سے خط نکال کر نہیں دیکھا سکتا، پانچ بندوں نے اگر کوئی خلاف ورزی نہیں کی تو وہ آ جائیں گے.

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے کورم کی نشاندھی کر دی .حکومت پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کورم پورا کرنے میں ناکام ہو گئی جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اگست بروز منگل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دیا.

  • مراد راس اور یاسمین راشد نے وزارت کےحلف لینے ہی محکمانہ اجلاس طلب کر لیئے

    مراد راس اور یاسمین راشد نے وزارت کےحلف لینے ہی محکمانہ اجلاس طلب کر لیئے

    مراد راس نے بطور وزیر تعلیم پنجاب حلف لینے کے محض چند گھنٹے بعد محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا۔

     

    این آئی سی ایل سکینڈل کےمرکزی کردارایاز خان نیازی وزیراعلیٰ کے مشیرمقرر

     

    اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مراد راس کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے پاکستان کے دوسرے بڑے ادارے محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کو گزشتہ چند ماہ سے مکمل طور پر لاوارث رکھا جس کا مکمل نقصان ہمارے محترم اساتذہ اور بچوں کو اٹھانا پڑا۔

    تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، سوشل میڈیا انفلونسرز کیلئے 87 کروڑ مختص

    پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں زور و شور سے چلنے والے منصوبے آج سابقہ حکومت کی نااہلی اور عدم توجہ کے باعث پسماندگی کا شکار ہیں۔ مراد راس نے محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے تمام افسران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اِن مخصوص حالات میں ہم سب کو دوگنی رفتار سے کام کرنا ہو گا اور ہمیں یہاں صرف وہ لوگ چاہییں جو پوری محنت سے کام کرنا چاہتے ہیں۔

     

    چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی

     

    مرا راس نے یہ بھی کہا کہ جب تک پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے کوئی فارغ نہیں بیٹھ سکتا سب کو بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اجلاس میں محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے تمام ماتحت اداروں کے سربراہان موجود تھے جو اگلے چند روز میں صوبائی وزیر تعلیم پنجاب کو کارکردگی کے حوالے تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

    مذید برآں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے صحت کا قلمدان سنبھالتے ہی محکمہ کا اعلی سطح کا اجلاس طلب کرلیا۔اجلاس محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں منعقدہوا۔اجلاس میں سیکرٹری صحت علی جان خان،سپیشل سیکرٹریزمحمدعثمان،فاطمہ شیخ،ڈاکٹراختررشید،عظیم
    الدین،ایڈیشنل،سیکرٹریزڈاکٹرسہیل،راشدارشاد،سجادحسین،احمر،سربراہ پنجاب ہیلتھ انشی ایٹومینجمنٹ کمپنی ڈاکٹر علی رزاق،ایم ایس گنگارام ہسپتال ڈاکٹراطہراور شیخ اعجازسمیت دیگرافسران نے شرکت کی۔

    سیکرٹری صحت علی جان سمیت تمام افسران نے وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدکو صحت کا قلمدان سنبھالنے پرمبارکبادبھی دی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس کے دوران ڈاکٹرزکی نئی بھرتی،صحت سہولت کارڈ اورترقیاتی منصوبوں،کورونا اور ڈینگی کی صورتحال کاتفصیلی جائزہ لیا۔ سیکرٹری صحت علی جان خان نے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکومختلف شعبہ جات بارے تفصیلی بریفنگ دی۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہا کہ عمران خان اور وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی قیادت میں پنجاب کی عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوچکاہے.پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو صحت کی بہترسہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ سیکرٹری صحت علی جان خان کو محکمہ صحت میں خالی اسامیوں پر بھرتی کیلئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کو فوری طورپرریکوزیشن بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب کی عوام کو صحت سہولت کارڈکے ذریعے ام پینل ہسپتالوں میں زیاد ہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پنجاب کی عوام کی سہولت کی خاطرزیادہ سے زیادہ سرکاری ونجی ہسپتالوں کو ام پینل کیاجائے گا۔

    ڈاکٹریاسمین راشد کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تمام خاندانوں کو صحت سہولت کارڈ کی فراہمی کا کریڈٹ عمران خان کی روشن خیالی کی اعلی مثال ہے۔ پنجاب کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کرکے مریضوں کوفراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معیارکاجائزہ لیاجائے گا۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ایم ایس اور پرنسپلزکی تعیناتی سلیکشن کمیٹی کی سفارشات کی بنیادپرہوگی۔ پنجاب میں تمام نئے سرکاری ہسپتالوں کی تعمیرکو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیاجائے گا۔ پنجاب میں نئے 23نئے سرکاری ہسپتالوں کی تعمیرکے بعدمریضوں کو بین الاقوامی سطح کی طبی سہولیات فراہم ہوں گی۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے حالات بہترکرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اور تحصیل ہیڈکورٹرزہسپتالوں میں انیستھیٹکس کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر پوراکیاجائے گا۔ پنجاب کے دوردرازکے ڈی ایچ کیوزاور ٹی ایچ کیوزہسپتالوں میں انیستھیٹکس کو ترجیح دی جائے گی۔

    علاوہ ازیں عباس علی شاہ نے بطور وزیر جنگلات چارج سنبھال لیا، جنگلات کی ترقی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عباس علی شاہ نے کہا کہ سفر وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے رکا تھا۔جنگلات و جنگلی حیات کی ترقی کا عزم لے کر آیا ہوں۔ سابقہ ہم منصب کی جنگلات کی ترقی کی پالیسیوں کو آگے بڑھاؤں گا۔ جنگلات اور جنگلی حیات کا فروغ و تحفظ میری ترجیح ہوگی۔ پہلی فرصت میں محکمے پر بریفنگ لے کر اپنا لائحہ عمل وضع کروں گا۔ شجرکاری کی بڑھوتری کیلئے اہم اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ جنگلی حیات کی تنوع کیلئے حفاظتی اقدامات اولین ترجیحات میں شامل کر رکھے ہیں۔ پارٹی لیڈر شپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس، چیف الیکشن کمشنرکے مستعفیٰ ہونے کی قرارداد منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس، چیف الیکشن کمشنرکے مستعفیٰ ہونے کی قرارداد منظور

    پنجاب اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو جانب دار قرار دیتے ہوئے عملے اور چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہونے کی قرارداد منظور کرلی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سبطین خان کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اسپیکر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے متفقہ امیدوار واثق قیوم عباسی بلا مقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ہیں کیوں کہ ان کے مدمقابل کسی اور امیدوار نے کاغذات نامزدی جمع نہیں کرائے۔ بعدازاں اسپیکر نے نومنتحب ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم سے حلف لے لیا۔

    آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،مفتاح اسماعیل

    حلف کے بعد حکومتی رکن سید علی عباس نے الیکشن کمیشن کے خلاف قرارداد پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن غیرجانب دار نہیں رہا اس لیے الیکشن کمیشن کا عملہ اور الیکشن کمشنر فوری طور پر مستعفی ہوں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان شفاف انتحابات کے لیے الیکشن کمیشن کی ٹھوس شواہد پر تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے، ایوان چیف الیکشن کمشنر اور ان کے ممبران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔

    قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان عالمی سازش کے تحت تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کی مذمت کرتا ہے، ابتر سیاسی صورتحال، مہنگائی اور ملک کو معاشی بدحالی سے نکالنے کا واحد حل الیکشن ہیں۔

    عمران خان کا دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

     

     

    بعدازاں پنجاب اسمبلی نے سیکریٹری قانون کو دئیے گئے پنجاب اسمبلی کے اختیارات دوبارہ سیکریٹری اسمبلی کو دینے کا بل منظور کر لیا گیا، قبل ازیں ن لیگ کی حکومت میں پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کے اختیارات سیکریٹری قانون کو دے گیے گئے تھے۔دریں اثنا پنجاب اسمبلی کا اجلاس پندرہ اگست تک ملتوی کردیا گیا۔

  • بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی تشکیل

    بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی تشکیل

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران نقصانات کا جائزہ لیا گیا وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی تشکیل دیدی اور کہا کہ کمیٹی آئندہ 4 دن کے اندر تمام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جامع پلان تشکیل دیا جائے گا،زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ تک کیا جائے تمام متاثرہ مکانات کیلئے ایک جیسی امداد فراہم کی جائے جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ کیا جائے مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کیا جائے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کہ ذمہ داری ہے، باہمی معاونت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرینگے

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت بارشوں کے نقصانات سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو آگاہی دی کہ سندھ میں جولائی کے دوران بارشورں کے سلسلہ شروع ہوا،مون سون کا پہلا اسپیل 2 تا 11 جولائی تک جاری رہا، بارشوں کا دوسرا اسپیل 14 تا 18 جولائی تک جاری رہا، تیسرا اسپیل 23 جولائی سے ابتک جاری ہے، سندھ میں ابتک نارمل بارشوں سے 369 فیصد زیادہ ہوئی ہیں، سندھ میں مون سون سیزن میں 48.5 ملی میٹر بارشیں ہوتی ہیں، شہر کراچی میں 556 ملی میٹر بارشیں ریکارڈ ہوئی ہیں، لیکن یکم تا 26 جولائی تک 227.1 ملی میٹر بارشیں ہوئی ہیں جو 369 فیڈ زیادہ ہیں، سندھ کے تقریباً تمام شہروں میں تینوں اسپیل میں بارشیں ہوئی ہیں، ابتک سندھ میں 93 اموات اور 59 افراد زخمی ہوئے ہیں، 93 اموات میں 47 بچے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے، موسلادھار بارشوں کے باعث 35 کراچی واٹر بورڈ کی سیوریج کی لائن کو نقصان پہنچا، 3 پل ضلع غربی اور ملیر میں ٹوٹ گئیں، کراچی میں اہم سڑکیں جس میں ای بی ایم کازوے، کراسنگ کازوے بری طرح متاثر ہیں، صوبے بھر میں 388.5 کلومیٹر مختلف شہروں کو ملانے والی سڑکیں بری طرح متاثر ہوئیں، ان 388.5 کلومیٹر میں کراچی، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول شامل ہیں،

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان