Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو چار برس بعد ایف اے ٹی ایف آج گرے لسٹ سے نکال سکتا ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا برلن میں اجلاس جاری ہے، آج اجلاس کا آخری روز ہے اور آج شام پریس کانفرنس میں ایف اے ٹی ایف حکام پاکستان کے بارے میں اعلان کریں گے، حکومت پاکستان کو امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف آج کے اجلاس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان کرے گا،

    حکومت سے منسک ایک ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حق میں فیصلہ جائے گا ،پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالے گا اسکے بعد بھی معاملات حل ہونے میں سات آٹھ ماہ لگ جائیں گے، ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اور خود جائزہ لے گی کہ پاکستان نے تمام سفارشات پر کام مکمل کیا ہے

    ایف اے ٹی ایف حکام کی جانب سے آج شام پریس کانفرنس ہو گی تا ہم پاکستان کی سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے اعلان کرنا شروع کر دیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے، حالانکہ ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،شہباز گل کہتے ہیں کہ مبارک پاکستان۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کی خصوصی توجہ سے ان کی ٹیم نے وہ کام کر دکھایا جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔ میں نے چند دن پہلے ہی کہا تھا کہ اب ارسطو اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرے گا۔ان چوروں نے ہی ہمیں گرے لسٹ میں ڈلوایا تھا

    شہباز گل حقیقت میں ابھی جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلان ہونا باقی ہے، شہباز گل کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے تمام سفارشات پر کام پاک فوج کے سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر نگرانی ہوا،

    وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس برلن میں جاری ہے،ایف اے ٹی ایف آج رات اجلاس ختم ہونے کے بعد بیان جاری کرے گا،نتائج یا قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جانا چاہیے، معاملے پر کل صبح دفتر خارجہ میں میڈیا بریفنگ دی جائے گی

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

  • پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع ہو گیا.جبکہ دوسری طرف ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہو گیا.اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کر رہے ہیں .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف بھی ایوان اقبال پہنچ گئے ہیں .قبل ازیں گورنر پیجاب نے 40 واں اجلاس برخواست کر دیا تھا اور 41 واں اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا .

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کا طلب کردہ اجلاس 1 گھنٹہ 41 منٹ کی تاخیر سے پنجاب اسمبلی میں شروع ہوا جس میں تحریکِ انصاف اور ق لیگ کے ارکان نے شرکت کی۔تاہم کوئی بھی حکومتی رکنِ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔

    ایوان اقبال میں گورنر پنجاب کی جانب سے بلائے گئے بجٹ اجلاس صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ چوردروازے سے آنے والوں کےعزائم ناکام ہوئے، سابق دورمیں صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیزنہیں تھی،عوام نے شہبازشریف سے متحرک لیڈر نہیں دیکھا، سفاک حکمرانوں نے عوام کے ساڑھے 3سال ضائع کیے، گزشتہ حکومت نے کرپشن کے ریکارڈقائم کیے،3سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیاگیا،(ن) لیگ کے دور میں ترقی کی شرح بڑھ رہی تھی ،چوربازاری سےآنےوالےشعبدہ بازوں کو(ن)لیگ نےناکام بنادیا، سی پیک کےتحت 51ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ا ہم نے گزرنے والے کل کوبدلا، آنے والاکل بھی بدلیں گے، توانائی کا مسئلہ تمام مسائل کی جڑہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا،متعدد توانائی منصوبے(ن)لیگ کے دورمیں لگائے گئے، گزشتہ حکومت نےاسپتالوں میں مفت ادویات کانظام لپیٹ دیا،مسلم لیگ کےصحت کارڈ کوانصاف صحت پروگرام کانام دیا گیا.
    وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت کا مالی سال برائے 2022-23 کا میزانیہ 3226 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ کا میزانیہ ٹیکس فری ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فی صد اضافہ، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 15 فی صد اضافے کی تجویز ہے۔ مقامی حکومتوں کے لئے 528 ارب روپے، ترقیاتی اخراجات کے لئے 685 ارب روپے، تنخواہوں کے لئے 435 ارب روپے ، پینشن کے لئے 312 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کےلیے مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا۔ گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔

    آمدن کا تخمینہ 2521 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، جس میں وفاقی محاصل سے 2020 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے اور صوبائی محصولات کا تخمینہ 500 ارب روپے ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 24 فی صد اضافے سے 163 ارب روپے، ایکسائز کے محاصل کی وصولی کے اہداف 2 فی صد اضافے سے 43 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو کے محاصل 44 فی صد اضافے کے ساتھ 96 ارب روپے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فی صد اضافے سے 190 ارب روپے مقرر ہے۔

    آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں، 312 ارب روپے پنشن، 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں ۔ 685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ شعبہ صحت پر 10 فیصد اضافے کے ساتھ 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم پر 428 ارب 56 کروڑ روپے صحت کارڈ کے لئے 125 ارب رکھے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکیج کے تحت 200 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ 650 روپے والا 10 کلو آٹے کا تھیلہ اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز میں ٹیکس ریلیف کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ رحمت اللعالمین پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف کے لیے 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لئے 239 ارب 79 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا.
    پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر حمزہ شہباز نے کہا کہ3 ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں۔غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے۔آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنینا ری پبلک بن جاتا۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران وردی میں ملبوس افسروں کو ٹھڈے اور مکے مارے گئے۔سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی سپیکر کی طرف لپکے تھے۔احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں۔چار سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے۔ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا۔عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں۔حمزہ شہباز
    ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں۔

    صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ مصالحت کی ہرممکن کوشش کی گئی، بچگانہ حرکتوں سے بجٹ زیر التوا رکھا گیا۔ایسے شخص سے مقابلہ ہے جو واضح ہار بھی ماننے کو تیار نہیں۔آئینی اور قانونی طور پر گورنر کو اجلاس کے وقت اور مقام کا تعین کرنے کا اختیار ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے اختتام پر دعائے خیر بھی کی گئی

    پرویز الہٰی کے طلب کردہ اسمبلی کے اجلاس میں عطاء تارڑ کے خلاف متفقہ طور پر تحریکِ استحقاق منظورکر لی گئی۔ تحریکِ استحقاق پی ٹی آئی رکنِ اسمبلی ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں جمع کرائی۔ تحریکِ استحقاق کے متن کے مطابق صوبائی وزیر عطاء اللّٰہ تارڑ نے ایوان میں نازیبا اشارہ کیا، خواتین کی موجودگی میں ایوان کے اندر غلط اشارے کیے گئے۔

    پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عطاء تارڑ کے نازیبا اشارے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہاتھ میں آئینِ پاکستان کی کتاب، دوسرے سے اشارہ ناقابلِ برداشت ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    ڈاکٹر مراد راس نے اپیل کی کہ مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے۔ پنجاب اسمبلی میں مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

    اسپیکر کے حکم پر سیکریٹری پارلیمانی امور عنایت اللّٰہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔ پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی، میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے عطاء تارڑ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سوچ کے لوگوں کا وزیر بننا لمحۂ فکریہ ہے، وکلاء برداری ان کا لائسنس منسوخ کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریکِ استحقاق کو فوری کمیٹی کے سپرد کریں، ایسے افراد کے ایوان میں آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔

    ایوان میں پی ٹی آئی رکن میاں اسلم اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف پرچے کاٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، عطاء تارڑ کی حرکت سے پوری قوم کا استحقاق مجروح ہوا۔

    سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اسمبلی پہنچ گئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس پیش نہیں ہو سکتا، ابھی پہنچا ہوں، دیکھنا پڑے گا کہ اسمبلی کے اختیارات کیسے محدود کیے گئے۔اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے اپنا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کا اسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے،ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں، آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے،کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.

  • پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پنجاب میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، ایک طرف گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا رواں ا40 واں اجلاس برخواست کر دیا اور 41 واں اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا تو اس کے ساتھ ہی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے برخواست کیا گیا اجلاس شروع کر دیا اور صوبائی وزیر خزانہ سردار اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی۔وزیر خزانہ نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ جناب سپیکر! گورنر پنجاب یہ اجلاس ختم کر چکے ہیں لہذا اس اجلاس کی کاروائی غیر قانونی و غیر آئینی ہو گی۔ اس پر چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ گورنر کے احکامات کی کوئی آئینی حیثیت نہیں.بعدازاں سپیکر نے اجلاس کل مورخہ 15 جون 2022 کو دوپہر 1 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔

    پجٹ اجلاس دو روز میں پیش نہ ہو سکا .حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روز سے ڈیڈ لاک برقرار ہے ،حکومت بجٹ پیش کرنا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن اپنے اوپر قائم مقدمات کا خاتمہ اور آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں طلب کر کے معافی کے خواہاں ہیں. تاہم اب پیجاب اسمبلی کے دو اجلاس بلائے جاچکے ہیں ،گورنر ارواں اجلاس نرخواست کر چکے ہیں جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ گورنر کے احکامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو اس صورت میں کل دو اجلاس منعقد ہوں گے. حکومت ایوان اقبال میں بجٹ پیش کرے گی جبکہ اپوزیشن کل پیجاب اسمبلی میں اجلاس میں شرکت کرے گی.

    صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ میں پچھلے دو دن سے تقریر تیار کرکے بار بار ایوان کے اندر آیا، ہمارے اوپر بے جا تنقید کی گئی لیکن ہم نے راجہ بشارت کی طرح بدتمیزی نہیں کی،اسپیکر نے ہمارے وزیر اعلی کو ایوان کے اندر بلوایا اور پھر کہا گیا آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلاؤ،ہمارا اور عوام کا استحقاق مجروح ہوا ، ہماری بجٹ کی تقریر کو ڈسٹرب کیا گیا، آج پھر پورا دن ہمارے ایم پی ایز کو انتظار کروایا گیا،یہ ہمارا رائٹ تھا جب کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا،ہم نے کل کہا تھا آئین پانی کی طرح ہوتا ہے،پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے قبضے میں لی ہوئی ہے، جب ان کو معلوم ہوگیا کہ اجلاس پروووگ ہوگیا ہے تو انھوں نے کہا کہ بجٹ پیش کریں ، کل ہم انشاء اللہ بجٹ پیش کریں گے

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ میں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ،کہا گیا مجھے سارجنٹ اینڈ آرمڈ کے ذریعے باہر نکالا جائے،آج کابینہ کا اجلاس رات آٹھ بجے ہوا اور کابینہ نے سمری گورنر کو بھیجی گئی،گورنر پنجاب نے نیا اجلاس کل بلایا ہے، میاں محمود الرشید ، مراد راس ، میاں اسلم اقبال کہتے ہیں ہمارے پرچے ختم کریں،یہ بادشاہ کی طرح ایوان کو چلاتے ہیں،یہاں گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے لوگ بھرتی کی ہوئے ہیں، پچیس مئی پچیس مئی ظلم اور قہر ہوگیا ، آپ کو تو ابھی ہاتھ نہیں لگایا آپ کی چیخیں نکل رہی ہیں ، انھوں نے میڈیا کی انٹری بند کردی، کیا پرویز الہی بادشاہ سلامت ہیں کہ جو دل کرے گا کریں گے، اپنی نگرانی میں پرویز الہی غنڈوں کو اندر لائے،مونس الہی دو دن بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں کیوں بیٹھا ہے.

    انہوں نے کہا کہ میرے سے آپ اتنا خوف زدہ کیوں ہیں ،آپ کے بیٹےکے جب قصے نکلے گے تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، محمد خان بھٹی کیا کام کرتا ہے کہ ارب پتی ہے ،ساتویں سکیل میں لگا کر بائیسواں گریڈ دے دیا،یہ چار دن کی اسپیکری پر خود کو کیا سمجھتے ہیں ، آپ ایوان اقبال آئیں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں، آپ ہر پارٹی کے ساتھ شراکت میں رہے ہیں آپ صرف اقتدار کے پجاری ہیں، ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، آپ آئیں کل ایوان اقبال میں اپنے اسٹاف کو لے کر آئیں آپ آئیں آپ کو عزت دیں گے،اس ملک نے صدا رہنا ہے ہم نہیں ہوں گے یہ ملک ہمیشہ رہے گا ،آئینی اور قانونی معاملہ پیدا نہیں ہوگا، پہلے خبر چلی پھر اسپیکر کی رولنگ آئی ،جو انھوں نے دو دن کیا ہے اب ان کو وہاں آنا پڑے گا،ابھی فوکس بجٹ ہے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اسمبلی اجلاس جاری تھا
    تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی ،اگر گورنر اجلاس ملتوی کرے تو سیکرٹری اسمبلی کو تحریری اطلاع آتی ہے. پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ نہ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے،جب اجلاس ملتوی کرتے ہیں تو سیکرٹری اسمبلی کو گورنر کہے گا ،کسی اور جگہ رکھ کر اجلاس چار بندے بیٹھ جائیں یہ مذاق ہے غیر قانونی ہے ،سپیکر کے ہوتے ہوئے ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتا ،انہوں نے دوسرا بدنما داغ اپنے ماتھے کا حصہ بنایا ہے.خواتین اراکین کی طرف سے تحریک استحقاق آئی ہے ،جس پر سب سے پہلے کاروائی ہوگی ،عطا تارڈ نے غلط اشارے کئیے

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت نے کہا کہ ابھی تک تحریری طور پر اجلاس برخاست ہونے کا نوٹیفیکیشن نہیں ملا ،سپیکر کی موجودگی میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس کی صدارت کا نہئں کہا جاسکتا .اسمبلی کی عمارت کو ہوتے ہوئے کسی دوسری عمارت کو اسمبلی ڈکلئیر نہیں کیا جاسکتا ،ہم نے جب فلیٹئز ہوٹل میں اجلاس کیا تو ایوان سے اجازت لی تھی ،بجٹ اسمبلی سے پاس ہوتا ہے اور یہاں سارا سٹاف موجود ہے ،اگر گورنر غیر قانونی کام کرنا چاہتا ہے تو یہ بدقسمتی ہے ،کل اسمبلی کا ممبر نہ ہونے والے کو ایوان میں بٹھا دیا گیا .کل اجلاس ایک بجے اسمبلی بلڈنگ میں ہوگا.

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کا کہا ،جو کچھ انہوں نے بجٹ بنایا پنڈورا بکس کھلے گا تو پتہ چلے گا ،ان واقعات میں حق ابھر کر سامنے آتا ہے ،اراکین کو ہراساں کیا جارہا ہے،میاں اسلم اقبال نے کہا کہ بتیس سو ارب کا بجٹ ہے ،اسمبلی بلڈنگ چھوڑ کر غیر آئینی طور پر کہیں اور بجٹ پیش کرنا غیر قانونی ہے،گورنر نے غیر آئینی حکم دیا ہے ،یہ غیر آئینی اقدام پر بغلیں بجاتے ہیں ،پہلے ہوٹل میں اجلاس منعقد کرکے حمزہ کو وزیر اعلی بنا لیا ،یہ نکمی اور نااہل حکومت کے کام ہیں.

  • گورنر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا

    گورنر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس برخواست کردیا. گورنر پنجاب نے کل پنجاب اسمبلی کا 41واں اجلاس سہ پہر 3 بجے ایوان اقبال میں طلب کر لیا ہے ایوان اقبال میں پنجاب کا بجٹ پیش کیا جائے گا.مسلم لیگ ن کے وزیر سردار اویس لغاری پنجاب کا بجٹ پیش کریں گے.

    دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے 40 واں اجلاس برخواست ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع کر دیا ، اجلاس میں شرکت کیلئے ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ بھی پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں ایوان میں جاؤں گا کسی میں جرات نہیں کہ مجھے ایوان سے نکالے ۔ اس وفت بھی سردار اویس لغاری ،رانا مشہود اور صوبائی وزرا بھی پیجاب اسمبلی میں موجود ہیں.

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اجلاس کل ایک بجے دوپہر تک کیلئے ملتوی کر دیا ہے.پنجاب اسمبلی کا اجلاس اٹھ گھنٹے اکتالیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا تھا. پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری پرویز الہی کر رہے تھے تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ریا اوع آج بجت اجلاس کے دوسرے روز بھی پنجاب اسمبلی میں بجت پیش نہ ہو سکا.
    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کا اجلاس کیلئے انتظار کیا گیا اور بیس منٹ انتظار کرنے کے بعد اجلاس کل تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا.

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ 12 کروڑ کے صوبے کا بجٹ آپ نے جام کیا ہے، ہماری نیت صاف ہے، 3 ماہ سے ان کا سامنا کررہا ہوں .رات گئے تک بیٹھوں گا، عوام دیکھیں گے یہ شخص تماشا کررہا ہے، یہ وہی اسپیکر ہے جس کے اپنے خلاف عدم اعتماد ہے.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ روز آئین اور قانون کی پامالی کر تا ہے،بجٹ پاس ہوگا اللہ کو منظور ہوا تو،آپ کو کسی کی شکل پسند نہیں، پرانا دکھ اور غصہ ہےتو کیوں آئین کو پامال کر رہے ہیں،عوام کو بتائوں گا تین ماہ میں پنجاب میں جو آئین و قانون کاُ تماشا لگایا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کا تماشا پہلے کبھی نہیں دیکھا کبھی اجلاس بلایا تو چند منٹ میں ختم کر دیا جاتاہے،راجہ ایندر پرویز الہی بنے ہوئے ہیں،آئین و قانون پاسداری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے وزارت اعلی کا انتخاب کیا،ٹوٹے ہوئے بازو کا تماشا لگایا گیا ،میرئ ذات کا معاملہ نہیں عوام کا معاملہ ہے،لوگ مہنگائی کے شکار ہیں اور انہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری کی پڑی ہوئی ہے

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میری انا عوام سے زیادہ نہیں لیکن انہوں نے بازاری زبان استعمال کی ، رات بارہ بجے گھرگیا، کھیل تماشا کرنے تو نہیں آیا، کلرکوں اور مزدوروں کےلئے اچھی خبر لے کر آیا مگر بنی گالہ اور سپیکر پرویز الہی کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی.

  • پنجاب کا بجٹ اجلاس شروع نہ ہو سکا، حکومت اور اپوزیشن میں ڈید لاک برقرار

    پنجاب کا بجٹ اجلاس شروع نہ ہو سکا، حکومت اور اپوزیشن میں ڈید لاک برقرار

    پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ خیز ہونے کاامکان ہے. جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے.پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا، پنجاب اسمبلی کااجلاس دوپہر ایک بجے سپیکر پرویز الہی کی زیر صدارت شروع ہونا تھا جو تاحال شروع نہیں ہو سکا،اجلاس میں پنجاب کے مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کیا جانا تھا.اجلاس میں فانشنل بل 2022 بھی متعارف کروایا جانا ہے.اجلاس میں پنجاب سیلز ٹیکس اون سروسز ایکٹ 2012 ترمیمی بل بھی پیش کیا جائے گا.

    . پنجاب اسمبلی پر یس گیلری اور سیکرٹریٹ کو میڈیا کے لیے بند کردیا گیا ہے اور پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے سحافیوں کو اندر جانے سے روک دیا

    صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا اور پنجاب اسمبلی کے احاطے پر صحافئوں کا دھرنا دیا،تاہم ترجمان پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں صحافیوں کی کوریج پر کوئی پابندی نہیں ہے،صحافی اس وقت بھی میڈیا کیمپ میں کوریج کر رہے ہیں، صحافی ایوان کی پریس گیلری سے بھی اجلاس کی بلا روک ٹوک کوریج کر رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کی گزشتہ روز بھی مکمل کوریج کی تھی، صبج سے میڈیا کی کوریج اسمبلی کے میڈیا کیمپ سے جاری ہے .

    دوسری طرف اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ایماءپر سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلی کی سیکیورٹی کو بھی گیٹ پر روک لیا. اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود کا کہنا تھا کہ خوشی ہوتی کہ اپوزیشن پنجاب میں سستے آٹے کا کہتی ،لیکن یہ ذاتی بات کےلئے آئے،کسی کی ہٹ دھرمی نہیں چلنے دیں گ،عطا تارڑ کو ایوان سے باہر نکالنا زیادتی ہے

    رانا مشہود احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو صوبائی وزیر بنایا جاتا ہے تو چھ ماہ تک وقت ہوتا ہے ماضی میں مجتبی شجاع اور رانا ثنااللہ کی مثالیں موجودہیں, عطااللہ تارڑ آئے گا بیٹھے گا اگر پھر کوئی غیر قانونی حرکت کی تو جواب دیاجائےگا،پک اینڈ چوز نہیں ہونا چاہئیے ، بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں اس پر بات کریں گے، آج مونس الہی اگر بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بیٹھے تو اس کا بائیکاٹ ہوگا یا پھر اپنے بچے بھی ساتھ لائیں گے،

    رانامشہود احمد خان نے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد بجٹ پاس کروانا ہے سپیکر کے دن گنے جا چکے ہیں عدم اعتماد سپیکر کے خلاف موجود ہیں انہیں باہر نکال دیں گے، بجٹ پاس کروانے کےلئے عدالت سمیت ہر آپشن کو استعمال کریں گے،پرویز الہی جیسے بزرگ کو اٹھائیس سال کا لالی پاپ مل چکا ہے انہیں چاہئیے اسی لالی پاپ پر گزارا کریں.

    سردار اویس لغارینے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو اسمبلی نہیں لائیں گے ،چیف سیکرٹری اور آئی جی سے کام لینا ہے،پرویز الہی اپنا غصہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پر نکالنا چاہتے ہیں، آئی جی اور چیف سیکرٹری کا بجٹ سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں ہیں آئین اور قانون کے مطابق جو ہوگا وہی ہوگا، پرویز الہی کی ڈیمانڈ ہے کہ میرے ساتھ سوگ میں حصہ لوں کہ میں وزیر اعلی کیوں نہیں بن سکا

    دوسری جانب ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ آئی جی کو بلا کر ان کی توہین کرنا چاہتے ہیں ،ہمارا کوئی ممبر ایسا نہیں جو ان سے غیر پارلیمانی بات کریں انہوں نے کہا کہ اصل میں آئی جی ان کی بات مانے کو اس لئے تیار نہیں کہ ان کی حکومت اس کی وجہ سے ہے، ہم ادارے کی توقیر کو بحال کرنے کے لئے کھڑے ہیں

    اپوزیشن لیدر پنجاب سبطین خان نے کہا کہ سولہ تاریخ کو جو بربریت اسمبلی میں کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی، ہم نے اجلاس میں آئی جی اور چیف سیکرٹری سے کچھ نہیں لینا ہے، ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس ایوان سےبجٹ پاس ہو کر آپ کو سیلری ملتی ہیں
    انہوں نے مزید کہا کہ پچیس تاریخ کو ان لوگوں نے کس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم کیا ، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے پوچھنا ہے کہ آپ نے کیوں لاٹھی چارج کیا، حمزہ شہباز خود کہہ دے ہم ہار گئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو نہیں لا سکتے. ہم اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائے گے۔

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ اسمبلی میں اسپیکر کی رولنگ چلتی ہیں ، اسپیکر نے رولنگ دی کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلایا جائے،لگتا ہے یہ آئی جی کے ماتحت ہے جو ان کی بات نہیں مان رہے، اج ہاؤس کی بے توقیری جعلی وزیر اعلیٰ کر رہا ہے ، جب تک آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری نہیں آئیں گے ایوان نہیں چلے گا ،یہ حکومت امریکہ کے ایجنڈے پر آئی ہے۔امریکہ ان کے کیسز ختم کروا رہا ہے ،ان لوگوں نے امریکہ کے کہنے پر لاٹھیاں چلائی.

    مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر عطا اللہ تاڑرکا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق ایوان میں بیٹھ سکتا ہوں،پہلے بھی ایسی مثالیں ملتی رہی ہیں،لیکن سپیکر کی ضد تھی, اس لیے باہر آ گیا،میں 12 کڑور عوام کے بجٹ میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا،ہم مقدمات پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، صحافیوں کے ساتھ زیادتی ہے،انہوں نے بڑی شرارتیں کیں، شرارتیں ہم نے بھی بڑی دیکھی ہیں، ہم بلیک میل بلکل نہیں ہونگے. میڈیا کو اندر جانے دیا جائے ہم بھی یہی چاہتے ہیں، 600 بندہ اپنی مرضی کا بھرتی کیا ہوا ہے،زاتی کمپنی بنائی ہوئی ہے.

    لیگی رہنما عظمی بخاری نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کو وزیر اعلی نہ بننے کا غم ہے ، انہیں عقل اور تمیز نہیں آرہی ، بجٹ نے نہ حمزہ شہباز اور نہ ظہور الہی روڈ پر بٹنا ہے یہ پنجاب کی عوام کا بجٹ ہے،عوامی بجٹ کو پاس ہونا چاہیے.عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ پرویز الہی اپنی۔ بوٹی سیاست کیلیے اوچھی حرکتوں پر آیا ہوا ہے، پرویز الہی کا اچھا علاج ہے لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا،ان کا علاج ضرور کریں گے.

  • عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی بن گئی جو مذکورہ ڈیل اور آے آر یو کی کارروائی کے حوالے سے حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    گزشتہ دور حکومت میں برطانیہ سے آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ ،وفاقی کابینہ نے این سی اے اور ملک ریاض خاندان کی خفیہ ڈیل کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے کابینہ نے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی،3،12،19 کو یہ سیٹلمنٹ سیل کی گئی تھی جسے آج ڈی سیل کیا گیا ہے

    ملک ریاض نے کونسے وکیل کی خدمات حاصل کر لیں؟

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر نام نہاد مشیراحتساب تھے،شہزاد اکبر عمران خان دورحکومت میں معاملات مینج کرتے تھے ایک ڈاکومنٹ ترتیب دیاگیا جسے مصدق ملک شیئر کریں گے، گزشتہ دورحکومت میں کرپشن کے نئے طریقے دریافت کیے گئے پلان بنایا گیا کہ کس طرح 50 ارب روپے بچانا ہے اور حصہ نکالنا ہے،ڈاکومنٹ منظور کروا لیا گیا تو شہزاد اکبر وہاں گئے اور پورا عمل مکمل کروایا،وفاقی کابینہ نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ،کمیٹی ڈیل سے متعلق حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے 50 ارب روپے کو تحفظ فراہم کیا گیا، بحریہ ٹاؤن نے یہ زمین القادر ٹرسٹ کے نام ٹرانسفر کی،ڈونر بحریہ ٹاؤن اور دوسری جانب بشریٰ بی بی کے دستخط ہیں،خاتون اول خود اس کا حصہ تھیں اورخود سائن کیا،ٹرسٹی سابقہ خاتون اول اورعمران خان ہیں،بحریہ ٹاون کو پچاس ارب معاف کرنے پر بحریہ ٹاون کی طرف سے ساڑھے چار سو کنال زمین القادر ٹرسٹ کو دی گئی کاغذات میں مالیت 53 کروڑ روپے لکھی، اصل قیمت 10 گنا زیادہ ہے۔ روحانیت کے نام پر کوئی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی، صرف پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کے نام کو القادر یونیورسٹی کا نام دے دیا۔ اور جب جب عمران خان وہاں گیا تو بحریہ ٹاؤن نے ہی فنکشنز کا انتظام کیا، اس کے علاوہ بھی تمام تعمیراتی اخراجات بحریہ ٹاؤن نے ہی کیے۔

    ملک ریاض ان دنوں خبروں میں ہیں، ملک ریاض کی آڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں، ایک آڈیو مبینہ طور پر ملک ریاض اور انکی بیٹی کی بات چیت ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو ہیروں کا ہار دینے اورکام کے بارے میں ہے، دوسری آڈیو عمران خان کا آصف زرداری کو پیغام پہنچانے کی ہے،دونوں آڈیو کی اگرچہ ملک ریاض تردید کر چکے ہیں تا ہم دوسری جانب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک ریاض نے بنی گالہ کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح خان عرف فرح گوگی کے نام زمین بھی کروائی جس کی وجہ سے بھی وہ خبروں میں آئے


    شہزاد اکبر جو عمران خان کے دور حکومت میں وزیراعظم کے معاون خصوصی رہ چکے ہیں، انہوں نے اسوقت ایک ٹویٹ کی تھی جس میں کہا تھا کہ برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے تصفیے کے بعد 19 کروڑ ملین پاؤنڈ (پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 ارب) سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جائیں گے 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ (ساڑھے 28 ارب روپے) سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں سپریم کورٹ کو پیسے ملنے کے بعد حکومت کورٹ سے درخواست کرے گی کہ پیسے حکومت پاکستان کو دے دیے جائیں تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں

    شہزاد اکبر نے ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے کو صیغۂ راز میں رکھنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں حکومت نے برطانیہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھی اسی طرح کے معاہدے کر رکھے ہیں اور ہمیں کروڑوں ڈالر آنے کی امید ہے اس لیے ہم صیغۂ راز میں رکھنے کے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی

    بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی

    لاہور: بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا. پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : اسپیکر نے کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلا نے کا کہا اسپیکر نے کہا کہ کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلایا جائے اگر آئی جی چیف سیکرٹری نہ آئے تو کل دوپہر ایک بجے تک اجلاس ملتوی کردوں گا –

    اسپیکر نے کہا کہ حکومت سے ایک آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلانے کی ہمت نہیں ہورہی ،ملک احمد خان نے کہا کہ آج بجٹ پیش کرنے دیں اگلی بار آپکے حکم کے مطابق آئی جی چیف سیکرٹری کو ایوان میں پیش کردیں گے ۔

    اسپیکر نے کہا کہ میرے یا عثمان بزدار کی وزارت اعلی میں بجٹ کے وقت آئی جی چیف سیکرٹری ایوان میں موجود رہتے تھے بجٹ کے وقت آئی جی چیف سیکرٹری کا ایوان میں موجود ہونا ایوان کی عزت ہے ۔

    قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے کہا کہ یب اور مڈل کلاس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، بجلی اور ڈیزل پر سبسڈی دی جائے تو پاکستان زراعت میں خود کفیل ہوسکتا ہے۔

    راجہ ریاض نے کہا کہ حکومت نے امپورٹڈ اشیا پر پابندی لگائی لیکن اسمگلنگ نہیں روکی، پاکستان میں سگریٹ تک اسمگل ہو کر آتے ہیں حکومت نے امپورٹڈ اشیا پر پابندی لگائی لیکن اسمگلنگ نہیں روکی، پاکستان میں سگریٹ تک اسمگل ہو کر آتے ہیں۔

    بجٹ 23-2022 پر بحث کر تے ہوئے راجہ ریاض نے کہا کہ غریب اور مڈل کلاس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، بجلی اور ڈیزل پر سبسڈی دی جائے تو پاکستان زراعت میں خود کفیل ہوسکتا ہے سابقہ حکومت کے وزیر نے تسلیم کیا ہے کہ 4 سال میں 76 فیصد قرضہ لیا ہے، غریب کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالنا ہے تو قرضوں کے چنگل سے باہر نکلنا ہوگا-

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سال میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے جس کے باعث آج پورا ملک لوڈشیڈنگ کے عذاب کا شکار ہے، 12/ 13 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے شہباز شریف حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا، بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے بھی خاطرخواہ فنڈز نہیں رکھے گئےلوگ سرکاری اسپتالوں میں مجبوری میں مرنے کے لیے جاتے ہیں بھارت پاکستان کے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو خشک کرنے کی سازش کر رہا ہے، بھارتی حکومت کے مسلمانوں پر ہو نے والے پرتشدد اقدامات کی مذمت کرتا ہوں۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پاکستان کا عدالتی نظام تیزی سے تباہی کی جانب جا رہا ہے، پاکستان میں غریب اور امیر کے لیے انصاف کا معیار الگ ہے، پولیس میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، گزشتہ چند برسوں میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے، تمام سیاسی جماعتیں مل کر قوم کو مسائل سے نکالنے کے لیے راستہ بنائیں قومی اسمبلی کے اجلاس سے مختصر خطاب کے بعد راجہ ریاض ایوان سے باہر چلے گئے لیکن اس سے قبل ن لیگ کے مرکزی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قائد حزب اختلاف کی نشست پہ جا کر انہیں تھپکی دی۔

    لاہور،پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 گھنٹے سے زائد کی تاخیرکے بعد بالآخر شروع ہو ا اسپیکر چودھری پرویز الہٰی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اپوزیشن لیڈر سبطین خان اسمبلی میں پہنچے حکومتی ارکان نےوزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے ایوان میں پہنچے پر استقبال کیا-

    پنجاب اجلاس کے آغاز میں راجہ بشارت نے ایوان میں وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری کے موجود نہ ہونے پر اعتراض کیا تھا راجہ بشارت نے کہا کہ یہ ایوان کی روایت کے خلاف ہے جب تک وزیر اعلی اور بیورو کرسی ایوان میں نہیں آتی بجٹ ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    میاں اسلم اقبال نے بھی صورتحال کو روایت کے خلاف قرار دے دیا جب تک وزیر اعلی نہیں آتے بجٹ پیش نہ ہونے دیا جائےسپیکر اسمبلی چودھری پرویز الہی نے اپوزیشن کے ارکان کے موقف کو درست قرار دے دیا-

    حکومتی رکن اور وزیر ملک احمد خان نے اپوزیشن کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ایوان میں بجٹ پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی تو وزیر اعلی اور اعلی بیورو کرسی بھی آجائے گی-

    اجلاس میں اپوزیشن کے رکن چودھری ظہیر الدین نے ایوان میں عطاء اللہ تارڑ کی موجودگی پر اعتراض کیا عطاء اللہ تارڑ کی ایوان میں موجودگی حیران کن ہے۔وہ رکن اسمبلی نہیں ہیں چودھری ظہیر الدین نے اعتراض کیا کہ چودھری ظہیر الدین کے اعتراض پر عطاء اللہ تارڑ اپنی نشست پر ٹہلملا اٹھے-

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سارجنٹ اینڈ آرمڈ کو عطاء اللہ تارڑ کو ایوان سے باہر لیجانے کا کہہ دیاایوان میں ن لیگی ایم پی اے عطاء اللہ تارڑ کے اردگرد کھڑا ہوگئے عطاء اللہ تارڑ کے خلاف گو تارڑ گو کے نعرے شروع ہو گئے –

    ملک احمد خان نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ بالکل ٹھیک کہے رہے ہیں جب بجٹ پیش کیا جائے گا وزیر اعلی ایوان میں ہوں گے –

    چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ آج بجٹ پیش نہیں کررہے، سر اگر آپ بجٹ کا ٹائم نو بجے مختص کردیں تو وزیر اعلی پانچ منٹ پہلے یہاں ہوں گے ہم بارہ بجے تک یہاں بیٹھے ہیں-

    رانا مشہود نے سپیکر سے استدعا کی کہ سارجینٹ ایٹ آرمز اگر پیچھے ہٹ جائیں تو وہ پانچ منٹ میں خود چلے جائیں گے۔

    چودھری پرویز الہی نے چودھری پرویز الہی کے اعتراض پر سارجینٹ ایٹ آرمز کو طلب کرلیا صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کو ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دیا گیا عطاء اللہ تارڑ کو ایوان ے نکالنے کی کارروائی میں حکومتی ارکان نے مزاحمت کی تمام حکومتی ارکان نے عطاء اللہ تارڑ کو اپنے حصار میں لے لیا سارجینٹ ایٹ آرمز کو عطاء اللہ تارڑ تک جانے سے روک دیا جس کے بعد ایوان میں ایک مرتبہ پھر شدید ہنگامہ ۔شور شرابہ شروع ہو گیا ایوان مچھلی منڈی بن گیا-

    عطاء تارڑ کو ایوان سےباہر جانے کیلئے حکومت نے سیف راستہ مانگ لیا حکومت نے اسپیکر سے10 منٹ کی مہلت پر اسمبلی اجلاس 10منٹ کیلئے ملتوی کردیااسپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمزکو عطا تارڑ کو باہر نکالنے کا حکم دیا-

    بجٹ اجلاس میں رکن پنجاب اسمبلی ندیم قریشی کے والد کی وفات پر دعا مغفرت کی گئی

    واضح رہے کہ قبل ازیں بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوتے ہی نا کام ہو گیا تھا جبکہ اپوزیشن اپنے مطالبات پر ڈٹ گئی تھی وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے اپوزیشن کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کردیاتھا۔

    کسانوں کےحالات پرخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے،عمران خان

    واضح رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے اجلاس کے آغاز سے قبل ہی کیے جانے والے مطالبات تسلیم کرنے کی شرط رکھ دی تھی پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریری معاہدے کے بعد ہی اسمبلی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری اسپیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے آئی جی پنجاب سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ اراکین اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا ہے جس پر آئی جی پنجاب کو معافی مانگنا ہو گی۔

    آئی سی سی کی ون ڈے کی نئی رینکنگ جاری،پاکستان نے بھارت سے چوتھی پوزیشن چھین لی

  • پیپلز پارٹی کا تمام فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کرکرنے پر اتفاق

    پیپلز پارٹی کا تمام فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کرکرنے پر اتفاق

    سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی سربراہی میں پی پی پی کی کور کمیٹی کا اعلی سطح کا ہائبرڈ اجلاس منعقد ہوا جس میں دہشت گردی بالخصوص کابل میں تحریک طالبان افغانستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق حالیہ پیش رفت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پیپلزپارٹی کورکمیٹی کے اعلی سطح کے اجلاس میں اتفاق رائے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام فیصلے پارلیمان میں اور پارلیمان کو اعتماد میں لے کر ہونے چاہئے.

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام فیصلے پارلیمان میں اور پارلیمان کو اعتماد میں لے کر ہونے چاہئیں۔ پیپلزپارٹی کے اعلی سطح کے اجلاس میں اتفاق رائے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانے کا فیصلہ بھی کیا۔

    بلاول بھٹو نے قرنطینیہ میں ہونے کی وجہ سے کورکمیٹی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ فریال تالپور اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی کورکمیٹی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا ہے جس میں دہشت گردی سے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا، پی پی پی کے اعلی سطح کے اجلاس میں بالخصوص تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بات ہوئی، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمان میں تمام فیصلے ہونے پر یقین رکھتی ہے، ہم اتحادی جماعتوں سے رابطہ کرکے آگے بڑھنے کے لئے اتفاق رائے پیدا کریں گے.

    اجلاس میں سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، خورشید شاہ اور فیصل کریم کنڈی، نجم الدین خان، چوہدری یاسین، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور، ہمایون خان، اخوند زادہ چٹان، ندیم افضل چن ، رخسانہ بنگش شریک ہوئے جبکہ نیربخاری، شازیہ مری، نثار کھوڑو، پلوشہ خان اور امجد ایڈووکیٹ نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی.

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے.

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کابینہ کو بجٹ کے نکات پر بریفنگ دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

    بجٹ تقریر کے اہم نکات سامنے آئے ہیں ،بجٹ تقریر کے نکات کے مطابق دفاع پر 1450 ارب روپے خرچ ہوں گے حکومت کے قرض لینے کی حد جی ڈی پی کا 60 فیصد مقرر کی گئی ریونیو میں صوبوں کا حصہ 35 سو 12 ارب روپے رہا ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مختص ہیں رمضان پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص ہیں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اب ایک کروڑ افراد کو فنڈز دے گا بجٹ کا حجم 9 ہزار500 ارب روپے ہوگا، صنعت کے لیے رعایتی گیس کی سہولت دی جائے گی صنعتوں کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے گوادر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جلد گیس کے نئے نرخوں کا اعلان کرینگے نیشنل یوتھ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وفاقی حکومت کے اخراجات 530 ارب روپے ہیں گرین یوتھ مومنٹ کا آغاز کیا جائے گا،سابق حکومت نے پونے 4 سال کے عرصے میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا،

    نئے مالی سال کیلئے 9 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقررکیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں کسانوں کےلئے ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں مقامی خیراتی اسپتالوں کو امپورٹ پر چھوٹ دینے کی بھی تجویز ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہاز شریف نے حکومتی اتحادیوں کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، حکومتی اتحادیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ سے متعلق حکمت عملی پر بات ہو گی، اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس 13 جون کو طلب کر لیا.پنجاب کا بجٹ 13 جون کی دوپہر دو بجے اسمبلی میں پیش کیا جاے گا تاہم
    یہ بجٹ کون پیش کرے گا؟ اس حوالے سے ابھی نوٹفکیشن ہونا باقی ہے.زرائع کے مطابق اسمبلی میں بجٹ وزیر خزانہ پیش کرتے ہیں مگر پنجاب کی نئی حکومت ابھی تک وزیر خزانہ کا تقرر نہیں کر سکی.اور نہ ہی ابھی تک کابنیہ کی تشکیل مکمل کی جا سکی ہے،زرائع کے مطابق پنجاب کابنیہ کیلئے میاں مجتبی شجاع الرحمان کا نام بطور وزیر خزانہ پنجاب زیر غور ہے.مگر ابھی تک ان سے وزارت کا حلف نہیں لیا گیا ،توقع ہے کہ آئیندہ 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب کابنیہ کی تشکیل مکمل کر لی جائے گی اور نئے وزراء حلف اٹھا لین گے.

    دوسری طرٍف پنجاب اسمبلی میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 25ہزار پر عملدرآامد کے مطالبے کی قرارداد جمع کرائی گئی ہے.قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی،قرارداد کے متن میں کہاگیا ہے کہ متعدد فیکٹریاں مزدور کو 18سے 20ہزار ماہانہ تنخواہ دے رہی ہیں ، مہنگائی کے دور میں مزدور کےلئے بیس ہزار میں گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے.

    قرارداد کے متن میں میں کہا گیا کہ مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہورہا ہے ، قرارداد میں وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ نجی فیکٹریوں میں مزدور کی کم از کم اجرت ماہانہ 25ہزار پر عملدرآمد کرایا جائے اورجو فیکٹری مالک مزدور کو 25ہزار سے کم تنخواہ دے اس کو بھاری جرمانہ کیا جائے.

    پنجاب اسمبلی میں آج ہی کے دن ایک اور قرارداد جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں کوفعال کیا جائےاور مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پرئس کنٹرول کمیٹیاں اور مجسٹریٹ کی قلت کی باعث ناجائز منافع خور من مرضی کے ریٹ وصول کررہے ہیں ، دکاندارمارکٹیوں میں سبزیاں اور پھل اپنے ریٹس پر فروخت کررہے ہیں، سادہ لوح شہری ناجائز منافع خوروں کی رحم و کرم پر ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فوری فعال کیا جائےاورلاہور سمیت صوبے بھر میں مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے.