Baaghi TV

Tag: احسن اقبال

  • سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس ، 115.891 ارب روپے کے 7 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس ، 115.891 ارب روپے کے 7 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس ہوا جس میں 115.891 ارب روپے کے 7 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی-

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 115.891 ارب روپے کی مجموعی مالیت کے 7 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں 21.590 ارب روپے کے 5 منصوبے منظور جبکہ 94.301 ارب روپے کے 2 بڑے منصوبے مزید غور کے لیے ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی گئی-

    اجلاس میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر، گورننس، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل اور آبی وسائل کے منصوبوں پر غور کیا گیا، جبکہ زیتون کی کاشت میں نجی شعبے کی شمولیت، ایف بی آر منصوبے میں قابلِ پیمائش نتائج، جامعات میں تحقیق و جدت اور اسپورٹس بورڈ کی ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

  • پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا،احسن اقبال

    پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا،احسن اقبال

    اسلام آباد : وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس ہوا۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ مشن 2 پورے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے، قابلِ اعتماد ذرائع سے آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر قومی اقتصادی مشنز کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جاسکتے، گیارہ قومی اقتصادی مشنز کا مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے، تاہم یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر شعبے میں تبدیلی اور روایتی طریقہ کار سے نجات ضروری ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگامعاشی استحکام حاصل ہوا ہے لیکن موجودہ سطح کا استحکام پائیدار ترقی کے لیے کافی نہیں، اس لیے مجموعی قومی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا،ٹیکس کی شرح کم کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ اور وصولی بڑھانا، وسائل کو متحرک کرنا اور ٹیکس نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنا ناگزیر ہے، جبکہ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی بنانا ہوگا۔

  • وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں ایک بار پھر تبدیلی پر غور کررہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے،بجٹ کی تاریخ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق حتمی فیصلہ آج یا کل متوقع ہے، جبکہ حکومت مختلف آپشنز پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بجٹ سے متعلق کئی اہم امور ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچے ، بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مختلف معاملات پر مشاورت جاری ہے اور ابھی کئی چیزوں کو حتمی شکل دینا باقی ہے وقت بہت کم ہے جبکہ محرم الحرام بھی قریب آ رہا ہے، اس لیے موجودہ شیڈول کے مطابق تمام امور کو مکمل کرنا ایک چیلنج ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی بعض تبدیلیاں اور ایڈجسٹمنٹس کا عمل جاری رہتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر تاریخوں میں ردوبدل ہوگا یا نہیں، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے شہباز شریف کی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے معاملات پر اتحادی جماعتوں میں باہمی مفاہمت موجود ہے آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نسبتاً چھو ٹے صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرے گی،سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان کے لیے مختص کیے جائیں گے، اس کے بعد سندھ اور پھر خیبر پختونخوا کا نمبر آئے گا، جبکہ پنجاب کے لیے سب سے کم ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں-

    انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 265 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، سندھ کو 195 ارب روپے ملیں گے، خیبر پختونخوا کے لیے 98 ارب روپے جبکہ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 72 ارب روپے رکھے گئے ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے سندھ میں سکھر حیدرآباد موٹروے منصو بے پر رواں سال کام شروع کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ کراچی کے اہم آبی منصوبے کےفور کے لیے بھی وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں فنڈز فراہم کرے گی۔

  • بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت عالمی برادری کی تمام تر توجہ کا مرکز پاکستان ہے-

    اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہاکہ حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا تھا، تاہم اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ اعزاز بخشا کہ وہ اس جنگ کو ختم کروانے کا ذریعہ بنا آج امن کی خاطر امریکی اور ایرانی وفود کا اسلام آباد میں موجود ہونا پاکستان کی سفارتی کامیابی اور عزت کی دلیل ہے۔

    احسن اقبال نے کہاکہ ملک کو یہ عالمی وقار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کی بدولت حاصل ہوا ہے اگر سرحد کے دو سری طرف دیکھا جائے تو وہاں سے اٹھتا ہوا دھواں واضح ہے، اور ہمارے پڑوسی اس کامیابی پر کوئلے کی طرح جل کر راکھ ہو رہے ہیں، بھارت کو چاہیے کہ وہ حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے، کیونکہ پاکستان نے بھارت سمیت پوری دنیا کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا ہے، ان کے بقول، پہلے میدانِ جنگ میں حق کا معرکہ اور اب امن کی کو ششوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

  • حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے،احسن اقبال

    حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور ایران کی حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے-

    احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہےآبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے تیل کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیرِاعظم نے عالمی قیمتوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کر دیا اور عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی بلاشبہ قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے بوجھ کا باعث بنتا ہے اور حکومت ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ اس بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے، تاہم موجودہ حالات میں یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے مکمل طور پر الگ رہنا ممکن نہیں ہوتا-

    پیٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے اہم مشاورت، وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ تیل اور توانائی کی صورت میں درآمد کرتا ہے، جب عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتیں بڑھتی ہیں تو درآمدی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے، اگر اس اضافی لاگت کو مکمل طور پر حکومتی خزانے پر ڈال دیا جائے تو اس کا مطلب مالیاتی خسارے میں اضافہ، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور معاشی استحکام پر مزید دباؤ ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں بعض فیصلے وقتی طور پر سخت ضرور ہوتے ہیں مگر طویل المدت استحکام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ایک متوازن حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں کمزور طبقات کو ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کیا جائے، توانائی کے متبادل ذرائع کو تیزی سے فروغ دیا جائے اور معیشت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ عالمی جھٹکوں کو بہتر طور پر برداشت کر سکے۔

    امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    احسن اقبال نے کہا کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں اور دانشمندانہ پالیسی یہی ہے کہ وقتی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جو معیشت کو بڑے بحران سے محفوظ رکھ سکیں-

  • سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں، پاکستان گورننس فورم

    سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں، پاکستان گورننس فورم

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی ترقی، مختلف سطح پر گورننس نظام اور بااختیار مقامی حکومتیں شفاف اور مؤثر گورننس کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں-

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان گورننس فورم 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں بہتر گورننس، شفافیت اور قانونی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ بعض اختیارات کمیٹی کے سپرد کر دیے گئے ہیں اور فورم ملک میں ترقی اور بہتر گورننس کے فروغ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، جمہوری نظام میں پارلیمان کا کردار اہم ہے اور سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں۔

    وفاقی آئینی عدالت کا ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی ترقی، مختلف سطح پر گورننس نظام اور بااختیار مقامی حکومتیں شفاف اور مؤثر گورننس کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں انہوں نے اڑان پاکستان پروگرام کے فائیو ایز اور اہم قومی موضوعات پر پارلیمان میں بحث کی ضرورت پر بھی زور دیا، انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے فوڈ سیکیورٹی خطرے میں ہے، انسانی وسائل کی ترقی اور ای گورننس کے فروغ کے اقدامات ملک کی مجموعی ترقی کے لیے اہم ہیں فورم میں قانون سازی، شفافیت اور ترقی کے لیے اجتماعی کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا۔

    افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

  • احسن اقبال نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کیلیے روانہ

    احسن اقبال نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کیلیے روانہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے ڈھاکہ روانہ ہوگئے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال بنگلا دیش میں اعلیٰ سطحی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے سیاسی، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی،پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور مستقبل میں سیاسی و اقتصادی پیش رفت کے روشن امکانات کے لیے پُرامید ہے۔

    بنگلا دیش کی حکومت کی جانب سے وزیرِاعظم پاکستان کو نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے،وزیرِاعظم پاکستان کے غیر ملکی دورے کے باعث وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال حلف برداری کی تقریب میں حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

    بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان منگل کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے، جبکہ ان کی نئی کابینہ کے ارکان بھی اسی تقریب میں حلف لیں گے۔ دارالحکومت ڈھاکا میں سیاسی حلقوں میں کابینہ کے حجم اور اہم وزارتوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔

    پارٹی ذرائع کے مطابق نئی کابینہ نسبتاً مختصر ہوگی، جس میں قریباً 35 سے 37 ارکان شامل کیے جانے کا امکان ہے ان میں سے 26 سے 27 کو مکمل وزارتیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ 9 سے 10 افراد وزیرِ مملکت ہو سکتے ہیں، آخری وقت میں ایک 2 ناموں کا اضافہ بھی ممکن ہے یہ فیصلہ 2001 کی بی این پی حکومت کے تجربے کی روشنی میں کیا جا رہا ہے، جب قریباً 60 رکنی کابینہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اہم وزارتوں کے لیے جن رہنماؤں کے نام زیر غور ہیں وہ ہیں مرزا فخرالاسلام عالمگیر، امیر خسرو محمود چوہدری، صلاح الدین احمد، حافظ الدین احمد، اور عثمان فاروق۔ اتحادی جماعتوں، ضلعی نمائندوں، نوجوان سیاستدانوں اور ٹیکنوکریٹس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی کے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا انحصار اہل اور بااعتماد شخصیات کے انتخاب پر ہوگا۔ طارق رحمان نے قومی مفاہمت اور سیاسی استحکام پر زور دیا ہے، اور کہا کہ قانون کے سامنے سب شہری برابر ہوں گے۔

  • وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا،احسن اقبال

    وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا،احسن اقبال

    وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا، دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز معمول کی بات ہے جو جاری رہیں گے خیبرپختونخوا حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ یہ لوگ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے عوام کے ساتھ، پی ٹی آئی پاکستان کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں قیام امن صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت سے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہیں ہم نے 2018 میں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن بعد میں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دہشتگردوں کو یہاں لا کر بسایا، جس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایسی کوئی اپیل نہیں کی کہ لوگ وادی تیراہ سے نکل جائیں، لوگ بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے نقل مکانی کررہے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ مجھے دہشتگردوں کے حمایتی نظر آتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 2سال میں ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے،ملکی معیشت درست سمت پر گامزن ہےمعرکہ حق میں عظیم کامیابی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،معرکہ حق میں مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔

    فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسا جواب دیا گیا جو اس کی نسلیں یاد رکھیں گی،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہترین پالیسیوں کی بدولت نمایاں کامیابیاں ملیں پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ریاست کیساتھ ہے یا متنازعہ قیادت کے، معرکہ حق کی طرح اڑان پاکستان پروگرام میں بھی کامیابیاں حاصل ہوئیں ،زراعت میں جدت کیلئے چین کے تعاون سے نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے، موسم کی شدت کے باعث ہر سال لوگ وادی تیراہ سے انخلا کرتے ہیں،وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے خود 4 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے، اب اس معاملے کو کیسے فوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔

  • احسن اقبال کا طلبہ کو نیٹ فلکس مووی””دی گریٹ ہیک”دیکھنے کا مشورہ

    احسن اقبال کا طلبہ کو نیٹ فلکس مووی””دی گریٹ ہیک”دیکھنے کا مشورہ

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کر لیا جائے تو اس کا پاور گرڈ فیل کیا جا سکتا ہے، اسمارٹ سٹی کے کیمروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اگر بینکاری نظام میں مداخلت ہو جائے تو نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ پورے مالیاتی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔

    احسن اقبال نے کہا کہ آنے والے دور میں چونکہ ہتھیار بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، اس لیے قومی دفاع کا تعلق بھی براہِ راست ڈیجیٹل سیکیورٹی سے جڑ گیا ہے ڈیجیٹائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہےیہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گوگل جیسے ڈیجیٹل نظام کسی فرد کی نفسیات، پسند ناپسند اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں، جس کی وجہ بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے،احسن اقبال نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اب تک نیٹ فلکس پر موجود فلم ’دی گریٹ ہیک‘ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں، کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کی سوچ، رائے اور فیصلوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یہ ایک نئی اور طاقتور مینیپولیٹو صلاحیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو اصل ہے یا مصنوعی، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے، جسے مختلف عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور ہیٹ اسپِیچ پھیلائی، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سے ان کا کوئی ذاتی تعلق، جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔

  • احسن اقبال کی لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق وضاحت

    احسن اقبال کی لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق وضاحت

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کو مکمل طور پر منظور نہیں کیا گیا اور نہ ہی مالیاتی قواعد یا وزیراعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    احسن اقبال کی وضاحت ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے 465 ارب روپے لاگت کے موٹروے منصوبے کی مشروط منظوری دے دی ہے، حالانکہ اس منصوبے کی فنڈنگ، ڈیزائن اور نیشنل فِسکل پیکٹ سے مطابقت پر تحفظا ت موجود تھے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت دو سال پرانے تخمینوں کے مقابلے میں 201 ارب روپے زیادہ ہے اور اس سے سی پیک کے تحت ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی افادیت متاثر ہو سکتی ہے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق یہ معاملہ 6 جنوری 2026 کو سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں زیر بحث آیا تھا انہوں نے واضح کیا کہ فورم نے صرف اس 18.5 کلومیٹر طویل حصے کو، جو لاہور رنگ روڈ ہلوکی سے راجہ جنگ انٹرچینج (قصور روڈ) تک ہے، ایکنک میں غور کے لیے پیش کرنے کی سفارش کی ہے، جو پہلے ہی منظور شدہ تھا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ باقی 276.5 کلومیٹر طویل روٹ کو کسی قسم کی حتمی منظوری نہیں دی گئی بلکہ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تفصیلی تکنیکی فزیبلٹی اور معاشی افادیت کے مطالعے مکمل کریں محدود مالی گنجائش کے پیش نظر وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت متبادل مالی ذرائع تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ دیگر اہم منصوبے متاثر نہ ہوں۔

    انہوں نے بتایا کہ ترجیحی منصوبوں میں سکھر–حیدرآباد موٹروے، قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ، این 55 کی ڈوئلائزیشن، لواری ٹنل کے برقی و مکینیکل کام، کے پی اکنامک کوریڈور، پاکستان ایکسپریس وے اور ہوشاب–خضدار روڈ شامل ہیں، باقی موٹروے حصوں کو صرف اصولی منظوری دی گئی ہے اور حتمی فیصلہ وزیراعظم کی ہدایات، قانونی تقاضوں اور فزیبلٹی رپورٹس کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔

    علاقائی ترقی پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کو سب سے زیادہ 206 ارب روپے جبکہ سندھ کو 154 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو متوازن ترقی کے حکومتی عزم کا ثبوت ہے۔