وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں ایک بار پھر تبدیلی پر غور کررہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے،بجٹ کی تاریخ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق حتمی فیصلہ آج یا کل متوقع ہے، جبکہ حکومت مختلف آپشنز پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بجٹ سے متعلق کئی اہم امور ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچے ، بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مختلف معاملات پر مشاورت جاری ہے اور ابھی کئی چیزوں کو حتمی شکل دینا باقی ہے وقت بہت کم ہے جبکہ محرم الحرام بھی قریب آ رہا ہے، اس لیے موجودہ شیڈول کے مطابق تمام امور کو مکمل کرنا ایک چیلنج ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی بعض تبدیلیاں اور ایڈجسٹمنٹس کا عمل جاری رہتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر تاریخوں میں ردوبدل ہوگا یا نہیں، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے شہباز شریف کی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے معاملات پر اتحادی جماعتوں میں باہمی مفاہمت موجود ہے آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نسبتاً چھو ٹے صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرے گی،سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان کے لیے مختص کیے جائیں گے، اس کے بعد سندھ اور پھر خیبر پختونخوا کا نمبر آئے گا، جبکہ پنجاب کے لیے سب سے کم ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں-
انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 265 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، سندھ کو 195 ارب روپے ملیں گے، خیبر پختونخوا کے لیے 98 ارب روپے جبکہ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 72 ارب روپے رکھے گئے ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے سندھ میں سکھر حیدرآباد موٹروے منصو بے پر رواں سال کام شروع کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ کراچی کے اہم آبی منصوبے کےفور کے لیے بھی وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں فنڈز فراہم کرے گی۔
