Baaghi TV

Tag: ارشد شریف

  • ارشد شریف قتل کیس:مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس سوالوں کے جواب مانگ لئے

    ارشد شریف قتل کیس:مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید کا جواب سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس سوالوں کے جواب مانگ لئےمراد سعید نے کہا کہ ‎موجودہ حالات اوروفاقی حکومت کے رویےکےتناظر میں ایف آئی اےسے غیرجانبدار،شفاف اورخودمختار انکوائری کی توقع نہیں کی جاسکتی،‎ارشد شریف کے سرکاری پوسٹ مارٹم کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت کا کردار متنازعہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تحقیق کرے کہ شہید ارشد شریف پر 16 سے زائد مقدمات درج کروانے والے مدعیان کون تھے اور ان کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے۔

    مراد سعید نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سراغ لگائے شہید ارشد شریف کی تحقیقاتی صحافت کس کیلئے خطرہ تھی، پاکستان میں کون شہید ارشد شریف کو دھمکاتا اور ہراساں کرتا تھا، کس نے ان کی دبئی روانگی کی تصاویر جاری کیں۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ سراغ لگایا جائے کہ دبئی کے ہوٹل کی لابی میں کس کی ایما پر ارشد شریف کو دبئی چھوڑنے کا کہا گیا، ۲۳ اکتوبر کوقتل کےفوراً بعد کس نے میڈیا میں ان کےقتل کو ایکسیڈنٹ کا رنگ دینےکی کوشش کی؟ وہ کس طاقتور پاکستانی کےخلاف تحقیقاتی رپورٹ مرتب کررہے تھے؟۔

    آرمی چیف کی ٹیکس معلومات لیک ہونےپر وزیر خزانہ کا سخت نوٹس،ایف بی آر کو فوری تحقیقات کا حکم

    انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد حکومتی عہدیداران اور ریاستی اداروں کے جانب سے کیونکر عجلت میں حقائق کے برخلاف اور الزامات پر مبنی پریس کانفرنسز کی گئیں؟۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا نے کہا کہ سینئیر صحافی ارشد شریف قتل کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بہترین کام کررہی ہے،امید ہے ان بڑوں لوگوں تک ہاتھ پہنچے گاجن پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا ، سلمان اقبال کا اس قتل سےکوئی تعلق نہیں، ان سے درخواست کروں گا پاکستان ضرور آئیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ارشد شریف کا سازشی قتل ہوا اور قریب سے گولی ماری گئی، جب تک میں نے پریس کانفرنس نہیں کی تھی پاکستان سویا ہوا تھا ارشد شریف کا فون اور آئی پیڈ نہیں ملا، جو قتل میں ملوث ہیں وہ طاقتور، پلانر اور سمجھدار ہیں، مجرمان کو پکڑنا چاہیے جو پاکستان سے باآسانی نکل جاتے ہیں، ہمیں گولی چلانے والے نہیں بلکہ چلوانے والے تک پہنچنا چاہیے۔

    معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

  • فیصل واوڈا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں پیش،ارشد شریف قتل سے متعلق ایک اور دعویٰ کر دیا

    فیصل واوڈا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں پیش،ارشد شریف قتل سے متعلق ایک اور دعویٰ کر دیا

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا نے کہا کہ سینئیر صحافی ارشد شریف قتل کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بہترین کام کررہی ہے،امید ہے ان بڑوں لوگوں تک ہاتھ پہنچے گاجن پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف قتل کے شواہد ابھی پیش نہیں کیے، یہ تکلیف دہ معاملہ ہے،اس کیس میں گھٹیا قسم کا مذاق نہیں کرنا چاہیے۔

    آرمی چیف کی ٹیکس معلومات لیک ہونےپر وزیر خزانہ کا سخت نوٹس،ایف بی آر کو فوری تحقیقات کا حکم

    فیصل واوڈا نے کہا کہ ایف آئی اے نے دس سوالوں پر مبنی سوالنامہ دیا ہے،رشد شریف کے قتل کا پاکستان میں پلان بنایا گیا، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بہترین کام کررہی ہے، امید ہے ان بڑوں لوگوں تک ہاتھ پہنچےگا جن پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، سلمان اقبال کا اس قتل سےکوئی تعلق نہیں، ان سے درخواست کروں گا پاکستان ضرور آئیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ارشد شریف کا سازشی قتل ہوا اور قریب سے گولی ماری گئی، جب تک میں نے پریس کانفرنس نہیں کی تھی پاکستان سویا ہوا تھا ارشد شریف کا فون اور آئی پیڈ نہیں ملا، جو قتل میں ملوث ہیں وہ طاقتور، پلانر اور سمجھدار ہیں، مجرمان کو پکڑنا چاہیے جو پاکستان سے باآسانی نکل جاتے ہیں، ہمیں گولی چلانے والے نہیں بلکہ چلوانے والے تک پہنچنا چاہیے۔

    باپ نے تین بیٹوں کے قاتل چوتھے بیٹے کو معاف کردیا

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو لانگ مارچ تک دھکیلنا بند گلی میں لے جانا ہے، عمران خان کو نااہل کرواکر وزیراعظم میں نے نہیں انہی لوگوں نے بننا ہے، عمران خان پارٹی کےاندر صفائی کریں وہ میرے لیڈرتھے، ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا،جب بلائیں گے جاؤں گا۔

  • نوازشریف پرسنگین الزام لگانے والا ہےکون اورکن سے رابطے میں تھا:تفصیلات آگئیں

    نوازشریف پرسنگین الزام لگانے والا ہےکون اورکن سے رابطے میں تھا:تفصیلات آگئیں

    لاہور:نوازشریف پرسنگین الزام لگانے والا ہےکون اورکن سے رابطے میں تھا:تفصیلات آگئیں،اطلاعات کے مطابق لندن میں بیٹھ کرنوازشریف پر سنگین الزام لگانے والے شخص کی حقیقت کھل کرسامنے آگئی ہے،لندن پولیس کوارشد شریف کے قتل اورعمران خان پر ہونے والے حملے کے حوالے سے مبینہ ثبوت دینے کا دعویداراصل میں پی ٹی آئی کا بڑی خیرخواہ نکلا ہے ،

    سید تسنیم حیدر کہ جس نے لندن میں پریس کانفرنس کرکے ارشد شریف کے قتل اورعمران خان پروزیرآباد میں ہونے والےحملےکا نوازشریف کو مورود الزام ٹھہرایا ہے ، پہلی بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ یہ شخص پی ٹی آئی کے لوگوں سے بھی رابطے میں تھا،

     

    شاید یہی وجہ ہے کہ ارشد شریف قتل سے توجہ ہٹانے اور وقار، خرم، طارق وصی اور سلمان اقبال کے کردار سے توجہ ہٹانے کے لیے اے آر وائی کے رپورٹر فرید قریشی، پی ٹی آئی رہنماؤں طارق محمود اور مہتاب عزیز کی مدد سے لندن میں پریس کانفرنس کی اور سنگین الزامات لگائے

     

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اے آر وائی پاکستانیوں کو تواس حوالے سے من گھڑت کہانیاں سنا رہا ہے لیکن اے آر وائی یہ خبر برطانیہ میں نہیں دکھا رہا کیونکہ وہ ناصر بٹ کے خلاف 250 ہزار پاؤنڈ کا ہتک عزت کا مقدمہ ہار چکا ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لندن میں‌اس طرح کے جھوٹ پرسخت سزا ہوتی ہے اورکسی کے خلاف ایسی رپورٹنگ کی اجازت نہیں اس لیے اے آر وائی لندن میں یہ منظر نہیں دکھا رہا

     

     

    جہاں ایک طرف سوشل میڈیا پر سید تسنیم حیدر کے پی ٹی آئی والوں سے رابطوں کا سلسلے کے بارے میں انکشافات ہورہے ہیں ،وہاں مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے نواز شریف پر سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کا الزام لگانے والے تسنیم حیدرکی پی ٹی آئی رہنما ذلفی بخاری کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئرکردیں۔

     

    ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں تسنیم حیدرکی پی ٹی آئی رہنما ذلفی بخاری کے ساتھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بظاہریہ بندہ فراڈیا لگتا ہے،نہ کبھی نام سنانہ کبھی دیکھا، کچھ چینلز نے اسے سیدھا ن لیگ کا ترجمان بنادیا۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ شرم کرو، جھوٹ کی بھی کوئی حدہوتی ہے، ذلفی بخاری کا ترجمان ہوسکتا ہے یہ اور اکثرپی ٹی آئی کےاجتماعات میں ہی نظر آتا ہے۔

     

     

     

    یاد رہے کہ سید تسنیم حیدر جو کہ اپنے آپ کو ن لیگ لندن کا ترجمان کے طور پر پیش کرتے ہیں ، جن کی ترجمانی کی تردید مریم اورنگزیب کرچکی ہیں ،یہ سید تسنیم حیدر ارشد شریف کی دردناک موت اورعمران خان پر ہونےوالے حملے کے بارے میں پہلے کچھ اورموقف رکھتے تھے ،

     

    اس حوالے سے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سید تسنیم حیدر کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے اوپرہونے والے ممکنہ قاتلانہ حملے میں ملوث کرداروں کے بارے میں جو ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا تھا ،عمران ریاض خان ، سمیع ابراہیم اور ایسے ہی ارشد شریف جیسے صحافی باہرکسی دوسرے ملک میں جاکر وہ پیغام وائرل کرنا چاہتے تھے ،

     

    سید تسنیم حیدر اپنی گفتگو میں بڑی ہوشیاری سے اداروں کو بھی اس حملے میں ملوث کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ساتھ ساتھ ایک ایسا پیغام بھی شیئر کرجاتا ہے کہ جس سے بہت کچھ وہ عیاں کرنا چاہتا ہے، سید تسنیم حیدر کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے پیچھے کچھ ادارو کے لوگ تھے ، لیکن ساتھ ہی سید تسنیم حیدر کہتے ہیں کہ کچھ دن بعد اصل کہانی سامنے آئے گی اور سب کی آنکھیں کھل جائیں گی ، اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سید تسنیم حیدر اس موقع کی تلاش میں تھا کہ وہ نوازشریف پرسنگین الزامات لگائے اور ارشد شریف کے قتل اور عمران خان پر حملے کونوازشریف کے کھاتے میں ڈال کراپنے آپ کومعصوم عن الخطا قرار دے

     

     

    ادھر سید تسنیم حیدر کے بارے میں مزید انکشافات ہوئے ہیں ،سابق وزیراعظم نواز شریف پر سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کا الزام لگانے والا تسنیم حیدر خود قتل کیس کا مفرور ملزم نکلا۔

    دستاویز کے مطابق ملزم 15 مئی 2004 کو تھانہ صدرگجرات کے قتل کیس کی تفتیش کاملزم ہے۔قتل کے اس واقعے میں تقریباً 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    پنجاب پولیس ذرائع کے مطابق تسنیم حیدر شاہ قتل کیس کی تفتیش کے دوران ملزم نامزدہوا۔ملزم تسنیم حیدر کا تعلق ضلع گجرات کے علاقے مدینہ سیداں سے ہے۔

  • ارشد شریف کےقتل سے متعلق غلط فہمیاں:سچ کیا ہے؟اہم انکشافات

    ارشد شریف کےقتل سے متعلق غلط فہمیاں:سچ کیا ہے؟اہم انکشافات

    لاہور:ارشد شریف کے متعلق وہ تمام غلط خبریں جن کی سچائی آپ جاننا چاہتے ہیں۔ ثبوتوں کے ساتھ اہم انکشافات کرتے ہوئے شنیئرصحافی مبشرلقمان اہم پہلو بیان کیئے ہیں

    مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ ظلم ہوا ، اس کو قتل کردیا گیا ،لیکن اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اس کے قتل سے متعلق اہم حقائق کو جان بوجھ کرتوڑمروڑ کرپیش کیا جارہا ہے تاکہ ارشد شریف کے اصل قاتل سامنے نہ آئیں ،ان کا کہنا تھا کہ جہاں اگرکینیائی حکام نے نااہلی کا ثبوت دیا ہے تو پاکستانی ڈاکٹرز نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ لوگ ارشد شریف کے قتل سے سیاسی طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ کسی بھی طرح درست نہیں ہے ،ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ارشدشریف پر قتل سے پہلے تشدد کے قتل کی باتیں کررہے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف پر کتنی دیر تک تشدد ہوا ،ناخن کس نے اتارے اور کیوں اتارے یہ بھی ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے مگرآج اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کروں گا

    مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ ارشد شریف کا جو کینیا میں پوسٹ مارٹم ہوا اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 2لکھا ہوا ہے کہ ایک گولی ارشد شریف کے کان کے بہت قریب لگی اور دوسری کان سے نیچے تیس سینٹی میٹر دائیں طرف لگی یعنی اس کا اشارہ دل کی طرف جارہا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ کی چھوٹے خودکارہتھیار سے چلائی گئی، یہ معلوم نہیں کہ پہلے گولی کہان لگی ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نیچے نظرماریں تو جو وزارت خارجہ نے کچھ لکھا ہے وہ بھی واضح ہورہا ہے کہ جو گولی کنپٹی پر لگی جہاں سے لگی وہاں سے نکلی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مقام ایک ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ایک گولی پیچھے کمرسے لگی اور سینہ چیرتی ہوئی آگے نکل گئی

    ارشد شریف پر کتنا تشدد ہوا آج تک کوئی ایسے ایکسپرٹ نہیں جو یہ اندازہ لگا سکیں کہ کتنے گھنٹے تشدد ہوا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کےناخن نکالنے کے حوالے سے بھی بہت غلط بیانی کی گئی ، لیکن دوسری طرف پوسٹ مارٹم پرلکھا ہوا ہے کہ ڈی این اے کے لیے ارشد شریف کے ناخن رکھے ہوئے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گردے ، جلد ، خون کے سیمپل ،معدے اور جگر کے کچھ حصے بھی ارشد شریف کے جسم سے نکالے گئے ، ان کو حاصل کرنےکے لیے یقینا کٹ لگایا گیا ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں جس طرح ارشد شریف پرپوسٹ مارٹم کرنے کے لیے جوطریقہ اختیارکیا گیا وہ قابل شرم ہے ،دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ارشد شریف پر تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں ، ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کو جتنی قریب سے گولیاں ماری گئیں اس سے تو پسلیوں کو ڈیمج ہونے سے کوئی نہیں روک سکتااس گولی نے کتنی پسلیوں کو ڈیمج کیا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ،

     

    ان کا کہنا تھا کہ پسلیاں کیسے ٹوٹیں یہ تو بعد میں بتائیں گے لیکن یہ ظاہر ہے کہ ارشد شریف کو بہت قریب سے گولیاں ماری گئیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنی مرضی کی رپورٹ لینے کےلیے ڈاکٹرلگادیئے گئے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سارے کے سارے پمز کے ڈاکٹرز ہیں،پروفیسر ڈاکٹر وقارہیں جو کہ سرجری کے ماہر ہیں ان کا پوسٹ مارٹم سے کیا تعلق ، ایسے ہی پروفیسر لال رحمن جو کہ نیوروسرجن ہیں ، پروفیسر ممتازخان نیازی جنرل سرجن ، پروفیسر فرخ کمال فرانزک اسپیشلسٹ،ڈاکٹرنسرین بٹ میڈیکل آفیسر اور ڈاکٹرمحمد ارشاد حسین بھی ایک عام ڈاکٹرہیں ، ان کا پوسٹ مارٹم سے کیا تعلق ہے ،

    ڈاکٹرالطاف حسین ای این ٹی ،ڈاکٹرعمرفاروق اس پینل میں شامل ہیں، ان کہنا تھا کہ جس ایک فرانزک اسپیلسٹ شامل کیا گیا اسی ڈاکٹرفرخ کمال کی تعلیم کا کوئی پتہ نہیں کہ کس شعبے میں ماہر ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں جو کینیا میں تیار ہوئی ، کہا گیا کہ اس کہ نہ داڑھی تھی اور نہ موچھیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ لوگ بتائیں گے کہ ارشد شریف کے ساتھ کیا ہوا

    ان کا یہ بھی کہنا تھا ، اس بورڈ نے کینیا سے آنے والے پوسٹ مارٹم کو ہی بنیاد بنا کر کہانی لکھ دی ، ان کا کہنا تھا پھپھڑوں کو بھی گولی لگنے سے نقصان پہنچ سکتا تھے، ان کہنا تھا کہ میں نے یہ فیصلہ اسلیے کیا کہ ہمیں ادھر ادھر کی باتوں اور قیاس ارائیوں سے بچنا چاہیے ، ان کا کہنا تھاکہ ہمیں کینیا کے ماہرین ڈاکٹرز کی رپورٹ کو ہی بنیاد بنا لیا ایسےنہیں ہونا چاییے تھا ،

  • ارشد شریف پرتشدد نہیں ہوا:ہڈیاں کیسے ٹوٹیں؟ناخن کس نے نکالے؟اہم انکشافات سامنے آگئے

    ارشد شریف پرتشدد نہیں ہوا:ہڈیاں کیسے ٹوٹیں؟ناخن کس نے نکالے؟اہم انکشافات سامنے آگئے

    لاہور:ارشد شریف کوکس طرح قتل کیا گیا، کیا واقعی قتل کرنے والوں نے ارشد شریف کے ناخن اتارے یا کوئی اور معاملہ ہے تو اس پر میں ایک بار پھر ارشدشریف کے قتل کے گمنام پہلووں سے پردہ اٹھا رہا ہوں ، ان خیالات کا اظہارسنیئر صحافی مبشرلقمان نے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے جواب میں کیا

    ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کے حوالےسے بہت سے لوگ پہلے مختلف قسم کی معلومات رکھتےہیں لیکن آج میں اس واقعہ کی تہہ تک جانے کی کوشش کروں گا،ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ صحافی ہیں اور ہمارا تحقیق اور حالات کا جائزہ لینے کا انداز اور ہوتا ہے ، ہم ان لوگوں پر انحصار کرتے ہیں‌ جن کوسمجھتے ہیں کہ وہ اس شعبے کا ماہر ہے

    ان کا کہنا تھا کہ میں خود بہت پریشان تھا کہ ایسے شخص کے ساتھ ایسا کیوں ہوا وہ ہماری برادری کا رکن تھا، ان کا کہنا تھا کہ میں سن رہا ہوں‌ کہ تین سے چار گھنٹے تک تشدد ہوا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انہوں نے گوگل اور ایسے ہی فرانزیک ماہر سے پوچھا کہ اتنی دیر تک تشدد کیا واقعی ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ میڈیکل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے ناخن اتارے گئے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کا دو جگہ پوسٹ مارٹم ہوا ہے ، ایک کینیا میں اور دوسرا پاکستان میں یعنی پمزمیں ہوا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا واقعہ کا بھی تفتیش اور چھان بین میں فرق ہوتا ہے ، ہوسکتا ہےکہ پمز کے ڈاکٹرز کے لیے یہ تو معلوم کرنا آسان ہو لیکن بعض کریمنل کیسز ایسے ہوتےہیں کہ جن کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے جو کہ شاید نہیں ہے

     

    ان کا کہنا تھا کہ کینیا کی رپورٹ جو پوسٹ مارٹم کی ہے وہ مختلف ہے ، ان کا کہنا تھا کہ کینیا کومعلوم تھا کہ لاش پاکستان منتقل ہوجانا ہےتو وہ ان کو ڈی این اے کے لیے کوئی نہ کوئی باڈی کے حصے چاہیں ہوتے ہیں، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ کینیا کے ماہرین نے اسی نقطہ نظر کے تحت انکے ناخن اورجسم کا کچھ حصہ رکھا ہے، تاکہ ان کوتہہ تک پہنچے کے لیے ضروری ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کی انگلیاں بھی توڑی گئیں اس کو ٹارچر کیا گیا، لیکن ہم اس کی تہہ تک نہیں پہنچے ، ان کا کہنا تھا کہ جب پوسٹ مارٹم ہورہا ہوتا ہے تواس کا انداز مختلف ہوتا ہے ، انکا کہنا تھا کہ ایسی کیفیت میں پھیھڑے اور دیگراہم جسم کے حصوں کواس مقصد کےلیے نکالا جاتا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا میں مرنے والے کے لواحقین اسی لیے تو کہتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے ،وہ جانتے ہیں کہ ایسی صورت مں جسم کے اہم اجزا نکال لیے جاتےہیں

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب لاش پہنچی تو پتا چلا کہ ناخن بھی نہیں ہے اور جسم کے کئی حصے بھی نہیں ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ ہمارے ہاں مئسلہ یہ ہے کہ کوئی ایکسپرٹ نہیں ، ان کا کہنا تھاکہ ہمارے پاس جو باڈی پہنچی ہے اس میں جو اہم حصے غائب ہیں وہ میڈیکل تفتیش کےلیے رکھے گئے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کا واقعی قتل کیا گیا ، پھر یہ کہنا کہ ارشد شریف پر تشدد ہوا ہے کہ درست نہں اگرکسی کے پاس یہ چیک کرنے کی اہلیت ہے کہ کتنے گھنٹے تشدد ہوا بتا دیے لیکن نہیں بتا سکے گا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی دکھ ہے ، اور گھر والوں کو بھی دکھ ہے ان کے بچوں کو بھی ارشد شریف کے قتل کا دکھ ہے ، اس قتل کا فائدہ اس شخص کو ہوسکتا ہے جواداروں پر یہ الزام دھرتے ہیں ، ان کا کہ یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کو بھی اس معاملے کو لیکر آگے بڑھنا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہیے کہ جس سے اس کے گھروالوں کو دکھ پہنچے

    ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ اب یہ بحث نہیں ہونی چاہیے کہ ارشدشریف پر تشدد ہوا ہے یا نہیں ، ہمیں اس معاملے سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے اوراس معاملے جو ڈیل کررہے ہیں ان تک ہی رہنے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے

  • پاکستان سے جانے سے قبل ہی ارشد شریف نے کینیا کا ویزہ لیا تھا،سپانسر کا نام بھی آ گیا

    پاکستان سے جانے سے قبل ہی ارشد شریف نے کینیا کا ویزہ لیا تھا،سپانسر کا نام بھی آ گیا

    پاکستان سے جانے سے قبل ہی ارشد شریف نے کینیا کا ویزہ لیا تھا،سپانسر کا نام بھی آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کینیا میں قتل کئے گئے صحافی ارشد شریف کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں

    ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا، پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق غلط فہمی سے ایسا ہوا،گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے موت ہوئی بعد میں کینیا کی پولیس نے ہی بیان بدل لیا، گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس پاکستان کو جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے خط لکھا ہے

    ارشد شریف دبئی میں تھے اور وہ دبئی سے کینیا گئے، جب ارشد شریف کی موت ہوئی تو اسکے بعدکہا جا رہا تھا کہ ارشد شریف کو دبئی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، دبئی کی حکومت کو کہا گیا کہ ارشد شریف کو بیدخل کریں ارشد شریف کہیں اور جا نہیں سکتے تھے اسلئے وہ کینیا چلے گئے تا ہم حقیقت کچھ اور ہی سامنے آئی ہے، تحقیقات میں ہر روز نیا موڑ سامنے آ رہا ہے، ارشد شریف پاکستان سے روانہ ہونے سے قبل ہی کینیا کا ویزہ حاصل کر چکے تھے، وہ دبئی حکومت کی جانب سے بیدخل نہیں کئے گئے اور نہ ہی ایسی کوئی بات تھی بلکہ ارشد شریف اپنی مرضی سے کینیا گئے تھے، ارشد شریف نے خود کینیا کے ویزے کے لئے اپلائی کیا تھا اور اس کے لئے انہیں سپانسر لیٹرملا تھا

    کینیا میں ارشد شریف کی موت کے بعد دو بھائیوں وقار اور خرم کا تذکرہ بار بار سامنے آ رہا ہے،انہی میں سے وقار نے ہی ارشد شریف کو کینیا کے لئے سپانسر کیا تھا ،کینیا میں ارشد شریف کے میزبان دو بھائیوں وقار احمد اور خرم احمد میں سے وقار نے سات اگست کو ایک سپانسر لیٹر جاری کیا، تحقیقاتی ٹیم کے دعوے کے مطابق آٹھ اگست کو ارشد نے وزٹ ویزے کے لئے درخواست دی اور اسکے ساتھ وقار احمد کا سپانسر لیٹر لگایا اور انہیں اسی دن ہی کینیا کا وزٹ ویزا آن لائن جاری ہو گیا

    ارشد شریف پاکستان سے دس اگست کو روانہ ہوئے تھے، پاکستان روانگی سے قبل ہی ارشد شریف نے کینیا کا ویزہ حاصل کر لیا تھا ، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ارشد شریف کا کینیا جانے کا پہلے سے ہی پروگرام تھا انہیں دبئی کی حکومت نے بیدخل کرنے کا نہیں گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے کینیا اپنے شیڈول کے مطابق گئے کیونکہ پاکستان سے جانے سے قبل ہی وہ کینیا کا ویزہ حاصل کر چکے تھے

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    ارشد شریف کی موت پر وزیراعظم، صدر مملکت کا اظہار افسوس

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

    ‏ارشد شریف کو گولی کیسے لگی؟ حقائق سامنے آ گئے

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

  • ارشد شریف کی والدہ کا چیف جسٹس پاکستان کو خط

    ارشد شریف کی والدہ کا چیف جسٹس پاکستان کو خط

    اسلام آباد:کینیا میں جاں بحق سینیئر صحافی ارشد شریف کی والدہ نے بیٹے کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کردی ہے۔جس میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اہم گزارشات کی گئی ہیں اور ان سے آئینی کردار ادا کرنے کی استدعا کی گئی ہے

    چیف جسٹس آف پاکستان کے نام خط میں ارشد شریف کی والدہ نے حکومتی رویے کا نوٹس اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    ارشد شریف کی والدہ رفعت آراء علوی نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ارشد شریف نے آپ کو 12 مئی کو خط لکھ کر خطرات سے آگاہ کیا تھا، خط میں آپ کو غداری کے بے بنیاد مقدمات سے بھی آگاہ کیا تھا، خطرات کی وجہ سے ہی ارشد شریف کو ملک سے باہر پناہ لینی پڑی۔

    رفعت آراء علوی نے لکھا ہے کہ ارشد شریف دبئی پہنچے تو تسلی تھی کہ اب وہ خطرے سے باہر ہے لیکن حکومت نے یو اے ای حکومت پر دباؤ ڈالا جس پر ارشد شریف کو دبئی چھوڑنا پڑا،دبئی سے نکلنے پر ارشد شریف کو کینیا جانا پڑا، جہاں اسے بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

    سائفر انکوائری اور فارن فنڈنگ کیس: ایف آئی اے نےعمران خان کو طلب کرلیا

    خط میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے بیان میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا لیکن ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنانا حکومتی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔

    ارشد شریف کی والدہ نے مزید کہا ہے کہ کینیا پولیس نے 3 سے 4 مرتبہ اپنا موقف تبدیل کیا،تحقیقاتی ٹیم کی روانگی سے قبل وزراء نے من گھڑت کہانیاں بنائیں۔

    جسٹس نورمسکانزئی قتل کیس؛گرفتارملزم کا ایران میں تربیت لینےکاانکشاف

    رفعت آراء علوی نے لکھا ہے کہ ارشد کی شریف کی بیوہ اور یتیم بچوں کو انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہئے، ان کے گھر والوں اور صحافی برادری کا غم و غصہ فراہمی انصاف سے ہی کم ہوگا، اپنا معاملہ اللہ کی عدالت میں رکھ کر انصاف کی طلب گار ہوں، توقع ہے میرا خط شہید بیٹے کے خط کی طرح سردخانے کی نذر نہیں ہوگا۔

    عمران ریاض خان،معید پیرزادہ کے بعد ارشاد بھٹی بھی پاکستان چھوڑگئے

    رفعت آراء علوی نے خط میں کہا ہے کہ ارشد شریف کے بے دردی سے قتل پر حکومت کے رویے کا نوٹس لیا جائے،

  • ارشد شریف کیس: وزیراعظم کی ہدایت پر تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ارشد شریف کیس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا گیا جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق تین رکنی انکوائری کمیشن کے سربراہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) عبدالشکور ہی جبکہ کمیشن کے دیگر مبران میں ایڈیشنل آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی عمر شاہد حامد شامل ہیں-

    حکومت کا کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن سینئر صحافی ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کرے گا اور 30 دن کے اندر اپنی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے گا۔

    کمیشن میں شامل ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی عمر شاہد حیات اس وقت دو رکنی اس تحقیقاتی ٹیم میں بھی شامل ہیں جو اس وقت کینیا میں ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کررہی ہے۔

    کمیشن پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت بنایا جارہا ہے، کمیشن کی منظوری کے لیے وزارت داخلہ نے کابینہ کی منظوری کے لیے سمری بھیجی-

    دریں اثنا ارشد شریف قتل کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے اکیڈمی اطہر وحید اور ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی عمر شاہد حامد پر مشتمل دو رکنی ٹیم کی کینیا میں تحقیقات جاری ہیں۔

    لال حویلی ان کا باپ بھی خالی نہیں کرا سکتا،شیخ رشید

    ٹیم نے کینیا میں جائے وقوع، فارم ہاؤس اور واقعہ سے قبل ارشد شریف کے آخری ڈنر کے مقام کا جائزہ لیا تحقیقاتی ٹیم نے کینیا حکام کے ساتھ فائرنگ سے متاثرہ گاڑی کا بھی جائزہ لیا اور اس پر لگنے والی گولیوں کے نشانات وغیرہ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر نوٹس لیے جس کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے خرم احمد اور وقار احمد سے تفصیلی پوچھ گچھ کرتے ہوئے مختلف زاویوں سے سوالات کیے پاکستانی تفتیش کاروں کو کینیا حکام نے بھی تفصیلات فراہم کیں

    لانگ مارچ میں دوران ڈیوٹی حرکت قلب بند ہونے سے شہیدہونے والےپولیس ڈرائیور کی نماز…

    خرم احمد نے تفتیشی حکام کے مختلف سوالات پر بتایا کہ جائے وقوعہ سے اول ٹیپیسی فارم 22 کلومیٹر دور ہے اور بیشتر راستہ کچا ہے، محسوس ہوا فائرنگ کے بعد بھی میرا پیچھا کیا جارہا ہے تو گاڑی بھگائی، اچانک فائرنگ سے گھبرا گیا تھا، واقعے کے فوری بعد بھائی وقار کو کال کی جس پر وقار نے اول ٹیپیسی فارم پہنچنے کا کہا۔

    وقار احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ خرم کی کال آئی تو اس نے گاڑی پر فائرنگ کا بتایا، کال آتے ہی میں بھی اول ٹیپیسی فارم کے لیے نکل گیا، راستے سےکینیا پولیس کے حکام اور پاکستانی دوست کو تفصیلات بتائیں، اول ٹیپیسی فارم پہنچا توارشدشریف کی لاش گاڑی میں موجود تھی، اس وقت تک گاڑی پر فائرنگ پولیس کیجانب سے کیےجانےکا شبہ نہیں تھا، میرے پہنچنے کے بعد کینیا کے پولیس افسران بھی پہنچے اور شواہد جمع کیے۔

    صدف نعیم کی موت کے واقعے کی میرٹ پر تفتیش ہوگی،وزیر اطلاعات

  • ہارون  شاہد نے کس کو کہہ دیا خدا حافظ

    ہارون شاہد نے کس کو کہہ دیا خدا حافظ

    ملک کے معروف صحافی ارشد شریف جو کہ موت کی دھمکیاں ملنے کے بعد ملک چھوڑ کر دبئی روانہ ہوئے وہاں سے انہیں کینیا جیسے ملک میں جانا پڑا. انہیں دو روز قبل کینیا پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا . گزشتہ روز ارشد شریف کی میت پاکستان پہنچی اور آج ان کا جنازہ اٹھ گیا ہے. جنازے پر ملک کی نامور شخصیات کے ساتھ ہر خاص و عام نے شرکت کی . جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد تھی ہر آنکھ اشکبار تھی. ارشد کے قتل پر صحافی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے . ارشد شریف کا جنازہ اٹھنے کے بعد اداکار ہارون شاہد نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی ہے اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ” یہ ظہر کا وقت ہے اور ارشد بھائی خدا حافظ ” آپ کو اسلام آباد

    کے لوگوں نے جس طرح سے خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ قابل تحسین ہے. یاد رہے کہ ارشد شریف کے ساتھ گاڑی میں موجود ڈرائیور کو ایک بھی گولی نہیں لگی، گولیاں گاڑی کے ساتھ ساتھ ارشد شریف کے سر پر لگیں .ابھی تک ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے خاص معلومات سامنے نہیں آ سکیں لیکن امید ہے کہ حکومت نے جو جیوڈیشل کمیشن بنایا ہے وہ بہترین تحقیقات کرکے عوام کے سامنے ارشد کے قاتلوں کا نام رکھیں گے.

  • سینئر صحافی ارشد شریف کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی

    سینئر صحافی ارشد شریف کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی

    اسلام آباد:مقتول صحافی ارشد شریف کی میت پوسٹمارٹم کے بعد لواحقین کے سپرد کردی گئی۔اطلاعات کے مطابق ورثاء کی درخواست پر پمز اسپتال میں ڈاکٹرز کے 8 رکنی بورڈ نے مقتول کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور نمونے ٹیسٹ کیلئے مختلف لیبارٹریز بھجوادیے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ارشد شریف کی میت دوبارہ قائداعظم اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔

    ورثاء کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ جمعرات کو دن 2 بجے فیصل مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین ایچ الیون قبرستان میں ہوگی۔

    دوسری جانب وزارت داخلہ نے کینیا میں ارشد شریف کے قتل کیلئے کیلئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔

    ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد پر مشتمل کمیٹی کینیا روانہ ہوگئی جہاں قتل کے شواہد حاصل کرنے اور ارشد شریف کے پاکستان سے دوبئی اور پھر کینيا جانے کی وجوہات اور محرکات کا کھوج لگائے گی۔

    یاد رہے کہ سینئر اینکر پرسن ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم تین سے زائد گھنٹے جاری رہا، مختلف شعبوں کے سنیئر ڈاکٹرز نے تفصیلی معائنہ کیا اور ارشد شریف کے جسم کا سی ٹی اسکین اور ایکسرے کئے گئے۔

    اسپتال ذرائع نے بتایا کہ ایکسرے، سی ٹی اسکین میں پورے جسم کی ہڈیوں کی جانچ کی گئی، ارشد شریف کے کندھے، سر کی ہڈی ٹوٹی پائی گئی ہے، ارشد شریف کے سر، کندھے کے علاوہ تمام ہڈیاں اصل حالت میں ہیں۔

    رپورٹ میں بتائے گئے زخموں کی نوعیت کے مطابق سینئر صحافی ارشد شریف کو گولی دور سے لگی ہے، ایک گولی سر اور دوسری گولی سینے وکندھے کے بیچ میں لگی ہے، کندھے پر لگنے والی گولی سے ہڈی ٹوٹی، اندرونی اعضاء شدید متاثر ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے کندھے پر لگنے والی گولی کے ٹکڑے جسم میں تاحال موجود ہیں اور ارشد شریف کے سر میں لگنے والی گولی آر پار ہو گئی تھی۔

    اس سے قبل سینئر صحافی ارشد شریف کا جسد خاکی پاکستان پہنچنے پر گزشتہ شب ان کے اہل خانہ کے سپرد کردیا گیا تھا، جس کے بعد اہل خانہ کی جانب سے لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کی درخواست کی گئی تھی اور میڈیکل ڈائریکٹر پمز نے پوسٹ مارٹم کے لیے 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔

    میڈیکل بورڈ کے ارکان میں کلینیشین، سرجنز اور سینئر ترین میڈیکولیگل افسران سمیت 6 سینئر ترین ڈاکٹر شامل تھے جب کہ متوفی کے اہل خانہ کی خصوصی درخواست پر مزید 2 افراد کا اضافہ کیا گیا، جن میں ای این ٹی سرجن اور او ایم ایف ایس سرجن شامل تھے۔