Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • یوگینڈا آرمی چیف کا  ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    یوگینڈا آرمی چیف کا ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    یوگینڈا کے آرمی چیف مہوذی کائنیروگابا نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جنگ میں شامل ہونے کی پیشکش کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جنرل مہوذی کائنیروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ یوگینڈا کی افواج اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کی جانب سے لڑنے کے لیے تیار ہیں مشرق وسطیٰ میں جنگ بند ہونی چاہیے، تاہم اگر اسرائیل کو تباہ کرنے یا شکست دینے کی کوشش کی گئی تو یوگینڈا بھی اس جنگ میں شامل ہو جائے گا،اگر اسرائیل کو مدد درکار ہو تو یوگینڈا کی فوج صرف ایک اشارے کی منتظر ہے اور فوری طور پر تعاون فراہم کرے گی۔

    واضح رہے کہ یوگینڈا کی فوج میں تقریباً 45 ہزار اہلکار شامل ہیں، جبکہ جنرل مہوذی ملک کے صدر یواری موسیونی کے بیٹے بھی ہیں وہ سوشل میڈیا پر اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں دفاعی ماہرین کے مطابق اس بیان سے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں مزید شدت آ سکتی ہے، کیونکہ دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔

  • اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ  کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو بندر عباس میں ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علی رضا تنگسیری کو ساحلی شہر بندر عباس میں ایک کارروائی کے دوران شہید کیا گیا وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق تنگسیری ان چند اہم کمانڈرز میں شامل تھے جو اس سے قبل بھی حملوں میں محفوظ رہے تھ ۔ وہ 2018 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایران کی بحری حکمت عملی میں اہم کردار رکھتے تھے کمانڈر علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے منصوبے کے مرکزی ذمہ دار سمجھے جاتے تھے تاہم ایران یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔

    آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس پر ایران کے کنٹرول کے باعث شپنگ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے، وہیں اس عرصے میں صرف 155 جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا ایران نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور بعض جہازوں سے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی لی جا رہی ہے۔

  • خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    اسرائیل کے ایک سیاستدان کی جانب سے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ تجویز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ میزائل حملوں کے خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز پیش کی کہ یونان کے تقریباً 40 غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے،اس تجویز کا مقصد ممکنہ جنگی صورتحال میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔

    اسٹینر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے متبادل حفاظتی منصوبہ ضروری ہے، انہو ں نے اس تصور کو ایک ’متبادل آئرن ڈوم‘ قرار دیا تاہم اس تجویز کوجلد ہی مسترد کر دیا گیا جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ممبران نے اس منصو بے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہے، بورڈ نے واضح کیا کہ ادارہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے با ہر زمین خریدنے کا مجاز نہیں، اس لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔

  • میرے بچوں نے شرمندگی  کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ  اسرائیلی وزیر اعظم کے بچے ہیں،سارہ نیتن یاہو

    میرے بچوں نے شرمندگی کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بچے ہیں،سارہ نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ میرے بچوں نے شرمندگی کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بچے ہیں-

    یہ ریمارکس کا انہوں نے امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے زیر اہتمام تقریب میں دیئے، انہوں نے کہا کہ خاتون اول میلانیا، آپ کی قیادت کے لیے، آپ کے وژن کے لیے، اور نہ صرف امریکہ کی آنے والی نسل پر بلکہ دنیا بھر کے بچوں کے مستقبل پر بھی توجہ مرکوز کرنے کے آپ کے فیصلے کے لیے۔ یہ اجتماع اخلاقی موقف اختیار کرنے کا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تمام بچوں کے ساتھ ہماری وابستگی کا اظہار کرتا ہے، اور یہ سمجھنا کہ ٹیکنالوجی آنے والی نسل کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی بڑے چیلنجز بھی لاتی ہے اسرائیل کے وزیر اعظم کی اہلیہ کے طور پر اپنے کردار کے ساتھ ساتھ، میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یروشلم شہر میں بچوں کی ماہر نفسیات کے طور پر کام کر رہی ہوں۔ اپنے کام کے ذریعے، میں بچوں اور نوعمروں سے ان کی زندگی کے انتہائی نازک لمحات میں، پریشانی اور جاری تناؤ کے دوران، اور خاص طور پر اب، جنگ کے دنوں میں ملتی ہوں۔

    سارہ نیتن یاہو نے کہا کہ دن بہ دن، میں ان کے خوف، ان کی مخمصے، ان کی خاموشی اور ان کے خوابوں کو سنتی ہوں۔ میں ان کا درد دیکھتی ہوں، لیکن میں ان کی طاقت بھی دیکھتی ہوں سالوں کے دوران میں نے کچھ آسان لیکن ضروری سیکھا ہے: ہر بچے کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے دیکھے، ان پر یقین کرے، اور انہیں نئے دروازے کھولنے کے لیے ضروری اوزار فراہم کرے۔ اور آج، ان میں سے کچھ دروازے ڈیجیٹل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی لوگوں کو الگ کر سکتی ہے، لیکن یہ انہیں قریب بھی لا سکتی ہے یہ کچھ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، لیکن دوسروں کو بچا سکتی ہے، جب مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ خلا کو کم کر سکتی ہے، مشکلات کی جلد شناخت کر سکتی ہے، اور بچوں کو زبان، علم، اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کے نئے اوزار دے سکتی ہے۔

    جیسا کہ ونسٹن چرچل نے ایک بار کہا تھا کہ بڑے مواقع کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے۔” بچے ڈیجیٹل دنیا میں اکیلے تشریف نہیں لے سکتے انہیں تحفظ، رہنمائی، اور ایک ذمہ دار بالغ کی ضرورت ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ آن لائن جگہ مثبت، اخلاقی اور تعلیمی ہے۔

    نیتن یاہو کی اہلیہ نے کہا کہ ایک ماں کے طور پر، میں اسے ذاتی سطح پر محسوس کرتی ہوں جب میں نے اپنے بیٹوں یائر اور ایونر کی پرورش کی تو میں نے سیکھا کہ ہر نسل میں نئے چیلنجز ہوتے ہیں اور میرے اپنے تجربے میں، میرے بچوں نے شرمندگی اور تشدد کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ وزیر اعظم کے بچے ہیں، ہمیں کسی بھی ماحول میں بچوں پر ذاتی حملوں کی مذمت کرنی چاہیے چاہے وہ ذاتی طور پر ہو یا آن لائن میں اس اجتماع کو ذمہ داری کے بندھن کے طور پر دیکھتی ہوں قوموں کے درمیان، خواتین کے رہنماؤں کے درمیان، اور ماؤں کے درمیان جو سمجھتے ہیں کہ ایک مضبوط مستقبل کی تعمیر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آج ہمارے بچوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔

  • تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ منڈلانے لگے،شہری  خوفزدہ  ہو گئے

    تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ منڈلانے لگے،شہری خوفزدہ ہو گئے

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ کے منڈلانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے-

    رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور حالیہ دنوں میں اسرائیل پر میزائل حملوں کے باعث صورتحال پہلے ہی حساس بنی ہوئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوؤں کا ایک بڑا غول غیر معمولی انداز میں شہر کے اوپر چکر لگا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر بعض صارفین اس منظر کو بدشگونی سے تعبیر کر رہے ہیں اور اسے آنے والے کسی بڑے واقعے یا تباہی کی علامت قرار دے رہے ہیں،جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پرواز کو متعدد ثقافتوں میں ایک شگون اور کچھ ہونے والی چیز کی نشاندہی کرنے کے لیے سمجھا جاتا ہے،جبکہ کچھ افراد نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پرندوں کی غیر معمولی حرکات کو جنگوں یا سلطنتوں کے زوال سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    کفایت شعاری مہم: رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے 100 ارب روپے کی کٹوتی

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات عموماً قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوتے ہیں، جیسے موسم میں تبدیلی، خوراک کی تلاش یا ماحولیاتی عوامل۔ ان کے مطابق اس قسم کی ویڈیوز کو محض سائنسی تناظر میں دیکھنا چاہیے اور غیر ضروری خوف یا افواہوں سے گریز کرنا چاہیے۔

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

  • ایران نے اسرائیل اورامریکا پر  400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران نے اسرائیل اورامریکا پر 400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے،کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد 2 سو تک پہنچ گئی ہے ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی، یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھاایران نے 40 منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ 20 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

    اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا،لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔

  • اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ کردیا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر روس اور ایران کے درمیان ڈرونز، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کی ترسیل کے لیے ایک سپلائی کوریڈور استعمال کیا جا رہا تھا یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی گئی اور اسے بحیرۂ کیسپین میں اسرائیل کی پہلی معروف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اندرونی آبی گزرگاہ ہے یہ سمندر روس اور ایران کے ان بندر گاہوں کو جوڑتا ہے جو تقریباً 600 میل کے فاصلے پر واقع ہیں،جس سے ممالک کو گندم اور تیل جیسے سامان کے ساتھ ہتھیاروں کو آزادانہ طور پر تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ جنگ کے دوران اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے، جو دونوں ممالک میں تیار کیے جا رہے ہیں روس ان ڈرونز کو یوکرین کے شہروں پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران نے انہیں خلیجی خطے میں تنصیبات اور اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے، روس اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں روس مبینہ طور پر سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری فراہم کر رہا ہے تاکہ اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں بندرگاہ بندر انزلی میں موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جنگی بحری جہاز، بندرگاہی انفراسٹرکچر، ایک کمانڈ سینٹر اور مرمت کا شپ یارڈ شامل ہیں بندرگاہ پر موجود ایرانی بحری ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا ہے اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔

    سابق اسرائیلی بحری کمانڈر ایلیزر ماروم کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنا اور ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ بحیرۂ کیسپین میں اس کی بحری دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔

  • ایرانی  پاسدارانِ انقلاب  کااسرائیل اور امریکی اڈوں کیخلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کااسرائیل اور امریکی اڈوں کیخلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کر دی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے ذریعے جاری کئے گئے اعلان کے مطابق اس نئی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی شہر صفد میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تل ابیب، کریات شمونہ اور بنی براک میں بھی مختلف اہداف پر میزائل حملے کیے گئے، ایران نے خطے میں موجود امریکی فو جی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں کویت، اردن اور بحرین میں واقع تنصیبات شامل ہیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    ایران نے منگل کی علی الصباح اسرائیل کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف حصوں میں ایئر ریڈ سائرن بج اٹھے، جہاں انٹر سیپٹرز کے ذریعے میزائلوں کو روکتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، اسرائیلی فوج نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہےایک حملے میں شمالی ا سرائیل میں واقع میزائل کے ٹکڑے گھروں سے ٹکرانے سے نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ایران کے میزائل حملے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی نظام پر پانچ دن کے لیے حملے روکے جانے کے اعلان کے بعد کیے گئے ہیں، جس کا حوالہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی مفید اور مثبت بات چیت کے طور پر دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں مکمل اور جامع جنگ بندی کے سلسلے میں بہت مثبت اور مفید گفتگو ہوئی ہے اسی بنیاد پر ایران کے توانائی کے نظام پر حملے کا منصوبہ پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، ان کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئیں، جبکہ شیئر مارکیٹس میں اضافہ ہوا۔

    تاہم یہ فوائد منگل کو اس وقت خطرے میں پڑ گئے جب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے،انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ ہیں،امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں اور اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ایسی بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    ایران کی ایلیٹ فورس انقلابی گارڈز نے بھی اعلان کیا کہ وہ امریکی اہداف پر تازہ حملے کر رہے ہیں، اور صدر ٹرمپ کے بیانات کو نفسیاتی حربے قرار دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب مغربی میڈیا سے اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر نے ثالثی کی پیشکش کی، جس کے لیے رواں یا آئندہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہم بیٹھک لگنے کا امکان ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہوگیا ہے اس سلسلے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام ،اسرائیلی میڈیا

    اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام ،اسرائیلی میڈیا

    ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں کی بارش کر دی ان حملوں کی وجہ سے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں –

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہےایران کی جانب سے تازہ میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں متعدد مقامات پر دھماکوں کے بعد ملبہ گرنے سے نقصان ہوا ہے ایران نے کلسٹر بموں سے لیس میزائلوں سے بھی حملہ کیا، درجنوں عمارتیں ملیا میٹ ہونے کے بعد اسرائیلی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائلوں کو روکنے کیلئے فضائی دفاعی نظام متحرک کردیا ہے اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل رہائشی علاقوں میں گرے ہیں جس سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ایرانی حملوں میں اب تک 10 اسرائیلی ہلاک اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے ساحلی شہر بندرعباس کے ریڈیو اسٹیشن پر امریکا کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا ہے، جس میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہےایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے میں سویلین انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، ایران کے شہر ارومیہ میں فضائی حملے سے رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں،ملبے تلے دبے افرادکونکالنے کیلئے ریسکیوٹیموں کا آپریشن جاری ہے۔