Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکا کے 14 اڈوں پر سیکڑوں فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکا کے 14 اڈوں پر سیکڑوں فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہےکہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔

    ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران کی افواج کا طاقتور آپریشن بھرپور قوت سے جاری رہے گا امریکی اڈوں پر ایرانی فورسز کے حملےمزید شدت کے ساتھ ہوں گے۔ترجمان ایرانی پاسدران انقلاب نے بحرین میں موجود امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان سینٹ کام نےکہا ہےکہ ایرانی پاسداران انقلاب کا 200 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ غلط ہے امریکی بحریہ کے جہاز کو نقصان پہنچانے کا ایرانی دعویٰ بھی غلط ہے۔

    ترکیہ اور چین کا ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار

    واضح رہےکہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کو ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ کا نام دیا ہے امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران میں متعدد مقامات پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں جن میں 75 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اسرائیل نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے لڑکیوں کے پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا جس میں طالبات اور عملے سمیت 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں قطر، سعودی عرب اور امارات سمیت فلسطینی علاقوں کے مرکز میں واقع امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا۔

    اس سے قبل ایرانی پاسدران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ بھی شامل ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر دی

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پاسدران انقلاب کا کہنا ہےکہ اس نے بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں (اسرائیل)کے مرکز میں واقع فوجی اڈوں کونشانہ بنایا ہےپریشن وعدہ صادق 4′ امریکی فوج اور بچوں کے قاتل صہیونی حکومت کے خلاف کیا جارہا ہے، جس کے تحت جارح دشمن کے علاقائی اہداف پر حملے کیے گئے ہیں ایرانی پاسدران انقلاب نے اس عزم کا اظہار کیا ہےکہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر سردار جباری نے اسرائیل اور امریکا کے خلاف نئے تباہ کن ہتھیار دنیا کے سامنے لانے کا اعلان کر دیا۔

    پاکستان ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی مذمت کرتا ہے، دفترخارجہ

    ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر سردار جباری کیہ رہے ہیں کہ اب تک تو ہم نے اپنے جدید اور طاقتور میزائل استعمال ہی نہیں کیے، ہم برسوں تک لڑنے کی جدید ترین صلاحیت رکھتے ہیں، ہم نے ابھی میزائلوں کا پرانا اسٹاک استعمال کیا ہے، اب وہ طاقتور اور تباہ کن ہتھیار اور جدید ترین میزائل نکالیں گے جو اب تک دنیا سے چھپا کر رکھے گئے تھے۔

  • رہبر اعلٰی سمیت اہم کمانڈرز اور شخصیات محفوظ ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    رہبر اعلٰی سمیت اہم کمانڈرز اور شخصیات محفوظ ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں افواہیں زیر گردش ہیں۔

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان افواہوں پر کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں البتہ انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ہمارے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں لیکن تقریباً تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں اگر امریکا دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ رابطہ کیسے اور کس طرح کرنا ہے۔

    ایران پر اسرائیلی حملہ، ایرانی وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ کی شہادت کا دعویٰ

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے تحت کی گئی جس کا مقصد ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔

    ادھر ایرانی سرکاری میڈیا اور حکام نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں کئی اعلیٰ سیاسی رہنما اور فوجی کمانڈر مارے گئےایرانی فوج نے کہا کہ آرمی چیف عامر حاتمی کی ہلاکت کی خبریں غلط ہیں اور وہ بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیںصدر مسعود پزیشکیان کے قریبی ذرائع نے بھی بتایا کہ ایرانی صدر محفوظ ہیں اور ان پر ہونے والی مبینہ قاتلانہ کوشش ناکام رہی۔

    ایران نے برج خلیفہ کے قریب پام جمیرہ ہوٹل پر میزائل داغ دیئے

    یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران میں متعدد مقاما ت پرحملے کیے ہیں جن میں 75 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

  • ایران پر اسرائیلی حملہ، ایرانی وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ کی شہادت کا دعویٰ

    ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی وزیر دفاع امیر نصیر زادہ اور پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور کی شہادت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں دونوں اعلیٰ ایرانی شخصیات جاں بحق ہو گئی ہیں یہ دعویٰ اسرائیلی فوجی کارروا ئیوں سے باخبر دو ذرائع اور ایک علاقائی ذریعے نے کیا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈرز اور بعض سیاسی حکام کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، ایران نے ان حملوں کے جواب میں اپنی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسے “آپریشن وعدہ صادق 4” کا نام دیا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ جن میں بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ بھی شامل ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی اڈوں کے علاوہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں (اسرائیل ) کے مرکزی فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکی افواج اور اسرائیلی حکومت کے خلاف کی جا رہی ہے اور اس کے تحت دشمن کے علاقائی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں ایرانی فوج نے عندیہ دیا ہے کہ میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے، روس کا شدیدردعمل

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے، روس کا شدیدردعمل

    روس نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت دانستہ، اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اور بلااشتعال مسلح جارحیت ہے، ایک آزاد ریاست کے خلاف جارحیت بین الااقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے یہ اقدام قابل مذمت ہے اور یہ حملے ایک بار پھر مذاکراتی عمل کی بحالی کی آڑ میں کیے جا رہے ہیں، جس کا ظاہری مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے گرد صورت حال کو طویل المدت بنیادوں پر معمول پر لانا بتایا جا رہا تھا۔

    روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ روس کو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ اسرائیل ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں دلچسپی نہیں رکھتا، بین الاقوامی برادری، بشمول اقوام متحدہ کی قیادت اور آئی اے ای اے کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا معروضی اور غیرجانب دارانہ جائزہ پیش کریں، وا شنگٹن اور تل ابیب ایک بار پھر ایسے خطرناک راستے پر گامزن ہو گئے ہیں جو خطے کو انسانی، معاشی اور ممکنہ طور پر تابکاری آفت کی طرف تیزی سے دھکیل رہا ہے۔

    ایران کے ایک بار پھر دبئی پر میزائل حملے

    روس کے مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے عزائم واضح ہیں اور کھلے عام بیان کیے جا چکے ہیں کہ وہ ایک ایسی ریاست کے آئینی نظام کو توڑنا اور اس کی قیادت کو ہٹانا چاہتے ہیں جسے وہ ناپسندیدہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے طاقت اور بالادستی کے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے امریکا اور اسرائیل اپنی کارروائیوں کو اس مبینہ تشویش کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتے ہیں لیکن آئی اے ای اے کی نگرانی میں چلنے والی جوہری تنصیبات پر بم باری ناقابل قبول ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس فوری طور پر سیاسی اور سفارتی راستے پر واپسی کا مطالبہ کرتا ہے اور ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور مفادات کے متوازن خیال پر مبنی پرامن حل کے فروغ میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حملوں کی شدید مذمت

  • امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

    امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

    تہران: ایران میں سپریم کمانڈر خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ پر امریکی اسرائیلی حملہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کمپاؤنڈ کی ایک سیٹلائٹ تصویر سامنے آئی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام ’’مکمل طور پر خیریت‘‘ سے ہیں، جن میں صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سیکیورٹی امور کے سربراہ علی لاریجانی شامل ہیں اگرچہ اسرائیلی ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا اور حملے میں کامیابی حاصل کی، تاہم ملک کے اندر سرکاری ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکومتی عہدیداران، بشمول مسلح افواج کے سربراہان، مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔

    iran

    ایک امریکی اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ ایران پر فضا اور سمندر سے ’’وسیع‘‘ حملے جاری رکھے گا، اہلکار نے کہا کہ امریکی-اسرائیلی حملوں کا مقصد ایرانی سیکیورٹی اپریٹس کو ختم کرنا ہے اور یہ فی الحال ایران کے اندر اہداف تک محدود ہے-

  • امریکا کا ایران پر حملے جاری رکھنے کااعلان

    امریکا کا ایران پر حملے جاری رکھنے کااعلان

    امریکا نے ایران پر وسیع حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران پر فضا اور سمندر دونوں راستوں سے وسیع پیمانے پرحملے جاری رکھیں گے ، امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا مقصد ایرانی سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے،فی الحال یہ کارروائیاں صرف ایران کے اندر موجود اہداف تک محدود ہیں ، امریکی فضائیہ ایران پر حملوں میں شریک ہے ، امریکی فوج ایران پر اسرائیلی فوج کے ساتھ ملکر کارروائی کر رہی ہے۔

    دوسری جانب آئی ڈی ایف کے ایک افسر سٹیو کوہن نے ریپبلک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نہ صرف مغرب کی جانب سے بلکہ ہندوستان کی جانب سے بھی ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں،ہندوستان کو قریبی اتحادی قرار دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی اظہار کیا کہ اسرائیل میں ہندوستانی وزیر اعظم کی میزبانی کرنا خوشی کی بات ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے اعلیٰ کمانڈروں کے علاوہ درجنوں شہری بھی شہید ہوئے ہیں۔

  • امریکا اور اسرائیل کا ایرانی اسکول پر حملہ ، 53 طالبات شہید،درجنوں زخمی

    امریکا اور اسرائیل کا ایرانی اسکول پر حملہ ، 53 طالبات شہید،درجنوں زخمی

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر بمباری کی خبر نے سب کو تشویش میں مبتلا کردیا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت اسکول میں تقریباً 170 طالبات موجود تھیں فضائی حملے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 53 افراد جاں بحق اور تقریباً 60 زخمی ہوئے ہیں جن میں طالبات اور اسکول کا عملہ بھی شامل ہےہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیل نے صبح کے وقت اسکول کو براہِ راست نشانہ بنایا ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہیں،واقعے کے بعد امدادی اداروں اور طبی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا دیا گیا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے ملبے تلے متعدد طالبات اور عملے کے افراد دبے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کا کام جاری ہے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے اس حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم اسرائیلی فوج نے ایرانی شہریوں سے فوجی تنصیبات اور اڈوں سے دور چلے جانے کا کہا تھا۔

  • امریکا،اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے،امیر جماعت اسلامی

    امریکا،اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے،امیر جماعت اسلامی

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے اور پورے خطے کو جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نےایکس پر بیان میں کہا کہ ایک مرتبہ پھر امریکہ نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا “بورڈ آف پیس” دراصل “بورڈ آف وار” ہےامریکہ اور اسرائیل نے اپنے شیطانی مقاصد کے لیے پورے مشرقِ وسطیٰ کو خطرے میں ڈال دیا ہے، مسلم حکمرانوں کو آنکھیں کھولنا ہوں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 25 سال میں امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنا کر انتشار پھیلایا گیا اور پاکستانی حکمران بھی یہ سبق یاد رکھیں کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں-

    واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کردیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر بھی میزائل داغے ہیں۔

  • ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

    ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

    ایران امریکا کشیدہ صورتحال کے باعث ڈچ ائیر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان کردیا۔

    ڈچ ائیر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ سے غیر معینہ مدت تک پروازیں بند رہیں گی، اس کے علاوہ آسٹریلیا نے اسرائیل، لبنان، اردن، قطر اور امارات سے اپنے شہری نکالنےکیلئے اقدامات شروع کردیے جب کہ امریکا نے 6 مزید ایف 22 طیارے مشرق وسطی روانہ کردیے ہیں۔

    دوسری جانب بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ ایران کے گرد بہت بڑی فوج لگانے کا امریکا کا مقصد ہمیں دھمکا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا ، ایران پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے، تنازع کا واحد حل بات چیت اور سفارت کاری ہے ،پُرامن جوہری استعمال کا حق نہیں چھوڑیں گے۔

    رحیم یار خان:ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے کچے کے خطرناک ڈاکو نے سرنڈر کر دیا

    دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران فی الحال یورینیم کی افزودگی نہیں کررہا لیکن ایران یورینیم افزودگی کی کوشش کررہاہے مارکو روبیو نے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات نہ کرنے کو بڑامسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات سے انکار بھی کررہا ہے ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل کرنا چاہتے ہیں، سفارتکاری ہمیشہ ممکنہ آپشن رہےگی، صدرٹرمپ بھی چاہتے ہیں کہ مذاکرات سے مسئلہ حل ہو۔

    میں نے جواب دینا ہوتا تو جہاز کی خریداری کو درست قرار دیتا،اسپیکر پنجاب اسمبلی

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی فوجی کارروائی سے متعلق دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے صدر ٹرمپ ایران کے مسئلے کو سفارتی طریقے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

  • جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    تہران: ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل جائیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکا اور اسرائیل کا نام لیے بغیر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ جنگ کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ایران کے دشمن کو مبینہ 12 روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور اب افراتفری اور بدامنی پھیلا کر ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دشمن جنگ شروع کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں تاہم اسے اپنے انجام تک پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات سفارتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسیع تیاریوں میں مصروف ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے اہم اختیارات بڑی حد تک نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں۔

    امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے چھ اعلیٰ حکام، پاسداران انقلاب کے تین ارکان اور دو سابق سفارت کاروں نے بتایا کہ جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں اور امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے بعد علی لاریجانی عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں 67 سالہ علی لاریجانی ماضی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہ چکے ہیں اور اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں اور سپریم لیڈر کو ان پر مکمل اعتماد حاصل ہے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب اسٹیو وٹکوف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی تو اس کے لیے بھی علی لاریجانی سے اجازت طلب کی گئی۔

    اخبار کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے چار سطحوں پر مشتمل جانشینی کا نظام بھی ترتیب دے دیا ہے ہر اس فوجی یا سرکاری عہدے کے لیے، جس پر تقرری ان کے اختیار میں ہے، چار چار متبادل افراد نامزد کیے گئے ہیں تمام کمانڈروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ جانشینوں کے نام پہلے سے طے کریں اس کے علاوہ سپریم لیڈر نے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر ان سے رابطہ منقطع ہو جائے یا انہیں نشانہ بنایا جائے تو وہ فیصلے کر سکیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کی صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جا سکتی ہے اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری انتظام میں علی لاریجانی سرفہرست ہو سکتے ہیں، جبکہ محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کے نام بھی زیر غور بتائے گئے ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق ایرانی حکام اس خدشے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ ممکنہ حملے میں سپریم لیڈر اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کیے جانے اور افواج کو ہائی الرٹ رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جوہری معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم ایرانی قیادت بدترین صورتحال کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق ریاستی نظام کے تسلسل کے لیے مختلف منظرنامے تیار کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت ہلاک ہو جائے تو ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہو گی۔

    رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر ہنگامی صورتحال پیدا ہو تو کون سا رہنما بیرونی دنیا سے مذاکرات کی قیادت کرے گا، جیسا کہ وینزویلا میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر نکولس مادورو کے معاملے میں کیا تھا موجودہ حالات میں صدر مسعود پزشکیان بظاہر اہم اختیارات علی لاریجانی کو منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، اور ایرانی قیادت دونوں امکانات کو سامنے رکھ کر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔