Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، تل ابیب میں بھگدڑ،کئی افراد زخمی

    یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، تل ابیب میں بھگدڑ،کئی افراد زخمی

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کردیا جس کے بعد تل ابیب میں بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔

    رپورٹ کے مطابق میزائل حملے کے ساتھ ہی وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے،اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یمن کے حوثیوں کی طرف سے فائر کیے گئے میزائل فضا میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے، واقعے کے دوران فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو روکنے کی کئی کوششیں کیں تاہم، اسرائیلی پولیس کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق یمن کے حوثی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف تین کارروائیاں کی ہیں، جن میں ایک بیلسٹک میزائل بین گوریون ایئرپورٹ کی جانب فائر کرنا بھی شامل ہےحملے کا دعویٰ حوثی گروہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سَریع نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کیا۔

    سندھ کابینہ کے 3 وزرا جامعات کے پرو چانسلر مقرر

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ، جو یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں پر قابض ہے، اسرائیل پر حملے کر رہا ہے اور تجارتی جہاز رانی کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈال رہا ہے،حوثی گروہ کئی بار کہہ چکا ہے کہ اس کے حملے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

    خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے

  • اسرائیل نے مغربی کنارے میں متنازع بستی کے قیام کی منظوری دے دی

    اسرائیل نے مغربی کنارے میں متنازع بستی کے قیام کی منظوری دے دی

    اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے تصور کو کمزور کرنے کے لیے مغربی کنارے میں انتہائی متنازع اور غیر قانونی بستی کے قیام کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

    ای۔ون منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا۔اس سے مشرقی بیت المقدس کو مغربی کنارے سے الگ کر دیا جائے گا۔بدھ کو وزارتِ دفاع کی منصوبہ بندی کمیشن نے اس منصوبے کی باضابطہ توثیق کی۔اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرج نے کہا: "ای۔ون کے ذریعے برسوں پرانے وعدے پورے کر رہے ہیں، فلسطینی ریاست کو نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ختم کیا جا رہا ہے۔”

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس منصوبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    فلسطینی وزارتِ خارجہ نے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ای۔ون بستی فلسطینی آبادیوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دے گی اور دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرے گی۔جرمن حکومت نے کہا کہ بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل کے راستے میں رکاوٹ ہے۔بعض مغربی اتحادی ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    محمد رضوان پہلی بار کیریبئن پریمیئر لیگ کھیلیں گے

    نائجیریا: مسجد پر مسلح افراد کا حملہ، 50 سے زائد افراد شہید

    اندرون سندھ میں طوفانی بارشیں، نظام زندگی مفلوج، ایک بچہ جاں بحق

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

  • آسٹریلیا نے انتہا پسند اسرائیلی سیاستدان پر پابندی لگادی

    آسٹریلیا نے انتہا پسند اسرائیلی سیاستدان پر پابندی لگادی

    آسٹریلوی حکومت نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان سیمخا روتھ مین کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔

    آسٹریلوی حکومت نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان سیمخا روتھ مین کا ویزا منسوخ کر دیا ہے،روتھ مین آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن کی دعوت پر آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے تھے، تاہم حکومتی فیصلے کے بعد وہ آئندہ تین سال تک آسٹریلیا کا سفر نہیں کر سکیں گے۔

    وزیر داخلہ ٹونی برک نے اپنے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا ایسے افراد کو خوش آمدید نہیں کہے گا جو ’’نفرت اور تقسیم‘‘ کا پیغام پھیلائیں،آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر شخص محفوظ ہے اور ہر کسی کو خود کو محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے‘‘۔

    عمرہ پروازوں میں تاخیر پر سعودی ایوی ایشن کا پاکستان کو سخت مراسلہ

    دوسری جانب، روتھ مین کی مجوزہ تقاریر کے منتظمین نے ویزا منسوخی کو ’’انتہائی سامیت دشمنی‘‘ قرار دیا ہے، آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ گریگوری نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلوی حکومت یہودی برادری اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کے ’’جنون‘‘ میں مبتلا ہے۔

    سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن کیلئےاعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی قائم

    روتھ مین اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے رکن ہیں اور وہ سخت گیر نظریات رکھنے کے باعث بین الاقوامی سطح پر متنازع شخصیت تصور کیے جاتے ہیں۔

  • ڈنمارک کا نیتن یاہوپرپابندیاں عائد کرنے کا عندیہ

    ڈنمارک کا نیتن یاہوپرپابندیاں عائد کرنے کا عندیہ

    ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے غزہ میں انسانی المیے کو انتہائی ہولناک اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے مغربی کنارے میں نئی یہودی آبادکاریوں کے منصوبے کی شدید مذمت کی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے مزید کہا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہمیں دیگر یورپی ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا ہے، اس کے باوجود ان ملک جو اس وقت یورپی یونین کی صدارت کر رہا ہے، اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ غزہ میں ہولناک انسانی المیے کا خاتمہ ہو۔

    ڈنمارک کی وزیر اعظم نے کہا کہ نیتن یاہو اب ایک "خود ساختہ مسئلہ” بن چکے ہیں۔ ہم کسی بھی آپشن کو پہلے سے رد نہیں کر رہے۔ جیسے روس پر پابندیاں لگائی گئیں، اسی طرح ہم اسرائیل پر مؤثر پابندیوں کے لیے بھی تیاری کر رہے ہیں،وہ سیاسی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور تحقیقی شعبے میں بھی پابندیوں پر غور کر رہی ہیں جن میں تجارتی یا تحقیقی تعاون معطل کرنا بھی شامل ہے،یہ پابندیاں اسرائیلی وزراء، شدت پسند یہودی آبادکاروں، یا پھر اسرائیل کی ریاست کے خلاف بھی ہوسکتی ہیں۔

    بلوچستان بھر میں دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع

    واضح رہے کہ ڈنمارک نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا تاہم وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح اسرائیل کو سخت پیغام دینا ہے تاکہ وہ انسانی المیے کو کم کرے اور جنگی کارروائیوں کو محدود کرےغزہ پر یورپی یونین منقسم ہے، بعض ممالک اسرائیل کے ساتھ ہیں تو بعض، جیسے آئرلینڈ، اسپین اور بیلجیم، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

    ویٹرنری انٹرن شپ پروگرام کا مقصد پنجاب میں لائیواسٹاک کا فروغ ہے،مریم نواز

  • نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کی اسرائیلی ہم منصب پر تنقید

    نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کی اسرائیلی ہم منصب پر تنقید

    نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے غزہ جنگ پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے اپنے بیان میں غزہ میں جاری اسرائیلی ظلم وستم پر کہا کہ لگتا ہے نیتن یاہو حد سے تجاوز کر چکے ہیں اور وہ راستے سے بھٹک گئے ہیں،نیوزی لینڈ کے وزیراعظم نے غزہ سٹی پر حالیہ حملے کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی شدید کمی، زبردستی بے دخلی اور الحاق شرمناک ہے۔

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے جب کہ آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ اور فرانس پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔

    ادھربرطانیہ اور فرانس سمیت 27 یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے پورے غزہ میں بلارکاوٹ اور محفوظ امداد کی رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کر دیا۔

    غزہ میں انسانی صورتحال پر مشترکا بیان میں یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران ناقابل تصور حدوں تک پہنچ چکا ہے،ہماری آنکھوں کے سامنے غزہ میں قحط مسلط کیا جا رہا ہے، اسرائیل تمام بین الاقوامی امداد کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے اور اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کی پورے غزہ میں محفوظ رسائی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے، اسرائیل امدادی مراکز پر مہلک کارروائیوں کو روک کر شہریوں اور امدادی کارکنوں کی حفاظت یقینی بنائے۔

  • ناروے نے اسرائیل میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ختم کردی

    ناروے نے اسرائیل میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ختم کردی

    اوسلو: ناروے کے 2 ٹریلین ڈالر مالیت کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ نے اسرائیل سے تمام بیرونی سرمایہ کاری معاہدے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق،اس فیصلے کے تحت 11 اسرائیلی کمپنیوں سمیت متعدد بیرونی سرمایہ کاری منصوبے بند کر دیے جائیں گے، فنڈ نے ایک ایسے اسرائیلی جیٹ انجن گروپ میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی تھی جو لڑاکا طیاروں کی مرمت اور اسرائیلی فضائیہ کو مختلف خدمات فراہم کرتا ہے،فنڈ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اب اسرائیل میں سرمایہ کاری صرف اسٹاک مارکیٹ میں شامل چند مخصوص کمپنیوں تک محدود رہے گی۔

    دوسری،جانب،غزہ پر اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے، تازہ حملوں میں مزید 89 فلسطینی شہید ہوگئےغزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 89 سے زائد فلسطینی شہید اور 513 زخمی ہو گئے ہیں،شہدا میں 31 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں۔

    غزہ میں قحط کی صورتحال بھی برقرار ہے جہاں بھوک کی شدت سے مزید 5 فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک غذائی قلت سے اموات کی تعداد 227 ہو گئی ہے، جن میں 103 بچے شامل ہیں،اس کے علاوہ خوراک کے متلاشی 2 فلسطنی بچے امدادی مرکز پر گرم سوپ گرنے سے جھلس گئے جبکہ دھکم پیل کے باعث کھانے حصول میں کوشاں بچوں پر گرم کھانا گرا۔

    دوسری جانب فلسطین کی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نےخان یونس میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کو تباہ کر دیاالقدس بریگیڈز نے بتایا کہ فورسز نے الکتبیہ علاقے میں اسرائیلی دراندازی کے دوران ایک ہائی ایکسپلوسیو ڈیوائس سے اس گاڑی کو نشانہ بنایا۔

    ادھر فرانس سمیت 27 یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران ناقابل تصور حدوں تک پہنچ گیا ہے،مشترکا بیان میں اسرائیل سے بلارکاوٹ اور محفوظ امداد فراہمی کے لیے بین الاقوامی اداروں کو رسائی دینے کا مطالبہ کیا۔

  • ایران نے اپنے  نئے سائنسدانوں کوخفیہ مقامات پر پہنچا دیا

    ایران نے اپنے نئے سائنسدانوں کوخفیہ مقامات پر پہنچا دیا

    ایران نے اپنےنئے سائنس دانوں کو ملک بھر سے غائب کر کے خفیہ مقامات پر پہنچا دیا ہے۔

    ”العربیہ“ نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں درجنوں ایرانی جوہری سائنس دانوں کی ہلاکت کے بعد ایران نے اپنے باقی ماندہ اور نئے سائنس دانوں کو ملک بھر سے غائب کر کے خفیہ مقامات پر پہنچا دیا ہے، یہ مقامات یا تو تہران کے محفوظ ترین علاقے ہیں یا شمالی ایران کے ساحلی شہروں میں ایسی محفوظ پناہ گاہیں جہاں تک عام شخص کا پہنچنا ناممکن ہے۔

    رپورٹ میں ایک سینئر ایرانی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’بیشتر سائنس دان اپنے گھروں اور جامعات کی ملازمتوں کو اچانک ترک کر چکے ہیں،یونیورسٹیوں میں ان کی جگہ ایسے افراد کو بٹھا دیا گیا ہے جن کا جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں، تاکہ دشمن کو کچھ پتا نہ چل سکے‘۔

    مون سون بارشوں کے اگلے اسپیل کی پیشگوئی ، فلڈ ایڈوائزری جاری

    دوسری جانب برطانوی اخبار ”دی ٹیلی گراف“ کے مطابق، اسرائیلی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری سائنس دانوں کی ایک نئی کھیپ تیار کر لی ہے جو مارے گئے ماہرین کا کام سنبھال سکتی ہےماہرین نے ان سائنس دانوں کو ”چلتی پھرتی لاشوں“ کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو حفاظتی حصار میں رکھا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ اسرائیلی نشانے پر ہیں ان کی حفاظت کے لیے 24 گھنٹے سیکورٹی، بکتر بند گاڑیاں اور خفیہ رہائش گاہیں فراہم کی گئی ہیں، ایران نے جوہری تحقیق کے ڈھانچے کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ہر مرکزی سائنس دان کے ساتھ کم از کم ایک نائب موجود ہو، اور تمام ماہرین دو یا تین افراد کے گروپ میں کام کریں تاکہ اگر ایک ہدف بن جائے تو دوسرا فوراً اس کی جگہ لے سکے۔

    غزہ پراسرائیلی مظالم،متعدد ممالک میں احتجاج، غزہ میں جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

    ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے کو خدشہ ہے کہ بچ جانے والے کچھ ماہرین اب براہِ راست ایران کے جوہری اسلحہ سازی کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں ان میں دھماکہ خیز مواد، نیوٹرون فزکس اور وار ہیڈ ڈیزائن کے ماہر شامل ہیں یہ شعبے کسی بھی ملک کو جوہری بم بنانے کے آخری مرحلے تک پہنچا سکتے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی انٹیلی جنس کے ایران اسٹریٹیجی ڈپارٹمنٹ کے سابق سربراہ دانی سیترینووچ نے خبردار کیا ہے کہ یہ سائنس دان اپنے ساتھیوں کے انجام کو دیکھ چکے ہیں۔ اب ان کا راستہ صاف ہے یا تو وہ ایران کو جوہری بم کے قریب لے جائیں گے، یا اسرائیل کے اگلے نشانے بن جائیں گے جو کوئی بھی اس پروگرام پر کام کرے گا، اس کا انجام موت ہوگا یا موت کی دھمکی۔

    تیسرا ٹی 20:منیبہ کی شاندار سنچری، پاکستان کی آئرلینڈ کو 8 وکٹوں سے شکست

    واضح رہے کہ 13 جون کو شروع ہونے والی جھڑپوں میں اسرائیل نے ایرانی فوجی تنصیبات اور جوہری مراکز پر بڑے حملے کیے۔ اس دوران درجنوں سائنس دان اور فوجی کمانڈر مارے گئے، جبکہ امریکا نے بھی کئی اہم جوہری تنصیبات پر تباہ کن کارروائیاں کیں۔

  • لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    لندن میں پارلیمنٹ اسکوائر پر فلسطین ایکشن کے حامیوں نے احتجاج کیا، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئےخواتین،سمیت 466 مظاہرین کو گرفتار کر لیا-

    پولیس کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف نعرے درج تھے،مظاہرے کے منتظمین کے مطابق اس میں 600 سے 700 افراد شریک ہوئے، تاہم پولیس نے اتنی بڑی تعداد میں شمولیت کے دعوے کی تردید کی،فلسطین ایکشن پر 5 جولائی 2025 سے ٹیررازم ایکٹ کے تحت پابندی عائد ہے، اور اس گروہ کی رکنیت یا حمایت پر 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    ادھرغزہ میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے نہ تھم سکے، قابض فوج نے مختلف علاقوں پر حملے کرکے صبح سے اب تک مزید 47 فلسطینیوں کو شہید کردیااسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں 40 وہ افراد بھی شامل ہیں جو خوراک کے حصول کے لیے پناہ گزین کیمپوں سے باہر نکلے تھے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ امریکا، اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

    عرب میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث غزہ میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 61 ہزار 369 ہوگئی جبکہ اس دوران ایک لاکھ 52 ہزار 850 افراد زخمی ہوچکے ہیں،غزہ میں قحط کی صورتحال بھی برقرار ہے جہاں بھوک کی شدت سے مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد غذائی قلت سے اموات 200 سے تجاوز کر گئیں۔

    ادھر غزہ پر مکمل کنٹرول کے اسرائیلی مذموم منصوبے کے تحت فوجی ٹینک غزہ کے بارڈر پر پہنچنا شروع ہوگئےفلسطینیوں نے بھی غزہ چھوڑنے سے صاف انکار کردیا، فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہیں مریں گے اورکہیں نہیں جائیں گے،دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔

    خواجہ آصف کا بھارت کو طیاروں کے ذخیرے کی آزادانہ تصدیق کا چیلنج

  • اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن لیڈر نےنیتن یاہو کی مخالفت کردی

    اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن لیڈر نےنیتن یاہو کی مخالفت کردی

    غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے پر خود اسرائیلی فوج، اپوزیشن نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج کے سربراہ ایال زمیر نے غزہ شہر پر قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یرغمالیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور فوجی بھی تھکن کا شکار ہو جائیں گے،انہوں نے متبادل طور پر غزہ کے گرد اضافی محاصرے کی تجویز دی، لیکن وسیع پیمانے پر فوجی طلبی سے انکار کیا،دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے اس منصوبے کو "سانحہ” قرار دیا جو مزید بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے ان کے مطابق یہ قبضہ مہنگا، طویل اور اسرائیل کو سفارتی تنہائی کا شکار بنا دے گا۔

    ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ٹرک نے اسرائیل سے غزہ پر قبضے کا منصوبہ فوراً روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ہےبرطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بھی غزہ پر قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیل کو فیصلے پر نظر ثانی کا مشورہ دیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ یرغمالیوں کی رہائی میں مدد دے گا اور نہ ہی مسئلہ فلسطین کا حل نکالے گا بلکہ صرف خونریزی میں اضافہ کرے گا۔

    چین: سنکیانگ میں پل کا کیبل ٹوٹنے سے 5 افراد جاں بحق، 24 زخمی

    ٹرمپ ٹیرف بھارتی سٹاک ایکسچینج کو لے ڈوبا، سرمایہ کاروں کو اربوں کا نقصان

    مشعال یوسفزئی کے سینیٹر بننے کا نوٹیفکیشن جاری

  • فلسطینیوں پرحملوں پر اسرائیلی فوج کے اندر بھی شدید اختلافات

    فلسطینیوں پرحملوں پر اسرائیلی فوج کے اندر بھی شدید اختلافات

    غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کے دوران نہ صرف دنیا بھر میں اسرائیل پر جنگی جرائم کے الزامات شدت اختیار کر چکے ہیں، بلکہ اب خود اسرائیلی فوج کے اندر بھی ان حملوں پر شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق،جنوبی کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل یانیو اسور اور اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل تومر بار کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شدید تلخ کلامی ہوئی، جس کا مرکزی نکتہ غزہ میں بے گناہ فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں تھیں۔

    ، بیئر شیبہ میں موجود اسور نے ویڈیو لنک کے ذریعے جنرل اسٹاف کے اجلاس میں شرکت کی اور فضائیہ کی جانب سے بعض حملوں کی منظوری روکنے پر شدید اعتراض اٹھایا، اسور کا کہنا تھا کہ تل ابیب میں بیٹھے افسران ’’میدان کی حقیقت‘‘ سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں، جس پر اجلاس میں موجود فضائیہ کے سربراہ نے سخت الفاظ میں جواب دیا اور کہا کہ جنوبی کمانڈ کی جانب سے حالیہ حملوں کی درخواستیں غیر پیشہ ورانہ تھیں اور ان کی منظوری سے غیر ضروری ہلاکتیں ہو رہی تھیں۔

    اسرائیلی ویب سائٹ ”وائی نیٹ نیوز“ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چیف آف اسٹاف ایال زمیر کو اسور کے لب و لہجے پر مداخلت کرنی پڑی اور انہوں نے اسے ناقابل قبول قرار دیا اجلاس میں موجود ایک افسر کے بقول، ’اس سطح پر جنرلز کے درمیان ایسا تصادم پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

    چینی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کریں گے

    اس تنازعے کی جڑ وہ تباہ کن حکمت عملی ہے جسے جنوبی کمانڈ ’’حماس پر دباؤ‘‘ کا نام دے رہی ہے، مگر حقیقت میں اس بہانے غزہ کے شہریوں پر بدترین بمباری اور زمینی جارحیت جاری ہے آپریشن ”گیڈیونز چیریٹس“ کے آغاز میں اسرائیلی افواج نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حماس کی قیادت کو ختم کر کے یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائیں گے تاہم، حقیقت یہ ہے کہ سینکڑوں فلسطینی شہری جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، ان فضائی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، اور حماس نہ صرف قائم ہے بلکہ اپنی شرائط پر مذاکرات کر رہی ہے۔

    بین الاقوامی تنظیموں اور خود اسرائیلی فوج کے بعض حلقوں نے بھی جنوبی کمانڈ کی جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کی ہے ایک اسرائیلی دفاعی افسر نے بتایا کہ ’اب یہ جنگ ابتدائی مرحلے سے مختلف ہو چکی ہے جنوبی کمانڈ کی فائر پالیسی اب حد سے تجاوز کر چکی ہے بعض اوقات معمولی درجے کے حماس ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں شہریوں کو مار دیا جاتا ہے۔

    سابق سینئر بیورو کریٹ جی ایم سکندر کی وفات،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ میجر جنرل اسور، جو اپنے پیش رو یارون فنکل مین کی سات اکتوبر کے بعد برطرفی کے نتیجے میں جنوبی کمانڈ کے سربراہ بنے، متعدد بار اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ محاذ آرائی کر چکے ہیں فوجی حلقے اب ان سے پیشہ ورانہ سطح پر بھی رابطے کم سے کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایک سابق اسرائیلی میجر کے مطابق، ’فوجی دستے مسلسل حملوں سے تھک چکے ہیں، کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو رہی، اور دشمن ہماری کمزوری محسوس کر رہا ہے۔‘

    اس تناؤ کو بڑھانے میں اہم کردار اس میڈیا بلیک آؤٹ کا بھی ہے جو غزہ میں جاری کارروائیوں کے دوران سیاسی حکم پر نافذ کیا گیا۔ آپریشن ”آئرن سوارڈز“ کو اب ”گیڈیونز چیریٹس“ کا نام دیا جا چکا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اسرائیلی افواج نہ حماس کو ختم کر سکیں، نہ یرغمالی واپس لا سکیں، اور نہ ہی عالمی حمایت برقرار رکھ سکیں۔

    اعظم سواتی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا