Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    سعودی عرب اور متعدد دیگر ممالک نے فلسطین کے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے کنٹرول بڑھانے سے متعلق حالیہ فیصلوں کی سخت مذمت کی ہے۔

    مشترکہ بیان پر سعودی عرب، فلسطین، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئی لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لکسمبرگ، ناروے، پرتگال، سلووینیا، اسپین اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے، جبکہ عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرلز بھی اس میں شامل تھے۔

    پیر کے روز جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں بہت وسیع نوعیت کی ہیں، ان کے تحت فلسطین کی زمین کو نام نہاد اسرائیل کی ریاستی زمین قرار دیا جا رہا ہے ان اقدامات کے ذریعے اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیزکیاجا رہا ہے، اسرائیلی انتظامیہ کو مزید مضبوط کیا جارہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاریاں اور انہیں مزید توسیع دینے کے فیصلے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں اور 2024 میں عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ فیصلے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور عملی طور پر الحاق (ڈی فیکٹو انضمام) کی طرف پیش رفت کا حصہ ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے اسرائیل کی آبادکاری پالیسی میں غیر معمولی تیزی، خصوصاً E1 منصوبے کی منظوری اور اس کے ٹینڈر کے اجرا، فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ممالک نے 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی آبادیاتی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے الحاق کی مخالفت کرتے ہیں،وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کو فوری طور پر روکے اور ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ مغربی کنارے کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا۔

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    بیان میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے تناظر میں یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیااس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا اور یروشلم میں بار بار اسٹیٹس کو کی خلاف ورزیوں کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

    ممالک نے مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل کے عزم کا اعادہ کیا، جو عرب امن منصوبے، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو اسرائیل فلسطین تنازع کا خاتمہ علاقائی امن، استحکام اور انضمام کے لیے ناگزیر ہے، اور ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے کے عوام اور ریاستوں کے درمیان بقائے باہمی کو ممکن بنا سکتا ہے۔

    جرمنی میں افغان شہری کا چاقو سے حملہ، متعدد افراد

    وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے واجب الادا ٹیکس محصولات فوری طور پر جاری کرےیہ رقوم فلسطینی اتھارٹی کو پیرس پروٹوکول کے مطابق منتقل کی جانی چاہئیں اور یہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ غیر قانونی آبادکاریوں کے پھیلاؤ، جبری بے دخلی اور الحاق کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

  • پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے-

    ایک مشترکہ اعلامیے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عرب، ریاست قطر، ریاست کویت، سلطنت عمان، مملکت بحرین، لبنانی جمہوریہ، شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی)، عرب لیگ (ایل اے ایس) اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹریٹس نے بھی دستخط کیے۔

    اعلامیے میں امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے، پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔

    گھوٹکی ،رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر

    وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے یہ منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔

    اوکاڑہ،دھی رانی پروگرام،اجتماعی شادیوں کی چوتھی تقریب،90 بیٹیوں کی شادی

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔

    گیمبر پریس کلب اوکاڑہ کینٹ کی23 ویں تقریب حلف برداری

    ادھر سعودی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی سفیر نے اپنے بیان میں غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ تاثر دیا کہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، جو نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ہے۔

    عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینےپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل

    سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے خیالات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں شرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہےسعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے بیانات سے اجتناب کرے اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کرے۔

  • نیتن یاہو امریکا اور یورپ سمیت 58 ممالک میں ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار

    نیتن یاہو امریکا اور یورپ سمیت 58 ممالک میں ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار

    امریکا اور یورپ سمیت 58 ممالک میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔

    گیلپ سروے کے مطابق مجموعی طور پر 61 فیصد شہریوں نے نیتن یاہو کی مخالفت کی، جو 2019 کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے لوگوں نے نیتن یاہو کے فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کردار پر تنقید کی، ایران میں تو 98 فیصد شہریوں نے انہیں ناپسندیدہ قرار دیا، جبکہ یورپی ممالک میں بھی مخالفت کی شرح زیادہ رہی، برطانیہ میں 52 فیصد اور امریکا میں 42 فیصد افراد نے نیتن یاہو کو ناپسندیدہ بتایا۔ پاکستان میں بھی 49 فیصد لوگوں اسرائیلی وزیراعظم کو ناپسندیدہ قرر دیا۔

    نائیجیریا :مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 50 افراد ہلاک، متعدد اغوا

    اس کے برعکس کچھ ممالک میں اسرائیلی وزیراعظم کو زیادہ حمایت حاصل رہی آذربائیجان اور کینیا میں 58 فیصد جبکہ بھارت میں 50 فیصد افراد نے نیتن یاہو کی حمایت کی،گیلپ کا یہ سروے عالمی سطح پر اسرائیلی وزیراعظم کی مقبولیت میں کمی اور ان کے فیصلوں پر عوامی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل فلسطین جنگ میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے، جس کے بعد انہیں دنیا بھر میں نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔

    تصادم کی سیاست نہیں چاہتے،سہیل آفریدی

  • اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل  اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطین سے متعلق بریفنگ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں کنٹرول کے دائرہ کار میں توسیع، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں،مذکورہ اسرائیلی اقدامات کو فوری طور پر روکا اور واپس لیا جانا چاہیے۔

    وزیرِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ مؤثر پیش رفت کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں نمایاں اضافہ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔

    انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے، جو بین الاقوامی قانونی جواز اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو اس عمل کا اختتام 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی، آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر منسلک ریاستِ فلسطین کے قیام پر ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، اور عالمی برادری کو فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خونریزی کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • اسرائیل کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کیلئے صرف 10 ہزار نمازیوں کی اجازت

    اسرائیل کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کیلئے صرف 10 ہزار نمازیوں کی اجازت

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی نمازیوں کے لیے جمعہ کی نماز کے موقع پر مسجد الاقصیٰ میں حاضری محدود کرتے ہوئے تعداد 10 ہزار مقرر کر دی ہے یہ پابندیاں رمضان المبارک کے آغاز پر نافذ کی گئی ہیں۔

    اسرائیلی ادارے کوگات کے بیان کے مطابق صرف وہی فلسطینی نمازی داخل ہو سکیں گے جو پیشگی خصوصی اجازت نامہ حاصل کریں گے مردوں کے لیے کم از کم عمر 55 سال، خواتین کے لیے 50 سال جبکہ 12 سال تک کے بچوں کو قریبی رشتہ دار کے ساتھ آنے کی اجازت ہوگی، یہ پابندیاں صرف مقبو ضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوں گی، جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اپنے قبضے میں لیا تھا تمام اجازت نامے سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوں گے اور واپسی پر ڈیجیٹل اندراج بھی لازم ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے امام شیخ محمد العباسی کو احاطہ مسجد سے گرفتار کر لیا فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرفتاری کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری اور نمازیوں پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسجد کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

  • امریکی فوج رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی فوج رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

    امریکی میڈیا نے کہا کہ اس کارروائی پر غور و فکر میں کافی وقت صرف کیا جارہا ہے اورساتھ ہی مختلف عسکری اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جارہا ہےصدر ٹرمپ بھی اس بارے میں بہت زیادہ وقت سوچنےمیں گزار رہے ہیں فوجی اہلکار اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اور خطے میں کسی بھی ہنگامی کارروائی کے لیے الرٹ ہیں۔

    دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران ممکنہ طور پر اسرائیل پر میزائل حملہ کر سکتا ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور قریبی بنکرز یا محفوظ مقامات سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے دفاعی اور ہنگامی اداروں کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں،حکام نے سکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے اور فوری ردعمل کے لیے اقدامات مکمل رکھنے کا حکم دیا ہے ممکنہ خطرے کے باعث ملک بھر میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں

  • غزہ پر قبضہ برقرار رہا تو اسلحہ ترک نہیں کریں گے، حماس کا دوٹوک موقف

    غزہ پر قبضہ برقرار رہا تو اسلحہ ترک نہیں کریں گے، حماس کا دوٹوک موقف

    حماس نے اسرائیل کا 60 روز میں غیر مسلح ہونے کا الٹی میٹم مسترد کردیا۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے بیان میں کہا ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، اسلحہ ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اسرائیلی دھمکیاں حماس کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور مزاحمت جاری رہے گی، اسرائیل کی جانب سے حماس کو غیر مسلح ہونے کے لیے دی گئی مہلت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،غزہ میں جاری صورتحال اور اسرائیلی اقدامات کے تناظر میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ شرط قبول نہیں کی جا سکتی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ خطے میں امن کوششوں کو بھی ایک نیا دھچکا لگنے کا امکان ہے صورتحال پر عالمی برادری کی نظر ہے، تاہم فی الحال زمینی حقائق میں کسی فوری تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

    سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

    سی ٹی ڈی کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں،صدر مملکت کا خراجِ تحسین

    سی ٹی ڈی کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں،صدر مملکت کا خراجِ تحسین

  • اسرائیل نے مسجدالاقصیٰ کے امام کو گرفتار کر لیا،حماس کی شدید مذمت

    اسرائیل نے مسجدالاقصیٰ کے امام کو گرفتار کر لیا،حماس کی شدید مذمت

    اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجدالاقصیٰ کے صحن سے مسجد کے امام شیخ محمد العباسی کو گرفتار کر لیا ہے۔

    حماس نے امام شیخ محمد العباسی کی گرفتاری پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واقعے مذمت کی ہےتنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مسجدالاقصیٰ پر قبضہ جمانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ایسے اقدامات فلسطینی عوام کے جذبات کو مزید بھڑکانے کا باعث بن رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی چھاپے مارے، جن کے دوران کئی فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران صورتحال کشیدہ رہی، چھاپوں کی کوریج کرنے والے فلسطینی صحافیوں کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، جبکہ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک بکتر بند گاڑی کے ذریعے صحافیوں کو کچلنے کی کوشش بھی کی گئی،انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اسرا ئیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کی مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی اقدامات کی  مذمت

    پاکستان کی مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی اقدامات کی مذمت

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی تازہ غیر قانونی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے، جس میں قابض اسرائیلی حکومت نے علاقے کو بظاہر ریاستی جائیداد میں تبدیل کرنے اور غیر قانونی بستیوں کو وسعت دینے کی کوشش کی۔

    وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور عالمی برادری کو انہیں مسترد کرنا چاہیے، قابض اسرائیلی حکومت کی بین الاقوامی قانون سے مسلسل لاپرواہی اور اشتعال انگیز اقدامات علاقے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں۔

    پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کی بے حسی ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنایا جائے، پاکستان فلسطینی عوام کے خود ارادیت کے حق اور ایک آزاد، مضبوط اور مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جو 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ہو اور القدس الشریف اس کی دارالحکومت ہو۔

    اسرائیلی کابینہ میں مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی تجویز منظور

    واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت نے ایک متنازع تجویز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت وسیع علاقوں کو ’ریاستی ملکیت‘ کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔

    پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلوں کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پراتفاق

  • معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔

    تہران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا، ایران کی میزائل صلاحیت ملک کی ریڈ لائن ہے اور اسے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، ایران اپنی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا امریکا کو چاہیے کہ وہ دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے –

    ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات اور خطے میں ایک اور بحری بیڑے کی تعیناتی کا عندیہ دیا تھا ملک کی دفاعی اور میزائل صلاحیت قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے اور اس پر کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔