Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    دوحہ: قطری وزیر اعظم نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کااطلاق آج 19 جنوری سے ہوگا-

    باغی ٹی وی : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،مرحلہ وار سویلین قیدیوں کا تبادلہ اور جنگ کے خاتمے پر مذاکرات ہوں گے دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فورس کے قیدی حماس رہا کرے گی اور غزہ کے عوامی مقامات سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہوگاتیسرے مرحلے میں اسرائیلی فورسز کا غزہ سے مکمل انخلا اور غزہ کی تعمیر نو پر کام کیا جائے گا۔

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں، جنگ بندی کااطلاق19 جنوری سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔

    شدید دھند ، موٹرویز کئی مقامات سے ٹریفک کیلئے بند

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے جنگ بندی جنگ کے آغاز تک غزہ میں قیام امن پر زور دیا ہے کہا کہ معاہدہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا، یہ معاہدہ غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے کا بھی باعث بنے گاہم غزہ میں اپنے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔توقع ہے کہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو جائے گا،وقت کا اعلان بعد میں ہوگا۔

    انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔ معاہدے کے پہلے مرحلے میں بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی شامل ہےپہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی سے زخمیوں کو علاج کے لیے نکالنا بھی شامل ہے۔ ہم تمام فریقین پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیتے ہیں۔

    پاک بحریہ سے کمبائنڈ ٹاسک فورس کی کمان رائل نیوزی لینڈ نیوی کو منتقل

    دوسری جانب حماس رہنما سامی ابو زہری نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کو اہم کامیابی قرار دیا ہےانہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے کسی ہدف کو حاصل نہیں کرسکی۔

    حماس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ فلسطینی عوام کی عظمت اور غزہ میں مزاحمت کے بے مثال جذبے کا غماز ہے جو پچھلے 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

    یو اے ای نے آن لائن ویزا سروس متعارف کروادی

    حماس نے قرار دیا کہ یہ معاہدہ فلسطینی عوام، ان کی مزاحمت، امت مسلمہ اور عالمی سطح پر آزادی پسندوں کی ایک مشترکہ کامیابی ہے اور یہ ہماری جدوجہد کے سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے غزہ کے صابر اور شجاعت سے بھرپور عوام کی حمایت اور دفاع ہمارا فرض ہے، اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔

    حماس نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرنے پر دنیا بھر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اب سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، ہمارے حق میں آواز بلند کی اور عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

    مہنگےپیکج لینے والے عازمین کا حج سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کابینہ امن معاہدے کی منظوری آج دے گی۔

    غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی ممکنہ تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ 3 مراحلے پر مشتمل ہوگا، معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتوں پر مشتمل ہوگاپہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد کے اندر 700 میٹر تک خود کو محدود کرلے گی جنگ بندی کے اس مرحلے میں اسرائیل تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں عمر قید کے 250 قیدی بھی شامل ہوں گےاس مرحلے میں غزہ میں موجود 33 اسرائیلی مغویوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

    سیالکوٹ: تھانہ اگوکی پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    پہلے مرحلے میں اسرائیل زخمیوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر سفر کی اجازت دے گااس مرحلے کے آغاز کے 7 روز بعد اسرائیل مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کھول دے گااس دوران اسرائیلی فوج مصر کے ساتھ سرحد جسے فلاڈیلفی راہداری کہا جاتا ہے، سے پیچھے ہٹ جائے گی اور آئندہ مراحل میں اس علاقے سے واپس چلی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں 15 ماہ سے جارحیت جاری ہے اور حملوں میں 46 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے،اس دوران غزہ کی مکمل آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی اور ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ٹی آئی کا کور کمیٹی کا اجلاس آج رات 10 بجے طلب

  • جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    تل ابیب: اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا ہونے والے 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی ہے –

    باغی ٹی وی : اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق فہرست میں 69 خواتین، 16 مرد اور 10 نابالغ شامل ہیں وزارت کے مطابق فہرست میں سب سے کم عمر قیدی 16 سال کا ہے، ان قیدیوں کو اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اتوار سے رہا کیا جائے گا فہرست میں فلسطینی پارلیمنٹ کی رکن اور قانون ساز خالدہ جرار بھی شامل ہیں، جنہیں جنگ کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بغیر کسی مقدمے کے حراست میں ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ اور حکومت نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دی تھی، اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے حماس کے ساتھ طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی توثیق کر دی۔

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کابینہ نے سیاسی، سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اس معاہدے کی توثیق کی۔بیان کے مطابق سیکیورٹی کابینہ نے حکومت کو اسے منظور کرنے کی سفارش کی ہے، اس معاہدے کو اب مکمل کابینہ کے سامنے ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 15 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ مشترکہ میڈیا کوششوں کی کامیابی اور اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی معاہدہ غزہ تک امداد کی فراہمی کی راہیں کھولے گا۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری (اتوار) سے نافذ العمل ہوگا۔ پہلا مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا، اس میں جنگ بندی اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کی سرحد پر تعینات رہیں گی، جبکہ قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ بے گھر افراد کو ان کی رہائش گاہوں پر واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی کے تمام حصوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں اضافہ کے علاوہ ہسپتالوں، صحت کے مراکز اور بیکریوں کی بحالی بھی شامل ہےبے گھر افراد کے لیے ایندھن، شہری دفاع کے آلات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

  • اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    حماس نے جنگ بندی مسودہ قبول کرتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کے بدلے ایک ہزار فلسطینیوں کو رہا کرے گا، تاہم اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے قطری وزارت خارجہ کے مطابق غزہ میں 24 گھنٹوں میں جنگ بندی کی امید ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس نے جنگ بندی معاہدے کی باضابطہ منظوری دیدی ہے، حماس کی منظوری کے بعد اب دستخط کا عمل شروع ہو جائے گا، جنگ بندی جمعرات کو ہونے کا امکان ہے۔

    اپوزیشن سیاست کررہی ہے، عوامی مسائل پرتوجہ نہیں دے رہی، ایازصادق

    قبل ازیں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل 2 عہدیداروں نے منگل کو امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور درجنوں مغویوں کی رہائی کے معاہدے کے مسودے کو قبول کر لیا ہے۔

    مذاکرات کے ثالثوں میں شامل قطر نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ معاہدے کو منظور کرنے کے اب تک کے قریب ترین مقام پر ہیں،معاہدہ فریقین کو 15 ماہ سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کے ایک قدم قریب لے آئے گا۔

    ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور سینٹرزکےگوشوارے جمع کرانےکی ڈیڈلائن ختم

    دوسری طرف ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ پیش رفت ہوچکی ہے، تاہم تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تین مرحلوں پر مشتمل اس جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے منصوبے کو حتمی منظوری کیلئے اسرائیلی کابینہ میں پیش کرنا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے اندر تقریباً 100 یرغمالی اب بھی قید ہیں اور اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ کم از کم ایک تہائی ہلاک ہو چکے ہیں،حماس نے سات اکتوبر کو 250 کے قریب لوگوں کو یرغمال بنایا تھا جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق جنگجوؤں کے حملوں میں 1200 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی کے دوران "بیٹ مین” کے گھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ

    صدر جو بائیڈن نے پیر کو کہا تھا کہ ان کا تجویز کردہ معاہدہ حقیت بننے والا ہےجبکہ خطے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ 20 جنوری کو نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف برداری سے پہلے ایک معاہدہ کر سکتے ہیں،ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی بھی ان مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔

  • بھارتی  بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

    بھارتی بحریہ کے لیے تیار کیا جا رہا ’درشٹی 10 اسٹارلائنر‘ ڈرون گجرات کے پوربندر میں ٹیسٹنگ کے دوران حادثہ کا شکار ہو گیا۔ یہ ڈرون اڈانی ڈیفنس کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے، اور اس کا مقصد فوجی نگرانی، خفیہ معلومات جمع کرنے اور جاسوسی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔

    ’درشٹی 10‘ ایک درمیانی اونچائی اور لمبی صلاحیت والا ڈرون ہے، جو اسرائیلی دفاعی فرم ایلبٹ سسٹمز کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ 70 فیصد خودمختار اور اس کی پرواز کی صلاحیت تقریباً 36 گھنٹے تک ہے۔ اس میں 450 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت ہے، جس سے یہ نگرانی اور معلومات جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ ڈرون، اڈانی ڈیفنس اینڈ ایئرواسپیس کے ذریعے تیار کیا گیا تھا اور ہندوستانی بحریہ کو سپرد کرنے سے قبل اس کی ٹیسٹنگ کی جا رہی تھی۔ ٹیسٹنگ کے دوران ڈرون اچانک حادثہ کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد پورے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ہندوستانی بحریہ اپنی سمندری سیکورٹی کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے۔ 4 ماہ قبل، ’ایم کیو-9 بی‘ سی گارجین ڈرون بھی تکنیکی خرابی کے باعث خلیج بنگال میں حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ ’درشٹی 10‘ ڈرون کا حادثہ ہونے کے باوجود، توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں موجود خرابی کو جلد دور کر لیا جائے گا تاکہ اس کے استعمال میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

    ہندوستانی بحریہ نے امریکہ سے 31 ’ایم کیو-9 بی‘ ڈرون خریدنے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد بحر ہند کے علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔ ’درشٹی 10‘ ڈرون کا حادثہ ایک سنگین معاملہ ہے، لیکن امید کی جا رہی ہے کہ اس حادثے کے نتیجے میں جو خامیاں سامنے آئیں گی، ان کو جلد دور کر لیا جائے گا۔

    شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 خوارج جہنم واصل

    ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس امین الدین

    مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

  • حماس کے ساتھ جھڑپ میں  5 اسرائیلی فوجی ہلاک,10 زخمی

    حماس کے ساتھ جھڑپ میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک,10 زخمی

    غزہ کی شمالی پٹی میں حماس کے ساتھ جھڑپ کے دوران 5 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے، جس کی اسرائیل حکام نے بھی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی شمالی پٹی میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہےاسرائیلی فوج کے مطابق آج صبح غزہ کی شمالی پٹی میں ایک حملے میں 5 فوجی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوگئے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں ایک کیپٹن اور 4 سارجنٹ شامل ہیں، ہلاک ہونے والے تمام فوجی نحال بریگیڈ کے ریکی یونٹ میں تعینات تھے۔

    ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی شناخت معلوت ترشیحہ سے 23 سالہ کیپٹن یائر یاکوو شوشان، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ یاہاو حدر، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ گائے کارمیل، گیڈرا سے 19 سالہ اسٹاف سارجنٹ یاؤو فیفر اور 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ ایویل وائزمین کے ناموں سے ہوئی۔

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ سے تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کی شام اسرائیلی فوج نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے نتائج ان 5 فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ شیئر کیےتحقیقات کے مطابق نہال بریگیڈ کے ریکنسنس یونٹ کے فوجیوں کی ٹیم پیر کی صبح بیت ہنون کے علاقے میں ایک مشن پر روانہ ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔

    ریٹائرمنٹ کا فیصلہ فرنچائزز اور دنیا کی خودغرضی کی وجہ سے کیا، احسان اللہ خان

  • غزہ جنگ بندی معاہدہ :قطر نے حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا

    غزہ جنگ بندی معاہدہ :قطر نے حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا

    دوحہ: قطر نے مذاکرات میں بریک تھرو کے بعد غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات میں رات گئے مثبت پیش رفت ہوئی جس کے بعد قطر نے معاہدے کا فائنل ڈرافٹ اسرائیلی حکام اور حماس کے حوالے کردیا۔

    دوحہ میں جاری مذاکرات میں قطر کے وزیراعظم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور شن بیٹ کے سربراہان اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سمیت موجودہ امریکی حکومت کے نمائندے بھی شریک تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے نیوز ایجنسی کی رپورٹ پر جاری بیان میں جنگ بندی معاہدے سے متعلق حتمی مسودہ ملنے کی نفی کردی،اسرائیلی حکام نے کہا کہ انہیں اب تک مسودہ نہیں ملا تاہم معاہدے کا خاکہ واضح ہے اور اگر حماس جلد جواب دیتی ہے تو باقی چیزیں بھی جلد فائنل ہوجائیں گی۔

    اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہےجو پہلے سے بہتر ہےاور مجھے امید ہے جلد ہی ہم کچھ چیزیں ہوتے دیکھیں گے۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے تصدیق کی کہ قیدیوں کے معاہدے میں واقعی پیش رفت ہوئی ہےانہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل ایک معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ آیا حماس بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رہائی کے معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے اب "گہری” کوششیں جاری ہیں۔

    برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے القدس میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی فریقین نے ایران، شام اور لبنان سمیت متعدد علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس کے برعکس حماس نے آج پیر کو اعلان کیا کہ وہ جلد ہی قیدیوں کی آزادی کی تاریخ طے کرے گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ بزلیل سموٹرچ نے اس پیش رفت پر تنقید کی، جب یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ قطر میں غزہ میں لڑائی روکنے اور قیدیوں کی واپسی کے لیے کام ہو رہا ہے،اسرائیلی وزیر نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے "ہتھیار ڈالنے” کا سودا سمجھا جانا چاہیے،جس معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے وہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے تباہی ہے۔

  • شمالی غزہ میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک،6 شدید زخمی

    شمالی غزہ میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک،6 شدید زخمی

    شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران 4 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 6 شدید زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ہفتے کے روز شمالی غزہ کی پٹی میں لڑائی کے دوران 4 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 6 شدید زخمی ہو گئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 37 سالہ ریزرو سارجنٹ الیگزینڈر فیڈورینکو، 21 سالہ اسٹا ف سارجنٹ ڈینیلا ڈیاکوف، 19 سالہ سارجنٹ یہو مایان اور 19 سالہ سارجنٹ ایلیو استوکر شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق 6 زخمی فوجیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، حماس کے خلاف زمینی کارروائی میں مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 402 ہوگئی،فوجیوں کو شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں حماس کے مسلح مزاحمت کاروں نے پہلے نصب دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا پھر ان پر فائرنگ بھی کی گئی۔

    غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں لاشیں بھاپ میں تبدیل

    اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی کے شمال میں حماس کے خلاف اپنی کارروائی کو تیز کر دیا ہے،غزہ میں میدانی پیش رفت میں اسرائیلی فوج کے طیارے جنگ کے 463 ویں دن بھی پٹی کے شمال اور جنوب میں محلوں پر بمباری کر رہے ہیں۔

    غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان، محمود بسال نے کہاہے کہ غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع زیتون محلے میں تفیش خاندان سے تعلق رکھنے والی رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے کے بعد ایک فلسطینی شہید اور کم از کم تین زخمی ہوئے۔

    برطانیہ نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ شروع کردی

    فلسطینی وزارت مواصلات نے جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح شہر کے شمال مغرب میں مسلسل اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کے دوران ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کی پٹی میں مواصلاتی سروس چند گھنٹوں میں بتدریج بند کرنے کا انتباہ دیا۔

    سول ڈیفنس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ غزہ، وسطی، خان یونس گورنریوں میں کئی فائر فائٹنگ اور ریسکیو گاڑیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان کی مرمت کے لیے ضروری سامان اور اسپیئر پارٹس کی کمی ہے۔

    قیامت کا سماں: لاس اینجلس میں ’آگ کے بگولے‘ بننے لگے

    اقوام متحدہ کےرابطہ دفتر برائے انسانی امور نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے شمالی غزہ کی گورنری تک امداد کی رسائی کو محدود رکھا ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم کردہ 21 میں سے صرف 10 انسانی امداد کی اشیاء کو گذرنے کی اجازت دی ہے۔

  • غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں لاشیں بھاپ میں تبدیل

    غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں لاشیں بھاپ میں تبدیل

    غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے استعمال کیے گئے ممنوعہ دھماکہ خیز مواد کے باعث متاثرین کی لاشیں بھاپ میں تبدیل ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : فلسطینی سول ڈیفنس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے مقامات پر 7,820 لاشیں جزوی طور پر بخارات بنی ہوئی تھیں، یہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی کارروائیوں کے تمام متاثرین کا 10 فیصد بنتا ہے اسرائیلی فضائی حملوں میں سے 10 فیصد متاثرین کی لاشیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں یا ان کے چھوٹے چھوٹے حصے ہو گئے تھے کہ انہیں نکالا نہیں جا سکتا تھا۔

    غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے انکشاف کیا کہ اسرائیل فلسطینیوں پر حملہ کرنے کیلئے ان ہتھیار وں کو شمالی غزہ میں اپنی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں میں استعمال کر رہا ہے،اسرائیل شمال میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جس سے لاشیں بخارات بن رہی ہیں۔

    حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق

    ان کا کہنا تھا کہ ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال نے بین الاقوامی انسانی قانون کو توڑنے اور شہریوں پر انتہائی طاقت کے ساتھ حملہ کرنے کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہےبعض حملوں میں دھماکے کا درجہ حرارت چار ہزار ڈگری سے زائد تھا التابعین سکول پر فجر کے وقت کے حملے میں بھی ایسا ہی ہوا اور بہت سے لاشیں ختم ہوگئیں۔

    واضح رہے کہ غزہ کے حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک شہدا کی تعداد 46537 ہوگئی ہے-

    برطانیہ نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ شروع کردی

  • اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں جمعہ کے روز یمن میں حوثی اہداف کو نشانہ بنایاجن میں ایک پاور اسٹیشن اور ساحلی بندرگاہیں شامل تھیں جمعہ کو اسرائیلی فوج کے یمن میں حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں کیے گئے حملوں میں حدیدہ، راس عیسیٰ بندرگاہوں، حزیاز پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایاگیا ، حملوں میں 1 شخص ہلاک اور 16 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حوثی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی قیمت چکا رہے ہیں اور انہیں مزید بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی، ادھر حماس نے یمن پر حملے کی مذمت کی۔

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    واضح رہے کہ اسرائیل کے تازہ ترین حملے اس وقت ہوئے جب فوج نے جمعرات کو یمن سے داغے جانے والے 2 ڈرونز کو مار گرایا،اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یمنی باغی گروپ نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر اسرائیل پر درجنوں میزائل اور ڈرون فائر کیے۔

    گوجرہ: فائرنگ سے جرمنی پلٹ شخص سمیت دو نوجوان شدید زخمی

    دوسری جانب غزہ پر بھی اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 22 فلسطینی شہید ہوگئے،اس کے علاوہ لبنان پر بھی اسرائیل نے ڈروان حملہ کیا جس میں 5 شہری شہید ہوئے۔

    ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

  • عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیوں کابل منظور

    عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیوں کابل منظور

    امریکی ایوان نمائندگان نے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا ایک اہم بل منظور کر لیا ہے۔ اس بل کا مقصد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس بل کو منظور کرنے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے یہ اقدام کیا ہے جس کا مقصد عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی کارروائیوں کو محدود کرنا اور اسرائیل کے خلاف جاری قانونی اقدامات کو روکنا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد عالمی انصاف کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت کا کردار عالمی سطح پر انسانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے اور ایسے فیصلے اس عدلیہ کی آزادانہ کارکردگی میں مداخلت ہیں۔

    واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں کیے گئے قتل عام کے حوالے سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ آئی سی سی نے ان دونوں رہنماؤں کو جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب قرار دیا تھا، جس کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بل منظور کیا ہے۔

    یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر بڑی تشویش کا باعث بن رہا ہے، اور کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بل کو عالمی قوانین اور انصاف کے خلاف سمجھ رہی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے نے عالمی سطح پر سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر ان عدالتوں کی آزادانہ کارروائی پر اثر انداز ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بل سینیٹ میں کیسے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد عالمی سطح پر اس کے اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عالمی فوجداری عدالت کی کارروائیوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جس سے عالمی عدلیہ کے آزادانہ کام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    عمران خان کو رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟