Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • وسطی امریکی ملک نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کردئیے

    وسطی امریکی ملک نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کردئیے

    وسطی امریکا کے ملک نکاراگوا نے قتلِ عام اور نسلی تطہیر کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : نکاراگوا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل فاشسٹ اور قاتل ریاست ہے جو کسی قانون اور اخلاقی حدود و قیود کو نہیں مانتی، پہلے غزہ اور اب جنوبی لبنان و بیروت میں وحشیانہ بمباری کے ذریعے نہتے شہریوں کے قتل پر دنیا بھر میں شدید ردِعمل پایا جاتا ہے امریکا نے بمباری کے دوران اقوام متحدہ کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    اقوامِ متحدہ نے اپنی تنصیبات پر اسرائیلی فضائیہ کے حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں میں غیر متعلق افراد اور تنصیبات کو نشانہ نہ بنائے۔

    گزشتہ روز بھارت نے بھی اقوام متحدہ کی امن فوج کی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی تھی جنوبی لبنان میں امن فوج کے دستوں میں 600 بھارتی فوجی بھی شامل ہیں، اٹلی کی وزیرِاعظم جیورجیا میلونی اور ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز بھی نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن پر بھی نیتن یاہو کے حوالے سے شدید دباؤ ہے امریکا میں مختلف گروپ صدر پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت نہ کریں، انسانی حقوق اور دیگر امور سے متعلق اداروں اور گروپوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی غیر متعلقہ مقام کو نشانہ نہ بنائے اور نہتے، غیر متحارب شہریوں کو قتل کرنے سے گریز کرے۔

  • ایرانی میزائل گرنے کی رپورٹ دینے والے 5 صحافی اسرائیل میں گرفتار

    ایرانی میزائل گرنے کی رپورٹ دینے والے 5 صحافی اسرائیل میں گرفتار

    اسرائیل نے نیواتم ائیر بیس اور انٹیلی جنس اڈے پر ایرانی میزائل گرنے کی رپورٹ دینے والے امریکی صحافی سمیت 5 صحافیوں کو گرفتار کر لیا ہے

    اسرائیل نے جیریمی لوفرڈو نامی صحافی پر دوران جنگ دشمن کی مدد کرنےکا الزام لگایا ہے،اسرائیل نے صحافیوں کے خلاف کاروائی کی ہے اور انکو حراست میں لیا ہے،اس ضمن میں روسی صحافی آندرے ایکس کا کہنا ہےکہ اس سمیت دو صحافیوں کو بنا کسی الزام اسرائیلی فوج نے 11 گھنٹوں تک حراست میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا

    واضح رہے کہ ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر 190 بیسلٹک میزائل فائر کیے تھے اور اس حوالے سے ایران کے پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ 90 فیصد میزائل نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا تا ہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے زیادہ تر میزائلوں کو امریکا کی مدد سے ناکام بنا دیا، کچھ میزائل زمین پر گرے تاہم ان میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

    دوسری جانب ایران نے امریکی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ حملے کے لیے جس کی فضائی یا زمینی حدود استعمال ہوئی وہ نشانہ ہوگا،ایرانی اخبار کے مطابق ایران نے خلیج فارس میں امریکی اتحادیوں کو خبردار کیا جس میں خفیہ سفارتی ذرائع سے اردن، امارات، سعودی عرب اور قطر کو پیغام دیا گیا ہے،اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ممالک نے بائیڈن انتظامیہ پر واضح کیا ہے کہ وہ امریکا یا اسرائیل کو اپنے فوجی انفرا اسٹرکچر یا فضائی حدود ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے دینا نہیں چاہتے ،اس سے قبل ایران نے اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلانٹ کی دھمکی کے جواب میں جوابی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو دشمن کو دھول میں اڑا دیں گے، اسرائیل کے اندر جو اہداف چاہے انہیں نشانہ بنایا، ایرو، ڈیوڈ سلنگ اور آئرن ڈوم اسرائیلی دفاعی نظام اور دیگر ملک ناکام رہے۔

  • ایک بھی حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیل کو دھول میں اڑا دیں گے، ایران

    ایک بھی حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیل کو دھول میں اڑا دیں گے، ایران

    تہران: ایرانی فوج کے جنرل مرتضیٰ میریان نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، اسرائیل کو کسی بھی وقت نشانہ بناسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے جنرل مرتضیٰ میریان نے کہا ہے کہ اسرائیل پر جوابی حملے کے لیے ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی، ایران پر حملے ہونے والے ہر اسرائیلی حملے کا منہ توڑ جواب دیں گے اگر ایک بھی حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیل کو دھول میں اڑا دیں گے،اسرائیل کے پاس جدید ترین فضائی دفاعی نظام ہے لیکن ایرو، ڈیوڈ سلنگ اور آئرن ڈوم سمیت تمام اسرائیلی دفاعی نظام ناکام رہے ہیں ہم نے اسرائیل کے اندر جس ہدف کو چاہا نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے اسسٹنٹ کمانڈر ابراہیم جباری نے اخباری بیانات میں کہا کہ "اگر ہم نے حال ہی میں 200 میزائل داغے ہیں تو اب ہم اسرائیل کی طرف ہزاروں میزائل داغنے کے لیے تیار ہیں،اگر اسرائیل کوئی حملہ نہیں کرتا تو جنگ نہیں ہوگی،”لیکن اگر اسرائیل ہمارے ملک میں ایک مقام کو نشانہ بناتا ہے تو ہم درجنوں سکیورٹی، فوجی اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنا کر جواب دیں گے”۔

    ملتان ٹیسٹ:انگلینڈ نے 20 سال قبل بنایا گیا بھارت کا ریکارڑ توڑ دیا

    درایں اثناء ایران میں موبلائزیشن آرگنائزیشن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی نے کہا کہ ان کا ملک نئی ٹیکنالوجی استعمال کرے گا جو اسرائیل کو حیران کر دے گی۔

    واضح رہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کے مشیر بریگیڈیئر جباری نے ان حملوں میں اسرائیل کے کئی ایف 35 لڑاکا طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب جلد دیا جائے گا،اسرائیلی ذرائع نے امکان ظاہر کیا کہ اس حملے میں تیل کی تنصیبات یا بجلی کے اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ فوجی مقامات بھی شامل ہو سکتے ہیں اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اسرائیلی ٹارگٹ بنک میں ایرانی صدارتی کمپلیکس، سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کمپلیکس اور ساتھ ہی تہران میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر پر حملے ہوسکتے ہیں۔

    نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے سیڈ ترمیمی بل 2024 کی منظوری دے دی

  • اسرائیل نے ایران کے فوجی اڈوں پر حملے کا منصوبہ بنا لیا ،امریکی میڈیا کا دعویٰ

    اسرائیل نے ایران کے فوجی اڈوں پر حملے کا منصوبہ بنا لیا ،امریکی میڈیا کا دعویٰ

    نیویارک: اسرائیل نے ایران کے فوجی اڈوں پر حملے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے فوجی اڈوں پر حملے کا منصوبہ بنا لیا ہے،اسرائیل ایرانی انقلابی گارڈز کے اڈوں اور انٹیلی جنس مراکز پر حملہ کرے گا، ایران نے اسرائیلی حملے پر ردِعمل دیا تو ایران کے ایٹمی مراکز پر حملہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے اسرائیل سے ایرانی جوہری پروگرام پر حملے کا مطالبہ کر دیا ہے نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ پہلی بار ہمارے پاس خوفناک ردِعمل کے خوف کے بغیر ایران پر حملے کی صلاحیت ہےیہ واحد موقع ہے جب ایرانی حکومت اور جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانے کی قانونی حیثیت اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔

    ادھر امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے چیف ولیم برنس کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے اسرائیل اور ایران مکمل جنگ نہیں چاہتےخطے میں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ حقیقی ہے، اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملے کے جواب کا سوچ رہا ہے، اسرائیل کے احتیاط سے سوچنے کے باوجود غلط فیصلے کا خدشہ ہے، مشرق وسطیٰ ایسی جگہ ہے جہاں ہر وقت پیچیدہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔

  • اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملےکے جواب کا سوچ رہا ہے،سی آئی اے سربراہ

    اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملےکے جواب کا سوچ رہا ہے،سی آئی اے سربراہ

    واشنگٹن: امریکی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنس نے کہا ہے کہ اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملےکے جواب کا سوچ رہا ہے مگر اسرائیل کے احتیاط سے سوچنےکے باوجود غلط فیصلےکا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی: سی آئی اے کے چیف ولیم برنس نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ اسرائیل اور ایران مکمل جنگ نہیں چاہتے لیکن خطےمیں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ حقیقی ہےمشرق وسطیٰ ایسی جگہ ہے جہاں ہر وقت پیچیدہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں اور خصوصاً مشرق وسطیٰ میں بالکل پرفیکٹ صورتحال شاذو نادر ہی ملتی ہے ۔

    ولیم برنس نے کہا کہ ایرانی حملے نے ایران کی فوجی صلاحیتوں میں کچھ حدود کو بے نقاب کیا، اسرائیل اور امریکا کو ایرانی عسکری صلاحیتوں کو سنجیدگی سےلینےکی ضرورت ہے، اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملےکے جواب کا سوچ رہا ہے مگر اسرائیل کے احتیاط سے سوچنےکے باوجود غلط فیصلےکا خدشہ ہے۔غزہ مذاکرات میں شامل رہنماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ بہت ہوگیا، غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدےکیلئے طویل مدتی استحکام کو مدنظر رکھ کرمشکل فیصلے اور سمجھوتے کرنا ہوں گے۔

    عمران خان کی بہنوں سے کیا”برآمد ” ہوا؟ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتا دیا

    ملک کا نیشنل گیس ٹرانسمیشن سسٹم ایک بار پھر خطرے کی زد

    احتجاج کی آڑ میں شرپسندی،افغان بلوائی پیسے نہ ملنے پر پی ٹی آئی پر برس …

  • ایران میں زلزلہ،سوشل میڈیا پر ایران میں خفیہ ایٹمی تجربات کی قیاس رائیاں

    ایران میں زلزلہ،سوشل میڈیا پر ایران میں خفیہ ایٹمی تجربات کی قیاس رائیاں

    تہران: ایران اور اسرائیل میں 5 اکتوبر کی شام کو درمیانے درجے کے زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پرقیاس رائیاں جا ری ہیں کہ تہران نے زیر زمین ایک نیوکلیئر (جوہری) ٹیسٹ کیا جس کے نتیجے میں زلزلہ کی شدت تل ابیب تک محسوس کی گئی۔

    باغی ٹی وی : ایران کا صوبہ سیمنان کا شہر اردان 4.6 شدت کے زلزلے کا مرکز تھا، امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زیرزمین گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی مقامی وقت کے مطابق رات 10:45 کے قریب زلزلے کے جھٹکے تہران تک محسوس کیے گئے، جو کہ مرکز سے تقریباً 110 کلومیٹر دور ہے۔

    ابتدائی زلزلے کے چند منٹ بعد ہی اسرائیل میں آدھی رات کے قریب ایک دوسرے قدرے کم شدت والے زلزلے کی اطلاع دی گئی، تاہم سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ ایران میں خفیہ ایٹمی تجربہ کیا جا رہا ہے۔

    یو این نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،منیراکرم

    ایکس پر ایک صارف نے کہا کہ ایران کل رات سے نیوکلیئر تجربہ کررہا ہے تہران نے سیمنان کے قریب 10 کلومیٹر زیر زمین بم ٹیسٹ کیے تاکہ کم سے کم تابکاری کے پھیلاؤ کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے نتیجے میں 4.6 پیمانے کا زلزلہ آیا جسے سیسموگرافس نے ریکارڈ کیا تھا۔

    ایک اور صارف نے لکھا کہ اس ایرانی زلزلے نے واقعی اسرائیل کو خوفزدہ کردیا تل ابیب یہ سوچ رہا ہے کہ آیا وہ ایران پر حملہ کریں گے، ایسا لگتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا معاملہ ہے، کوئی ملک جوہری طاقت کے ساتھ گڑبڑ نہیں کرے گا ایران نے سب سے پہلے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا کہ وہ جہاں چاہیں درستگی کے ساتھ وارہیڈ پہنچا سکتے ہیں، اور پھر وہ صحرائی زلزلہ آیا جو زیادہ سے زیادہ جوہری تجربے کی طرح لگتا ہے۔

    کراچی میں مبینہ بھارتی جاسوس گرفتار

    ایک اور صارف نے کہا کہ کل ایران میں 4.5 کا زلزلہ آیا، افواہیں ہیں کہ یہ ایک ایٹمی تجربہ تھا فروری 2013 میں شمالی کوریا میں آنے والا زلزلہ جوہری تجربہ ثابت ہوا نومبر 2017 کے ایران میں آنے والے زلزلے کو بھی جوہری ٹیسٹ کا نام دیا گیا تھا ایران ہفتے کے اندر کافی فاشیل مواد جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

  • حماس  رہنما یحیٰی سنوار زندہ ہیں،اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

    حماس رہنما یحیٰی سنوار زندہ ہیں،اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے رہنما یحیٰی سنوار زندہ ہیں-

    باغی ٹی وی : یہ دعویٰ اسرائیلی میڈیا ’دی یروشلم پوسٹ‘ نے کیا ہےرپورٹ میں کہا گیا ہے حماس کے رہنما یحیٰی سنوار زندہ ہیں اور انہوں نے خفیہ طور پر قطر سے رابطہ قائم کیا ہےایک سینئر قطری سفارت کار نے خصوصی طور پر یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ براہ راست رابطے کی خبریں غلط ہیں، سفارت کار کے مطابق رابطہ حماس کے ایک سینیئر شخصیت خلیل الحیا کے ذریعے کیا گیا۔

    خیال کیا جارہا تھا کہ یحیٰی سنوار 21 ستمبر کو غزہ میں اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں کیونکہ انہوں نے طویل عرصے سے سرکاری چینلز سے رابطہ قائم نہیں کیا تھا اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ حملے میں حماس کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا تاہم فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ حملے میں جاں بحق ہونے والے 22 افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    کراچی میں مبینہ بھارتی جاسوس گرفتار

    22 ستمبر کو ایک رپورٹ میں ٹائمز آف اسرائیل نے کہا تھا کہ فوجی انٹیلی جنس حکام اس امکان کی چھان بین کر رہے ہیں کہ یحیٰی سنوار مر گیا ہےاسرائیل پر 7 اکتوبر کو ہونے والے حملوں کے ماسٹر مائنڈ یحیی سنوار اس سال اگست میں حماس کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے تھے جب ان کے پیشرو اسماعیل ہنیہ ایران میں ایک دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔

    یو این نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،منیراکرم

  • سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    حماس نے غزہ جنگ کو ایک سال مکمل ہونے پر ایک بار پھر اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کر دیا

    حماس کے القسام بریگیڈ نے سرائیلی شہر تل ابیب پر راکٹوں سے حملہ کیا،حماس کے حملوں میں اسرائیل کی دو خواتین زخمی ہوئی ہیں، اس دوران اسرائیلی میں سائرن بجے اور شہری محفوظ بینکروں میں چھپ گئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق خان یونس کے علاقے سے وسطی اسرائیل میں 5 راکٹ فائر کیے گئے،عرب میڈیا کے مطابق اگست کے بعدکسی بڑے اسرائیلی شہرپر فلسطینی گروپ کا یہ پہلاحملہ ہے،

    دوسری جانب حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی اورفوجی گاڑیوں کومیزائلوں سےنشانہ بنایا جب کہ حزب اللہ نے آج اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 10 اسرائیلی زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے اسرائیلی جنگ کی صورت غزہ میں گزرنے والے اس سال کا ہر لمحہ غزہ کے معصوم شہریوں کے لہو سے لا ل ہوتا رہا،شاید ہی اس ایک سا ل میں کوئی صبح یا کوئی شام ایسی گزری ہوجب معصوم فلسطینیوں کے خون سے اس سرزمین کو سیراب نہ کیا گیا ہو،غزہ جنگ نہتے اور زیر محاصرہ فلسطینیوں کے خلاف طویل ترین جنگ کا ریکارڈ بھی ہے اور اسرائیلی جنگی جرائم کی بدترین مثالوں کا حوالہ بھی،یہ جنگ نسل کشی کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے ،غزہ کی جنگ کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نے ایک سال کے اندر غزہ کی پٹی میں 40 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، راکٹ داغنے کے ایک ہزار مقامات تباہ کر دیے اور سرنگوں کے 4700 دہانے دریافت کر لیے۔سات اکتوبر 2023 سے اب تک 726 اسرائیلی فوج ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں 380 فوجی سات اکتوبر کو شروع ہونے والی عسکری مہم میں اور 346 فوجی 27 اکتوبر 2023 کو غزہ کے اندر شروع ہونے والی لڑائی میں مارے گئے،ایک سال کے اندر 4576 فوجی زخمی بھی ہوئے ،

    اسرائیل کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق رواں سال اگست تک غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کی براہ راست لاگت 100 ارب شیکل (26.3 ارب ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔ بینک آف اسرائیل کے اندازے کے مطابق 2025 کے اختتام تک اس لاگت کا حجم 250 ارب شیکل تک پہنچ جائے گا۔

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس آج 7 اکتوبر سوموار کو ایوان صدر میں ہو رہی ہے

    آل پارٹیز کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور شہبازشریف شریک ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اے پی سی میں شریک ہیں،مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق، بلاول زرداری،چوہدری سالک حسین، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، خالد مقبول صدیقی، راجہ پرویز اشرف،سید یوسف رضا گیلانی ،عبدالعلیم خان،سمیت دیگر شریک ہیں. ثروت اعجاز قادری، انوار الحق کاکڑ، لیاقت بلوچ، احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر، امیر مقام، نیئر بخاری، شیری رحمان، نوید قمر بھی اے پی سی میں شریک ہیں.

    ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،نواز شریف
    سابق وزیراعظم نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب میں کہاکہ دنیا کے اندر خوفناک قسم کی بربریت والا کیس ہے، جس طرح سے غریب فلسطینیوں کا جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، کوئی سازو سامان نہیں ہے، کوئی ملٹری طاقت نہیں ہے، اس پر جس بے دردی سے ظلم ڈھایا جا رہا ہے،یہ تاریخ کی بدترین مثال ہے، ہم سب کا دن خون کے آنسو روتا ہے جب ہم بچوں کی خون آلودہ تصاویر دیکھتے ہیں، پورے کا پورا شہر اور انکے علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، معصوم بچوں کو والدین کے سامنے شہید کیا جا رہا، ماؤں کی گود سے بچے چھین کر شہید کیئے جا رہے ایسا زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، دنیا نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس میں انسانی مسئلہ نہیں سمجھتے بہت سا طبقہ مذہبی مسئلے کے طور پر بیان کرتا ہے اور سمجھتا بھی ہے، جس طرح کا غاصبانہ قبضہ اسرائیل نے کیا اور پھر اقوام متحدہ بے بس بیٹھی ہوئی ہے، انکی پاس کردہ قرارداد پر کوئی عمل نہیں ہو رہا، شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا میں نے تقریر کا ایک ایک لفظ سنا، وہ باتیں کیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لوگوں نے سراہا،یہ صورتحال افسوسناک ہے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مظالم جاری ہیں ،وہ بڑی ڈھٹائی سے مظالم کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کوبھی کوئی فکر نہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج تک عمل نہ ہو سکا، ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،مجھے یاد ہے کہ یاسر عرفات جب پاکستان آئے تو میری ان سے دوبار ملاقات ہوئی میں نے انکے جذبات سنے ہوئے، انہوں نے بڑی جدوجہد کی فلسطینی عوام کے لئے، فلسطینیوں کا خون رنگ لا کر رہے گا، اللہ بھی دیکھتا ہے، انسانیت کچھ نہیں کر رہی،اس سلسلے میں شہباز شریف جو روڈ میپ دیا اس پر غورو خوض ہونا چاہئے، اسلامی ممالک کو اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئے، اسلامی ممالک کی قوت کا استعمال کب کریں گے، ایک پالیسی بنانا پڑے گی ورنہ ہم اسی طرح بچوں کا خون ہوتا دیکھتے رہیں گے، کچھ نہیں کر پائیں گے، اسرائیل کیوں دندناتا پھرتا ہے اسکے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں، انکو بھی سوچنا چاہئے کہ کب تک فلسطین کے لوگوں کے صبر کا امتحان لیں گے.ہمیں عوامی توقعات پر بھی پورا اترنا ہے، جلدی اقدامات کئے جائیں، تاخیر نہیں ہونی چاہئے،پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت کے سامنے خاموشی اختیار کرنا انسانیت کی ناکامی ہے

    فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے،مولانا فضل الرحمان
    اے پی سی میں سٹیج سیکرٹری کےفرائض شیری رحمان نے سرانجام دیئے، اے پی سی سے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ناسور کا سب سے اولین فیصلہ 1917 میں برطانیہ کے وزیر خارجہ کے جبری معاہدے کے تحت ہوا، اس وقت سے فلسطین کی سرزمین پر بستیاں قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، ہمیں پاکستان کی پوزیشن معلوم کرنی چاہئے،پاکستان مین 1940 کی قرارداد میں فلسطین میں یہودیوں کی بستیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا، جب اسرائل قائم ہوا تو قائداعظم نے اسے ناجائز بچہ کہا، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالہ سے پہلا تبصرہ کیا کیا اور اسرائیل کے صدر نے پہلا بیان کیا دیا کہ دنیا کے نقشے پر نوزائدہ اسلامی ملک کا خاتمہ ہمارا مقصد ہو گا، اب ہمین سوچنا چاہئے کہ کس بنیاد پر ہم نے لوگوں کو مواقع فراہم کئے کہ وہ لوگوں کو ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے حمایت کریں ایسا کیوں ہوا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کیوں ہوئیں؟ حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا جس نے فلسطین کے مسئلے پر نوعیت ہی تبدیل کر دی، آج فلسطینی ریاست یا دو ریاستی حل کی بات ہو رہی، ہم دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے، یہ عرب کی زمین ہے،یہاں یہودیوں کی بستیوں کا کوئی جواز نہیں ہے، سات اکتوبر کو آج ہم بیٹھے ہیں، کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، سیاسی معاملات پر اختلافات رائے ہے لیکن فلسطین پر ہم سب ایک ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر بھی ہمیں یکجہتی دکھانی چاہئے، دنیا کے اعتماد کے لئے داخلی یکجہتی ضروری ہے.50 ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں، بچے، خواتین، غیر مسلح ، بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن کے جنازے پڑھے گئے یہ وہ تعداد ہے، دس ہزار کے قریب اب بھی ملبوں تلے دبے ہوئے،جن کے جنازے نہ ہو سکے، امت مسلمہ نے ایک سال میں غفلت دکھائی وہ جرم ہے اور ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں،کیوں مسلمانوں نے انکی مدد کیوں نہیں کی، کیا ہمیں احساس ہے،ہم سے تو جنوبی افریقہ اچھا ثابت ہوا جو عالمی عدالت چلا گیا، اقوام متحدہ نے قرارداد پاس کی تو اسرائیل نے سیکرٹری جنرل کو اسرائیل آنے سے روک دیا، یہ ساری صورتحال لمحہ فکریہ ہے، ایک کانفرنس،قرارداد،اعلامیہ سے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا حق ادا نہیں کر سکتے، ہم سب مصلحتوں کا شکار ہیں کہیں ایسا، ویسا نہ ہو جائے، ہمیں اس کیفیت سے نکلنا ہو گا،سعودیہ ،ترکیہ، ایران ،مصر کے ساتھ ملکر گروپ بنایا جائے اسلامی ممالک کا، جو اس معاملے کو اٹھائے،

    اعلامیہ سے دو ریاستی حل نکالیں،آزاد فلسطینی ریاست چاہئے، حافظ نعیم کا اے پی سی میں مطالبہ
    حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اے پی سی سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایک سال میں‌85 ہزار ٹن بارود پھینکا ہے، اسی فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، 42 ہزار شہادتیں ہوئی، صحافیوں، ڈاکٹر ،پیرا میڈیکس کی موت ہوئی، ہسپتال تباہ کئے گئے، اسکولوں، مسجدوں، چرچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ انسانیت کے خلاف بدترین عمل ہے جو اسرائیل کر رہا ہے، ہمیں اس پلیٹ فارم سے فلسطین کی آزاد ریاست کا پیغام جانا چاہئے، دو ریاستی حل درست نہیں، ہم اسرائیل کی سٹیٹ کو قابض گروہ سمجھتے ہیں، سٹیٹ سمجھتے ہی نہیں، بانی پاکستان نے بھی یہی کہا تھا،اسرائیل اب خیموں پر حملے کر رہا، فاسفورس بم پھینک رہا ہے، کل ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں ہوں گے، انکی بنیاد دہشت گردی پر ہے، امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا پشت بان ہے، امریکہ اسرائیل کو نقد امدا د دے رہا ہے تو وہیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے، وہی اسلحہ ہمارے بچوں پر ہو رہا انسانیت کی توہین ہو رہی،امریکا نے کتنے لوگوں کا قتل عام کیا، پاکستان کو حماس بارے واضح مؤقف اپنا چاہئے، میرا مطالبہ ہے کہ حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، حماس نے الیکشن جیتا ہے،حماس سیاسی جماعت ہے اسکو اختیار نہیں دیا گیا، وہ الیکشن جیتے ہیں،ہمیں کس بات کا ڈر لگتا ہے، امریکا نے ہمیں ابھی تک دیا کیا ہے؟ ہمیں واضح طور پر ان قوتوں کو جو انسانیت کا نام لے کر قتل کرتے ہیں انکو ایکسپوز کرنا چاہئے، وائیٹ ہاؤس کے باہر احتجاج ہو سکتا ہے ہمیں کہا جاتا ہے ایمبیسی کی طرف نہ جائیں، ان رویوں پر غور کرنا ہو گا.دو ریاستی حل کسی صورت قبول نہیں، صرف فلسطین کی آزاد ریاست کی بات کرنی چاہئے،اتحاد میں ہی ہماری نجات ہے، حسن نصر اللہ، اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل کا میزائل لگا ہے، انہوں نے شیعہ سنی نہیں دیکھا، ہمیں اس تقسیم کو ختم کرنا ہے، سعودی عرب ایران کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں اسرائیل کے حق میں جو آواز ہو گی وہ نہیں ہونی چاہئے، کونسا اسرائیل دو ریاستی حل کو مانتا ہے، اعلامیہ سے دو ریاستی حل والی بات نکالنی چاہئے، اگر آپ کے اوپر کوئی پریشر بھی ہے تو نکال دیں، اگر نہیں نکالتے تو ہمارا مؤقف لکھیں کہ ہمیں فلسطین کی آزاد ریاست چاہئے،دو ریاستی حل کو نہیں مانتے.

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے غزہ کے حوالہ سے منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے انکار کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی ان حالات میں اے پی سی میں شریک نہیں ہو گی،ہمیں فلسطین پر اے پی سی میں شرکت کی دعوت مل گئی تھی، موجودہ حالات میں پارٹی رہنما اور کارکن گرفتار ہیں اور ان حالات میں اے پی سی میں شرکت نہ کرنےکافیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کی عدم شرکت سے انکا دوہرا معیار واضح ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کو فلسطین کے معصوم بچوں سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہمدردیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر رہی.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ شرمناک! تحریک انصاف نے ایک بار پھر اسرائیل نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ غزہ پر حملوں کے خلاف حکومتی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے اپنی حقیقت واضح کر دی۔ پاکستان کے دشمنوں کے یار اب بے نقاب ہو چکے ہیں!

    https://x.com/Ghulam1082345/status/1843244613009854550

    فہمیدہ یوسفی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تحریک انصاف سے کسی قسم کی اچھائی کی امید رکھنا ایسے ہی جیسے آپ شیطان سے کہیں کہ وہ تائب ہوگیا ہے ،پی ٹی آئی نے فلسطین پر حکومت کی منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے متعلق فیصلہ تبدیل کرلیا، بیرسٹر گوہر نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے، اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی مرکزی رہنما اسلام آباد میں موجود نہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے اے پی سی میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب فیصلہ تبدیل کرلیا ہے۔

    https://x.com/fahmidahyousfi/status/1843236281687662889

    واضح رہے کہ عمران خان کی حمایت میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی اخبارات میں مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں.

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کے اسرائیل پر تباہ کن حملے کو ایک سال بیت گیا، اسرائیل نے جوابی کاروائی کی، اسرائیل ایک سال گزرنے کے باوجود حماس سے اپنے یرغمالی رہا نہ کروا سکا، ایک برس کے عرصے میں اسرائیل نے حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا،

    حماس نے سات اکتوبر کو گزشتہ برس اسرائیل پر بڑا حملہ کیا تھا،اس حملے میں 12 سو سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس نے سات اکتوبر کی صبح ساڑھے چھ بجے 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کئے تھے،راکٹ حملوں کے بعد حماس جنگجوؤں نے اسرائیل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ بھی کی تھی، اس روز اسرائیل میں ایک مذہبی تہوار منایاجا رہا تھا، حماس نے اس حملے کے دورا سرائیلیوں کو یرغمال بھی بنایا تھا،حماس نے اس حملے کو فلڈ آف الاقصیٰ کا نام دیا تھا

    حماس کے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیلی حکومت ،فوج ،سیکورٹی ادارے تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ اسرائیل حماس کے حملے سے بے خبر کیوں تھا؟ اسرائیل نے 8 اکتوبر کو حماس کے حملے کا جواب دیتے ہوئے فضائی حملہ کیا،اسرائیل نے آپریشن سورڈز آف آئرن شروع کیا اور غزہ کا مکمل محاصرہ شروع کر دیا اور غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں رہنے والے تقریباً 15 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا،اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی، اسرائیل حملوں کا آج بھی سلسلہ جاری ہے، غزہ میں ایک برس میں قیامت برپا رہی،غزہ کے لوگ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہیں،غزہ کی تقریباً 70 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں،ہسپتالوں، سکولوں کو بھی اسرائیل نے نشانہ بنایا، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں اب تک 42 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 16,765 بچے ہیں، تقریباً 98 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں، 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں ،تل ابیب میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 8,730 زخمی ہو چکے ہیں ، اسرائیلی حملے کے باعث غزہ کی پٹی میں اب تک 80 فیصد تجارتی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ 87 فیصد سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، غزہ کی پٹی میں 144,000 سے 175,000 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، 36 میں سے صرف 17 ہسپتال کام کر رہے ہیں، سڑکوں کا 68 فیصد نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور کھیتی کے لیے موزوں 68 فیصد زمین بنجر ہو چکی ہے،غزہ کی جی ڈی پی میں 81 فیصد کمی آئی ہے۔ 2.01 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں،تقریباً 20 لاکھ لوگ بے گھر ہیں، 85 ہزار فلسطینی مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک برس کے دوران حزب اللہ ، حوثی اور ایرانی حکومت سے بھی پنگا لے لیا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ،حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہوئی،جس کے بعد ایران کی جانب سے حملوں نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ،جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اسرائیل آج بھی مغربی ممالک کی جانب مدد کے لئے دیکھ رہا ہے اور اتنے فلسطینوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل اپنے تمام یرغمالی نہیں رہا کروا پایا ہے،اسرائیل گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں ٹن بم برسانے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کرنے کے باوجود غزہ سے حماس کا وجود ختم نہیں کرسکا اور اسے آج بھی غزہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،غزہ جنگ اب لبنان سے آگے شام، عراق تک پہنچ چکی ہے،ایرانی حملوں کے بعد ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بعد اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی کی کئی کوششیں کیں مگر سب رائیگاں رہیں اور اسرائیل حماس کے وجود کو ختم کیے بغیر مستقل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا،نومبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد 4 روزہ جنگ بندی پر دونوں فریقین نے عالمی ثالثوں کی موجودگی میں اتفاق کیا اور اس دوران دونوں اطراف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا مگر بعد ازاں جنگ دوبارہ شروع ہوگئی،بعد ازاں امریکی صدر جوبائیڈن اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کئی کوششیں کی گئیں اور ایک موقع پر اسرائیل اور حماس دونوں امریکی صدر کی پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز اور اس کے نکات پر آمادہ بھی ہوئے مگر اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے اور مستقل جنگ بندی نہ کرنے کے باعث معاہدہ نہ ہوسکا۔

    حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی

     حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ