Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیلی میڈیا کا  ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے سے متعلق بڑا دعویٰ

    اسرائیلی میڈیا کا ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے سے متعلق بڑا دعویٰ

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ کے دباؤ پر ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات کونشانہ نہیں بنایا ۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل نے 26 اکتوبر کو علی الصبح تہران، شیراز اور کرج پر فضائی حملہ کیا جس میں ایران کے چار فوجی ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے اسرائیل نے پاسداران انقلاب کےکم از کم 3 میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا اسرائیل نےتہران کےقریب امام خمینی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ایس300 ڈیفنس کونشانہ بنایا، اسرائیلی ڈرونز نے تہران کےمضافات میں پارچن ملٹری بیس کوبھی نشانہ بنایا، تہران میں ڈرون فیکٹر ی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ کے دباؤ پر ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات کونشانہ نہیں بنایا ادھر امریکا نے اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد واضح کیا ہے کہ ایران کےجوابی حملےکی صورت میں وہ اسرائیل کے دفاع میں مددکے لیےتیار ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں 100 جنگی طیاروں کےحصہ لینے کا دعویٰ جھوٹا ہے، اسرائیل نے اپنے کمزور حملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اسرائیلی طیارے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوسکے،اس کے علاوہ ایرانی مشن نے امریکا کو ایران پرحملوں کا برابر ذمہ دار قرار دے دیا ایرانی مشن برائے اقوام متحدہ کا دعویٰ ہےکہ اسرائیلی جنگی جہازوں نےعراق میں واقع امریکی فوجی بیس سےپرواز بھریں۔

    اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کے حملوں کے بعد اپنی سرزمین کا دفاع کرنے والے دو فوجی اہلکار جاں بحق جب کہ دو زخمی ہوگئے، تاہم ہفتے کی شب وہ دو زخمی اہلکار بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے، اسرائیل نےتہران،الم اورخوزستان میں ملٹری بیسزکونشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کچھ مقامات پرمعمولی نقصانات ہوئے ہیں-

  • اسرائیل کا لبنان میں  زمینی حملے کے خاتمے کا عندیہ

    اسرائیل کا لبنان میں زمینی حملے کے خاتمے کا عندیہ

    تل ابیب:تباہ کن ناکامی اور نقصان کے بعد اسرائیل نے لبنان میں زمینی حملے کے خاتمے کا عندیہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے بتایا کہ لبنان میں زمینی آپریشن آخری مراحل میں ہے اور توقع ہے کہ ایک ہفتے کے اندر مکمل ہو جائے گی اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر سینئر حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی اپنے آخری مراحل کے قریب ہے، اور ہم ایک یا دو ہفتوں کے اندر زمینی حملہ مکمل کرنے کی توقع رکھتے ہی-

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ’فوج نے جنوبی لبنان میں فرنٹ لائن پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور حزب اللہ کے کئی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔‘

    صیہونی فوج کے ترجمان ڈینیل ہگاری نے 30 ستمبر کو علاقے میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ”محدود اور شدید“ کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ پانچ ڈویژنوں کے دسیوں ہزار فوجیوں نے تین محوروں سے لبنانی سرزمین میں گھسنے کی کوشش کی۔

    اسرائیلی حملے میں ایران کے دو فوجیوں کی موت کی تصدیق

    ان کوششوں کے باوجود، لبنانی حکام نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے کسی بھی علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے،وزیر اعظم نجیب مکاتی نے نوٹ کیا کہ اسرائیلی فوج سرحدی دیہاتوں پر ہٹ اینڈ رن حملے کر رہی ہےحزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے کہا کہ ’دشمن نے کسی گاؤں پر مکمل کنٹرول نہیں کیا ہے، اور فرنٹ لائنز پر کافی مزاحمتی جنگجو موجود ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت عامہ کے مطابق، 7 اکتوبر حملوں کے بعد سے لبنانی جماعت حزب اللہ نے غزہ کی پٹی کے لیے ”سپورٹ فرنٹ“ کھولا ہے، تب سے 2,550 سے زیادہ افراد شہید اور 12,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، دوسری طرف، حزب اللہ نے راکٹوں اور ڈرونز سے اسرائیلی حملوں کا جواب دیا، جس سے مادی اور انسانی جانی نقصان ہوا، حزب اللہ نے اسرائیل کے 70 سے زیادہ فوجی ہلاک کرنے اور درجنوں ٹینکوں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

    اسرائیل کاا یران میں مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملوں کا آپریشن مکمل

    دوسری جانب جنوبی لبنان کے علاقے تفاحتا میں تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوگئے، صیدا کے علاقے تفاحتا میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ابو ریا خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے۔ شہداء میں حسن ابو ریا، رقیہ ابو ریا، محمد ابو ریا، غنا ابو ریا، اور نور ابو ریا شامل ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، جمعہ کے روز اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 19 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے ساتھ ہی گزشتہ سال سے جاری اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے تنازع میں شہادتوں کی تعداد 2,653 ہوگئی ہے۔

    گزشتہ روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج نے ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا، جہاں صحافی قیام پذیر تھے، جس میں 3 صحافیوں کی جانیں گئیں۔

  • اسرائیل کاا یران میں مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملوں کا آپریشن مکمل

    اسرائیل کاا یران میں مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملوں کا آپریشن مکمل

    تل ابیب: اسرائیلی فوج نے ایران میں مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملوں کے آپریشن کی تکمیل کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق گھنٹوں جاری رہنے والے آپریشن کے بعد اسرائیلی جنگی طیارے بحفاظت اپنی ائیر بیسز پر واپس پہنچ گئے ہیں،ایران میں تقریبا 20 اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں میزائل تیار کرنے والی تنصیبات اور زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائلوں اور دیگر فضائی سسٹمز شامل تھے۔

    دوسری جانب ایرانی فضائی دفاع نے اعلان کیا کہ اسرائیل کی جانب سے جنوب مغرب اور مغربی سرحدوں پر فوجی ٹھکانوں پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی، ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایک ایرانی ذرائع نے بتایا کہ ایران ‘متناسب’ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    سعودی عرب،پاکستان کے بعد عمان،قطر کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    جبکہ اسرائیلی ذرائع کے مطابق تہران کے مغرب اور جنوب مغرب میں ان حملوں میں 100 سے زائد طیاروں اور ڈرونز نے حصہ لیا، جس میں بیلسٹک میزائل سائٹس اور فضائی دفاعی بیٹریوں سمیت تقریباً 20 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ایران پر حملے میں F-35 طیاروں نے بھی حصہ لیا۔

    ادھر ایرانی افواج نے اسرائیلی حملوں میں اپنے فوجیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ایرانی میڈیا کے مطابق فوج نے تصدیق کی ہےکہ ہفتے کی علی الصبح اسرائیل نے عسکری سائٹس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو ایرانی فوجی جاں بحق ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی حملوں کے چند گھنٹے بعد ایرانی فوج کی جانب سے مختصر بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کے بعد اپنی سرزمین کا دفاع کرنے والے 4 فوجی اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

    اسرائیلی حملے میں ایران کے دو فوجیوں کی موت کی تصدیق

  • سعودی عرب،پاکستان کے بعد عمان،قطر کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    سعودی عرب،پاکستان کے بعد عمان،قطر کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    سعودی عرب کے بعد قطر اور عمان نے بھی ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، قطر نے ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے علاقائی عدم استحکام سے بچنے کے لیے تحمل اور بات چیت پر زور دیا ہے، قطری وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ریاستِ قطر ایران پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتی ہے، کیونکہ یہ حملے ایران کی سلامتی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ قطر نے اس کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین اثرات پر تشویش کا اظہار کیا اور اپیل کی کہ سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے والے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ قطری وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ اس کشیدگی، خاص طور پر غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت کو ختم کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں۔

    دریں اثناء، عمان کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ حملہ ایران کی سلامتی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    واضح رہے کہ آج صبح اسرائیلی فوجی ترجمان نے بیان دیا کہ اسرائیلی فوج نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی مکمل کر لی۔ اس جوابی کارروائی میں ایران میں طے شدہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ بیرونی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔ اسرائیل نے ایران کو جوابی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مزید جوابی کارروائی کی گئی تو کشیدگی کا ایک نیا باب کھل جائے گا، جو کہ ناقابلِ پیشگوئی ہوگا۔

    ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں نے ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ قطر اور عمان کا مذمت کا بیان اس بات کی نشانی ہے کہ عرب ممالک اس معاملے پر اپنے مؤقف کو مضبوطی سے پیش کر رہے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے فوری مداخلت کی ضرورت ہے تاکہ اس تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ایران کی جانب سے دفاع کا حق مانگنا اور اسرائیل کی دھمکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں، بصورت دیگر صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

    اسرائیلی حملے میں ایران کے دو فوجیوں کی موت کی تصدیق

    ایران پر اسرائیلی حملہ،وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت

    سعودی عرب نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں پروازیں بحال

    جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

  • ایران پر اسرائیلی حملہ،وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت

    ایران پر اسرائیلی حملہ،وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی جارحیت کے اقدامات پر انہیں گہری تشویش ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کے حصول کے لیے ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تحمل سے کام لیں اور مل جل کر مسائل کا حل تلاش کریں۔ ان کے اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف علاقائی تنازعات میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی امن و سلامتی کی کوششوں میں شامل رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    ایران پر اسرائیلی حملہ خودمختاری،علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی،پاکستان کا ردعمل
    دوسری جانب پاکستان نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے،ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملے ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی فوجی حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ حملےعلاقائی امن اور استحکام کے راستے کے لیے نقصان دہ ہیں، حملے پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار خطے میں خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافے کا باعث ہیں، اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل سے مطالبہ ہے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے، اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل خطے میں اسرائیل کی لاپرواہی اور اس کے مجرمانہ رویے کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے،عالمی برادری کو بھی علاقائی امن و سلامتی کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

    دوسری جانب اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی مکمل کر لی ہے،تازہ حملوں میں ایران میں طے شدہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، اسرائیل کو درپیش فوری خطرات کو دور کر دیا گیا ہے، ایران نے ان حملوں کے جواب میں حملے کیے تو جواب دیا جائے گا

    سعودی عرب نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں پروازیں بحال

    جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

  • اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں پروازیں بحال

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں پروازیں بحال

    ایرانی فضائی دفاعی نظام نے تہران، خوزستان، اور ایلام کے صوبوں میں فوجی مقامات پر اسرائیلی حملوں کو کامیابی سے روک دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق، ان کارروائیوں کی بدولت کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جو جاری کشیدگی کے درمیان ایک نمایاں دفاعی کامیابی ہے۔

    مقامی لوگوں نے تہران کے نواح میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ اقدامات اسرائیلی ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں اٹھائے گئے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک ذریعہ نے کہا، "ہمارے فضائی دفاعی دستے دشمنانہ اہداف کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے، اور کوئی اہم تنصیبات متاثر نہیں ہوئیں۔”

    سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران کے آس پاس آسمان میں روشنی پھیل گئی جب میزائلوں نے آنے والی دھمکیوں کو روکا۔احتیاط کے طور پر، ایران نے مہرباد اور امام خمینی ایئرپورٹ سے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی تھیں، جن کی بحالی صبح 9:00 بجے مقامی وقت پر ہوئی، جیسا کہ سول ایوی ایشن تنظیم کے ترجمان جعفر یزرلو نے تصدیق کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے بعد سخت حفاظتی پروٹوکولز موجود ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو انہوں نے ایرانی میزائل خطرات کے خلاف خود دفاع کے طور پر بیان کیا ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور کوئی نقصان نہیں ہوا،اسلامی جمہوریہ کسی بھی غیر ملکی خطرات کے خلاف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے چوکس اور پُرعزم ہے۔

    جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

  • جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی ‘جارحیت’ کا مقابلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    رات گئے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے،امریکی ساختہ F35 جہازوں سے بعض ایرانی فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے،ایران نےکئی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے،اسرائیل نے یکم اکتوبر کے ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد 26 اکتوبر کی صبح تہران، شیراز اور کرج پر فضائی حملہ کیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ تہران اور اس کے قریبی شہر کرج میں 5 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کو متناسب جواب کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ایران کسی بھی ‘جارحیت’ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ تہران کے قریب 3 مختلف مقامات پر حملوں کو ناکام بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام استعمال کیا گیا۔

    دوسری جانب، ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاسداران انقلاب کا کوئی دفتر نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام ہوائی اڈوں پر صورتحال معمول کے مطابق ہے، تاہم ایران نے اگلے نوٹس تک اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    علاوہ ازیں ایران نے اسرائیلی میزائل حملے ناکام بنانے کی ویڈیو جاری کی ہے،اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ائیر پورٹ سمیت شیراز اور کرج شہر میں فضائی حملے کیے ہیں، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی مکمل کرلی ہے، ایران میں طے شدہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور اسرائیل کو درپیش فوری خطرات کو دور کر دیا گیا، ایران نے ان حملوں کے جواب میں حملے کیے تو جواب دیا جائے گا۔

  • اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    اسرائیل نے یکم اکتوبر کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں ایرانی دارالحکومت تہران، شیراز اور کرج پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے تہران میں متعدد دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جہاں تہران اور قریبی شہر کرج میں پانچ دھماکوں کی آوازیں سنائی گئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ دھماکے پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کے قریب ہوئے۔ اسرائیلی حملوں کے بعد کئی مقامات پر آگ لگنے کی بھی اطلاعات ہیں، اور ایک عمارت میں آگ لگنے کی خبر ہے، حالانکہ تہران کے فائر بریگیڈ نے وضاحت کی ہے کہ اس عمارت کا وزارت دفاع سے کوئی تعلق نہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایک اہم سیکیورٹی عمارت میں دھماکے ہوئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا کہ اس عمارت سے دس سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ کرج وہ شہر ہے جہاں ایران کے نیوکلیئر پاور پلانٹس واقع ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔اسرائیل نے حملے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو آگاہ کر دیا تھا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس کے مطابق، اس فضائی حملے میں کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور خطے میں اس کی پراکسیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دمشق کے مختلف علاقوں اور عراق کے شہر تکریت میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں، اور اس وقت دونوں ممالک کی فضاؤں میں کوئی طیارہ موجود نہیں تھا۔

    ایرانی انٹیلی جنس حکام نے بتایا ہے کہ دھماکوں کی وجہ ممکنہ طور پر ایران کے فضائی دفاعی نظام کا فعال ہونا ہو سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کا کوئی دفتر نشانہ نہیں بنایا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق، تہران ایئرپورٹ کے قریب بھی دھماکے ہوئے، اور ان دھماکوں کی اطلاعات پر ایرانی فضائی حدود سے پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اپنے دفاع کی مشق ہیں، اور صدر بائیڈن کو اس کارروائی سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا۔ قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے وضاحت کی کہ اس حملے کا مقصد اسرائیل کی جانب سے اپنے دفاع کو مضبوط کرنا ہے، اور یہ یکم اکتوبر کو ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب ہے۔

    یہ صورتحال خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ کس طرح یہ تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔

  • اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے انکشاف کیا ہے کہ الجزیرہ کے چھ صحافی حماس اور فلسطین اسلامی جہاد کے ساتھ کام کرتے ہیں

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے چھ صحافی حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے رکن ہیں۔ غزہ سے ملنے والی انٹیلی جنس معلومات اور متعدد دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ 6 صحافیوں کا غزہ کے عسکری گروپوں سے تعلق ہے،اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو ملنے والی دستاویزات میں دہشت گردی کے تربیتی کورسز کی فہرستیں، فون ڈائریکٹریز، اور دہشت گردوں کے لیے تنخواہ کے دستاویزات” شامل ہیں۔ دستاویزات "غیر واضح طور پر ثابت” کرتی ہیں کہ صحافی حماس اور اسلامی جہاد کے متعلقہ عسکری ونگز کے ارکان کے طور پر کام کرتے تھے۔ جن صحافیوں کو آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کارندوں کے طور پر ظاہر کیا ہے، وہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق الجزیرہ میں خاص طور پر شمالی غزہ میں حماس کے لیے پروپیگنڈے کی سربراہی کرتے ہیں۔چھ صحافیوں کی شناخت انس جمال محمود الشریف، علاء عبدالعزیز محمد سلامہ، حسام باسل عبدالکریم شباط، اشرف سمیع احسور سراج، اسماعیل فرید محمد ابو عمرو اور طلال محمود عبدالرحمن اروکی کے نام سے ہوئی ہے۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق انس الشریف ایک راکٹ لانچنگ اسکواڈ کا سربراہ اور حماس کی نصرت بٹالین میں نخبہ فورس کمپنی کا رکن تھا۔ علاء سلامہ شبورہ بٹالین کے اسلامی جہاد کے پروپیگنڈہ یونٹ کے نائب سربراہ تھے۔ شبات حماس کی بیت حنون بٹالین میں ایک سنائپر تھا، اشرف سراج اسلامی جہاد کی بوریج بٹالین کا رکن تھا۔ ابو عمرو مشرقی خان یونس بٹالین میں ٹریننگ کمپنی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اور عبدالرحمن اروکی حماس کی نصرت بٹالین میں ٹیم کمانڈر تھے۔اسماعیل ابو عمرو رواں سال فروری میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت الجزیرہ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس کے عسکری گروپوں سے روابط ہیں۔

    اس سال مئی میں بنجمن نیتن یاہو حکومت نے حماس کے حامی پروپیگنڈے پر اسرائیل میں الجزیرہ چینل کی نشریات کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے رام اللہ میں الجزیرہ بیورو کو بھی بند کر دیا تھا۔

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو