Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں  اسرائیلی شہری  گرفتار

    ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی شہری گرفتار

    تل ابیب: اسرائیلی حکام نے ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں ایک اسرائیلی شہری کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی پولیس اور ریاستی اٹارنی کے دفتر نے بدھ کو اعلان کیا کہ ایک 35 سالہ اسرائیلی شخص پر ایران کے حکم پر اسرائیلی شخصیات کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی۔

    وسطی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ولادیمیر ورہووسکی پر ایک غیر ملکی ایجنٹ کے ساتھ رابطے، ہتھیار لے جانے اور دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا،گرفتار اسرائیلی شہری ولادیمیر ویرہوسکی نے ایران کیلئے جاسوسی اور رقم وصول کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔

    فرد جرم کے مطابق، ہووسکی نے اگست 2024 میں کسی وقت ایرانی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے کام کرنے والے ایک ادارے سے رابطہ کیا، جس نے اپنے آپ کو کینیڈا میں رہنے والے ایک اسرائیلی شہری کے طور پر پیش کیا اور خود کو "ایلی” کہا۔

    اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ ولادیمیر نے ایک لاکھ ڈالر میں اسرائیلی سائنسدان کو قتل کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی اسرائیلی حکام یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی اسرائیلیوں کو جاسوسی کیلئے بھرتی کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے ایرانی نیٹورک اسرائیلی شہریوں کو جاسوسی کیلئے بھرتی کرنے کا کام کرتا تھا گرفتاری سے ایرانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا انفرااسٹرکچر بے نقاب ہوگیا ہے۔

  • ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں

    ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں

    پاسداران انقلاب کے سابق سیکرٹری ابراہیم رُستمی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : روسی خبرایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے سابق سیکرٹری ابراہیم رُستمی نے اس دعویٰ کی تفصیل نہیں بتائی، دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم ایران کے اسرائیل پر حملوں کا جواب دینے کیلئے اپنی کارروائی کے دوران نشانہ بنانے کیلئے ایرانی اہداف کی منظوری دیدی ہے-

    امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے براہ راست میزائل حملوں کے جواب میں اسرائیلی کارروائی کیلئے ایرانی اہداف کی منظوری دیدی ہے ذرائع نے اہداف کی تفصیلات فراہم نہیں کیں نہ ہی یہ بات واضح کی گئی کہ اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنائے گا یا نہیں متوقع اسرائیلی کارروائی کے آغاز کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔

    ڈسکہ: انجمن خدمت خلق کا 747واں اجلاس، انتظامیہ سے امن و امان قائم کرنے کا …

    سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کیلئے مشرق وسطی میں تاریخی صورتحال آچکی ہے جس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے 39 اراکین نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ یہودی ریاست کی دھمکیوں کے تناظر میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری کی اجازت دی جائے۔

    ایران کی ڈیفنس ڈاکٹرائن سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے فتویٰ کے تحت ہے جس کے تحت نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری کی ممانعت ہے۔

    واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو اصفہان، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے ایران نے اسرائیل کی جانب براہ راست 400 بیلسٹک میزائل فائر کردیے تھے جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے تھے۔

    اوچ شریف: استاد قمر عباس خان کی ریٹائرمنٹ پر پروقار الوداعی تقریب

    بعد ازاں ایرانی میزائل حملوں کے ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کے میزائل حملے جارحانہ تھے لیکن نشانہ درست نہ ہونے سے ناکام ہوئے، ہمارے جوابی حملے ایسے ہوں گے کہ ان کو سمجھ نہیں آئے گا کہ کیا اور کیسے ہوا وہ بس حملوں کے نتائج دیکھیں گے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی میزائل کچھ اسرائیلی فضائی اڈوں پر گرے ہیں، میزائل گرنے کے نتیجے میں فضائی اڈوں کی انتظامی عمارتوں اور جہازوں کی مرمت کی جگہوں کو نقصان پہنچا ہےایران کی جانب سے فائر کیے گئے زیادہ تر میزائلوں کو امریکا کی مدد سے ناکام بنا دیا، کچھ میزائل زمین پر گرے تاہم ان میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اوچ شریف: میونسپل انتظامیہ کا تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری

  • 30  دن میں غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں اضافہ کیا جائے  ورنہ؟امریکا کی اسرائیل کو وارننگ

    30 دن میں غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں اضافہ کیا جائے ورنہ؟امریکا کی اسرائیل کو وارننگ

    واشنگٹن:امریکا کی جانب سے اسرائیل کو خط لکھ آگاہ کیا گیا ہے کہ 30 روز کے اندر غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں اضافہ کیا جائے بصورت دیگر اسے امریکی فوجی مدد میں کٹوتی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکا کی جانب سے لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا کو غزہ میں بدتر ہوتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش ہے کیونکہ گزشتہ ماہ اسرائیل نے شمالی اور جنوبی غزہ میں 90 فیصد سے زائد انسانی امداد کی نقل و حرکت کو روک دیا تھا یا اسے محدود کردیا تھا۔

    اسرائیلی حکام کی جانب سے خط پر ردعمل میں کہا گیا کہ امریکا کی جانب سے موصول ہونے والے خط کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور امریکی حکام سے اٹھائے گئے خدشات پر بات چیت کی جائے گی۔

    امریکا کی جانب سے اسرائیل کو سخت وارننگ پر مبنی یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ میں ایک نئی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے اور اس کارروائی کے دوران بھی بڑی تعداد میں معصوم فلسطینی شہریوں کی شہادتیں ہوئی ہیں۔

    دوسرا ٹیسٹ؛ پاکستان کی انگلینڈ کیخلاف 8 وکٹیں گر گئیں

    امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وزیرخارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اتوار کو اسرائیل کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں غزہ تک انسانی امداد کی سطح پر واشنگٹن کے خدشات کو واضح کیا گیا ہے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ دونوں وزراء نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ اسے ایڈجسٹمنٹ کرنا ہوگی تاکہ واشنگٹن ایک بار پھر غزہ میں داخل ہوتا دیکھے جوتقریبا اس وقت بند ہوچکی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ دونوں وزراء نے تل ابیب سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اقدامات کرے اور غزہ میں انسانی صورت حال میں تبدیلیاں لائےامداد کے حوالے سے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن کی خبروں کے گردش کرنےکے بعد انہوں نے تل ابیب پر زور دیا کہ وہ 30 دن کا انتظار نہ کریں۔

    سکھ رہنما قتل کیس:امریکا کا بھارت کو کینیڈا کے الزامات کو سنجیدگی سے لینے کا …

    دونوں وزرا کے خط میں فارن اسسٹنس ایکٹ کے سیکشن 620-I کا حوالہ دیا گیا جو امریکی انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے ممالک کو فوجی امداد بھیجنے پر پابندی کی سفارش کرتا ہے۔

    اس خط میں فروری میں امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے جاری کردہ قومی سلامتی کی یادداشت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جو محکمہ خارجہ کو کانگریس کو ایک رپورٹ پیش کرنے کا پابند کرتا ہے کہ آیا اسے اسرائیل کے اس دعوے میں اعتبار ہے کہ امریکی ہتھیاروں کے استعمال میں امریکی یا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی گئی

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے نئی کارروائی کے آغاز سے غزہ میں کوئی انسانی امداد نہیں پہنچی، وہاں موجود 4 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کیلئے کی اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

    ایک مرتبہ پھر بھارتی مسافر طیارے کو بم سے اڑانے کی دھمکی، کینیڈا میں ہنگامی …

  • اسرائیل میں مسلح شخص کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک،4 شہری شدید زخمی

    اسرائیل میں مسلح شخص کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک،4 شہری شدید زخمی

    تل ابیب: اسرائیل میں مسلح شخص کی فائرنگ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور 4 شہری شدید زخمی ہوگئے-

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق اشدود کے قریب مرکزی ہائی وے پر مسلح پیدل شخص نے پیٹرولنگ پر مامور پولیس گاڑی پر گولیاں برسادیں نامعلوم حملہ آور نے آس پاس سے گزرنے والی دیگر گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا، اس دوران ایک کارسوار نے حملہ آور پر جوابی فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا۔

    اس واقعے میں پولیس اہلکار سمیت مجموعی طور پر 5 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا دوران علاج پولیس اہلکار زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا جب کہ دیگر 3 کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے،جبکہ حملہ آور کی لاش کو شناخت کے لیے فرانزک لیب بھیج دیا گیا جو حلیے سے عرب شہری لگتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری اور فلسطینی نسل کشی کے باعث اسرائیل میں ہی عرب باشندوں کے انفرادی حملوں میں اضافہ ہوا ہےان حملوں میں اب تک درجن سے زائد یہودی ہلاک ہوچکے ہیں اور 50 کے قریب زخمی ہیں۔

  • ایرانی حملے میں اسرائیل کو کتنا مالی نقصان پہنچا؟اسرائیلی میڈیا نے رازفاش کر دیا

    ایرانی حملے میں اسرائیل کو کتنا مالی نقصان پہنچا؟اسرائیلی میڈیا نے رازفاش کر دیا

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ یکم اکتوبر کو ہونے والے ایرانی حملے میں اسرائیل کو بے پناہ مالی نقصان پہنچا ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق نقصانات کے حوالے سے لگ بھگ 2500 اسرائیلیوں نے انشورنس کے دعوے جمع کرائے ہیں جس سے اسرائیل کے نقصانات کاابتدائی تخمینہ لگایا جاسکتا ہے، اسرائیلی تجارتی مرکز تل ابیب میں 2500 گھروں کو نقصان پہنچا اور ایرانی حملے میں اسرائیل میں گھروں کو 53 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں اسرائیل کے 2 فوجی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا، اسرائیلی فضائیہ کے تیل نوف اور نیو اتم مراکز کے نقصانات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں ایرانی حملہ ایک سال پہلےجنگ کے آغازکے بعد سے سب سے مہنگا حملہ ہے،ایرانی میزائل روکنےکے بعدملبہ گرنےکے نقصانات کا بھی تخمینہ ابھی جاری نہیں ہوسکا۔

    جبالیہ میں حماس کا اسرائیلی قافلے پر حملہ، کئی اسرائیلی فوجی ہلاک

    واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو ایران نے اسماعیل ہنیہ اور حسن نصراللہ کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر سینکڑوں میزائل فائر کیے تھے جس میں اسرائیلی املاک کو واضح طور پر نقصان پہنچا تھا،ایران کی جانب سے 400 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے گئے تھےایران نے اسرائیل کی جانب 400 بیلسٹک میزائل اصفہانا، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے فائر کیے جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے تھے۔

    حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے؟

  • حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے؟

    حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے؟

    اسرائیل پر لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے حملوں میں تیزی آگئی ہے ،جبکہ ریڈیو فری یورپ کی فارسی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کی طرف میزائل حملے کیے جس سے لاکھوں اسرائیلی شیلٹرز میں چلے گئے جب کہ خطرے کے پیش نظر تل ابیب کا بین گورین ائیرپورٹ بند کردیا گیا۔

    حزب اللہ نے اسرائیلی قصبے کامیئل پر راکٹوں سے حملے کیے جس کے نتیجے میں کئی اسرائیلی زخمی ہوگئے جبکہ حزب اللہ نے لبنانی قصبے عیتا الشعب میں بھی اسرائیلی فوج پر گائیڈڈ میزائلوں سے حملے کیے جس میں بھی کئی فوجی مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ادھر اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کا میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ شمالی اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے میڈیا دفتر پر بمباری کی گئی جس دوران 21 افراد شہیدہوگئے۔

    شہر جہاں ہر دوسری عورت جڑواں بچے پیدا کرتی ہے

    دوسری جانب "العربیہ” کے مطابق ریڈیو فری یورپ کی فارسی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے،ریڈیو کے عسکری امور کے نمائندے ڈورون کدوش نے فوجی ذرائع کی بنیاد پر پیر کے روز اپنی رپورٹ میں اشارہ کیا کہ حزب اللہ کے حالیہ ڈرون حملوں کی درستی کی ایک وجہ وہ تکنیکی مدد ہے جو حزب اللہ کو اسرائیلی فضائی حدود کا احاطہ کرنے والی براہ راست ایرانی سیٹلائٹ تصاویر سے حاصل ہوتی ہے۔

    اسرائیلی ریسرچ فاؤنڈیشن ’’ الما‘‘ جو حزب اللہ کے امور میں مہارت رکھتی ہے، نے وضاحت کی ہے کہ حزب اللہ نے اتوار کی شام اسرائیل پر حملے میں جو "مرصاد-1” ڈرون استعمال کیا تھا وہ ایرانی ’’ مہاجر 2‘‘ کے ماڈل پر تیار کیا گیا تھا۔

    ایس سی او کانفرنس:ٹریفک پلان جاری

    قبل ازیں اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا تھا کہ حزب اللہ کی طرف سے اتوار کو ایک فوجی تربیتی اڈے پر ڈرون سے کیا گیا حملہ "مشکل اور تکلیف دہ” تھا۔

  • حملے کا ہدف اور نشانہ ایرانی فوج کو بنایا جاسکتا ہے،امریکی اخبار کا دعویٰ

    حملے کا ہدف اور نشانہ ایرانی فوج کو بنایا جاسکتا ہے،امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ” نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل ، ایران کی جوہری یا تیل کی تنصیبات پر نہیں بلکہ عسکری اہداف پر حملے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی :واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکا سے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کی جوہری یا تیل اہداف پر حملہ نہیں کرے گا حملے کا ہدف اور نشانہ ایرانی فوج کو بنایا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے اسرائیل منصوبہ بندی کررہا ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں معاملے سے واقف 2 اہلکاروں کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کا ہدف ایران کی جوہری یا تیل تنصیبات نہیں ہوں گی،اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملہ 5 نومبر کو امریکا میں صدارتی انتخابات سے قبل کیا جائے گا۔

    مریکی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اندر اپنے ممکنہ اہداف کا تعین کر لیا ہے۔ غالب گمان کے مطابق ان میں فوجی اور توانائی کے مقامات شامل ہیں۔

    بابا صدیقی کے قتل کے بعد سلمان خان کی سیکیورٹی مزید سخت

    دوسری جانب تہران یہ دھمکی دے چکا ہے کہ آئندہ کسی بھی اسرائیلی حملے کا رد عمل یکم اکتوبر کے میزائل حملے سے زیادہ بھرپور ہو گا ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہےاس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری مقامات پر اسرائیلی حملے کی حمایت نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا گیا تھا اور 400 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے گئے تھےایران نے اسرائیل کی جانب 400 بیلسٹک میزائل اصفہانا، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے فائر کیے جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے تھے۔

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک بار پھر توسیع

    دوسری جانب سرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز جاری ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ اسرائیل، امریکا کی بات سن رہا ہے مگر وہ قومی مفاد کی بنیاد پر اپنے فیصلے خود کرے گا۔

    اس مختصر بیان کے سامنے آنے سے قبل امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے ایران کے یکم اکتوبر کے حملے کا رد عمل ایران کے اندر فوجی اہداف تک محدود رہے گا جن میں جوہری یا تیل کی تنصیبات شامل نہیں ہوں گی۔ یہ بات امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ” نے بتائی۔

    شہر جہاں ہر دوسری عورت جڑواں بچے پیدا کرتی ہے

    ادھر نیتن یاہو کے ایک قریبی اسرائیلی ذمے دار نے انکشاف کیا ہے کہ آخر الذکر اسرائیل کے آئندہ حملے کے حوالے سے امریکی ذمے داران کے ساتھ مشاورت جاری رکھیں گے مگر وہ واشنگٹن کی جانب سے گرین سگنل کا انتظار ہر گز نہیں کریں گے۔

  • غزہ میں اسرائیلی فوج کے مظالم پر دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری

    غزہ میں اسرائیلی فوج کے مظالم پر دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری

    غزہ میں ہونے والے اسرائیلی فوج کے مظالم پر دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جبکہ گلاسگو اور آئرلینڈ میں مظاہرین نے اسرائیل کے لیے فنڈنگ اور ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ بھی کیاادھر فرانس میں فلسطینیوں اور لبنانیوں سے اظہار یکجہتی کی گئی، پیرس میں سیکڑوں افراد غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکلے جبکہ سوئیڈن میں بھی فلسطین اور لبنان میں اسرائیل کے حملے رُکوانے کے لیے احتجاج کیا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں بھی ہزاروں افراد نے نیتن یاہو حکومت کےخلاف احتجاجی ریلی نکالی اور مظاہرین نے حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے فوری طور پر غزہ جنگ بندی معاہدہ کرنےکا مطالبہ بھی کیا۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے غزہ اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں اب تک 43 ہزار سے زائد افراد شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • غزہ: اسرائیلی فوج نے جبالیا کیمپ میں کئی مکانات کو بم لگا کر اڑا دیا

    غزہ: اسرائیلی فوج نے جبالیا کیمپ میں کئی مکانات کو بم لگا کر اڑا دیا

    غزہ: اسرائیلی فوج نے غزہ کے جبالیا کیمپ میں کئی مکانات کو بم لگا کر اڑا دیا۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی فوج کا جبالیا کیمپ کا محاصرہ جاری ہے اور صیہونی فورسز نے ایک ہفتے میں 200 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے جبکہ ہزاروں فلسطینی محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔دوسری جانب حماس نے اسرائیلی فوج پر وار کیے جس سے کئی اسرائیلی فوجی ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے مہاجرین (انروا) کے ہیڈکوارٹر کی اراضی ضبط کرنے کے فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کو فلسطینی اراضی کا سرقہ قرار دیا ہے۔

    سعودی عرب کی طرف سے بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی غیر منظم اسرائیلی خلاف ورزیوں، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور امدادی تنظیموں کو منظم سیاسی اور فوجی انتقام کا نشانہ بنانے اور اس کے کارکنوں کی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈالنے کی بھی شدید نذمت کی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انروا‘ ایک انسانی ہمدردی کا ادارہ ہے جس کا مشن فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنا ہے۔ سعودی عرب ’انروا‘ کے خلاف اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کو انسانی مشن کے خلاف اقدام کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

    ادھر اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان پر بھی شدید بمباری کی، باطیہ قصبے کے بازار کو نشانہ بنایا، لبنان میں اسرائیلی فوج نے 23 علاقوں سے شہریوں کو انخلا کا حکم دیا ہے،لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 78 افراد جاں بحق ہوگئے، حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے اور حیفا شہر میں فوجی اڈے کو نشانہ بنایا اسرائیلی فوج نے زیادہ تر راکٹ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے –

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایران اور اسرائیل کے درمیان باقائدہ جنگ کا خطرہ موجود ہے اور امریکا نے جنگ کی صورت میں اسرائیل کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ اور حسن نصراللہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے دو ہفتے قبل ہونے والے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں اب اسرائیل حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے جواب میں مزید ایرانی حملوں کے دفاع کی بھی تیاری کا جائزہ لے رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران نے بھی کسی ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی حملے کا پلان بنا رکھا ہے اور اسی جوابی حملے سے اسرائیل کو بچانے اور اس کے دفاع کے لیے امریکا نے اسرائیل کو اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم دینے کا فیصلہ کیا ہے جو ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس” (THAAD) کہلاتا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق امریکا تھاڈ اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم اسرائیل میں نصب کرے گا جو 150 سے 200 کلومیٹر کی رینج میں آنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • ایران پر کسی بھی وقت بڑے اسرائیلی حملے کا خطرہ

    ایران پر کسی بھی وقت بڑے اسرائیلی حملے کا خطرہ

    تہران: ایران پر کسی بھی وقت بڑے اسرائیلی حملے کا خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق ایران پر کسی بھی وقت بڑے اسرائیلی حملے کا خطرہ ہے، اس کے جواب میں ایران کی طرف سے بھی بھرپور حملوں کا امکان ہے۔

    امریکا نے اسرائیل کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر ایرانی حملے میں اسرائیل کا فضائی دفاع کا نظام آئرن ڈوم بہت حد تک ناکام ہوگیا تھااب امریکا نے زمین سے فضا میں میزائل مار گرانے کا سسٹم بھی اسرائیل پہنچادیا ہے امریکا نے اپنے حلیف کو میزائل بیٹری بھی فراہم کی ہے امریکا کی طرف سے فراہم کی جانے والی اینٹی میزائل بیٹریز کو اسرائیل میں مختلف مقامات پر نصب کیا جائے گا یہ بیٹریاں ایران کے میزائل مار گرانے میں کلیدی کردار کی حامل ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسرائیلی ہلکار نےکہا کہ ایران کے جواب پر امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری ہےردعمل پر حکومت کا ووٹ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے ووٹنگ کے عمل میں ملاقات کی ضرورت نہیں ہے اور یہ فون پر ہو سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے تہران پر حملہ کیا تو اسے مضبوط جواب دیا جائے گا ایران کسی بھی اسرائیلی اقدام کا سخت جواب دے گا انہوں نے اطالوی چینل Tg3 کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ ہر عمل کے لیے ایک ردعمل ہوتا ہے، یہ فزکس کا قانون ہے”۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک "جنگ سے نہیں ڈرتا لیکن وہ جنگ میں پہل نہیں کرے گایورپ خطے میں کشیدگی کو روکنے میں مزید فعال کردار ادا کرے گا۔

    عراقچی کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ ایرانی حکام نے گذشتہ چند دنوں کے دوران اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ کسی بھی اسرائیلی حملے کا ایرانی ردعمل یکم اکتوبر کے حملے سے زیادہ سخت ہوگا۔