Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • امریکا کااسرائیل اور لبنان  کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار

    امریکا کااسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار

    واشنگٹن:امریکا نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ اسرائیل پر واضح کرچکے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ کسی بھی طرح اسرائیل کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے اسرائیلی وزیراعظم کہتے ہیں کہ شمالی اسرائیلی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کی واپسی تک آپریشن جاری رہے گا تاہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو جن لوگوں کو واپس ان علاقوں میں لانا چاہتے ہیں کشیدگی میں اضافہ ان کے حق میں بھی بہتر نہیں ہو سکتا۔

    کربی نے کہا لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی صورتحال چند روز قبل کے مقابلے میں اس وقت بہت ہی خراب ہو چکی ہے، لیکن ہمیں اب بھی یقین ہے کہ اس صورتحال کے باوجود بھی مسائل کے سفارتی حل کیلئے وقت اور مواقع ضرور موجود ہوں گے اور ہم اسی پر کام کر رہے ہیں، اسرائیل سمیت خطے میں تنازعے اور کشیدگی میں اضافے کیلئے کوشاں ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جمعے کے روز بیروت پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ اس سے قبل کمیونیکیشن ڈیوائسز میں دھماکوں کے نتیجے میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے اراکین سمیت 39 سویلینز جاں بحق جبکہ 4 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

  • اسرائیلی فوج کا الجزیرہ ٹی وی کے دفتر پر دھاوا، 45 روز کیلئے بندکرنےکا حکم

    اسرائیلی فوج کا الجزیرہ ٹی وی کے دفتر پر دھاوا، 45 روز کیلئے بندکرنےکا حکم

    رام اللہ: اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں قطر کے الجزیرہ ٹی وی کے بیورو آفس پر دھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی : اتوار کی صبح الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے رام اللہ میں قطر کے الجزیرہ ٹی وی کے بیورو آفس پر دھاوا بولا،اسرائیلی فوج کی جانب سے زبردستی چینل کے بیوروکو 45 روز کے لئے بندکرنے کاحکم دیا گیا ہے۔

    الجزیرہ ٹی وی کی نشریات میں خلل ڈالنے سے قبل ٹی وی نے اسرائیلی فوج کی جانب سے چینل کے دفتر پر دھاوا بولنے اور ملٹری آرڈرز ٹی وی کے ایک ورکر کو تھمانے کی فوٹیج لائیو نشر کی تھی کارروائی سے کچھ دیر پہلے ٹی وی کو القسام بریگیڈ کی جانب سے ویڈیو موصول ہوئی تھی، اسرائیلی فوجی ڈرون کی ویڈیو میں غزہ میں خلاف ورزیوں کے شواہد ہیں۔

    اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

    اس سے قبل مئی میں اسرائیلی حکام نے یروشلم ہوٹل کے ایک کمرے پر چھاپہ مارا جو الجزیرہ اپنے دفتر کے طور پر استعمال کرتا تھا، یہ اس وقت ہوا جب حکومت نے الجزیرہ سٹیشن کے مقامی آپریشنز کو یہ کہتے ہوئے بند کرنے کا فیصلہ کیا کہ اس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    افغان طالبان کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود رابطے ضروری ہیں،منیر اکرم

  • اسرائیل لبنان کشیدگی،امریکا کا اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کاحکم

    اسرائیل لبنان کشیدگی،امریکا کا اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کاحکم

    لبنان: اسرائیل نے ہفتے کے روز لبنان میں 290 کے اہداف پر 400 سے زائد حملے کیے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ہفتے کے روز لبنان میں 290 کے اہداف پر 400 سے زائد حملے کیے، جس کے جواب میں حزب اللہ کی جانب سے 90 راکٹ داغے گئے، ادھر اسرائیل نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے حیفہ اور دیگر شمالی علاقوں پر آئندہ چوبیس گھنٹے میں بڑا جوابی حملہ متوقع ہے، جس کے لیے اسرائیل نے اپنے شہریوں کو چوکس رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    لبنان اسرائیل کشیدگی کے پیشِ نظر امریکا نے اپنے شہریوں کو لبنان فوری طور پر چھوڑنے کا مشورہ دے دیا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں کشیدگی کی وجہ سے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے وہ فوری طور پر لبنان چھوڑ دیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ کوائن جاری کردئیے

    اس سے قبل اسرائیل نے لبنان پر 2 بڑے حملے کیے تھے جس میں حزب اللہ کی رضوان فورس کے سربراہ ابراہیم عقیل اور دیگر 16 کمانڈروں سمیت 37 افراد شہید ہوئے تھے۔

    ژوب میں انسداد دہشت گردی فورس کی گاڑی پرحملہ،ایک اہلکار شہید جبکہ تین زخمی

  • اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

    اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

    غزہ:اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزینوں کے سکول پر فضائی حملہ، 22 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 30 فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں، شہدا میں 13 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں الزیتون سکول کو بھی نشانہ بنایا، حملے میں 30 افراد زخمی ہوئے، فلسطین وزارت صحت کے مطابق ہفتے کو غزہ میں الزیتون کے علاقے میں پناہ گزین سکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 22 افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں،جنگ کے دوران یہ سکول بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد یہاں بے گھر افراد نے پناہ لی تھی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک اور عینی شاہد احمد عظام نے کہا کہ میں نے اسکول میں کسی بھی مرد کو زخمی نہیں دیکھا تھا۔ شہید اور زخمی ہونے والے بچے تھے یا پھر خواتین۔ احمد عظام نے کہا کہ ہم مر رہے ہیں مگر ہمارے اسلامی پڑوسی صرف تماشا دیکھ رہے ہیں وہ اپنی زندگی میں مست ہیں اور اسرائیل سے پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنے کے لیے مسلم دنیا میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہا۔

    ژوب میں انسداد دہشت گردی فورس کی گاڑی پرحملہ،ایک اہلکار شہید جبکہ تین زخمی

    واضح رہے اسرائیلی دہشت گردانہ حملوں میں غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 41 ہزار 391 ہوگئی ہے جبکہ 95 ہزار 790 فلسطینی زخمی ہیں،جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے-

    ایم کیو ایم ،سنی تحریک کا شہر قائد کی بہتری کیلئے مل کر چلنے پر …

  • لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی طرف سے عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا جس کو پڑھنے کیلئے آن کرتے ہی پیجرز دھماکے ساتھ پھٹ گئے

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان میں الیکٹرانک آلات کے ذریعے حزب اللہ پر حملے کو آپریشن لبنان کا نام دیا گیا ہے اور اسکے لئے ڈیڑھ برس سے تیاری جاری تھی،آپریشن لبنان کے لئے اسرائیل کے 12 موجودہ اور سابق دفاعی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو حملے کے حوالہ سے بریفنگ دی گئی تھی یہ آپریشن لبنان پیچیدہ اور طویل عمل تھا جس کے لئے مناسب وقت کا انتظار کیا گیا،اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن باتھ نے پانچ ہزار پیجرز کے اندر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، حزب اللہ نے 6 ماہ پہلے بوڈاپسٹ سے درآمد کیا تھا،امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائس کے دھماکوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے، اسرائیل نے ایک جعلی کمپنی قائم کی جس نے وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز کی بین الاقوامی صنعت کار ہونے کا روپ دھارا، بوڈاپیسٹ میں قائم بی ای سی کنسلٹنگ اسرائیلی محاذ کا حصہ تھی، اس آپریشن میں شامل اسرائیلی انٹیلی جنس کے ارکان کی شناخت چھپانے کے لیے کم از کم دو اضافی کمپنیاں قائم کی گئی تھیں۔

    لبنان کےانٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے قیام کے سال 2021سے لے کر اب تک عام گاہکوں کے لئے بھی عام پیجرز تیار کئے اور انہیں فروخت کیا،2022 میں پیجرز کو کم تعداد میں لبنان بھیجا گیا اور اس کے بعد آرڈرز میں اضافہ ہوا ،پیجر مینوفیکچرنگ سپلائی چین کے ساتھ کام کرنے والوں نے پانچ ہزار سے زیادہ پیجرز کے اندر ایک سے دو گرام دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، اس کے بعد اسرائیلی ٹروجن ہارسز لبنان کو برآمد کیے گئے تھے ،ان پیجرز کو فعال کرنے کے احکامات منگل کو دئے گئے، اور اس کے لئے پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا تھا جس کو دیکھنے کے لئے کھولتے ہی دھماکہ ہو گیا

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان دھماکوں میں استعمال ہونے والے پیجرز تائیوان یا ہنگری نے نہیں بلکہ اسرائیلی انٹیلیجنس نے تیار کیے تھے،ہنگری کی کمپنی اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کی فرنٹ کمپنی کا حصہ تھی، ہنگری کی کمپنی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست رابطے کے لیے 2 مزید جعلی کمپنیاں بنائی گئی تھیں،اسرائیل نے واکی ٹاکیز میں صرف بارود نہیں لگایا، اصل میں مینوفیکچرنگ کی، بلغارین میڈیا کے مطابق بلغاریہ کی کمپنی نےحزب اللّٰہ کو پیجرز سپلائی کیے،

    واضح رہے کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیجرز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے، جبکہ 287 افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ان دھماکوں کے بعد لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور حزب اللہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کا مقصد مواصلاتی آلات جیسے پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو و دیگر اہم شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش کے الزام میں ایک شخص کو گرفتارکیا گیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے کاروائی کی ہے اور ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی وزیراعظم سمیت دیگر اہم شخصیات کو قتل کرنا چاہتا ہے، گرفتار شہری اسرائیلی ہے تا ہم حکام کا کہنا ہے کہ اسے ایرانی حمایت حاصل تھی، اسرائیلی سیکورٹی سروسز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم و دیگر کے قتل کی مبینہ سازش کرنے والا شخص تاجر ہے اور اس نے ایران میں دو اجلاس میں شرکت کی جس میں اسرائیلی وزیراعظم سمیت اہم شخصیات کے قتل بارے بات چیت کی گئی، اسرائیلی وزیرِ اعظم کے علاوہ وزیرِ دفاع کو بھی قتل کرنے کی مبینہ سازش کی گئی تھی،

    اسرائیلی پولیس اور انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص ایک تاجر تھا جو ترکی میں رہتا تھا اور اس کے ترکی سے رابطے تھے جنہوں نے اسے ایران لے جانے میں مدد کی تھی۔یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ بڑھا ہوا ہے، اسرائیلی سیکورٹی حکام کے مطابق مشتبہ شخص، جس کی شناخت نہیں ہو سکی، کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا ہدف وزیراعظم، وزیر دفاع اور اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی کے سربراہ تھے۔ اپریل اور مئی میں، مشتبہ شخص ایڈی نامی ایک امیر ایرانی تاجر سے ملنے کے لیے دو بار ترکی میں گیا، اور دو ترک شہریوں نے اس کی مدد کی۔ ایڈی کو دونوں موقعوں پر ایران چھوڑنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے اسرائیلی شہری کو ترکی سے ایران لایا گیا۔ اس شخص نے وہاں ایڈی اور "ایک ایرانی سیکیورٹی آپریٹو” دونوں سے ملاقات کی۔ایڈی نے اسرائیلیوں سے کہا کہ وہ "ایرانی حکومت کے لیے اسرائیل کے اندر مختلف سیکیورٹی مشنز انجام دیں”۔ بیان کے مطابق، ان میں رقم یا بندوق کی منتقلی، اسرائیل میں پرہجوم جگہوں کی تصاویر بنانا اور انہیں "ایرانی عناصر” کو بھیجنا اور دوسرے اسرائیلی شہریوں کو دھمکیاں دینا شامل ہیں جنہیں ایران نے بھرتی کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے کام مکمل نہیں کیے تھے۔اسرائیلی شہری کی ایران میں دوسری ملاقات بھی ہوئی جس میں اسے کئی اہم ٹاسک دیے گئے جس میں نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ، یا شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کا قتل بھی شامل ہے۔

    تحقیقات کے مطابق جولائی 2024 میں ایران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے سابق وزیر اعظم نفتالی اور دیگر عوامی شخصیات کو قتل کرنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔ ایران نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا، جس کی اسرائیل نے نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہری نے 10 لاکھ ڈالر کی پیشگی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔اس گروپ پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے یورپ اور امریکہ میں ایرانی حکومت کے مخالفین کو مارنے اور موساد کے ایک کارکن کو "ڈبل ایجنٹ” بننے کے لیے بھرتی کرنے پر بھی بات کی۔اسرائیلی شہری پر الزام ہے کہ انہیں ملاقاتوں کے لیے 5,000 یورو ($5,600; £4,200) ادا کیے گئے۔

    ایران اور اسرائیل 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے کے بعد سے بڑے دشمن رہے ہیں۔ایران اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ حماس اور حزب اللہ سمیت اسرائیلی مخالفین کا بڑا حمایتی ہے۔ غزہ میں جنگ کے ساتھ ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی میں شدت آئی ہے اور دونوں فریقوں نے حالیہ مہینوں میں ایک دوسرے پر براہ راست یا بالواسطہ حملے کیے ہیں۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور انکی کابینہ کو ہر وقت اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، اسلئے وہ زیادہ تر وقت بینکرز میں گزارتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم و دیگر کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے،

  • سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان مشروط کر دیا

    سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان مشروط کر دیا

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔

    باغی ٹی وی : ریاض میں سعودی مجلس شوری کا سالانہ اجلاس ہوا، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خصوصی شرکت کی، خطاب میں محمد بن سلمان نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا حل یہی ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور اسرائیل کو فلسطینی علاقوں پر قابض و متصرف ہونے سے باز رکھا جائے۔

    محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب فلسطینی علاقوں میں ایک آزاد و خود مختار ریاست قائم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اس ریاست کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہونا چاہیے اس حوالے سے سعودی عرب کی پالیسی غیر لچک دار ہے، اسرائیل کو فلسطینی ریاست کا وجود تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان بات چیت حتمی مرحلے میں تھی اور سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاری مکمل کرلی تھی کہ حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا اور اُس کے جواب میں اسرائیلی فورسز نے فلسطین پر حملہ کر دیا-

  • اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجی غزہ سے لبنان کی سرحد پر منتقل کردئیے

    اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجی غزہ سے لبنان کی سرحد پر منتقل کردئیے

    تل ابیب: مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کے خدشات بڑھ گئے،اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجی غزہ سے لبنان کی سرحد پر منتقل کردیے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران لبنان میں پیجرز دھماکوں کی لہر کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں،اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے اس حوالے سے تصدیق کی گئی کہ خطے میں جنگ کے نئے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے، حزب اللہ کے خلاف شمالی محاذ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد وہ اپنے تقریباً 10 سے 20 ہزار فوجی غزہ کی پٹی سے لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر منتقل کر رہی ہے سیکیورٹی فورسز نے لبنان میں قابل تعریف کام کیا ہے، ہمارے پاس بہت سی صلا حیتیں ہیں جو ابھی تک ہم نے فعال نہیں کی ہیں ہمارے ہر مرحلے میں حزب اللہ بڑی قیمت چکائے گی،لڑائی میں مزید حیران کن صلاحیتیوں کا استعمال کریں گے۔

    عاشقان مصطفی کو دنیاکی کوئی طاقت ڈرانہیں سکتی،شکیل قاسمی

    پولیس اہلکار کی نشے میں دھت ہوکر خاتون پر تشدد کی وڈیو وائرل

    شمالی وزیرستان: بینک منیجر فائرنگ کے نتیجے میں شہید

  • حماس کے حملے میں  اسرائیل کی خاتون فوجی سمیت 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی

    حماس کے حملے میں اسرائیل کی خاتون فوجی سمیت 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی

    تل ابیب: غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں اسرائیلی فوج کے 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے،ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون فوجی بھی شامل ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجی کے ترجمان نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں ایک افسر اور 4 سپاہی شدید زخمی ہوگئے جن میں سے افسر اور دو سپاہیوں کی حالت نازک ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،23 سالہ ڈپٹی کمانڈر ڈینیئل میمون ٹواف، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ اگم نعیم، 21 سالہ امیت بکری اور 21 سالہ دوتن شمعون ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق حماس نے ایسا ظاہر کیا کہ وہ بھاری اسلحے کے ساتھ ایک عمارت میں چھپے ہوئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے جانے والی ٹیم جیسے ہی عمارت میں داخل ہوئی، حماس نے عمارت کو دھماکے سے اُڑا دیا ممکنہ طور پرحماس نے اس عمارت میں بارودی مواد چھپایا ہوا تھا اور جیسے ہی اسرائیلی فوجی اندر داخل ہوئے حماس نے دھماکا کردیا۔

    بلومبرگ نے تازہ ترین ارب پتیوں کی فہرست جاری کردی

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج ہونے والی ہلاکتوں میں غزہ میں دو بدو لڑائی میں ماری جانے والی پہلی خاتون فوجی بھی شامل ہے جو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ٹیم میں شامل تھیں۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اسرائیل نے غزہ میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں 41 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 92 ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں،اسرائیلی بمباری میں شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جب کہ نصف آبادی بے گھر ہوگئی اور پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کی دستاویزی فلم نےبہترین ایشین فلم کا ایوارڈ جیت لیا

  • لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سلسلہ وار دھماکوں میں تقریباً 11 افراد کی موت ہوئی ہے جبکہ 4 ہزار کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں،دھماکےحزب اللہ کے زیر استعمال پیجر (وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائس) میں ہوئے،حزب اللہ اور لبنان نے ان دھماکوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہےتاہم تل ابیب نے ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا

    مغربی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ جن پیجر میں دھماکے ہوئے تھے وہ لبنان نے چند ماہ پہلے تائیوان سے خریدے تھے،سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیجرز میں لبنان پہنچنے سے پہلے دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا، حزب اللّٰه تک پہنچنے سے پہلے پیجرز میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی، پیجرز پر نئے پیغام کا سگنل آنے کے چند سکینڈ بعد ایک ساتھ دھماکے ہوئے، پیغام رسانی کے لیے پیجرز لبنانی گروپ حزب اللّہ اور ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز استعمال کررہے تھے،میڈیا رپورٹس کے مطابق پیجرز تائیوان سے براہ راست لبنان پہنچے یا کسی تیسرے ملک سے لبنان درآمد کئے گئے اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں،ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ پیجر جدید ترین نظام پر میسج بھیجتا ہے مگر ہیکنگ ممکن ہے، تاہم پیجر ریڈیو فریکوئنسی پر کام کرتے ہیں جنھیں کنٹرول کیا جاسکتا ہے، اسرائیلی حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے لبنان میں اسمارٹ فونز کا استعمال کم ہوچکا ہے، مختلف اقسام کے پیجرز اسرائیلی سیکیورٹی حکام بھی استعمال کرتے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق پیجر ڈیوائسز میں دھماکے جنوبی لبنان اور بیروت کے نواحی علاقوں میں ہوئے، حزب اللہ کے زخمی ارکان کو اسپتال پہنچا دیا گیا ہے جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے

    دوسری جانب ایران نے لبنان میں پیجر دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ، پیجر دھماکوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس اراقچی نے لبنانی وزیر خارجہ کو ٹیلیفون کیا اور دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی،ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی سفیر کو فوری طبی امداد فراہم کرنے پر لبنان کا شکریہ ادا کیا ،علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے بھی لبنان میں پیجر ڈیوائس دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ لبنان میں پیجر دھماکوں کی پیشرفت انتہائی تشویشناک ہے، لبنان میں غیر مستحکم حالات پیدا کرنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

    لبنان کے پیجر حملے میں حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کی موت کی خبر بھی سامنے آئی ہے، خبر رساں ادارے رائیٹرز نے حزب اللہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ دو دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے بیٹے زخمی ہوئے ہیں،حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی عمار نے اپنے بیٹے مہدی کے قتل کے بعد ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کے خلاف اسرائیل کی نئی جنگ ہے، مناسب وقت پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔

    لبنان میں پیجرز حملوں میں ایرانی سفیر کی آنکھ بھی ضائع ہو گئی ہے،ان حملوں نے حالیہ برسوں کے دوران خطے میں ہونے والے خفیہ قتل اور سائبر حملوں کے ریکارڈ کوپیچھے چھوڑ دیا ہے، روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ لبنان میں پیجرز دھماکوں کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم نے دی تھی،اسی ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نے منظوری دی جس کے بعد دھماکے کئے گئے، ان دھماکوں کا مقصد د کارروائیوں کو نئے مرحلے میں داخل کرنا تھا

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔