Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • غزہ میں اسرائیلی بمباری،11سال بعد پیدا ہونیوالے جڑواں بچے  شہید

    غزہ میں اسرائیلی بمباری،11سال بعد پیدا ہونیوالے جڑواں بچے شہید

    غزہ میں شادی کے 11سال بعد پیدا ہونیوالے جڑواں بچے خاندان کے12افراد کے ساتھ شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جڑواں بچوں کو اتوار کے روز سپرد خاک کیا گیا، اس خاندان کے 14افراد رفح میں گھر پر اسرائیلی حملے کے دوران لقمہ اجل بنے ، جڑواں بچوں کی والدہ جن کے ہاں شادی کے 11برس بعد پہلی بار بچوں کی پیدائش ہوئی غم سے نڈھال ہیں۔

    والدہ رانیہ کا کہنا ہے کہ ہماری کیا غلطی تھی؟اب میں کس طرح مزید زندہ رہ سکتی ہوں؟ مجھے ماں کون کہہ کر پکارے گا؟جڑواں بچوں کی والدہ رانیہ نے تدفین کے موقع پر اپنے ایک بچے کی میت گود میں اٹھائی ہوئی تھی جسے اپنی ٹھوڑی کے ساتھ لگا رکھا تھا اور اپنے بچے کے سر پر پیار کررہی تھیں، دوسرے بچے کی میت ایک اور غم زدہ شخص نے اٹھا رکھی تھی، رانیہ ابو عنزہ نے روتے ہوئے بتایا کہ میرا دل ٹوٹ کر رہ گیا ہے، اس حملے میں رانیہ کا شوہر بھی شہید ہوگیا تھا۔

    اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی گئی

    غزہ میں سات اکتوبر سے جاری اور خونی جنگ میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 30,534 ہو گئی ہے جن میں 70 فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے دریں اثنا فلسطینی وزارت صحت نے اتوار کو کہا کہ غزہ میں بچوں کی بڑھتی اموات کی بنیادی وجہ پانی کی کمی اور غذائی قلت ہے۔

    بھارت اور فرانس کا مصنوعی ذہانت پر تبادلہ خیال

    لائشیا کے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ،منصب سنبھالنے پرمبارکباد

  • غزہ میں امداد تقسیم کرنے والے ٹرک پر اسرائیلی بمباری، 9 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی

    غزہ میں امداد تقسیم کرنے والے ٹرک پر اسرائیلی بمباری، 9 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی

    غزہ میں امداد تقسیم کرنے والے ٹرک پر اسرائیلی بمباری سے 9 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ترک خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کی جانب سے یہ وحشیانہ اقدام غزہ کے علاقے دیر البلاح میں کیا گیا جہاں جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینی ایک امدادی ٹرک کے گرد جمع تھے جو کہ ان میں خوراک تقسیم کر رہا تھا، اس دوران اسرائیلی فضائی حملے سے ٹرک تباہ ہوگیا اور وہاں موجود 9 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے، شہید ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

    واضح رہےکہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 30 ہزار 410 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، غزہ میں غذا کا شدید بحران ہے اور غزہ کی 23 لاکھ کی آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے،اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہےکہ غزہ میں خوراک کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ بدتر ہو رہا ہے اور اس کی وجہ وہاں ناکافی امداد پہنچنا ہے۔

    اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے مطابق ہم نے اور اقوام متحدہ کی دیگر تنظیموں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ امداد کی ترسیل نہ ہوئی تو قحط کا خطرہ ہے اور خوراک کی کمی بحران کو مزید سنگین بناسکتی ہے، اس لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کرنے دی جائے۔

  • اسرائیل  تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

    اسرائیل تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے تیار ہوگیا تاہم اب گیند حماس کے کورٹ میں ہے، اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں 6 ہفتے کی جنگ بندی جلد ممکن ہے-

    باغی ٹی وی :اے ایف پی کے مطابق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ قطر میں ہونے والے غزہ جنگ بندی مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور اسرائیل جنگ بندی کے لیے تیار ہوگیا، اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے اکثر نکات پر اتفاق کرلیا ہے، اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں 6 ہفتے کی جنگ بندی جلد ممکن ہے، سینیئر امریکی اہلکار کے بقول ایسا تب ہی ممکن ہو سکے گا جب حماس معاہدے کی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق شق پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرا دے، امریکا جنگ سے تباہ حال غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم ہیلی کاپٹرز کےذریعے کرنا چاہتا ہےدوسری جانب تاحال اسرائیل اور حماس کیجانب سے غزہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    دوسری جانب غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے جن میں سے 6 کی حالت تشویش ناک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوجی حماس کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک عمارت کو حماس کا ٹھکانہ سمجھ کر اندر داخل ہوئے اور ٹریپ ہوگئےعینی شاہدین کے بقول جیسے ہی اسرائیلی فوجی عمارت میں داخل ہوئے ایک زور دار دھماکا ہوا اور عمارت گر گئی، جس کے ملبے میں درجن سے زائد اسرائیلی فوجی دب گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملبے سے 3 فوجیوں کی لاشیں نکالی گئیں جب کہ 14 کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کا گیا جہاں 6 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوجیوں کی تازہ ہلاکتوں کے بعد غزہ میں 27 اکتوبر سے جاری دوبدو جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 245 ہوگئی جب کہ 1500 فوجی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں مارے گئے تھے، اس طرح مجموعی طور پر اب تک 1745 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں اور یہ تعداد وہ ہے جو اسرائیل نے خود تسلیم کی ہے جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 30 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

  • غزہ میں امداد کیلئے جمع افراد پر بمباری،100 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ میں امداد کیلئے جمع افراد پر بمباری،100 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ کی پٹی میں امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والوں پر اسرائیلی فوج نے بمباری کر دی-

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کے مطابق غزہ کی پٹی میں امداد کے حصول کے لیے جمع فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں،شمالی غزہ کی پٹی میں نابلسی گول چکر میں جمع لوگوں پر اسرائیلی حملے میں 100 سے زائد شہری باں بحق اور تقریباً 1000 دیگر زخمی ہوئے ہیں،، وزارت صحت نے اس واقعے کو ”قتل عام“ قرار دیا ہے یہ اس وقت ہوا جب غزہ سٹی جبالیہ اور بیت حانون سے ہزاروں فلسطینی غزہ شہر کے مغرب میں شیخ عجلین کے علاقے میں ہارون الرشید کوسٹل روڈ پر انسانی امداد سے لدے ٹرکوں کی آمد کے منتظر تھے۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے کچھ شہریوں پراس وقت براہ راست فائرنگ کی جب وہ امداد کے منتظر تھے بڑی تعداد میں زخمیوں کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں طبی عملے کے پاس ان زخمیوں کے علاج کے لیے سہولیات موجود نہیں، کئی لاشوں اور زخمیوں کو غزہ شہر کے بیپٹسٹ ہسپتال اور جبالیہ کے کمال عدوان ہسپتال میں بھی منتقل کیا گیا۔

    کینیڈا میں پی آئی اے کا ایک اور میزبان سلپ

    انسانی حقوق گروپ یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے تصدیق کی کہ اس کی فیلڈ ٹیم نے غزہ میں ہزاروں بھوکے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کرنے والے اسرائیلی ٹینکوں کے دستاویزی ثبوت جمع کیے ہیں-

    بی بی سی کے مطابق اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اب تک حماس کے 10 ہزار جنگجو فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔ تاہم، حماس نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ اس کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے جبکہ روئٹرز نے ایک خبر میں حماس کے اہلکار کے حوالے سے چھ ہزار جنگجوؤں کی ہلاکت کی بات کی تھی، لیکن حماس نے اس کی تردید کی ہے۔

    نیٹو فوجیں یوکرین جنگ میں شامل ہوئیں تو جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے،پیوٹن

    واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شہداء میں 70 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔

    پرتشدد تنازعوں میں متاثرین کے اعدادوشمار جمع کرنے والی برطانیہ میں قائم تنظیم ایوری کیزوئلٹی کاؤنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریچل ٹیلر کے مطابق یہ اندیشہ ہے کہ ’شہریوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے،غزہ کی تقریباً نصف آبادی 18 سال سے کم عمر کی ہے اور جنگ میں مارے جانے والوں میں 43 فیصد بچے بھی شامل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اموات عام آبادی کی آبادیات کے کافی قریب ہے جس سے ’اندھادھند قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔‘

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق تنازعے کے آغاز سے لے کر اب تک ہر روز اوسطاً 200 سے زیادہ افراد شہید ہوئے ہیں، بیت المقدس میں کام کرنے والی حقوقِ انسانی کی تنظیم بیت السلم کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ اسرائیل اور غزہ کے درمیان ماضی میں ہونے والی لڑائیوں سے کہیں زیادہ مہلک ہے۔

  • سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے تیار ہے، امریکی صدر

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے تیار ہے، امریکی صدر

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہےکہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار ہے

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ سعودی عرب بھی باقی عرب ممالک کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے، وہ قطر سمیت 6 عرب ملکوں سے رابطے میں ہیں، غزہ میں جنگ بندی سے ہمیں اس سمت میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا جس کے لیے بہت سے عرب ملک تیار ہیں، اسرائیل کا وجود برقرار رکھنے کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے، اسرائیل نے رفح میں فلسطینیوں کی جانوں کا تحفظ یقینی نہ بنایا تو عالمی حمایت کھو دے گا

    دوسری جانب سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے، ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں پینل ڈسکشن میں سعودی وزیر خارجہ سے سوال ہوا کہ مسئلہ فلسطین حل ہونےکے بعد سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتاہے؟ اس پر سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ’یقیناً‘،سعودی عرب کی اولین ترجیح غزہ میں جنگ بندی ہے، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا تعلق غزہ جنگ سے ہے، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔

    قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانےکی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، اسرائیل سے سعودی عرب کا فی الحال کوئی تعلق نہیں ہے مسئلہ فلسطین اہم ہے اسے دو طرفہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران حل ہونا چاہیے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

    جنوری سے پہلے ٹرمپ،اسرائیل اور سعودی عرب کا کھیل تیار، مبشر لقمان کی زبانی تہلکہ خیز انکشافات

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • غزہ: اسرائیل کا رفح میں رہائشی عمارت پر حملہ،7 افراد شہید

    غزہ: اسرائیل کا رفح میں رہائشی عمارت پر حملہ،7 افراد شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے بڑے شہررفح میں ایک رہائشی عمارت پر فضائی کارروائی کرکے 7 فسلطینیوں کو شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی خبرایجنسی وفا نے بتایا کہ اسرائیل نے فضائی کارروائی میں شاہین خاندان سے تعلق رکھنے والی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جہاں ابوحمرا اور ابو سلطان سے بے گھر ہونے والے افراد مقیم تھے فضائی کارروائی ایک مارکیٹ جانے والی مصروف سڑک پر کی گئی، جس کے نتیجے میں عمارات اور گاڑیوں کو بدترین نقصان پہنچا، الجزیرہ نے نامہ نگاروں نے بتایا کہ سڑک پر جاں بحق ہونے والوں میں شامل خواتین، بچوں اور بزرگوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

    پنجاب اسمبلی کے باہر سے پانچ مشکوک افراد گرفتار

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں شہریوں پر 8 خون ریز کارروائیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں 92 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں،ا سرائیلی فورسز نے ایمبولینسز اور عملے کو ملبے تلے دبے ہوئے اور سڑک پر پڑے ہوئے متاثرین تک پہنچنے سے روکا۔

    60 سے 70 سالہ مبینہ مسلح ڈاکوؤں کا گروہ گرفتار

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد شروع کی گئی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران اب تک 29 ہزار 600 فلسطینیوں کو شہید اور 70 ہزار سے زائد کو زخمی کردیا ہے اور اس کے علاوہ غزہ کی پٹی کو تباہ کردیا ہے، حماس کے حملوں میں 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت رپورٹ کی گئی تھیں لیکن اسرائیل نے اس کی آڑ میں غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ شروع کیا اور بے گناہ شہریوں کو بجلی، پانی اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کردیا۔

    ایف آئی کی کارروائی،سونے کی اینٹیں برآمد کرلیں

  • عالمی عدالت انصاف،فلسطین پر اسرائیلی قبضہ،پاکستان کامؤقف پیش

    عالمی عدالت انصاف،فلسطین پر اسرائیلی قبضہ،پاکستان کامؤقف پیش

    عالمی عدالت انصاف میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف سماعت کے دوران پاکستان نے اپنا مؤقف پیش کردیا۔

    وزیرِ قانون و انصاف احمد عرفان اسلم نے عالمی عدالت میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا،نگراں وزیرِ قانون احمد عرفان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا حامی رہا ہے،عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کا مؤقف دینا اعزاز ہے۔اسرائیلی مظالم کیخلاف آئی سی جے میں کاروائیاں امید کی کرن ہیں ،امید ہے ان کاروائیوں کے ذریعے فلسطین کا مسئلہ اجاگر ہوگا، پاکستان نے ہمیشہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے معاملے کو اٹھایا ہے،اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق اسرائیل فوری طور پر فلسطین سے اپنی فوج نکالے پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کیا ہے،اسرائیل منظم طریقے سے فلسطین میں نسل کشی کر رہا ہے،فلسطینی عوام کیلئے پاکستان کا مؤقف واضح ہے،

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی دھجیاں بکھیر دیں

    فلسطینی وزیر خارجہ اور اسرائیلی وزیراعظم کا عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر رد عمل

    واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا،عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کی درخواست مسترد کر دی۔ عالمی عدالت انصاف نے فیصلے میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا،حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا جس سے متعدد فلسطینی شہید ہوئے ، یہ علم میں ہے کہ غزہ میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے ، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں بڑی تعداد میں انفراسٹرکچر تباہ ہوا،غزہ معاملے پر یو این کے کئی اداروں نے قراردادیں بھی پیش کی ہیں ،جنوبی افریقہ نے الزام لگایا اسرائیل نے جینو سائیڈ کنونشن کی خلاف ورزی کی ، عالمی عدالت یہ معاملہ سننے کا اختیار رکھتی ہے ۔نسل کشی کے خلاف فیصلہ سننا ہمارے دائرہ اختیار میں ہے،عالمی عدالت انصاف کو جنیوا کنونشن کے تحت جینوسائیڈ کیس سننے کا اختیار ہے

    عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا جس کے بعد عالمی عدالت میں کارروائی جاری تھی، 11 اور 12 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے دلائل پیش کیے تھے،جنوبی افریقہ نے سماعت کے دوران اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کی استدعا کی تھی

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ گزشتہ برس حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعدغزہ میں سویلین آبادی پر اسرائیلی حملوں پر جنوبی افریقا نے الزام لگایا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کر رہا ہےجنوبی افریقا کی طرف سے جمع کرائےگئے شواہد میں کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائی کا مقصد فلسطینی قومی اور نسلی گروہ کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنا ہے اس مقدمے میں اسرائیلی عوامی بیان بازی اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے فلسطینیوں کی "نسل کشی کے ارادے” کے بیانات کو بھی ثبوت کے طور پیش کیا گیا ہےبین الاقوامی قانون کے تحت، نسل کشی کی تعریف کسی قومی، نسلی، مذہبی گروہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے ایک یا زیادہ کارروائیوں کے ارتکاب سے کی جاتی ہے۔

    جنوبی افریقا چاہتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے اگرچہ اسرائیل اور جنوبی افریقا سمیت تمام فریقین عالمی عدالت کے فیصلےکو ماننے کے پابند ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا، اس لیے یہ یقینی ہےکہ اسرائیل ہمیشہ کی طرح اس طرح کے کسی بھی حکم کو نظر انداز کرے گا اور اس کی تعمیل نہیں کرے گا، 2022 میں، عالمی عدالت انصاف نے روس کو یوکرین میں فوری طور پر فوجی آپریشن معطل کرنے کا حکم دیا لیکن اس حکم کو نظر انداز کر دیا گیا۔

  • حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا امکان

    حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا امکان

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق پیش رفت کی امید پھر سے جاگ اُٹھی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی ادارے ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز کی حماس اور اسرائیل کی قیادت سے رابطوں میں پیش رفت سامنے آئی ہےسی آئی اے کے ڈائریکٹر کے ان رابطوں میں امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مشیر بریٹ میک گرک نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں حماس کا ایک وفد اس وقت مصر کے دورے پر ہے اور وہاں کی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت بھی کی، قیدیوں کی فائل اور جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر متوقع اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرنے کے لیے میک گرک آج مصر کا بھی دورہ کریں گے،حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر معاہدے کے لیے امریکا، قطر، اردن اور مصر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    7 اکتوبر سے جاری حماس اسرائیل جنگ میں گزشتہ برس نومبر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی ہوئی تھی جس کے دوران حماس نے 100 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا جس کے بدلے اسرائیل نے تقریباً 300 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا اس وقت حماس کے پاس 132 اسرائیلی یرغمالی ہیں جن میں سے 29 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

  • اسرائیل برازیل کشیدگی میں اضافہ

    اسرائیل برازیل کشیدگی میں اضافہ

    برازیلی صدر کے غزہ میں نسل کشی کے بیان کے بعد اسرائیل برازیل کشیدگی بڑھ گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایتھوپیامیں افریقی یونین کانفرنس سے برازیل کے صدرلولا ڈی سلوا نے خطاب کرتے ہوئےغزہ میں نسل کشی کو ہولوکاسٹ سے تشبیہ دی، جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ ماضی میں کبھی بھی نہیں ہوا، تاریخ غزہ کی اس وحشیانہ جنگ کی مثال نہیں پیش کر سکتی، غزہ جنگ ویسی ہی ہے جیسا ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا، اس وقت غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ نسل کشی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق برازیل کے صدر کے بیان پر اسرائیلی وزیر ارعظم نیتن یاہو نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ،اسرائیلی وزیر ارعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ برازیلین صدر کا بیان ہولوکاسٹ کو معمولی بنانا ہے،ان کا یہ بیان یہودی لوگوں پر حملہ ہے۔

    بھارت کے لیے پاکستان کے نئےناظم الامور دہلی پہنچ گئے

    تاہم برازیلین صدرکےغزہ میں نسل کشی بیان کےبعداسرائیل برازیل کشیدگی بڑھ گئی اور ایسے میں برازیل نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بُلا لیا، برازیلی وزارت خارجہ کے مطابق برازیل میں اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اسرائیل کے ردعمل پر احتجاج بھی کریں گے۔

    اسٹاک مارکیٹ میں کاروبارکا مثبت آغاز،ڈالر مہنگا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس:عمران خان اور اہلیہ کیخلاف فرد جرم کی کارروائی ملتوی

  • 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    غزہ: اسرائیلی فوج کے غزہ میں رہائشی علاقوں، اسپتالوں پر حملے جاری ہیں، 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی ہوگئے ہیں جبکہ الناصر اسپتال غیر فعال ہونے سے 8 مریض انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : غزہ وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی ہوگئے،فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 29 ہزار سے بڑھ گئی،اسرائیل نے رمضان تک اسرائیلی یرغمالی رہا نہ ہونے پر رفح میں زمینی آپریشن کا اعلان کیا ہے دوسری جانب حماس نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلاء کے بغیر یرغمالی رہا نہیں کیے جائیں گےتاہم یورپی یونین نے اسرائیل کو رفح پر چڑھائی کرنے سے خبردار کر دیا ہے-

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ہنگری کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ارکان نے غزہ میں فوری جنگی وقفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا مطالبہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کیا ہے، یورپی یونین کے 26 ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگی وقفہ کیا جائے اور یہ جنگی وقفہ بعد ازاں پائیدار ‘ سیز فائر ‘ میں تبدیل ہو جائے۔

    امریکا کی غزہ میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کو …

    یورپی یونین نے سات اکتوبر سے مسلسل اسرائیل کی حمایت میں ایک متحدہ موقف اختیار کر رکھا ہے اور ہر اہم موقع یا مرحلے پر انہوں نے اسرائیل کی ہی مدد کی ہے، تاہم اب جبکہ غزہ میں فلسطینی بچوں اور عورتوں کی اکثریتی تعداد کے ساتھ 29 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، پورا غزہ تباہ ہو چکا اور غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے ان ملکوں نے سوائے ہنگری کے سب جنگ میں وقفہ چاہنے لگے ہیں۔

    یورپی یونین کے رکن ممالک نے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا ہے کہ ‘اسرائیل رفح میں جنگی یلغار نہ کرے ، جو اس وقت غزہ کی نصف سے زیادہ بے گھر ہو چکی آبادی کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے،ای یو وزرائے خارجہ کا کہنا ہے رفح پر حملہ 15 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے لیے تباہ کُن ہوگا۔

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    تاہم یورپی یونین کے ایک رکن ہنگری نے دیگر تمام ارکان کے ساتھ ہم آواز ہونے سے انکار کیا ہے اور غزہ میں ساڑھے چار ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس سب کچھ کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کے دیگر تمام ارکان میں سے جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی صورت میں اسرائیل کے حق دفاع کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا ہے-

    دوسری جانب خان یونس میں اسرائیلی فوج پر حماس کی جانب سے حملے کیے گئے جس میں کئی اسرائیلی فوج ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

    حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار