Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • حوثیوں کے حملے،امریکا نےچین سے مدد مانگ لی

    حوثیوں کے حملے،امریکا نےچین سے مدد مانگ لی

    حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے، امریکا نے چین سے مدد مانگ لی ہے

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نےگزشتہ تین ماہ کے دوران چین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ متعدد بار بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا معاملہ ا ٹھایا ہے،اب امریکا نے چین سے یمنی حوثیوں کو کنٹرول کرنے میں مدد کرنے کی اپیل کی ہے،امریکہ نے چین کو متعدد بار کہا کہ وہ ایران کو قائل کرے کہ وہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں‌پر حملےنہ کریں تاہم بیجنگ کی طرف سے مدد کےکوئی آثار نظر نہیں آرہے،وائٹ ہاؤس کے حکام نے رواں ماہ واشنگٹن ڈی سی میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی رابطہ کے شعبے کے سربراہ لیو جیان چاو کے ساتھ ملاقاتوں میں اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا تھا

    چین نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں متعلقہ فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ بحیرہ احمر کے راستے سے محفوظ گزرنے کو یقینی بنائیں

    حوثی باغیوں نے اسرائیل آنے اور جانیوالے جہازوں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، حوثیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملےکے بعد اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے، ان حملوں‌کو تب تک جاری رکھیں گے جب تک اسرائیل غزہ کے خلاف کاروائی نہیں روکتا

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے 2 اینٹی شپ میزائل تباہ کر دیے ہیں جو بحیرہ احمر میں حملےکے لیے تیار تھے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے اینٹی شپ میزائل بحیرہ احمر میں حملے کے لیے تیار تھے، بتایا جا رہا ہے کہ حوثیوں کے میزائل تجارتی جہازوں اور خطے میں امریکی بحریہ کےجہازوں کے لیے خطرہ ہیں اور امریکا کے لیے خطرہ پیدا کرنے والے جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا،

  • اسرائیل نے حماس کے ساتھ  جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط  رکھ دیں

    اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط رکھ دیں

    تل ابیب: اسرائیل نے حماس کے ساتھ 2 ماہ تک جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے 6 شرائط پیش کردیں –

    باغی ٹی وی : اسرائیل نے مبینہ طور پر غزہ میں حماس کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کو دو ماہ تک روکنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے بدلے میں تل ابیب حماس کے زیر حراست باقی 136 یرغمالیوں کی بتدریج رہائی کا خواہاں ہےAxios کی رپورٹ کے مطابق دو اسرائیلی حکام کے حوالے سے یہ تجویز قطر اور مصر کے ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی-

    اس سے قبل نومبر کے آخر میں، امریکہ اور قطر کی ثالثی میں دو ہفتے کی "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی” کے دوران 105 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا، لیکن اس جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے مزید معاہدے کی باتیں معدوم ہیں۔

    ترک سرکاری خبر ایجنسی انادولو کے مطابق اسرائیلی نیوز چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے 6 شرائط پیش کردئیے ہیں اور اب ثالثوں کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے جواب کا منتظر ہے اور اس کا جواب 48 گھنٹوں کے دوران متوقع ہے۔

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    چینل 12 کے مطابق حماس سے بات کرنے کے بعد ثالثوں کا جواب آج یا کل تک آنے کا امکان ہے، جس میں طے ہوگا کہ آیا اس پر پیشرفت ہوسکتی ہے یا نہیں جبکہ حماس کا مطالبہ ہے جب تک اسرائیل غزہ کو آزاد نہیں چھوڑ دیتا، تب تک جنگ جاری رہے گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی اسی وقت ہوگا اسرائیلی عہدیدار کا نام ظاہر کیے بغیر رپورٹ میں بتایا گیا کہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم مذاکرات شروع کرنے کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے 2 ماہ کی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے پیش کش کی ہے لیکن شرائط کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا۔

    چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت نے 6 شرائط رکھ دی ہیں، جس میں سب سے اہم غزہ میں جنگ بندی کے جواب میں قیدیوں کا تبادلہ ہے، جو اس وقت اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے دوران قید ہیں ، اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خفیہ رکھا جائے گا اور عوامی سطح پر نہیں لایا جائے گا اور حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کو انسانی بنیادوں پر ہونے والے اقدام کے طور پر پیش کرے گا۔

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس بتدریج قیدیوں کو رہا کرے گی اور ابتدا میں خواتین، بزرگ اور زخمیوں کو آزاد کیا جائے گا او اس کے بعد ایسے افراد جو فوج کا حصہ نہ رہے ہوں اور آخر میں اسرائیلی فوج اور پھر ہلاک افراد کی لاشیں واپس کردی جائیں گی جنگ بندی کا عمل کئی ہفتوں یا ممکنہ طور پر دو سے تین ماہ جاری رہے گا اور قیدیوں کا مکمل تبادلہ کیا جائے گا، قیدیوں کے نام ان کی رہائی سے قبل دئیے جائیں گے اور ہر مرحلے پر اس سے آگاہ کیا جائے گا۔

    پانچویں شرط کے تحت غزہ پٹی میں اسرائیل اپنے فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی کرے گا اور رہائشی علاقوں سے فوج واپس بلائے گا، فلسطینیوں کو شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی، چھٹی شرط کے مطابق اسرائیل اس دوران کسی بھی موقع پر جنگ کے خاتمے کا وعدہ نہیں کرے گا جبکہ حماس اس سے قبل کئی مرتبہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کریں گے جب تک غزہ میں مکمل طور پر جنگ بندی نہیں ہوتی۔

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے جواب میں شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 25 ہزار 490 فلسطینی شہید اور 63 ہزار 354 زخمی ہوچکے ہیں جبکہ 1200 اسرائیلی بھی ہلاک ہوگئے ہیں-

  • غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ: پیر کے روز جنوبی اور وسطی غزہ کی پٹی میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کے روز کہا ہے کہ یہ حماس کے خلاف جنگ کے ایک دن میں سب سے بڑی اسرائیلی ہلاکتیں ہیں، جب کہ اسرائیل نے 2024 میں اب تک کے سب سے بڑے زمینی حملے کیے ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق ہلاک ہونے والے 24 فوجیوں میں سے 21 اسرائیلی سرحد کے قریب علاقے کے اندر ایک ہی دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں اخبار نے اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیل کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ تر فوجی دو منزلہ عمارتوں کے اندر تھے جو بظاہر اسرائیلی فوج کی جانب سے عمارتوں کو برابر کرنے کے لیے رکھے گئے دھماکہ خیز مواد سے بھرے دھماکے میں منہدم ہو گئیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 24 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت سات اکتوبر 2023 کے بعد سے ایک دن میں اسرائیلی فوج کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے، اسرائیل غزہ میں حماس کے باقی ماندہ مضبوط ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے اور سرحد کے قریب علاقوں کو خالی کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق پیر کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے لواحقین نے یروشلم میں پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس پر دھاوا بول دیا اور قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے پیاروں کی رہائی کے لیے مزید اقدامات
    کریں۔
    https://x.com/ogeday_nigar/status/1749425171163758671?s=20
    مظاہرین سکیورٹی حصار توڑ کر پارلیمنٹ کی عمارت میں موجود کمیٹی میٹنگ روم میں داخل ہوئے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنے پیاروں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں، لواحقین نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حماس کے ساتھ معاہدے سے مسلسل انکار کی ضد پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور وہاں چیخ و پکار کرتے ہوئے کہا کہ تم سب ابھی اسی وقت اپنی کرسیوں سے اٹھ جاؤ۔

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    اس سے قبل مرکزی تل ابیب اسکوائر میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد جمع ہوئے، جن میں اکثریت گزشتہ برس احتجاج کرنے والوں کی تھی تاہم گزشتہ برس کے مظاہروں کے مقابلے میں لوگوں کی تعداد کم تھی،یرغمالیوں کی رہائی میں حکومتی ناکامی پر برہم مظاہرین نے نیتن یاہو کو شیطان کا چہرہ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو حکومت پر اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے الزامات عائد کردئیے مظاہرین نے اسرائیلی پرچم تھاما ہوا تھا اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے اور ڈھول بجاتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

    حماس کے ساتھ جنگ میں مارے گئے ایک فوجی کے بھائی نوام ایلون نے بتایا کہ حکومت نے ہمیں جس طرح 7 اکتوبر کو چھوڑا تھا وہ سلسلہ تاحال جاری ہے، تبدیلی اور معاملات ٹھیک کرنے کے لیے طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے دوران اغوا کیے گئے 130 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، نومبر کے آخر میں چھ روزہ جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 سے زائد یرغمالیوں کو رہا کیا تھا۔

    ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگا،روسی خبر ایجنسی سےگفتگو کرتے ہوئے سینیئر حماس رہنما موسیٰ ابومرزوق نےکہا کہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگااسرائیل معاہدے کے ذریعے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں لےگا، اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہےحوثی فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی اور مؤثر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہےہیں، تمام قوتیں غزہ میں نسل کشی بند کرانے کے لیےجرأت مندانہ اقدامات کریں۔

    اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

  • حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    واشنگٹن: امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں فضائی اور زمینی آپریشن اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود اسرائیل حماس کو تباہ کرنےکا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے پاس اب بھی مہینوں تک لڑائی جاری رکھنےکے لیے گولہ بارود موجود ہےوہ اب بھی غزہ میں لڑائی کےساتھ اسرائیل میں راکٹ برسا سکتے ہیں، اسرائیلی حکام نے بھی یہ اعتراف کیا ہےکہ غزہ پر جنگ کے دوران حماس کو تباہ کرنےکا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا اور حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں اور اب ان کی حکمت عملی چھوٹے گروہوں میں لڑنا اور اسرائیلی فوجیوں کو گھات لگا کر غائب ہوجانا ہے-

    ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    اخبارکے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہےکہ حماس کے اہلکار ان علاقوں میں بھی واپس آگئے ہیں جن کے متعلق اسرائیل کا دعویٰ ہےکہ اب وہ اس کے کنٹرول میں ہیں، حماس ان علاقوں میں سکیورٹی اور ایمرجنسی خدمات فراہم کرنے والے اہلکاروں کی صورت میں موجود ہے ، سابق امریکی جنرل جوزف ووٹل نے اخبار کو بتایا کہ صورتحال ظاہرکرتی ہےکہ حماس نقصانات کے باوجود مزید لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہےکہ جنگ کے آغاز سے لےکر اب تک حماس نے اپنے 20 سے 30 فیصد جنگجوؤں کوکھو دیا ہے، اندازے کے مطابق حماس کے پاس جنگ سے قبل 25 ہزار سے 30 ہزار جنگجوؤں کے علاوہ ہزاروں پولیس اہلکار اور دیگر فورسز تھیں۔

    پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ماہرین فلکیات نے ممکنہ تاریخ بتا دی

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری ایک سو سات روز سے مسلسل جاری ہے اسرائیلی حملوں میں فلسطینی شہدا کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 62 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں،جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے-

  • ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    تل ابیب: تل ابیب میں ہزاروں افراد نےاحتجاجی مظاہرے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مرکزی تل ابیب اسکوائر میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد جمع ہوئے، جن میں اکثریت گزشتہ برس احتجاج کرنے والوں کی تھی تاہم گزشتہ برس کے مظاہروں کے مقابلے میں لوگوں کی تعداد کم تھی،یرغمالیوں کی رہائی میں حکومتی ناکامی پر برہم مظاہرین نے نیتن یاہو کو شیطان کا چہرہ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو حکومت پر اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے الزامات عائد کردئیے مظاہرین نے اسرائیلی پرچم تھاما ہوا تھا اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے اور ڈھول بجاتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

    حماس کے ساتھ جنگ میں مارے گئے ایک فوجی کے بھائی نوام ایلون نے بتایا کہ حکومت نے ہمیں جس طرح 7 اکتوبر کو چھوڑا تھا وہ سلسلہ تاحال جاری ہے، تبدیلی اور معاملات ٹھیک کرنے کے لیے طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت غیرمقبول ہوگئی ہے اور غزہ کی 4 ماہ طویل جنگ کے دوران مارے جانے والے فوجیوں کے رشتہ داروں اور دیگر شہریوں کی جانب سے حکومتی اقدامات پر تنقید کی جارہی ہے اسرائیل میں 2023 میں حکومت کے خلاف آئے روز احتجاج اور پرتشدد مظاہرے ہو رہے تھے لیکن 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شہریوں میں اتحاد نظر آیا تھا جہاں وہ حکومت اور فوج کی حمایت میں کھڑے ہوگئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ گزشتہ 4 ماہ سے جاری ہے اور اسرائیل میں رائے عامہ نیتن یاہو کے خلاف ہوگئی ہے اور قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا لیکن ان کی پوزیشن کو بظاہر کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آرہا ہے۔

    دوسری جانب جنگی کابینہ میں بھی اختلافات سامنے آگئے ہیں کیونکہ نیتن یاہو حکومت میں برقرار رہنا چاہتا ہے، اپوزیشن لیڈر نے ایک ایسی متحدہ حکومت تشکیل دینے کی پیش کش کی ہے، جس میں نیتن یاہو کا کوئی کردار نہ ہو لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہوئی۔

    اسرائیل کی جانب سے حماس کے قبضے سے یرغمالیوں کو آزاد نہ کروانے پر اسرائیلی کابینہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے وزیراعظم آفس پر دھاوا بول دیا اور صورتحال تقریباً ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔

    اسرائیلی فوج میں غزہ جنگ کی حکمت عملی پر بھی شدید اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں 3 کمانڈروں نے کہا کہ حماس کو شکست بھی دیں اور یرغمالی زندہ بھی بچائیں،دونوں کام ایک ساتھ ممکن نہیں،یرغمالیوں کی تیز ترین واپسی کا راستہ سفارتی طریقہ کار ہے۔

    ادھر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑے گا حماس رہنما موسیٰ ابو مرزوق کا روسی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا اسرائیل معاہدے کے ذریعے اپنے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں وصول کرے گا۔

    واضح رہے 7 اکتوبر سے اب تک فلسطین شہدا کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ گئی ہے، شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین شامل ہیں۔

  • اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

    اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگا۔

    باغی ٹی وی: روسی خبر ایجنسی سےگفتگو کرتے ہوئے سینیئر حماس رہنما موسیٰ ابومرزوق نےکہا کہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگااسرائیل معاہدے کے ذریعے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں لےگا، اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہےحوثی فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی اور مؤثر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہےہیں، تمام قوتیں غزہ میں نسل کشی بند کرانے کے لیےجرأت مندانہ اقدامات کریں۔

    میکسیکو اور چلی نے اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر …

    دوسری جانب شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک میٹنگ پر مہلک اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک کار کو نشانہ بنایا ہے جس میں حماس کے دو اہم رہنما شہید ہوگئے،” روئٹرز "کے مطابق لبنان میں تین سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایک اسرائیلی حملے میں حماس تحریک کے دو ارکان آج ہفتے کو شہید ہو گئے انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار میں سفر کررہے تھے تاہم حماس کے شہید رہنماؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی حماس یا حزب اللہ کی طرف سےان حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف شکایت درج

    تاہم یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکز میں ایک گھرکو نشانہ بنایا جس میں اس نے قدس فورس کے انٹیلی جنس اہلکار اور اس کے نائب کو ہلاک کر دیا اسرائیل نے یہ حملہ 3 جنگی طیاروں سے کیا جن کی مدد سے ایک عمارت پر کئی میزائل داغے اور اسے ملبے کاڈھیر بنا دیا گیاایرانی پاسداران انقلاب نے شام میں ہلاک ہونے والے 4 ایرانی فوجی مشیروں کے ناموں کا بھی اعلان کیا جن کی شناخت امید وار، علی آقازادہ، حسین محمدی اور سعید کریمی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

    پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے،چینی نائب وزیر خارجہ

    دوسری جانب غزہ کے رہائشی علاقوں اور اسپتالوں کے اطراف اسرائیلی فوج کی شدید بمباری جاری ہے7 اکتوبر سے اب تک شہدا کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ گئی ہے، شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین شامل ہیں خان یونس میں نصر اور الامل اسپتال کے قریب فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کاسلسلہ جاری ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے سے بھی 22 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

  • میکسیکو اور چلی نے  اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر دی

    میکسیکو اور چلی نے اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر دی

    میکسیکو سٹی: اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے میکسیکو اور چلی نے عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق میکسیکو اور چلی کی جانب سے دائر مشترکہ درخواست میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم کی تفتیش کی جائےچلی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگی جرائم کا اسرائیل کی جانب سے جنگی جرائم ہوں یا فلسطین کی جانب سے، چلی تفتیش کی حمایت کرتا ہے۔

    اس سے قبل جنوبی افریقہ کی جانب سے بھی عالمی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی،دوسری جانب فلسطین میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر کے خلاف دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران شکایت درج کی گئی،سوئس پراسیکیوشن نے جمعہ کو کہا کہ غزہ جنگ میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے خلاف سوئٹزرلینڈ کے دورے کےموقع پر شکایت جمع کروائی گئی ہےفیڈرل پراسیکیوٹر آفس (بی اے) نےتصدیق کی ہےکہ اسے اسرائیلی صدر کے خلاف مجرمانہ شکایت موصول ہوئی ہے جو جمعرات کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں غزہ جنگ پر بات کرنے کے لیے موجود تھے۔

    سینئیر لیگی رہنما کو پارٹی سے نکال دیا گیا،نوٹیفکیشن جاری

    بی اے نے ایک بیان میں کہا کہ مجرمانہ شکایات کی جانچ اب معمول کے طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی، "متعلقہ شخص کے استثنیٰ کے سوال کا جائزہ لینے کے لیے” وہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں تھا تاہم آفس نے یہ نہیں بتایا کہ مخصوص شکایات کیا تھیں یا انہیں کس نے درج کروایا تھا۔

    مخالفین خلائی مخلوق سے امید لگائے ہوئے ہیں،بلاول بھٹو

    مخالفین خلائی مخلوق سے امید لگائے ہوئے ہیں،بلاول بھٹو

  • دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف  شکایت درج

    دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف شکایت درج

    غزہ: اقوام متحدہ کی ویمن ایجنسی نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں خواتین کی شہادتوں پر نسلی خاتمے سے خبردار کردیا،جبکہ فلسطین میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر کے خلاف دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران شکایت درج کی گئی-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق سوئس پراسیکیوشن نے جمعہ کو کہا کہ غزہ جنگ میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے خلاف سوئٹزرلینڈ کے دورے کےموقع پر شکایت جمع کروائی گئی ہےفیڈرل پراسیکیوٹر آفس (بی اے) نےتصدیق کی ہےکہ اسے اسرائیلی صدر کے خلاف مجرمانہ شکایت موصول ہوئی ہے جو جمعرات کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں غزہ جنگ پر بات کرنے کے لیے موجود تھے۔

    بی اے نے ایک بیان میں کہا کہ مجرمانہ شکایات کی جانچ اب معمول کے طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی، "متعلقہ شخص کے استثنیٰ کے سوال کا جائزہ لینے کے لیے” وہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں تھا تاہم آفس نے یہ نہیں بتایا کہ مخصوص شکایات کیا تھیں یا انہیں کس نے درج کروایا تھا۔

    اسرائیل کا دمشق میں ایرانی حکام کے زیر استعمال عمارت پر حملہ

    لیکن مبینہ طور پر شکایت کنندگان کی طرف سے جاری کردہ اور اے ایف پی کے حاصل کردہ ایک بیان جس کا عنوان ہے "انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف قانونی کارروائی” میں کہا گیا ہے کہ متعدد نامعلوم افراد نے باسل، برن اور زیورخ میں وفاقی استغاثہ اور کینٹونل حکام کے ساتھ الزامات کا مقدمہ دائر کیا ہے مدعیان اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے جنوبی افریقہ کے پیش کردہ مقدمے کے متوازی طور پر فوج داری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے تھے جس میں اسرائیل پر غزہ جنگ میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے بیان میں تجویز کیا گیا کہ اسے "کچھ خاص حالات میں” بشمول انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے مقدمات میں اٹھایا جا سکتا ہے اور مزید کہا، یہ شرائط اس معاملے میں پوری ہو جاتی ہیں۔”

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک تقریباً 25 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے غزہ میں اسرائیلی بربریت پر اقوام متحدہ کی ویمن ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ غزہ میں ہر ایک گھنٹے میں دو ماؤں کو قتل کیا جارہا ہے، غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں میں 70 فیصد عورتیں اور لڑکیاں شامل ہیں۔

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    واضح رہے کہ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کی صبح مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جن میں 18 فلسطینی شہید ہوگئے اسرائیلی فوج کے زیادہ تر حملے الشفاء اسپتال کے آس پاس کیے گئے ہیں جس میں شیلنگ اور بمباری کی گئی۔

    ادھر امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے میکسیکو اور چلی کے عالمی عدالت انصاف سے اسرائیلی حملوں پر تحقیقات کے مطالبے پر کہا ہےکہ اسرائیل کے جان بوجھ کر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

    بھارتی فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے 150 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دے …

  • اسرائیل کا دمشق میں ایرانی حکام کے زیر استعمال عمارت پر حملہ

    اسرائیل کا دمشق میں ایرانی حکام کے زیر استعمال عمارت پر حملہ

    اسرائیل نے دمشق میں حملہ کیا ہے جس میں‌پانچ افراد کی موت ہوئی ہے

    شامی دارالحکومت دمشق میں اسرائیل نے ایرانی حکام کے زیر استعمال ایک عمارت کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملے میں پانچ افراد کی موت ہوئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار کی بھی موت ہوئی ہے،ذرائع کا بتانا ہے کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی عمارت ایرانی ایڈوائزرز کے زیر استعمال تھی،شام کے سرکاری میڈیا نے دمشق میں عمارت پر ممکنہ اسرائیلی حملہ رپورٹ کیا تھا

    دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے پبلک پراسیکیوشن نے اسرائیلی صدر کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ درج کرانے کا اعلان کردیا، سوئٹزرلینڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی صدر کو عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی،اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کررہا ہے ، اسرائیلی حکام کو سوئٹزرلینڈ کے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    ن لیگ بلاول بھٹو زرداری کے لاہور این اے 127 سے خوف زدہ ہے