Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط ہو گئے

    متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے تجارت ثانی الزیودی کا کہنا ہے کہ معاہدہ ابراہیم معاہدے کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے،ہم نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا ہے ہمارا معاہدہ ترقی کو تیز کرے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کریں گے،معاہدے کے تحت 96 فیصد مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے گی،متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت کا کہنا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کا معاہدہ پانچ سالوں میں باہمی تجارت کی قدر کو 10 بلین ڈالر سے آگے بڑھا دے گا۔

    یہ معاہدہ ستمبر 2020 میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کے بعد ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہوا بازی سے لے کر ٹیکنالوجی تک کے شعبوں میں درجنوں ابتدائی معاہدے ہوئے۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے نومبر 2021 میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا،

    ایمریٹس اور اسرائیل کے درمیان تجارت دو سالوں سے بھی کم عرصے میں 2.5 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں سے اس سال کی پہلی سہ ماہی میں 1 بلین ڈالر سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا،

    کئی مہینوں کی بات چیت کے بعد دستخط کیے گئے تجارتی اور سرمایہ کاری کا معاہدہ، اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ پہلا بڑا تجارتی معاہدہ ہے۔

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لائے جا سکتے ہیں

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک لمبا اور انتہائی محتاط عمل ہے تا ہم ایسا ممکن ہے، تعلقات کو معمول پر لایا جا سکتا ہے اگر کسی معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حیرت انگیز اعلان نہیں ہوگا جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ہونے والے سابقہ معاہدوں کے وقت ہوا تھا ہ اسرائیل امریکا اور خلیجی ممالک سے مل کر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالہ سے کام کر رہا ہے،ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ابراہیم معاہدے کے بعد یہ اگلا قدم ہے

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل اپنے اتحادی امریکا اورخلیجی ملکوں سے مل کرسعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے پرکام کررہا ہے

    اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لاپڈ نے تجویز پیش کی کہ ریاض کو اسرائیل، امریکہ اور کئی خلیجی عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالہ سے کام جاری ہے،

    چار عرب ریاستوں – بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں نام نہاد ابراہم معاہدے پر دستخط کیے تھے ریاض نے معاہدوں کی حمایت کی تھی لیکن اس وقت کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو صرف اسی صورت میں معمول پر لائے گا جب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی طرف "اہم پیش رفت” ہوتی ہے۔

    سعودی عرب نے بھی اکثریتی عرب ریاستوں کی طرح اصرار کیا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔معاہدوں پر دستخط ہونے کے دو سالوں میں اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں پر اپنے پرتشدد حملوں کو روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    گزشتہ ہفتے،ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی بائیڈن انتظامیہ مصر، اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان خاموشی سے ثالثی کر رہی ہے تاکہ ریاض کو تعلقات معمول پر لانے کی ترغیب دی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے کوآرڈینیٹر بریٹ میک گرک اور محکمہ خارجہ کے توانائی کے ایلچی آموس ہوچسٹین سینئر سعودی حکام سے بات چیت کے لیے گزشتہ ہفتے ریاض پہنچے تھے۔ یہ ملاقات اگلے ماہ کے آخر میں بائیڈن کے خود سعودی عرب کے ممکنہ دورے کا پیش خیمہ ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سرکاری سطح پر تعلقات کی عدم موجودگی کے باوجود 2020ء میں اسرائیل اور یواے ای کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا ۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ایل آل اسرائیل ایئرلائنز کے طیارے نے  ابوظبی جانے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود ہی سے پرواز کی تھی

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • مسجد اقصی میں اسرائیلی بربریت کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    مسجد اقصی میں اسرائیلی بربریت کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    اسلام آباد:سینیٹ اجلاس میں مسجد اقصی میں اسرائیلی بربریت کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی-

    باغی ٹی وی : ایوان میں پیش کی گئی قرار داد میں اسرائیلی فوج کے حالیہ تشدد اور دہائیوں سے غزہ کی بندش کی مذمت بھی کی گئی ہے سینیٹر مشتاق احمد کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کے یہ ایوان 72سالوں سے فلسطینی قبضے کی مذمت کرتا ہے-

    سینیٹ اجلاس: اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ

    علاوہ ازیں سینٹ اجلاس میں اسلامو فوبیا اور سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف بھی قرار داد منظور کی گئی۔

    مسجد اقصیٰ میں مشتعل یہودی آباد کاروں کے مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ واقع میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مسلمانوں کو ایک بار پھر اُس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ نماز ادا کر رہے تھے۔

    جنونی جتھے کی سربراہی متعصب انتہا پسند یہودی رہنما ایتامار بین گویر کر رہے تھے۔ صیہونی جتھے نے مسلمانوں کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور نمازیوں کو زدوکوب کیا جس میں درجنوں مسلمان زخمی ہوگئے۔

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    قبل ازیں سینیٹ اجلاس میں اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا سینیٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نےنقطہ اعتراض میں کہا کہ جو پاکستانی اسرائیل کے دورے پر گئے اس پر ایوان میں اعتماد میں لیا جائے احمد قریشی جو پاک فوج کے ادارے کے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں وہ بھی اسرائیل گئے ہیں، جو بھی اسرائیل گئے ہیں ان کی شہریت ختم کی جائے۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم اخباری خبر پر کوئی بات نہیں کرسکتے، میں وزارت خارجہ سےکنفرم کرکے ایوان کوآگاہ کروں گا اسرائیل سےمتعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئےگی،فلسطین ہویااسرائیل ہماری ریاستی پالیسی واضح ہےہم اسرائیل کوبطور ریاست نہیں مانتے ،اسرائیل کاکوئی سرکاری دورہ نہیں ہوامتعلقہ حلقوں سے بات کرکے آفیشل بیان دیں گے-

    مریم نواز کا عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام

  • مریم نواز کا عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام

    مریم نواز کا عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام

    لاہور :مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر ٹوئٹس میں عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ جھوٹے خط، جھوٹی عالمی سازش، قتل کا جھوٹا ڈرامہ فیل ہونے کے بعد تاریخ کے سب سے ناکام لانگ مارچ کے بعد اب اسرائیل وفد بھیجے جانے کی انتشار (عمران) خان کی ایک اور دو نمبری (ہے)۔


    انہوں نے کہا کہ فتنہ خان پورے پاکستان میں واحد شخص تم ہوجس کا اسرائیل سےبراہ راست خاندانی واسطہ ہے ایک مسلمان پاکستانی کےمقابلےمیں زیک گولڈ اسمتھ کی الیکشن کیمپئین کرنے والے میں تمہیں وارننگ دیتی ہوں جھوٹ بولنے سے باز آجاؤ ورنہ منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی-


    قبل ازیں مریم نواز نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجرکے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں داخل کرائےگئے جواب پر کہا کہ اصل خوف یہ ہےکہ پکڑے گئے تو قدموں کے نشان بنی گالا محل تک جائیں گے-

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئےکہا کہ جب چوری کی ہو تو پھر ایسے فرار اختیار کرنےکی کوشش کی جاتی ہے اصل خوف یہ ہےکہ پکڑے گئے تو قدموں کے نشان بنی گالا محل تک جائیں گے۔

    اس بار بھر پور تیاری کے ساتھ جائیں گے،عمران خان


    فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجرکے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس میں نیب نے ان کے 4 ملازمین کو طلب کر رکھا تھاآج ان کے ملازمین محمد آصف، محمد منیر، مظاہر بیگ اور محمد وقار نے پیش ہونے کے بجائے اپنے وکیل اظہر صدیق کے ذریعے تحریری جواب جمع کرا دیا۔

    فرح خان کے ملازمین نیب خود پیش نہ ہوئے، جواب جمع کروا دیا

    جواب میں لکھا گیا کہ نیب کا نوٹس جاری کرنے کا عمل غیر قانونی اوراختیارات سے تجاوز ہے، فرح خان کبھی بھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہیں، نہ ہی کبھی کسی سرکاری دفتر میں ملازمت اختیار کی، تمام ملازمین غوثیہ بلڈرز میں ملازم رہے ہیں ایک ملازم فرح خان کے گھر میں ٹیوشن پڑھاتا ہے، نیب اپنے دائرہ اختیار کا تعین کرے ورنہ اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے-

    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، 199 روپے 6 پیسے کا ہو گیا

  • سینیٹ اجلاس: اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ

    سینیٹ اجلاس: اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ

    اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نےنقطہ اعتراض میں کہا کہ جو پاکستانی اسرائیل کے دورے پر گئے اس پر ایوان میں اعتماد میں لیا جائے-

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ احمد قریشی جو پاک فوج کے ادارے کے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں وہ بھی اسرائیل گئے ہیں، جو بھی اسرائیل گئے ہیں ان کی شہریت ختم کی جائے۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم اخباری خبر پر کوئی بات نہیں کرسکتے، میں وزارت خارجہ سےکنفرم کرکے ایوان کوآگاہ کروں گا اسرائیل سےمتعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئےگی،فلسطین ہویااسرائیل ہماری ریاستی پالیسی واضح ہےہم اسرائیل کوبطور ریاست نہیں مانتے ،اسرائیل کاکوئی سرکاری دورہ نہیں ہوامتعلقہ حلقوں سے بات کرکے آفیشل بیان دیں گے-

    سینیٹ میں قائد خزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پرواضح لکھا ہے کہ آپ اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ نہیں کرسکتے، امپورٹڈ حکومت امریکا اوراسرائیل کی خوشنودی پر لگےہوئے ہیں اور پی ٹی وی کا ایک ملازم احمد قریشی بھی اسرائیل گیا ہے۔

    راولپنڈی چیمبر آف کامرس کا حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے میثاق معیشت کرنے کا مطالبہ

    قبل ازیں فاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت پاکستانی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی فلسطین پر پاکستان کی پالیسی واضح اور قائداعظم کے فرامین پر مبنی ہے، پاکستان کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے منافی کوئی پالیسی یا اقدام نہیں ہوسکتا پاکستان مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنے روایتی اور اصولی موقف پر سختی سے کاربند ہے –

    انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ واضح کرچکی ہے کہ پاکستان سے کوئی وفد اسرائیل نہیں گیا،دنیا دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کا ضامن تصور کرتی ہے،یت المقدس دارالحکومت اورجغرافیائی وحدت کی حامل فلسطینی ریاست کا وعدہ پورا کیاجائےسستی سیاسی شہرت کیلئے ہر منفی اقدام کرنےوالے کسی قومی مفاد کا تو خیا ل کریں دورے میں شامل پی ٹی وی کےاینکر کومعطل اورآف ائیرکردیاگیا ہے اینکر احمد قریشی کو 26 مئی کو ہی برطرف کیا جا چکا ہے-

    اس بار بھر پور تیاری کے ساتھ جائیں گے،عمران خان

  • اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیر اطلاعات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت پاکستانی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فلسطین پر پاکستان کی پالیسی واضح اور قائداعظم کے فرامین پر مبنی ہے، پاکستان کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے منافی کوئی پالیسی یا اقدام نہیں ہوسکتا پاکستان مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنے روایتی اور اصولی موقف پر سختی سے کاربند ہے وزارت خارجہ واضح کرچکی ہے کہ پاکستان سے کوئی وفد اسرائیل نہیں گیا،دنیا دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کا ضامن تصور کرتی ہے،بیت المقدس دارالحکومت اور جغرافیائی وحدت کی حامل فلسطینی ریاست کا وعدہ پورا کیا جائے،سستی سیاسی شہرت کیلئے ہر منفی اقدام کرنے والے کسی قومی مفاد کا تو خیا ل کریں دورے میں شامل پی ٹی وی کے اینکر کومعطل اورآف ائیر کردیا گیا ہے اینکر احمد قریشی کو 26 مئی کو ہی برطرف کیا جا چکا ہے

    قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی،فلسطین ہو یا اسرائیل ہماری ریاستی پالیسی واضح ہے ،ہم اسرائیل کو بطور ریاست نہیں مانتے ،اسرائیل کاکوئی سرکاری دورہ نہیں ہوامتعلقہ حلقوں سے بات کرکے آفیشل بیان دیں گے ,

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروائی گئی ہے،قرارداد ن لیگی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، حنا پرویزبٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جس صحافی نے اسرائیل کا دورہ کیا اسکو پی ٹی آئی حکومت نے پی ٹی وی میں بھرتی کیا۔خود اسرائیل سے پینگیں بڑھانے والی پی ٹی آئی یاد رکھے کہ ہم کشمیر اور فلسطین کے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں کریں گے ، ان کی حمایت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے حق میں پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی

    دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے کسی وفد کے دورہ اسرائیل یا اسرائیلی حکام سے ملاقات کا تصور واضح طور پر مسترد کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ زیربحث دورےکا اہتمام غیر ملکی این جی او نے کیا تھا جو پاکستان میں مقیم نہیں۔

    دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفدکے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

  • دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفد کے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے۔

    دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفد کے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے۔

    تل ابیب :دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفدکے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے۔ایک بیان میں ترجمان دفترخارجہ نےکہا ہےکہ پاکستان کےکسی وفدکے دورہ اسرائیل کا تصور واضح مسترد کرتے ہیں، زیربحث دورےکا اہتمام غیر ملکی این جی او نے کیا تھا جو پاکستان میں مقیم نہیں۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ مسئلہ فلسطین پرپاکستان کامؤقف واضح اور غیر مبہم ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی مستقل حمایت کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہےکہ خطے میں دیرپا امن کے لیے آزاد، قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، ہماری پالیسی میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی جس پرمکمل قومی اتفاق رائےہو۔

     

     

    خیال رہےکہ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے عالمی اقتصادی فورم میں بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گزشتہ ہفتے ان سے دو وفود نے ملاقات کی جن میں امریکا میں مقیم دو پاکستانی بھی شامل تھے۔اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد سے ان کی ملاقات بے حد خوش آئند رہی۔

    اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے پاکستانی وفد سے ملاقات کرنے کی تصدیق کر دی۔تفصیلات کے مطابق عالمی اقتصادی فورم میں بات چیت کرتے ہوئے اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے تصدیق کی ہے کہ دو ہفتے قبل جنوبی ایشیا سے ایک وفد نے ہماری سرزمین پر مجھ سے ملاقات کی تھی، وفد میں 2 پاکستان نژاد امریکی شہری بھی شامل تھے تاہم انہوں نے وفد میں شامل افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    اسرائیلی صدر نے کہا کہ پاکستانی وفد سے ان کی ملاقات بے حد خوش آئند رہی اور مجھے خوشگوار حیرت بھی ہوئی کیوں کہ اس سے قبل کبھی پاکستانی وفد سے اسرائیل میں ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ملاقات میں شامل پاکستانی شہری مستقل طور پر امریکا میں مقیم ہیں لیکن انھیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

     

    اس سے قبل پاکستانی نژاد امریکی شہری انیلا احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات کی تصویر شیئر کی تھی۔ جس میں وہ اپنے والد قطب الدین احمد کی تحریک پاکستان اور قائد اعظم پر لکھی گئی کتاب اسرائیلی صدر کو پیش کر رہی ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستانی اور امریکی شہریوں پر مشتمل ایک وفد نے حال ہی میں اسرائیل کا 7 روزہ دورہ کیا تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ اس دورے کا انتظام امریکی مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز امپاورمنٹ کونسل کی پاکستانی نژاد امریکی خواتین رہنماؤں نے ’شراکا‘ کے ساتھ مل کر کیا جو عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کو فروغ دیتی ہے اور اس وفد میں پاکستانی، بنگالی، امریکی اور ملائیشیا سے اراکین شامل ہیں۔

  • اسرائیل شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات جلد مکمل کرے،انٹونی بلنکن

    اسرائیل شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات جلد مکمل کرے،انٹونی بلنکن

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق انٹونی بلنکن اپنے اسرائیلی ہم منصب سے فلسطینی نژاد امریکی خاتون صحافی شیریں ابوعاقلہ کی اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکت سے متعلق بات چیت کی ہے دونوں وزراء خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے فلیگ مارچ کی وجہ سے صورت حال کشیدہ ہے۔

    خاتون صحافی کے قتل پر الجزیرہ کا عالمی عدالت جانے کا اعلان

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ اعلی امریکی سفارت کار نے اسرائیلی وزیر خارجہ اور متبادل وزیر اعظم یائر لاپیڈ سے گفتگو میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی پرسکون رہیں دونوں رہنماؤں نے عالمی چیلنجز بشمول ایران اور اس کی ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنے سے متعلق مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    امریکی سفارت کار نے اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ کو بتایا کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران قتل سے متعلق تحقیقات اسرائیل جلد مکمل کرے۔

    الجزیرہ کی عربی سروس کی تجربہ کارفلسطینی نژاد امریکی نامہ نگارابوعاقلہ کو11 مئی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے جنین میں اسرائیلی فوجیوں نےچھاپامار کارروائی کےدوران میں سرمیں گولی ماردی تھی وہ اس وقت اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کےخلاف کارروائی کی کوریج کررہی تھیں۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالات کشیدہ:ایران کے زیرزمین فوجی ڈرونز اڈے کا انکشاف

    امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنے طور پرجنین میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ ان سے عینی شاہدین کے بیان کی تائید ہوتی ہے کہ ابوعاقلہ کو اسرائیلی فوجیوں نے گولی ماری تھی حالانکہ انھوں نے ہیلمٹ اور پریس والی واسکٹ پہن رکھی تھی جس سے واضح طور پر ان کی شناخت میڈیا کی شخصیت کے طور پرہو رہی تھی۔

    امریکی وزیرخارجہ نے واشنگٹن کی جانب سےمسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے امریکہ اور ایران 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے آگے پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

    اس کے بعد سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی سی صورت حال چلی آ رہی ہے جس میں ایران نے امریکہ پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو متوقع جوہری معاہدے کو سپوتاژ کرنے کے لیے ساتھ دے رہا ہے۔

    امریکا نے چین کو عالمی نظام کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیدیا

  • عراق:اسرائیل سے تعلق ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ

    عراق:اسرائیل سے تعلق ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ

    عراقی پارلیمان نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنے پر موت یا عمر قید کی سزا کا نیا قانون منظور کر لیا ہے،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی پارلیمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس قانون کی منظوری عوامی امنگوں کی حقیقی آئینہ دار ہے۔ عراق کی 329 رکنی پارلیمان میں 275 ارکان نے اس مسودہ قانون کی حمایت کی۔تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس قانون کا نفاذ کیسے ممکن ہو گادوسری جانب، امریکہ نے اپنے رد عمل میں اس قانون سازی پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

    اس ضمن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ اس قانون سازی کے نتیجے میں نا صرف آزادی اظہار کے متاثر ہونے بلکہ اختلاف رائے کو دبانے کے بھی خدشات بہت واضح ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ عراق کے ہمسایہ ممالک کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور خطے کے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنےکی کوششوں کے بھی برعکس ہے۔

    یاد رہے، رواں سال کے آغاز پر ایران نے نیم خود مختار عراقی کردستان کے شہر اربیل پر ایک درجن کے قریب بیلسٹک میزائل داغے تھے اور تب تہران نے کہا تھا کہ ایسا وہاں قائم اسرائیلی خفیہ اداروں کے ایک مبینہ مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

  • ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    اسرائیلی وزیر خارجہ یائیر لاپد اور ان کے ترک ہم منصب مولوت کاوسوگلو نے آج یروشلم میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اوغلو اسرائیل کے دورے پر ہیں ترک وزیر خارجہ گزشتہ روز اسرائیل پہنچے تھے 15 سال بعد یہ کسی بھی ترک وزیر خارجہ کا پہلا دورہ اسرائیل ہے دورے کے دوران آج دونوں ممالک کے وزرائے خآرجہ کے درمیان ملاقات ہوئی-

    وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ معاشی کمیٹی کے کام کا ازسر نو جائزہ لینے اور سول ایوی ایشن معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب سے ملاقات کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ ’ہم یہ بناوٹ نہیں کرسکتے کہ ہمارے تعلقات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں آئے لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ باہمی تعلقات میں ایک باب بند اور نیا باب کیسے کھولا جاتا ہے‘۔

    ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم یروشلم اور مسجد اقصیٰ سے متعلق فکرمند ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آگئے تو اس کا مثبت اثر ہوگا۔

    تاہم اس اہم ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے انقرہ اور تل ابیب میں دوبارہ سفیر تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔

    قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رملّا کا سفر کیا ملاقات میں فلسطین کی آزادی کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، باہمی تعلقات سمیت یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے حالیہ حملے پر بات چیت کی


    ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر کو یقین دہانی کروائی کہ اسرائیل کے ساتھ ترکی کے بڑھتے تعلقات سے فلسطینیوں کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    ترک وزیر خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ اور یروشلم کے پرانے علاقوں کا بھی دورہ کیا جبکہ اسرائیل میں رہائش پذیر ترک شہریوں سے بھی ملاقات کی۔

    یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی صدر آئیزیک ہرزوگ نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور صدر طیب اردوان سے ملاقات کی تھی۔