Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفد کے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے۔

    دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفد کے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے۔

    تل ابیب :دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفدکے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے۔ایک بیان میں ترجمان دفترخارجہ نےکہا ہےکہ پاکستان کےکسی وفدکے دورہ اسرائیل کا تصور واضح مسترد کرتے ہیں، زیربحث دورےکا اہتمام غیر ملکی این جی او نے کیا تھا جو پاکستان میں مقیم نہیں۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ مسئلہ فلسطین پرپاکستان کامؤقف واضح اور غیر مبہم ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی مستقل حمایت کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہےکہ خطے میں دیرپا امن کے لیے آزاد، قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، ہماری پالیسی میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی جس پرمکمل قومی اتفاق رائےہو۔

     

     

    خیال رہےکہ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے عالمی اقتصادی فورم میں بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گزشتہ ہفتے ان سے دو وفود نے ملاقات کی جن میں امریکا میں مقیم دو پاکستانی بھی شامل تھے۔اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد سے ان کی ملاقات بے حد خوش آئند رہی۔

    اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے پاکستانی وفد سے ملاقات کرنے کی تصدیق کر دی۔تفصیلات کے مطابق عالمی اقتصادی فورم میں بات چیت کرتے ہوئے اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے تصدیق کی ہے کہ دو ہفتے قبل جنوبی ایشیا سے ایک وفد نے ہماری سرزمین پر مجھ سے ملاقات کی تھی، وفد میں 2 پاکستان نژاد امریکی شہری بھی شامل تھے تاہم انہوں نے وفد میں شامل افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    اسرائیلی صدر نے کہا کہ پاکستانی وفد سے ان کی ملاقات بے حد خوش آئند رہی اور مجھے خوشگوار حیرت بھی ہوئی کیوں کہ اس سے قبل کبھی پاکستانی وفد سے اسرائیل میں ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ملاقات میں شامل پاکستانی شہری مستقل طور پر امریکا میں مقیم ہیں لیکن انھیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

     

    اس سے قبل پاکستانی نژاد امریکی شہری انیلا احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات کی تصویر شیئر کی تھی۔ جس میں وہ اپنے والد قطب الدین احمد کی تحریک پاکستان اور قائد اعظم پر لکھی گئی کتاب اسرائیلی صدر کو پیش کر رہی ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستانی اور امریکی شہریوں پر مشتمل ایک وفد نے حال ہی میں اسرائیل کا 7 روزہ دورہ کیا تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ اس دورے کا انتظام امریکی مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز امپاورمنٹ کونسل کی پاکستانی نژاد امریکی خواتین رہنماؤں نے ’شراکا‘ کے ساتھ مل کر کیا جو عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کو فروغ دیتی ہے اور اس وفد میں پاکستانی، بنگالی، امریکی اور ملائیشیا سے اراکین شامل ہیں۔

  • اسرائیل شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات جلد مکمل کرے،انٹونی بلنکن

    اسرائیل شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات جلد مکمل کرے،انٹونی بلنکن

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق انٹونی بلنکن اپنے اسرائیلی ہم منصب سے فلسطینی نژاد امریکی خاتون صحافی شیریں ابوعاقلہ کی اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکت سے متعلق بات چیت کی ہے دونوں وزراء خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے فلیگ مارچ کی وجہ سے صورت حال کشیدہ ہے۔

    خاتون صحافی کے قتل پر الجزیرہ کا عالمی عدالت جانے کا اعلان

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ اعلی امریکی سفارت کار نے اسرائیلی وزیر خارجہ اور متبادل وزیر اعظم یائر لاپیڈ سے گفتگو میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی پرسکون رہیں دونوں رہنماؤں نے عالمی چیلنجز بشمول ایران اور اس کی ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنے سے متعلق مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    امریکی سفارت کار نے اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ کو بتایا کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران قتل سے متعلق تحقیقات اسرائیل جلد مکمل کرے۔

    الجزیرہ کی عربی سروس کی تجربہ کارفلسطینی نژاد امریکی نامہ نگارابوعاقلہ کو11 مئی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے جنین میں اسرائیلی فوجیوں نےچھاپامار کارروائی کےدوران میں سرمیں گولی ماردی تھی وہ اس وقت اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کےخلاف کارروائی کی کوریج کررہی تھیں۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالات کشیدہ:ایران کے زیرزمین فوجی ڈرونز اڈے کا انکشاف

    امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنے طور پرجنین میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ ان سے عینی شاہدین کے بیان کی تائید ہوتی ہے کہ ابوعاقلہ کو اسرائیلی فوجیوں نے گولی ماری تھی حالانکہ انھوں نے ہیلمٹ اور پریس والی واسکٹ پہن رکھی تھی جس سے واضح طور پر ان کی شناخت میڈیا کی شخصیت کے طور پرہو رہی تھی۔

    امریکی وزیرخارجہ نے واشنگٹن کی جانب سےمسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے امریکہ اور ایران 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے آگے پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

    اس کے بعد سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی سی صورت حال چلی آ رہی ہے جس میں ایران نے امریکہ پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو متوقع جوہری معاہدے کو سپوتاژ کرنے کے لیے ساتھ دے رہا ہے۔

    امریکا نے چین کو عالمی نظام کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیدیا

  • عراق:اسرائیل سے تعلق ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ

    عراق:اسرائیل سے تعلق ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ

    عراقی پارلیمان نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنے پر موت یا عمر قید کی سزا کا نیا قانون منظور کر لیا ہے،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی پارلیمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس قانون کی منظوری عوامی امنگوں کی حقیقی آئینہ دار ہے۔ عراق کی 329 رکنی پارلیمان میں 275 ارکان نے اس مسودہ قانون کی حمایت کی۔تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس قانون کا نفاذ کیسے ممکن ہو گادوسری جانب، امریکہ نے اپنے رد عمل میں اس قانون سازی پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

    اس ضمن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ اس قانون سازی کے نتیجے میں نا صرف آزادی اظہار کے متاثر ہونے بلکہ اختلاف رائے کو دبانے کے بھی خدشات بہت واضح ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ عراق کے ہمسایہ ممالک کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور خطے کے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنےکی کوششوں کے بھی برعکس ہے۔

    یاد رہے، رواں سال کے آغاز پر ایران نے نیم خود مختار عراقی کردستان کے شہر اربیل پر ایک درجن کے قریب بیلسٹک میزائل داغے تھے اور تب تہران نے کہا تھا کہ ایسا وہاں قائم اسرائیلی خفیہ اداروں کے ایک مبینہ مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

  • ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    اسرائیلی وزیر خارجہ یائیر لاپد اور ان کے ترک ہم منصب مولوت کاوسوگلو نے آج یروشلم میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اوغلو اسرائیل کے دورے پر ہیں ترک وزیر خارجہ گزشتہ روز اسرائیل پہنچے تھے 15 سال بعد یہ کسی بھی ترک وزیر خارجہ کا پہلا دورہ اسرائیل ہے دورے کے دوران آج دونوں ممالک کے وزرائے خآرجہ کے درمیان ملاقات ہوئی-

    وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ معاشی کمیٹی کے کام کا ازسر نو جائزہ لینے اور سول ایوی ایشن معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب سے ملاقات کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ ’ہم یہ بناوٹ نہیں کرسکتے کہ ہمارے تعلقات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں آئے لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ باہمی تعلقات میں ایک باب بند اور نیا باب کیسے کھولا جاتا ہے‘۔

    ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم یروشلم اور مسجد اقصیٰ سے متعلق فکرمند ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آگئے تو اس کا مثبت اثر ہوگا۔

    تاہم اس اہم ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے انقرہ اور تل ابیب میں دوبارہ سفیر تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔

    قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رملّا کا سفر کیا ملاقات میں فلسطین کی آزادی کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، باہمی تعلقات سمیت یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے حالیہ حملے پر بات چیت کی


    ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر کو یقین دہانی کروائی کہ اسرائیل کے ساتھ ترکی کے بڑھتے تعلقات سے فلسطینیوں کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    ترک وزیر خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ اور یروشلم کے پرانے علاقوں کا بھی دورہ کیا جبکہ اسرائیل میں رہائش پذیر ترک شہریوں سے بھی ملاقات کی۔

    یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی صدر آئیزیک ہرزوگ نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور صدر طیب اردوان سے ملاقات کی تھی۔

  • ایران کا پاسداران انقلاب کےسینئیر کرنل کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام

    ایران کا پاسداران انقلاب کےسینئیر کرنل کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام

    ایرانی انٹیلی جنس نےالزام عائد کیا ہےکہ اتوار کو دارالحکومت تہران کے مرکز میں سپاہ پاسدارانِ انقلاب کےایک افسرکےقتل میں اسرائیلی جاسوس سیل کا ہاتھ ہے-

    باغی ٹی وی : ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس نے اشارہ کیا کہ کرنل صیاد خدائی کے قتل اور اسرائیلی سیل کی دریافت کے درمیان تعلق ہے تہران میں قتل کیے گئے کرنل نے شام کو ہتھیاروں کی منتقلی اور ڈرون تیار کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔

    پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کرنل کے قتل کا بدلہ لیں گے،ایرانی صدر کا اعلان

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ریڈیو نے کہا ہے کہ تہران میں ہلاک ہونے والے ایرانی کرنل نے قبرص اور یونان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے خدائی کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ تہران کو اپنے مقاصد کے حصول سے نہیں روکے گا ایران کی وزارت خارجہ نے اس قتل کے پیچھے اسرائیل سے منسلک عناصر کو "واضح طور پر” ذمہ دار ٹھہرایا۔

    قبل ازیں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے پیر کو خبردار کیاکہ ایران پاسداران انقلاب کےکرنل کے قتل کا بدلہ لے گا جسے تہران میں گولی مار کرقتل کر دیا گیا تھا-

    ایرانی صدرمملکت نے شہید کرنل صیاد خدایی کی شہادت پر اس کے اہل خانہ اور پاسداران انقلاب کو تعزیت اور تہنیت پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس وحشیانہ اقدام میں بلاشبہ عالمی استکبار کا ہاتھ نظر آتا ہے-

    پیرس: چیکنگ کیلئے روکنے پر قطر کے سفارت خانے پرتعینات سیکیورٹی گارڈ قتل

    انہوں نے شہید خدائی کے بلنددرجات کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دشمن میدان جنگ میں مدافع حرم سے ہار گئے اسی لئے اس طرح اقدامات کے ساتھ اپنی مایوسی ظاہر کرنا چاہتے ہیں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کو سنجیدہ تعاقب کرنا چاہئیے اورہمیں یقین ہے کہ اس عظیم شہید کے خون کا بدلہ مجرموں سے لیا جائے گا-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تہران میں دو موٹر سائیکل سواروں نے کرنل صیاد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا جب وہ گھر میں داخل ہورہے تھے، کرنل صیاد کو پانچ گولیاں لگیں، خبر رساں ادارے کے مطابق تاحال کسی بھی گروپ کی جانب سے پاسداران انقلاب کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے-

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کرنل خدائی کے قاتلوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی انہیں پکڑ کرقانون کے حوالے کیا جائے گا۔

    فلپائن: سمندرمیں مسافر بردار جہاز میں آتشزدگی،7 افراد ہلاک، 10 لاپتہ

  • اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    پشاور: اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:اطلاعات کے مطابق پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے عرب ممالک کو آمادہ کیا، اس مہم میں عمران خان ساتھ تھا۔

    جے یو آئی کے تحت پشاور میں تقدس حرم کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن لڑ رہا تھا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ٹرمپ کی انتخابی مہم کا مرکز بنا دیا تھا اور آج بھی خبریں زیر گردش ہیں کہ کچھ اینکرز اسرائیل میں نظر آئے انہوں نے بھی واضح کردیا کہ اسرائیل جانے کے لیے منظوری عمران خان نے دی۔

    انہوں نےکہاکہ حالیہ رمضان المبارک میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ وفد مسجد نبوی میں پہنچے تو برطانیہ سےانیل مسرت اور جہانگیر کس مقصد سے ایک دن پہلے پہنچے تھے، برطانیہ میں پی ٹی آئی کا صدر یہ ہنگامہ کرانے مدینہ آیا تھا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں یہودیوں کے ایجنٹوں پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے مسلمان اور جے یو آئی کے جیالے پاکستان اور اس کی سیاست سے نکال لیں گے۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر تم نے ناموس کو چھڑا یا اسی جرات کی تو تمہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیں گے۔

  • اسرائیلی پولیس کی طرف سے الجزیرہ کی صحافی کے تابوت پر حملہ:اسرائیلی وزیراپنی حکومت پربرس پڑا

    اسرائیلی پولیس کی طرف سے الجزیرہ کی صحافی کے تابوت پر حملہ:اسرائیلی وزیراپنی حکومت پربرس پڑا

    یروشلم :جمعے کو اسرائیلی پولیس نے الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو اکلیح کی تابوت لے جانے والے فلسطینی سوگواروں پر حملے کے خلاف سخت ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ اسرائیلی وزیر برائے علاقائی تعاون اساوی فریج نے ہفتے کے روز مقبوضہ مشرقی یروشلم میں الجزیرہ کی صحافی شیرین ابو اکلیح کے جنازے پر حملہ کرنے پر اسرائیلی پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پولیس میں کوئی شرم اور حیا نہیں ہے

    فریج جو کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ میں ایک عرب قانون ساز بھی ہیں، نے ٹویٹ کیا کہ پولیس نے شیرین ابو اکلیح کی میت کی "بے حرمتی” کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج نے سوگواروں کے ساتھ اظہارافسوس کرنے کی بجائے ان پرمزید قہر برپا کردیا ہے

    اسرائیلی وزیرفریج نے کہا کہ وہ جنازے کے دوران فلسطینی جھنڈوں سے اسرائیلی پولیس کے خوف کو نہیں سمجھ سکتے، انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینی وزراء کے ساتھ بیٹھتے ہیں جہاں میز پر اسرائیلی اور فلسطینی جھنڈے ہیں۔

    اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکی کانگریس کے ارکان سمیت دنیا بھر کے درجنوں حکام اور سفارت کاروں نے صحافی کے جنازے میں شریک فلسطینی سوگواروں پر اسرائیلی جبر کی مذمت کی۔

    یاد رہے کہ جمعہ کے روز اسرائیلی پولیس نے سوگواروں کو گھیرے میں لے لیا اور مشرقی یروشلم کے شیخ جراح محلے میں فرانسیسی ہسپتال کے باہر ابو اکلیح کی تابوت لے جانے والے پیلی بیئرز پر حملہ کرنے کے لیے سٹن گرینیڈ اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔

    51 سالہ تجربہ کار صحافی ابو اکلیح مقبوضہ مغربی کنارے میں جینین پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فوج کے ایک چھاپے کی کوریج کر رہی تھیں جب انہیں بدھ کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ فلسطینی حکام اور اس کے آجر الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اسے اسرائیلی فورسز نے قتل کیا ہے۔

  • عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے تیار تھے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے صحافی و اینکر احمد قریشی نے دعویٰ کیا کہ بطور وزیراعظم عمران خان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کے لئے تیار تھے، اور اس ضمن میں عمران خان نے ذارت اور خاندانی رابطوں کو بھی استعمال کیا، احمد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کی حالت جب غیر مستحکم ہوئی تو پھر وہ پیچھے ہٹے، اس حوالہ سے چند نئی معلومات بھی سامنے آئیں گی

    احمد قریشی کے اس دعوے کو پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے بے بنیاد قرار دیا تا ہم احمد قریشی اپنے اس دعوے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ عمران خان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے

    دوسری جانب تحریک انصاف کی رہنما، سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ردعمل میں کہا کہ احمد قریشی عمران خان پر بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں، میں اس بات کو دہراؤں گی کہ یہ غلط کہہ رہے ، ہمیں بہت سے ایسے مسائل پر بولنے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں ہم ابھی تک خاموش ہیں

    ایک اور ٹویٹ میں شریں مزاری کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کس کیلئے کام کرتاہے ، تو سوال یہ ہے کہ اسے عمران خان کی خارجہ پالیسی کو نشانہ بنانے کیلئے کون فیڈنگ کروا رہاہے ، اس دوران عمران خان نے تنقید کی کیونکہ احمد قریشی جیسے بوائز چاہتے تھے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے ، عمران خان نے پوری طرح اسرائیل کو عوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا عمران خان نے اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی کی مسلسل عوامی سطح پر مذمت کی ، احمد قریشی کو چاہیے کہ وہ حقائق کا مطالعہ کریں ہم بہت سے حساس معاملات پر خاموش ہیں لیکن ہمیں کونے میں نہ دھکیلا جائے ہم ایک سال سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ شخص عمران خان اور اس کی آزاد خارجہ پالیسی کو سنگین الزامات لگا کر نشانہ بنا رہا ہے جواب اس لیے نہیں دیا کیونکہ اس کے پاس کوئی خاصیت نہیں ہے

    قبل ازیں سابق وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نےاسرائیل کا دورہ کرنے پر معروف صحافی احمد قریشی کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا شیریں مزاری کو جواب دیتے ہوئے احمد قریشی نے کہا آج کی خودساختہ پی ٹی آئی اسرائیلی مخالف 2005 میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجیک اسٹڈیز کی ڈائریکٹر جنرل تھیں جب ان کے باس اس وقت کی پرویز مشرف حکومت کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ترکی میں پہلی پاکستان اسرائیل میٹنگ کی تھی جس کے بعد اسرائیل نے درآمدی لائسنس ختم کردیا تھا اس وقت اعتراض نہ کرکے انہوں نے اپنی نوکری بچائی پاکستانی وزیر خارجہ کی اسرائیلی وزیر خارجہ کی باضابطہ ملاقات پر اعتراض نہیں کیا وہ اس عہدے پر2008 تک رہی .احمد قریشی نے اپنے ٹویٹ میں قصوری کی اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کی تصاویر بھی شیئر کی .

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات و دیگر کئی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر چکے ہیں، ترکی کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات قائم ہیں،سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ پس پردہ تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے،سعودی عرب نے اسرائیل کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، عمران خان کے دور حکومت میں خبریں آئی تھیں کہ زلفی بخاری نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے تا ہم بعد میں انہوں نے تردید کی ،

    موجودہ وزیر خارجہ بلاول زرداری نے بھی زلفی بخاری کی اسرائیل کے دورے کی خبروں پر وضاحت مانگی تھی ،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان زلفی بخاری اور اسرائیل حکام کے درمیان کی ملاقات کے حقائق عوام کے سامنے لائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کے حوالہ سے حقائق لے کر آئے اگر وہ نہیں گیا تو جو جہاز جو اسرائیل پہنچا تھا جو جہاز کی ڈیٹیل ہے وہ قوم کے سامنے لائے، سب پتہ چل جائے گا، دوسرا بتایا جائے کہ اگر جہاز کا یہی روٹ تھا تو کس نے اجازت دی، زلفی بخاری کو جہاز نے نہیں اٹھایا تو کس نے اٹھایا یہ خبر اسرائیل کے اخبار نے اسرائیل کے سنسر بورڈ سے اجازت لے کر شائع کی، پی پی مطالبہ کرتی ہے کہ اس جہاز کی تفصیل سامنے لائی جائے، سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث چل رہی ہے

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

     

  • اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں الجزیرہ کی معروف صحافی کا قتل، وزیراعظم کی شدید مذمت

    اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں الجزیرہ کی معروف صحافی کا قتل، وزیراعظم کی شدید مذمت

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی جانب سے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل کی جانے والی الجزیرہ کی معروف صحافی کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے الجزیرہ کی معروف صحافی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ الجزیرہ کی معروف صحافی شیریں ابو اکلیح کے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظلوم لوگوں کی کہانیاں سنانے والوں کی آواز کو خاموش کرنا اسرائیل کی جانب سے استعمال کی جانے والی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

     

     

    خیال رہے کہ ازہ ترین واقعے میں ظالم اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ ٹی وی کی معروف خاتون رپورٹر شیریں ابو عاقلہ جاں بحق اور ان کے ہمراہ موجود صحافی علی السمودی شدید زخمی ہو گئے۔

    الجزیرہ ٹیلیویژن کی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں جنین پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بول کر ایک گھر کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی مسلح افراد کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اِن جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے دو صحافی شدید زخمی ہو گئے۔ ایک خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ جاں بحق اور علی السمودی زخمی ہوگئے۔

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ابو اقلہ کے سر میں گولی لگی تھی جبکہ ایک اور فلسطینی صحافی کو بھی گولی لگنے کا واقع پیش آیا ہے تاہم یروشلم میں مقیم القدس اخبار کے لیے کام کرنے والے علی سامودی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے بعد صحافی کو فوری اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی، اور ڈاکٹرز نے ان کے مرنے کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صحافی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ، لیکن واقعے کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ شیریں ابو اقلہ کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں کے لیے ایک بہت مشکل وقت ہے جو ان کے ساتھ وہاں کام کر رہے تھے۔جھڑپیں آئی ڈی ایف، شن بیٹ اور بارڈر پولیس فورسز کی گرفتاری کی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئیں، جن میں جنین پناہ گزین کیمپ، برکین قصبے کے قریب اور مغربی کنارے کے متعدد دیگر مقامات پر بھی شامل ہے۔

    جنین میں آپریشن کے دوران، فلسطینیوں کی طرف سے "بڑے پیمانے پر لائیو فائر” کے طور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی پھینکے فوجیوں نے براہ راست فائرنگ کا جواب دیا۔فلسطین اور بیرون ملک سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر صحافی کی بہادری اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ صحافی زخمی ہوئے ہیں، "ممکن ہے فلسطینیوں کی فائرنگ سے” لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوئی ہلاک ہوا ہے آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل Avichai Adraee کے مطابق، اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ان کی موت کی مشترکہ تحقیقات شروع کرنے کی پیشکش کی۔

  • اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

    فلسطین میں الجزیرہ کی صحافی شیرین ابو اقلہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید جبکہ کیمرہ مین علی سمودی شدید زخمی ہو گئےشیریں ابو اقلہ کا تعلق فلسطین سے تھا، خاتون جینن میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں کی کوریج کررہی تھیں۔

    باغی ٹی وی : "یروشلم پوسٹ” کی رپورٹ کےمطابق الجزیرہ کی نامہ نگارشیریں ابو اقلہ بدھ کی صبح جنین میں مسلح فلسطینیوں اور آئی ڈی ایف فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران شہید اور ایک اور صحافی زخمی ہو گیا۔

    اسرائیل میں دنیا کا پہلا زیر زمین "راکٹ پروف” بلڈ بینک

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ابو اقلہ کے سر میں گولی لگی تھی جبکہ ایک اور فلسطینی صحافی کو بھی گولی لگنے کا واقع پیش آیا ہے تاہم یروشلم میں مقیم القدس اخبار کے لیے کام کرنے والے علی سامودی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے بعد صحافی کو فوری اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی، اور ڈاکٹرز نے ان کے مرنے کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صحافی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ، لیکن واقعے کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ شیریں ابو اقلہ کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں کے لیے ایک بہت مشکل وقت ہے جو ان کے ساتھ وہاں کام کر رہے تھے۔

    جھڑپیں آئی ڈی ایف، شن بیٹ اور بارڈر پولیس فورسز کی گرفتاری کی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئیں، جن میں جنین پناہ گزین کیمپ، برکین قصبے کے قریب اور مغربی کنارے کے متعدد دیگر مقامات پر بھی شامل ہے۔

    جنین میں آپریشن کے دوران، فلسطینیوں کی طرف سے "بڑے پیمانے پر لائیو فائر” کے طور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی پھینکے فوجیوں نے براہ راست فائرنگ کا جواب دیا۔

    فلسطین اور بیرون ملک سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر صحافی کی بہادری اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ صحافی زخمی ہوئے ہیں، "ممکن ہے فلسطینیوں کی فائرنگ سے” لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوئی ہلاک ہوا ہے آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل Avichai Adraee کے مطابق، اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ان کی موت کی مشترکہ تحقیقات شروع کرنے کی پیشکش کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی یوم القدس پر فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی

    ابو اقلہ نے کئی ایجنسیوں جیسے کہ UNRWA، ریڈیو وائس آف فلسطین، عمان سیٹلائٹ چینل، مفتاح فاؤنڈیشن، اور ریڈیو مونٹی کارلو کے لیے کام کیا، آخر کار 1997 میں الجزیرہ کا رخ کیا۔ وہ عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر جانی جاتی اور عزت کی جاتی تھیں۔


    فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کی ایگزیکٹو کمیٹی کےرکن حسین الشیخ نے ٹویٹر پر لکھا ہماری گہری تعزیت فلسطینی صحافی شیرین ابو عقیلہ کے خاندان سے ہےجو آج اسرائیلی قبضے کی گولیوں سے شہید ہو گئی تھیں لفظ خاموش کرانے کا جرم ایک بار پھر سرزد ہوا اور حق قابض کی گولیوں سے مارا گیا۔ فلسطین میں ایک افسوسناک دن۔ ہم خُدا کے ہیں اور ہم اُسی کی طرف لوٹیں گے-

    ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل


    برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام نے لکھا کہ اسرائیلی قابض افواج نے جنین میں ان کی بربریت کی کوریج کرتے ہوئے صحافی شیرین ابو اکلیح کو قتل کر دیا۔ شیریں سب سے ممتاز فلسطینی صحافی اور ایک قریبی دوست تھیں۔ اور اب ہم برطانوی اور عالمی برادری سے صرف حالات پر تشویش کے اظہار جیسے الفاظ سنیں گے۔

    آئی ڈی ایف اسرائیل میں جاری حملوں کو روکنے کی کوشش میں جنین اور پورے مغربی کنارے میں کام کر رہا ہے جس میں ڈیڑھ ماہ میں 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اسی عرصے کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 30 کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یا تو حملے کرتے ہوئے یا جھڑپوں کے دوران۔ کئی راہگیر بھی مارے گئے ہیں، جن میں ایک نوعمر لڑکی بھی شامل ہے جو پڑھائی سے گھر لوٹ رہی تھی۔


    اپریل میں، جنین کے قریب فققہ قصبے سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ حنان خدور، جنین پرآئی ڈی ایف کے چھاپے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی، جو کہ تل ابیب کے دہشت گردی کے حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں فلسطینیوں کے خلاف گرفتاریاں کر رہے تھے جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ خدور کو مسلح فلسطینیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران پیٹ میں گولی لگی تھی –

    رمضان قدیروف ایک غدار اور ولادیمیر پیوٹن کے زرخرید ہیں،چیچن کمانڈر


    فلسطینی وزارت صحت نے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہوئیں اور آئی ڈی ایف کے ترجمان یونٹ نے کہا کہ وہ ان دعوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔