Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کا خواہاں

    اسرائیل سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کا خواہاں

    اسرائیل سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کا خواہاں

    اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ چار مسلم ممالک کے ساتھ 2020  میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدوں کی بنیاد پر سعودی عرب اور انڈونیشیا سے بھی سفارتی تعلقات کے قیام کی امید کرتے ہیں لیکن ان دونوں ممالک سے اس طرح کے معاہدوں میں ابھی وقت لگے گا

    اسرائیلی وزیر خارجہ یائرلاپیڈ نے مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ابراہیم معاہدوں کو متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش سے آگے مزید ممالک تک وسعت دینے پرغور کر رہا ہے اگر آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم جن اہم ممالک کو دیکھ رہے ہیں، وہ کون سے ہوسکتے ہیں تو انڈونیشیا ان میں سے ایک ہے یقیناً سعودی عرب ہے لیکن اس طرح کے معاملات کو طے کرنے میں وقت لگتا ہے

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض چھوٹے ممالک آیندہ دو سال میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا سکتے ہیں لیکن انھوں نے ان ممالک کا نام نہیں لیا ہے

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سرکاری سطح پر تعلقات کی عدم موجودگی کے باوجود 2020ء میں اسرائیل اور یواے ای کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا ۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ایل آل اسرائیل ایئرلائنز کے طیارے نے گذشتہ ماہ ابوظبی جانے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود ہی سے پرواز کی تھی

    جنوری سے پہلے ٹرمپ،اسرائیل اور سعودی عرب کا کھیل تیار، مبشر لقمان کی زبانی تہلکہ خیز انکشافات

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    دبئی :اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی،اطلاعات کے مطابق ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید النہیان کو ریاست اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے فون کیا ہے ، جس میں عرب امارات پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

    عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈرشیخ محمد بن زاید النہیان سے گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے حملوں کوبزدلی قرار دیتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ فعل قراردای ، اور متحدہ عرب امارات پر اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت پر زور دیا۔

    اسرائیلی صدر نے ان مجرمانہ حملوں کے متاثرین کے لیے شیخ محمد سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔جس کے جواب میں شیخ محمد نے صدر ہرزوگ کا یو اے ای اور اس کے عوام کے تئیں ان کے موقف اور مخلصانہ جذبات کا شکریہ ادا کیا۔

    ادھر ابوظبی میں ہونے والے حوثی باغیوں کے حملے کے بعد اسرائیلی نے متحدہ عرب امارات کو سیکیورٹی انٹیلیجنس میں معاونت کی پیش کش کردی۔

    عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو تعزیتی خط لکھا جس میں انہوں نے ایک روز قبل ابوظبی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔

    انہوں نے حوثی باغیوں کے راکٹ حملے میں تین شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ چلنے اور انتہا پسند تنظیموں کو شکست دینے کی پیش کش کی۔

    اپنے خط میں اسرائیلی وزیراعظم نے لکھا کہ ’اسرائیل خطے میں جنگ اور انتہا پسندی کے خلاف ہے، ہم اپنے اتحاد سے مشترکہ دشمن کو باآسانی شکست دے سکتے ہیں‘۔ نفتالی نے لکھا کہ ’اسرائیل اس جنگ میں ابوظبی کے شانہ بشانہ ہے اور ہم ہر قسم کے تعاون کو بھی تیار ہیں‘۔

    انہوں نے لکھا کہ ’اگر یو اے ای چاہیے تو عوام کی حفاظت اور اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ متحدہ عرب امارات کو کسی بھی حملے کی صورت میں پیشگی اطلاع اور جوابی کارروائی کی معاونت فراہم کرسکتی ہے‘۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں منگل کے روز تین پیٹرولیم ٹینکرز پر ڈرون راکٹ حملے ہوئے، جس میں پاکستانی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے۔

    راکٹ حملے کے بعد ابوظبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب نئی تعمیر ہونے والی عمارت میں خوفناک آتشزدگی ہوئی تھی۔

    یمن کے حوثی باغیوں نے میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اس کارروائی کو اپنے خلاف جاری آپریشن کا ردعمل قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ہم ان دہشت گردانہ حملوں کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔

  • اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    یروشلم :اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے افغان مہاجرین کی مدد کا اعلان کرتے ہوئے 5 لاکھ ڈالرز عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، یا رہے کہ اسرائیل کا عطیہ اسی دن آیا جب اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے 4.4 بلین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ افغانستان کی مدد کے لیے اسرائیل نے تاجکستان میں افغان مہاجرین کے لیے خوراک، طبی امداد اور دیگر امداد کے لیے اقوام متحدہ کو 500,000 ڈالر عطیہ کیے ہیں۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلون اُشپیز نے کہا کہ ان کے ملک کو "افغان طالبان سے بھاگنے والے افغانوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بننے پر فخر ہے”۔

    اُشپیز نے مزید کہا کہ اس امداد نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اسرائیل کی وابستگی کو اجاگر کیا،

    اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان میں 22 ملین افراد اور پڑوسی ممالک میں مزید 5.7 ملین بے گھر ہونے والے افغان – اس کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد – کو اس سال اہم امداد کی ضرورت ہے۔

    اپیل میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے لیے بین الاقوامی عطیات اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNHCR) کے لیے 623 ملین ڈالر کی درخواست کی گئی۔

    "ایک مکمل انسانی تباہی پھیل رہی ہے۔ میرا پیغام فوری ہے: افغانستان کے لوگوں پر دروازے بند نہ کریں،” اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کہا۔

    انہوں نے زور دیا کہ "ہماری مدد کریں وسیع پیمانے پر بھوک، بیماری، غذائی قلت، اور بالآخر موت کو روکنے میں،

    یاد رہے کہ پچھلے سال اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، ملک کے لیے غیر ملکی امداد بند کر دی گئی، جس نے کابل کو معاشی بحران میں ڈال دیا۔

    گریفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کا انحصار زندگی بچانے والی امداد پر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ UNHCR کی توجہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ اور مدد پر ہے۔

  • اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    تل ابیب :اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے ،اطلاعات کے مطابق رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں کووڈ 19 کے ویرئنٹ اومی کرون کی جدید شکل کے 20 مریض پائے گئے ہیں۔ اس نئے ویرئنٹ کو ” بی اے ٹو” کا نام دیا گیا ہے۔

    ریسرچرزکا کہنا ہے کہ کووڈ 19” بی اے ٹو” وائرس میں اورجنل اومیکرون کی نسبت زیادہ میوٹیشنز پائی گئی ہیں اور یہ ممکنہ طور پر زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔ تاہم اسرائیل کی وزارت صحت کاکہنا ہے کہ ابھی اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ” بی اے ٹو” ویرئنٹ کورونا وائرس کی مہلک شکل ہے۔

    جے پوسٹ کے مطابق ” بی اے ٹو” کا سب سے پہلے چین میں انکشاف ہوا تھا جہاں یہ ممکنہ طور پر بھارت سے آیا تھا۔ یاد رہے گذشتہ دس دنوں سے اسرائیل میں روزانہ 12 ہزار سے 48 ہزار کوروناکے مریض سامنے آرہے ہیں جبکہ خطرناک حالت کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے۔

    اسرائیلی محکمہ صحت کے حکام کا کہناہے کہ کورونا کی پہلی، دوسری اور تیسری لہروں کے مقابلے میں موجودہ لہر سے متاثرہ مریضوں کی حالت بہتر ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائیل میں کرونا وائرس نے ایک اور شکل اختیار کر لی ہے جو کووِڈ نائٹین اور عام فلو کے وائرس کے امتزاج سے چند دن قبل سامنے آئی تھی

    تفصیلات کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کی مختلف اقسام ڈیلٹا اور اومیکرون سے نبرد آزما ہے، اسرائیل میں کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے پہلے مشترکہ ‘فلورونا’ کیس کی تصدیق ہوئی ۔

    ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ‘ڈیلمیکرون’ کہا جاتا ہے، اس کے کیسز بھی اسرائیل میں سامنے آئے، جب کہ اسرائیل میں سامنے آنے والے کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ‘فلورونا’ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پہلا ‘فلورونا’ وائرس ایک خاتون میں پایا گیا، جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی اور اسپتال کی رپورٹس میں فلو اور کرونا وائرس دونوں پیتھوجینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا تھا۔خاتون میں بیماری کی نسبتاً ہلکی علامات ہیں اور اسے جلد ہی ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

  • اسرائیل میں ایرانی بھرتی کی کوشش دہشت گردی، عوام ہوشیاررہیں، بینیٹ

    اسرائیل میں ایرانی بھرتی کی کوشش دہشت گردی، عوام ہوشیاررہیں، بینیٹ

    تل ابیب: سوشل میڈیا پر خود کو یہودی ظاہر کرنے والے ایرانی ایجنٹ کو امریکی مخالف معلومات فراہم کرنے پر 5 اسرائیلی مرد اور ایک خاتون کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی ایجنسی شِن بیت نے 5 اسرائیلیوں کو ایرانی ایجنٹ سے امریکا کی اندرونی معلومات بذریعہ سوشل میڈیا شیئر کرنے پر گرفتار کیا ہے۔

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    میڈیا رپورٹس میں پانچوں اسرائیلیوں کو ایران سے ہجرت کرکے آئے یہودی یا ان کی اولادوں میں سے بتایا گیا ہے شِن بیت کے مطابق جس ایرانی سے رابطہ رکھا گیا اس نے اپنا فیس بُک پر نام رام بود نامدار ظاہر کیا اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے میں رہتا تھا۔

    اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ذمہ دار سکیورٹی ایجنسی شین بیت کے مطابق ملزمان نے اسرائیل میں اسٹریٹجک لحاظ سے اہم مقامات کی تصاویرلی تھیں۔ان میں تل ابیب میں امریکی قونصل خانہ بھی شامل ہےانھوں نے سیاست دانوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی، مختلف مقامات پرسکیورٹی انتظامات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور دیگر جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

    شِن بیت کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ یہ واقعہ اسرائیل میں جاسوسی نیٹ ورک قائم کرنے کے منصوبوں کا پردہ فاش کرتا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جو مواد ایرانی ایجنٹ کو فراہم کیا گیا، اس میں تل ابیب میں امریکی سفارتی مشن، الیکشن کے پولنگ اسٹیشن، ایک شاپنگ مال اور وزارت داخلہ کی اندرونی تصاویر شامل تھیں۔

    شین بیت کا کہنا تھا کہ اس جاسوسی رنگ کو چلانے والے ایرانی کارندے نے ایک ملزم کو اپنی فارسی زبان بہتربنانے اور اسرائیل کی دفاعی افواج کے انٹیلی جنس یونٹ میں شامل ہونے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

    تین نوجوانوں سے شادی شدہ خاتون کا چوتھے’محبوب‘ پرجنسی زیادتی کامقدمہ،عدالت نے کیا فیصلہ سنایا؟

    بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ 57 سالہ خاتون 4 سال سے ایرانی ایجنٹ سے رابطے میں تھیں اور ایک انفارمیشن کے بدلے 5000 ڈالرز وصول کیا کرتی تھیں۔ فراہم کی گئیں انفارمیشن میں فوجی تقریبات اور اپنے بیٹے کے فوجی شناختی کارڈ کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

    ایجنسی نے اس رنگ کے پس پردہ ایرانی کارندے کی شناخت رام بود نامدار کے نام سے کی ہے اس نے تہران میں مقیم یہودی ہونے کا ڈراما کیا تھا۔

    شین بیت کے ایک عہدہ دار کے مطابق’’ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی جانب سے اسرائیلی شہریوں تک پہنچنے کی کوششوں میں اضافہ ہواہے تاکہ ایسی انٹیلی جنس اکٹھی کی جا سکے جس کے ذریعے اسرائیل کے خلاف جنگ میں (ایران) کی مدد کی جاسکے‘‘۔

    وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے جاسوسی کا رنگ توڑنے کی کارروائی پرشین بیت کی تعریف کی ہے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے ہے ہم ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کی بھرتی کی واضح اور مسلسل کوششیں ملاحظہ کر رہے ہیں-

    چین کو سبق سکھا دیا ہے،اب شاید وہ دوبارہ غلطی نہ کرے:بھارتی آرمی چیف

    ’ایرانی ایجنٹ نے 5 اسرائیلی خواتین کو کیسے بھرتی کیا‘؟

    اسرائیل نے ایران کے لیے جاسوسی کے مقصد سے خواتین کو بھرتی کرنے کی ایرانی کوشش کا انکشاف کیا ہے اسرائیلی داخلی سلامتی سروس "شن بیٹ” کے مطابق مقامی میڈیا نےبدھ کو بتایا کہ رامبود نامدار نامی ایک ایرانی ایجنٹ نے دعویٰ کیا کہ وہ یہودی ہےاس نے اسرائیلی خواتین سے بات چیت کرنے اور انہیں انٹیلی جنس مشنز کے لیے بھرتی کیا۔

    نامدار نے ان میں سے 5 خواتین کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ کے ذریعے ان سے رابطہ کیا رابطوں کا مقصد ایران کے لیے خفیہ مشن انجام دینے کے لیے انہیں یار کرنا تھا ان خواتین نے وسطی اسرائیل میں فیس بک کے ذریعے نامدار رابطہ کیا مگر اس کے بعد نامدار نے انہیں وٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کو کہا-

    نامدار نے ان سے کئی بار ’ویڈیو کال‘ کے ذریعے بات بھی کی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنا چہرہ دکھانے سے انکار کر دیا کہ ان کے فون کا کیمرہ ٹوٹ گیا ہے ان میں سے کچھ کو شبہ تھا کہ وہ ایرانی انٹیلی جنس افسر ہو سکتا ہے وہ اس سے بات کرتی رہیں اور پیسوں کے عوض اس کی درخواستیں پوری کرنے پر راضی ہو گئیں۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    شن بیٹ نے عندیہ دیا کہ اس آپریشن کو پولیس کے تعاون سے ناکام بنایا گیا، اور ان پانچ خواتین کو گرفتار کر لیا گیا جن سے اس وقت تفتیش جاری ہےان میں سے کچھ پر فرد جرم بھی عائد کی گئی ہے تاہم ملزمان کے وکیل کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کے بعد عدالتی فیصلے کے ذریعے ان کے نام شائع کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

    بینیٹ کی عوام سے ہوشیاررہنے کی اپیل

    اسرائیل کی جانب سے ایران کے لیے جاسوسی کی خاطرخواتین شہریوں کو بھرتی کرنے کی ایرانی کوشش کے انکشاف کے بعد وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایک میٹنگ کی میں اسے ’دہشت گردی‘ کی کارروائی قرارد یا ہے-

    بینیٹ نے جنرل سیکیورٹی سروس اور پولیس کے ارکان کی تعریف کی جس کے لیے انہوں نے ایک کامیاب آپریشن قرار دیا جس کی وجہ سے ملک کو نشانہ بنانے والی دشمنانہ دہشت گردی کی کارروائی کو ناکام بنایا گیا۔

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف مسلسل حالت جنگ میں ہےایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کو بھرتی کرنے کی کوششیں واضح ہو چکی ہیں انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ چوکنا رہیں یہ کوششیں صرف سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبے تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں اسرائیل اور اسرائیلی معاشرے پر اثر انداز ہونے کی کوششیں شامل ہیں جس کا مقصد ملک میں پولرائزیشن، تنازعات اور سیاسی استحکام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

    انہوں نے شہریوں سے ان کوششوں کے خلاف ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ آپ جو معلومات استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کرتے ہیں ان کے پیچھے ایرانی ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران میں طویل عرصے سے ایک دوسرے سے مخاصمت چل رہی ہے اور تل ابیب تہران کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے دونوں ملک برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف باقاعدگی سے حملوں کی دھمکیوں کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک دوسرے کے خلاف تخریب کاری کے حملوں کے الزامات بھی لگاتے رہتے ہیں بھرتی کی یہ کوشش دونوں ممالک کےدرمیان بالواسطہ تنازعہ کےاندر آتی ہے جس نے حالیہ برسوں میں ایک سائبر کردار اختیار کر لیا ہےاس کا رخ سائبر بحری قزاقی اور جہازوں کی جنگ کے ساتھ ساتھ ایران میں حساس مقامات پر کچھ حملوں کی طرف بڑھ گیا ہے۔

    تائیوان کا جدید ترین ایف 16طیارہ لاپتا، تلاش جاری

  • بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج  پاگیا

    بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا

    تل ابیب :بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں۔

    اسرائیلی میڈیا زور زور سے چیخ رہا ہے کہ اسرائیلی فوج شدید بحران کی حالت میں ہے اور ایسے حال میں کہ میڈیا فوجی یونٹوں میں عصمت دری اور جنسی حملوں کی کثرت کی خبریں دے رہا ہے، دوسرے لوگ حکومت کی احتیاطی افواج کی بغاوت کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔

    اسرائیلی اخبار یدیعوتھ احارونوتھ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک سال میں 1542 ریپ اور جنسی حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    عبرانی زبان کے اس اخبار کے مطابق، اگرچہ ملٹری پراسیکیوٹر کے دفتر مربوطہ اداروں میں 1,542 شکایات درج کی گئی ہیں، لیکن صرف 31 مقدمات پر کارروائی ہوئی ہے اور اسرائیلی فوج نے باقی کو نظر انداز کر دیا ہے۔

    یدیعوتھ احارونوتھ کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کی دفاعی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس میں اسرائیلی فوج میں جنسی جرائم کے بارے میں ہولناک معلومات شائع کی گئیں، جن کا تعلق 2020 سے ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ 2012 کے بعد سے یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ شکایات کے اس حجم کے باوجود صرف 51 اسرائیلی فوجیوں پر مقدمہ چلایا گیا۔

    اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں اور اسرائیلی فوج میں خواتین فوجیوں کی 92 تصاویر اور کلپس تقسیم کی گئیں۔

    احارونوتھ نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں کنیسٹ کمیٹی کے چیئرمین رام بن بارک کے حوالے سے لکھا ہے کہ “مجھے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ایک خطرناک اور تہدید آمیز واقعہ ہے، اسرائیلی فوج کو ان اقدامات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔”

    لیکن یہ صرف اسرائیلی فوج کا مسئلہ نہیں ہے، حکومت کے قومی نیٹ ورک “کان” نے چند روز قبل اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے درجنوں احتیاطی سپاہیوں کی بغاوت اور غیرمتوقع فوجی مشق میں شرکت سے انکار کی خبر دی تھی۔
    عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق، 120 احتیاطی فوجیوں نے اپنے یونٹ کمانڈروں کی طرف سے غیر اعلانیہ فوجی مشق میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا، اور یونٹ اپنے نصف فوجیوں کے ساتھ مشق کے لیے چلی گئی۔

  • "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں  اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    اسرائیلی فوج شمالی علاقے میں حزب اللہ اور شام کی سمت سے ایران کے خلاف متوقع جنگ کے مختلف منظر ناموں سے نمٹنے کے لیے تربیتی مشقیں انجام دے رہی ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ اردو” کے مطابق اسرائیل میں ملٹری سیکورٹی ادارے نے شمالی علاقے میں طاقت کے توازن کے معاملے کو سال 2022 کے اہداف میں سرفہرست رکھا ہے اس مقصد کے لیے "حزب اللہ” اور "ایران” کے عناصر کو سرحدی علاقے سے بالخصوص شام میں دور کیا جائے گا اسرائیلی فوج نےالجلیل میں سرحد کے نزدیک حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

    ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کی کرپشن پر12سال قید کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عسکری قیادت فوج کو حزب اللہ کی جانب سے بھیجےگئےجاسوس ڈرون طیارے سرحد سے دور علاقوں تک پہنچنے کی صورت میں فوری طور پر جوابی کارروائی عمل میں لانے کی تربیت دے رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فضاؤں میں داخل ہونے والے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا-

    لیکن بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ طیارے نے بعض مقامات کی تصاویرلےلی تھیں اسرائیلی فوج کی رپورٹ کےمطابق حزب اللہ اور ایران کے عناصر نے ڈرون طیاروں کوانٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ فضا سے دھماکا خیز مواد اور دستی بموں کو گرانے کے لئے استعمال کیا۔

    اسرائیلی فوج کے نزدیک گذشتہ برسوں کے دوران میں حزب اللہ نے ڈرون طیاروں کے استعمال میں ایک بڑی پیشرفت کویقینی بنایا ہےاس عرصے میں اسرائیل کے ساتھ لبنانی سرحد پر ڈرون طیاروں کی اڑان کی شناخت کی گئی اسرائیلی فوج نے ڈرون سے متعلق حزب اللہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ڈیڑھ برس قبل فضائی نگرانی کا ایک نظام قائم کیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق وہ دو برس میں شام کی سمت سینکڑوں زمینی خفیہ عسکری کارروائیاں کرنے اور جدید میزائلوں کے داغنے میں کامیاب رہی ان کا مقصد مذکورہ علاقے سے ایران اور حزب اللہ کے عناصر کو دور کرنا ہے سال 2022ء کے دوران میں متوقع منظر ناموں کے لیے اسرائیلی سیکورٹی جائزے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیل شام پر بمباری سے اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا۔

    جائزے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد ایک دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ان کے پاس شام کی تعمیر نو اور یا پھر ایرانیوں کو مطلقاً سپورٹ جاری رکھنے کے راستے ہیں تا کہ تہران خطے میں اپنے منصوبے کو تکمیل کر سکے-

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول…

  • 4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    یروشلم: بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور ہو گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہشام ابو حواش ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی قید میں تھے جب انہوں نے اگست سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا 40 سالہ ہشام نے بغیر کسی الزام کے قید میں رکھے جانے کیخلاف اگست کے مہینے میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے لڑو،مرو اور مارو، سکول میں طلب سے حلف

    ہشام مغربی کنارے کے رہائشی ہیں 5 بچوں کے باپ اور پیشے کے اعتبار سے تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ہشام کو اس سے قبل بھی اسلامک جہاد سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ اس بار بغیر کسی الزام کے انہیں قید کیا گیا تھا۔

    انتظامی حراست‘ کے تحت مشکوک افراد کو ان کے خلاف الزامات یا ثبوت سے مطلع کیے بغیر چھ ماہ تک قید کیا جا سکتا ہے اور اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے-

    ہشام کے وکیل نے بتایا کہ رہائی کی تصدیق ہونے کے بعد ہشام نے اپنی 141 دن کی بھوک ہڑتال کو ختم کردیا ہے 141 دن کی یہ بھوک ہڑتال 2013 کے بعد سے اب تک کی طویل مدتی بھوک ہڑتال ہے۔

    قادیانی قریبی رشتہ داروں کی طرف سے خاتون سے باربارجنسی زیادتی :لندن پولیس نے تفتیش…

    اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی قیدی کی مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے طبعیت کافی بگڑ چکی ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا رہا ہے گزشتہ ہفتے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جب قیدی کا جیل میں جاکر معائنہ کیا تھا تو کہا تھا کہ ہشام کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور موت کا خطرہ لاحق ہے۔

    قیدی ہشام کی اہلیہ عائشہ ہریبت نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ان کی زندگی کو شدید خطرے میں اور وہ کل سے بول بھی نہیں سکے اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اگر وہ بھوک ہڑتال ختم بھی کر دیں تو بھی انہیں صحت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا-

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    راملہ میں انسانی حقوق کے گروپ الحق کے سربراہ شاون جابرین نے کہا ہے کہ ’اسرائیل جس طرح انتطامی حراست کے ہتھیار کو استعمال کر رہا ہے، یہ سراسر ظلم ہےہشام ان 550 قیدیوں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیل نے انتظامی حراست کے ضابطے کے تحت قید کر رکھا ہے۔

    علاوہ ازیں فلسطین کے وزیر بلدیات حسین الشیخ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ابوحواش کو فوری طور پر رہا کیا جائے جبکہ غزہ میں فلسطینی قیدیوں کے حق میں ریلی بھی نکالی گئی۔

    روہنگیائی مسلمان ایک طرف کورونا تو دوسری آگ کی لپیٹ میں‌ لپٹ گئے

  • اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ،اسرائیلی وزیراعظم کا اظہار افسوس

    اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ،اسرائیلی وزیراعظم کا اظہار افسوس

    اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ،اسرائیلی وزیراعظم کا اظہار افسوس
    اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر دوران تربیتی پرواز گر کر تباہ ہو گیا ہے

    ہیلی کاپٹر حادثہ میں دو پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک زخمی ہو گیا ہے، اسرائیلی فضائیہ نے حادثہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ہیلی کاپٹر حیفا کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے، حادثے میں ہلاک ہونے والون کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،فوجی ہیلی کاپٹر تباہ ہونے پر تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہیلی میں سوار دیگر افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، اسرائیلی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں نے اس واقعہ پر فوری کوئی ردعمل نہیں دیا، واقعہ کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں

    اسرائیلی وزیراعطم کی جانب سے ہیلی کاپٹر حادثے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کی گئی ٹویٹ میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہےکہ بہت اداس رات ہے، حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتا ہوں ہمارے پائلٹ بہترین پائلٹ تھے

    واقعہ کے بعد اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے تمام تربیتی پروازوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے

    پائلٹس کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور ان کی حمایت جاری رکھے گی۔”

    پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا