Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج  پاگیا

    بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا

    تل ابیب :بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں۔

    اسرائیلی میڈیا زور زور سے چیخ رہا ہے کہ اسرائیلی فوج شدید بحران کی حالت میں ہے اور ایسے حال میں کہ میڈیا فوجی یونٹوں میں عصمت دری اور جنسی حملوں کی کثرت کی خبریں دے رہا ہے، دوسرے لوگ حکومت کی احتیاطی افواج کی بغاوت کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔

    اسرائیلی اخبار یدیعوتھ احارونوتھ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک سال میں 1542 ریپ اور جنسی حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    عبرانی زبان کے اس اخبار کے مطابق، اگرچہ ملٹری پراسیکیوٹر کے دفتر مربوطہ اداروں میں 1,542 شکایات درج کی گئی ہیں، لیکن صرف 31 مقدمات پر کارروائی ہوئی ہے اور اسرائیلی فوج نے باقی کو نظر انداز کر دیا ہے۔

    یدیعوتھ احارونوتھ کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کی دفاعی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس میں اسرائیلی فوج میں جنسی جرائم کے بارے میں ہولناک معلومات شائع کی گئیں، جن کا تعلق 2020 سے ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ 2012 کے بعد سے یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ شکایات کے اس حجم کے باوجود صرف 51 اسرائیلی فوجیوں پر مقدمہ چلایا گیا۔

    اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں اور اسرائیلی فوج میں خواتین فوجیوں کی 92 تصاویر اور کلپس تقسیم کی گئیں۔

    احارونوتھ نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں کنیسٹ کمیٹی کے چیئرمین رام بن بارک کے حوالے سے لکھا ہے کہ “مجھے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ایک خطرناک اور تہدید آمیز واقعہ ہے، اسرائیلی فوج کو ان اقدامات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔”

    لیکن یہ صرف اسرائیلی فوج کا مسئلہ نہیں ہے، حکومت کے قومی نیٹ ورک “کان” نے چند روز قبل اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے درجنوں احتیاطی سپاہیوں کی بغاوت اور غیرمتوقع فوجی مشق میں شرکت سے انکار کی خبر دی تھی۔
    عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق، 120 احتیاطی فوجیوں نے اپنے یونٹ کمانڈروں کی طرف سے غیر اعلانیہ فوجی مشق میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا، اور یونٹ اپنے نصف فوجیوں کے ساتھ مشق کے لیے چلی گئی۔

  • "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں  اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    اسرائیلی فوج شمالی علاقے میں حزب اللہ اور شام کی سمت سے ایران کے خلاف متوقع جنگ کے مختلف منظر ناموں سے نمٹنے کے لیے تربیتی مشقیں انجام دے رہی ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ اردو” کے مطابق اسرائیل میں ملٹری سیکورٹی ادارے نے شمالی علاقے میں طاقت کے توازن کے معاملے کو سال 2022 کے اہداف میں سرفہرست رکھا ہے اس مقصد کے لیے "حزب اللہ” اور "ایران” کے عناصر کو سرحدی علاقے سے بالخصوص شام میں دور کیا جائے گا اسرائیلی فوج نےالجلیل میں سرحد کے نزدیک حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

    ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کی کرپشن پر12سال قید کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عسکری قیادت فوج کو حزب اللہ کی جانب سے بھیجےگئےجاسوس ڈرون طیارے سرحد سے دور علاقوں تک پہنچنے کی صورت میں فوری طور پر جوابی کارروائی عمل میں لانے کی تربیت دے رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فضاؤں میں داخل ہونے والے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا-

    لیکن بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ طیارے نے بعض مقامات کی تصاویرلےلی تھیں اسرائیلی فوج کی رپورٹ کےمطابق حزب اللہ اور ایران کے عناصر نے ڈرون طیاروں کوانٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ فضا سے دھماکا خیز مواد اور دستی بموں کو گرانے کے لئے استعمال کیا۔

    اسرائیلی فوج کے نزدیک گذشتہ برسوں کے دوران میں حزب اللہ نے ڈرون طیاروں کے استعمال میں ایک بڑی پیشرفت کویقینی بنایا ہےاس عرصے میں اسرائیل کے ساتھ لبنانی سرحد پر ڈرون طیاروں کی اڑان کی شناخت کی گئی اسرائیلی فوج نے ڈرون سے متعلق حزب اللہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ڈیڑھ برس قبل فضائی نگرانی کا ایک نظام قائم کیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق وہ دو برس میں شام کی سمت سینکڑوں زمینی خفیہ عسکری کارروائیاں کرنے اور جدید میزائلوں کے داغنے میں کامیاب رہی ان کا مقصد مذکورہ علاقے سے ایران اور حزب اللہ کے عناصر کو دور کرنا ہے سال 2022ء کے دوران میں متوقع منظر ناموں کے لیے اسرائیلی سیکورٹی جائزے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیل شام پر بمباری سے اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا۔

    جائزے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد ایک دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ان کے پاس شام کی تعمیر نو اور یا پھر ایرانیوں کو مطلقاً سپورٹ جاری رکھنے کے راستے ہیں تا کہ تہران خطے میں اپنے منصوبے کو تکمیل کر سکے-

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول…

  • 4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    یروشلم: بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور ہو گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہشام ابو حواش ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی قید میں تھے جب انہوں نے اگست سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا 40 سالہ ہشام نے بغیر کسی الزام کے قید میں رکھے جانے کیخلاف اگست کے مہینے میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے لڑو،مرو اور مارو، سکول میں طلب سے حلف

    ہشام مغربی کنارے کے رہائشی ہیں 5 بچوں کے باپ اور پیشے کے اعتبار سے تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ہشام کو اس سے قبل بھی اسلامک جہاد سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ اس بار بغیر کسی الزام کے انہیں قید کیا گیا تھا۔

    انتظامی حراست‘ کے تحت مشکوک افراد کو ان کے خلاف الزامات یا ثبوت سے مطلع کیے بغیر چھ ماہ تک قید کیا جا سکتا ہے اور اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے-

    ہشام کے وکیل نے بتایا کہ رہائی کی تصدیق ہونے کے بعد ہشام نے اپنی 141 دن کی بھوک ہڑتال کو ختم کردیا ہے 141 دن کی یہ بھوک ہڑتال 2013 کے بعد سے اب تک کی طویل مدتی بھوک ہڑتال ہے۔

    قادیانی قریبی رشتہ داروں کی طرف سے خاتون سے باربارجنسی زیادتی :لندن پولیس نے تفتیش…

    اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی قیدی کی مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے طبعیت کافی بگڑ چکی ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا رہا ہے گزشتہ ہفتے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جب قیدی کا جیل میں جاکر معائنہ کیا تھا تو کہا تھا کہ ہشام کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور موت کا خطرہ لاحق ہے۔

    قیدی ہشام کی اہلیہ عائشہ ہریبت نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ان کی زندگی کو شدید خطرے میں اور وہ کل سے بول بھی نہیں سکے اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اگر وہ بھوک ہڑتال ختم بھی کر دیں تو بھی انہیں صحت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا-

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    راملہ میں انسانی حقوق کے گروپ الحق کے سربراہ شاون جابرین نے کہا ہے کہ ’اسرائیل جس طرح انتطامی حراست کے ہتھیار کو استعمال کر رہا ہے، یہ سراسر ظلم ہےہشام ان 550 قیدیوں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیل نے انتظامی حراست کے ضابطے کے تحت قید کر رکھا ہے۔

    علاوہ ازیں فلسطین کے وزیر بلدیات حسین الشیخ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ابوحواش کو فوری طور پر رہا کیا جائے جبکہ غزہ میں فلسطینی قیدیوں کے حق میں ریلی بھی نکالی گئی۔

    روہنگیائی مسلمان ایک طرف کورونا تو دوسری آگ کی لپیٹ میں‌ لپٹ گئے

  • اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ،اسرائیلی وزیراعظم کا اظہار افسوس

    اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ،اسرائیلی وزیراعظم کا اظہار افسوس

    اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ،اسرائیلی وزیراعظم کا اظہار افسوس
    اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر دوران تربیتی پرواز گر کر تباہ ہو گیا ہے

    ہیلی کاپٹر حادثہ میں دو پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک زخمی ہو گیا ہے، اسرائیلی فضائیہ نے حادثہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ہیلی کاپٹر حیفا کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے، حادثے میں ہلاک ہونے والون کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،فوجی ہیلی کاپٹر تباہ ہونے پر تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہیلی میں سوار دیگر افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، اسرائیلی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں نے اس واقعہ پر فوری کوئی ردعمل نہیں دیا، واقعہ کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں

    اسرائیلی وزیراعطم کی جانب سے ہیلی کاپٹر حادثے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کی گئی ٹویٹ میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہےکہ بہت اداس رات ہے، حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتا ہوں ہمارے پائلٹ بہترین پائلٹ تھے

    واقعہ کے بعد اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے تمام تربیتی پروازوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے

    پائلٹس کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور ان کی حمایت جاری رکھے گی۔”

    پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا

  • اسرائیل میں‌ کورونا ایک اور خطرناک شکل سامنے آگئی

    اسرائیل میں‌ کورونا ایک اور خطرناک شکل سامنے آگئی

    تل ابیب :اسرائیل میں‌ کورونا ایک اور خطرناک شکل سامنے آگئی،اطلاعات کے مطابق کورونا کی مزید شکلیں سامنے آرہی ہیں اور جو ماہرین نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ سات سال تک کورونا مختلف انداز میں حملہ آور ہوتا رہے ان دعووں کی تصدیق میں قوت پیدا ہوتی جارہی ہے ، ادھر اسرائیل میں کورونا وائرس نے نئی شکل اختیار کرلی، پہلا کیس رپورٹ

    ابھی دنیا بھر میں کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں کہ اسرائیل میں کورونا نے ایک نئی شکل اختیار کرلی۔اسرائیل میں کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کا پہلا مشترکہ کیس سامنے آیا ہے جسے ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

     

     

    سعودی اخبار عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی طبی حکام نے پہلے فلورونا کیس کی تصدیق بھی کی ہے۔مذکورہ فلورونا وائرس ایک خاتون میں پایا گیا ہے جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو کورونا ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ خاتون کی میڈیکل رپورٹس میں فلو اور کورونا وائرس دونوں کے پیتھو جینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا ہے۔

    اسرائیل میں سامنے آنے والے کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ’’ڈیلمیکرون‘‘ کہا جا رہا ہے۔

  • اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ

    اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ

    واشنگٹن : اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ : تین ارب ڈالر کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت نے امریکا سے تین ارب ڈالر کے عوض 12 ہیلی کاپٹر اور فضا میں ری فیولنگ کرنے والے دو جہاز خریدنے کا معاہدہ طے کیا ہے۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس معاہدے کو اسرائیلی ائیر فورس کی استعداد کو بڑھانے کے لئے طے کیا گیا ہے اور اسرائیل کے پاس اختیار ہے کہ وہ چھ مزید ہیلی کاپٹر خرید سکے گا۔

    اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق دونوں ری فیولنگ جہاز 2025 کے بعد اسرائیل کے حوالے کئے جائیں گے جبکہ ہیلی کاپٹروں کا پہلا آرڈر 2026 میں اسرائیلی فوج میں شامل ہوگا۔

    اسرائیلی فوج کے بریگیڈئیر جنرل شمعون سینسپر کے مطابق اسرائیل نے چار ری فیولنگ جہاز خریدنے ہیں اور اس آرڈر کی جلد از جلد ڈیلیوری پر زور دیں گے۔

    دوسری طرف اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم جاری ہیں‌ فلسطین کی انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے متعدد علاقوں من جملہ نابلس، الخلیل اور قلقیلیه میں صیہونی فوجیوں کے حملے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں ۔ صیہونی فوجیوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل داغے۔

    چند روز قبل بھی غرب اردن کے صوبے نابلس کے برقہ علاقے پر بھی صیہونی فوجیوں کے حملے میں کم سےکم 127 فلسطینی زخمی ہوئے تھے ۔ زخمیوں میں سے 5 کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ زخمی ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق شمال مغربی شہر نابلس کے فلسطینی علاقے برقہ سے ہے۔

     

     

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔

  • فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

    فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

    جنیوا :فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطینی بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کا اسرائیل سے مطالبہ کردیا۔

    ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ معصوموں کا بچپن مت چھینو، تعصب اور تشدد بند کرو، فلسطینی بچوں کو تحفظ فراہم کرو.

    ۔ 7 سال کی عمر سے اپنی صحافت سے دنیا بھر میں دھوم مچانے والی بہادر فلسطینی لڑکی جَنّیٰ جہاد کی کہانی ایمنسٹی کی نئی مہم کا حصہ بن گئی۔ اپنی ویڈیوز کے ذریعے جَنّیٰ جہاد نے دنیا کو اسرائیلی فوج کے مظالم کا حقیقی چہرہ دکھایا۔

    رپورٹنگ سے روکنے کے لیے اسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں، کیمرا توڑ دیا، لیکن ننھی فلسطینی لڑکی اپنے عزم پر ڈٹی رہی۔ جَنّیٰ جیسے ہزاروں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایمنسٹی نے دنیا بھر سے لوگوں کو اسرائیل کے خلاف احتجاجی مہم کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔ (ایجنسی )

  • اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    تل ابیب :اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کی بندرگاہ لطاکیہ پر ایک مہینے میں دوسری بار حملہ کیا ہے۔

    شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لطاکیہ پر فضائی حملہ کیا گیا، اسرائیل نے لطاکیہ پورٹ پر متعدد میزائل داغے، اسرائیلی میزائلوں نے لطاکیہ پورٹ کےکنٹینریارڈ کو نشانہ بنایا،جس سے وہاں آگ لگ گئی اور بھاری مالی نقصان ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میزائلوں سے قریب موجود ایک اسپتال اور چند رہائشی عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔شامی حکام کی جانب سے حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوجی ترجمان نے شام میں فضائی حملےکی خبرپر ردعمل سےگریز کرتے ہوئے کہا ہےکہ غیرملکی میڈیا کی خبروں پر ردعمل نہیں دیتے۔اس سے قبل 7 دسمبر کو بھی اسرائیل کی جانب سے لتاکیہ پورٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    امریکی اتحاد کے ترجمان کول ہارپر کا کہنا تھا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کے اعلان کے مطابق ان کا کردار جنگی سے مشورتی میں تبدیل ہو جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی سربراہی میں نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ عالمی اتحاد کی عراق میں کوئی فوجی چھاونی نہیں ہے۔

    ہارپر نے الجزیرہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اتحاد کے فوجی، صوبہ الانبار کی عین الاسد چھاونی، کردستان علاقے میں اربیل اور بغداد میں مشترکہ آپریشنل کمانڈ سینٹر میں موجود ہیں۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ عالمی اتحاد نے ابھی تک عراق میں جنگی کردار ادا نہیں کیا ہے بلکہ ان کی نئی ذمہ داری، عراقی فوج اور کرد میلیشیا پیشمرگہ کی ٹریننگ اور ان کو مشورے دینا ہے۔

    امریکی فوج کے اس کمانڈر نے کہا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق اتحاد کے فوجیوں کا کردار جنگی سے مشورتی کردار میں بدل جائے گا، اسی لئے اس نئے کردار کے ساتھ عراق میں ہمارا باقی رہنا، بغداد حکومت کی درخواست کی وجہ سے ہے۔

    ہارپر کا کہنا تھا کہ عراق کے اندر امریکی فوجیوں پر ہونے والے نقصان کے بارے میں امریکی اتحاد کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔

  • اسرائیل بہت چھوٹا سا ہے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، اتحاد امت کانفرنس

    اتحاد امت کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اسرائیل بہت چھوٹا سا ہے کوئی حیثیت ہی نہیں ہے-

    باغی ٹی وی :ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس میں صدر ملی یکجہتی کونسل علامہ ابو الخیر محمد زبیر، اور سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے شرکت کی کانفرنس میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے شرکت کی علاوہ ازیں ایرانی سفیر محمد علی حسینی بھی کانفرنس میں شریک ہوئے مقررین نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے-

    علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ تمام امہ مسلمہ کو تقسیم کیا ہوا ہے، اتحاد پر ہمارا ایمان ہے،امریکہ مسلمانوں کا دشمن ہے،اتحاد کی سوچ دن بدن بڑھ رہا ہے،پاکستان کی سر زمین پر ملی یکجہتی کونسل امید ہے،پاکستان کے تمام علماء دشمن کے منصوبوں کو شکست دیں گے تمام علماء ایک ہی پلیٹ فارم پر ایک ہیں-

    پیپلزپارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں کرتی،جیالے تیاری پکڑیں، کٹھ پتلی کے خلاف اب وار کا وقت آگیا…

    راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ سب دنیا جانتی ہے کہ دشمن نے مسلمانوں کی طاقت کو تقسیم کیا تقسیم در تقسیم کے فارمولے پر ہمیں الگ کیا گیا وحدت ایک اصل ہے جس کا اعلان امام حمینی نے کیا اسرائیل کی کوئی حیثیت نہیں لیکن انہوں نے مسلمانوں کو تقسیم کیا مسلم امہ کے تمام دردوں کی دوا وحدت کو قرار دیتے ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے کہ مسلمانوں کو یکجہتی کی ضرورت ہےسب سے بڑا شیطان امریکہ ہےامریکہ نے مسلم امہ کی طاقت توڑ دی-

    راجہ ناصر عباس نے کہا کہ علامہ اقبال نگاہ نافظ سے دیکھ رہے تھے پاکستان کی سرزمین پر ملی یکجہتی کونسل ایک نعمت ہے پاکستان اس دور سے نکل گیا ہے جب یہاں انتہائی خراب صورتحال پیدا کردی گئی تھی امریکہ چاہتی ہے یہاں تفرقے اور بد امنی ہو جب تک علما زندہ ہے ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا پاکستان میں وحدت سے ہی امن آئے گا،ہم خوشحال ہوں گےوحدت سے پاکستان خوشحالی کی جانب بڑھے گا-

    گزشتہ تین سالوں کے دوران تسلسل کیساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،حکومت کا اعتراف

    نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم نے کہا کہ یہاں موجود سب کا حاضرین کاشکریہ اہل تشیع کے علما کا شکریہ آپ یہاں ایران اور تہران کی نمائندگی کررہے ہیں وہ دن جلد آئے گا جب امت مسلمہ یک جہت ہوگی اللہ۔ہمیں کلمہ کے بنیاد پر یکجہتی کی توفیق عطا فرمائے-

    پاکستان میں ایران کے سفیر محمد علی حسینی نے کہا کہ میں اس پروقار مجلس پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتا ہوں ہر قدم امت مسلمہ کی اتحاد کیلئے اٹھانا خوش آئند ہے آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں کیلئے یکجہتی کا راستہ کھولا انہوں نے امت مسلمہ کی اتحاد کو مضبوط کرنے کیلئے کوششیں کی مغرب اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسلاموفوبیا کی خاتمے کیلئے کوششوں کو سراہتا ہوں-

    مولانا نظیر سلامی نے کہا کہ ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ آج ہم ایک جگہ پر اکٹھے ہیں میری لئے آج دو خوشیاں ہیں تمام مسالک کے شخصیات یہاں موجود ہیں 42 سال پہلے یہاں مسلکی ہم آہنگی نہیں تھی ایک مسلک کے لوگ دوسرے مسلک کے ساتھ ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے تھےآج ایسا کچھ بھی نہیں اور ہم ساتھ بیٹھے ہیں استعماری قوتوں نے سائے تلاش کی اور وحدت کا خاتمہ کیا 10ہجری میں دنیا کے اکثر ممالک میں خلافت عثمانیہ کی حکومت تھی حلافت عثمانیہ مسلمانوں کی اتحاد کا نمونہ تھا سلاطین مغل بھی اسلامی ذہن رکھتے تھے-

    آئندہ قومی الیکشن میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا کیا جائےگا ،سینیٹر مولانا عطا الرحمان