Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • امارات، امریکہ ، اسرائيل اور بھارت پر مشتمل نیا گروپ تشکیل

    امارات، امریکہ ، اسرائيل اور بھارت پر مشتمل نیا گروپ تشکیل

    امارات، امریکہ ، اسرائيل اور ہندوستان پر مشتمل نیا گروپ تشکیل دیا جارہا ہے جس کا نام ” آئی ٹو یو ٹو” رکھا گيا ہے۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

    مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امارات، امریکہ ، اسرائيل اور ہندوستان پر مشتمل نیا گروپ تشکیل دیا جارہا ہے جس کا نام ” آئی ٹو یو ٹو” رکھا گيا ہے۔ بھارت میں متحدہ عرب امارات کے سفیر احمد البنّا نے اس نئے گروپ کو” مغربی ایشیائی کوآڈ ” قراردیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق چاروں ملکوں کے اس نئے گروپ ” آئی ٹو یو ٹو” کی پہلی سربراہی کانفرنس جولائی میں امریکی صدر جو بائیڈن کی میزبانی میں ہو گی۔

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق

    امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق صدر جو بائیڈن 13سے 16جولائی کے درمیان مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے دوران ایک ورچوئل سربراہی کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔

    اس کانفرنس میں نو تشکیل شدہ گروپ آئی ٹو یو ٹو‘ کے دیگر رہنما بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان حصہ لیں گے۔

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط

    انہوں نے اس گروپ کے نام I2U2 کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹو سے مراد دو مرتبہ آئی ہے، جس کا مطلب بھارت اور اسرائیل ہیں۔اسی طرح یو ٹو سے مراد دو مرتبہ یو ہے، جس کا مطلب امریکہ (یو ایس اے) اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہیں۔

  • امریکی صدرکا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخر:جولائی میں دورہ متوقع

    امریکی صدرکا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخر:جولائی میں دورہ متوقع

    لاہور:امریکی صدرکا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخر:جولائی میں دورہ متوقع،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخرکردیاہے اب وہ اگلے ماہ اسرائیل، مغربی کنارے اور سعودی عرب کا دورہ کریں گے، وائٹ ہاوس کے ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے بارے میں کئی مہینوں کی قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔

    وائٹ ہاوس کے ذرائع کے مطابق جوبائیڈن کے 13 سے 16 جولائی کے درمیان ہونے والے اس دورے میں پورے خطے اور اس سے باہر کے تقریباً ایک درجن ہم منصبوں کے ساتھ مصروفیات شامل ہوں گی۔ان کا پہلا پڑاؤ اسرائیل ہو گا،”یہ صدر بائیڈن کا بطور صدر ملک کا پہلا دورہ ہو گا، اور یہ ایک نوجوان سینیٹر کی حیثیت سے اسرائیل کے ان کے پہلے دورے کے تقریباً 50 سال بعد آیا ہے۔”

    دورہ سعودی عرب میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے…

    صدر کے شیڈول کے بارے میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کرائن جین پیئر نے کہا کہ بائیڈن اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تاکہ اسرائیل کی سلامتی، خوشحالی اور وسیع تر خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے انضمام پر بات چیت کی جا سکے۔اسرائیل میں اپنے مذاکرات کے بعد صدر فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر فلسطینی حکام سے ملاقات کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے، فلسطین کا رخ کریں گے۔

    وائٹ ہاوس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جوبائیڈن "دو ریاستی حل کے لیے اپنی تاحیات وابستگی کا اعادہ کرنے اور ان طریقوں پر بات کرنے کے منتظر ہیں جن سے ہم ایک ایسے سیاسی افق کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے یکساں آزادی، سلامتی، خوشحالی اور وقار کے یکساں اقدامات کو یقینی بنا سکے۔

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی…

    مغربی کنارے کے اپنے دورے کے بعد، بائیڈن جدہ، سعودی عرب جائیں گے، جہاں وہ خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے علاوہ مصر،عراق اور اردن جی سی سی 3 میں شرکت کریں گے۔جدہ میں صدر کی بات چیت کے بارے میں جین پیئر نے کہا کہ بائیڈن اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ، علاقائی اور عالمی مسائل پر بات کریں گے۔

    ترجمان نے کہا، "ان میں یمن میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی حمایت بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے سات سال قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ پرامن دور رہا ہے۔”انہوں نے کہا کہ "وہ علاقائی اقتصادی اور سیکورٹی تعاون کو وسعت دینے کے ذرائع پر بھی بات کریں گے، بشمول نئے اور امید افزا انفراسٹرکچر اور موسمیاتی اقدامات، نیز ایران سے خطرات کو روکنے، انسانی حقوق کو آگے بڑھانے، اور عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا”۔جوبائیڈن کی ترجیحات میں شامل ہیں

    جین پیئر نے مزید کہا کہ بائیڈن "شاہ سلمان کی قیادت اور ان کی دعوت کو سراہتے ہیں” اور "سعودی عرب کے اس اہم دورے کے منتظر ہیں، جو تقریباً آٹھ دہائیوں سے امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر رہا ہے۔”سعودی سرکاری پریس ایجنسی (SPA) نے منگل کو تصدیق کی کہ یہ دورہ 15 سے 16 جولائی کے درمیان ادا کیا جائے گا۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا صدر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، سینئر عہدیدار نے کہا کہ بائیڈن اپنے ہم منصبوں اور سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔تو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں ملاقات ضرور ہوگی

    امریکی صدر جوبائیڈن نے طویل عرصے سےمحمد بن سلمان کے ساتھ بیٹھنےاحتراز کیا ہے، جسے امریکی انٹیلی جنس نے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے 2018 کے بہیمانہ قتل کا حکم دیا تھا۔صدر نے 2019 میں کہا تھا کہ وہ خاشقجی کے قتل کی وجہ سے سعودی عرب کو ایک "پریوا” ریاست بنائیں گے۔

    عہدیدار نے کہا کہ صدر سعودیوں کے ساتھ انسانی حقوق کے مسائل اٹھائیں گے۔تو اہلکار کا جواب تھا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے نہ کہ خواہ مخواہ مسائل کو ہوادینا چاہتا ہے

  • اچانک امریکی صدر بائیڈن کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل ملتوی

    اچانک امریکی صدر بائیڈن کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل ملتوی

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور سعودی عرب کے ممکنہ دورے کی تاریخ مزید آگے بڑھا دی ہے۔ جو بائیڈن کا مبینہ طور پر جون کے آخر میں ہونے والے بیرون ملک دورے کے دوران سعودی عرب جانے کا بھی ارادہ تھا۔ لیکن انہوں نے یہ دورہ جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے ممکنہ تاخیر پر کوئی بیان دینے سے انکار کردیا ہے۔ امریکی صدر نے جمعے کو تصدیق کی تھی کہ وہ سعودی عرب کے دورے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے پر اتفاق کرتے ہوئے بائیڈن کی دو ترجیحات پر عمل کیا۔

    اس سے امریکی افراط زر کو قابو کرنے اور یمن میں جنگ بندی میں توسیع میں مدد مل سکتی ہے۔ سی این این کے مطابق جوبائیڈن سعودی عرب کے حکمران ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

    مبینہ طور پر یہ دورہ اس وقت ہوگا جب بائیڈن اس ماہ کے آخر میں سپین میں نیٹو سربراہان کے اجلاس اور جرمنی میں گروپ آف سیون اجلاس میں شریک ہوں گے۔ توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسرائیل جائیں گے جہاں انہیں ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ سست رفتار امریکی سفارت کاری کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا

    بائیڈن نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے سپلائی چین میں گڑبڑ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی عوام کو مشتعل کر دیا ہے اور بائیڈن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بائیڈن کی انتظامیہ سعودی عرب کو اس امید پر تیل کی پیداوار بڑھانے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس سے سپلائی کی قلت کو کم کرنے اور قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی-

    حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ سعودی حکومت کے دو وفود رواں ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے کیونکہ ریاض اور واشنگٹن نے کشیدہ تعلقات کو ٹھیک کرنے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے دورہ سعودی عرب کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ دو عہدیداروں نے بتایا تھا کہ توقع ہے کہ پہلا وفد 15 جون کو واشنگٹن کا دورہ کرے گا اور اس کی قیادت سعودی وزیر تجارت ماجد بن عبداللہ القصابی کریں گے۔

    سرمایہ کاری کے وزیر خالد الفلیح کی قیادت میں دوسرا وفد رواں ماہ کے آخر میں امریکہ جائے گا۔ عہدیداروں نے نام ظاہر کرنے سے انکار کردیا کیونکہ ان دوروں کے متعلق عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے امریکہ جانے والے وفود میں درجنوں سرکاری حکام اور سعودی کمپنی کے ایگزیکٹوز شامل ہوں گے جو نقل و حمل، لاجسٹکس اور قابل تجدید توانائی سمیت متعدد شعبوں میں معاہدے اور معاہدوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    سعودی حکومت نے ان دوروں کے متعلق خبروں پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ دورہ سعودی عرب کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس اعلان سے قبل جمعرات کو پیٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اتحادیوں (اوپیک پلس) کی جانب سے تیل کی پیداوار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور یمنی حکومت اور ایران سے منسلک حوثیوں کے درمیان یمن میں جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ بھی ہوا تھا۔ بائیڈن اور وائٹ ہاؤس نے دونوں فیصلوں پر سعودی عرب کی تعریف کی تھی۔ امریکی صدر کے اس دورے سے واشنگٹن کے سعودی عرب کے

  • اسرائیل نے صرف 2 ڈالر میں میزائلوں کو روکنے والا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تیارکرلیا

    اسرائیل نے صرف 2 ڈالر میں میزائلوں کو روکنے والا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تیارکرلیا

    تل ابیب :اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ لیزر پرمبنی فضائی دفاعی نظام، جسے اسرائیل دشمن کے راکٹوں اور ڈرونز کو بے اثر کرنے کے لیے اگلے سال سے نصب کرنے کی امید رکھتا ہے،کی قیمت صرف 2 ڈالر فی ’روک‘ ہوگی۔

    اسرائیل اس وقت مار گرانے کے دفاعی نظاموں پرانحصار کرتا ہے جو اس طرح کے میزائلوں اور راکٹوں کا سراغ لگانے کے لیے ہزاروں سے لاکھوں ڈالر کی لاگت کے حامل روک اور مارگرانے والے میزائل داغتے ہیں۔لیکن آئرن بیم سسٹم فضائی خطرات کو سُپرہیٹ اور غیر فعال کرنے کے لیے لیزر کا استعمال کرتا ہے۔اس کا ایک پروٹو ٹائپ گذشتہ سال منظرعام پر آیا تھا۔

    بینیٹ نے پیشین گوئی کی ہے کہ یہ 2023ء کے اوائل تک فعال ہوجائے گا۔انھوں نے اس نظام کو تیار کرنے والی سرکاری فرم رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے دورے کے موقع پرکہا کہ ’’یہ کھیل کا پانسہ پلٹنے والا نظام ہے، نہ صرف اس لیے کہ ہم دشمن فوج پرحملہ کررہے ہوں گے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے ذریعے ہم اسے دیوالیہ کرنے والے ہیں‘‘۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور لبنانی حزب اللہ نے ماضی کی جنگوں میں اسرائیل پرہزاروں راکٹ اور مارٹر بم داغے تھے۔اسرائیل کے میزائل دفاعی نظاموں نے حالیہ برسوں میں ان ڈرونز کو بھی روکا ہے جن کے بارے میں اسے شُبہ ہے کہ انھیں ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اس کی سرحدوں کے قریب داغا تھا۔

    بینیٹ نے اپنے دفترکی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ ’’آج تک ہر راکٹ کو روکنے کے لیے ہمیں بہت زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی تھی۔ آج وہ (دشمن) ایک راکٹ میں ہزاروں ڈالرکی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں اور ہم اس راکٹ کو روکنے کے لیے بجلی پرصرف 2 ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے‘‘۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کا نیا لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام (ائیر ڈینفس سسٹم) کوئی بھی میزائل روکے گا تو اس پر صرف دو ڈالرز خرچ ہوں گے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کو فلسطینی اتھارٹی اور لبنان کی طرف سے راکٹ اور بم حملوں کا متواتر نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں ارد گرد کے ممالک سے بھی کئی راکٹ بیراج شامل ہیں۔
    اسرائیلی حکام نے اپریل میں کامیاب تجربات کی اطلاع دی، جس میں سسٹم کی جانب سے مارٹر، راکٹ اور بغیر پائلٹ کے ڈرونز کو مار گرانے کی ویڈیو پوسٹ کی گئی۔

    بینیٹ نے ایک ٹویٹ میں لکھا، “یہ دنیا کا پہلا توانائی پر مبنی ہتھیاروں کا نظام ہے جو آنے والے UAVs، راکٹوں اور مارٹرز کو مار گرانے کے لیے ایک لیزر کا استعمال کرتا ہے جس کی قیمت 3.50 ڈالرز فی شاٹ ہے۔”فی الحال یہ واضح نہیں کہ اپریل میں بینیٹ کی تخمینہ لاگت 3.50 ڈالرز فی وقفہ ان کے بدھ کے ریمارکس میں کم ہوکر دو ڈالرز کیوں ہوگئی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی حکام 2016 سے آئرن بیم تیار کر رہے ہیں۔

  • متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط ہو گئے

    متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے تجارت ثانی الزیودی کا کہنا ہے کہ معاہدہ ابراہیم معاہدے کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے،ہم نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا ہے ہمارا معاہدہ ترقی کو تیز کرے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کریں گے،معاہدے کے تحت 96 فیصد مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے گی،متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت کا کہنا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کا معاہدہ پانچ سالوں میں باہمی تجارت کی قدر کو 10 بلین ڈالر سے آگے بڑھا دے گا۔

    یہ معاہدہ ستمبر 2020 میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کے بعد ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہوا بازی سے لے کر ٹیکنالوجی تک کے شعبوں میں درجنوں ابتدائی معاہدے ہوئے۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے نومبر 2021 میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا،

    ایمریٹس اور اسرائیل کے درمیان تجارت دو سالوں سے بھی کم عرصے میں 2.5 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں سے اس سال کی پہلی سہ ماہی میں 1 بلین ڈالر سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا،

    کئی مہینوں کی بات چیت کے بعد دستخط کیے گئے تجارتی اور سرمایہ کاری کا معاہدہ، اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ پہلا بڑا تجارتی معاہدہ ہے۔

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لائے جا سکتے ہیں

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک لمبا اور انتہائی محتاط عمل ہے تا ہم ایسا ممکن ہے، تعلقات کو معمول پر لایا جا سکتا ہے اگر کسی معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حیرت انگیز اعلان نہیں ہوگا جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ہونے والے سابقہ معاہدوں کے وقت ہوا تھا ہ اسرائیل امریکا اور خلیجی ممالک سے مل کر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالہ سے کام کر رہا ہے،ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ابراہیم معاہدے کے بعد یہ اگلا قدم ہے

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل اپنے اتحادی امریکا اورخلیجی ملکوں سے مل کرسعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے پرکام کررہا ہے

    اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لاپڈ نے تجویز پیش کی کہ ریاض کو اسرائیل، امریکہ اور کئی خلیجی عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالہ سے کام جاری ہے،

    چار عرب ریاستوں – بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں نام نہاد ابراہم معاہدے پر دستخط کیے تھے ریاض نے معاہدوں کی حمایت کی تھی لیکن اس وقت کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو صرف اسی صورت میں معمول پر لائے گا جب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی طرف "اہم پیش رفت” ہوتی ہے۔

    سعودی عرب نے بھی اکثریتی عرب ریاستوں کی طرح اصرار کیا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔معاہدوں پر دستخط ہونے کے دو سالوں میں اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں پر اپنے پرتشدد حملوں کو روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    گزشتہ ہفتے،ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی بائیڈن انتظامیہ مصر، اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان خاموشی سے ثالثی کر رہی ہے تاکہ ریاض کو تعلقات معمول پر لانے کی ترغیب دی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے کوآرڈینیٹر بریٹ میک گرک اور محکمہ خارجہ کے توانائی کے ایلچی آموس ہوچسٹین سینئر سعودی حکام سے بات چیت کے لیے گزشتہ ہفتے ریاض پہنچے تھے۔ یہ ملاقات اگلے ماہ کے آخر میں بائیڈن کے خود سعودی عرب کے ممکنہ دورے کا پیش خیمہ ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سرکاری سطح پر تعلقات کی عدم موجودگی کے باوجود 2020ء میں اسرائیل اور یواے ای کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا ۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ایل آل اسرائیل ایئرلائنز کے طیارے نے  ابوظبی جانے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود ہی سے پرواز کی تھی

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • مسجد اقصی میں اسرائیلی بربریت کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    مسجد اقصی میں اسرائیلی بربریت کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    اسلام آباد:سینیٹ اجلاس میں مسجد اقصی میں اسرائیلی بربریت کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی-

    باغی ٹی وی : ایوان میں پیش کی گئی قرار داد میں اسرائیلی فوج کے حالیہ تشدد اور دہائیوں سے غزہ کی بندش کی مذمت بھی کی گئی ہے سینیٹر مشتاق احمد کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کے یہ ایوان 72سالوں سے فلسطینی قبضے کی مذمت کرتا ہے-

    سینیٹ اجلاس: اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ

    علاوہ ازیں سینٹ اجلاس میں اسلامو فوبیا اور سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف بھی قرار داد منظور کی گئی۔

    مسجد اقصیٰ میں مشتعل یہودی آباد کاروں کے مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ واقع میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مسلمانوں کو ایک بار پھر اُس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ نماز ادا کر رہے تھے۔

    جنونی جتھے کی سربراہی متعصب انتہا پسند یہودی رہنما ایتامار بین گویر کر رہے تھے۔ صیہونی جتھے نے مسلمانوں کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور نمازیوں کو زدوکوب کیا جس میں درجنوں مسلمان زخمی ہوگئے۔

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    قبل ازیں سینیٹ اجلاس میں اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا سینیٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نےنقطہ اعتراض میں کہا کہ جو پاکستانی اسرائیل کے دورے پر گئے اس پر ایوان میں اعتماد میں لیا جائے احمد قریشی جو پاک فوج کے ادارے کے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں وہ بھی اسرائیل گئے ہیں، جو بھی اسرائیل گئے ہیں ان کی شہریت ختم کی جائے۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم اخباری خبر پر کوئی بات نہیں کرسکتے، میں وزارت خارجہ سےکنفرم کرکے ایوان کوآگاہ کروں گا اسرائیل سےمتعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئےگی،فلسطین ہویااسرائیل ہماری ریاستی پالیسی واضح ہےہم اسرائیل کوبطور ریاست نہیں مانتے ،اسرائیل کاکوئی سرکاری دورہ نہیں ہوامتعلقہ حلقوں سے بات کرکے آفیشل بیان دیں گے-

    مریم نواز کا عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام

  • مریم نواز کا عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام

    مریم نواز کا عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام

    لاہور :مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان پر اسرائیل سے خاندانی واسطہ‘ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر ٹوئٹس میں عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ جھوٹے خط، جھوٹی عالمی سازش، قتل کا جھوٹا ڈرامہ فیل ہونے کے بعد تاریخ کے سب سے ناکام لانگ مارچ کے بعد اب اسرائیل وفد بھیجے جانے کی انتشار (عمران) خان کی ایک اور دو نمبری (ہے)۔


    انہوں نے کہا کہ فتنہ خان پورے پاکستان میں واحد شخص تم ہوجس کا اسرائیل سےبراہ راست خاندانی واسطہ ہے ایک مسلمان پاکستانی کےمقابلےمیں زیک گولڈ اسمتھ کی الیکشن کیمپئین کرنے والے میں تمہیں وارننگ دیتی ہوں جھوٹ بولنے سے باز آجاؤ ورنہ منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی-


    قبل ازیں مریم نواز نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجرکے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں داخل کرائےگئے جواب پر کہا کہ اصل خوف یہ ہےکہ پکڑے گئے تو قدموں کے نشان بنی گالا محل تک جائیں گے-

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئےکہا کہ جب چوری کی ہو تو پھر ایسے فرار اختیار کرنےکی کوشش کی جاتی ہے اصل خوف یہ ہےکہ پکڑے گئے تو قدموں کے نشان بنی گالا محل تک جائیں گے۔

    اس بار بھر پور تیاری کے ساتھ جائیں گے،عمران خان


    فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجرکے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس میں نیب نے ان کے 4 ملازمین کو طلب کر رکھا تھاآج ان کے ملازمین محمد آصف، محمد منیر، مظاہر بیگ اور محمد وقار نے پیش ہونے کے بجائے اپنے وکیل اظہر صدیق کے ذریعے تحریری جواب جمع کرا دیا۔

    فرح خان کے ملازمین نیب خود پیش نہ ہوئے، جواب جمع کروا دیا

    جواب میں لکھا گیا کہ نیب کا نوٹس جاری کرنے کا عمل غیر قانونی اوراختیارات سے تجاوز ہے، فرح خان کبھی بھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہیں، نہ ہی کبھی کسی سرکاری دفتر میں ملازمت اختیار کی، تمام ملازمین غوثیہ بلڈرز میں ملازم رہے ہیں ایک ملازم فرح خان کے گھر میں ٹیوشن پڑھاتا ہے، نیب اپنے دائرہ اختیار کا تعین کرے ورنہ اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے-

    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، 199 روپے 6 پیسے کا ہو گیا

  • سینیٹ اجلاس: اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ

    سینیٹ اجلاس: اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ

    اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اسرائیل جانے والے صحافی کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نےنقطہ اعتراض میں کہا کہ جو پاکستانی اسرائیل کے دورے پر گئے اس پر ایوان میں اعتماد میں لیا جائے-

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ احمد قریشی جو پاک فوج کے ادارے کے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں وہ بھی اسرائیل گئے ہیں، جو بھی اسرائیل گئے ہیں ان کی شہریت ختم کی جائے۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم اخباری خبر پر کوئی بات نہیں کرسکتے، میں وزارت خارجہ سےکنفرم کرکے ایوان کوآگاہ کروں گا اسرائیل سےمتعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئےگی،فلسطین ہویااسرائیل ہماری ریاستی پالیسی واضح ہےہم اسرائیل کوبطور ریاست نہیں مانتے ،اسرائیل کاکوئی سرکاری دورہ نہیں ہوامتعلقہ حلقوں سے بات کرکے آفیشل بیان دیں گے-

    سینیٹ میں قائد خزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پرواضح لکھا ہے کہ آپ اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ نہیں کرسکتے، امپورٹڈ حکومت امریکا اوراسرائیل کی خوشنودی پر لگےہوئے ہیں اور پی ٹی وی کا ایک ملازم احمد قریشی بھی اسرائیل گیا ہے۔

    راولپنڈی چیمبر آف کامرس کا حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے میثاق معیشت کرنے کا مطالبہ

    قبل ازیں فاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت پاکستانی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی فلسطین پر پاکستان کی پالیسی واضح اور قائداعظم کے فرامین پر مبنی ہے، پاکستان کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے منافی کوئی پالیسی یا اقدام نہیں ہوسکتا پاکستان مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنے روایتی اور اصولی موقف پر سختی سے کاربند ہے –

    انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ واضح کرچکی ہے کہ پاکستان سے کوئی وفد اسرائیل نہیں گیا،دنیا دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کا ضامن تصور کرتی ہے،یت المقدس دارالحکومت اورجغرافیائی وحدت کی حامل فلسطینی ریاست کا وعدہ پورا کیاجائےسستی سیاسی شہرت کیلئے ہر منفی اقدام کرنےوالے کسی قومی مفاد کا تو خیا ل کریں دورے میں شامل پی ٹی وی کےاینکر کومعطل اورآف ائیرکردیاگیا ہے اینکر احمد قریشی کو 26 مئی کو ہی برطرف کیا جا چکا ہے-

    اس بار بھر پور تیاری کے ساتھ جائیں گے،عمران خان

  • اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیراطلاعات

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے اینکر کو پی ٹی وی سے معطل کر دیا،وفاقی وزیر اطلاعات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت پاکستانی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فلسطین پر پاکستان کی پالیسی واضح اور قائداعظم کے فرامین پر مبنی ہے، پاکستان کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے منافی کوئی پالیسی یا اقدام نہیں ہوسکتا پاکستان مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنے روایتی اور اصولی موقف پر سختی سے کاربند ہے وزارت خارجہ واضح کرچکی ہے کہ پاکستان سے کوئی وفد اسرائیل نہیں گیا،دنیا دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کا ضامن تصور کرتی ہے،بیت المقدس دارالحکومت اور جغرافیائی وحدت کی حامل فلسطینی ریاست کا وعدہ پورا کیا جائے،سستی سیاسی شہرت کیلئے ہر منفی اقدام کرنے والے کسی قومی مفاد کا تو خیا ل کریں دورے میں شامل پی ٹی وی کے اینکر کومعطل اورآف ائیر کردیا گیا ہے اینکر احمد قریشی کو 26 مئی کو ہی برطرف کیا جا چکا ہے

    قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی،فلسطین ہو یا اسرائیل ہماری ریاستی پالیسی واضح ہے ،ہم اسرائیل کو بطور ریاست نہیں مانتے ،اسرائیل کاکوئی سرکاری دورہ نہیں ہوامتعلقہ حلقوں سے بات کرکے آفیشل بیان دیں گے ,

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروائی گئی ہے،قرارداد ن لیگی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، حنا پرویزبٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جس صحافی نے اسرائیل کا دورہ کیا اسکو پی ٹی آئی حکومت نے پی ٹی وی میں بھرتی کیا۔خود اسرائیل سے پینگیں بڑھانے والی پی ٹی آئی یاد رکھے کہ ہم کشمیر اور فلسطین کے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں کریں گے ، ان کی حمایت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے حق میں پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی

    دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے کسی وفد کے دورہ اسرائیل یا اسرائیلی حکام سے ملاقات کا تصور واضح طور پر مسترد کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ زیربحث دورےکا اہتمام غیر ملکی این جی او نے کیا تھا جو پاکستان میں مقیم نہیں۔

    دفترخارجہ نے پاکستان کےکسی بھی وفدکے دورہ اسرائیل کی تردیدکی ہے

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا