Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں آج عمران خان سے ملاقات ہونی تھی، پی ٹی آئی رہنما جیل پہنچے تاہم ملاقات نہیں کروائی گئی

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے شبلی فراز،رؤف حسن و دیگر کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف متحد ہے، ہم سب لوگ ایک ہیں، ہمارے اندر کوئی تفرقہ نہیں، ہم سب نے ایک ہو کر کام کرنا ہے، ہمارے سینے میں عمران خان کی محبت ہے، ہم ایک ہیں اور رہیں گے، دنیا کان کھول کر سن لے اگلے وزیراعظم بہت جلد قیدی نمبر 804 ہوں گے،ہم 1:15 بجے کے یہاں اڈیالہ جیل میں موجود ہیں لیکن ہماری عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی،ہم اڈیالہ جیل کے اندر چوکی میں کھڑے تھے کہ ایس ایچ اوجاوید وہاں آیا اور کہا کہ اوپر سے آرڈر ہے آپ یہاں سے چلے جائیں،

    شہر یارآفریدی کا کہنا تھا کہ ایک بات واضح ہے یہ کچھ بھی کر لیں جتنا مرضی ظلم کرلیں رب ذوالجلال کی قسم ہم تقسیم نہیں ہوں گے، ہم عمران خان کے سائے تلے ایک ٹیم ہیں،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی میں گروپ بندی ہو چکی ہے، عمران خان نے آج دو گروپس کو ملاقات کے لیے بلایا تھا تا ہم آج ملاقات نہیں کرنے دی گئی.

  • امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ پاکستان مسترد کرتا ہے، دفتر خارجہ

    امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ پاکستان مسترد کرتا ہے، دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ کو پاکستان مسترد کرتا ہے، ان رپورٹ کی تیاری میں شفافیت نہیں ہے۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی کے متعلق حکومت پاکستان کی جانب سے لیے گئے اقدامات کو نظر انداز کیا. اس طرح کے رپورٹ انسانی حقوق کو پروموٹ نہیں کرتے،پاکستانی شہری قانون و آئین کے تحت مذہبی آزادی سے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، یہ آزادیاں انہیں آئین و قانون کے تحت میسر ہیں، امریکی رپورٹ پر وزارت قانون و انصاف اپنا مؤقف دے چکی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے خلاف قومی اسمبلی پاس قرارداد قراداد زیر غور ہے ۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مختلف معاملات پر مسلسل رابطہ رکھتے ہیں،

    پاکستان کو افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کے سپورٹ کے متعلق تحفظات ہیں،دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تحفظات پر دوحہ میں بات چیت ہوئی ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کے سپورٹ کے متعلق تحفظات ہیں اور اس سے افغان حکام کو آگاہ کیا گیا ہے، پاکستان میں کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کارروائی خود مختار فیصلہ ہے، وزارت داخلہ ایسی کسی کارروائی کے بارے میں بتا سکتی ہے، پاکستان افغان عبوری حکومت کیساتھ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کیلئے رابطے میں رہا ہے، ہم افغان حکام سے خطے میں امن کیلئے ان اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں

    پاکستان کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں ،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہناتھا کہ سال 2024 ایس سی او کے تعلقات کے لیے اہم ہے. پاکستان ایس سی او کی ہیڈ آف سٹیٹ کی میٹنگ کی میزبانی اس سال اکتوبر میں کرے گا، پاکستان کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی بلاک کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا، ہم باہمی احترام کے ساتھ تعلقات پر یقین رکھتے ہیں،پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی مثبت تعلقات ہیں گزشتہ سالوں میں باہمی تعاون میں اضافہ ہوا ہے،

    غزہ کے طالب علموں کو پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم دی جائے گی،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ غزہ کے طالب علموں کو پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم دی جائے گی۔اس سلسلے میں بیس سے تیس بیجز کومیڈیکل کی تعلیم دی جائے گی۔غزہ کے طلبہ 20 سے 30 کے بیجز میں پاکستان میں میڈیکل تعلیم مکمل کریں گے، حکومت پاکستان نے غزہ کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی، پاکستان میڈیکل و ڈینٹل کونسل نے غزہ کے طلبہ کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا،

    عمران خان نے جیل کو حجرے ،پی ٹی آئی دفتر میں تبدیل کردیا ،پرویز رشید

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

  • عمران خان نے   جیل کو حجرے ،پی ٹی آئی دفتر میں تبدیل کردیا ،پرویز رشید

    عمران خان نے جیل کو حجرے ،پی ٹی آئی دفتر میں تبدیل کردیا ،پرویز رشید

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت پانچ سال کے لئے منتخب ہوئی ہے، اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی،

    مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے پارلیمنٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف ایک جمہوری شخصیت ہیں اور جمہوری شخص جمہوری بات کرے گا،شہباز شریف جس شخص کو بات چیت کی دعوت دے رہے ہیں وہ غیر جمہوری ذہن کا مالک ہے، وہ مذاکرات کرنے پر نہیں دھمکی دینے پر یقین رکھتے ہیں، وہ جمہوریت کی زبان نہیں بولتے، دھرنے طاقت اور آگ لگانے کی زبان استعمال کرتے ہیں،اس لئے شہباز شریف کو مایوسی ہوگی کہ وہ غلط شخص کو ایڈریس کر بیٹھے ہیں،حکومت نے چیلنجز پر قابو پالیا ہے،

    پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل کو حجرے اور تحریک انصاف کے دفتر میں تبدیل کردیا ہے،اس کی جماعت جو ایک دوسرے کا سر پھاڑتی پھر رہی ہے،ان فریقوں کو بلا کر وہ ان کے درمیان صلح صفائی کے جرگے کر رہا ہوتا ہے،ہم سے تو جیل میں عادی مجرموں سے بھی زیادہ برا سلوک کیا جاتا تھا، حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور قیدی کو قیدی کے طور پر جیل میں رکھنا چاہئے،

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا چیئرمین سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت اجلاس ہوا ۔

    اجلاس میں وزارت مواصلات اور اسکے ذیلی اداروں سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔سیکرٹری مواصلات نے کہاکہ وزارت مواصلات کے 5 ذیلی ادارے ہیں، سب سے بڑا ادارہ پاکستان پوسٹ ہے، اس وقت 14 ہزار 400 کلو میٹر قومی شاہراہیں ہیں،85 جی پی او ہیں، ٹوٹل 10ہزار پوسٹ آفسز ہیں، سی پیک کے لئے بھی یہ فوکل منسٹری ہے ۔

    بلوچستان کی 42 فیصد سڑکیں این ایچ اے کے پاس ہیں، ایک بھی ٹول پلازہ نہیں ،علیم خان
    وفاقی وزیر برائے مواصلات عبد العلیم خان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ مجھے وزارت مواصلات کی ایڈیشنل ذمہ داری ملی ہوئی ہے،ہمیں حکومت اور ممبران اسمبلی کی طرف سے جو ضروریات آتی ہیں، کئی کام شروع کروا دیئے جاتے ہیں،ان کاموں کے لئے فنڈز کبھی دو فیصد کبھی پانچ اور کبھی دس فیصد دیئے جاتے ہیں، موٹروے اس لئے بنتی ہے کہ آپ کا وقت بچایا جائے،گاڑی پر اگر ایم ٹیگ لگا ہوگا تو ہم اس کو ڈسکاؤنٹ بھی دیں گے،بلوچستان کی 42 فیصد سڑکیں این ایچ اے کے پاس ہیں، ایک بھی ٹول پلازہ نہیں ہے،اس وقت ریوینو 60 ارب ہے،اگلے سال ایک سو ارب سے اوپرکر دیں گے۔سکھر حیدرآباد موٹروے کا ایک لنک بچ گیا ہے،یہ موٹروے ہمارے پاس ترجیح پر ہے،410 ارب روپے کا مسئلہ ہے، اس کے لئے ہم کوشش کررہے ہیں۔این ایچ اے کی پی ایس ڈی پی میں 2226ارب روپے کے منصوبے ہیں اگر مزید نئے منصوبے شامل نہ بھی کریں تو ان کو مکمل کرنے کے لیے 15 سال لگیں گے اس مالی سال 180ارب روپے کی پی ایس ڈی پی ہے ۔

    وفاقی سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ ہمارے پاس 38 ملین گاڑیاں ہیں،جن میں 70 فیصد موٹر سائیکل ہیں، 70 فیصد پرانی گاڑیاں ہیں،قراقرم ہائی وے کا سست،خنجراب سیکشن پورا سال کھلا رہے گا،

    سکھر حیدرآباد موٹروے کی زمین کی خریداری میں کرپشن کا انکشاف
    سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کہاکہ کراچی سے حیدرآباد سڑک موٹروے نہیں ہے، آئے دن اس پر حادثات ہوتے رہتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں ان کی سکھر حیدرآباد موٹروے بنانے کی خواہش بھی نہیں،وفاقی سیکرٹری نے کہاکہ ایم 9 کا پہلا 11 کلو میٹر شہر میں سے گزرتا ہے، کیا ہم شہر میں فینس لگا سکتے ہیں،ہم نے حیدرآباد تک فینس کیا ،ابھی 74 فینس رہتی ہے، سینیٹر جام سیف اللہ نے سکھر حیدرآباد موٹروے کی تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سکھر حیدآباد موٹروے کی لاگت 410ارب روپے تک پہنچ گئی ہے دو سال پہلے لاگت 300ارب روپے تھی لاگت بڑرہی ہے مگر منصوبہ شروع نہیں ہورہاہے ۔وفاقی سیکرٹری نے کہاکہ 463ملین روپے ابھی بھی سکھر حیدرآباد موٹروے کی زمین کی خریداری میں ہونے والی خرد برد کے ریکور کرنے ہیں زمین کی خریداری میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے۔

    مراد سعید کے زمانے کے ریکارڈ چیک کریں کہ وہ خود کیا گھل کھلاتے رہے ہیں، پرویز رشید
    چیئرمین کمیٹی پرویز رشید کی جانب سے سابق وزیراعظم بانی پی ٹی آئی کا نام لئے بغیر تذکرہ کیا پرویزرشید نے کہاکہ ماضی میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے گئے، نگران حکومت اور شہباز شریف سے پہلے کے وزیراعظم چین گئے۔سابق وزیراعظم بار بار کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں بہت کرپشن ہے،کمیٹی میں سابق وزیر مواصلات مراد سعید کا بھی تذکرہ کیا گیا ،سینیٹر جام سیف اللہ خان نےاستفسار کیا کہ مراد سعید ہیں کہاں ؟چیئرمین کمیٹی پرویز رشید نے کہاکہ اس زمانے کے ریکارڈ چیک کریں کہ وہ خود کیا گھل کھلاتے رہے ہیں،

    موٹروے پولیس کو 6568ملازمین کی کمی کا سامنا
    بیروزگاری بڑھ گئی،2400 آسامیوں پر 5 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہونے کا انکشاف
    آئی جی موٹروے پولیس نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ موٹروے پولیس میں 2400 ملازمین بھرتی کئے جائیں گے جن کے لیے 5لاکھ سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دی ہیں اور ستمبر 2024 میں یہ عمل مکمل ہوجائے گا موٹروے پولیس میں9202ملازمین ہیں اور6568ملازمین کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے چور دروازے ڈھونڈے ہوئے ہیں، موٹروے پولیس میں 2 ہزار 400 کے قریب بھرتی جاری ہے، پورے پاکستان کے اندر یہ بھرتی ہورہی ہے ، ساڑھے پانچ لاکھ لوگوں نے اپلائی کیا، ستمبر2024 تک یہ بھرتی مکمل ہو جائے گی،چیئرمین کمیٹی نے یدایت کی کہ ٹیسٹ ہونے کے بعد پیپر کی ایک کاپی کمیٹی کو بھی فراہم کی جائے۔

    کمیٹی کو پوسٹل سروس کی طرف سے بھی بریفنگ دی گئی ۔سربراہ پوسٹل سروس نے بتایا کہ کوریا بینک کے ساتھ ایک معائدہ ہوگیا ہے اس سے ہوسٹل سروس کو جدید بنایا جائے گا ،سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ کوریئر سروس پرائیویٹ سیکٹر کی گروتھ ہوئی ہے، ہماری پوسٹل سروس تقسیم سے پہلے کی بنی ہوئی ہے، ہم کیوں پیچھے رہ گئے ہیں، سینیٹر طلال چوہدری نے کہاکہ یہ وائیبل کیوں نہیں ہے، یہ ہی بتادیں، سیکرٹری مواصلات نے کہاکہ 22 ہزار پاکستان پوسٹ کی ورک فورس ہے،17 ارب ان کی تنخواہ ہے، اس سال انہوں نے 14 ارب کا بزنس کیا ہے،یہ اس وقت تو کمرشلی وائیبل نہیں ہے،

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت،عامر مسعود مغل گرفتار

    پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت،عامر مسعود مغل گرفتار

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دیدی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، دوران سماعت اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ترنول چوک کے پاس 6 جولائی کو جلسے کی اجازت دیدی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے این او سی جاری ہونے پر عامر مسعود مغل کی درخواست نمٹا دی

    دوسری جانب اسلام آباد سے پولیس نے تحریک انصاف کے رہنما عامر مسعود مغل کو گرفتار کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد جلسے کا این او سی لینے ڈی سی آفس پہنچنے والے عامر مغل کو پولیس نے حراست میں لے لیا،حافظ فرحت عباس نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں جلسے کی اجازت ملنے کے بعد ہی فارم 47 کی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور کریک ڈاؤن شروع کر دیا. غیر قانونی طور پر تحریک انصاف اسلام آباد کے صدر عامر مغل کو گرفتار کر لیا گیا ہے. ان اوچھے ہتھکنڈوں سے جلسے کو روک نہیں سکتے. جلسہ ہر صورت ہوگا اور عوام کی بڑی تعداد اس میں شرکت کرے گی.

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • حامد رضا کی نام سفری پابندی کی فہرست سے نکلوانے کی درخواست پرجواب طلب

    حامد رضا کی نام سفری پابندی کی فہرست سے نکلوانے کی درخواست پرجواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سُنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی نام سفری پابندی کی فہرست سے نکلوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید احسن رضا کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ باہر جا کر واپس نہیں آئیں گے؟ سیاسی لیڈر ہیں باہر گئے تو واپس آ جائیں گے، صرف تنگ کرنے کیلئے نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے؟ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کی جانب سے وکیل سید علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

  • مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وار کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز سے متعلقہ متعدد امور بشمول پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات، گزشتہ دس برسوں کے دوران حاصل ہونے والی آمدن اور اخراجات، گزشتہ دس برسوں کے دوران فارغ ہونے والے ملازمین کی تعداد اور ان کی گریڈ وائز تفصیلات، پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد اور ان پر آنے والے اخراجات بشمول تنخواہ و دیگر مراعات کے علاوہ پاکستان سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی سمیت اس نجکاری کرنے اور منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات اور ملازمین کے مستقبل سے متعلقہ امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات کے حوالے سے سی ایف او پاکستان سٹیل ملز محمد عارف شیخ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے کے ہیں جن میں سے 2.12 ارب کے اثاثہ جات منقولہ اور 858 ارب کے غیر منقولہ اثاثہ جات ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ منقولہ اثاثہ جات میں 1.45 ارب کی مشینری اور گاڑیاں ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین کا تخمینہ 2021 میں لگایا گیا تھا اور کمپنی نے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق یہ تخمینہ لگوایا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی 500 گاڑیاں ہیں جن میں بسیں، کاریں اور سیکورٹی وینز وغیرہ شامل ہیں جن میں سے 350 ورکنگ حالت میں ہیں اور باقی ناکارہ ہو چکی ہیں۔ ادارے کی 1500 ایکڑ زمین سی پیک میں استعمال ہو گی اور اس ادارے کی کل زمین 18 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں سے 8 ہزار ایکڑ پر رہائشی کالونیاں قائم ہیں باقی پر پلانٹ لگے ہیں۔ کمیٹی کو ادارے کے اثاثہ جات بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین622 ارب کی ہے جبکہ وہ زمین جو سرمایہ کاری کے لئے رکھی گئی ہے وہ 63 ارب کی ہے فیکٹری بلڈنگ کے اثاثہ جات 43 ارب کے ہیں نان فیکٹری بلڈنگ2 ارب کی ہے،2.2 ارب کی سٹرکیں، ریلوے ٹریک اور پلیں ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ریلوے ٹریک اور ریلوے انجن کی تفصیلات آئندہ اجلا س میں طلب کر لیں۔

    پاکستان سٹیل ملز کی مالی سال 2022-23 میں آمدن 5.65 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا پلانٹ اور مشینری 115.7 ارب روپے کے ہیں۔ گیس اور بجلی انسٹالیشن 2.7 ارب کی ہے۔پانی، سیوریج سسٹم 1.99 ارب کا ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے 200 ملین گیلن فی ماہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ سیوریج سسٹم بہت بہتر ہے۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 30 جون2024 کے بعد گیس سپلائی بند کر دی گی ہے۔ادارے کی آمدن کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2022-23 میں ادارے کی آمدن 5.65 ارب روپے تھی جس میں سے2.71ارب روپے سکریپ فروخت کر کے حاصل کی گئی جبکہ اخراجات 33.11 ارب روپے رہے،25ارب کا مالی سال 2022-23 میں خسارہ رہا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ، سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے
    انتظامی اخراجات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ لیبر کاسٹ2.1 ارب روپے کی ہے جو گزشتہ برس 2.9 ارب کی تھی اور اس سے قبل برس 4.9 ارب کی تھی۔ ادارے کو صرف6 ارب کی گرانٹ ملی تھی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حکومت سے 104 ارب اور نیشنل بنک پاکستان سے 38 ارب کا قرض لیا گیا۔ 103 ارب کا مارک اپ ادا کر چکے ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 13 جون2024 کو ساڑھے پانچ سو سے زائد ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے ان کی تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ دس برسوں میں 12 ہزار382 ملازمین ادارے سے فارغ ہو چکے ہیں جن میں سے 5701 ریٹائرڈ ہوئے،128 نکالے گئے،359 نے استعفیٰ دیا،39 میڈیکل گراؤنڈ پر گئے،397 سکیم کے تحت رضا کارانہ چھوڑ گئے،577 انتقال کر گئے وغیرہ شامل تھے۔ 12 ہزار382 ملازمین سے 4 ہزار588 افسران جبکہ 7794 ورکرز تھے۔پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ہے جن میں سے 166 افسران اور2120 ورکرز ہیں۔ 2286 ملازمین کی سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے ہے۔گزشتہ دس برسوں میں ملازمین کو 32 ارب روپے کی تنخواہ ادا کی گئی اور گزشتہ 10 برسوں میں 7 ارب کی گیس ادارے میں استعمال کی گئی۔

    پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں سی ایف او عارف شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے 2011 میں پاکستان سٹیل ملز کو جوائن کیا تب یہ مل تقریبا بند ہو چکی تھی صرف 36 فیصد کپیسٹی پر چل رہی تھی۔2000 سے2008 تک یہ ملز اوسطا 80 فیصد کپیسٹی کے ساتھ منافع دے رہی تھی۔ 2009 میں بین الاقوامی مسئلہ آیا جو دنیا کے بڑے بنکوں کی وجہ سے تھا۔30 جون2009 کو یہ ملز 36 فیصد کپیٹی پر آ گئی اور 26 ارب کا نقصان ہوا جس کی انکوائری نیب اور سپریم کورٹ دونوں نے کرائی۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب کر لیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2009 میں ادارے نے حکومت سے کمرشل قرض 15 فیصد پر حاصل کیا اور 6.5 ارب کی ایل سی کی ادائیگی کی۔ کم فنڈز کی وجہ سے پیداواری کپیٹی کم سے کم ہوتی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس ادارے کے 27 ہزار ملازمین تھے جبکہ 2008 میں ملازمین کی تعداد 20 ہزار تھی اس وقت بھی ادارے کی ضرورت کل 7 ہزار ملازمین کی تھی۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 2010 میں ساڑھے 4 ہزار ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی حکومت نے ہدایا ت دیں۔ادارے کی جانب سے فنڈز کی کمی کا کہا گیا تو حکومت کی جانب سے فنڈز کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ان ملازمین کا بوجھ ادارے پر 12 ارب روپے کا پڑا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ اتنا منافع دینے والے ادارے کو مناسب حکمت عملی کے تحت چلانا چاہیے تھے ایک حکم نامے کے ذریعے اتنے ملازمین ریگولر کرنا ادارے کا تباہ کرنے کے مترادف تھا۔سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بتایا گیا کہ حکومت کے حکم کے تحت کی گئی بھرتی غیر قانونی نہیں ہوتی۔

    سندھ حکومت 7 سو ایکڑ زمین پر نئی سٹیل مل بنائے گی
    سیکرٹری صنعت و پیدا وار نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نگران حکومت نے اس ادارے کی نجکاری کے حوالے سے کچھ ترامیم کی تھیں۔مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں ہے حکومت اس کو سکریپ کرنے اور زمین کو دوسرے مقصد میں استعمال میں لانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور وفاقی کیبنٹ نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ زمین وفاق کی ہے یا سندھ حکومت کی اس کے لیز کاریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس زمین کو اسٹیٹ لینڈ کے طور پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی زمین کے دوسرے استعمال کے لئے صوبائی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس کی زمین پر ایکسپورٹ پروموشن زون / صنعتی زون کے استعمال میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نگران صوبائی حکومت نے نگران وفاقی حکومت کو اس کی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ موجودہ حکومت نے نگران حکومت کے فیصلے کو رویو کیا ہے۔ سندھ حکومت ایک نئی سٹیل ملز قائم کرے گی اگر سندھ حکومت نئی سٹیل ملز بناتی ہے تو 7 سو ایکڑ پر قائم کی جائے اور باقی پاکستان سیٹل ملز کے نام زمین رہے گی۔ سندھ کیبنٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اعلیٰ معیار کے لوہے کو سی کیٹگری کے طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر فروخت نہیں ہوا۔

    پاکستان سٹیل مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے،یونین
    کمیٹی اجلاس میں سٹیل ملز سے تعلق رکھنے والے یونین کے نمائندے نے کمیٹی سے درخواست کی کہ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین 12 فیصد کے حقدار ہیں یا نہیں اور کیا یہ مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو اعداد شمار بتائے گئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں اور ایکسپورٹ پرومن زون کے لئے اس ادارے کی زمین استعمال نہیں ہو سکتی۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی نے کہا کہ اس ادارے کا ابھی تک سی ای او کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ادارے کے بورڈ آف گورنر کا کیا اسٹیٹس ہے۔ ممبران بورڈ کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کا اہم حصہ ہیں۔ وفاقی وزرا پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں اپنی حاضری یقینی بنائیں ہم ہر طرح کی سہولت اور تعاون فراہم کریں گے جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو اور عوام کی حالت میں بہتری آئے۔ وزرا کی موجود گی میں کمیٹی اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی ہو جاتا ہے۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے کہا کہ سٹیل ملز کی گیس بند نہیں کرنی چاہیے ورنہ پلانٹ چلانے کے لئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکرٹری وزارت صنعت و پیدا وار پاکستان سٹیل ملز یونین کے نمائندوں سے ملیں اور معاملات کو بہتر بنائیں۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سید مسرور احسن، دنیش کمار، حسنہ بانو، سیف اللہ سرور خان نیازی، خلیل طاہر، محمد عبدالقادر اور دوست علی جیسر کے علاوہ سیکرٹری صنعت وپیدا وار، سی ایف او پاکستان سٹیل ملز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • تنقیدی سوچ کو بڑھانے کے لیے شطرنج  کھیل کا فروغ ضروری ہے، رومینہ خورشید عالم

    تنقیدی سوچ کو بڑھانے کے لیے شطرنج کھیل کا فروغ ضروری ہے، رومینہ خورشید عالم

    وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم نے کہا ہے کہ شطرنج کو عالمی سطح پر اس کے کھلاڑیوں میں علمی صلاحیتوں اور تنقیدی سوچ کو بڑھانے کے فوائد کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ تاہم، تعلیمی سطحوں سمیت مختلف سطحوں پر شطرنج کی حوصلہ افزائی ملک میں کھیل کو فروغ دینے کے لیے ہر عمر کے لوگوں میں دلچسپی اور شرکت کو فروغ دینے میں نمایاں طور پر مدد کر سکتی ہے۔

    میاں سلطان خان نیشنل چیس چیمپئن شپ پاکستان ایونٹ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم کی موسمیاتی معاون رومینہ خورشید عالم نے کہا، "شطرنج ایک کلاسک بورڈ گیم ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے اور اسے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ کھیلتے ہیں۔ یہ حکمت عملی کا کھیل ہے جہاں دو کھلاڑی، ہر ایک 16 ٹکڑوں کو کنٹرول کرتے ہیں، مخالف کے بادشاہ کو پکڑنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔”

    بدھ کے روز ہیڈ سٹارٹ سکول گل موہر کیمپس اسلام آباد کی جانب سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تاکہ طلباء کو اپنی علمی صلاحیتوں اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینے کی ترغیب دی جا سکے۔ رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ پاکستان بھر سے 140 سے زائد شرکاء پر مشتمل یہ چیمپئن شپ شطرنج کو فروغ دینے اور نوجوان ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر نے روشنی ڈالی کہ وزیر اعظم کا نیشنل مائنڈ اسپورٹس انیشیٹو، اپنی نوعیت کا سب سے بڑا، فکری ترقی اور ذہنی چستی کو فروغ دینے کے لیے ہماری حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔” رومینہ خورشید عالم نے کہا , "شطرنج نہ صرف مہارت اور ذہانت کا کھیل ہے بلکہ ایک بھرپور ثقافتی رجحان بھی ہے جس کی ایک گہری تاریخ اور اہم مسابقتی منظر ہے۔ ہر عمر اور مہارت کی سطح کے کھلاڑی اس کے چیلنجوں اور مواقع سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو یہ تخلیقی صلاحیتوں اور اسٹریٹجک سوچ کے لیے فراہم کرتا ہے۔”شطرنج کھلاڑیوں کو سیکھنے اور فیصلے کرنے میں بھی مدد کرتی ہے جس کی بنیاد پر متعدد عوامل کا جائزہ لیتے ہیں، یہ دباؤ میں فیصلہ سازی کی مہارت کو بھی بہتر بناتا ہے.

  • لاپتہ افراد کی بازیابی درخواستوں پر عدالتی فیصلوں کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں خارج

    لاپتہ افراد کی بازیابی درخواستوں پر عدالتی فیصلوں کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں خارج

    لاپتہ افراد کی بازیابی درخواستوں پر عدالتی فیصلوں کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں خارج کر دی گئیں
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلیں مسترد کیں،اپیلیں مسترد ہونے کے بعد وزارت دفاع، وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پر جرمانے بحال ہو گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے مختلف مقدمات میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع اور آئی جی اسلام آباد سمیت افسران پر جرمانے عائد کیے تھے

    2016 سے اسلام آباد سے لاپتہ ساجد محمود کی اہلیہ کی درخواست پر جسٹس اطہر من اللہ کا 2018 کا فیصلہ اسلام آباد کے دو رکنی خصوصی بنچ نے برقرار رکھا ہے ، 2018 کے اس وقت کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر الحسن شاہ ، چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر ، آئی جی اسلام آباد خالد خان خٹک اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مشتاق احمد کو ذاتی طور پر ایک ایک لاکھ روپے کیا جرمانہ اور ایس ایچ او پولیس قیصر نیاز کو کیا گیا تین لاکھ روپے کا جرمانہ بھی بحال ہو گیا ، درخواست گزار مائرہ ساجد کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کیس کی پیروی کی

    پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے یہاں کون آئے گا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

    لاپتہ شہری خورشید احمد کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹا دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینےکا حکم

    لاپتہ افراد کی بازیابی کیس:وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب

    رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    لڑکی سمیت 9 لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیس، پیشرفت نہ ہونے پرعدالت برہم

    آٹھ برس سے لاپتہ شہری بازیاب کیوں نہ ہوا،عدالت برہم،رپورٹ طلب

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

  • کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،چیف جسٹس

    کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل ن لیگ شہزاد شوکت نے کہا کہ جیت کا تناسب پانچ فیصد سے کم ہو تو دوبارہ گنتی کی جا سکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا ،ہم دوبارہ گنتی کے اختیار کو کیسے ختم کر سکتے ہیں؟ ہر کیس کو سننا شروع کردیں تو زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا، الیکشن سے متعلق کیسز کو جلد مقرر کر رہے ہیں،جب کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،اگر ایک کیس کو 155 گھنٹے سنیں گے تو سپریم کورٹ چوک ہو جائے گی،

    این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    ہمارے دور میں کچھ غلط ہوا تھا تو اس کو دہرانا نہیں چاہیے، عون چوہدری

    زیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری کی ملاقات