Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وزیرِ اعظم   کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ کیا ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مون سون کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کر دی،وزیرِ اعظم نے مون سون کے حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم کر دی.وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے تمام صوبائی حکومتوں و متعلقہ اداروں کی مون سون کے حوالے سے معاونت کرے. ہنگامی صورتحال میں متوقع طور پر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کی فراہمی یقینی بنائی جائے. کسانوں اور دریاؤں و ندی نالوں کے گردونواح کے لوگوں کو روزانہ کی بنیادوں پر میڈیا و دیگر ذرائع سے پیشگی اطلاعات دی جائیں.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مون سون کی پیش گوئی اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں این ڈی ایم کی جانب سے مون سون کی اب تک کی پیش گوئی اور متوقع خطرے سے دوچار علاقوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. جس میں بتایا گیا کہ جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں چاروں صوبوں میں مون سون کی شدید بارشیں متوقع ہیں،رواں برس مون سون بارشوں کا سلسلہ پاکستان میں جنوب مشرق سے ہوتا ہوا شمال کی جانب بڑھے گا. جولائی کے پہلے ہفتے میں پوٹھوہار اور پنجاب کے مشرقی حصے میں بارشیں متوقع ہیں. جولائی کے دوسرے ہفتے میں راولپنڈی، سرگودھا، گجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں موسلادھار جبکہ بہاولپور، ملتان، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں کہیں کہیں بارشوں کا امکان ہے. اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ستلج، چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال متوقع ہے.ان دریاؤں کے گرد و نواح میں آبادیوں کو نہ صرف پیشگی اطلاعات اور نقل مکانی کیلئے تیاریاں مکمل ہیں بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری کی جا چکی ہے. سندھ میں جولائی کے دوسرے اور چوتھے ہفتے میں کراچی، میر پور خاص، نواب شاہ، سکھر و حیدرآباد میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں. تھر پارکر، بدین ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں اگست کے تیسرے ہفتے بھی مون سون بارشوں کی توقع ہے. خیبر پختونخوا میں جولائی میں ہزارہ، مالاکنڈ، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ اگست کے تیسرے ہفتے تک متحرک رہنے کا امکان ہے.بلوچستان میں جولائی کے دوسرے، چوتھے اور اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ساحلی و سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. اگست کے تیسرے ہفتے میں لسبیلہ، ارماڑہ، خضدار، بارکھان، سبی اور ژوب میں بڑے پیمانے پر بارشوں کا امکان ہے.گلگت بلتستان میں جولائی میں جزوی بارشیں جبکہ اگست کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر بارشوں کی توقع ہے جس میں سکردو، ہنزہ، چلاس اور غزر میں بارشوں کا امکان ہے. آزاد کمشیر میں جولائی کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر موسلادھار بارشوں اور لینڈ سلائیدنگ کا خطرہ ہے.

    اجلاس کو ستلج اور چناب کے کناروں پر آبادیوں کے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور ریلیف کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ پورے ملک میں کشتیوں، خیموں، نکاسی آب کیلئے پمپس، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ رکھا گیا ہے.مون سون کے حوالے سے تیاری رواں برس جنوری جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشقیں مارچ سے جاری ہیں. ریسکیو اداروں، پی ڈی ایم ایز، افواج پاکستان کے دستوں اور این ڈی ایم اے مسلسل متوقع طور پر متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ پر ہیں.مون سون الرٹ اور موسم کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پیشگی اطلاعات کیلئے این ڈی ایم اے نے ایک موبائل ایپ متعارف کرائی ہے جو لوگوں کے استعمال میں ہے. مون سون میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی مون سون کنٹنجینسی پلان مرتب کرکے متعلقہ اداروں و صوبائی حکومتوں کو بھیجا جا چکا ہے.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کو قومی نشریات کا حصہ بنایا جائے.کسانوں کو باقاعدگی کے ساتھ موسم کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے. کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کسانوں کی بھرپور معاونت کی جائے.

    اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹیرز نے اپنے صوبوں میں مون سون اور اس حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل پر بریفنگ دی. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، رانا تنویر حسین، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز ویڈیو لنگ کی ذریعے شریک تھے.

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کوئی چیز غلط رپورٹ ہوئی جس پر پیمرا نے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا؟ میرا نہیں خیال کہ ہماری ہائیکورٹ سے ایسا کچھ ہوا ہے یا رجسٹرار نے کوئی شکایت بھیجی ہو، اگر میں نے کوئی بات نہ کہی ہو اور رپورٹ ہو جائے تو کمپلینٹ پر پیمرا اُس میڈیا ہاؤس کو penalize بھی کر سکتا ہے،اوپن دنیا کا زمانہ ہے، جو کچھ ہو رہا ہے عوام کو جاننے دیں، پچھلے ایک سال میں پیمرا نے غلط رپورٹنگ پر کتنی کاروائیاں کی ہیں؟رپورٹرز تو بالکل درست رپورٹنگ کرتے ہیں، شام کو جو پروگرامز میں بیٹھ کر فیصلے سناتے ہیں وہ مسئلہ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے رپورٹرز تو بہت ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرتے ہیں، میں تو کہتا ہوں 99.99 فیصد رپورٹنگ درست ہوتی ہے، پوائنٹ ون فیصد انسانی غلطی ہو سکتی ہے، سپریم کورٹ میں بھی مجھے یقین ہے کہ ایسے ہی ہوتا ہو گا، اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے، عدالت جب دستخط شدہ فیصلہ جاری کر دیتی ہے تو وہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے، جج پر نہیں بلکہ اُسکے فیصلے پر تنقید کی جانی چاہیے،ہمیں عدالتی فیصلوں پر مباحثوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، عدالتی فیصلوں پر روشنی ڈالی جانی چاہیے کہ قانون ایسے تھا لیکن فیصلے میں یہ غلطی ہے،

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ ، سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بنچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ وکیل مخدوم علی خان نے بتایا آئین کے مطابق سیٹیں سیاسی جماعتوں کو ملیں گی نہ کہ آزاد امیدواروں کو، سیاسی جماعتیں تب مخصوص نشستوں کی اہل ہوں گی جب کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہوگی ،میرے پاس ریکارڈ آگیا ہے، 2002 اور 2018 میں مخصوص نشستوں سے متعلق بھی ریکارڈ ہے،2002 کی قومی اسمبلی میں 14آزاد اراکین تھے، 14آزاد اراکین کو نکال کر باقی مخصوص نشستوں کا فارمولا نکالا گیا،ان 14آزاد اراکین کی مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں میں بانٹی گئیں، ایک اسمبلی میں بلوچستان میں 20فیصد آزاد اراکین تھے، آزاد اراکین کو ہمیشہ الگ کیا جاتا رہا،

    کیا سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آزاد اراکین کو پولیٹیکل پارٹیز سے الگ رکھنے کے نتائج کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں تقریباً 33فیصد اراکین اسمبلی آزاد ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 51کی زیلی شق چھ کی اصل لینگویج تک خود کو محدود رکھ رہا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے باہر کردیا، کیا سپریم کورٹ کی آئینی زمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی یہی سوال کیا گیا تھا،میں آخر میں آرٹیکل 187پر دلائل دونگا ،

    جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق 2002 میں آرٹیکل 51 لایا گیا، 2002 میں مخصوص نشستوں کی تعداد 10 تھی،2018 میں 272 کل نشستیں تھیں تین پر انتخابات ملتوی ہوئے اور 13 آزاد امیدوار منتخب ہوئے، 9 امیدوار سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے مخصوص نشستوں کا فارمولا 265 نشستوں پر لاگو ہوا، 2018 میں 60 خواتین کی اور 10 اقلیتی سیٹیں مخصوص تھیں،2002 کے انتخابات میں بلوچستان میں 20 فیصد آزاد امیدوار منتخب ہوئے تھے، مخصوص نشستوں کے تعین میں آزاد امیدواروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا،جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہماری آئینی ذمہ داری نہیں کہ پہلے الیکشن کمیشن کی غلطی کو درست کریں؟ الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی ،بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کے ناطے کیا یہ ہماری زمہ داری نہیں کہ اسے درست کریں،

    کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟جسٹس منیب اختر
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہے کیا آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحادکونسل میں آزادامیدواروں کی شمولیت ہوسکتی ہے، کیا سنی اتحادکونسل مخصوص نشستوں کی اہل ہے یا نہیں؟جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آزاد امیدواروں کی تعداد 2024 میں بہت بڑی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق کسی صورت کوئی نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں کبھی آزاد اراکین کا معاملہ عدالت میں نہیں آیا، اس مرتبہ آزاد اراکین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کیس بھی آیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اسمبلی مدت ختم ہونے میں 120 دن رہ جائیں تو آئین کہتا ہے انتخابات کرانے کی ضرورت نہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے، سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے؟ جن کو آپ آزاد کہہ رہے وہ آزاد نہیں انکو الیکشن کمیشن نے فیصلے سے آزاد کیا۔

    آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں،آپ پھر اس پوائنٹ پر اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں کہ نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں، موجودہ سچوئشن بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا یہ ان کا کام ہے، آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصل صدیقی نے کہا تھا اگر سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں ملتی تو خالی چھوڑ دیں، پارلیمانی پارٹی کےلیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت نے انتخابات میں نشست جیتی ہو،
    پارلیمانی پارٹی ارکان کے حلف لینے کے بعد وجود میں آتی ہے،پارلیمانی پارٹی کی مثال غیرمتعلقہ ہے کیونکہ اس معاملے کا تعلق انتخابات سے پہلے کا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کا ذکر آئین میں کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ذکر صرف آرٹیکل 63 اے میں ہے، آرٹیکل 63 اے کے اطلاق کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی موجود ہو،

    پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کر چکا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس اختیار کے تحت پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کرتا ہے؟ پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جواب الجواب دلائل میں وہ خود بتا دیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وہ نہیں، آپ بتائیں الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن پر کیا کہتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل کو دکھادیا،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا نوٹیفکیشن بھی دکھا دیا ،وکیل فیصل صدیقی نے کہ کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نوٹیفکیشن سے زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر بھی بنا چکا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار پارلیمانی پارٹی نہیں بنا سکتے،آزادامیدواروں نے اسی میں شامل ہونا ہوتا ہے جو پارٹی ایک سیٹ کم سے کم جیت کر آئی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی سیاسی جماعت کے جیتے ہوئے امیدوار ہوں تو سیاسی پارٹی آٹومیٹکلی پارلیمانی پارٹی بن جاتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزادامیدوار پارٹی بنا لے تو آرٹیکل 51 نافذ نہیں ہوگا، آزادامیدوار کی اسمبلی سے باہر تو پارٹی تصور کی جائےگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار کسی ایسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا جو پارلیمانی پارٹی نہ ہو،

    نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سرکاری طور پر ہونے والے کمیونکیشن کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سے ان نوٹیفکیشنز کا تعلق نہیں، اٹارنی جنرل منصوراعوان نے علامہ اقبال کے بانگ درا کے شعر کا حوالہ دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، میرا شوق دیکھ اور میرا انتظار دیکھ،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ،جسٹس منیب اختر
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تشریح مان لیں تو پارلیمان میں بیٹھے اتنے لوگوں کا کوئی پارلیمانی لیڈر نہیں ہوگا؟ موقف مان لیا تو کسی کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ہونے پر کارروائی ممکن نہیں ہوگی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ہے،بتائیں نا الیکشن کمیشن انہیں پارلیمانی پارٹی مان کر کیسے نشستوں سے محروم کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کو بتا رہا ہے کہ ہمارے ریکارڈ میں یہ پارلیمانی جماعت ہے، ریکارڈ کسی وجہ سے ہی رکھا جاتا ہے ناں؟

    اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسا ہوسکتا کہ سیاسی جماعت اگر پارلیمانی پارٹی نہ ہو لیکن سیٹ جیتے تو پارلیمانی پارٹی تصور کی جاسکتی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات ہی تعین کریں گے کہ پارلیمانی پارٹی کون ہوگی،آزادامیدوار اگر ہوں تو پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو سکتے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں آزادامیدوار کے بارے میں نہیں پوچھ رہی، میں انتخابات میں حصہ لینے کے حق کے حوالے سے پوچھ رہی، آپ کے مطابق سیاسی جماعت ہی پارلیمانی پارٹی بنے گی، ابھی تو ہم دیکھ رہے آزادامیدوار سیاسی جماعت ہیں یا نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں،لیکن ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد پارلیمانی پارٹی بن چکی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد ضمنی انتخابات میں جیتتی ہے تو پارلیمانی پارٹی بن سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک آئینی ادارے نے غیر آئینی تشریح کی اور سپریم کورٹ توثیق کرے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں، ہر فیصلے نے آئین کو فالو کیا، کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا کیس،سپریم کورٹ نے سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار،الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار،الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں کیس زیرسماعت ہونے کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابی نشان واپسی اور تضادات سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار ہے، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں الگ معاملہ زیرسماعت ہے، میری درخواست الگ ہے،

    تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت موجود ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل کا عدالت میں اعتراف
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگ رہا تھا سپریم کورٹ پیر تک کیس نمٹا دے گی لیکن لگتا ہے کچھ وقت اور لگے گا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج بھی جوڈیشل کمیشن اجلاس کی وجہ سے ڈیڑھ گھنٹہ سماعت کا کہا گیا ہے،لگتا یہی ہے کہ کل یا پرسوں تک سپریم کورٹ کیس کا فیصلہ کر دے گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک جماعت کا انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا وہ بطور سیاسی جماعت ختم ہو جائے گی؟ کیا تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں اب بھی درج ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی، تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت موجود ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک شخص آزادالیکشن لڑتاہےلیکن کہتاہےکہ اس سیاسی جماعت سےہوں توہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ میں بتاتا ہوں کہ ہوا کیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جو ہوا اسکو چھوڑ دیں میں مفروضوں پر بات نہیں کر رہا، عدالتی سوال کا جواب دیں، پی ٹی آئی بطور جماعت موجود ہے، اُسکے چیئرمین، سیکرٹری وغیرہ ہیں نا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرائے،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے درخواست دائر کی لیکن الیکشن کمیشن نے خارج کر دی، سلمان راجہ نے درخواست دی کہ انتخابی نشان نہ دیں لیکن پی ٹی آئی کا امیدوار مان لیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے 5 جولائی تک جواب طلب کر لیا.

  • دوران عدت نکاح کیس، بشریٰ ،عمران کی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    دوران عدت نکاح کیس، بشریٰ ،عمران کی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیل پر سماعت ہوئی

    اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی، عمران خان کے وکلاء زاہد بشیر ڈار اور مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سینئر وکیل سلمان صفدر تھوڑی دیر میں آ رہے ہیں، اس لیے سماعت میں مختصر وقفہ کر دیں، خاور مانیکا کے بھی جونیئر وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سینئر وکیل زاہد آصف 11 بجے پیش ہوں گے، لہٰذا سماعت میں وقفہ کیا جائے،ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے، سلمان صفدر دلائل دیں، عدالت نوٹ کر لے گی،عدالت نے سلمان صفدر کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کر دیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں آج جزوی دلائل دوں گا باقی کل کے لئے کیس رکھ لیں،سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کا کیس ہے، آپ کا سزا معطلی کی درخواست پر آرڈر دیکھا ہے میرے کچھ پوائنٹ فیصلے میں تحریر نہیں،جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ کے پاس پورا ٹائم ہے آج اور کل بھی ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدت نکاح کیس اپیلیں ،بدنیتی اور فراڈ میں جو چیز مشترکہ ہے وہ ارادہ ہونا ہے،اگر رجوع کا حق تھا تو وہ ایک سول معاملہ ہے اس کا کریمنل سے تعلق نہیں ہے، یہ کافی نہیں کہ یہ کہہ دینا کہ میں رجوع کر لیتا، اگر فراڈ ہوا تھا تو اسی وقت عدالت جاتےکہتے میں نے رجوع کرنا تھا ،ہمیں آپ سے انصاف کی امید ہے، سزا معطلی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی،جج افضل مجوکا نے کہا کہ ایک دن نکاح ہوا دوسرے دن خاور مانیکا کو پتہ چل گیا لیکن وہ خاموش رہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر فراڈ ہوا تھا تو اسی وقت عدالت جاتے کہتے میں نے رجوع کرنا تھا، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ 1992 اور 1994 کی سپریم کورٹ کی ججمنٹ غیر موثر ہے ۔سلمان اکرم راجہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے متعد فیصلوں کا حوالہ دیا گیا

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آپ جن فیصلوں کا ذکر کر رہے ہیں میں ان کی سماعتوں میں بیٹھا کرتا تھا اور میرا ایل ایل ایم کا تھیسیس اسی پر تھا، میں نے یہ نہیں کہا کہ عدت کا دورانیہ 90 دن ہے، سپریم کورٹ نے 39 دن کے بعد اپنے فیصلے سے عورت کو تحفظ فراہم کیا،مفتی سعید نے بھی کہا کہ عورت کی بات عدت کے حوالے سے حتمی ہے لیکن عدالت میں غلط بیانی کی،90 دن کا دورانیہ عدت نہیں رجوع کا وقت ہے اسے عورت کے لیے تلوار نہیں بنایا جاسکتا،

    جج افضل مجوکا نے وکیل عثمان ریاض گل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور ججمنٹ ہے وہ آپ نوٹ کر لیں آپ آجکل خاموش رہتے ہیں ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چار گواہ ہیں مگر ملازم لطیف کے بیان کو ٹرائل کورٹ نے اہمیت دی، مفتی سعید کی گواہی بھی جھوٹی ثابت ہوئی، خاور مانیکا نے لطیف کے بیان پر انحصار کیا اور خود بھی وڈیو بیان پر غلط بیانی کی،دوسرے نکاح کی بات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عدت پوری تھی یا نہیں، یہ ایک گھڑی گئی کہانی تھی جس سے بانی پی ٹی آئی کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، یقیناً جج صاحب پر کوئی پریشر تھا کہ فیصلہ سنانے کے دن ہائی کورٹ کو لکھ دیا کہ فیصلہ نہیں سنا سکتا،

    خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ کل اور پرسوں ہائی کورٹ میں ہوں، 5 تاریخ کو سماعت رکھ لیں، جج افضل مجوکا نے کہا کہ سلمان صفدر کتنا ٹائم لیں گے، عثمان گل نے کہا کہ ہم بشری بی بی کی جانب سے دلائل کے لئے ایک دن لیں گے،عدالت نے دوران عدت نکاح کیس میں اپیلوں کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کردی،عدالت ے حکم دیا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب کل اپنے دلائل مکمل کریں پرسوں بیرسٹر سلمان صفدر اپنے دلائل مکمل کریں خاور مانیکا کے وکیل 4 جولائی یا 8 جولائی میں سے ایک دن اپنے دلائل مکمل کرلیں عدالت نے ہر صورت 8 جولائی تک کیس کو ختم کرنا ہے

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس میں تین فروری کو عام انتخابات سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی تھی، عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا تھا، عدالت نےعمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی.

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے تھے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

    خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف درخواست میں کیا کہا تھا؟
    گزشتہ برس 25 نومبر کو بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی

    درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،

  • پاکستان اقوام متحدہ کے کاربن ٹریڈنگ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے،رومینہ خورشید

    پاکستان اقوام متحدہ کے کاربن ٹریڈنگ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے،رومینہ خورشید

    اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام کے ڈنمارک مشن کے 3 رکنی وفد نے سینئر ماہر اقتصادیات کی قیادت میں وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم سے وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام میں مشیر کاربن کریڈٹ مارکیٹس عروہ خان نے وزیر اعظم کی موسمیاتی مشیر رومینہ خورشید عالم کو کاربن مارکیٹ سے متعلق ان اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جن میں سیمنٹ، تیل اور سمیت مختلف شعبوں سے اپنے کاربن کریڈٹس کی فروخت سے پاکستان معاشی فوائد حاصل کرسکتا ہے،انہوں نے وزیر اعظم کے موسمیاتی معاون کو پالیسی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سیمنٹ، فضلہ، ٹیکسٹائل، تیل اور گیس، ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں سمیت مختلف ممکنہ شعبوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنی تنظیم کی مکمل تکنیکی اور غیر تکنیکی مدد کا بھی یقین دلایا۔

    دونوں فریقوں نے پاکستان کے مختلف صنعتی شعبوں کو بین الاقوامی کاربن تجارتی منڈیوں میں اپنے کاربن کریڈٹ فروخت کرنے اور مالی فوائد حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم کی موسمیاتی معاون رومینہ خورشید نے ملاقات کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہم کاربن مارکیٹوں کی جانب سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی کاربن مارکیٹ میں کاربن کریڈٹ پیدا کرنے اور کاربن کریڈٹس کی فروخت سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے پیش کی جانے والی غیر استعمال شدہ اقتصادی صلاحیت سے بہت زیادہ آگاہ ہیں۔”

    کاربن مارکیٹس بین الاقوامی تجارتی نظام ہیں جس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو ختم کرنے یا کم کرنے والے اداروں سے کاربن کریڈٹ خرید کر ان کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی تلافی کے لیے کاربن کریڈٹ فروخت اور خریدے جاتے ہیں۔

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • وزیرخزانہ کا ایف بی آر کا دورہ،کارکردگی کو سراہا

    وزیرخزانہ کا ایف بی آر کا دورہ،کارکردگی کو سراہا

    وزیر خزانہ نے مالی سال 2023-24 کے لئے ہدف سے زائد محصولات جمع کرنے پرٹیم ایف بی آرکی کارکردگی کو سراہا۔

    وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات محمد اورنگ زیب نے پیر کے روز ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اورچیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ اور بورڈ کے ممبران کے ساتھ ملاقات کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ اور محصولات علی پرویز ملک نے بھی لاہور سے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر خزانہ نے مالی سال2023-24 کے لئے ہدف سے زائد محصولات 9311 ارب روپے جمع کرنے کی مثالی کارکردگی پرٹیم ایف بی آر کی تعریف کی اور مبار ک باد دی۔

    وزیر خزانہ نے ایف بی آر کی صلاحیتوں پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہرکی کہ ریونیو ڈویژن حکومت کے مالیاتی مقاصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ اور محصولات نے بھی مشکلات کے باوجود محصولات کے سالانہ ہدف کو عبور کرنے پر ٹیم ایف بی آر کو سراہا۔وفاقی وزیر خزانہ نے مالی سال 2023-24 کے لئے ہدف سے زائد محصولات جمع کرنے پر چیئرمین ایف بی آر اور بورڈ کے ممبران کے ہمراہ ایف بی آر کی بہترین کارکردگی کو سراہنے کے لئے ایک کیک بھی کاٹا۔

    اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محصولات کی وصولی، ڈیجیٹائزیشن او ر معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لئے ایف بی آر کے اقدامات کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • نیوی کے پانچ سابق افسران کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے حکم میں توسیع

    نیوی کے پانچ سابق افسران کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، کورٹ مارشل میں 5 سابق نیوی افسران کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے پاکستان نیوی کے پانچ سابق افسران کو نیوی کے شپ پر قبضے کے الزام میں کورٹ مارشل کے ذریعے دی گئی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے حکم میں توسیع کر دی. عدالت نے 3 جون کو سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا تھا

    پاکستان نیوی کی جانب سے رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کی گئی، رپورٹ میں کہا گیا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی شیئر نہیں کی جا سکتی،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں میں فیصلہ کر دوں؟ آپ کوئی وجوہات نہیں بتا رہے کہ سزائے موت کیوں دی گئی؟یہ بتانا کہ سزائے موت کیوں دی گئی یہ کوئی سیکرٹ ایشو نہیں،میرے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ سزائے موت کیوں دی گئی وجوہات بتائی جائیں،

    پاکستان نیوی کے نمائندہ نے ہدایات لینے کیلئے عدالت سے وقت مانگ لیا،عدالت نے ہدایات لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی،پاک بحریہ کے سابق افسران ارسلان نذیر ستی،محمد حماد، محمد طاہر رشید، حماد احمد خان اور عرفان اللہ نے اپیلیں دائر کر رکھی ہیں

  • سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلات فراہم کریں ،خیبر پختونخوا اور سندھ میں پالیسی تو ہے لیکن عملی اقدامات بھی اٹھاٸیں،تمام صوبے موسمی تبدیلی کیلٸے عملی اقدامات اٹھا کر رپورٹ 15 جولاٸی تک جمع کرواٸیں،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں موسمی تبدیلی کیلٸے اقدامات کر رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں وہ بتاٸیں جو عملی اقدامات اٹھاٸے ہیں، زبانی جمع تفریق کے بجائے تحریری رپورٹ دیں،ہم نے تمام چیف سیکٹریز کو بلایا تھا بلوچستان سے کون آیا ہے،عدالت میں بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی طبیعت خراب ہے اس لیے نہیں آٸے،سندھ سے چیف سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی کیلٸے مکمل پالیسی بناٸی گٸی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سندھ میں کیا موسمی تبدیلی کے حوالے سے بجٹ بھی رکھا گیا ہے ؟ میرے پاس مکمل پلان کیساتھ آٸیں، چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی سے بچاٶ والے 2 ملین گھر بنائے جاٸیں گے،اب تک 1.5 لاکھ گھر بن گٸے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں بھی موسمی تبدیلی کیلٸے بجٹ نہیں رکھا گیا،

    خیبر پختونخواکے چیف سیکرٹری بھی عدالت میں پیش ہوئےاور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کیلٸے فنڈز رکھے گئے ہیں،موسمیاتی تبدیلی کیلٸے خیبرپختونخوا حکومت اقدامات کر رہی ہے،عدالت نے سماعت پندرہ جولائی تک ملتوی کردی

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • عدالت پیش نہ ہونے پروزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ جاری

    عدالت پیش نہ ہونے پروزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے وارنٹ جاری کر دیئے گئے، عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی،

    عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ سنگجانی اور آئی 9 میں درج مقدمات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران علی نواز اعوان، واثق قیوم، عامر کیانی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور عامر مغل کے وکلا کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی، دوران سماعت جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” کسی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست قبول نہیں ہو گی، یہ کوئی وجہ نہیں کہ میں شہر سے باہر ہوں تو پیش نہیں ہو سکتا، حاضری پوری نہ ہونا ملزمان پر ہے یا کورٹ پر ہے”۔وکیل نے کہا کہ حاضری پوری کرنا ملزمان پر ہے، جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام غیر حاضر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رہے ہیں، آئندہ پیشی پر حاضری کی مکمل یقین دہانی کرائی جائےگی تو پھر وارنٹ کا معاملہ دیکھیں گے۔

    وکلا صفائی کی جانب سے کہا گیا کہ ایک موقع دیا جائے اگلی پیشی پر تمام ملزمان پیش ہوں گے، جس پر عدالت نے کہا کہ جو ملزم 8 تاریخ کو نہیں آئیں گے ان کو اشتہاری قرار دوں گا، عدالتی مفرور کو اشتہاری قرار دینے کیلئے 30 دن ضروری نہیں ہیں، میں نے ان کیسز کو انجام تک پہنچانا ہے، آپ کا ہی اس میں فائدہ ہو گا،اگر کیسز میں جان ہوئی تو چلیں گے ورنہ فارغ ہوں گے،ایک تماشا بنا ہوا ہے ایک آتا ہے دو نہیں آتے، 8 جولائی کو کوئی بیمار ہو، بخار ہے، کچھ بھی ہو، جو نہ آیا اسےاشتہاری قرار دیں گے، عدالت نے دونوں مقدمات کی سماعت 8 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    عدالت نے عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی سے متعلق سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے تحریری جواب بھی طلب کر لیا۔

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان