Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ججز کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیارات حاصل نہیں، قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں

    سابق صدر پرویز مشرف (مرحوم) کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا،عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خصوصی عدالت کو کالعدم قرار د ے کر لاہور ہائیکورٹ نے پورے عدالتی نظام کو نیچا دکھایا،مصطفیٰ ایکٹ کیس کے فیصلے کا اطلاق خصوصی عدالت پر نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصی عدالت کی شق 9 کے تحت ملزم کا ٹرائل غیر حاضری میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہائیکورٹ نے مشرف کو وہ ریلیف بھی دیا جو مانگا ہی نہیں گیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ ہی میں ہو سکتی ہے۔ مشرف کے ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ سے 2 مرتبہ رجوع کیا گیا، ججوں کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیار نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں۔ ججوں کو غیر متزلزل خود مختار صوابدیدی اختیار حاصل نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کے محافظ ہوتے ہیں۔ ججز کو چاہیے کہ وہ طے شدہ قانون اور اصول کے تحت فیصلے کریں۔ ججز کو ذاتی مفاد اور ذاتی خواہشات کے بجائے طے شدہ عدالتی نظائر اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کیوں کہ مشرف نے پی سی او جی ایچ کیو راولپنڈی سے جاری کیا اس لیے لاہور ہائی کورٹ کیس سن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ پی سی او کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ پرویز مشرف کیخلاف غداری کی شکایت اسلام آباد میں درج ہوئی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی گزشتہ شب ملاقات ہوئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شامل تھے،وفد نے وزیراعظم کو وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خدائے بزرگ و برتر اور عوام کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کیلئے ایک مرتبہ پھر سے موقع دیا. خادم پاکستان منتخب کرنے کیلئے ایوان میں اپنی اتحادی جماعتوں کے اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں. خدا کے کرم اور اپنی محنت سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات کام کرنے کیلئے پر عزم ہیں. ملاقات میں سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی بھی موجود تھے۔

  • چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے
    صادق سنجرانی کے بلوچستان اسمبلی کے ممبر بننے کے بعد وہ سینیٹر نہیں رہے،چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان اسمبلی سے الیکشن لڑا تھا اور وہ جیت گئے، بلوچستان اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد صادق سنجرانی صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے،

    چئیرمین سینیٹ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری ہو چکے ہیں،ووٹرز کے لئے اسمبلی ممبر کے طور پر حلف لینا ضروری ہے،چئیرمین سینیٹ نے صوبائی اسمبلی کے ممبر کے طور پر حلف نہیں لیا،صادق سنجرانی صوبائی اسمبلی کی نشست پر سولہ فروری کو کامیاب قرار پائے،آئینی ماہرین کے مطابق صادق سنجرانی 16فروری کے بعد سینیٹ کے ممبر نہیں رہے،سولہ فروری کے بعد ان کی سینیٹ میں سرگرمیاں غیر قانونی ہیں سینیٹ کی ذمہ داریاں ڈپٹی چئیرمین نبھا سکتے ہیں ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخابات میں مقابلہ آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کے محمود اچکزئی کے مابین ہے، دونوں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

  • ٹویٹر کی بندش، شہری کی درخواست پر نوٹس جاری

    ٹویٹر کی بندش، شہری کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پاکستان میں سوشل میڈیا ایپ ٹویٹر /ایکس کی بندش کے خلاف شہری کی درخواست پر فریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار شہری کی جانب سے وکلاء سردار مصروف خان اور آمنہ علی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ْایکس بند ہے ؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ 17 فروری سے حکومت نے ایکس پر پابندی عائد کردی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس پر تو سندھ ہائیکورٹ کا بھی فیصلہ آچکا ہے،

    وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کا کیس زیر سماعت ہے، عدالت نے فریقین کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ کو بحال کرنے کے احکامات جاری کرے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 17 فروری کے بعد سے اب تک ’ایکس‘ تک شہریوں کی رسائی ممکن نہیں، پی ٹی ے کی جانب سے کسی باقاعدہ نوٹس اور نوٹی فکیشن کے بغیر ہی پابندی عائد کردی گئی ہے، ایکس کی مسلسل بندش آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارت اطلاعات کو فریق بنایا گیا ہے۔گزشتہ روز جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ’ایکس‘ سے پابندی ہٹانے کے مطالبے کی قرارداد سینیٹ میں جمع کرائی تھی

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایکس (ٹوئٹر) کی سروس 17 فروری رات 10 سے بند کی گئی ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گزشتہ روز بھی ایکس کی سروس آدھا گھنٹہ بحال ہونے کے بعد پھر ڈاون ہوگئی تھی،پی ٹی اے نےایکس (ٹوئٹر) کی بندش پر موقف دینے سے گریز کیا ہے،

    سوشل میڈیا صارفین ٹویٹر چلانے کے لئے وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں،کچھ وی پی این کا سرور اسرائیل میں ہے،پی ٹی اے کی وجہ سے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا اسرائیل جارہاہے،ٹویٹر کی پاکستان میں بندش کے حوالہ سے پی ٹی اے مکمل خاموش ہے،اور کسی قسم کا کوئی بیان یا وضاحت جاری نہیں کی گئی

    واضح رہے کہ پاکستان میں کئی بار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سروسز کی بندش سامنے آئی ہیں، آٹھ فروری کو عام انتخابات کے روز سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کی گئی تھی، اس سے قبل پی ٹی آئی کے جلسے کے موقع پربھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس بند کر دی گئی تھیں.

  • سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے  قرارداد واپس

    سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قرارداد واپس

    سینیٹ میں 6بل متفقہ طور پر منظور کرلئے گئے جبکہ 6 بل قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیئے گئے، سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے بہرامند تنگی نے اپنی قرارداد واپس لے لی۔

    پیر کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کی زیرصدارت ہوا اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کے بل جن میں انٹی ریپ (تحقیقات و مقدمہ)ترمیمی بل 2022اور پاکستان ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کوریج پروگرام بل 2023 ایوان میں پیش کیا دونوں بل ایوان میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ سینیٹر ثانیہ نشتر نے پاکستان ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کوریج پروگرام بل 2023 اور پاکستان علاج و لازم معائنہ بلند فشار خون بل 2023 ایوان میں پیش کئے دونوں بل متفقہ طور پر منظور کرلئئے گئے ۔ سینیٹر مہرتاج روغانی نے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ اور غذائیت کے تحفظ بل 2023ایوان میں پیش کیا بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی،کلچر اور ہیلتھ سائنسز بل 2024ایوان میں پیش کیا ۔بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے نیشنل ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی ترمیمی بل 2023ایوان میں پیش کیا بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

    سینیٹر بہرمند تنگی نے سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے اپنی قرارداد واپس لے لی ،دو روز قبل سینیٹر بہرہ مند تنگی نے قرارداد پیش کی تھی جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی نے سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے سینیٹ میں جمع کرائی گئی قرداد سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا، سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز سید نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سینیٹر بہرامند تنگی کی سینیٹ میں جمع کی گئی قرارداد سے پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی سینیٹر بہرا مند تنگی کا بھی پی پی سے کوئی تعلق نہیں ہےسینیٹر بہرامند تنگی کو پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس دیا گیا تھا، جس کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے جس کے بعد پیپلزپارٹی چارسدہ کے صدر نے سینیٹر تنگی کی بنیادی رکنیت منسوخ کر دی تھی، سینیٹر بہرا مند تنگی 11 مارچ کو سینیٹ کی رکنیت سے ریٹائر ہو رہے ہیں اور اُن کی پی پی کی بنیادی ممبر شپ بھی ختم ہوچکی ہے لہذا وہ پیپلزپارٹی کا نام استعمال کرنے سے باز رہیں۔

    واضح رہے کہ بہرامند تنگی نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع کرائی، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ‏یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت تمام سوشل میڈیا کو بند کر دیا جائے تاکہ نوجوان نسل محفوظ رہ سکے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ملک میں نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، ان پلیٹ فارمز کو ہمارے مذہب اور ثقافت کے خلاف اصولوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے زبان اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت پیدا ہو رہی ہے۔

    رپورٹ، محمد اویس ،اسلا م آباد

    سینیٹ اجلاس، گرفتار خواتین کو رہا کرو، پی ٹی آئی کا احتجاج،جے یو آئی کا بھی مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے،سینیٹر مشتاق احمد

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال،الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کے موقع پر میڈیا کو باہر نکال دیا،

    صحافی الیکشن کمیشن گئے تو سیکورٹی اہلکاروں نے کہا کہ میڈیا کا داخلہ ممنوع ہے، چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات ہیں،کہ صحافیوں‌کو نہ آنے دیا جائے، جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ انتخابات کے موقع پر بھی ایسے ہی ہوتا تھا صحافیوں کو میڈیا روم تک بھی رسائی نہیں دی جاتی تھی،الیکشن کمیشن صحافیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگا سکتا،

    صدارتی انتخابات کے لئے7 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی،آصف زرداری، محمود خان اچکزئی اور عبدالقدوس کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی،اصغر علی مبارک، سرفراز، اقتدار حیدر اور ایاز فاروقی کا کاغذات کی بھی جانچ پڑتال کی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں،محمود اچکزئی کے کاغذات بھی منظور کر لئے گئے ہیں،عبدالقدوس، اصغر علی مبارک، سرفراز قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے ہیں،اقتدار علی حیدر اور ایاز فاروقی کے کاغذات بھی مسترد کر دیئے ہیں،آزاد امیدواروں کے تجویز اور تائید کنندگان نہ ہونے کے باعث کاغذات مسترد کیے گئے

    سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے صدارتی امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے تھے جنہیں جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیا گیا،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخابات کے ریٹرننگ افسر ہیں انہوں نے اسکروٹنی کے بعد سابق صدر کے کاغذات منظور کیے،

    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی کے لئے الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،محمود خان اچکزئی عامر ڈوگر، شیخ وقاص اکرم اور دیگر کے ہمراہ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تھے،علی محمد خان بھی انکے ہمراہ تھے،اس موقع پر علی محمد خان نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات لگتے رہتے ہیں، 1500 سال میں کسی کو پہلی بار نکاح پر سزا ملی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی نے جیل سے سیاسی استحکام کا دیاپیغام ہےقوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلائیں.

    محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائد
    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائدکیا گیا ہے ،اعتراض میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی اداروں، ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں، سنی تحریک کونسل نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بنانیے کی وجہ سے ان کو صدارتی امیدوار بنایا، محمود خان اچکزئی پاکستان کے پختون علاقوں کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں محمود خان اچکزئی پاکستان مخالف آدمی ہیں، انہوں نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک نے محمود اچکزئی پر اعتراضات عائد کئے،ریٹرننگ آفسر نے دلائل کے بعد اعتراض سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب سنا دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے اعتراضات مسترد کر دیئے اور محمود اچکزئی کے کاغذات منظور کر لئے.

    دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی صدراتی انتخابات کیلئے پولنگ سٹیشن قرار دے دی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے اسمبلی کو پولنگ سٹیشن قرار دینے کی تحریک وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پیش کیا،9 مارچ کو اسمبلی ہال میں پولنگ ہوگی، ممبران نے کثرت رائے سے منظوری دیدی

    صدارتی امیدوار آصف زرداری کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ
    علاوہ ازیں صدارتی انتخابات میں ووٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا ہے،آصف زرداری نے خالد مقبول صدیقی سے فون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں کے مابین صدارتی الیکشن، سیاسی صورتحال اور سندھ کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی، آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم سے ووٹ کی درخواست کی جس پر خالد مقبول صدیقی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ مشاورت کے بعد جلد جواب دیں گے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    پیپلز پارٹی کےچیئرمین سابق وزیر خارجہ بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہےکہ محمود اچکزئی کے گھر پر ریڈ ہوا،محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہیں،بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔کیونکہ اس معاملےکی وجہ سے صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنانےکی کوشش کی گئی۔قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنا ٹائم محمود خان اچکزئی کو دے دیا۔

    ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،بلاول
    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، پہلے سانحے اور پھر تماشے کی صورت میں ،اپنے خاندان کی تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو اس ہاؤس میں دوسری بار منتخب ہوا، بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے فیصلے لیں کہ یہ ہاؤس مضبوط ہو،قائد حزب اختلاف نے یہ اعتراض کیا کہ ان کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا گیا تو میں یہ کہوں گا کہ ہمیں خان صاحب کی اس روایت کو ختم کرنا چاہیئے، پارلیمان نہ میرا ہے ، نہ انکا ہے، یہ ہم سب کا ہے،شہباز شریف اور سرفراز بگٹی سے اپیل کروں گا کہ محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی تحقیقات کروائی جائیں، کل دونوں جانب سے تقاریر کے دوران جو گالیاں دے رہے تھے ،افسوس ہو رہا تھا، انہوں نے اپنے ہی ادارے ، ملک و جمہوریت کو کمزور کر دیا، اس ہاؤس تک پہنچنے کیلئے ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،پاکستان کے عوام نے پیغام دیا کہ وہ لڑائیوں سے تھک چکے ہیں، اگر آپ کو مخصوص نشستیں مل بھی جائیں آپ پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے، ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں بنیادی نکات عوام تک نہیں پہنچ سکے،فارم 47 یا 45 کی وجہ سے نہیں کارکنوں کے خون پسینے کی وجہ سے یہاں آئے ہیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت میں پیپلز پارٹی کے وزراء نہیں ہیں، جمشید دستی نے بلاول کو لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء ہونے چاہئیں،بلاول زرداری نے جواب دیا کہ آپ آ جائیں تو ہم بھی آ جائیں گے،بلاول زرداری کاکہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا،اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق میں کچھ وزارتیں تحلیل نہیں ہو سکیں، 18 وزارتوں کو 2015 میں تحلیل ہونا چاہئیے ، ان 18 وزارتوں کا سالانہ خرچہ 328 ارب روپے ہے،سالانہ 1500 ارب روپے کی اشرافیہ کو سبسڈی ملتی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے 18 اضافی وزارتوں اور 1500 ارب روپے کی سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

    انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی اور انتخابی اصلاحات کی فی الفور ضرورت ہے،اگر عدالتی اور انتخابی اصلاحات ہوتی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی جمہوریت کو کمزور نہیں کر سکتی،بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو عدالتی اور انتخابی اصلاحات پر مل کر قانون سازی کرنے کی پیشکش کر دی اور کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دھاندلی کا مسئلہ حل ہو تو مل کر بیٹھنا ہو گا، ہم سمجھتے ہیں مل بیٹھ کر انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہئیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول بھٹو زرداری کے ریمارکس پر سنی اتحاد کونسل نے ڈیسک بجائے.

    بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے دوران جمشید دستی نے شور شرابہ کیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دستی صاحب مجبور نہ کریں کہ میں آپ کے خلاف ایکشن لوں،بلاول زرداری نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی جو بھی کرے گا اس کو سزا دی جائے، اگر عدم اعتماد کے وقت یہ ایوان تحلیل ہوا تو آئین کی خلاف ورزی ہوئی،اگر آپ آئین کی بات کرتے ہیں تو میں کہوں گا کہ آپ ہوتے کون ہیں؟

    قومی اسمبلی اجلاس، سنی اتحاد کونسل کے گوزرداری گو کے نعرے،یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے،بلاول
    بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل اراکین نے ایوان میں ہنگامہ کر دیا،سنی اتحاد کونسل اراکین نے گو زرداری گو کے نعرے لگائے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین بلاول بھٹو زرداری کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے، جس پر بلاول زرداری نے کہا کہ یہ بہت جذباتی لوگ ہیں میں کیا کہوں، یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے، عوام تنگ آ چکے ہیں، آپکو گالی دینے کے لیے عوام نے ووٹ نہیں دیا۔شورشرابے کے لئے ووٹ نہیں دیا، ووٹ اس لئے دیا کہ ہم معاشی بحران سے بچائیں،اگر یہ لوگ یہاں آئین اور قانون کی باتیں کررہے ہیں تو میں ان کو کہونگا کہ who the hell are you to talk to me like this.میں اس شخص کا نواسہ ہوں جس نے پھانسی چڑھنا پسند کیا لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، بلاول زرداری نے اپوزیشن کو کارٹون قرار دے دیا اور کہا کہ ہم پر اور ان کارٹون پر فرض ہے کہ ہم ملکر اپنا فرض ادا کریں ،اس سے پہلے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرنا شروع کر دیں،شہباز شریف کو اگر آپ وزیراعظم نہیں مانتے تو آپکو انکی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا،سنی اتحاد کونسل کے اراکین سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے الفاظ حذف کرنے کی درخواست کی گئی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو الفاظ حذف کرنا ہوں گے میں کروں گا،بلاول کا کہنا تھا کہ میں خود مانتا ہوں میرے الفاظ حذف کریں ،ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا،

    سائفر گمشدگی کی تحقیقات اور سزاہونی چاہئے، 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،بلاول

    جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،تحقیقات اور سزا ہونی چاہئے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنے گھر میں سیکرٹ کاغذات رکھے تو امریکی ایجنسیوں نے اسکے گھر پر چھاپہ مار کر وہ کاغذات برآمد کیے تھے۔اور کیس بنایا، ہم نے یہ نہیں کیا، نہ ہی تجویز دی، قانون کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے، آئین اور قانون کے مطابق گھر پر چھاپہ مار کر سائفر برآمد کیا جا سکتا ہے ،عمران خان کی گرفتاری کے بعد سائفر انٹرنیشنلی پبلش ہوگیا.مسئلہ تب شروع ہوا جب خان صاحب کو گرفتار کیا جاتاہے صحیح یا غلط وہ کیس لڑیں،سائفر کی گُمشدگی قومی سلامتی کو کمپرومائز کر سکتی ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات اور سزا ہونی چاہئیے،سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اداروں کو جاتی ہے،سوائے وزیراعظم ہاؤس جانے والی کے دیگر کاپیز کا حساب موجود ہے،عمر ایوب صاحب درست کہہ رہے ہیں وزارت خارجہ میں سائفر کی ایک کاپی ہوتی ہے،یہ کاپی اگر کسی دشمن کو مل جائے تو وہ ہمارے کوڈٹریک کرسکتے ہیں، سائفر معاملے کو ذوالفقار علی بھٹو سے منسلک کرنے پر مذمت کرتا ہوں،میں وزیرخارجہ رہا ہوں میں جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے خود مانا کہ ان سے سائفر کی کاپی گم ہوئی،جان بوجھ کر کسی نے سائفر کی کاپی کو غیرملکی جریدے میں چھپوایا،سائفر کے معاملے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تذکرہ ہوا، بھٹو نے کہا تھا وہ پاکستان کے بارے میں بہت راز جانتے ہیں، بھٹو نے کہا کہ وہ یہ راز اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے،امریکہ سے آنے والے سائفر کی وزیر اعظم ہاؤس والی کاپی کی حفاظت نہیں کی جا سکی، خان صاحب نے خود کہا کہ سائفر گم ہوگیا، اگر ایک سائفر دشمن کے ہاتھ لگ جائے تو وہ سارے سائفرز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے،

    بلاول نے 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کوئی ہمارے ادارے پر حملہ کرے اور پاکستان اُس کو بھول جائے، وزیراعظم شہبازشریف سے اپیل ہے 9 مئی سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنائیں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا، جنہیں سزا ملنی چاہئے انہیں سزا ملے،

    ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سائفر کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنائے، ایک امریکی ڈیپلومیٹ نے حکومت پاکستان کو ڈکٹیٹ کیا، سائفر کو بنیاد بنا کر عمران خان پر مقدمات بنائے گئے، انہیں سزائیں دی گئیں، سنی اتحاد کونسل نے بھی سائفر معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،عمران خان کے ساتھ 29 سال گزارے، انہوں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، نہ ہمارا لیڈر جھکا، نہ ہم جھکیں گے،میں مر جاؤں گا عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، یہاں جو فارم 47 والے بیٹھے ہیں انھیں انکے بچے بھی ایم این اے نہیں مانتے ، جنکو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کوئی آفر قبول کر لے گا تو وہ سن لیں ایسا کچھ نہیں ہوگا، ہمارا کل بھی ایک ہی مقصد اور آج بھی ہم اسی مقصد پر قائم ہیں کہ پاکستان میں آئین و قانون کی علمبرداری ہو

    پنجاب میں ہمارا ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مریم نواز پر بات کرنے لگے تو ان کا مائیک بند کر دیا گیا، جس پر عمر ایوب اور پی ٹی آئی کے ارکان اسپیکر ڈائس پر چلے گئے جس کے بعد اسپیکر نے ان کو دوبارہ بات کرنے کی اجازت دے دی،عمر ایوب نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہمارا ایک نو عمر سیاسی ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے، اس معاملے پر ذمے داری وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر عائد کی جائے،میری تقریر براہ راست نہیں دکھائی گئی، میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار تھا، کل میری تقریر بار بار روکی گئی، شہباز شریف کی تقریر نہیں روکی گئی، کیا وہ آسمان سے اترے تھے ان کی تقریر نہیں کاٹی گئی، اس پر میں تحریک استحقاق پیش کر رہا ہوں،جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ قواعد کے مطابق آپ یہ نہیں کر سکتے،عمر ایوب نے کہا کہ گزشتہ رات صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، ان کے گھر پر چھاپے کے خلاف قرار داد پیش کریں گے اور اس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہاؤس کس طرح چلتا ہے اس کے قواعد لکھ کر ٹیبل پر رکھ دیے ہیں، اس سے زیادہ بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی،

    ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے،خالد مقبول صدیقی
    قومی اسمبلی اجلاس، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نظام کوبدلنے کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، تجارتی خسارہ اس وقت خطرناک صورتحال اختیار کرچکا، ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے ، 2024 کی اسمبلی میں جو ہو رہا ہے 2018 میں بھی یہی ہوا، یہ شور شرابہ اور احتجاج ثابت کر رہا ہے کہ جمہوریت اپنا وجود کھو رہی ہے،بلاول بھٹو زرداری نے وفاق سے مزید تحلیل کی درخواست کی ہے، اٹھارہویں ترمیم طاقت کی تحلیل کی بجائے طاقت کی مرکزیت کیسے ثابت ہوئی،

    جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل جمہوریت کے لئے بہت ہی افسردہ دن تھا،جمہوریت کا درس دینے والے خود اپنے نانا کی سیاست دفن کر چکے، جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟ ہمارے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، ہمارے لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی صدارت کے لائق نہیں ہے؟ جمہوریت ایسے نہیں چلتی، عوام کو ان سے کوئی توقع نہیں، عمران خان کا کوئی بھانجا بھتیجا اس وقت یہاں نہیں بیٹھا، ہمیں پی ٹی وی پر ٹائم نہیں دیا جا رہا، ہمیں بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے،ہماری اصل بات لوگوں تک پہنچ جائے یہی ہمارا مدعا ہے،چیخ و پکار پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے،جب ہم ایوان کے ممبر کی حیثیت سے تقریر کرتے ہیں تو وہ لائیو دکھانا چاہئیے، یہ لوگ ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتے ،ہمارا کہنا ہے کہ ہماری تقریر کو میوٹ کیا جاتا ہے ، ہمارے گھروں پر پولیس گردی ہوئی ہے، ہمارے کارکنوں کو جیلوں میں رکھا گیا ہے،ہمیں ٹارچر کیا گیا ہے، صرف اس لئے تاکہ ہم عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیں، عمران خان کے خلاف سارے کیسز جعلی ہیں، زرداری اور نواز شریف کے خلاف بھی گاڑی لینے پر احتساب ہونا چاہئے،لیول پلینگ فیلڈ بنائیں،

    بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ، نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا ،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی عدالت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی ہے کون محب وطن ہے۔ ہم سب سے زیادہ محبت وطن ہے ہمارا لیڈر سب سے زیادہ محب وطن ہے،ہم شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتے، انہوں نے کل نہیں کہا کہ ہماری خواتین کو رہا کرینگے، ان سے تو یوسف رضا گیلانی بہتر تھا جس نے کہا تھا ججز کو آزاد کرائوں گا، یہ جمہوری نہیں،عمران خان نے موروثی سیاست کو ختم کیا، میرے جیسا کارکن چیئرمین تحریک انصاف بنا، انہوں نے ایک ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھنے والوں میں عہدے تقسیم کیے، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی اور صدارت کا اہل نہیں، یہ جمہوریت نہیں ہے،ہمیں تو درس دیتے ہیں اپنے گریبانوں میں جھانکیں، پی ڈی ایم ون حکومت نے پچاس ارب کے کیس معاف نہیں کروائے، یہ حقیقت ہے، کیا آج یہ کہہ سکتے ہیں؟ اتنا ہی گھمنڈ ہے جمہوریت پر تو بتائیں ایک لفظ ہماری گرفتار خواتین بارے بولا ہے،قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا کیا انہوں نے ایک لفظ بولا،بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ہے نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا بھٹو کی سیاست اب گزر چکی ہے.وہ ہار کہاں گئے جو سوئس میں پڑے تھے، یہ ہمیں 30 نشستیں بھی نہیں دے رہے تھے، جو 91 آئے ہیں اس لیے آئے کہ یہاں دھاندلی کرنا ممکن نہیں تھا، ہمارے تجویز تائید کنندہ گرفتار ہوئے، قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا، کیا تب بولے.

    لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا،راجہ پرویز اشرف
    پیپلزپارٹی کے ارکان نے بیرسٹر گوہر کی تقریر کے دوران احتجاج کیا،اس دوران راجہ پرویز اشرف بیرسٹر گوہر پر برس پڑے، راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جس مقصد کے لیے آئے ہیں وہ پورا کریں یا دنیا کو تماشا دکھائیں،اگر کسی کے لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا، اپنے دوستوں کو طریقہ اور سلیقہ سکھائیں،ایسے ہی رہا تو یہ کمپنی چلتی نظر نہیں آ رہی۔

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی

    سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی

    سپریم کورٹ، ایف نائن پارک میں درختوں کی کٹائی پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی، عدالت نے حکم دیا کہ شہتوت کے درختوں کی کٹائی کے وقت سی ڈی اے کا عملہ موجودگی یقینی بنائے، یقینی بنایا جائے کہ شہتوت کے علاوہ کوئی اور درخت نہ کاٹا جائے، عدالت نے فریقین سے بطور مبصر تعیناتی کیلئے ماہرین کے نام اور تجاویز تین دن میں طلب کر لیں،

    سی ڈی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ایف نائن پارک میں شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں،پولن الرجی کے پھیلاؤ کی وجہ سے شہتوت کے درخت کاٹے جا رہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کاٹے گئے درختوں کی لکڑی کہاں ہے؟ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ لکڑی ٹھیکیدار لے کر جاتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کے شعبہ ماحولیات میں کتنا عملہ ہے؟ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عرفان عظیم نے کہا کہ سی ڈی اے کے پاس 4500 مالی اور افسران ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شہتوت کی درخت اتنے ہی برے ہیں تو لگائے ہی کیوں گئے؟ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ اسلام آباد کے قیام کے وقت چائنہ سے شہتوت کا بیج لاکر جہاز سے شہر میں پھینکا گیا تھا، شہتوت کی جگہ ماحول دوست درخت لگائے جا رہے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واک کرتے ہوئے کچھ سوکھے تنے اکھاڑ کر نیا درخت لگانا چاہتا تھا، مجھے بتایا گیا کہ یہ کام صرف سی ڈی اے کر سکتا ہے آپ نہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چائنہ نے ہمیں مضر صحت بیج دے دیا تو کیا وہاں الرجی نہیں ہوتی؟ماہر ماحولیات رضا بھٹی نے کہا کہ چائنہ میں شہتوت کنٹرولڈ ماحول میں لگایا گیا ہے عوامی مقامات پر نہیں،عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    مریم نواز کو وزیراعلی کا پروٹوکول مل گیا

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا استعفی مسترد

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

  • اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ 5 مارچ کو الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کریں گے، شفاف الیکشن کا مطالبہ کرنے والوں کا انٹرا پارٹی الیکشن تاریخ میں ایک نیا سیاہ باب ہے،ساڑھے 8 لاکھ پی ٹی آئی ممبران میں سے 940 نے ووٹ دیے، 0.11 فیصد پی ٹی آئی ممبران نے تازہ ترین انٹرا پارٹی الیکشن میں ووٹ ڈالا اب آپ ہی بتائیں انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر اس فراڈ کو کیسے تسلیم کریں

    گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، آڈیو لیکس کیس،نجم الثاقب اور بشری بی بی کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نےسماعت کی،ڈی جی ایف آئی اے عدالتی حکم پر عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،پی ٹی اے کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ یہ کیس غیرموثر ہو چکا، نمٹا دیا جائے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے سامنے دو الگ درخواستیں ہیں،چیئرمین پی ٹی اے کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے بارسیلونا گئے ہوئے ہیں، تین چار دن میں واپس آ جائیں گے،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری آڈیو جو لیک ہوئی وہ اوریجنل تھی ، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ڈیجٹیل میڈیا اتنا بڑا سمندر ہے فیس بک یوٹیوب ہماری ایجنسیز کے دائرے اختیار سے باہر ہیں ، مرحوم جج ارشد ملک کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی پھر پانامہ کیس کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے ، جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ یہ پوزیشن لے رہی ہے کہ کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ،یہ آپ نے بتانا ہے کہ شہریوں کی پرائیویسی محفوظ ہے یا نہیں، وکیل ٹیلی کام کمپنیر نے کہا کہ پالیسی ، ایکٹ ، لائسنس کچھ اور کہتے ہیں ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟کیا ٹیلی کام آپریٹرز فون ٹیپنگ کی اجازت دے رہے ہیں؟

    اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر،آڈیو لیکس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں،ڈی جی آئی بی
    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ امریکہ، یوکے اور جرمنی میں بھی آڈیولیکس کے واقعات ہوتے ہیں، ایسی ڈیوائسز موجود ہیں جن سے یہ سب کرنا آسانی سے ممکن ہے، ہم کسی پر ذمے داری فکس نہیں کر سکتے جب تک تحقیقات نہ ہوں، آڈیو ٹیپ کرنے کی کنفرمیشن یا تردید نہیں کر رہے، اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں، اس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں۔وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ان لائسنسز میں قانون کی یہ شقیں کیوں رکھی جاتی ہیں یہ دیکھنا ہے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم بھی یہی سمجھنا چاہتے ہیں،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ پی ٹی اے نے کسی کو ہدایات جاری نہیں کیں، سرکاری افسران آپ سے گھبرا جاتے ہیں، میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

    کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی؟ جسٹس بابر ستار
    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کتنا عجیب جواب ہے کہ سیکشن 19 میں یہ مان رہے ہیں یہ جرم ہے، یہ پورا پورا دن ٹی وی چینلز پر چلاتے رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ مستقبل میں اسے کیسے روکا جا سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم سب کی پرائیویسی خطرے میں ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کلائنٹ سے بات کر رہا ہوں اور اسے کوئی اور بھی سن رہا ہو،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ کیا کوئی فریم ورک ہے؟ کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آٹھ فروری کو تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کھوسہ صاحب آٹھ فروری کو درمیان میں لے کر مت آئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہم سوموٹو کر رہے ہیں، آٹھ فروری سے متعلق ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کر لیے.عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے