Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    قومی ادارہ براے وقار نسواں ( این سی ایس ڈبلیو) اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے نیشنل لائبریری میں قومی خواتین کانفرنس کا اہتمام کیا۔

    تقریب سے خطاب میں پی پی اے ایف کے سربراہ نادر گل بڑیچ نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ خواتین کی ترقی کا اثر انفرادی نہیں اجتماعی ہوتا ہے، ایک خاتون کا ترقی یافتہ ہونا خاندان اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ خواتین کو مالی وسائل تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے، اثاثوں اور بلاسود قرضوں کی فراہمی اور تکنیکی اور مالیاتی تربیت کے ذریعے، PPAF غربت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کا حصول پائیدار ترقی کے دیگر تمام اہداف سے جڑا ہوا ہے، جیسے کہ گڈ گورننس، انسانی حقوق، ماحولیاتی پائیداری، غربت میں کمی، سبز ماحول اور پرامن معاشروں کی تشکیل۔ فیصلہ سازی کے حلقوں میں خواتین کی ترقی کے سفر کی رکاوٹوں کو ہمیں دور کرنا ہے۔ آج کی تقریب میں قومی ترقی میں خواتین کے کردار کو اجاگر کیے جانے کے لیے مختلف کالجز کی بچیاں مستحکم خواتین کے عالمی یوم خواتین کی تھیم کے مطابق مقابلوں کا حصہ بن رہی ہیں، ہمارا آج یہاں اکٹھے ہونا ہماری خواتین پر ہمارے بھروسے اور ان کی صلاحیتوں اور برابری کی سطح پر حقوق کی فراہمی پر ہمارے بھروسے کا عکاس ہے۔ آج حکومتی نمائندگان، بین الاقوامی معززین، ترقیاتی شعبے، سول سوسائٹی کی تنظیموں، نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کی ممتاز شخصیات اس ایک چھت تلے ایک مشن اور روشن کل کی سوچ کے ساتھ موجود ہیں، ہمیں یقین ہے خواتین کی شمولیت کے بنا پاکستان کو درپیش معاشی، معاشرتی اور دیگر اہم چیلنجز پر گرفت پانا ممکن نہیں۔ مختلف شعبہ ہاے زندگی میں نمایاں قردار ادا کرنے والی خواتین کو ایوارڈز دیے جانے کا مقصد ملک کی دیگر با ہمت اور با صلاحیت خواتین کو محنت کی جانب راغب کرنے کی ایک کوشش اور ان خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں قومی بیانیے ‘پیغام پاکستان’ اور ‘دختران پاکستان’ پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو اتحاد، امن، سماجی ہم آہنگی اور خواتین کو اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے اقدامات کو فروغ دیتے ہیں۔

    تقریب کی مہمان خصوصی چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو نیلوفر بختیار نے خطاب میں کہا کہ اس تقریب کا مقصد خوشحال اور روشن پاکستان کی جانب بڑھنے کے لیے خواتین کے نمایاں قردار کی اہمیت کو عیاں کرنا ہے۔ خواتین کو تعلیم صحت روزگار کے برابری کی سطح پر مواقع فراہم کیے بنا ترقی کے سفر میں کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن نہیں۔ ہمیں پاکستان کی خواتین کو با اختیار بنانا ہے اس کے لیے انکی صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا۔ ہمیں نئی نسل کو اپنے عزائم کو بنا کسی خوف سے آگے بڑھانے اور پاکستان کے معاشی اور سماجی تانے بانے میں اپنا حصہ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے باصلاحیت اور با ہمت بنانا ہے۔ ہم آج یہاں موجود ہیں یہ ایک ایسے مستقبل کی نوید ہے کہ جہاں خواتین نہ صرف موجود ہیں بلکہ قومی ترقی اور خوشحالی کی داستان میں رہنما ہیں۔

    تقریب سے سابقہ انسپکٹر جزل پولیس حیلینہ اقبال سعید، ڈاکٹر امینہ حسن، ڈاکٹر صائمہ افضال اور ڈاکٹر بختاور خالد نے اپنے خطاب میں مختلف شعبوں میں چیلنجز پر کامیابی سے قابو پانے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی خواتین کے ہمراہ خطاب میں اپنی کامیابی کے سفر کی داستان گوئی کی اور شرکا جس میں جڑواں شہروں کے کالجز کی طالبات اور خواتین کی اکثریت موجود تھی انہیں ذاتی، خاندان اور معاشرے کے روشن مستقبل کے لیے اپنی کاوشوں کو مسلسل نکھارتے رہنے اور سفر کی مشکلات سے نہ گھبرانے کے رہنما اصولوں کو اپناے رکھنے کی ترغیب دی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے کالجز کی طالبات کو خواتین کو بااختیار بنائے جانے کے موضوع پر فنی مقابلوں کا حصہ بننے اور پہلی، دوسری، تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر انعامات سے نوازا گیا۔

  • آئی ایم ایف شرائط  ،سرکاری ملازمین کیلئے نئی پنشن اسکیم   کی تجویز

    آئی ایم ایف شرائط ،سرکاری ملازمین کیلئے نئی پنشن اسکیم کی تجویز

    حکومت کو سرکاری ملازمین کو بھارت کی طرز پر رضاکارانہ پنشن دینے کی تجویز دی گئی ہے

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے نئی رضاکارانہ پنشن اسکیم لانے کی تیاری کی جارہی ہے اور نئی اسکیم سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تیار کی ہے، تمام نئی سرکاری بھرتیاں رضاکارانہ پنشن اسکیم کے تحت کیے جانے کا امکان ہے تاہم پہلے سے بھرتی سرکاری ملازمین کو پنشن بجٹ سے ہی دی جائے گی البتہ وفاقی حکومت موجودہ سرکاری ملازمین کی رضامندی سے ان کو نئی اسکیم میں منتقل کرسکتی ہے

    ایس ای سی پی نے سرکاری اور نجی شعبے میں نئی اسکیم کا اطلاق کرنے کی تجویز دی ہے، نجی شعبہ اس وقت ملازمین کو پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی کی سہولت فراہم کررہا ہے، ایس ای سی پی کی تجویز ہےکہ نجی شعبہ ملازمین کو صرف رضاکارانہ پنشن اسکیم دے کیونکہ پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی سےملازمین کو ریٹائرمنٹ پرمستقل آمدن کی سہولت نہیں ملتی، اس اسکیم کے تحت ملازمت کی تبدیلی کی صورت میں بھی پنشن سہولت جاری رہے گی۔

    اس وقت ملک میں 43 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں جن میں 61 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، خیبر پختوخوا حکومت نے سب سے پہلے 2 سال قبل پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کی جہاں حکومتی ملازمین کے لیے 21 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں،پنجاب حکومت بھی ملازمین کے لیے رضاکارانہ پنشن اسکیم شروع کرنے والی ہے

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

  • قرارداد پیش کریں گے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، اسد قیصر

    قرارداد پیش کریں گے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما، رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہم ایک قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کروانے جارہے ہیں،

    اسد قیصرکا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی پر غیر قانونی مقدمات بنائے گئے،ہم قرارداد جمع کروا رہے ہیں کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی پر جتنے مقدمات ہیں وہ واپس لیے جائیں،شاہ محمود قریشی اور ہمارے دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، 9 مئی واقعات کی ہم نے ہمیشہ مذمت کی ، اگلے اجلاس میں ہم اس قرارداد کو پاس کروائیں گے، ایک دن میں 14 ، 14 گھنٹے کیسز چلائے گئے، ایک دن میں دو دو عدالتیں لگا کر انصاف کے تقاضوں کو پامال کیا گیا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت ملک کے سب ے بڑے سیاسی لیڈر ہیں،ہمارے مینڈیٹ پہ ڈاکا ڈالا گیا، فارم 45 الیکشن کمیشن کی دستاویزات ہیں،فارم 45 پر کوئی اور نتیجہ ہے جبکہ فارم 47 ہر کوئی اور نتیجہ ہے، کسی طور پر اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اب ہماری جنگ صرف اپنی سیاست کے لیے نہیں ہے، اب یہ جنگ ہماری قوم کے لیے ہے،

    اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ تمام آئینی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، ہماری جدوجہد عدلیہ کو آزاد کروانے کی ہوگی، عدلیہ دباؤ میں آنے کی بجائے آزادنہ فیصلے کرے، ہماری مخصوص نشستیں چھینیں گئیں،نواز شریف نے نعرہ لگایا کہ ووٹ کو عزت دو، جعلی وزیراعظم بن گیا کراچی ، اسلام آباد ، پنڈی ، سمیت دیگر جگہوں کے ایم این ایز جانتے ہیں کہ وہ جیتے ہوئے نہیں ہیں،ہم اپنی تحریک جاری رکھیں گے، ہم تمام سیاسی قوتوں کو اکھٹا کریں گے، بڑے پیمانے پر قانون اور آئین کے مطابق تحریک چلائیں گے، اگر حق نہیں ملتا تو سڑکوں پہ نکلیں گے،

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

  • پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ججز کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیارات حاصل نہیں، قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں

    سابق صدر پرویز مشرف (مرحوم) کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا،عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خصوصی عدالت کو کالعدم قرار د ے کر لاہور ہائیکورٹ نے پورے عدالتی نظام کو نیچا دکھایا،مصطفیٰ ایکٹ کیس کے فیصلے کا اطلاق خصوصی عدالت پر نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصی عدالت کی شق 9 کے تحت ملزم کا ٹرائل غیر حاضری میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہائیکورٹ نے مشرف کو وہ ریلیف بھی دیا جو مانگا ہی نہیں گیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ ہی میں ہو سکتی ہے۔ مشرف کے ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ سے 2 مرتبہ رجوع کیا گیا، ججوں کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیار نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں۔ ججوں کو غیر متزلزل خود مختار صوابدیدی اختیار حاصل نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کے محافظ ہوتے ہیں۔ ججز کو چاہیے کہ وہ طے شدہ قانون اور اصول کے تحت فیصلے کریں۔ ججز کو ذاتی مفاد اور ذاتی خواہشات کے بجائے طے شدہ عدالتی نظائر اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کیوں کہ مشرف نے پی سی او جی ایچ کیو راولپنڈی سے جاری کیا اس لیے لاہور ہائی کورٹ کیس سن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ پی سی او کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ پرویز مشرف کیخلاف غداری کی شکایت اسلام آباد میں درج ہوئی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی گزشتہ شب ملاقات ہوئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شامل تھے،وفد نے وزیراعظم کو وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خدائے بزرگ و برتر اور عوام کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کیلئے ایک مرتبہ پھر سے موقع دیا. خادم پاکستان منتخب کرنے کیلئے ایوان میں اپنی اتحادی جماعتوں کے اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں. خدا کے کرم اور اپنی محنت سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات کام کرنے کیلئے پر عزم ہیں. ملاقات میں سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی بھی موجود تھے۔

  • چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے
    صادق سنجرانی کے بلوچستان اسمبلی کے ممبر بننے کے بعد وہ سینیٹر نہیں رہے،چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان اسمبلی سے الیکشن لڑا تھا اور وہ جیت گئے، بلوچستان اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد صادق سنجرانی صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے،

    چئیرمین سینیٹ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری ہو چکے ہیں،ووٹرز کے لئے اسمبلی ممبر کے طور پر حلف لینا ضروری ہے،چئیرمین سینیٹ نے صوبائی اسمبلی کے ممبر کے طور پر حلف نہیں لیا،صادق سنجرانی صوبائی اسمبلی کی نشست پر سولہ فروری کو کامیاب قرار پائے،آئینی ماہرین کے مطابق صادق سنجرانی 16فروری کے بعد سینیٹ کے ممبر نہیں رہے،سولہ فروری کے بعد ان کی سینیٹ میں سرگرمیاں غیر قانونی ہیں سینیٹ کی ذمہ داریاں ڈپٹی چئیرمین نبھا سکتے ہیں ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخابات میں مقابلہ آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کے محمود اچکزئی کے مابین ہے، دونوں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

  • ٹویٹر کی بندش، شہری کی درخواست پر نوٹس جاری

    ٹویٹر کی بندش، شہری کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پاکستان میں سوشل میڈیا ایپ ٹویٹر /ایکس کی بندش کے خلاف شہری کی درخواست پر فریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار شہری کی جانب سے وکلاء سردار مصروف خان اور آمنہ علی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ْایکس بند ہے ؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ 17 فروری سے حکومت نے ایکس پر پابندی عائد کردی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس پر تو سندھ ہائیکورٹ کا بھی فیصلہ آچکا ہے،

    وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کا کیس زیر سماعت ہے، عدالت نے فریقین کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ کو بحال کرنے کے احکامات جاری کرے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 17 فروری کے بعد سے اب تک ’ایکس‘ تک شہریوں کی رسائی ممکن نہیں، پی ٹی ے کی جانب سے کسی باقاعدہ نوٹس اور نوٹی فکیشن کے بغیر ہی پابندی عائد کردی گئی ہے، ایکس کی مسلسل بندش آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارت اطلاعات کو فریق بنایا گیا ہے۔گزشتہ روز جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ’ایکس‘ سے پابندی ہٹانے کے مطالبے کی قرارداد سینیٹ میں جمع کرائی تھی

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایکس (ٹوئٹر) کی سروس 17 فروری رات 10 سے بند کی گئی ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گزشتہ روز بھی ایکس کی سروس آدھا گھنٹہ بحال ہونے کے بعد پھر ڈاون ہوگئی تھی،پی ٹی اے نےایکس (ٹوئٹر) کی بندش پر موقف دینے سے گریز کیا ہے،

    سوشل میڈیا صارفین ٹویٹر چلانے کے لئے وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں،کچھ وی پی این کا سرور اسرائیل میں ہے،پی ٹی اے کی وجہ سے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا اسرائیل جارہاہے،ٹویٹر کی پاکستان میں بندش کے حوالہ سے پی ٹی اے مکمل خاموش ہے،اور کسی قسم کا کوئی بیان یا وضاحت جاری نہیں کی گئی

    واضح رہے کہ پاکستان میں کئی بار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سروسز کی بندش سامنے آئی ہیں، آٹھ فروری کو عام انتخابات کے روز سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کی گئی تھی، اس سے قبل پی ٹی آئی کے جلسے کے موقع پربھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس بند کر دی گئی تھیں.

  • سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے  قرارداد واپس

    سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قرارداد واپس

    سینیٹ میں 6بل متفقہ طور پر منظور کرلئے گئے جبکہ 6 بل قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیئے گئے، سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے بہرامند تنگی نے اپنی قرارداد واپس لے لی۔

    پیر کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کی زیرصدارت ہوا اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کے بل جن میں انٹی ریپ (تحقیقات و مقدمہ)ترمیمی بل 2022اور پاکستان ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کوریج پروگرام بل 2023 ایوان میں پیش کیا دونوں بل ایوان میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ سینیٹر ثانیہ نشتر نے پاکستان ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کوریج پروگرام بل 2023 اور پاکستان علاج و لازم معائنہ بلند فشار خون بل 2023 ایوان میں پیش کئے دونوں بل متفقہ طور پر منظور کرلئئے گئے ۔ سینیٹر مہرتاج روغانی نے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ اور غذائیت کے تحفظ بل 2023ایوان میں پیش کیا بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی،کلچر اور ہیلتھ سائنسز بل 2024ایوان میں پیش کیا ۔بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے نیشنل ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی ترمیمی بل 2023ایوان میں پیش کیا بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

    سینیٹر بہرمند تنگی نے سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے اپنی قرارداد واپس لے لی ،دو روز قبل سینیٹر بہرہ مند تنگی نے قرارداد پیش کی تھی جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی نے سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے سینیٹ میں جمع کرائی گئی قرداد سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا، سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز سید نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سینیٹر بہرامند تنگی کی سینیٹ میں جمع کی گئی قرارداد سے پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی سینیٹر بہرا مند تنگی کا بھی پی پی سے کوئی تعلق نہیں ہےسینیٹر بہرامند تنگی کو پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس دیا گیا تھا، جس کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے جس کے بعد پیپلزپارٹی چارسدہ کے صدر نے سینیٹر تنگی کی بنیادی رکنیت منسوخ کر دی تھی، سینیٹر بہرا مند تنگی 11 مارچ کو سینیٹ کی رکنیت سے ریٹائر ہو رہے ہیں اور اُن کی پی پی کی بنیادی ممبر شپ بھی ختم ہوچکی ہے لہذا وہ پیپلزپارٹی کا نام استعمال کرنے سے باز رہیں۔

    واضح رہے کہ بہرامند تنگی نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع کرائی، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ‏یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت تمام سوشل میڈیا کو بند کر دیا جائے تاکہ نوجوان نسل محفوظ رہ سکے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ملک میں نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، ان پلیٹ فارمز کو ہمارے مذہب اور ثقافت کے خلاف اصولوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے زبان اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت پیدا ہو رہی ہے۔

    رپورٹ، محمد اویس ،اسلا م آباد

    سینیٹ اجلاس، گرفتار خواتین کو رہا کرو، پی ٹی آئی کا احتجاج،جے یو آئی کا بھی مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے،سینیٹر مشتاق احمد

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال،الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کے موقع پر میڈیا کو باہر نکال دیا،

    صحافی الیکشن کمیشن گئے تو سیکورٹی اہلکاروں نے کہا کہ میڈیا کا داخلہ ممنوع ہے، چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات ہیں،کہ صحافیوں‌کو نہ آنے دیا جائے، جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ انتخابات کے موقع پر بھی ایسے ہی ہوتا تھا صحافیوں کو میڈیا روم تک بھی رسائی نہیں دی جاتی تھی،الیکشن کمیشن صحافیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگا سکتا،

    صدارتی انتخابات کے لئے7 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی،آصف زرداری، محمود خان اچکزئی اور عبدالقدوس کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی،اصغر علی مبارک، سرفراز، اقتدار حیدر اور ایاز فاروقی کا کاغذات کی بھی جانچ پڑتال کی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں،محمود اچکزئی کے کاغذات بھی منظور کر لئے گئے ہیں،عبدالقدوس، اصغر علی مبارک، سرفراز قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے ہیں،اقتدار علی حیدر اور ایاز فاروقی کے کاغذات بھی مسترد کر دیئے ہیں،آزاد امیدواروں کے تجویز اور تائید کنندگان نہ ہونے کے باعث کاغذات مسترد کیے گئے

    سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے صدارتی امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے تھے جنہیں جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیا گیا،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخابات کے ریٹرننگ افسر ہیں انہوں نے اسکروٹنی کے بعد سابق صدر کے کاغذات منظور کیے،

    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی کے لئے الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،محمود خان اچکزئی عامر ڈوگر، شیخ وقاص اکرم اور دیگر کے ہمراہ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تھے،علی محمد خان بھی انکے ہمراہ تھے،اس موقع پر علی محمد خان نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات لگتے رہتے ہیں، 1500 سال میں کسی کو پہلی بار نکاح پر سزا ملی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی نے جیل سے سیاسی استحکام کا دیاپیغام ہےقوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلائیں.

    محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائد
    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائدکیا گیا ہے ،اعتراض میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی اداروں، ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں، سنی تحریک کونسل نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بنانیے کی وجہ سے ان کو صدارتی امیدوار بنایا، محمود خان اچکزئی پاکستان کے پختون علاقوں کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں محمود خان اچکزئی پاکستان مخالف آدمی ہیں، انہوں نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک نے محمود اچکزئی پر اعتراضات عائد کئے،ریٹرننگ آفسر نے دلائل کے بعد اعتراض سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب سنا دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے اعتراضات مسترد کر دیئے اور محمود اچکزئی کے کاغذات منظور کر لئے.

    دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی صدراتی انتخابات کیلئے پولنگ سٹیشن قرار دے دی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے اسمبلی کو پولنگ سٹیشن قرار دینے کی تحریک وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پیش کیا،9 مارچ کو اسمبلی ہال میں پولنگ ہوگی، ممبران نے کثرت رائے سے منظوری دیدی

    صدارتی امیدوار آصف زرداری کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ
    علاوہ ازیں صدارتی انتخابات میں ووٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا ہے،آصف زرداری نے خالد مقبول صدیقی سے فون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں کے مابین صدارتی الیکشن، سیاسی صورتحال اور سندھ کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی، آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم سے ووٹ کی درخواست کی جس پر خالد مقبول صدیقی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ مشاورت کے بعد جلد جواب دیں گے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    پیپلز پارٹی کےچیئرمین سابق وزیر خارجہ بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہےکہ محمود اچکزئی کے گھر پر ریڈ ہوا،محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہیں،بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔کیونکہ اس معاملےکی وجہ سے صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنانےکی کوشش کی گئی۔قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنا ٹائم محمود خان اچکزئی کو دے دیا۔

    ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،بلاول
    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، پہلے سانحے اور پھر تماشے کی صورت میں ،اپنے خاندان کی تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو اس ہاؤس میں دوسری بار منتخب ہوا، بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے فیصلے لیں کہ یہ ہاؤس مضبوط ہو،قائد حزب اختلاف نے یہ اعتراض کیا کہ ان کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا گیا تو میں یہ کہوں گا کہ ہمیں خان صاحب کی اس روایت کو ختم کرنا چاہیئے، پارلیمان نہ میرا ہے ، نہ انکا ہے، یہ ہم سب کا ہے،شہباز شریف اور سرفراز بگٹی سے اپیل کروں گا کہ محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی تحقیقات کروائی جائیں، کل دونوں جانب سے تقاریر کے دوران جو گالیاں دے رہے تھے ،افسوس ہو رہا تھا، انہوں نے اپنے ہی ادارے ، ملک و جمہوریت کو کمزور کر دیا، اس ہاؤس تک پہنچنے کیلئے ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،پاکستان کے عوام نے پیغام دیا کہ وہ لڑائیوں سے تھک چکے ہیں، اگر آپ کو مخصوص نشستیں مل بھی جائیں آپ پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے، ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں بنیادی نکات عوام تک نہیں پہنچ سکے،فارم 47 یا 45 کی وجہ سے نہیں کارکنوں کے خون پسینے کی وجہ سے یہاں آئے ہیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت میں پیپلز پارٹی کے وزراء نہیں ہیں، جمشید دستی نے بلاول کو لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء ہونے چاہئیں،بلاول زرداری نے جواب دیا کہ آپ آ جائیں تو ہم بھی آ جائیں گے،بلاول زرداری کاکہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا،اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق میں کچھ وزارتیں تحلیل نہیں ہو سکیں، 18 وزارتوں کو 2015 میں تحلیل ہونا چاہئیے ، ان 18 وزارتوں کا سالانہ خرچہ 328 ارب روپے ہے،سالانہ 1500 ارب روپے کی اشرافیہ کو سبسڈی ملتی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے 18 اضافی وزارتوں اور 1500 ارب روپے کی سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

    انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی اور انتخابی اصلاحات کی فی الفور ضرورت ہے،اگر عدالتی اور انتخابی اصلاحات ہوتی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی جمہوریت کو کمزور نہیں کر سکتی،بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو عدالتی اور انتخابی اصلاحات پر مل کر قانون سازی کرنے کی پیشکش کر دی اور کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دھاندلی کا مسئلہ حل ہو تو مل کر بیٹھنا ہو گا، ہم سمجھتے ہیں مل بیٹھ کر انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہئیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول بھٹو زرداری کے ریمارکس پر سنی اتحاد کونسل نے ڈیسک بجائے.

    بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے دوران جمشید دستی نے شور شرابہ کیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دستی صاحب مجبور نہ کریں کہ میں آپ کے خلاف ایکشن لوں،بلاول زرداری نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی جو بھی کرے گا اس کو سزا دی جائے، اگر عدم اعتماد کے وقت یہ ایوان تحلیل ہوا تو آئین کی خلاف ورزی ہوئی،اگر آپ آئین کی بات کرتے ہیں تو میں کہوں گا کہ آپ ہوتے کون ہیں؟

    قومی اسمبلی اجلاس، سنی اتحاد کونسل کے گوزرداری گو کے نعرے،یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے،بلاول
    بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل اراکین نے ایوان میں ہنگامہ کر دیا،سنی اتحاد کونسل اراکین نے گو زرداری گو کے نعرے لگائے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین بلاول بھٹو زرداری کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے، جس پر بلاول زرداری نے کہا کہ یہ بہت جذباتی لوگ ہیں میں کیا کہوں، یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے، عوام تنگ آ چکے ہیں، آپکو گالی دینے کے لیے عوام نے ووٹ نہیں دیا۔شورشرابے کے لئے ووٹ نہیں دیا، ووٹ اس لئے دیا کہ ہم معاشی بحران سے بچائیں،اگر یہ لوگ یہاں آئین اور قانون کی باتیں کررہے ہیں تو میں ان کو کہونگا کہ who the hell are you to talk to me like this.میں اس شخص کا نواسہ ہوں جس نے پھانسی چڑھنا پسند کیا لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، بلاول زرداری نے اپوزیشن کو کارٹون قرار دے دیا اور کہا کہ ہم پر اور ان کارٹون پر فرض ہے کہ ہم ملکر اپنا فرض ادا کریں ،اس سے پہلے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرنا شروع کر دیں،شہباز شریف کو اگر آپ وزیراعظم نہیں مانتے تو آپکو انکی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا،سنی اتحاد کونسل کے اراکین سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے الفاظ حذف کرنے کی درخواست کی گئی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو الفاظ حذف کرنا ہوں گے میں کروں گا،بلاول کا کہنا تھا کہ میں خود مانتا ہوں میرے الفاظ حذف کریں ،ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا،

    سائفر گمشدگی کی تحقیقات اور سزاہونی چاہئے، 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،بلاول

    جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،تحقیقات اور سزا ہونی چاہئے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنے گھر میں سیکرٹ کاغذات رکھے تو امریکی ایجنسیوں نے اسکے گھر پر چھاپہ مار کر وہ کاغذات برآمد کیے تھے۔اور کیس بنایا، ہم نے یہ نہیں کیا، نہ ہی تجویز دی، قانون کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے، آئین اور قانون کے مطابق گھر پر چھاپہ مار کر سائفر برآمد کیا جا سکتا ہے ،عمران خان کی گرفتاری کے بعد سائفر انٹرنیشنلی پبلش ہوگیا.مسئلہ تب شروع ہوا جب خان صاحب کو گرفتار کیا جاتاہے صحیح یا غلط وہ کیس لڑیں،سائفر کی گُمشدگی قومی سلامتی کو کمپرومائز کر سکتی ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات اور سزا ہونی چاہئیے،سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اداروں کو جاتی ہے،سوائے وزیراعظم ہاؤس جانے والی کے دیگر کاپیز کا حساب موجود ہے،عمر ایوب صاحب درست کہہ رہے ہیں وزارت خارجہ میں سائفر کی ایک کاپی ہوتی ہے،یہ کاپی اگر کسی دشمن کو مل جائے تو وہ ہمارے کوڈٹریک کرسکتے ہیں، سائفر معاملے کو ذوالفقار علی بھٹو سے منسلک کرنے پر مذمت کرتا ہوں،میں وزیرخارجہ رہا ہوں میں جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے خود مانا کہ ان سے سائفر کی کاپی گم ہوئی،جان بوجھ کر کسی نے سائفر کی کاپی کو غیرملکی جریدے میں چھپوایا،سائفر کے معاملے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تذکرہ ہوا، بھٹو نے کہا تھا وہ پاکستان کے بارے میں بہت راز جانتے ہیں، بھٹو نے کہا کہ وہ یہ راز اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے،امریکہ سے آنے والے سائفر کی وزیر اعظم ہاؤس والی کاپی کی حفاظت نہیں کی جا سکی، خان صاحب نے خود کہا کہ سائفر گم ہوگیا، اگر ایک سائفر دشمن کے ہاتھ لگ جائے تو وہ سارے سائفرز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے،

    بلاول نے 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کوئی ہمارے ادارے پر حملہ کرے اور پاکستان اُس کو بھول جائے، وزیراعظم شہبازشریف سے اپیل ہے 9 مئی سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنائیں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا، جنہیں سزا ملنی چاہئے انہیں سزا ملے،

    ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سائفر کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنائے، ایک امریکی ڈیپلومیٹ نے حکومت پاکستان کو ڈکٹیٹ کیا، سائفر کو بنیاد بنا کر عمران خان پر مقدمات بنائے گئے، انہیں سزائیں دی گئیں، سنی اتحاد کونسل نے بھی سائفر معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،عمران خان کے ساتھ 29 سال گزارے، انہوں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، نہ ہمارا لیڈر جھکا، نہ ہم جھکیں گے،میں مر جاؤں گا عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، یہاں جو فارم 47 والے بیٹھے ہیں انھیں انکے بچے بھی ایم این اے نہیں مانتے ، جنکو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کوئی آفر قبول کر لے گا تو وہ سن لیں ایسا کچھ نہیں ہوگا، ہمارا کل بھی ایک ہی مقصد اور آج بھی ہم اسی مقصد پر قائم ہیں کہ پاکستان میں آئین و قانون کی علمبرداری ہو

    پنجاب میں ہمارا ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مریم نواز پر بات کرنے لگے تو ان کا مائیک بند کر دیا گیا، جس پر عمر ایوب اور پی ٹی آئی کے ارکان اسپیکر ڈائس پر چلے گئے جس کے بعد اسپیکر نے ان کو دوبارہ بات کرنے کی اجازت دے دی،عمر ایوب نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہمارا ایک نو عمر سیاسی ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے، اس معاملے پر ذمے داری وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر عائد کی جائے،میری تقریر براہ راست نہیں دکھائی گئی، میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار تھا، کل میری تقریر بار بار روکی گئی، شہباز شریف کی تقریر نہیں روکی گئی، کیا وہ آسمان سے اترے تھے ان کی تقریر نہیں کاٹی گئی، اس پر میں تحریک استحقاق پیش کر رہا ہوں،جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ قواعد کے مطابق آپ یہ نہیں کر سکتے،عمر ایوب نے کہا کہ گزشتہ رات صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، ان کے گھر پر چھاپے کے خلاف قرار داد پیش کریں گے اور اس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہاؤس کس طرح چلتا ہے اس کے قواعد لکھ کر ٹیبل پر رکھ دیے ہیں، اس سے زیادہ بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی،

    ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے،خالد مقبول صدیقی
    قومی اسمبلی اجلاس، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نظام کوبدلنے کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، تجارتی خسارہ اس وقت خطرناک صورتحال اختیار کرچکا، ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے ، 2024 کی اسمبلی میں جو ہو رہا ہے 2018 میں بھی یہی ہوا، یہ شور شرابہ اور احتجاج ثابت کر رہا ہے کہ جمہوریت اپنا وجود کھو رہی ہے،بلاول بھٹو زرداری نے وفاق سے مزید تحلیل کی درخواست کی ہے، اٹھارہویں ترمیم طاقت کی تحلیل کی بجائے طاقت کی مرکزیت کیسے ثابت ہوئی،

    جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل جمہوریت کے لئے بہت ہی افسردہ دن تھا،جمہوریت کا درس دینے والے خود اپنے نانا کی سیاست دفن کر چکے، جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟ ہمارے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، ہمارے لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی صدارت کے لائق نہیں ہے؟ جمہوریت ایسے نہیں چلتی، عوام کو ان سے کوئی توقع نہیں، عمران خان کا کوئی بھانجا بھتیجا اس وقت یہاں نہیں بیٹھا، ہمیں پی ٹی وی پر ٹائم نہیں دیا جا رہا، ہمیں بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے،ہماری اصل بات لوگوں تک پہنچ جائے یہی ہمارا مدعا ہے،چیخ و پکار پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے،جب ہم ایوان کے ممبر کی حیثیت سے تقریر کرتے ہیں تو وہ لائیو دکھانا چاہئیے، یہ لوگ ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتے ،ہمارا کہنا ہے کہ ہماری تقریر کو میوٹ کیا جاتا ہے ، ہمارے گھروں پر پولیس گردی ہوئی ہے، ہمارے کارکنوں کو جیلوں میں رکھا گیا ہے،ہمیں ٹارچر کیا گیا ہے، صرف اس لئے تاکہ ہم عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیں، عمران خان کے خلاف سارے کیسز جعلی ہیں، زرداری اور نواز شریف کے خلاف بھی گاڑی لینے پر احتساب ہونا چاہئے،لیول پلینگ فیلڈ بنائیں،

    بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ، نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا ،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی عدالت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی ہے کون محب وطن ہے۔ ہم سب سے زیادہ محبت وطن ہے ہمارا لیڈر سب سے زیادہ محب وطن ہے،ہم شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتے، انہوں نے کل نہیں کہا کہ ہماری خواتین کو رہا کرینگے، ان سے تو یوسف رضا گیلانی بہتر تھا جس نے کہا تھا ججز کو آزاد کرائوں گا، یہ جمہوری نہیں،عمران خان نے موروثی سیاست کو ختم کیا، میرے جیسا کارکن چیئرمین تحریک انصاف بنا، انہوں نے ایک ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھنے والوں میں عہدے تقسیم کیے، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی اور صدارت کا اہل نہیں، یہ جمہوریت نہیں ہے،ہمیں تو درس دیتے ہیں اپنے گریبانوں میں جھانکیں، پی ڈی ایم ون حکومت نے پچاس ارب کے کیس معاف نہیں کروائے، یہ حقیقت ہے، کیا آج یہ کہہ سکتے ہیں؟ اتنا ہی گھمنڈ ہے جمہوریت پر تو بتائیں ایک لفظ ہماری گرفتار خواتین بارے بولا ہے،قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا کیا انہوں نے ایک لفظ بولا،بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ہے نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا بھٹو کی سیاست اب گزر چکی ہے.وہ ہار کہاں گئے جو سوئس میں پڑے تھے، یہ ہمیں 30 نشستیں بھی نہیں دے رہے تھے، جو 91 آئے ہیں اس لیے آئے کہ یہاں دھاندلی کرنا ممکن نہیں تھا، ہمارے تجویز تائید کنندہ گرفتار ہوئے، قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا، کیا تب بولے.

    لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا،راجہ پرویز اشرف
    پیپلزپارٹی کے ارکان نے بیرسٹر گوہر کی تقریر کے دوران احتجاج کیا،اس دوران راجہ پرویز اشرف بیرسٹر گوہر پر برس پڑے، راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جس مقصد کے لیے آئے ہیں وہ پورا کریں یا دنیا کو تماشا دکھائیں،اگر کسی کے لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا، اپنے دوستوں کو طریقہ اور سلیقہ سکھائیں،ایسے ہی رہا تو یہ کمپنی چلتی نظر نہیں آ رہی۔

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ