Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • بچوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں،چیف الیکشن کمشنر

    بچوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں،چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نےقومی ووٹرز ڈے کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی تمام آئینی اور قانونی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔

    سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار اور پر عزم ہیں۔ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ الیکشن کے دوران آپ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ تاکہ آپ مکمل رازداری اور شفافیت کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ قومی ووٹرز ڈے کے موقع پر کمیشن عوام الناس سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ملک و قوم کے روشن مستقبل کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کریں، پرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کے ہاتھوں میں ووٹ کی طاقت ہے۔اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔انتخابات کے سلسلے میں بے بنیاد خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتخابی عمل میں بھر پور حصہ لیں، یہ عوام کا حق بھی ہے اور قومی فریضہ بھی۔الیکشن کمیشن اس وقت آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے۔ حتمی انتخابی فہرستوں کی پرنٹنگ و ترسیل کا کام مکمل ہو چکا ہے۔الیکشن کمیشن چند دنوں میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرنگ افسران اور اسسٹنٹ افسران کا نوٹیفکیشن جاری کر نے جا رہا ہے۔ چند روز میں الیکشن شیڈول دیا جائے گا۔ پولنگ 8 فروری 2024ء کو ہوگی۔

    عام انتخابات،حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے جلد سماعت کی درخواست دائر 

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن مسترد ہونے کیخلاف درخواست دائر

    القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن مسترد ہونے کیخلاف درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ: القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا معاملہ ایک پھر ہائیکورٹ پہنچ گیا

    ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے رجسٹریشن کی درخواست مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز اور چیف کمشنر اسلام آباد کو نوٹسز جاری کر دیے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کے فیصلے کو کلعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،القادر ٹرسٹ کی جانب سے وکیل جہانزیب سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کو فریق بنایا گیا ہے،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ 30 نومبر کولیبر اینڈ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ نے القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کئے جانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورںگزیب نے القادر ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توبہ توبہ ،آپ لوگ بہت خراب ہو ، جان بوجھ کر معاملے کو تاخیر میں ڈالا گیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت اداروں کی طرف سے کلیئرنس کرانا ہوتی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ تمام اداروں کی رجسٹریشن سے پہلے یہی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے یا یہاں معاملہ الگ ہے ؟

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • بشریٰ،لطیف کھوسہ آڈیو لیک،عدالت کا فرانزک کا حکم

    بشریٰ،لطیف کھوسہ آڈیو لیک،عدالت کا فرانزک کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں لطیف کھوسہ اور بشری بی بی کی آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو آڈیو کے فرانزک کا حکم دے دیا ،عدالت نے حکم دیا کہ تحقیقات کی جائیں کہ سب سے پہلے آڈیو کہاں سے جاری ہوئی، عدالت نے درخواست کی کاپی ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی بھیجنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس بھی رپورٹ دیں کہ آڈیو کس نے ریلیز کی،عدالت نے ایف آئی اے، پیمرا اور پی ٹی اے کو نوٹس جاری کر دیے، جواب طلب کر لیا

    عدالت نے درخواست پر عائد اعتراضات بھی ختم کر دیے، عدالت نے کہا کہ پیمرا بتائے کہ لوگوں کی نجی گفتگو کیسے ٹی وی چینلز پر نشر ہورہی ہے؟جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ درخواست پر رجسٹرار آفس کا کیا اعتراض ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اعتراض ہے کہ الگ درخواست دائر کریں، متفرق درخواست کیسے کر سکتے ہیں، آڈیو لیکس کیس میں متفرق درخواست دائر ہوسکتی ہے، وکیل اور موکل کے درمیان گفتگو پر استحقاق ہوتا ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بگ باس سب سن رہا ہوتا ہے آپ کو تو پتا ہونا چاہیے، جسٹس بابر ستار کی بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھا

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ سب کو پتا ہے کون ریکارڈ کرتا ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مفروضے پر تو نہیں چل سکتے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ میرا نہیں پورے ملک کے وکلاء کا مسئلہ ہے، وکیل موکل سے آزادی سے بات نہ کر سکے تو نظام انصاف کیسے چلے گا، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آڈیو سوشل میڈیا پر آئی ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آڈیو تمام ٹی وی چینلز نے نشر کی، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ٹوئٹر پر آئی یا کہیں اور؟ یہ معلوم ہوجائے ریلیز کہاں ہوئی ہے تو پتا چل سکتا ہے ریکارڈ کس نے کی،لطیف کھوسہ نے کہا کہ پیمرا ویسے تو کسی کا نام لینے پر بھی سکرین بند کر دیتا ہے،مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا کہ آپکا فون محفوظ نہیں،عدالت نے مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی.

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ آڈیو کال ریکارڈ اور لیک کرنے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی،بشریٰ بی بی کی جانب سے دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ اور لطیف کھوسہ ان کے وکیل ہیں،دونوں کی آڈیو کال کو ریکارڈ کر کے پبلک کیا گیا اور پھر میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا،سیکرٹری وزیراعظم، دفاع، داخلہ اور چیئرمین پی ٹی اے کہہ چکے کہ کسی بھی ایجنسی کو خفیہ ریکارڈنگ کی اجازت نہیں، ایک وکیل اور موکل کی درمیان کی گفتگو کو پبلک کرنے سے قانونی نظام درہم برہم ہو جائے گا، عدالت اداروں اور ایجنسیوں کو فون کال ریکارڈ کرنے اور پبلک کرنے سے روکے اور اداروں اور ایجنسیوں کو تمام جاسوسی آلات کو ہٹانے کے احکامات جاری کرے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست،ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست،ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن شیڈول روکنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں،یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائیں،کیا آپ نے الیکشن ایکٹ پڑھا ہے؟ ووٹر لسٹ بنانا اور اسکی سکروٹنی کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، عدالت مناسب سمجھے گی تو الیکشن کمیشن کو جائزے کی ہدایت کردے گی،ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ہم پورے پاکستان کا ریکارڈ کھول کر بیٹھ جائیں،آپ الیکشن کمیشن کو دی گئی درخواست کو ساتھ لگائیں اس پر جلد آرڈر کا کہہ دیں گے ، درخواست گزار کے وکیل نے دستاویزات جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی ،عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن ملتوی کروانے کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کثیر تعداد میں افغان باشندوں کو غیر قانونی شناختی کارڈ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے

    شہری آفتاب عالم ورک نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکنے کی درخواست پر بنچ تشکیل دے دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کل درخواست پر سماعت کریں گے،شہری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نمبر لگا دیا،شہری نے وکیل اختر عباس اور شاہ رخ شیخ کے ذریعے درخواست دائر کی،دائر درخواست میں کہا گیا کہ ملک بھر میں افغان باشندوں کو ملک سے واپس افغانستان جانے کا حکم دیا گیا ،انکشاف ہوا خبروں میں آیا سعودی عرب اور ملک میں ہزاروں جعلی شناختی کارڈ افغانیوں کو جاری ہوئے ، افغان باشندوں کے جعلی شناختی کارڈز پر ووٹ بھی کثیر تعداد میں بن چکے ،اس تناظر میں الیکشن کمیشن کو الیکٹرول رول پر نظر ثانی کا حکم دیا جائے ، نادرا کو حکم دیا جائے کثیر تعداد میں جن افغان باشندوں نے فراڈ سے شناختی کارڈ بنائے بلاک کرکے ووٹ ڈیلیٹ کرائیں ، نادرا کو حکم دیا جائے وہ جعلی شناختی کارڈ ڈیلیٹ کرکے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے ،پٹیشن کے زیر التوا ہوتے ہوئے الیکشن کمیشن کو شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے،

    عام انتخابات،حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے جلد سماعت کی درخواست دائر 

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • پاکستان میں پولیو وائرس اب بھی موجود،لمحہ فکریہ ہے،نگران وزیراعظم

    پاکستان میں پولیو وائرس اب بھی موجود،لمحہ فکریہ ہے،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی زیر صدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اہم جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔

    اجلاس میں نگران وفاقی وزیرِ صحت ڈاکٹر ندیم جان، نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ نیشنل ٹاسک فورس کے اعلی ٰحکام، چیف سیکریٹریز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نے حالیہ رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لئے لمحہء فکریہ ہے کہ پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن پاکستان اور افغانستان میں یہ وائرس اب بھی موجود ہے۔ وزیراعظم نے انسداد پولیو کے لئے اگلے سال کا ایمر جینسی پلان تیار کر نے کی ہدایت کی۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پولیو وائرس کے حوالے سے ہائے رسک یونین کونسلوں میں ہنگامی بنیادوں پر انٹیگریٹڈ پروگرام کا آغاز کیا جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ان علاقوں میں انجیکٹیبل پولیو ویکسین کو معمول کے امیونآئیزیشن پروگرام سے منسلک کیا جائے ۔وزیراعظم نے پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے مانیٹرنگ کا نظام مزید بہتر بنانےاور اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں انسداد پولیو کے لئے عالمی برادری اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے کردار کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کآپ 28 کے دوران بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئرمین بل گیٹس سے ملاقات میں پولیو کے خاتمے میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

    انہوں نے وزارت نیشنل ھیلتھ ریگولیشن کو خصوصی کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت کی جو آئی پی وی کے حوالے سے ورلڈ بیسٹ پریکٹسزاور تحقیق کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ معمول کے امیونآئیزیشن کو فعال کیا جائے ۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ علماء، اساتذہ، والدین سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو انسداد پولیو کی آگہی مہم میں شامل کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین بچے کی صحت، نشو نما اور مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بچوں کے محفوظ اور صحتمند مستقبل کیلئے معاشرے کے ہر فرد کوکسی انسداد انسداد پو لیو مہم میں کردار ادا کر چاہئے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو میں علماء کے اہم کے کردار پر علماء کنونشن کا انعقاد کیا جائے۔

    وزیراعظم نے انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ورکرز کی سکیورٹی مزید بہتر اور فول پروف بنانے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ہائے رسک زون میں خصوصی پولیو ہیلتھ کیمپس قائم کیے گئے ہیں مزید برآں بنوں ، لکی مروت اور ٹانک کی ولنرایبل علاقوں میں کے قریب پولیو ہیلتھ کیمپس قائم کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ انسداد پولیو کی حالیہ مہمات میں اب تک 44 ملین بچوں کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب , بلوچستان، بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر پولیو فری ہیں جبکہ جنوبی خیبر پختونخوا کی چند یونین کونسلز پولیو سے زیادہ متاثرہ ہیں۔علاؤہ ازیں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے عمل میں پشاور نوشہرہ اور چمن کے ریپیٹری ایشن مراکز میں پولیو ٹیمز خدمات انجام دے رہی ہیں.

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

  • مفتی تقی عثمانی نے اسرائیل کیخلاف جہاد کا فتویٰ دیا،اب عمل کرنا ہے، سراج الحق

    مفتی تقی عثمانی نے اسرائیل کیخلاف جہاد کا فتویٰ دیا،اب عمل کرنا ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفتی تقی عثمانی نے اسرائیل کے خلاف فتویٰ دیا ہے اب اس پر عمل کرنا ہے،

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ گزشتہ اکسٹھ دنوں میں بیس ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہوگئے ہیں، مفتی تقی عثمانی نے بتایا کہ جہاد فرض ہوگیا ہے، میرا ضمیر گواہی دیتا ہے اس ظلم پر جتنا ہاتھ اسرائیل اور امریکہ کا اتنا ہی ہاتھ ان کا ہے جنہوں نے خاموشی اختیار کی، اکسٹھ دنوں میں پھول جیسے بچے بارود میں چل گئے ہیں، ہیروشیما اور ناگاساکی سے زیادہ بارود غزہ پر پھینکا گیا ہے، بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پچاس ہزار خواتین حاملہ ہیں، فلسطینیوں کے قتل عام پر اقوام عالم خاموش کیوں ہے؟غزہ میں ہونیوالے مظالم پر سب کو آواز اٹھانی چاہیے،

    اسرائیل کے خلاف مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے،مفتی تقی عثمانی
    حرمتِ اقصیٰ سیمینار میں شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی شکست کو چھپانے کے لیے اور نقصانات کا بدلہ بے گناہ شہریوں بچوں سے لے رہا ہے، جنگی جرائم کر رہا ہے ،جنگ بندی ہمارا مطالبہ نہیں، جنگ فتح تک جاری رہے گی،فلسطین کا دو ریاستی حل قبول نہیں، اس مطالبے سے پرہیز کیا جائے،شریعت کا حکم ہے مسلمانوں کے خطے پر کوئی قابض ہو تو مسلمانوں‌پر جہاد فرض ہے،اسرائیل کے خلاف مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے ،پورا عالم اسلام اس وقت مغرب کی غلامی کا شکار ہو، سیاسی اعتبار سے بھی، اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔قائداعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دے کر کبھی تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا ، بانی پاکستان کے ریاستی اعلان سے پاکستان کبھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا، آج حماس کے جانبازوں نے آزادی کا موقع فراہم کیا ہے ، حماس کے لڑنے والوں کو جنگجو کی بجائے مجاہدین کہا جانا چاہیے۔مسلمان ممالک کے پاس دولت ہے، تیل ہے، گیس ہے پھر بھی کیوں غلام ہیں،کیوں اسرائیلی مظالم پر خاموش ہیں،حماس کے جانبازوں نے آزادی، حریت اور غلامی کا طوق کندھوں سے اتارنے کا موقع فراہم کیا ہے، اگر سب متحد ہو کر جواب دیں تو امریکہ،برطانیہ، مغربی طاقتیں کچھ نہیں کر سکتیں، کیونکہ خدائی امریکہ کے پاس نہیں خدائی اللہ کے پاس ہے، سپرپاور امریکہ نہیں اللہ ہے، فیصلہ کر لیں کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی حماس کی مدد کرنا پڑی تو کریں گے،

    حرمتِ مسجد الاقصیٰ اور امت مسلمہ کی ذمہ داری” کے عنوان سے اسلام آباد کنونشن سنٹر میں قومی سطح کی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں تمام مسالک و دینی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔مولانا فضل الرحمان، سینٹر ساجد میر ،مفتی منیب الرحمان، مفتی تقی عثمانی، قاری حنیف جالندھری،سمیت دیگر بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • 190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

    نیب رپورٹ کے مطابق این سی اے کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ اثاثہ جات ریکوری یونٹ سے غائب ہے،190 ملین پاونڈ سیٹلمنٹ سے پہلے ملک ریاض کی شہزاد اکبر کے ہمراہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کی بھی تصدیق ہوئی ہے، محرر پی ایم ہاوس ریکارڈ کیمطابق ملاقات11 جولائی 2019 کو ہوئی تھی،غائب ہونے والا ریکارڈشہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم کے پاس تھا، ریکارڈ ریاست پاکستان کی ملکیت تھا،ریکارڈ کو سیاہ کاریاں چھپانے کیلئے غائب کیا گیا، ریکارڈ کا غائب ہونا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے تھا،کابینہ ڈویژن ریکارڈ غائب ہونے کی انکوائری کروا چکا،انکوائری میں ریکارڈ گم ہونے کی ذمہ داری شہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم پر عائد ہو چکی،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے،

    عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کررکھی ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    نیب کی سفارش پر 190 ملین پاونڈ اسکینڈل میں چئیرمین پی ٹی آئی سمیت 29 افراد کو ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، عمران خان، شہزاد اکبر، ذلفی بخاری ، فرح گوگی،ملک ریاض، سمیت 29 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے گئے، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکر رکھا ہے،ریفرنس میں عمران خان کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    nab report

  • سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    ‏سپریم کورٹ آف پاکستان،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا

    13 سال بعد سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے ذوالفقار بھٹو قتل ریفرنس پر سماعت ہوگی،ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت لارجر بنچ کرے گا،ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں ہوگی،

    ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہو چکی ہیں،صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو ہوئی تھی،ذوالفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی،صدارتی ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں،صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی.

    سابق صدر آصف علی زرداری نے 2011 میں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا تھا جس میں کہاگیا تھا کہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں جو پھانسی دی گئی کیا وہ آئین اور ملکی اور اسلامی قوانین کے مطابق تھی؟کیا وعدہ معاف گواہ کے بیان پر کسی کو پھانسی دی جاسکتی ہے اور کیا بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کسی عدالت میں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، جب ریکارڈ میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کا رویہ جانب دارانہ ہو تو کیا ان حالات میں عدالتی کارروائی کو منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

    2018 میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس میں فریق بننے کی درخواست دائرکی تھی، بلاول کی درخواست میں استدعا کی گئی کہ اپنے نانا کے عدالتی قتل میں انصاف کے بول بالا کیلئے مجھے فریق بننے کی اجازت دی جائے، بھٹو کا نواسہ ہونے کے ناطے میں اس صدارتی ریفرنس میں براہ راست فریق بن سکتا ہوں،عدالت مجھے بھٹو شہید کے عدالتی قتل کے ریفرنس میں شریک بننے کی اجازت دے،

  • مارچ تک پی آئی اے کی نجکاری ہو جائے گی، سیکرٹری نجکاری کمیشن

    مارچ تک پی آئی اے کی نجکاری ہو جائے گی، سیکرٹری نجکاری کمیشن

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی کا اجلاس قائمقام چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق،سینیٹر صابر شاہ اور سینیٹر افنان اللہ نے شرکت کی

    مشیر ہوابازی نے کمیٹی کو بتایا کہ 7اگست کوسابقہ کابینہ نےپی آئی اے کو نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا تھا ،ستمبر کے آخرمیں پی آئی اے کو مکمل طور پر نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا ہے ۔پی آئی اے کی 22ارب روپے ماہانہ آمدن تھی جو 10عشاریہ 5ارب قرض کی ادائیگی میں چلے جاتے تھے 1.4ارب روپے منافع ہوتا تھا ۔10ارب میں 5ارب سود اور باقی 5ارب اصل رقم۔واپس ہوتی تھی ۔پی ایس او سے کریڈٹ پر تیل پی آئی اے لیتا تھا جب پی ایس او کا اپنا مسئلہ ہوا تو تیل کا مسئلہ ہوا۔ 80سے 90فلائیٹ چلتی تھی جس کے بعد تیل کی وجہ سے آدھے 45فلائیٹس ہو گئے نومبر میں 76فلائیٹس بحال ہوگئیں ۔اکتوبر میں تیل کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا۔اب ہم اپنے اصل ٹارگٹ پر پہنچ گئے ہیں ۔جو فلائٹس نقصان میں چل رہی تھی ان کو بند کردیا ہے ۔

    عمر فاروق نے کہا کہ ہماری کوئٹہ کی فلائٹس بند کی ہوئی ہیں۔کمیٹی اجلاس میں کہا گیا کہ ہر ایئرلائن نے قرض لیا ہوا ہے ،بوئنگ 777جہاز 1.8ارب روپے کماتا ہے ،ائیر بس 320جہاز 800ملین روپے کماتا ہے .حکومت نے 8ارب روپے جہازوں کے لیے دیئے تھے جو جکارتہ میں پھنسے ہوئے تھے ،ائیر ایشیاء کے ساتھ 26ملین ڈالر میں عدالت کے باہر معاہدہ ہوگیا ۔ 13ملین ڈالر ادا کئے ہیں باقی 13ملین ڈالر ادا کریں گے تو 2سے 3ہفتوں میں مکمل ہوجائے گا ،جو جہاز خراب ہیں اگر ان کے لیے 20 ارب روپے دے دیں تو سارے خراب جہاز ٹھیک ہوجائیں گے ۔ 3 جہاز777گراونڈ ہیں جن میں سے دو ٹھیک ہوسکتے ہیں ۔3ہمارے جہاز جو پاکستان میں خراب 320ہیں وہ ٹھیک ہوجائیں تو معاملات ٹھیک ہوجائیں گے ۔

    سی ای او پی آئی اے نے کہاکہ فلائٹس اب 76دوبارہ کردیئے ہیں۔ فلائٹس کوئٹہ کے لیے روزانہ جائے تو نقصان ہوتا ہے کوئٹہ کے لیے روزانہ مسافر اتنے نہیں ہوتے ہیں ۔ سینیٹرسلیم مانڈوی والا نے کہاکہ اے ٹی آر کیوں نہیں استعمال کرتے ،جس پر پی آئی اے کے سی ای او نے کہا کہ وہ جہاز دیگر جگہوں پر استعمال ہورہے ہیں ۔سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی اجلاس میں کہاکہ 266ارب روپے نجی بینکوں کا قرض پی آئی اے نے لیا ہے ، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ یہ قرض تو حکومت نے لینا ہے کوئی کمپنی اس قرض کو نہیں لے گی ۔سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ 95فیصد قرض کی گارنٹی حکومت نے دی ہے باقی 5فیصد پی آئی اے نے خود لی ہے ۔ نجکاری تک پی آئی اے کو مالی امداد کی ضرورت ہوگی ۔مارچ تک پی آئی اے کی نجکاری ہوجائے گی ۔

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

  • سپریم کورٹ،بلوچستان میں مردم شماری کیخلاف درخواست پر جواب طلب

    سپریم کورٹ،بلوچستان میں مردم شماری کیخلاف درخواست پر جواب طلب

    بلوچستان میں مردم شماری کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے جواب طلب کر لیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے مشترکہ مفادات کونسل میں نگران وزرا اعلی کی شمولیت پر اعتراض کیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے واضح ہیں،مردم شماری پر کسی متعلقہ شخص نے اعتراض نہیں کیا،وکیل درخواست گزار کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مردم شماری سے شہریوں کے بنیادی حقوق وابستہ ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کامران مرتضی صاحب آپ نے جس وزیر اعلی کو منتخب کیا اس نے مردم شماری پر اعتراض نہیں کیا،اب اس کا حل یہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ آپ لوگ اس وزیر اعلی کو دوبارہ ووٹ نہ دیں،وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں جس طریقے سے وزرا منتخب ہوتے ہیں وہ ایک الگ بحث ہے،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 8 فروری کو انتخابات سے متعلق کیس میں بھی مشترکہ مفادات کونسل کا ذکر ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو عام انتخابات سے متعلق کیس کا فیصلہ بھی آئندہ سماعت پر دیکھ لیں گے،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ،جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی.

    واضح رہے کہ نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،درخواست ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے بیٹے حسن کامران نے دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں 70 لاکھ افراد کم کر دیئے گئے،مردم شماری کے حتمی مرحلے تک بلوچستان کی آبادی 21 اعشاریہ سات ملین تھی،ادارہ شماریات نے مردم شماری کے نتائج میں بلوچستان کی آبادی 14 اعشاریہ نواسی ملین بتائی،ادارہ شماریات کے آفیشل اکاؤنٹس سے متضاد بیانات جاری کیے گئے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا،مشترکہ مفادات کونسل کیخلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ بار کی درخواست زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ہماری درخواست خارج کی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست ہماری درخواست سے بالکل الگ ہے،درخواست میں وفاق،ادارہ شماریات،نادرا اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے