Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں بھٹو قتل صدراتی ریفرنس کی سماعت ،کمرہ عدالت میں سابق صدر آصف زرداری سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو، سینیٹر رضا ربانی، نئیر بخاری موجود ہیں ،پی پی رہنما نثار کھوڑو، ناصر شاہ، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور دیگر بھی موجود ہیں

    سابق وزیر اعظم ذولفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں،جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لارجر بینچ میں شامل ہیں

    فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ہم یہ کاروائی براہ راست نشر کر رہے ہیں ،آپ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب پر کیس براہ راست دیکھ سکتے ہیں،آپ کی درخواست سے پہلے ہی ہم نے انتظام کر لیا تھا، فاروق ایچ نائیک کی جانب سے کاروائی براہ راست نشر کرنے پر اظہار تشکر کیا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شکریہ کی بات نہیں یہ اہم سماعت ہے، ہم صدارتی ریفرنس شروع کر رہے ہیں،اٹارنی جنرل صاحب آپ آغاز کریں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں ملی کہ یہ ریفرنس نہ سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ صدارتی ریفرنس ہے تو کیا حکومت اس کو اب بھی چلانا چاہتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ صدارتی ریفرنس کو حکومت چلاناچاہتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس 15 صفحات پر مشتمل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ صدارتی ریفرنس میں صدر صاحب ہم سے کیا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کیس آخری بار 2012 میں سنا گیا، بلاول بھٹو نے فریق بننے کی درخواست دے دی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کی نمائندگی کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے، ہم آپ کو ورثا کے طور پر بھی سن سکتے ہیں اور بحثیت سیاسی جماعت کے طور پر بھی،

    عدالت نے ریفرنس میں پیش ہونے والے وکلا کے نام لکھ لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کارروائی پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرتے تھے،اب ہماری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کارروائی لائیو ہوگی،کون سے صدر نے یہ ریفرنس بھیجا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ریفرنس صدر زرداری نے بھیجا تھا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس کے بعد کتنے صدر آئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کے بعد دو صدور آ چکے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی صدر نے یہ ریفرنس واپس نہیں لیا، سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس کیس میں مجھے بھی سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر قانونی وراث کا حق ہے کہ اسے سنا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ ریفرنس کا ٹائٹل پڑھیں،اٹارنی جنرل نے ریفرنس میں اُٹھائے گئے سوالات عدالت کے سامنے رکھ دیئے،ریفرنس میں جج کے تعصب سے متعلق آصف زرداری کیس 2001 کا بھی حوالہ دیا گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل کے دوران بنیچ پر اعتراض کی کوئی درخواست دی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کئی درخواستیں دی گئی تھی، ،اٹارنی جنرل نے جسٹس (ر)نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ انٹرویو کس کو دیا گیا تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو جیو پر پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کو دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا افتخار احمد اب بھی جیو میں موجود ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اب وہ جیو میں نہیں ہے، انٹرویو موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دو انٹرویو کا ذکر کیا گیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ دوسرا انٹرویو کسی انجان کو دیا گیا ، دوسرے انٹرویو میں نسیم حسن شاہ نے کہا مارشل لاء والوں کی بات ماننی پڑتی ہے، احمد رضا قصوری روسٹروم پر آگئےماحمد رضا قصوری نے نسیم حسن شاہ کے نوائے وقت کے انٹرویو کا حوالہ دیامجسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نسیم حسن شاہ کے انٹرویو پر انحصار کریں گے، جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ بتایا کہ کس نے ان پر دباو ڈالا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس وقت مارشل لا تھا تو مارشل لا کی بات کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک سینئر ممبر بینچ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے، دو اور ججز نے ذاتی وجوہات پر معذت کی، اس کے بعد 9 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ ریفرنس میں کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا تھا، بابر اعوان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے،جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا اس میں ضمنی ریفرنس بھی آیا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ متفرق درخواست کے ساتھ چیزیں آئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ آرڈر میں اس کا ذکر کیوں تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 21 اپریل 2011 کو صدارتی حکمنامہ جاری کیا گیا تھا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ بھٹو ریفرنس میں تو کوئی سوالات تھے ہی نہیں تو سپلیمنٹری ریفرنس داخل کیوں کیا گیا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی حکمنامے کے ذریعے بھٹو ریفرنس کے سوالات فریم کیے گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدارتی ریفرنس کس وکیل نے دائر کیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس 2011 میں بابر اعوان کے ذریعے دائر کیا گیا لیکن ان کا لائسنس دو سال کیلئے منسوخ ہوا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی 2012 میں سماعت کے دوران بابر اعوان سے سخت سوالات ہوئے،بابر اعوان کے پاس عدالتی سوالات کا جواب نہیں تھا تو وہ مشتعل ہوئے اور عدالت نے ان کا لائسنس منسوخ کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ ریفرنس کے سوالات پڑھیں، اس کیس میں کئی وکلا وفات پاچکے،اس کیس میں عدالتی معاونین مقرر کریں گے ، ناموں کا فیصلہ بعد میں کرتے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں انٹرویوز کا ٹرانسکریپٹ اور ویڈیوز پیش کروں گا،احمد رضا قصوری نے کہا کہ تو یہ چیزیں تو میں نے دینی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ دیتے اور صفائی میں آجاتے،ایس ایم ظفر اور مختلف وکلا استعمال کرچکے ہیں ،علی احمد کرد صاحب کیا آپ معاونت کرینگے، علی احمد کرد نے کہا کہ جی میں معاونت کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اعتزاز احسن اس کیس میں آئینگے؟ معاون وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتزاز وکیل بھی ہیں بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تقریر نہ کریں ہاں یا نہ میں بتائیں، معاون وکیل نے کہا کہ نہیں وہ بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قاضی اشرف بھی اس کیس میں معاون تھے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قاضی اشرف تندرست ہیں اور پریکٹس کررہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پولیس سے کیس کا اصل ریکارڈ ملا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ اصل نہیں ملا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ریکارڈ کے تین بنڈل آئے تھے ،

    جسٹس منصور علی شاہ نے صدارتی ریفرنس پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ بھٹو کیس میں فیصلہ سنا چکی اور نظرثانی بھی خارج ہو چکی،ایک ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ دوسری نظرثانی نہیں سن سکتی، ایک معاملہ ختم ہو چکا ہے، عدالت کو یہ تو بتائیں کہ اس کیس میں قانونی سوال کیا ہے،فیصلہ برا تھا تو بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے بدلا نہیں جا سکتا،یہ آئینی سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو کوئی قانونی حوالہ تو دیں،آرٹیکل 186 کے تحت دائر صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرثانی نہیں ہو سکتی،اب ہم بھٹو فیصلے کو چھو بھی نہیں سکتے، عدالت کو بتائیں کو جو معاملہ حتمی ہو کر ختم ہو چکا اسے دوبارہ کیسے کھولیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بھٹو کیس عوامی اہمیت کا حامل کیس تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوامی اہمیت کا حامل سوال صدر نے دیکھنا تھا عدالت قانونی سوال دیکھے گی، جو بھی کیس ہو عدالت قانونی سوالات کے بغیر فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟عدالت کس قانون کے تحت یہ ریفرنس چلائے؟ کیا جب یہ سارا کیس چلا مُلک میں آئین موجود تھا ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اُس وقت ملک میں مارشل لاء تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس میں جو شکایات دائر ہوئی تھی اس کا ریکارڈ موصول نہیں ہوا تھا،عدالت نے حکم نامے میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو سارا ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ٹریبونل بنایا تھا اس کا کیا نام تھا ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹریبونل نے دیکھنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمات درست تھے یا نہیں،ٹریبونل نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تمام مقدمات کو جعلی قرار دیا تھا ،اب معلوم نہیں اس ٹریبونل کا ریکارڈ کہاں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ ریفرنس کھبی نہ سنا جائے تو اعتراض اٹھاتے رہیں،ہمارے سامنے وہ بات کریں جو سامنے موجود ہے،ایسا کرنا ہے تو ایک درخواست دے دیں کہ کس کس کو احکامات دیئے جائیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شفیع الرحمان ٹریبونل رپورٹ کو پبلک کیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے برقرار رہا اور نظرثانی کی اپیل بھی مسترد ہوئی ،اٹارنی جنرل آپ ہمیں اب اس ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پرمطمئن کریں، آپ ہمیں بتائیں ارٹیکل 186 کے تحت قانونی سوال کیا ہے؟جو فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس کو ٹچ نہیں کرسکتے ،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ آرٹیکل 186 کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کر دکیا گیا،آخری بار ریفرنس 2012 میں سنا گیا،بدقسمتی سے یہ ریفرنس اس کے بعد سنا نہیں گیا اور زیر التوا رہا،فاروق اییچ نائیک نے بلاول بھٹو کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دی،فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ذوالفقار بھٹو کی صرف ایک بیٹی زندہ ہیں،عدالت کو بتایا گیا کہ ذوالفقار بھٹو کے 8پوتے پوتیاں،نواسے نواسیاں ہیں،ورثا کی جانب سے جو بھی وکیل کرنا چاہے کر سکتا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے براہ راست نشریات کی بھی درخواست دائر کی گئی،براہ راست نشریات کی درخواست غیر موثر ہو چکی،ہم آئینی معاملات پر بھی اور کریمنل معاملات پر بھی ماہر معاون مقرر کر دیتے ہیں ،

    جسٹس منظور ملک کو عدالتی معاون بنانے کا فیصلہ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خواجہ حارث،خالد جاوید خان اور سلمان صفدر کو بھی عدالتی معاون بنالیتے ہیں،کیا کسی کو ان معاونین پر اعتراض ہے؟ احمد رضا قصوری نےرضا ربانی پر اعتراض کیا، اور کہا کہ عدالتی معاونین نیوٹرل ہونے چاہئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین،زاہد ابراہیم ،فیصل صدیقی بھی معاون ہوسکتے ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا اگر اپنا وکیل مقرر کرنا چاہے تو کرسکتے ہیں، ریفرنس پر آئندہ سماعت کب رکھیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سردیوں کی چھٹیوں کے بعد کی تاریخ رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس بار کی چھٹیوں کے بعد ہی رکھیں نا ،آخری سماعت کب ہوئی تھی،یہ کیس گیارہ سال بعد مقرر کیوں ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جواب آپ نے دینا ہے،احمد رضا قصوری نے سماعت الیکشن کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ کیس الیکشن کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قصوری صاحب اس ریفرنس کے بعد کئی ریفرنس آئے، اس وقت بھی الیکشن معاملات تھے مگر وہ ریفرنس سنے گئے، اب یہ ریفرنس دیر آئد درست آئد پر ہے،جنوری میں آئندہ سماعت ہوگی

    علی احمد کرد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ کئی عدالتی معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، کیا عدالت ان کے لیے افسوس کا اظہار نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کرد صاحب یہ کیس بھی سنجیدگی کا متقاضی ہے، اسے سنجیدگی سے دیکھنے دیں، آپ نے کوئی بیان دینا ہے تو میڈیا پر جا کردیں ،اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کیا صدارتی ریفرنس کبھی واپس لیا گیا ؟عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے ریفرنس پڑھ کر سنایا ،ریفرنس میں مقرر کیے گئے معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، ایک معاون علی احمد کرد ہیں جو معاونت پر بھی رضا مند ہوئے، مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے بتایا کہ وہ معاونت کے لیے تیار ہیں ، آرٹیکل 186 کے اسکوپ کا معاملہ توجہ طلب ہے، کس نوعیت کی رائے دی جاسکتی ہے یہ بھی اہم معاملہ ہے،معاملے کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی ماہرین کی رائے کیا ہوگی؟جسٹس (ر) منظور ملک کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاون تحریری یا زبانی طور پر معاونت کرسکتے ہیں،خواجہ حارث بطور ایڈووکیٹ جنرل پنچاب کیس کا حصہ رہ چکے ہیں، خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، سلمان صفدر ، رضا ربانی ، خالد جاوید ، ذاہد ابراہیم اور یاسر قریشی بھی معاون مقرر کرتے ہیں ،عدالتی معاونین فوجداری اور آئینی معاملات پر رائے دیں ،یفرنس میں ایک انٹرویو کابھی حوالہ بنایا گیا ہے،احمد رضا قصوری نے بھی نسیم حسن شاہ کی کتاب کا حوالہ دیا،فاروق نائیک نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا،فاروق نائیک اسی انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی فراہم کرینگے،

    نسیم حسن شاہ کا انٹرویو فراہم کرنے کے لیے نجی ٹی وی چینل کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ آخری سماعت پر سپریم کورٹ بار اور عاصمہ جہانگیر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا،سپریم کورٹ بار بھی وکیل مقرر کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں، سابق جج منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا،جسٹس ر منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،جسٹس ر منظور ملک کی معاونت ان کی رضامندی سے مشروط ہوگی، جسٹس ر منظور ملک کرمنل معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے تحریری جواب یا ذاتی حیثیت میں پیش ہو سکتے ہیں،فوجداری معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے خواجہ حارث کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، بیرسٹر سلمان صفدر بھی عدالتی معاون مقرر کیے جاتے ہیں،مخدوم علی خان اور احمد علی کرد پہلے سے ہی عدالتی معاون مقرر ہیں،

    سپریم کورٹ کی جانب سے 9 افراد عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ معاونت کی جائے کہ ریفرنس میں عدالت سے کس قسم کی رائے درکار ہے؟ عدلت کی معاونت کی جائے کہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت کیسے ہے؟ ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی معاملات پر معاونین درکار ہوں گے،عدالت کے پہلے سے 10مقرر کردہ عدالتی معاونین میں سے6 کا انتقال ہو چکا،جیو نیوز ذوالفقار بھٹو کیس سے متعلق انٹرویوز اور کلپس کا ریکارڈ فراہم کرے ،سپریم کورٹ نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا،ججز کی دستیابی پر آئندہ سماعت کی تاریخ دی جائے گی،جنوری سے صدارتی ریفرنس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی، جنوری میں سماعت شروع ہونے پر کوئی التوا نہیں دیا جائے گا،،ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی کر دی گئی،تمام عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،

    بھٹو ریفرنس کی کاروائی براہ راست دکھائی گئی،گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کاروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دائر کی تھی، درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • قوم شہدا کے لواحقین کی مقروض رہے گی،نگران وزیراعظم

    قوم شہدا کے لواحقین کی مقروض رہے گی،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اسلام آباد میں وزارت داخلہ کا دورہ کیا اور نئے ویزہ نظام کا آغاز کیا۔

    انہوں نے شہداء کی یادگاری تصاویر کی ایک گیلری کا بھی افتتاح کیا۔نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔وفاقی وزارت داخلہ میں "وال آف مرٹائرز” (شہداء کی یادگاری تصاویر کی گیلری) کی افتتاحی تقریب بھی ہوئی جسکا نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے افتتاح کیا۔ تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین، صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور اور ديگر شہداء کے ورثاء اور لواحقین نے شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری نہیں آئے گی تو پاکستان ترقی نہیں کرے گا،وزارت داخلہ نے بہترین خدمات انجام دی ہیں،قوم ہمیشہ شہدا کی مقروض رہے گی،ہمارے پاس کچھ نہیں جس سے ان لوگوں کے غموں کا مداوا ہو، شہدا کی پیشی سیدھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوتی ہے،قرآن پاک نے شہدا کیلئے علیحدہ گفتگو کی ہے،معاشرہ بھی شدا کو الگ نظر سے دیکھے، شہدا عام لوگ نہیں ہوتے خواص میں سے ہوتے ہیں،ہم گفتگو کرکے چلے جاتے ہیں، شہدا کے لواحقین نے اس درد کو ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے، قوم شہدا کے لواحقین کی مقروض رہے گی،

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

  • حکومت ،تمباکو صنعت کی سرگرمیوں کی شفافیت کو یقینی بنائے: رپورٹ

    حکومت ،تمباکو صنعت کی سرگرمیوں کی شفافیت کو یقینی بنائے: رپورٹ

    گلوبل ٹوبیکو انڈسٹری انٹرفیرنس انڈیکس نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تمباکو کی صنعت کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے شفافیت کو یقینی بنائیں کیونکہ اس سے تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں اور ان کے نفاذ کے عمل میں مداخلت کے واقعات میں کمی آئے گی۔انڈیکس اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمباکو کی صنعت کو پیداوار، مارکیٹ شیئر، مارکیٹنگ کے اخراجات، محصولات اور تحقیق اور لابنگ کے اخراجات سمیت کسی بھی دوسری سرگرمی کے بارے میں باقاعدگی سے شفاف اور درست طریقے سے معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ میں حکومتیں تمباکو صنعت کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی بھی پارٹنر شپ نہ کریں اور فریم ورک کنونشن فار ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی ) کے آرٹیکلز کو نافذ کریں ۔

    چوتھی گلوبل ٹوبیکو انڈسٹری انٹرفیس انڈیکس رپورٹ 2023سوسائٹی فار الٹرنیٹیو میڈیا اینڈ ریسرچ (SAMAR) نے جاری کی ، ثمر پاکستان میں تمباکو کنٹرول کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہے۔ گلوبل ٹوبیکو انڈیکس پاکستان میں عوامی دستاویزات میں موجود معلومات پر مبنی ہے۔پاکستان عا لمی انڈیکس پر مجموعی طور پر گزشتہ سال سے05 پوائنٹ کی تنزلی سے 48 کے مقابلے میں 53 سکور کے ساتھ ، 90 ممالک کے مابین 32 ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ گزشتہ انڈیکس میں پاکستان 80 ممالک کے مابین 17ویں پوزیشن پر موجود تھا ۔ امسال اس تنزلی کی وجہ 2021 میں وزیراعظم پاکستان کا انٹرنیشنل ٹوبیکو کمپنی کے تعاون میں تردید کے بعد بھی شرکت کرنا، ہیٹڈ ٹوبیکو پراڈکٹ ( ایچ ٹی پیز) کو ریگولیٹ کرنے اور ٹوبیکو کمپنیوں کے ساتھ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی ( سی ایس آر) کے لئے تعاون کے باعث پاکستان کی کارکردگی گراوٹ کا باعث بنی ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سی ایس آر کی سرگرمیوں پر پابندی نہیں ہے اور یہ سرگرمیاں ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ٹوبیکو انڈسٹری انٹر فیرنس انڈیکس 2023 کی تقریب رونمائی ثناء اللہ گھمن پناہ ، خرم ہاشمی ، سینیئر ٹیکنیکل ایڈوائزر وائٹل سٹریٹیجی ، ثانیہ علی خان فوکل پوائنٹ دی سٹاپ، ڈاکٹر وسیم جنجوعہ ایڈوائزر ایس ڈی پی آئی ، شادمان عزیز پراجیکٹ کوآرڈینیٹر ایسوسی ایشن فار بہٹر پاکستان ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمر مظہر عارف ، کمیونیکشن آفیسر اشفاق احمد اور پراجیکٹ کو آرڈینیٹر ذیشان دانش شامل تھے مقررین نے کہا کہ NTCS کے بعد کے منظر نامے میں یہ ایک بروقت رپورٹ ہے اور امید ہے کہ حکومت اس رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کرے گی۔ "تمباکو کی صنعت نوجوان نسل کو متوجہ کرنے کے لیے اپنی نئی تمباکو اور نیکوٹین مصنوعات کی ایک مثبت تصویر بناتے ہوئے مارکیٹنگ کے مختلف حربوں کو استعمال کر رہی ہے۔ تمباکو کی صنعت اور اس کے فرنٹ گروپس سوشل میڈیا سمیت مختلف چینلز کے ذریعے تمباکو انڈسٹری کی مصنوعات کے لئے بیانیہ تیار کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کو روایتی اور نئی تمباکو کی مصنوعات کے خطرات سے بچانے کے لیے تمباکو پر قابو پانے کے پائیدار اقدامات کو اپنانا اور ان پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہےجیسا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی تمباکو انڈسٹری کی مہلک مصنوعات اور اس کے فرنٹ گروپس کے اس ، جھوٹے پروپیگنڈے سے عوام کو بچانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر "جھوٹ بند کرو” مہم کا باضابطہ آغاز کیا ہے۔ اس ضمن میں نیشنل ٹوبیکو کنٹرول سٹریٹیجی کو یکسوئی کے ساتھ نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل اور عوام کو تمباکو اور انڈسٹری کی جانب سے کے گئے اقدامات سے بچایا جا سکے ، وزارت صحت حکومت پاکستان اور تمباکو کنٹرول سیل ، تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے کے لئے امید افزاء کام کر رہے ہیں ۔ امید ہے کہ حکومتی ادارے رپورٹ میں شامل سفارشات پر عمل درآمد کروانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

  • انٹرا پارٹی انتخابات،پشاور ہائیکورٹ نےپی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلے سے روک دیا

    انٹرا پارٹی انتخابات،پشاور ہائیکورٹ نےپی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلے سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ، انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کو نوٹس کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    پشاورہائیکورٹ، جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس شکیل احمد نے سماعت کی،پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلے سے روک دیا، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کیخلاف کیس نہیں سن سکتا، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی سے بلا کا نشان لے سکتا ہے،جسٹس عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ اب سے کیسے اندازہ لگا سکتے ہیں،قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے دائر ہ اختیار سے تجاوز کررہا ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 175 سیاسی جماعتیں ہیں ابھی تک کسی نے انٹرا پارٹی انتخابات چیلنج نہیں کئے،جس نے پارٹی انتخابات چیلنج کئے وہ پارٹی کا حصہ نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے نوٹس دیا ہے کہ اگر پیش نہیں ہوئے تو غیرموجودگی میں کیس سنا جائیگا،الیکشن کمیشن پر ہمیں تحفظات ہیں، فارن فنڈنگ کیس میں بھی صرف ہمارا کیس سنا گیا،الیکشن کمیشن کا نوٹس غیر قانونی ہے، جسٹس عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ قانون میں انٹرا پارٹی انتخابات چیلنج کرنے کا کوئی سکیشن نہیں،عدالت نے کہا کہ پارٹی کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی 7 دن میں جواب جمع کروایا جائے،الیکشن کمیشن کیس جاری رکھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ جاری نہیں ہوگا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

  • کیا مردہ شخص خود بتائے گا گولی کس نے ماری؟ دوبارہ پوسٹمارٹم کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    کیا مردہ شخص خود بتائے گا گولی کس نے ماری؟ دوبارہ پوسٹمارٹم کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے ملزمان کی جانب سے مقتول کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کی درخواست مسترد کردی

    ملزمان کی جانب سے پوسٹ مارٹم کی درخواست دینے پر عدالت برہم ہو گئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم کی کیا ضرورت ہے؟ وکیل ملزمان نے کہا کہ تین ملزمان ہیں گولی کس نے ماری تعین کیلئے پوسٹ مارٹم ضروری ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مردہ شخص خود بتائے گا گولی کس نے ماری،پہلے قتل کرو اور پھر پوسٹ مارٹم کے نام پر میت کی بے حرمتی کرو،پوسٹ مارٹم قتل کی وجہ جاننے کیلئے ہوتا ہے،مقتول گولی لگنے سے جانبحق ہوا اب دوبارہ پوسٹ مارٹم ضروری نہیں،کیوں نہ آپ کو جرمانہ عائد کیا جائے،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    ٹک ٹاکر دانیہ شاہ انسٹاگرام پر تو موجود تھیں لیکن اب وہ ٹویٹر اکائونٹ پر بھی آگئی 

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج

  • بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس،کیس کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست

    بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس،کیس کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست

    سپریم کورٹ ،ذوالفقار بھٹو کے عدالتی قتل کیخلاف صدارتی ریفرنس،بلاول بھٹو زرداری نے کیس کی براہ راست نشریات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ 12 دسمبر کو ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کی سماعت کرے گا، رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی ، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • مسلح افراد  نے ڈی جی کسٹمز  سے بھی موبائل چھین لیا

    مسلح افراد نے ڈی جی کسٹمز سے بھی موبائل چھین لیا

    اسلام آباد:ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا-

    باغی ٹی وی: وفاقی دارالحکومت میں ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں کم نہ ہوسکیں اور آج ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا ، اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں ڈی جی کسٹمز چہل قدمی کیلیے نکلے تو موٹرسائیکل پر سوار مسلح ڈاکو قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    واقعے کا مقدمہ ڈی جی کسٹم کے ملازم کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج کرلیا گیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ جی 11/3 میں سڑک کنارے گاڑی کھڑی کر کے کھڑا تھا اور ڈی جی کسٹم چہل قدمی کیلیے چلے گئے تھے اسی دوران اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان آئے اور اسلحے کے زور پر مجھ سے صاحب کا قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    نگران وزیراعلی پنجاب سے عراقی سفیر کی ملاقات

    پنجاب میں گندم کی فی من پیداوار کا ہدف یوریا کی کمی سے متاثر ہو …

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    مدعی نے استدعا کی ہے کہ پولیس ملزمان کیخلاف کارروائی کر کے موبائل فون برآمد کروائے۔

  • شوکت ترین نے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا،سینیٹ سے بھی استعفیٰ

    شوکت ترین نے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا،سینیٹ سے بھی استعفیٰ

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سیاست کو خیرباد کہہ دیا

    شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور سینیٹ سے استعفیٰ دےرہاہوں،معاشی حالات اور صحت کی وجہ سے پچھلے دو ڈھائی سال بہت مشکل رہے،اہل خانہ اور دوستوں کی مشاورت کے بعد سیاست چھوڑ رہاہوں،

    واضح رہے کہ شوکت ترین کے دور تحریک انصاف کی حکومت کے دوران بطور وزیر خزانہ خدمات سرانجام دے رہے تھے، شوکت ترین کی حکومت جانے کے بعد آڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں‌وہ آئی ایم ایف کے قرض بارے سازش کر رہے تھے

    شوکت ترین کے خلاف 23 فروری کو پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیاتھا،ایف آئی آر کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کو ناکام کرنے کیلئے شوکت ترین نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے خزانہ کو کال کی-

  • ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح  42.68 فیصدہو گئی

    ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 42.68 فیصدہو گئی

    ملک میں مہنگائی کا نیا ریکارڈبن گیا،ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 42.68 فیصد ہوگئی،

    ادارہ شماریات کے مطابق گذشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح 41.05 فیصد رہی تھی،ایک ہفتے کے دوران پیاز، انڈے،بجلی ،چینی سمیت 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،گذشتہ سال کے مقابلے میں آٹا 85 فیصد،سرخ مرچ 82 فیصد اور ادرک 73 فیصد مہنگے ہوئے،ایک سال میں گیس کی قیمت میں 1108 فیصد ،چائے کی پتی 44 فیصد مہنگی ہوچکی ہے،ایک ہفتے میں پیاز کی فی کلو قیمت میں 13 روپے تک اضافہ ہوا، ایک ہفتے میں انڈے فی درجن 8 روپے سے زیادہ مہنگے ہوئے،

    ادارہ شماریات کے مطابق بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ایک ہفتے میں 14 پیسے کا اضافہ ریکارڈ ہوا،ایک ہفتے میں دال مونگ 2 روپے 44 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی، ایک ہفتے میں چینی کی فی کلو قیمت میں 1 روپے 13 پیسے کا اضافہ ہوا، ایل پی جی جا گھریلو سلنڈر ایک ہفتے میں 14 روپے تک مہنگا ہوا، ایک ہفتے میں دال مسور کی فی کلو قیمت میں 34 پیسے کا اضافہ ہوا، ایک ہفتے میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 12 روپے سے زیادہ کی کمی ہوئی، ایک ہفتے میں آلو 5 روپے فی کلو تک سستے ہوئے، ایک ہفتے میں زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 11 روپے تک کی کمی ہوئی،

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ جو دیوار پھلانگ کر آئے گا تو ہم اسے مہمان کا درجہ نہیں دے سکتے ہیں

    غیر قانونی افراد کو جیلوں کی بجائے سینٹرز میں رکھا جائے گا،سرفراز بگٹی

    آرمی چیف نے واضح کہا فوج کے لوگ اسمگلنگ میں ملوث ہوئے تو کورٹ مارشل ہوگا،سرفراز بگٹی

    ہم دہشتگردوں کو ان کے بلوں سے ڈھونڈ نکالیں گے، سرفراز بگٹی

  • مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے تھریٹ موصول ہوا ہے،سرفراز بگٹی

    مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے تھریٹ موصول ہوا ہے،سرفراز بگٹی

    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ملک میں سمگلنگ کرنے والے عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ایلینز کے خلاف آپریشن میں 4 لاکھ سے زائد لوگ واپس جاچکے ہیں، 90 فیصد سے زائد افراد خود واپس جا رہے ہیں،کوئی ایک کیس بھی ایسا نہیں کہ کسی شہری کے ساتھ زبردستی کی ہو،خواتین سے ہراسگی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا،جتنے بھی غیر قانونی شہری ہیں ان کا کوئی حق نہیں کہ وہ کسی سرگرمی میں حصہ لیں، جن کے پاس کارڈز موجود ہیں وہ بھی پاکستان کی کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے،10 سے زائد افراد ایسے ہیں جو مختلف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں، یہ تعداد تھوڑی زیادہ ہے جو مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں،ایسے تمام افراد کو پاکستان سے فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے،سیاست کا حق صرف پاکستانیوں کا ہے، پاکستانی جس مرضی پارٹی کو سپورٹ کریں یہ ان کا حق ہے، رینجرز بڑے مشکل حالات میں کچے کے علاقے میں آپریشن کر رہی ہے، الیکشن کمیشن کی پیراملٹری فورسز کے حوالے سے جو جو مانگ ہونگی فراہم کی جائے گی،مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے تھریٹ موصول ہوا ہے،

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ جو دیوار پھلانگ کر آئے گا تو ہم اسے مہمان کا درجہ نہیں دے سکتے ہیں

    غیر قانونی افراد کو جیلوں کی بجائے سینٹرز میں رکھا جائے گا،سرفراز بگٹی

    آرمی چیف نے واضح کہا فوج کے لوگ اسمگلنگ میں ملوث ہوئے تو کورٹ مارشل ہوگا،سرفراز بگٹی

    ہم دہشتگردوں کو ان کے بلوں سے ڈھونڈ نکالیں گے، سرفراز بگٹی