Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • نواز شریف کی کل پیشی، سیکورٹی کے لئے ہدایات جاری

    نواز شریف کی کل پیشی، سیکورٹی کے لئے ہدایات جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کیخلاف اپیلیں، نواز شریف کی 29 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل سیکیورٹی انتظامات ،گزشتہ روز کی کمرہ عدالت میں موبائل فون بجنے اور رش کے باعث تعداد کم کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے قواعد و ضوابط سے متعلق سرکلر جاری کردیا،سرکلر میں کہا گیاکہ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب 29 نومبر کو اپیلوں پر سماعت کریں گے، آئی جی اسلام آباد نواز شریف کی پیشی کے موقع پر مناسب سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں،کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلہ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری سیکیورٹی پاسز سے مشروط ہوگا، درخواست گزار کی قانونی ٹیم اور 25 رہنماوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے 15 صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ملازمین ان انٹری پاسز سے مستثنیٰ ہوں گے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف مرحوم کی سنگین غداری کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،توفیق آصف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر پیش ہوئے اور کہا کہ آخری سماعت کے دوران میں اپنے دلائل مکمل کرہا تھا،میں عدالت میں تحریری دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تحریری دلائل کمرہ عدالت میں پڑھیں گے یا ہم خود پڑھ لیں ؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں میں نے تحریری معروضات جمع کروا دیں ہیں، توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کرلئے

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر کیا؟ کیا کہیں ذکر ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،ایسا نہیں تو پھر خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آن فیلڈ ہی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے جب فیصلہ دیا تو کیا خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے جب خصوصی عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہا تو اکیڈمک مشق کی کیا ضرورت تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پاکستان بار کونسل کے نمائندے کی تیاری نہ ہونے پر ناگواری کا اظہار کیا، مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاونت نہیں مل رہی،لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ نے جب فل کورٹ تشکیل تجویز کی تو اگلی تاریخ کیسے دی؟فل کورٹ تشکیل دینا نہ دینا تو پھر چیف جسٹس کا اختیار تھا،عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تو ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست غیر موثر ہو چکی ہے،فیصلے کے بعد ہائیکورٹ میں درخواست ترمیم کے بعد کی چل رہی تھی،ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے عدالت کی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے سکتی ،خصوصی عدالت ایک ریگولیٹر عدالت تھی ہی نہیں،وہ تو ایک فیصلے کیلئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مشرف بھی سمجھتے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے بعد بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار ہے،پرویز مشرف نے اسی لیے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان صفدر سے سوال کیا کہ آپ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو جانتے ہیں یا نہیں؟خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے, ہائیکورٹ کے حکم میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو ختم کرنے کا نہیں کہا گیا,

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کرنے کی تو استدعا ہی نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا فیصلہ آچکا تھا،سارے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر نہیں،وکیل نے کہا کہ اسی وجہ سے پرویز مشرف نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ایک روز کا نوٹس دیا ،کیا ہائیکورٹ میں ایک روز کا نوٹس دیا جاتا ہے، فل کورٹ کی تشکیل کیلئے معاملہ بھجواتے ہوئے تاریخ کیسے دی جا سکتی ہے،ممکن ہے چیف جسٹس فل کورٹ سے متفق ہو یا نہ ہو، خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم ہونی چاہیے تھی، خصوصی عدالت صرف اسی کیس کیلئے بنائی گئی تھی جو فیصلہ سناتے ہی ختم ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متفق تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرا موقف ہے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ فیصلے کو تسلیم کرتے تو پھر یہ اپیل نہ کرتے، پرویز مشرف کے وکیل آج بھی اپیل پر کھڑے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت نے اعتراض کیا تھا یا سیم پیج پر تھی،خصوصی عدالت کے فیصلے بارے ہائیکورٹ کو بتانا تو تھا، اگر آئین غصب ہو جائے تو پھر عدالت 1956 تک بھی جا سکتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نےویڈیو لنک پر دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ پاکستان بار کے دلائل اپنانا چاہتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گے،کہ کیا کیا ہوا،رشید رضوی نے کہا کہ مجھے جسٹس اطہر من اللہ کا احترام ہے مگر بالکل جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں، بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،پرویزمشرف کےمارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، کاروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کاروائی ہو گی تو فئیر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہدایات کی بات نہ کریں آپ خود ایک قانونی ماہر کی حیثیت سے بتائیں،کیا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیصلہ مانتے ہیں؟ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، فیصلہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھینک یو،آپ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا جو راستہ چنا تھا ہم اس سے متفق ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ بھی لاہور ہائیکورٹ میں سیم پیج پر تھے،کیا وفاق نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو نہیں بتایا کہ اب خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی،کیا آپ نے لاہور ہائیکورٹ سے کہا نہیں کہ آپ آگے نہیں چل سکتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سوال کا واضح جواب نہ دے سکے.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید اے رضوی صاحب ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر کسی فیصلے کوختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے،جس نے مارشل لاء کو راستہ دیا،ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ماضی میں ہو چکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا،کیا ساوتھ افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی؟ قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے، سزا اور جزا اوپر بھی جائے گی،کئی بار قتل کے مجرمان بھی بچ نکلتے ہیں،وکیل آکر بتائیں نہ آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں،جج ہی یہاں بیٹھ کر کیوں پوائنٹ آوٹ کریں،میڈیا بھی ذمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے،بتائیں نہ کتنے صحافی مارشل لاء کے حامی کتنے خلاف تھے؟ ہمیں تاریح سے سیکھنا چاہیے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تاریخ پھر یہ ہے کہ جب کوئی مضبوط ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی نہیں بولتا،جب طاقتور کمزور پڑھ جاتا ہے اس کے بعد عاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب آپ مزید جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں سلمان صفدر آپ آج مزید کچھ کہنا چاھیں گے یا پھر اپیل تک محدود رہیں گے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس کیس میں مزید دلائل دینا چاہتا ہوں،جس قانونی نکتے پر عدالتی معاونت کرنا چاہتا ہوں اس پر آئندہ سماعت پر دلائل دونگا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو مزید مہلت دے دیتےہیں آپ تیاری کرکے آئیں اس دن آپ کو مزید مہلت نہیں ملے گی۔اس عدالت میں اگر کوئی نہیں آنا چاہتا تو زور زبردستی نہیں کرسکتے۔سلمان صفدر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عدالت پرویزمشرف کے اہل خانہ کو سوچنے کی مزید مہلت دے۔ وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میں ججوں کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی عدالت کے نوٹس میں لے آیا ہوں،پرویز مشرف کے اقدام کو جواز فراہم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہوگئے

    لاہور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف توفیق آصف کی اپیل پر وکیل حامد خان نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدالتی معاون نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی کی حمایت کی؟وفاق نے بھی کارروائی پر اعتراض نہیں کیا،اس وقت حکومت کس کی تھی؟ وکلا نے جواب دیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب اب ہم آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے،حامد خان صاحب آپ اپنے گھر سے ہوئی غلط بات کو غلط کہنے کھڑے ہیں،حامد خان صاحب اسی لیے آپ کا قد بڑا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سب ایک ہی پیج پر تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیج کیا تھا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگرہم اتنی دیر تک مہلت دیتےہیں تو اس کیس کی محرکات، اثرات پر جتنی بھی قانونی معاونت ہے اس پر تیاری کرکے آئیے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس میں تشریح کا معاملہ بھی ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ اس میں مئوکلان سے ہدایات لے کر عدالت کی معاونت کروں،

    عدالت نے کہا کہ سماعت کے دوران حامد خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ، سندھ بار کونسل کے وکیل رشید رضوی اور دیگر وکلا نے دلائل دیئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جب کارروائی شروع ہوئی اسوقت کی حکومت بھی کارروائی نہیں چاہتی تھی،اس وقت کی حکومت کو بھی اس عدالت نے کارروائی کی طرف مائل کیا،سنگین غداری کیس جب شروع ہوا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے 12 اکتوبر کو کارروائی کا حصہ نہیں بنایا؟چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایک شخص ہی حکومت چلارہا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سب سول حکومتیں ایک ہی پیج پر تھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو برملا الفاظ میں پرویز مشرف کو جواز دینے والے فیصلے کی مزمت کیوں نہیں کرنی چاہیے،حامد خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے ،کہامیں صرف سزا کے خلاف اپیل پر فوکس کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو آئندہ سماعت پر سنیں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل چلا کر سزا سنائی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا پرویز مشرف کے ورثا سے رابطہ ہوا،سلمان صفدر نے کہا کہ میں نے کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی،میری استدعا ہے پرویز مشرف کی فیملی کو وقت دیا جائے انہوں نے 4 سال یہ اپیل مقرر ہونے کا انتظار کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سزا برقرار رہتی ہے تو پرویز مشرف کی پینشن اور مراعات پر بھی اثر پڑے گا،اس سوال پر بھی آئندہ سماعت پر معاونت کریں،ہم سزا بھی برقرار رکھیں اور سب کو پینشن اور مراعات بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے وفاق کا موقف تو سنا نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کنفیوز لگ رہے ہیں انہیں شاید وہ سیم پیج مل نہیں رہا،تاریخ میں نہیں جانا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کب تک کہیں گے تاریخ میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اب ان باتوں پر جانا ہے کہ کس نے کیا کیا،
    آج ہم ملک کی 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں میں آپ کو سننا چاہتا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اسمبلیوں کو معطل کیا، ان ججز کو کیا کہیں گے جنہوں نے اس سارے عمل کو قانون جواز بنایا،بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،کارروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کارروائی ہوگی تو فیئر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، اس عدالت کے ججز نے اپنے کاز کیلئے فیصلے دیئے، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے تھا، تین نومبر پر کاروائی ہوئی لیکن 12 اکتوبر پر نہیں، ہمیں سچ بولنا چاہیے جو حقیقت ہے،جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افریقہ اور جرمنی نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، جزا سزا تو اللہ دے گا، کم از کم تسلیم تو کریں کیا صحیح تھا کیا غلط، اسکولوں میں بھی آئین پڑھایا جانا چاہیے،انگلینڈ میں اب موومنٹ آ رہی ہے کہ غلطیوں کو مانیں، جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا اصول درست نہیں ہو سکتا،جنہوں نے بھی ڈکٹیٹر کے فیصلوں کو تسلیم کیا ان کا بتائیں،قانون کے توڑنے کو درست نہیں کہا جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائی لارڈ نے درست کہا قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے لوگ تھے جو مضبوط رہے، آپ کو آئندہ تاریخ کب کی چاہیے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سردی کی چھٹیوں کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ انہیں مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کی تھی،وکیل کے مطابق پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کی ہدایت نہیں کی،پرویزمشرف کے وکیل نے چھٹیوں کے بعد تاریخ مانگی،پرویزمشرف کے وکیل اس دوران مرحوم جنرل کی فیملی سے رابطے کی کوشش کریں گیے،پرویز مشرف کے وکیل سے عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟کیا سزا برقرار رہنے پر مشرف کی فیملی کو مراعات دینی چاہیں یا نہیں؟

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 18 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 18 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 18 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے رقم منظور کرنے کا اعلامیہ اجری کر دیا،جاری اعلامیہ کے مطابق رقم پنجاب میں پانی کی فراہمی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سروسز پر خرچ کی جائے گی،رقم سے راولپنڈی میں پانی کی فراہمی کے منصوے کو وسعت دی جائے گی،اس رقم سے بہاولپور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم بھی وسیع کیا جائے گا،ان منصوبوں سے 15 لاکھ افراد مستفید ہونگے،

    رواں سال پاکستان کو ایشیائی بینک اور عالمی بینک سے 2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ارب ڈالر ملنے سے ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گے،ایشائی ترقیاتی بینک سے پاکستان کو رواں سال 250 ملین ڈالر ملنے کا امکان ہے، پاکستان کو رواں سال ور لڈ بینک سے 350 ملین ڈالرز بھی ملنے کا امکان ہے ، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی بینک سے بھی پاکستان کو 350 ڈالر ملیں گے،

    دوسری جانب اے ڈی بی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2024 کے دوران پاکستان کو مہنگائی، معاشی مشکلات کا سامنا رہےگا اور رواں مالی سال مہنگائی کی مجموعی شرح 25 فیصد تک رہے گی تاہم الیکشن سے پاکستان کی معیشت کو اعتماد ملے گا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال کے دوران توانائی کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 1.9 فیصد رہنے کی توقع ہے معاشی شرح نمو میں مستحکم گروتھ کیلئے پاکستان کو اصلاحات ایجنڈے پر عملدرآمد کرانا ضروری ہے، پاکستان کو مالی نظم و نسق، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ اور پاور سیکٹر میں اصلاحات ضروری ہیں۔

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 6 اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی رسیدوں کے کیس میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف عدالت میں پیش ہوئے ،ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی،وکیل نے کہا کہ بشریٰ بی بی روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقدمات میں حاضر ہو رہی ہیں، روزانہ لاہور سے اسلام آباد نیب اور مختلف مقدمات میں پیش ہو رہی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی کے لیے عدالت نے رپورٹ طلب کر رکھی ہے،

    جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ رپورٹ کہاں ہے اور پراسیکیوٹر کہاں ہیں؟ جج کے استفسار پر پولیس کی جانب سے عدالت میں کوئی جواب نہیں دیا گیا،وکیل خالد یوسف نے کہا کہ یہ جان بوجھ کر عمران خان کو عدالت میں نہیں لا رہے، دوسری عدالت نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر دے رکھے ہیں، درخواست ضمانت قبل از گرفتاری میں ملزم کا عدالت میں ہونا ضروری ہے،جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی کے دوران رکاوٹیں کیا ہیں؟ وکیل صفائی نے کہا کہ یہ سارے کیس سیاسی طور پر بنائے گئے،جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت میں کچھ دیر تک کا وقفہ کر دیا

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • فیض آباد دھرنا کیس، کمیشن نے سابق وزیراعظم کو طلب کر لیا

    فیض آباد دھرنا کیس، کمیشن نے سابق وزیراعظم کو طلب کر لیا

    فیض آباد دھرنا کیس میں کمیشن نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کر لیا

    شاہد خاقان عباسی کو 29 نومبر کو فیض آباد کمیشن میں طلب کیا گیا ہے،اسرار احمد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان ریکارڈ کریں گے ،شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیر اعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیاہے، ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز کو بھی کمیشن میں شامل کرلیا گیا۔ ڈپٹی سیکرٹری وزرات داخلہ محمد ایاز بطور سیکرٹری کمیشن مقرر کردئیے گئے ہیں، سابق آئی جی طاہر عالم تاحال والدہ کی بیماری کے باعث کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے، فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کے لیے متعدد ویڈیو حاصل کرلی ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مسترد کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اختر علی شاہ کی سربراہی میں تشکیل دیا تھا،ہ 20 نومبر سے فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا،کمیشن اپنی رپورٹ جمع کروائے گاجو سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کی تجویز دے دی

    پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کی تجویز دے دی

    تحریک انصاف لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کی تجویز دے دی

    تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی آپشن رکھیں گے، انٹرا پارٹی الیکشن مین چیرمین پی ٹی آئی کو ہی منتخب کیا جائے گا،حامد خان کا کہنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں وکلاء کو اہم زمہ داریاں سونپی جائیں گی،چیرمین پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی کروانے کی منظوری دے دی ،

    پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اہم ترین اجلاس ہوا،اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، تنظیمی سرگرمیوں، تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنان کیخلاف جبر و فسطائیت کے جاری سلسلے اور انٹراپارٹی انتخابات سمیت اہم امور پر غور کیا گیا، اڈیالہ جیل کے باہر چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گاڑی کے گھیراؤ اور اشتعال انگیز نعرہ بازی کی شدید مذمت کی گئی، کورکمیٹی اراکین کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا اور ان کی خواتین کو ہراساں اور غلیظ پراپیگنڈہ کا ہدف بنانا نون لیگ کا پرانا وطیرہ ہے،ایسی مذموم حرکات سے چیئرمین عمران خان یا ان کے اہلِ خانہ کی قوم کی حقیقی آزادی کی جستجو میں کسی قسم کی کمی پیدا کرنا ممکن نہیں،

    کورکمیٹی کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سینئر نائب صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی گئی اور جنید اکبر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، کور کمیٹی نے خیبرپختونخوا میں پرامن کنونشنز کے منتظمین کیخلاف جھوٹے پرچوں کے اندراج کا قابلِ مذمت سلسلہ فوری ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا،کورکمیٹی کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی عدالتی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کے مطالبے کا اعادہ کیا،اجلاس میں انٹراپارٹی انتخابات کے الیکشن کمیشن کے دیے گئے ٹائم فریم میں انعقاد کی حکمتِ عملی پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی.مقررہ مدت میں انٹراپارٹی انتخابات منعقد کروانے کے لائحۂ عمل کی باضابطہ منظوری بھی دے دی گئی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • واجپائی پاکستان آئے، بات چیت آگے بڑھنے لگی تو کارگل کا پنگا لے لیا،اسحاق ڈار

    واجپائی پاکستان آئے، بات چیت آگے بڑھنے لگی تو کارگل کا پنگا لے لیا،اسحاق ڈار

    سبق وزیرخزانہ اور ایوان بالا میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم واجپائی چل کر پاکستان آئے، بات چیت آگے بڑھنے لگی تو کارگل کا پنگا لے لیا،

    اسحا ق ڈار کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے5ارب ڈالرٹھکرا کر پاکستان کومضبوط قوت بنایا،وہ فیصلہ بہت مشکل تھا، میں اس وقت نوازشریف کےساتھ تھا،5ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں6دھماکےکیےگئے،پاکستان کے ذخائر محدود ہیں، 1998میں پابندیاں تھیں،نوازشریف نے جرات کا مظاہرہ کیا،دستاویزموجودہیں،کشمیرسمیت ہرمسئلہ افہام وتفہیم سےحل کریں گے،مستحکم کرنسی ہی کسی بھی ملک میں ترقی کا باعث بنتی ہے،ایٹمی قوت کی بدولت دشمن جان گیا تھا حملہ کیا تو سخت جواب آئےگا،ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی وزیراعظم چل کر پاکستان آئے،نواز شریف نے اربوں روپے ٹھکرا کر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ،واجپائی نے مینار پاکستان کہا تھا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں گے،پھر ہم نے کارگل کا پنگا لے لیا.

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دسمبر 2017 تک پاکستانی روپیہ ایشیا کی مستحکم ترین کرنسی تھی ،عالمی مالیاتی ادارے مجھے کرنسی ڈیویلیو ایشن کا دشمن سمجھتے ہیں ،روپے کی بے قدری انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے یہ تمام مسائل کی ماں ہے ،پہلی بار 1998 میں وزیر خزانہ بنا تو ہم نے ڈالر کو 52 روپے پر مستحکم رکھا، بین الاقوامی قوتیں مالیاتی اداروں کی مدد سے پاکستان کو ڈیفالٹ کرانا چاہتی تھیں، ڈالر کی قیمت پر پچیس سال سے بین الاقوامی اداروں سے لڑائی ہے، روپے کی قدر کم ہونے سے برآمدات بڑھنے کی باتیں کتابی معیشت ہے، پاکستان جیسے ملک کیلئے روپے کی قدر میں کمی درست نہیں،

    پی ٹی آئی کی سینیٹر زرقانے اسحاق ڈار کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بیرون ملک سے اپنا پیسہ واپس لائیں ،اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ آپ کے دور میں آئے 84 ارب ڈالر کہاں ہیں ؟ سینیٹ اجلاس کے دوران شور شرابہ ہوا، سینیٹر زرقا تیمور نے کہا کہ آپ نے ڈالر دو سو سے نیچے لانا تھا،آپ اپنے پیسے واپس لائیں،اسحاق ڈار نے کہا کہ آپ اپنے لیڈر کو کہیں کہ وہ اپنے پیسے واپس لیکر آئیں، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے،جب ایوان میں قائدایوان بات کرتے ہیں تو کوئی نہیں بولتا روایت ہیں،سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ یہ بھی قیامت کی نشانی ہے کہ آپ اکانومی پر بات کررہے ہیں،

    میرا ایک سوال ہے کہ یہ لوگ قبر میں کتنی گاڑیاں،بنگلے اور سونے کی اینٹیں لے کر جائیں گے، ڈاکٹر زرقا ء
    سینیٹر زرقا تیمور نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بلیک اکانومی بڑھی ہے، وائیٹ اکانومی سے اور اس پر ہمارے ہی لوگ ڈاکہ ڈالتے ہیں گٹھ جوڑ کر کے، جب تک اس پر سوچ بچار نہیں ہو گی ہر روز یہی حالت رہے گی،پاکستان وینٹی لیٹر پر ہی رہنے کا امکان ہے، اب وقت آ گیا ہے سب پاکستانی ایک ہیں کسی بھی پارٹی سے ہوں، ملک ہمارا ہے، ہمیں ایکٹ کرنا چاہئے، ذاتی مفادات سے اونچا اٹھ کر کام کرنا ہو گا، کافی پیسے بنا لئے، قبر میں کتنی گاڑیاں، کتنے محل،کتنی سونے کی اینٹیں لے کر جائیں گے، میرے خیال میں ہم نے فرعون کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، اب وقت آ گیا، سوچ بچارکرنا چاہئے

     اٹھارویں آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں نے دستخط کیے ہیں

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں،مرتضیٰ سولنگی
    نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر محترمہ ثانیہ نشتر نے بہت اہم نکات اٹھائے ہیں،پارلیمانی کی اجتماعی دانش سے یقیناً حکومت کو رہنمائی ملتی ہے، ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، کسی قسم کی کمی نہیں،پنجاب کے پاس 39 لاکھ 24 ہزار 367 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،سندھ کے پاس 8 لاکھ 17 ہزار 394 میٹرک ٹن، خیبر پختونخوا کے پاس 2 لاکھ 15 ہزار 82 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،بلوچستان کے پاس 89 ہزار 354 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، پاسکو کے پاس 17 لاکھ 18 ہزار 177 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک کے پاس مجموعی طور پر 67 لاکھ 64 ہزار 374 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، پرائیویٹ اسٹاکس میں پنجاب کے پاس 3 لاکھ 37 ہزار 270 میٹرک ٹن، سندھ کے پاس 93 ہزار 165 میٹرک ٹن، خیبر پختونخوا کے پاس 14918 میٹرک ٹن اور بلوچستان کے پاس 4157 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،مجموعی طور پر پرائیویٹ اسٹاکس میں گندم کے ذخائر 4 لاکھ 49 ہزار 510 میٹرک ٹن ہیں، ملک میں گندم کے مجموعی ذخائر 72 لاکھ 13 ہزار 884 میٹرک ٹن ہیں،درآمد شدہ گندم کے پرائیویٹ سٹاک 10 لاکھ 33 ہزار 845 میٹرک ٹن ہیں،صوبوں میں گندم کی سپورٹ پرائس مختلف ہے، پنجاب میں سپورٹ پرائس 4600 روپے جبکہ سندھ میں 4700 روپے ہے، درآمد شدہ گندم کی قیمت کم ہے، اس لئے وافر مقدار میں گندم موجود ہے،

  • واپڈا کے آٹھ منصوبے مکمل ہونے سے بجلی پیداواری صلاحیت دگنا ہو جائیگی

    واپڈا کے آٹھ منصوبے مکمل ہونے سے بجلی پیداواری صلاحیت دگنا ہو جائیگی

    واپڈاکے آٹھ زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تقریباً9.7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کیری اوور کیپسٹی 30دِن سے بڑھ کر 45 دِن ہو جائے گی۔علاوہ ازیں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بھی 9 ہزار میگاواٹ اضافہ ہوگا اور واپڈا پن بجلی کی پیداواری صلاحیت دوگنا ہو کر 18ہزار میگاواٹ سے زائدہو جائے گی۔

    یہ بات واپڈاہاؤس کا دورہ کرنے والے پاکستان ایئر فورس ایئر وار کالج کراچی کے وفد کو بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔ وفد کی سربراہی وائس پریزیڈنٹ پی اے ایف ایئر وار کالج کموڈور راجہ عمران اصغرکر رہے تھے۔ وفد میں پاکستان کی مسلح افواج اوردوست ممالک بشمول بحرین، بنگلا دیش، مصر، انڈونیشیا،ایران،اردن، ملائشیا، نائیجیریا، سری لنکا، ساؤتھ افریقہ، سعودی عرب، یمن اور زمبابوے کی افواج کے آفیسرز شامل تھے۔ ممبر پاور واپڈا جمیل اختر، واپڈا کے جنرل منیجرز اور دیگر سینئر آفیسرز بھی موجود تھے۔

    سیکرٹری واپڈا فخرالزماں علی چیمہ نے مہمانوں کاخیرمقدم کیا جبکہ ایڈوائزر (ہائیڈرالوجی اینڈ واٹر مینجمنٹ) شاہد حمید نے وفد کو واپڈا کے فرائض،موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش مشکلات ا ورامکانات اور ملک کی واٹر سکیورٹی کے لئے واپڈا کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ واپڈا ملک کی واٹر فوڈ اور انرجی سکیورٹی کے لئے پانی اور پن بجلی کے شعبے میں متعدد بڑے منصوبے تعمیر کر رہا ہے جو 2024سے 2029 تک مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔ ان منصوبوں میں دیا مر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ، کرم تنگی ڈیم کا پہلا مرحلہ، نائے گاج ڈیم،کچھی کنال توسیعی منصوبہ، تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ اور گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم، (کے فور) پراجیکٹ شامل ہیں۔

    ملک میں پانی کی دستیابی کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی جو کہ 1951ء میں 5650 کیوسک میٹر فی کس تھی، اب 908کیوسک میٹر فی کس ہو چکی ہے۔ پاکستان اپنے دریاؤں کے سالانہ بہاؤ کا صرف 10 فیصد پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اِس کے برعکس دنیا بھر میں پانی ذخیرہ کرنے کی شرح 40 فیصد ہے تاہم واپڈا کے زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں پانی اور پن بجلی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

    پی اے ایف ایئر وار کالج کے وفد نے ملک کی پانی اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے ضمن میں واپڈا کے کردار کی تعریف کی۔ اُنہوں معلوماتی اور مفید بریفنگ کا اہتمام کرنے پر واپڈا کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں سوال اور جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں شرکاء نے ملک میں پانی اور پن بجلی سے متعلق سوالات کئے۔ دورے کے اختتام پر سووینیئر کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

     رانا عظیم بجلی چوری میں ملوث نکلے،

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

  • الیکشن کا التواء ملکی مفاد کے خلاف ہو گا،جاوید لطیف

    الیکشن کا التواء ملکی مفاد کے خلاف ہو گا،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما میاں جاوید لطیف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سیاسی اور معاشی استحکام نواز شریف کو انصاف کی فراہمی سے جڑا ہے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جتنا جلدی نواز شریف کو انصاف ملے گا اتنا جلدی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا، ایک طرف بے گناہ کو انصاف نہیں مل رہا دوسری طرف گناہ گاہ کو بیلنس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، آپ سوچیں 190 ملین پاونڈ کھانے والوں پر قانون حرکت میں نہیں آ رہا تھا،لاڈلے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا،کیا پاکستان میں انصاف چہرے دیکھ کر ملے گا،آج کچھ سیاستدان، کچھ اینکر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ الیکشن موخر ہو سکتے ہیں، الیکشن کا التواء ملکی مفاد کے خلاف ہو گا ایسا نہیں ہونے دیں گے، کہا جاتا ہے خاور مانیکا سچے ہوتے تو پہلے بولتے،عائشہ گلالئی اور ریحام خان پہلے بولی تھیں اس وقت کسی نے خان سے حساب لیا،کیا لاڈلا دنیا اور دین کسی قانون کو جوابدہ نہیں، یہ سوچنا بھی گناہ ہے کہ نواز شریف ملک کو اس حال میں چھوڑ کر جائیں گے، نواز شریف ملک بچانے آئے ہیں اور اپنا مشن پورا کریں گے،انتخابات کے انعقاد میں ایک گھنٹے کی تاخیر کو بھی سپورٹ نہیں کرتے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،احتساب عدالت کے جج  اور نیب ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،احتساب عدالت کے جج اور نیب ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی

    اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس کی سماعت آج ہوگی۔

    باغی ٹی وی : احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سماعت کے لئے اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرآج عدالت پیش کیا جائے گا،نیب پراسیکیوٹرسردارمظفرکی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی، نیب ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر میاں عمر، عبدالستار،عرفان اور تنویر شامل ہیں۔

    نیب ٹیم احتساب عدالت کو 23 سے 26 نومبر تک عمران خان کی گئی تفتیش کے حوالے سے آگاہ کرے گی ،واضح رہے کہ گزشتہ روز 190ملین پاونڈزاسکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کے لئے نیب ٹیمیں اڈیالہ جیل پہنچی تھیں۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب نے عمران خان سے ڈھائی گھنٹے تفتیش کی، ان کے پاس مختلف دستاویزات موجود تھے۔ اس کے بعد نیب ٹیم کے مزید 2 ممبران نے اڈیالہ جیل پہنچ کر دوسرے مرحلے میں تفتیش کی،نیب کی ٹیموں نے دس گھنٹے تک عمران خان سے جیل میں تفتیش کی تھی،قومی احتساب بیوروکی ٹیم پی ٹی آئی چیئرمین سے پندرہ نومبرسے مسلسل تفتیش کررہی ہے،جبکہ نیب 190 ملین پاؤ نڈز کیس میں عمران خان نے ضمانت کے لئے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس میں پیشی، بشریٰ بی بی کے خلاف نعرے بازی