Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت،جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟ عدالت

    نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت،جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟ عدالت

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی،نواز شریف عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی دونوں اپیلوں پر سماعت شروع ، ہو گئی،فریقین کے وکلا روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ نے سماعت کی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں نیب ریفرنس دائر ہونے سے پہلے کے واقعات کی تفصیل جمع کرانا چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی وہ تفصیل آپ فراہم کر دیں، امجد پرویز نے کہا کہ 20 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دی،نواز شریف کے خلاف لگے الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ یہ سپریم کورٹ کے ججز کا تین اور دو کا اکثریتی فیصلہ ہے؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریفرنسز دائر ہونے سے پہلے کے حقائق بہت اہم ہیں، جے آئی ٹی کے ٹی او آرز کہاں ہیں؟ اُنکا سکوپ کیا تھا؟ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جی آئی ٹی کیلئے کچھ سوالات رکھے گئے کہ وہ اُن سوالات کا جواب دے گی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسارکیا کہ پانامہ جے آئی ٹی میں کتنے لوگ شامل تھے؟امجد پرویز نے کہا کہ جے آئی ٹی میں پانچ لوگ شامل تھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے آرڈر میں بتا دیں ٹی او آرز کہاں ہیں؟ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جے آئی ٹی کا مینڈیٹ کیا تھا انہوں نے کرنا کیا تھا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کمرہِ عدالت میں میاں نواز شریف کے قریب کھڑے لیگی رہنماؤں کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کہا کہ آپ لوگ کیوں کھڑے ہیں پیچھے جا کر بیٹھ جائیں،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد دلائل کیلئے طلب کیا،سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو وزیراعظم پاکستان کو نااہل قرار دیدیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنسز دائر کرنے کا کہا یا نیب خود اس کا پابند تھا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کی ڈائریکشن دی، نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس دائر کیا گیا، فیصلے کی روشنی میں نواز شریف، حسین اور حسن نواز کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس دائر کیا گیا،احتساب عدالت کو چھ ماہ میں ریفرنس پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ نے کہا بعد میں سامنے آنے والے حقائق پر نیب ضمنی ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے،چیئرمین نیب نے یکم اگست کو معاملہ تفتیش کیلئے ڈی جی نیب لاہور کو بھیجا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کا کہہ دیا تو معاملہ تفتیش کیلئے کیوں بھیجا گیا؟ امجد پرویز نے کہا کہ ہم نے نیب سے یہ پوچھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تفتیش کیوں کر رہے ہیں؟نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ کہیں تحریری طور پر موجود ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل، تحریری طور پر یہ بیان موجود ہے، نیب نے 8 ستمبر کو ایون فیلڈ ریفرنس دائر کیا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ایک ریفرنس میں بری بھی ہوئے تھے، پراسکیوٹر نیب نے کہا کہ احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا نیب نے بریت کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے؟ پراسکیوٹر نیب نے کہا کہ اپیل دائر ہے لیکن نوٹس نہیں ہوئے اور وہ آج سماعت کیلئے مقرر بھی نہیں ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ نواز شریف کو اِن ریفرنسز میں کتنی کتنی سزا سنائی گئی؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں دس سال جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں سات سال سزا سنائی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا نیب نے اِن ریفرنسز میں سزا بڑھانے کی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایون فیلڈ میں نہیں لیکن العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے کی اپیل دائر کی گئی، ریفرنس دائری کے وقت نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ میں تھے،نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ سے آ کر عدالت میں پیش ہوئے،نواز شریف اور مریم نواز کا کوئی وارنٹ گرفتاری کا آرڈر نہیں ہوا،ریفرنس دائر ہونے کے بعد اور فرد جرم سے پہلے نواز شریف نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کی، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کہا کہ ہماری کسی بھی ابزرویشن سے اثر انداز ہوئے بغیر فیصلہ دے، ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی،والیم دس ایم ایل ایز پر مشتمل تھا،ہم نے والیم دس مانگا تھا مگر ہمیں فراہم نہیں کیا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایک ریفرنس پر فیصلہ سنایا تھا، فیصلے کے بعد دیگر ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دی تھی،اس عدالت میں درخواست زیرسماعت ہونے کے دوران ہی جج محمد بشیر نے کیس سننے سے معذرت کر لی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز ایک ساتھ چلانے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، جج صاحب نے ایک ریفرنس کو جلدی سے چلایا اور دو پر کارروائی کو روک دیا تھا،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں عائد کی گئی فرد جرم کا متن پڑھ کر سنایا اور کہا کہ نواز شریف نے چارج فریم ہونے کے بعد صحت جرم سے انکار کیا، احتساب عدالت نے فرد جرم کے بعد نیب سے شہادتیں طلب کر لیں، نیب نے ایک ابتدائی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی اور بعد میں ضمنی تفتیشی رپورٹ دی،ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا،نیب نے ٹی وی انٹرویوز پیش کیے، نواز شریف کی اسمبلی فلور پر کی گئی تقریر کا حوالہ دیا، ایک گواہ رابرٹ ریڈلے پیش کیا جو نواز شریف کی حد تک کیس میں متعلقہ گواہ نہیں، نیب نے جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنسز دائر کر دیے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے کہیں اپنا مائنڈ استعمال کرتے ہوئے بھی کچھ کیا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے نواز شریف کو ایک کال اپ نوٹس بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا،نیب نے ضمنی ریفرنس میں کچھ مزید شواہد ریکارڈ پر لائے،نیب نے میاں نواز شریف کے قوم سے خطاب کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، نیب نے مریم، حسن اور حسین نواز شریف کے بیانات کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، نیب نے کیلبری فونٹ سے متعلق ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کا بیان شامل کیا،نیب نے گواہوں کے بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے صرف ڈاکیے کا کام کرنا تھا یا اپنا مائنڈ بھی استعمال کرنا تھا؟آپ کہہ رہے ہیں کہ پوری جے آئی ٹی رپورٹ نیب نے ریفرنس میں شامل کر دی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے خود سے نواز شریف کو نوٹس جاری کیا تھا؟وکیل امجد پرویزنے کہا کہ جی، نوٹس جاری کیا اور نواز شریف نے جواب جمع کرایا تھا، نیب کے کال اپ نوٹس میں تفتیش سے متعلق کچھ نہیں ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ تو نیب نے اپنی طرف سے الگ سے کوئی تفتیش نہیں کی؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل، نیب نے صرف جے آئی ٹی کے سامنے بیان کی تصدیق چاہی،نیب نے نواز شریف کو خود سے کوئی سوالنامہ نہیں دیا، نواز شریف کو مالک اور مریم نواز سمیت دیگر بچوں کو بے نامی دار ثابت کرنے کا بوجھ پراسیکیوشن پر تھا، ہمارا موقف یہی رہا کہ چارج بھی غلط فریم ہوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معذرت کیساتھ نہ چارج صحیح فریم ہوا اور نہ نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں، نیب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مریم نواز بینفشل اونر ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے یہ کوشش ضرور کی مگر اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، ایون فیلڈ ریفرنس میں 18 میں سے 6 گواہوں کے بیانات ہو چکے تھے جب نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا کسی گواہ نے ایسا کوئی بیان دیا جس کے بعد نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پہلی گواہ سدرہ منصور نے ایس ای سی پی کا ریکارڈ پیش کیا،میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارا کیس اوپن ہوا اور گواہ پر جرح ہوئی تو اسی وقت نیب نے ضمنی ریفرنس لانے کا فیصلہ کیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس متعلق وقت لے کر جواب دیں، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا،میاں نواز شریف اور مریم نواز کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن میں موجود تھے، کلثوم نواز اُس وقت کینسر کی آخری سٹیج پر تھیں، احتساب عدالت کو فیصلے کی تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی، ٹرائل کورٹ نے ہماری درخواست اُسی دن مسترد کر دی، احتساب عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کو کو سزا سنا دی،احتساب عدالت نے نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کا الزام مسترد کر دیا، نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کی، عدالت نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر سزا سنا دی، سمجھ سے باہر ہے کہ کرپشن کی بنیاد ختم ہو گئی لیکن عمارت پھر بھی کھڑی ہو گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟

    اعظم نذیر تارڑ نے نواز شریف کیلئے حاضری سے استثنی مانگ لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کر دیں،نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے کہا کہ نیب کی دو اپیلیں بھی سماعت کے لیے مقرر کردیتے ہیں،

    نواز شریف عدالت پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آبا د روانہ ہوئے،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، داخلی راستے خاردار تاریں لگا کر بند کر دیئے گئے ہیں،عام لوگوں کے احاطہ عدالت میں داخلہ پر پابندی عائدکر دی گئی ہے.

    نواز شریف اسلام آباد منسٹر انکلیو پہنچے ،نواز شریف نےاسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر منسٹر انکلیو میں کچھ دیر قیام کیا،نواز شریف کی لیگل ٹیم منسٹر انکلیو میں پہلے سے ہی موجود تھی، نواز شریف نے لیگل ٹیم سے مشاورت کی پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے روانہ ہوئے،نواز شریف کی جانب سے کیسز سے متعلق قانونی ٹیم کو میرٹ پر فیصلہ لینے کی ہدایت کی گئی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • اسلام آباد،سکول بس کھائی میں گر گئی، ایک شخص کی موت،20 زخمی

    اسلام آباد،سکول بس کھائی میں گر گئی، ایک شخص کی موت،20 زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افسوسناک واقعہ پیش ٰآیا ہے

    شاہدرہ کے مقام پر سکول بس کھائی میں جا گری، بس میں طلبا سوار تھے جو سیر کے لئے گئے تھے، بس کھائی میں گرنے سے ایک طالب علم کی موت ہو گئی جبکہ 20 طلبا زخمی ہو گئے، ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا، بدقسمت بس پنجاب کے علاقے شیخوپورہ سے بچوں کا ٹرپ لے کر گئی تھی،حادثے کے بعد مقامی شہری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کی،اسلام آباد پولیس کے حکام کے مطابق پنجاب سے سکول کے بچے سیروتفریح کے لئے اسلام آباد آئے ہوئے تھے،

    پولیس حکام کے مطابق شیخوپورہ سے بچے سیر کے لئے آئے تھے، بس میں سوار بچوں کی تعداد 39 ہے، تاہم حادثے میں 20 بچے زخمی ہوئے ہیں جنہیں پمز منتقل کر دیا گیا ہے، بس کا ڈرائیور پہاڑی کے پاس گاڑی سٹارٹ کر کے کھڑا تھا کہ گاڑی خود بخود آگے چل پڑی اور حادثہ ہو گیا، حادثے کے وقت ڈرائیور بس میں نہیں تھا

    قبل ازیں کالام سوات میں بھی آج صبح سیاحوں کی ایک بس گر گئی تھی،جس میں تین افراد کی موت ہو گئی تھی،کالام میں مرنیوالے کا تعلق لاہور سے تھا.

    ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

  • وفاقی کابینہ میں اضافہ، دو روز میں دو نئے معاون خصوصی مقرر

    وفاقی کابینہ میں اضافہ، دو روز میں دو نئے معاون خصوصی مقرر

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اپنی کابینہ میں اضافہ کر لیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے فہد ہارون کو اپنا معاون خصوصی بنا لیا،فہد ہارون کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہو گا،فہد ہارون کو معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیامقرر کیا گیا ہے،فہد ہارون اس سے قبل بھی وزیراعظم کے معاون خصوصی رہ چکے ہیں، فہد ہارون نے 27 اکتوبر 2021 کو اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا، اسوقت فہد ہارون وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے میڈیا خدمات سر انجام دے رہے تھے،

    قبل ازیں گزشتہ روز بھی نگران وفاقی کابینہ میں ایک اور رکن کا اضافہ کیا گیا تھا،ڈاکٹر عامر بلال کو معاون خصوصی برائے میڈیکل ایجوکیشن مقرر کیا گیا تھا،نئے معاون خصوصی کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا، اطلاق فوری ہوگا،نئے معاون خصوصی کے بعد نگران وفاقی کابینہ کی تعداد بڑھ کر 27 ہوگئی تھی جو اب فہد ہارون کے اضافے کے بعد 28 ہو گئی.

    چند روز قبل پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کو بھی وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا،

  • وزیراعظم،وزیر داخلہ،وزیر دفاع،وزیر انسانی حقوق کی عدالت طلبی

    وزیراعظم،وزیر داخلہ،وزیر دفاع،وزیر انسانی حقوق کی عدالت طلبی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کا کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر انسانی حقوق کو طلب کر لیا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کوبھی 29 نومبر کو گیارہ بجے عدالت میں طلب کر لیا

    جسٹس محسن اختر کیانی نے گزشتہ سماعت کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ مختلف یونیورسٹیوں کے 69 بلوچ طلبہ کی نسلی پروفائلنگ، ہراساں اور جبری گمشدہ کیا گیا، ریکارڈ کے مطابق کچھ لاپتہ طلبہ گھروں کو لوٹ آئے لیکن کم از کم پچاس اب بھی غائب ہیں، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے بلوچ طلبہ کے تحفظات کے ازالے کیلئے کمیشن تشکیل دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ ریاستی اداروں کی جانب جبری گمشدہ بلوچ طلبہ اب بھی لاپتہ ہیں،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس مسئلے پر کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا، اکیس سماعتوں کے باوجود اس مسئلے پر مثبت بتائج نہ آنا آئین پاکستان کی توہین ہے،عدالتیں مظلوم کیلئے امید کی آخری کِرن ہوتی ہیں، ریاستی عہدیداروں کے اس سُست رویے نے اعلی عدالتوں پر عوامی اعتماد متزلزل کر دیا ہے، الارمنگ ہے کہ ریاستی اداروں پر بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کا الزام ہے اور وہی انکو بازیاب کرانے میں بے بس ہیں،عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے سے غیرسنجیدگی سے نمٹ رہی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار حکومتِ پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روک نہیں پا رہی، عدالت کے پاس وزیراعظم، وزیر دفاع اور داخلہ کو طلب کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، وزیر انسانی حقوق، سیکرٹری داخلہ اور دفاع بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز پیش ہو کر بتائیں کہ معاملے کو اہمیت کیوں نہیں دے رہے؟کمیشن رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا، امید ہے وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز ٹھوس نتائج کے ساتھ عدالت میں پیش ہونگے، امید ہے عدالت کو بتایا جائے گا کہ لاپتہ طلبہ اپنے گھروں میں واپس پہنچ گئے ہیں، کوئی طالبعلم ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہو تو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے، ناکامی کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ مندرجہ بالا افراد ریاستی مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، سمجھا جائے گا کہ یہ افراد اس سسٹم کا حصہ ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، یہ افراد اپنی موجودگی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی تصور ہونگے،

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • نگران وزیراعظم سے امام کعبہ کی ملاقات

    نگران وزیراعظم سے امام کعبہ کی ملاقات

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے امام کعبہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ صالح بن عبداللہ بن حُمَید کی ملاقات ہوئی ہے،

    وزیرِ اعظم نے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ترقی کیلئے سعودی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔وزیرِ اعظم نے غزہ میں جاری نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور بچوں کے قتلِ عام کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے فلسطینیوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کیلئے فوری طور پر راہداری کے قیام پر بھی زور دیا۔

    وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور تقافت پر ڈاکیومینٹریز کو مختلف زبانوں میں نشر کیا جائے تاکہ دنیا کے ہر کونے میں لوگوں تک اسلام کا صحیح سیاق و سباق پہنچانے میں مدد مل سکے۔امامِ کعبہ نے پاکستانی افرادی قوت کے سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار کی تعریف کی اور پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مثالی قرار دیا۔

    قبل ازیں امامِ کعبہ صالح بن عبداللّٰہ بن حمید نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فیصل مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیا اور امامت کروائی،اس موقع پر فرزندانِ اسلام نے بڑی تعداد میں امامِ کعبہ کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی، نماز جمعہ کے خطبہ میں امام کعبہ کا کہنا تھا کہ آخرت کی بہتری کے لیے خود کو بہتر کریں،مسلمانوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں،آپس میں اخوت، محبت اور مساوات کو فروغ دیں،مسلمانو، فلسفہ تقویٰ پر سختی سے کاربند رہو،

    امام کعبہ شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید کی فیصل مسجد نماز جمعہ پر آمد کے موقع پر اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے،سینئر افسران تمام تر انتظامات کا ازخود جائزہ لے رہے تھے۔ ٹریفک کی روانی کیلئے بھی خصوصی نفری تعینات کی گئی تھی،

    قبل ازیں خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے اسلام آباد میں پاکستان کے چار روزہ دورے پر آئے ہوئے امام کعبہ شیخ صالح بن عبدللہ بن حمید سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    قبل ازیں امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید کی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کے رہائش گاہ آمد ہوئی،وزیر داخلہ نےامام کعبہ کا پر تپاک خیر مقدم کیا اور کہا کہ آپ کی میرے گھر آمد میری خوش قسمتی اور میرے پورے خاندان کیلئے باعث سعادت ہے، پاکستانی عوام سرزمین حجاز سے بے حد پیار کرتے ہیں اور خادمین حرمین شریفین سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں، پاک سعودی تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ اور عوامی روابط پر محیط ہیں،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے

    عارف علوی سے امام کعبہ کی ملاقات،غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    واضح رہے کہ امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید 6 روزہ دورے پر گزشتہ روز پاکستان پہنچے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی، وزیر تعلیم مدد علی سندھی،وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور سعودی سفیر نواف بن سید المالکی نےامام کعبہ کا استقبال کیا،امام کعبہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے،

    سابق امام کعبہ کو سزا سنا دی گئی، 2018 میں آئے تھے پاکستان

    جمعہ کے خطبہ کے دوران امام کعبہ پر حملہ کی کوشش

    امام کعبہ کی طرف سےخطبہ جمعہ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری کے اشارے:یروشلم پوسٹ کادعویٰ‌ 

    مفتی عبدالقوی کے امام کعبہ کو چیلنج پر صارفین کی شدید تنقید

    غزہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے،امام کعبہ

  • عمران خان کو جیل میں سہولیات کاکوئی اور شہری تصور نہیں کر سکتا،سرفراز بگٹی

    عمران خان کو جیل میں سہولیات کاکوئی اور شہری تصور نہیں کر سکتا،سرفراز بگٹی

    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عدالتوں کے لاڈلے ہیں،

    نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات کاکوئی اور شہری تصور نہیں کر سکتا،میرے خیال میں نواز شریف پر جو کیسز بنے وہ زیادہ تر بے بنیاد تھے،چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں پیشی سےمتعلق عدالتی حکم پر عمل کریں گے،عدالتی نظامیں اصلاحات کی بہت ضرورت ہے، یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ بیٹے سے تنخواہ لینے کے جرم میں کوئی نااہل ہوا ہے، نگران حکومت کی طرف سے ن لیگ کو کوئی فیور نہیں دی جا رہی،نگران حکومت کے لیے نواز شریف اور بلاول بھٹو ایک جیسے ہیں،الیکشن سے متعلق وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کو تعاون کی یقین دہانی کروائی ،

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ جو دیوار پھلانگ کر آئے گا تو ہم اسے مہمان کا درجہ نہیں دے سکتے ہیں،3لاکھ غیر قانونی تارکین وطن واپس لوٹ چکے ہیں،غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا یہ عمل ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گا،واپس لوٹنے والوں میں 99 فیصد سے زائدتعداد افغان تارکین وطن کی ہے،پاکستان میں افسوسناک واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا کردار رہتا ہے، گلگت بلتستان، جڑانوالہ اور دیگر جگہوں پر سازش کے تانے بانے کہیں اور جا کر ملتے ہیں، ہم بدقسمت لوگ ہیں کہ اس بہکاوے میں آ جاتے ہیں،لاپتہ افراد کے معاملے پر عدالت کا نگران وزیر اعظم کو بلانا مناسب عمل نہیں،پاکستان میں لاپتہ افراد کی تعداد خطے میں سب سے کم ہے،لاپتہ افراد کا معاملہ ملک کے خلاف پراپیگنڈے کا ہتھکنڈا بن چکا ہے،جتنے لاپتہ افراد کی لسٹ دی جاتی رہی ہیں ان میں سے 78 فیصد کیسز حل ہو چکے ہیں، اختر مینگل کی لاپتہ افراد سے متعلق یہ لسٹ درست نہیں ہے،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

  • ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزار،گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ،سینیٹر پھٹ پڑے

    ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزار،گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ،سینیٹر پھٹ پڑے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا
    چیئرمین سینیٹ نے استفسار کیا کہ وزیر خزانہ کہاں ہیں،ایوان سے ممبر نے کہا کہ وزیر خزانہ ائی ایم ایف کے ساتھ ہیں، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اوہ چلیں پھر چپ رہتا ہوں ، نگران وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وزیرخزابہ سینیٹ میں ہیں اور وزارت خزانہ کے افسران سے بریفنگ لے رہی ہیں، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیرخزانہ سینیٹ میں ہیں تو ایوان میں آئی کیوں نہیں ؟ انہیں بلائیں، اس کے بعد وزیر خزانہ شمشاد اختر ایوان میں آ گئیں،

    نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں سینیٹر مشتاق کے سوال پر جواب میں کہا کہ پی سی آر ڈبلیو آر نے اپنی سہ ماہی رپورٹ اپریل سے جون 2022ءمیں پانی کے 20 برانڈز کو مضر صحت قرار دیا تھا، ان میں سے دو برانڈز ایسے ہیں جو پی ایس کیو سی اے کے تحت رجسٹرڈ تھے، بہت سے گروہ اس طرح کی مضر صحت اشیاءتیار کرتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیا گیا،پی ایس کیو سی اے کےقانون کے مطابق غیر لائسنس یافتہ افراد کو50ہزار روپے جرمانہ ، ایک سال کی سزا عدلیہ کے ذریعے دی جاتی ہے،جب تک ان برانڈز کی پراڈکٹس معیار پر پورا نہیں اتریں، تب تک انہیں کھولا نہیں گیا، بقیہ18برانڈ رجسٹرڈ نہیں تھے، بہت سے ایسے گروہ اس طرح کی مضر صحت اشیاءتیار کرتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیا گیا،سینیٹر صاحب کے پاس اس ادارے کے بارے میں کرپشن کے حوالے سے شواہد ہیں تو ضرور آگاہ کریں، متعلقہ اداروں سے تحقیقات کروائیں گے، قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ءکی پہلی تقریر سے لے کر اب تک ہماری تقاریر میں کرپشن کا معاملہ ضرور شامل رہا ہے، ایک سرکاری ادارے کو کرپشن کا گڑھ کہنا قابل افسوس ہے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک ڈرائیور کی تنخواہ ہمارے ایک سینیٹر کی تنخواہ سے بھی ڈبل ہے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ لاء منسٹری کو بھیجتے ہیں جو ایوان میں رپورٹ جمع کروائے گی،

    گورنر اسٹیٹ بینک ایسا کونسا کام کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے،پلوشہ خان
    اجلاس میں سینیٹرز نے اسٹیٹ بینک ملازمین کی زیادہ تنخواہوں پر تعجب کا اظہار کیا، اراکین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے گریڈ 8کے ملازم کی تنخواہ تقریبا40 لاکھ روپے ہیں، ہماری تنخواہ ایک لاکھ60 ہزار اور گریڈ8 کے ملازم کی 40 لاکھ روپے کیوں ؟ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ سنا ہے گورنر اسٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ رو پے ہے، نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایک کارپوریٹ باڈی ہے،یہ تمام معاملات اسٹیٹ بینک بورڈ آف گورنرز کی باڈی کرتی ہے، سینیٹر پلوشہ نے کہا کہ ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزارروپے ہے، گورنر اسٹیٹ بینک ایسا کونسا کام کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے، ہم آئی ایم ایف سے بھیک مانگتے اور دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے لوگوں کی اتنی تنخواہ ،نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پالیسی دی تھی کہ پنشن ختم ہونے کی صورت میں تنخواہ بڑھا دی،اسٹیٹ بینک کی پنشن بوجھ بڑھ رہا تھا تو یہ پالیسی لائی گئی،دنیا بھر میں سینٹرل بینک کا سیلری اسٹرکچر سب سے مختلف ہوتا ہے،

    وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے معاملے پر او آئی سی اجلاس میں اسلامی ممالک نے اسرائیل پر جو پریشر ڈالا اسکا اثر ضرور ہوا ہے،او آئی سے نے کوشش کی کہ جنگ بندی ہو اور مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے، اسوقت اسرائیل کا جو نیریٹو ہے،اسکی دنیا میں قبولیت بہت کم ہے، دنیا میں فلسطین کے حق میں جلوس نکل رہے ہیں، اسرائیل سمجھتا تھا کہ یہ مسئلہ دب جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، ایک ماہ میں فلسطین کا مسئلہ دنیا بھر میں اجاگر ہوا ہے،پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فلسطین کے لئے ایکٹو رول پلے کیا ،

    پاکستان اسرائیل کو دہشتگرد کیوں نہیں کہہ رہا؟ سینیٹر مشتاق احمد
    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ایک ریاست اور دو ریاست کی گردان کو ابوعبیدہ نے دفن کردیا ،پاکستان کو دو ریاستی حل کے بجائے آزادفلسطینی ریاست کی بات کرنی چاہیے،میں وزیر خارجہ سے چند مطالبات کرتاہوں کہ پاکستان ایکٹو ڈپلومیسی کیوں نہیں کر رہا، پاکستان مضبوط موقف کیوں نہیں دے رہا، پاکستان دہشت گرد کو دہشت گرد کیوں نہیں کہہ رہا، پاکستان عالمی عدالت میں کیوں نہیں جا رہا، پاکستان کی ڈپلومیسی سمجھ نہیں آ رہی، اب پاکستان سیز فائر کو بڑھوائے، او آئی سی کے پیغام سے طاقتور پیغام ہونا چاہئے کہ سیز فائر بڑھنی چاہئے،پاکستان اعلان کرتا کہ ہم تمام زخمیوں‌کو ایئر لفٹ کرنا چاہتے ہیں، کسی نے اجازت نہیں دینی تھی تا ہم ہمدردی کا اظہار ہو جاتا، لیکن پاکستان خاموش ہیں، آپ ایسا اعلان کرتے تو دنیا سے لوگ پیسہ دیتے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری دفاتر اور رہائش گاہوں کو سالانہ دس ارب روپے مالیت کی مفت بجلی فراہم ہوتی ہے، جس پر سینیٹ اجلاس میں نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہہم تمام وزارتوں کے سیکرٹریوں کو مراسلہ ارسال کرتے ہیں کہ اس خرچ کو کنٹرول کیا جائے.

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    حکومت کی شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں،رضا ربانی
    پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ کی تنخواہ اور مراعاتیں بے حساب بڑھائی جا رہی ہیں، سرمایہ دار 32 ہزار روپے مزدور کو دینے کو تیار نہیں، پارلیمنٹیرین کی تنخواہ ایک لاکھ 60 ہزار روپے ہے، وزارت خزانہ نے اسکیل ایم پی ون، ٹو اور تھری کی تنخواہ بڑھائی ہے، ایم پی ون کی تنخواہ 8 سے 10 لاکھ روپے ماہانہ اور مراعات کے ساتھ 11 لاکھ ہو گئی ہے،ہ اسکیل ایم پی ٹو کی تنخواہ اب 3 لاکھ 70 ہزار سے 6 لاکھ روپے ہو گی، اسکیل ایم پی تھری کی ماہانہ تنخواہ 24 لاکھ سے 33 لاکھ روپے ہوگی، کہا جاتا ہے پارلیمنٹ پیسہ کھا گئی ہے، پیسہ پارلیمنٹ نے کھایا ہے کہ سول بیوروکریسی کھا رہی ہے،164 ریٹائرڈ فوجی اور سول افسران جو باہر پینشن لے رہے ہیں ڈالرز میں، اس کا کیا جواز ہے پھر کہا جاتا ہے اٹھاوریں ترمیم، این ایف سی، صوبے سارے پیسے کھا گئے، ایک طرف آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی گیس کی قیمت بڑھائی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں.

  • عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا کیس ، اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی عافیہ صدیقی سے امریکی جیل میں ملاقات طے پا گئی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی دو اور تین دسمبر کو عافیہ صدیقی سے امریکہ میں ملاقات کریں گی سینیٹر مشتاق اور سینیٹر طلحہ بھی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ہوں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی

    امریکہ میں عافیہ صدیقی کے وکیل بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے ،اور کہا کہ عافیہ صدیقی امریکہ کی ایک بد ترین جیل میں قید ہیں ،ہماری کوشش یہ ہے کہ عافیہ صدیقی کو جلد از جلد دوسری جیل منتقل کیا جائے ،

    کیس کی سماعت کے بعد وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ عافیہ صدیقی کے کیس کی سماعت آج ہوئی،عدالت کو عافیہ صدیقی کے وکلا کی طرف سے بتایا گیا کہ دو تین دسمبر کو فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے ہوئی ہے، فوزیہ صدیقی کی امریکہ میں سیکورٹی کنسرن ہیں،حکومت سیکورٹی یقینی بنائے،عدالت نے احکامات جاری کئے ہیں،اس وقت سب سے بڑ ا مسئلہ ہمیں در پیش ہے کہ عافیہ صدیقی بدنام ترین جیل کے ایک سیل میں قید ہیں، چھوٹا سا سیل ہے، ان پر بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے شکایات مل رہی ہیں کہ وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ انکا جیل تبدیل کیا جائے کسی ایسے جیل میں رکھا جائےجہاں دنیا کے مسلمہ قوانین کی روشنی میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ہو،انکو اذیت سے نجات دلائی جائے، امریکہ میں عافیہ کے وکیل آج آن لائن عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے دو ہفتے کا افغانستان کا دورہ کیا اور کچھ ثبوت ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہیں، تفصیلات ابھی تک نہیں بتائی جا سکتیں،

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    عافیہ صدیقی کیس،ساتویں آٹھویں سماعت حکومت اس حوالے سے کچھ کرنا نہیں چاہتی،عدالت

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

  • فیض آباد کیس: ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز  بھی کمیشن میں شامل

    فیض آباد کیس: ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز بھی کمیشن میں شامل

    اسلام آباد: فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا جبکہ ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز کو بھی کمیشن میں شامل کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ڈپٹی سیکرٹری وزرات داخلہ محمد ایاز بطور سیکرٹری کمیشن مقرر کردئیے گئے ہیں، سابق آئی جی طاہر عالم تاحال والدہ کی بیماری کے باعث کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے، فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کے لیے متعدد ویڈیو حاصل کرلی ہیں۔

    خیال رہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن سابق آئی جی اختر علی شاہ کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے،قبل ازیں فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا جس کی صدارت سابق آئی جی اختر شاہ نے کی تھی جبکہ کمیشن کے ایک رکن سابق آئی جی طاہر عالم اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، انکوائری کمیشن نے ابتدائی طور پر تمام ریکارڈ طلب کر لیا اور ساتھ ہی فیض آباد دھرنے کے بارے میں ہوئی انکوائری رپورٹ بھی طلب کر لیں، انکوائری کمیشن نے فیض آباد دھرنے سے متعلق پیمرا سے ویڈیو ریکارڈ لینے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ کمیشن کے آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ انتظامی افسران کوبلانے کا فیصلہ ہوگا۔

    غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آغاز جمعہ کی صبح کیا جائے گا،قطر

    راولپنڈی: خاتون سے مبینہ زیادتی کر نیوالے 2 ملزمان گرفتار

    پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے، 82ویں فارمیشن …

  • اسلام آباد میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد(محمداویس) وفاقی دارالحکومت کی فضا ء صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہوگئی،پاک ای پی اے کی سرکاری رپورٹ نے تصدیق کردی،سرکاری رپورٹ کے مطابق زہریلے ذراتPM2.5کی مقدار88µg/m³ سے تجاوزکرگئی جبکہ وفاقی دارالحکومت میں نجی شعبے کی طرف سے لگائے گئی مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق PM2.5 کی مقدار 191µg/m³ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ائیرکوالٹی انڈکس241تک گئی ہے فضاء میں زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدارکسی صورت 35µg/m³سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ڈیٹا کے تجزیہ سے معلوم ہواہے کہ صبح دفتری اوقات اور مغرب سے رات تک ائیرکوالٹی انڈکس خطرناک حد تک چلاجاتاہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ائیرکوالٹی زہریلی ہونے کے باجود وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پاک ای پی اے نے کسی قسم کی ایڈوائزی جاری نہیں کی جبکہ پاک ای پی اے نے رپورٹ جاری کرنابھی بندکردی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فضاء میں زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدارخطرناک حد تک بڑھ گئی جو کسی صورت 35µg/m³سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے،زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدرمقررہ حدسے تجاوز سانس کی بیماریاں پھیپھڑوں کاکینسراور اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔یہ زیریلے ذرات گاڑیوں اورفیکٹریوں میں فوصل فیول کے جلنے سے خارج ہوتے ہیں۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی(پاک ای پی اے) نے فضائی آلودگی کی21نومبرکی رپورٹ جاری کی ہے۔ جس کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آّباد کی فضا ء میں آلودہ زرات PM2.5کی مقدار مقررہ حد سے تجاوزکرگئی ہے مقررحد 35µg/m³ہے جبکہ ان کی مقدار67µg/m³ تک اوسط بتائی گئی ہے21نومبر کو پاک ای پی اے نے(ائیرکوالٹی) فضائی آلودگی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی جس کے بعد سے ڈیلی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔21نومبرکو سرکاری رپورٹ کے مطابق زہریلی ذرات PM2.5 کی مقدار 88µg/m³ تک گئی ہے۔رات 1بجے سے صبح 8 بجے تک 51µg/m³ اوسط جبکہ صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک62µg/m³اورشام 4 بجے سے رات 12 بجے تک 88µg/m³ی اوسط مقرار رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں سرکار ی طورپر فضاء میں زہریلی ذرات کی ذیادتی کے باوجود پاک ای پی اے نے کسی قسم کی رپورٹ وایڈوائزی جاری نہیں کی البتہ روزانہ کی بنیادپر بننے والی رپورٹ جاری کرنا روک دی ہے اس حوالےسے پاک ای پی اے کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا وفاقی دارالحکومت میں نجی شعبے کی طرف سے لگائے گئی مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق PM2.5 کی مقدار 191µg/m³ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ائیرکوالٹی انڈکس241تک گئی ہے ۔ڈیٹا کے تجزیہ سے معلوم ہواہے کہ صبح دفتری اوقات اور مغرب سے رات تک ائیرکوالٹی انڈکس خطرناک حد تک چلاجاتاہے۔

    بیجنگ یونیورسٹی کے سینٹر فار پروڈکٹیو میڈیسین کی معروف جریدے جرنل انوائرمینٹل انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کی فضائی آلودگی سے مردوں اورخواتین دونوں میں بانجھ پن کاخطرہ نمایاں حدتک بڑھ جاتاہے طبی تحقیق کے دوران فضائی آلودگی سے آبادی کے لیے بڑھنے والے خطرات کاتجزیہ کیاگیا۔ ماہرین نے چین کے 18 ہزارجوڑوں کے اعدادوشمار کاتجزیہ کرنے پر دریافت ہواکہ ایسے علاقے جہاں چھوٹے ذرات کی آلودگی کی شرح زیادہ ہوتو ان علاقوں میں بانجھ پن کاخطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتاہے تحقیق میں یہ تعین نہیں کیاجاسکاکہ فضائی آلودگی کس طرح بانجھ پن کاباعث بن سکتی ہے مگر یہ پہلے سے معلوم ہے کہ آلودہ ذرات سے جسم میں ورم بڑھ جاتاہے جس سے مردوں ناورخواتین کاتولیدی نظام متاثر ہوسکتاہے۔رپورٹ کے مطابق بانجھ پن دنیا بھر میں لاکھوں جوڑوں کی زندگی کومتاثرکرتاہے مگر اس حوالے سے فضائی آلودگی کے اثرات پر اب تک کچھ خاص کام نہیں ہواہے۔فضائی آلودگی سے قبل ازوقت پیدائش اور پیدائش کے قت کم وزن جیسے مسائل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہناہے کہ زہریلی ذرات PM2.5کی مقداراگر 35µg/m³سے بڑھ جائے تویہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں اس سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتاہے اور خاص کردمہ کے مریضوں کوسانس لینے میں دشوار ی ہوتی ہے آنکھ ناک اورگلے میں سوزش،پھیپھڑوں کاکینسر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ شہری گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک لازمی استعمال کریں۔غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔(محمداویس)