Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • معرکہ حق کی سالگرہ:  پاکستان مونومنٹ پر پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کی سالگرہ: پاکستان مونومنٹ پر پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔

    تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزرا سمیت دیگر اہم شخصیات اورغیرملکی سفارتکار شریک ہیں، آغاز پر قومی ترانہ بجایا گیا، جس کے احترام میں شرکا کھڑے ہوگئے،تقریب میں تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر مادر وطن کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ 10 مئی ملکی تاریخ کا روشن باب ہے، جب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے اپنی مہارت ثابت کی بھارت نے پاکستان پر بلا اشتعال حملہ کیا اور سول آبادی اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا پاک فوج اور فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا پاکستان کی فضائیہ نے دشمن کے 8 طیارے مار گرائے۔

    انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گاجنوبی ایشیا میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے، اور عالمی امن کے لیے اہم اقدامات کیے انہوں نے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے پر مسلح افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر اللہ کے شکر گزار ہیں، شاندار فتح پر اللہ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لاتے ہیں، شہدا نے وطن عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مادر وطن کے تحفظ کے لیے جام شہادت نوش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے بے بنیاد الزام لگائے، ہم نے دشمن کو ہر قسم کی مہم جوئی کے انجام سے آگاہ کیا تھا، ہم نے واقعے کی ہرطرح کی تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی، بھارت نے پیشکش کے جواب میں جارحیت کا راستہ اختیار کیا، ہمارے سپوتوں نے دشمن بھارت کو ایسا جواب دیا کہ اسے جان کے لالے پڑ گئے، ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے طیاروں کا ملبہ تھا، دشمن جنگ بندی کی درخواست پر مجبور ہوگیا، ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت آج تک کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا، میں 10 مئی کو یوم معرکہ حق کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کرتا ہوں، یو م معرکہ حق ہرسال بھرپور جوش وجذبے سے منایا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وطن کے شہدا، ان کے اہلخانہ اور عوام کو سلام پیش کرتا ہوں، بہادر مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں اور پوری قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سلام پیش کرتے ہیں، ایئرچیف مارشل ظہیراحمد بابر کا ذکر نہ کروں تو تاریخ ادھوری رہےگی، ہماری فضائیہ نے دشمن کے دعووں کا پول کھول دیا، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور بحریہ کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، معرکہ حق میں 24 کروڑ عوام اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑے رہے۔

    ایران جنگ میں ثالثی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ساتھ دینے پر برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جنگ کےخاتمے کے لیے کردارادا کیا، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر طیب اردوان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا بھی شکریہ جنہوں نے معرکہ حق میں سیاسی،سفارتی اور اخلاتی حمایت کی، برادر ہمسایہ ملک ایران میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان اپنی صلاحیتیں بروئے کار لارہا ہے، ہم نے 1979 کے بعد انہیں مذاکرات پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل نے ابھی بتایا کہ ایران کا جواب موصول ہوگیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مظلوم اقوام کے حقوق اور انصاف کے لیے توانا آواز بن کرکھڑا ہوا ہے، پاکستان نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے لیے ہر سطح پر آواز بلندکی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہمارے جوان بے مثال قربانیاں پیش کر رہے ہیں، نوجوان ہی ہمارا سب سے بڑا قیمتی اثاثہ ہیں، فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان کوختم کرکےدم لیں گے۔

    واضح رہے کہ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر سمیت بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھی پروقار تقریبات کا انعقاد کیا، اور اس عزم کا اعادہ کیاکہ وطن عزیز کی سالمیت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائےگا۔

  • وفاقی دارالحکومت میں 6 مویشی منڈیاں قائم کرنے کا فیصلہ

    وفاقی دارالحکومت میں 6 مویشی منڈیاں قائم کرنے کا فیصلہ

    عید الاضحیٰ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے وفاقی دارالحکومت میں 6 مویشی منڈیاں قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق مویشی منڈیاں ضیاء مسجد، آئی-12، بارہ کہو، لہتراڑ روڈ سلطانہ فاؤنڈیشن، سنگجانی اور جاپان روڈ پر قائم کی جائیں گی، جبکہ ان منڈیوں کا قیام 10 مئی سے عمل میں لایا جائے گا ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے متعلقہ اداروں کو پارکنگ، صفائی ستھرائی، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے، ڈی سی اسلام آباد کے مطابق منڈیوں میں نوٹیفائیڈ ریٹ سے زائد فیس وصول کرنے کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ ہر مویشی منڈی میں ایک مجسٹریٹ ہمہ وقت ڈیوٹی پر موجود ہوگا تاکہ انتظامی امور کی نگرانی یقینی بنائی جاسکے ڈی سی اسلام آباد نے ٹریفک پولیس کے ساتھ خصوصی حکمت عملی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ منڈیوں سے متصل شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جاسکے،مقررہ مویشی منڈیوں کے علاوہ شہر کے کسی بھی مقام پر جانوروں کی خرید و فروخت کی سختی سے ممانعت ہوگی۔

  • اسحاق ڈار کی زیر صدارت لیبر قوانین کی عملداری سے متعلق اجلاس

    اسحاق ڈار کی زیر صدارت لیبر قوانین کی عملداری سے متعلق اجلاس

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت لیبر قوانین کی عملداری سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں موجودہ لیبر قوانین کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ان قوانین کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں مزدوروں کے حقوق کے بہتر تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دی گئی، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اس موقع پر زور دیا کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور منصفانہ لیبر ماحول کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، صنعتوں سے متعلق معاون خصوصی، سیکریٹری تجارت، سیکریٹری انسانی حقوق، سیکریٹری اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

  • وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک بحال

    وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک بحال

    وفاقی دارالحکومت میں مختلف راستے کھول دیے گئے ہیں اور ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں بند شاہراہوں کو مرحلہ وار کھول دیا گیا ہے جس کے بعد شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس اور گرین بس سروس بھی دوبارہ بحال کردی گئی ہیں اور معمول کے مطابق سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق شہر کے ٹریلز اور پبلک پارکس بھی عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں، جہاں شہریوں کی آمد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ تاہم سیکیورٹی وجوہات کے پیش نظر فیض آباد اور پیرودھائی ٹرانسپورٹ اڈے تاحکمِ ثانی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے شہر میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور مرکزی شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری ہے، جس سے شہریوں نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

  • اسلام آباد :پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ بحال، فیض آباد بس ٹرمینل کو تاحکم ثانی بند رکھنے کا فیصلہ

    اسلام آباد :پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ بحال، فیض آباد بس ٹرمینل کو تاحکم ثانی بند رکھنے کا فیصلہ

    ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام قسم کی پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو شہر میں داخلے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے-

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام قسم کی پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو شہر میں داخلے کی اجازت دے دی گئی، شہر بھر میں فیض آباد کے علاوہ تمام بس اڈے بھی کھول دئیے گئے ہیں جبکہ فیض آباد بس ٹرمینل کو تاحکم ثانی بند رکھا جائے گا-پیرودھائی سمیت دیگر ٹرانسپورٹ اڈے پیر کو صبح سے کھولے جائیں گے۔

    قبل ازیں ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ہائیکنگ ٹریلز کو عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ کریا ہےانتظامیہ کے مطابق ہائیکنگ کے شوقین افراد کل سے مارگلہ کے ہائیکنگ ٹریلز پر جا سکیں گے اسی طرح ضلعی انتظامیہ نے دامنِ کوہ، لیک ویو سمیت شہر کے تمام پارکس بھی عوام کے لیے کھول دیے ہیں، جہاں شہری تفریحی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے باعث ہائیکنگ ٹریلز اور پارکس کو عوام کے لیے بند کیا گیا تھا، مذاکرات کے سلسلے میں مرکزی وفود سے قبل پاکستان آئی امریکا کی ایک ایڈوانس ٹیم واپس روانہ ہوگی، اس سے قبل امریکا کی ایڈوانس ٹیم کا ایک وفد ایرانی وفد کی روانگی کے بعد واپس روانہ ہوا ایڈوانس سیکیورٹی وفد میں واپس جانے والی ٹیم کی روانگی کے وقت راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتہائی کڑے انتظامات کیے گیے تھے۔

  • اسلام آباد میں کاروبارکے لیے اوقاتِ کار کا نیا شیڈول جاری

    اسلام آباد میں کاروبارکے لیے اوقاتِ کار کا نیا شیڈول جاری

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے کفایت شعاری اقدامات کے تسلسل میں مختلف کاروباری شعبوں کے لیے اوقاتِ کار کا نیا شیڈول جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کر دیے جائیں گے۔ تاہم اس پابندی سے فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز اور ڈیری شاپس مستثنیٰ ہوں گےاسی طرح ریسٹورنٹس، تندور، کریانہ اسٹورز اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، شادی ہالز، مارکیز اور ایونٹ وینیوز بھی رات 10 بجے بند کیے جائیں گے۔ اسی طرح کھیلوں کی سرگرمیوں کے مراکز، کلبز اور جم بھی رات 10 بجے تک کام کریں گے شہریوں اور کاروباری طبقے سے اپیل ہے کہ وہ نئے اوقاتِ کار پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

    دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ہائیکنگ ٹریلز کو عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ کر لیا انتظامیہ کے مطابق ہائیکنگ کے شوقین افراد کل سے مارگلہ کے ہائیکنگ ٹریلز پر جا سکیں گے اسی طرح ضلعی انتظامیہ نے دامنِ کوہ، لیک ویو سمیت شہر کے تمام پارکس بھی عوام کے لیے کھول دیے ہیں، جہاں شہری تفریحی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے باعث ہائیکنگ ٹریلز اور پارکس کو عوام کے لیے بند کیا گیا تھا۔

  • امریکا ایران مذاکرات: اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع موخر

    امریکا ایران مذاکرات: اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع موخر

    ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے،اس حوالے سے رائیونڈ کی شوریٰ کے اراکین اور بزرگوں نے ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشاورت کی،مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اجتماع کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کیا جائے،اب یہ اجتماع یکم، 2 اور 3 مئی کو جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز مسجد ابو القاسم، اسلام آباد میں منعقد ہوگا،اس سے قبل یہ اجتماع 24،25 اور 26 اپریل کو منعقد ہونا تھا۔

  • اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق غیرملکی وفود کی آمد کے باعث غیرمعمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک طرف اسلام آباد میں سخت حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے تو دوسر ی جانب راولپنڈی میں کاروباری سرگرمیاں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں اسلام آباد میں آنے والے معزز مہمانوں کو سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 7 ہزار نفری پنجاب سے اسلام آباد پہنچ چکی ہے اسلام آباد کے ساتھ پاکستان رینجرز اور فرنٹئیر فورس بھی ڈیوٹی انجام دیں گے، جبکہ پاکستان آرمی اسلام آباد پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر تعینات ہوگی ائیرپورٹ سے سرینا ہوٹل تک اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے اور روٹ کے اطراف گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔

    سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو وائرلیس سیٹس بھی فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ روٹ پر بغیر سروس کارڈ کے کسی اہلکار کو داخلے کی اجاز ت نہیں ہوگی سرینا ہوٹل کے اطراف پولیس اور آرمی کی مشترکہ 24 چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسپیشل برانچ کی جانب سے بھی انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور شہر بھر خصوصاً روٹ ایریا میں سڑکوں کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔

    دوسری جانب راولپنڈی میں بھی غیرملکی وفود کی آمد کے باعث سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تمام بازار، شاپنگ مالز، ہوٹلز، کاروباری مراکز اور پارکس آج رات 12 بجے سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    تعلیمی اداروں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی سمیت تمام بوائز اور گرلز ہاسٹلز بند کر دیے گئے ہیں اور طلبہ کو گھروں کو واپس جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    اس سے قبل سٹی پولیس آفیسر خالد حمدانی کی زیر صدارت اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ

    ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ

    ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں-

    زلزلے کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے زلزلہ پیما مرکز نے خیبرپختونخوا میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.4 ریکارڈ کی جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں آنے والے زلزلے کی شدت 5.5 بتائی گئی، زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن تھا اور اس کی زیر زمین گہرائی 199 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    پشاور مردان، دیر اپر، دیر لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، کاغان اور ہری پور میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اسی طرح صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، شانگلہ، چترال، باجوڑ، کرم، پاراچنار، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان ، ملاکنڈ، سوات، سیدو شریف، بریکوٹ، کالام، سخاکوٹ اور درگئی سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف کی فضا قائم ہوگئی تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے پسنی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں ریکٹر اسکیل پر شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 13 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز پسنی سے 48 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔

    ادھر کراچی کے علاقے ملیر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.4 ریکارڈ کی گئی ہےزلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جب کہ اس کا وقت دوپہر 1 بج کر 13 منٹ ریکارڈ کیا گیا اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  • اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایران اور امریکی وفود کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے شہریوں کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

    نجی خبررساں ادارے نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نور خان ائیربیس اور اسلام آباد ائیرپورٹ کے اطراف سیکورٹی ریڈ الرٹ کردی، ائیربیس کے ارگرد علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات اعلیٰ سطح کے وفود کے طیاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہیں، گھروں کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بتایا گیا کہ تھانہ نیوٹان، صادق آباد اور چکلالہ کی حدود میں اسپیشل سیکیورٹی حالات نافذ کردیے گئے ہیں، راولپنڈی پہلے مرحلے میں تین تھانوں کی حدود میں رات 12 بجے سے تاحکم ثانی ریسٹورنٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریسٹورنٹس، پارکس، بیوٹی پارلرز، مارکیٹس بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسنوکر کلبز، فٹنس جمز، پان شاپس، کھوکھے، باربر شاپس، بینک اور بیکریاں بھی تاحکم ثانی بند رکھی جائیں گی، اسی طرح ڈرون اڑانے، ہوائی فائرنگ، کبوتر بازی پر مکمل پابندی ہوگی اور پولیس نے تمام مارکیٹس میں انتباہی نوٹس تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں،احکامات پر عمل نہ کرنے کی ضرورت میں سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کردی گئی، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

    ذرائع نے بتایا کہ روٹس پر واقع عمارتوں کے مالکان سے سرٹیفکیٹس لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وفود کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات، روٹ پر آنے والے گھروں، دکانوں، پلازوں اور ہوٹلز کے مالکان ذمہ داریوں کے پابند ہوں گے روٹ کے دوران پارکنگ پر پابندی اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتوں، بالکنیوں اور کھڑکیوں سے نقل و حرکت محدود ہوگی اور خلاف ورزی پر مالک ذمہ دار ہوگا، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خلل کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔