Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سانحہ پمز: تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

    سانحہ پمز: تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

    تحقیقاتی کمیٹی نے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے سانحے کی 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی-

    اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے سانحے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین انتظامی، کلینیکل اور ادارہ جاتی غفلت کا انکشاف کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، ڈی جی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور سربراہ نیونیٹولوجی سمیت دیگر اعلیٰ افسران کو فوری معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی تکنیکی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی اور سی سی ٹی وی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ فرنٹ لائن عملے نے ریسکیو کی بھرپور کوشش کی، تاہم ایمرجنسی ایگزٹس کا مقفل ہونا، مؤثر الارم سسٹم کا فقدان اور جولائی کی آگ سے سبق نہ سیکھنا وہ مجرمانہ غفلتیں ہیں جنہوں نے اس واقعے کو ایک ہلاکت خیز سانحے میں تبدیل کر دیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج واقعے کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد تصویر فراہم کرتی ہے اس فوٹیج کے مطابق نرسری میں آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نمایاں ہوئی تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 15 سیکنڈ پر چارج نرس نسرین نرسری سے تیزی سے باہر نکلتی اور مدد طلب کرتی نظر آتی ہیں،تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 35 سیکنڈ پر نسرین اور سیکیورٹی گارڈ ماریا نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور وہاں آگ کے شعلوں کے عکس نظر آتے ہیں۔

    اس کے بعد تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 56 سیکنڈ پر اسٹاف نرس رضیہ نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 4 سیکنڈ پر ایک بچے کو اٹھا کر باہر نکلتی ہیں، یوں وہ بچے کو بچانے میں کامیاب ہوتی ہیں رضیہ اس کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمان تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 12 سیکنڈ پر باہر آتے ہیں تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 15 سیکنڈ تک کیمرہ 16 دھوئیں سے بڑی حد تک چھپ جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ملحقہ راہداری کا دروازہ تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 45 سیکنڈ پر کھولا گیا، جبکہ 6 بج کر 40 منٹ اور 8 سیکنڈ تک کیمرہ 12 بھی دھوئیں کی زد میں آ کر منظر دکھانے کے قابل نہیں رہا ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرسری کا ماحول تقریباً 2 منٹ کے اندر انتہائی تیزی سے تباہ کن صورتحال میں تبدیل ہو گیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ آگ لگنے کا درست تکنیکی ذریعہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں کیا جا سکامختلف بیانات میں آگ کی وجہ ‘اے سی’، ‘انکیو بیٹر یا وارمر’ یا ‘بجلی کے شارٹ سرکٹ’ اور پلگ پر اضافی لوڈ کو قرار دیا گیا ہے آئیسکو کے ریکارڈ میں عین اس وقت بیرونی فیڈر کی خرابی یا ٹرپنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس کے باعث تحقیقات کا رخ پمز کے اندرونی بجلی کے نظام، ساکٹس، پلگز، وائرنگ اور منسلک آلات کی جانب ہو گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی انکیوبیٹرز کی حال ہی میں سروسنگ کر کے انہیں کام کرنے کی حالت میں واپس کیا گیا تھا، تاہم اس ریکارڈ سے آلات، پلگ، ساکٹ یا متعلقہ سرکٹ کی برقی حفاظت حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتی اندرونی برقی یا آلات سے متعلق وجہ کا امکان موجود ہے، لیکن کسی مخصوص آلے یا پرزے کو آگ لگنے کی حتمی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا کمیٹی نے واضح کیا کہ آگ کا پہلا شعلہ کس ذریعے سے پیدا ہوا اور کن عوامل نے اسے بڑ ے پیمانے پر ہلاکت خیز واقعے میں تبدیل کیا، یہ دو الگ مگر باہم متعلق سوالات ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب سی سی ٹی وی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ موقع پر موجود طبی، نرسنگ اور سیکیورٹی عملے نے فوری طور پر ریسکیو کی کوشش کی چارج نرس نسرین نے مدد طلب کی، سیکیورٹی گارڈ ماریا متاثرہ حصے میں داخل ہوئیں، اسٹاف نرس رضیہ نے جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہو کر ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی، جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمان بھی متاثرہ علاقے میں موجود تھے۔

    کمیٹی کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ عمومی الزام درست ثابت نہیں ہوتا کہ فرنٹ لائن طبی اور نرسنگ عملے نے نومولود بچوں کو چھوڑ دیا تھا تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انفرادی ریسکیو کوشش اور ادارہ جاتی سطح پر پیشگی تیاری کی ذمہ داری کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے ایمرجنسی سروسز کو اطلاع پہنچنے میں ممکنہ خلا کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی میں ایمرجنسی تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر ظاہر ہوتی ہے، جبکہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ریکارڈ کے مطابق پہلی ایمرجنسی کال تقریباً 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق ڈسپیچ 6 بج کر 55 منٹ پر ہوا اور سی ای ایس تقریباً 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچی تاہم بعض دیگر شواہد میں اس سے پہلے کال کیے جانے کا ذکر موجود ہےکمیٹی نے فی الحال 16 منٹ کی تاخیر کو کسی مخصوص شخص یا ادارے سے منسوب نہیں کیا اس مقصد کے لیے ٹیلی فون ریکارڈ، پمز کنٹرول روم کے ریکارڈ، سی ای ایس کال ریکارڈنگز اور سی سی ٹی وی کے اوقات کو ہم آہنگ کر کے یہ معلوم کیا جائے گا کہ پہلی مؤثر کال کس نے، کب اور کہاں کی تھی۔

    کمیٹی کے مطابق کال موصول ہونے کے بعد سی ای ایس کے ریکارڈ میں تقریباً 6 سے 7 منٹ میں موقع پر پہنچنے کا وقت موجود ہے اس لیے اس مرحلے پر زیادہ اہم سوال سی ای ایس کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد مبینہ تاخیر نہیں بلکہ اس سے پہلے پمز کے اندر آگ کی نشاندہی، صورتحال کو اوپر تک پہنچا نے اور ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے کا نظام ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریسکیو اور انخلا کی کوششیں کی گئیں، تاہم اس وقت تک ایسے منظور شدہ، اطلاع کیے گئے، تربیت یافتہ اور عملی مشق سے گزارے گئے ‘ایم سی ایچ یا نرسری مخصوص فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ایس او پی’ کے شواہد سامنے نہیں آئے جو آگ لگنے کی صورت میں نومولود بچوں کے انخلا کا مکمل طریقہ کار واضح کرتے ہوں۔

    پمز کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 27 مئی 2023 کے ایس او پی میں فائر سیفٹی کو ادارہ جاتی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اس ایس او پی کے تحت سیکیورٹی کو انفراسٹرکچر، آلات، مریضوں، وزٹرز اور عملے کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی اسی طرح اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کو فائر سیفٹی ایگزٹس کی دستیابی، فائر فائٹنگ آلات کی فعالیت اور متعلقہ عملے کی تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی پمز نے سانحے سے قبل خصوصی فائر سیفٹی تربیت کے لیے عملہ بھی نامزد کیا تھا۔

    کمیٹی کے مطابق بنیادی سوال یہ نہیں کہ انتظامی سطح پر فائر رسک کو تسلیم کیا گیا تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ذمہ داریاں اور دستیاب تربیت ایم سی ایچ اور نرسری میں حقیقی عملی تیاری میں کیوں تبدیل نہیں ہو سکیں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی جانب سے بھی رپورٹ کیا گیا کہ فائر اور لائف سیفٹی انتظامات نا کافی اور متاثرہ حالت میں تھے ایمرجنسی راستے یا فرار کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے، سیکیورٹی نے ابتدائی ریسپانس کے بعض پہلوؤں میں رکاوٹ ڈا لی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی تھے فائر فائٹرز کو بعض لاک شدہ فائر ایگزٹ دروازے اور دیگر راستے زبردستی کھولنے پڑے کمیٹی نے تاہم کہا کہ ہر متعلقہ دروازے کی اصل حیثیت اور مقام کی تصدیق کی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داری کسی مخصوص شخص پر عائد کرنے سے پہلے مکمل شواہد دستیا ب ہوں۔

    رپورٹ میں 6 جولائی 2026 کو پمز کے فیمیل نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے کمیٹی کے مطابق جولائی کے واقعے کی انکوائری میں پہلے ہی دھوئیں کی نشاندہی، خودکار الارم، ہنگامی وارننگ سسٹم، فائر ڈرلز، فائر سیفٹی انسپیکشن ریکارڈ اور سیکیورٹی ریسپانس سمیت متعدد خامیوں کی نشاند ہی کی گئی تھی اس رپورٹ میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ، اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم اور وارننگ سسٹمز، ایمرجنسی لائٹنگ، واضح فرار کے راستے، فعال فائر ایکسٹنگو شر ز، باقاعدہ ٹیسٹنگ، سالانہ برقی معائنوں اور تحریری ایمرجنسی رسپانس انتظامات کی سفارش کی گئی تھی۔

    کمیٹی نے واضح کیا کہ جولائی کا واقعہ اگست کی آگ کی وجہ ثابت نہیں کرتا، تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پمز میں فائر رسک اب محض ایک مفرو ضہ نہیں رہا تھا اور ادارہ جاتی خامیوں کی باضابطہ نشاندہی پہلے ہی ہو چکی تھی جولائی کے واقعے کی انکوائری میں ریکارڈ رکھنے اور نگرانی کے نظام میں بھی سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

    کمیٹی کے مطابق 25 اگست 2026، یعنی نرسری میں مہلک آگ لگنے سے صرف ایک روز پہلے جولائی کے واقعے کی سابقہ انکوائری رپورٹ نظرثانی کے لیے واپس کی جا رہی تھی کیونکہ اس میں مقررہ شرائطِ کار کو مکمل طور پر حل نہیں کیا گیا تھااس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر جولائی کی انکوائری مکمل ہو جاتی تو نرسری کا سانحہ روکا جا سکتا تھا، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کی آگ سے حاصل ہونے والے اسباق کو اصلاحی اقدامات میں تبدیل کرنے کا ادارہ جاتی عمل دوسری آگ سے پہلے اطمینان بخش طور پر مکمل نہیں ہوا تھا۔

    پمز انتظامیہ کی سطح پر ذمہ داری کے حوالے سے کمیٹی کے مطابق موجودہ ریکارڈ میں انتظامی ذمہ داری کا سب سے واضح ابتدائی معاملہ پمز کے سیکیورٹی اور فائر سیفٹی نظام سے سامنے آتا ہے سیکیورٹی ایس او پی میں فائر سیفٹی ایگزٹس، فائر فائٹنگ آلات اور عملے کی تربیت سے متعلق واضح ذمہ داریاں مقرر تھیں، جنہیں سی ای ایس کی جانب سے رپورٹ کی گئی بند یا رکاوٹ زدہ ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر سیفٹی کی خامیوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جا رہا ہے۔

    تاہم کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کسی افسر کو صرف اس کے عہدے کی بنیاد پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جانا چاہیے متعلقہ افسر کی مقررہ ذمہ داری، خامی سے اس کی واقفیت، اقدام کرنے کا اختیار اور موقع، کوتاہی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حفاظتی خرابی کو ثابت کرنا ضروری ہے۔

    بیلفورٹ سیکیورٹی سروسز کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ کمپنی کے سیکیورٹی اہلکار ایم سی ایچ میں تعینات تھے اور ان میں سے بعض نے ریسکیو، آگ بجھانے اور ہجوم یا راستوں کے انتظام میں حصہ بھی لیا کمیٹی نے فی الحال یہ قرار نہیں دیا کہ بیلفورٹ نے آگ لگائی یا اس کے اہلکار عمومی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو گئے تھے۔

    تاہم پمز کو یہ تصدیق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ معاہدے کے مطابق تعیناتی برقرار تھی یا نہیں، ایم سی ایچ میں موجود اہلکاروں کو مطلوبہ فائر فائٹنگ تربیت حاصل تھی یا نہیں، مناسب فائر فائٹنگ آلات انہیں دستیاب تھے یا نہیں اور ان کا ردعمل معاہداتی ذمہ داریوں کے مطابق تھا یا نہیں اگر کسی خلاف ورزی کی تصدیق ہوتی ہے تو کمپنی کے خلاف معاہدے کے تحت شوکاز، جرمانے یا کٹوتیوں سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    کمیٹی نے ایسی صورتحال کی بھی نشاندہی کی ہے جو بادی النظر میں فوجداری تحقیقات کا تقاضا کر سکتی ہے۔ پہلا اہم معاملہ ایمرجنسی فائر ایگزٹس کا لاک یا رکاوٹ کا شکار ہونا ہے اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ متعلقہ دروازے لازمی ایمرجنسی ایگزٹس تھے اور ذمہ دار افراد نے دانستہ یا غفلت کے باعث انہیں فوری استعمال کے لیے دستیاب نہیں رکھا، اور اس کوتاہی نے جانی نقصان میں مادی کردار ادا کیا، تو معاملہ محض انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہے گا۔

    دوسرا معاملہ جولائی کی آگ کے بعد پہلے سے معلوم حفاظتی خامیوں پر کارروائی نہ کرنا ہے۔ اگر شواہد سے ثابت ہوا کہ متعلقہ افسران کو ان خامیوں کا علم تھا، ان کے پاس کارروائی کا اختیار اور مناسب موقع موجود تھا، لیکن انہوں نے بغیر جواز معلوم حفاظتی خطرات کو دور نہیں کیا اور بعد میں انہی کا سانحے میں مادی کردار سامنے آیا تو یہ فوجداری تحقیقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    تیسرا معاملہ ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے میں ممکنہ تاخیر ہے تاہم اس حوالے سے موجودہ ریکارڈ میں تضاد موجود ہے، اس لیے ٹیلی فون ریکارڈ، کنٹرول روم لاگز، سی ای ایس کال ریکارڈز اور سی سی ٹی وی ٹائمنگ کی مزید جانچ کے بعد ہی کسی فرد کی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔

    کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ انتظامی، محکمانہ اور فوجداری کارروائیوں کو الگ الگ رکھا جانا چاہیے۔ کسی سرکاری ذمہ داری کی عدم ادائیگی ثابت ہونے پر محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے، اور سیکیورٹی کمپنی کی معاہداتی خلاف ورزی ثابت ہونے پر معاہداتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    جبکہ فوجداری کارروائی کے لیے جرم کے عناصر اور موت سے غفلت کے قانونی طور پر قابلِ قبول تعلق کا ثابت ہونا ضروری ہے فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ بعض حفاظتی اقدامات حتمی رپورٹ کا انتظار نہیں کر سکتے پمز کو فوری طور پر ایک جامع اور ترجیحاً آزاد تکنیکی ماہرین کے ذریعے پورے اسپتال کا فائر، لائف سیفٹی اور برقی آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا آغاز این آئی سی یو یا نرسری، آئی سی یوز، آپریشن تھیٹرز اور دیگر حساس مقامات سے کیا جائے۔

    اسموک اور ہیٹ ڈیٹیکشن، الارم سسٹم، فائر ایکسٹنگوشرز، ہائیڈرنٹس، ایمرجنسی لائٹس، برقی حفاظتی نظام اور تمام فائر ایگزٹس کا عملی معائنہ اور ٹیسٹنگ کرنے کی سفارش کی گئی ہے انکیوبیٹرز، وارمرز، اے سی اور ایچ وی اے سی سسٹمز، ساکٹس، پلگز، ڈسٹری بیوشن بورڈز، بریکرز، ارتھنگ اور دیگر اہم برقی نظاموں کی بھی فوری تکنیکی جانچ کی سفارش کی گئی ہے۔

    کمیٹی نے عملی فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ڈرلز کرانے کی سفارش بھی کی ہے، جن میں ڈاکٹرز، نرسیں، سیکیورٹی اور انجینئرنگ عملہ شامل ہواسی طرح ایسا واضح اور آزمودہ ایمرجنسی نوٹیفکیشن اور کمانڈ پروٹوکول فوری نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے تحت آگ کی اطلاع ملتے ہی اندرونی الارم، مقررہ ریسپانڈرز کی طلبی اور سی ای ایس یا ریسکیو 1122 کو براہ راست اطلاع ایک ساتھ فعال ہو جائے۔

    کمیٹی نے عبوری رپورٹ کے اختتامی حصے میں کہا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کم از کم 3 سطحوں پر سنگین انتظامی اور عملی ناکامیاں سامنے آئی ہیں طبی اور کلینیکل سطح کی بات کی جائے تو تمام نومولود بچے ایم سی ایچ کے نیونیٹولوجی یونٹ کے زیر انتظام نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ میں تھے۔ انکوائری کے دوران ڈیوٹی روسٹر کے مقابلے میں بعض متعلقہ اہلکاروں کی ڈیوٹی پر موجودگی کم پائی گئی یونٹ کے سربراہ کی واضح ذمہ داری ہے کہ تمام ڈاکٹرز اور متعلقہ طبی عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوں۔

    اس بنیاد پر کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سربراہ نیونیٹولوجی، اور ڈاکٹر نغمہ، سینئر رجسٹرار نیونیٹولوجی کو فوری طور پر معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ایم سی ایچ اور نرسری میں اس وقت تعینات دیگر عملے کی حقیقی جسمانی موجودگی سے متعلق مزید حقائق حتمی رپورٹ میں پیش کیے جائیں گے۔

    انتظامی اور عملی سطح کے حوالے سے کمیٹی کے مطابق جولائی 2026 میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے بعد اسپتال انتظامیہ پر لازم تھا کہ وہ مریضوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرتی کمیٹی نے قرار دیا کہ انتظامیہ نے مطلوبہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا اور فائر سیفٹی ڈرلز، فائر فائٹنگ آلات کی مکمل فعالیت، تفصیلی ایس او پیز اور واقعے سے نمٹنے کے نظام سمیت ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔

    اس بنیاد پر کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، ڈاکٹر مطہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ، چوہدری وارث علی رضا، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل پمز، اور ڈاکٹر نوشیلہ امجد، ڈائریکٹر ایم سی ایچ کو فوری طور پر معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی۔

    متعلقہ بیرونی اداروں کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری عمارات، بالخصوص پمز جیسے ایسے ادارے جہاں روزانہ اور 24 گھنٹے بڑی تعداد میں عوام آتے ہیں، میں فائر سیفٹی کے نظام کی دیکھ بھال اور عملدرآمد میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کا بھی اہم کردار ہے جولائی 2026 کے واقعے کے باوجود سی ای ایس پمز میں فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے نظام کی ادارہ جاتی خامیوں کا مناسب ادراک کرنے میں ناکام رہی اور فائر ڈرلز، پروٹوکولز اور ایس او پیز کے لیے مؤثر دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

    کمیٹی نے اس ناکامی کی بنیاد پر ڈاکٹر عبدالرحمان، ڈائریکٹر جنرل کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، سی ڈی اے، کو معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی،محمد عثمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی ، کو بغیر اجازت ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے اور فرائض میں غفلت کے الزام میں معطل کر کے کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔ رپورٹ میں بیلفورٹ سیکیورٹی کو بھی معاہدے کے مطابق ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

    حتمی ذمہ داری کے تعین کے حوالے سے کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ دستیاب شواہد سے سانحے کے بنیادی حقائق بڑی حد تک سامنے آ چکے ہیں، تاہم بعض معاملات میں مزید تحقیقات اور شواہد درکار ہیں تاکہ ذمہ داری کو شک و شبہ سے بالاتر ہو کر طے کیا جا سکے اصل سوال صرف یہ معلوم کرنا نہیں کہ آگ کس چیز سے لگی، بلکہ یہ بھی طے کرنا ہے کہ آگ کو تباہ کن بننے کی اجازت کن عوامل نے دی، کون سے حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے یا مؤثر نہیں تھے، ان خامیوں کے بارے میں کس کو پہلے سے علم تھا، ان کی ذمہ داری کس پر تھی اور آیا کسی قابلِ شناخت کوتاہی نے جانی نقصان میں مادی کردار ادا کیا۔

    کمیٹی نے کہا کہ انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین جامع حتمی رپورٹ کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم جہاں انتظامی یا معاہدے کے مطابق کوتاہی پہلے ہی شواہد سے ظاہر ہو چکی ہے وہاں فوری کارروائی اور مریضوں کی حفاظت کے اقدامات حتمی رپورٹ کا انتظار کیے بغیر کیے جا سکتے ہیں۔

  • وزیراعظم نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے فارغ کر دیا

    وزیراعظم نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے فارغ کر دیا

    اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس کی روشنی میں 8 افراد کو فوری معطل کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی اجلاس میں وزیراعظم نے غفلت کے مرتکب 8 افراد کو فوری معطل کرنے کی منظوری دی، وزیراعظم نے ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی بھی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعظم نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے یہ رپورٹ وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کروائی تمام ارا کین کے دستخط شدہ اس رپورٹ کو پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔

    رپورٹ میں پمز اسپتال کے اندر علاج معالجے اور فائر سیفٹی کی ناکافی سہولیات کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ وہاں کوئی بھی حفاظتی بندوبست عالمی معیار کے مطابق نہیں تھا رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ، ڈاکٹروں کے انٹرویوز، فائربریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیوں میں درپیش شدید مشکلات کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم کی جانب سے کارروائی کی منظوری کے بعد غفلت کے ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کا عمل شروع کیا جائے گا کمیٹی نے واقعے کے وقت غیر حاضر پائے جانے والے متعلقہ عملے کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سی ڈی اے فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسپتال کے فائر ایگزٹ کو تالے لگا کر مستقل بند رکھا گیا تھا اور سیکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے ابتدائی رسپانس میں رکاوٹیں کھڑی کیں سانحے کے روز پیش آنے والے واقعات اور انتظامی اقدامات سے متعلق مختلف حکام اور عینی شاہدین کی جانب سے متضاد بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صبح چھ بج کر اڑتیس منٹ پر ممکنہ طور پر ایئر کنڈیشنر سے چنگاری اٹھی اور ویڈیو کے مطابق چھ بج کر انتالیس منٹ پر لوگ وارڈ سے نکلنا شروع ہوئے وارڈ میں چودہ بچے آکسیجن پر تھے جس نے آگ کو تیزی سے بھڑکایا، جبکہ اسپتال میں خودکار فائر سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا اور آگ بجھانے کے لیے چھبیس سلنڈر استعمال کیے گئے،نوٹسز موصول ہونے پر عملدرآمد کی پوری کوشش کی جاتی رہی ہے۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے تالے لگانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے چوری ہونے کے ماضی کے واقعات کے باعث صرف ایک دروازہ محدود رسائی کے لیے رکھا جاتا تھا لیکن اس پر تالا نہیں تھا۔

  • اسلام آباد عالمی سیفٹی انڈیکس میں 83ویں نمبر پر آگیا

    اسلام آباد عالمی سیفٹی انڈیکس میں 83ویں نمبر پر آگیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد دنیا کے 401 شہروں کی تازہ سیفٹی رینکنگ میں 83ویں نمبر پر آگیا ہے،جس کے بعد پاکستانی دارالحکومت نے لندن، ماسکو، ٹورنٹو، گلاسگو اور استنبول جیسے بڑے شہروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق رواں سال شہر میں رپورٹ ہونے والے قتل کے مقدمات میں 100 فیصد شرحِ تفتیش و گرفتاری حاصل کی گئی اور قتل کے تمام مقدمات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا رواں سال کامیابی سے حل کیے جانے والے اہم مقدمات میں گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس، ایچ نائن ٹرپل مرڈر کیس، تاجر عامر اعوان قتل کیس، سردار فہیم قتل کیس اور الفلاح بینک ڈکیتی کیس شامل ہیں، اس کے علاوہ ایک غیر ملکی بچے کو بھی بحفا ظت بازیاب کرایا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق 2026 میں 2025 کے مقابلے میں پراپرٹی کرائم کے واقعات میں 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر ایسے 1,499 واقعات کم رپورٹ ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی، راہزنی، قتل اور گاڑی چوری سمیت بڑے جرائم میں بھی نمایاں کمی آئی۔

    دارالحکومت میں انسداد دہشت گردی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت مزید بہتر بنانے کے لیے ایس ڈبلیو اے ٹی اور ڈیلٹا فورس کے نام سے خصوصی یونٹس قائم کیے گئے۔ پولیس کے مطابق تربیت یافتہ اہلکاروں پر مشتمل یہ یونٹس ہائی رسک صورتحال، دہشت گردی کے خطرات، اہم نوعیت کے واقعات اور بڑے سکیورٹی آپریشنز کے دوران فوری اور خصوصی معاونت فراہم کرتے ہیں سیاحوں اور دیگر شہریوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مارگلہ ٹریل پٹرول یونٹ بھی قائم کیا گیا، جس میں گھڑ سوار، پیدل اور موٹر سائیکل اسکواڈ شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق تجارتی علاقوں میں سٹی واچرز اور نائٹ پٹرولنگ افسران بھی تعینات کیے گئے تاکہ عوامی مقامات پر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جرائم کی روک تھام کی جا سکے دارالحکومت میں دھماکا خیز مواد اور دیگر خطرناک اشیا کی نشاندہی کے لیے کے نائن یونٹ قائم کیا گیا، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں مقیم چینی شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ بھی تشکیل دیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق اسپیشل انیشی ایٹو پولیس اسٹیشنز (SIPS) منصوبے کے تحت شہر کے مختلف تھانوں کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد پولیس اسٹیشنز کو جدید اور شہری دوست بنانا ہے،پولیس نے رواں سال منشیات فروشی کے الزام میں 1,144 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ جرائم کے خلاف کارروائیوں کے دوران 14,645 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 887 سے زائد عدالتی مفرور، 1,595 عادی مجرم اور 944 اشتہاری گرفتار کیے گئے۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے 1,592 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا اور ان سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔ خواتین کی سہولت کے لیے آن لائن ویمن پولیس اسٹیشن بھی شروع کیا گیاشہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے آئی جی پی کمپلینٹ سیل اور ہیلپ لائن 1715 کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق رواں سال فورس نے چار بین الاقوامی کانفرنسز، 636 ملکی و غیر ملکی وفود، 191 وی وی آئی پی نقل و حرکت، 682 احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں، 636 دیگر اہم تقریبات اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے 16 مشترکہ اجلاسوں کے لیے فول پروف سکیورٹی فراہم کی۔

  • پمز آتشزدگی: ریسکیو آپریشن میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی،طلال چودھری

    پمز آتشزدگی: ریسکیو آپریشن میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی،طلال چودھری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نےکہا ہے کہ نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود مانیٹر کرتے رہے-

    طلال چودھری نے پمز اسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود مانیٹر کرتے رہے جبکہ کنٹرول روم کو اطلاع ملنے کے 6 منٹ بعد تمام ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود تھیں ریسکیو آپریشن کے دوران 19 افراد کو بحفاظت نکالا گیا، جن میں 7 بچے، 10 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں، ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ افسران موقع پر پہنچے جبکہ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر اور آئی جی اسلام آباد بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی میتیں ان کے والدین کے حوالے کر دی گئی ہیں، واقعے کی ابتدائی ریسکیو رپورٹ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو بھجوا دی گئی ہے،وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سزا اور جزا کا عمل شروع ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ انکوائری میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے، اسپتال میں کتنے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا، فائر سیفٹی کے کیا انتظامات تھے اور ہسپتال میں کہاں کہاں خامیاں موجود تھیں ریسکیو آپریشن میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی، ریسکیو اہلکاروں نے لوگوں کو نکالنے کے لیے دیواریں اور شیشے توڑے جبکہ تین مقامات پر شیشے توڑ کر سیڑھیوں کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا،نرسری ایک ایسا کمرہ ہوتا ہے جہاں پیدائش کے بعد انتہائی نگہداشت کے محتاج نومولود بچوں کو رکھا جاتا ہے، اس لیے واقعے کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

  • اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، اسپتال حکام نے تصدیق کردی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے، ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث بھڑکی،اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیا ب ہوئیں جبکہ 15 بچے جان کی بازی ہار گئے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، جبکہ بیشتر بچے شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہوئے،واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لے لیا اور حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات دی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ دران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائےشہباز شریف نے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت کیا انہوں نے کہا کہ اس اندوہ ناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے،والدین کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

  • رکشوں کے غیر قانونی داخلے کے خلاف پولیس  کی کارروائیاں تیز

    رکشوں کے غیر قانونی داخلے کے خلاف پولیس کی کارروائیاں تیز

    اسلام آباد میں رکشوں کے غیر قانونی داخلے کے خلاف ٹریفک پولیس نے کارروائیاں تیز کر دیں اور مختلف علاقوں میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

    ترجمان پولیس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 400 سے زائد رکشہ ڈرائیورز کے چالان کیے گئے جبکہ 150 سے زائد رکشوں کو ضبط کرکے مختلف تھانوں میں بند کیا گیا ہےپولیس نے ایکسپریس وے، کرنل شیر خان ایونیو، مری روڈ، سیونتھ ایونیو اور نائنتھ ایونیو پر خصوصی ناکہ جات بھی قائم کر دیے ہیں تاکہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے رکشوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کائنات اظہر خان نے ہدایت کی ہے کہ رکشہ ڈرائیورز مقررہ روٹس اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور غیر قانونی داخلے سے گریز کریں، کارروائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے زونل ڈی ایس پیز کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

    سی ٹی او کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کا مقصد شہریوں کو حادثات سے محفوظ رکھنا اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ٹریفک پولیس شہریوں کو محفوظ اور منظم سفری ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

  • خاتون افسر کو ہراساں کرنے پر جونیئر کلرک برطرف،لاکھوں روپے جرمانہ عائد

    خاتون افسر کو ہراساں کرنے پر جونیئر کلرک برطرف،لاکھوں روپے جرمانہ عائد

    اسلام آباد میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے خاتون افسر کو دفتر میں ہراساں کرنے پر سرکاری ادارے کے جونیئر کلرک کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔

    وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کلرک پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،کلرک کے خلاف خاتون افسر کو دفتر میں ہراساں کرنے کی شکایت درج کرائی گئی تھی جس پر سماعت کے بعد اسے ملازمت سے برخاست کرنے کا حکم دیا گیا،کیس میں ایک اور شخص پر سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم الزام ثابت نہ ہونے پر اس کے خلاف شکایت خارج کر دی گئی۔

  • اسلام آباد میں مزید 2 نئے انڈر پاس بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں مزید 2 نئے انڈر پاس بنانے کا فیصلہ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 2 نئے انڈر پاس بنیں گے-

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا،سی ڈی اے کے ریونیو میں اضافے کے لیے تجاویز پربھی غور کیاگیا،اسلام آباد کے میگا پراجیکٹس اور آئندہ منصوبہ بندی پر بریفنگ دی گئی ۔

    اس موقع پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں 2 نئے انڈر پاس بنیں گے ،کشمیرچوک اور فیصل مسجد انڈر پاس پر کام ستمبرمیں شروع کیا جائے گا،کیپٹل ایمرجنسی سروسز کو فعال ادارہ بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے ،مالی خود انحصاری کے لیے دیرپا ریونیو ماڈل پر کام کیا جائے۔

    وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ادارے کی مالی مضبوطی بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے،ریونیو بڑھانے کے قابلِ عمل منصوبوں پر جلد پیش رفت یقینی بنائی جائے،ایکسپریس وے سروس روڈ پراجیکٹ پر کام مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔

  • راولپنڈی اسلام آباد  میں طوفانی بارش، نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرآب، اسکول بند

    راولپنڈی اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرآب، اسکول بند

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں صبح ہونے والی موسلا دھار بارش سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر انتظامیہ نے اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔

    نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور نالہ لئی کے کنارے آباد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو فوری انخلا کی ہدایت کردی گئی اسلام آباد سے بڑا سیلابی ریلا راولپنڈی کی جانب بڑھ رہا ہے خطرے کے پیش نظر نشیبی آبادیوں کے انخلا کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

    کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح پہلے 14.5 فٹ تک پہنچی اور پری الرٹ لیول عبور کیا بعد ازاں مسلسل اضافے کے ساتھ 18.5 فٹ تک جا پہنچی گوالمنڈی میں بھی پانی کی سطح 7 فٹ سے بڑھ کر 11 فٹ ہوگئی۔

    راولپنڈی میں ڈبل روڈ سمیت متعدد سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہوگیا جبکہ آریہ محلے کی گلیاں بھی زیرآب آگئیں بارش اور پانی جمع ہونے کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک مکمل طور پر رک گئی شدید بارش کے پیش نظر راولپنڈی سٹی کے تمام اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے متعدد اسکول بھی بند کرکے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا گیا ہے۔

    راولپنڈی ڈپٹی کمشنر کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے صفدر آباد میں 4 نمبر چونگی کے قریب نالہ لئی کا پانی باہر آگیا، جس سے متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہوگیا کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 28.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 23 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ دونوں مقامات پر آبادی کے انخلا کے لیے مقررہ حد 20 فٹ ہے۔

    صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے نالہ لئی کے کنارے آباد علاقوں، بالخصوص غریب آباد اور دیگر حساس علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں دوسری جانب بارش سے نالہ کورنگ میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا ہے، جبکہ آبپارہ مارکیٹ کے قریب درخت گرنے سے سڑک کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند ہوگیا۔

    اسی طرح اسلام آباد کے ای الیون میں بھی نالہ بھر جانے سے پانی سڑک اور بعض بیسمنٹس میں داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق ان بیسمنٹس کو پہلے ہی سیل کیا جاچکا تھا۔ غوری ٹاؤن فیز ٹو میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی جہاں نہ صرف سڑکیں اور گلیاں زیر آب آئیں بلکہ پانی گھروں میں بھی داخل ہو گیا۔

    اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ کورال چوک سے کھنہ پل تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ کئی مسافر گاڑیوں سے اتر کر پیدل اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ دفاتر جانے والے ملازمین اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں شمس آباد میں سب سے زیادہ 194 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں 150 ملی میٹر بارش ہوئی جڑواں شہروں میں اب تک اوسطاً 126 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گولڑہ میں 157، سیدپور میں 98، چکلالہ میں 71 اور بوکرہ میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

    راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور ایم ڈی واسا نے نالہ لئی کے اطراف صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اضافی ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے نکاسی آب کا عمل بھی جاری ہے۔

  • خواتین کی ترقی درحقیقت پوری مسلم دنیا کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے،اعظم نذیر تارڑ

    خواتین کی ترقی درحقیقت پوری مسلم دنیا کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے،اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کو او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پر فخر ہے ۔

    او آئی سی خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ او آئی سی وزارتی کانفرنس کے شرکا کو اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں، او آئی سی کی چیئرمین شپ اتفاق رائے اور تعاون کے جذبے سے نبھائیں گے خواتین کی ترقی درحقیقت پوری مسلم دنیا کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے –

    موجودہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی لاکھوں خواتین اور بچیاں ترقی کی راہ میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر خاتون اور بچی کو تعلیم، ترقی اور قیادت کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ خواتین کا معاشی اور سیاسی بااختیار ہونا پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، مسلم خواتین نے علم، قیادت، کاروبار اورعوامی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا،اسلام نے 1400 سال قبل خواتین کو عزت، حقوق اور قانونی شناخت عطا کی، ہر خاتون اور بچی کو تعلیم، ترقی اور قیادت کے برابر مواقع ملنے چاہئیں۔

    انہوں نے کہا کہ قومی صنفی پالیسی 2025 اور وزیراعظم ویمن ایمپاورمنٹ پیکج پر عمل جاری ہے ، او آئی سی ایکشن پلان اور ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اہم پلیٹ فارم ہیں، پاکستان او آئی سی کی چیئرمین شپ کو اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا ہے کانفرنس کی کامیابی کا معیار خواتین کیلئے پیدا ہونیوالے عملی مواقع ہوں گے، پاکستان میں خواتین کیلئے محفوظ اور مساوی مواقع حکومتی ترجیح ہے۔

    دو روزہ کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 مندوبین شرکت کر رہے ہیں، جن میں ممتاز خواتین، حکومتی نمائندے، او آئی سی کے مبصرین اور تنظیم کے عہدے دار شامل ہیں۔