Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

    اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

    اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے عوامی اجتماعات، احتجاج اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    اتوار کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، دفعہ 144 کے تحت تمام قسم کے اجتماعات کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا، شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی اجتماع یا اکٹھ کا حصہ نہ بنیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق کسی بھی احتجاج، مظاہرے یا اجتماع کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کریں۔

    واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، کراچی میں امریکی قونصل خانے پر احتجاج کے دوران مظاہرین امریکی قونصلیٹ کے احاطے میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی، اس دوران فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    اقوام متحدہ میں حمایت پر ایران کا پاکستان سے اظہار تشکر

    خامنہ ای کے قتل میں‌ کس نے مدد کی؟ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

    سندھ حکومت کا کراچی میں مظاہرین کی ہلاکت پر جے آئی ٹی بنانے کا اعلان

  • اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے –

    زلزلے کے سبب عمارتوں میں ارتعاش محسوس کیا گیا، لوگوں میں خوف پھیل گیا جس کے سبب لوگ گھبرا کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے زلزلہ پیما مرکز سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا-

    فہد مصطفیٰ نے عتیقہ اوڈھو سے معافی مانگ لی

    سونے اور چاندی کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    سندھ حکومت کیخلاف سازش،قیادت وفاقی حکومت سے جواب طلبی کرے،شرجیل میمن

  • موٹر بائیکس پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل شروع، فیس کتنی

    موٹر بائیکس پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل شروع، فیس کتنی

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے موٹر سائیکلوں کی باقاعدہ ڈیجیٹل ٹیگنگ شروع کر دی ہے۔

    موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگز لگانے کا سلسلہ 20 فروری سے شروع ہوا اس اقدام کے ذریعے شہر میں چلنے والی تمام موٹر سائیکلوں کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہوگا، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری شناخت اور ٹریکنگ میں مدد ملے گی۔

    اس حوالے سے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلال اعظم نے بتایا کہ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ موٹر سائیکل سوار اس سہولت سے مستفید ہو سکیں،گزشتہ 3 روز کے دوران 2000 سے زائد موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگائے جا چکے ہیں، جبکہ موٹر کارز پر اب تک 233,000 سے زائد ایم ٹیگز لگانے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے یہ اقدام ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں مختلف مقامات پر موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جن میں جناح پارک (F-9)، پولیس چیک پوسٹ (G-14)، گلبرگ گرین، ملپور، فیض آباد، گندم گودام نزد تھانہ سبزی منڈی، دامنِ کوہ (مری روڈ کے قریب)، ٹیولپ ہوٹل، روات ٹی کراس، نائنتھ ایونیو اور مارگلہ ایونیو شامل ہیں، شہری اپنی سہولت کے مطابق ان مقامات پر جا کر ایم ٹیگ لگوا سکتے ہیں۔

    ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلال اعظم نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے فوری طور پر اپنی موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ چسپاں کرنے کو یقینی بنائیں اور متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں، موٹر بائیکس پر لگائے جانے والے ایم ٹیگ کی قیمت 250 روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایم ٹیگ موٹر سائیکل کے اسپیڈو میٹر پر نصب کیا جا رہا ہے تاکہ یہ محفوظ رہے اور اس کی ریڈنگ باآسانی ممکن ہو۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چسپاں کیا جانے والا ایم ٹیگ واٹر ریزسٹنٹ ہے اور اسے موسمی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے بارش، دھول یا دیگر موسمی حالات اس کی کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوں گے، لہٰذا شہری بلا جھجھک اپنی موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ چسپاں کروا سکتے ہیں۔

    ڈائریکٹر ایکسائز کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد شہر میں امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنانا، چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی بروقت نشاندہی کرنا اور جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہری نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا اور ٹریفک مینجمنٹ بھی بہتر بنائی جا سکے گی اسی سلسلے میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مراکز پر جا کر اپنی موٹر سائیکل کا ایم ٹیگ حاصل کریں تاکہ کسی قانونی کاررو ائی سے بچ سکیں۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں جرمانہ یا موٹر سائیکل ضبط کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مہم میں تعاون کریں اور جلد اپنی رجسٹریشن مکمل کرائیں۔

  • صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف کیس میں اہم پیشرفت

    صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف کیس میں اہم پیشرفت

    اسلام آباد: سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے-

    کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کی اسلام آباد پولیس نے فرانزک رپورٹ کی کاپی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی ہے، جس کے مطابق مبینہ طور پر ریکور شدہ آئس کی فرانزک رپورٹ نیگیٹیو آ گئی ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برآمد کردہ مواد آئس نہیں ہے، مقدمے میں منشیات کا چارج فریم ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اس حوالے سے عدالت نے معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا۔

  • اسلام آباد مسجد  حملہ: 36 شہدا کے ورثا میں 50، 50 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم

    اسلام آباد مسجد حملہ: 36 شہدا کے ورثا میں 50، 50 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم

    اسلام آباد مسجد حملے میں ہونے والے36 شہدا کے ورثا میں 50، پچاس لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کئے گئے-

    وزیراعظم آفس کے پریس ونگ کے مطابق خدیجۃالکبریٰ امام بارگاہ ترلائی، اسلام آباد پر 6 فروری کو ہونے والے دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والوں کے اہلِخانہ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ امدادی رقوم کے چیک پیش کر دیئے گئے۔

    اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 36 شہدا کے ورثا کو امدادی چیک ان کی رہائش گاہوں تک پہنچا دیئے گئے ہیں، جبکہ تونسہ شریف، تلہ گنگ، استور اور اسکردو سے تعلق رکھنے والے مزید 4 شہدا کے لواحقین کو بھی چیک بھجوائے جا رہے ہیں۔

    ہر شہید کے ورثا کو 50 لاکھ روپے مالیت کا چیک دیا گیا ہےوزیراعظم محمد شہباز شریف نے 11 فروری کو ترلائی امام بارگاہ کے دورے کے موقع پر ہر شہید کے اہلِخانہ کے لیے 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تھا، جس پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔

  • موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ

    موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل کامیابی سے جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا آغاز کیا جائے گا۔

    انتظامیہ کے مطابق موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا آغاز 20 فروری صبح 10 بجے سے کیا جائے گا،موٹرسائیکل مالکان اپنے اصل کاغذات اور شناختی کارڈ کے ہمراہ شہر بھر میں قائم 13 مختلف مقامات سے ایم ٹیگ حاصل کر سکیں گے، فیصلے کا اطلاق تمام اقسام کی موٹرسائیکلوں پر ہوگا، جن میں عام بائکس، بائکیا سروس سے منسلک موٹرسائیکلیں، ہیوی بائکس، دیگر تمام اقسام کی موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں،بائکیا اور آن لائن ٹیکسی سروس کی رجسٹریشن کا عمل علیحدہ طور پر جاری ہے، ان اقدامات کا بنیادی مقصد شہر میں سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور شہریوں کے سفر کو محفوظ بنانا ہے۔

    شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ایم ٹیگ مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ وفاقی دارالحکومت میں محفوظ اور منظم ٹریفک نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اسلام آباد میں رمضان دسترخوان کے لیے اجازت نامہ لازمی قرار

    اسلام آباد میں رمضان دسترخوان کے لیے اجازت نامہ لازمی قرار

    رمضان المبارک کے دوران وفاقی دارالحکومت میں عوامی دسترخوان لگانے کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن اور اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں رمضان المبارک کے دوران دسترخوان لگانے کے خواہشمند افراد کو پیشگی رجسٹریشن کروانا ہوگی اس سلسلے میں مکمل تفصیلات کے ساتھ درخواست جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے،درخواست گزار اپنے شناختی کوائف، مقام کی تفصیلات اور دیگر ضروری معلومات ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں گے، جس کے بعد متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر جگہ کا معائنہ کریں گے معائنے کے بعد ہی باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا جائے گا-

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر بھر سے اب تک مجموعی طور پر 18 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے دسترخوان کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی، سیکیورٹی اور دیگر سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی،بغیر رجسٹریشن اور اجازت نامے کے کسی بھی شاہراہ یا عوامی مقام پر دسترخوان لگانے کی اجازت نہیں ہوگی، خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • اسلام آباد :مساجد کے باہر گداگری اور اشیا کی فروخت پر پابندی

    اسلام آباد :مساجد کے باہر گداگری اور اشیا کی فروخت پر پابندی

    اسلام آباد میں مساجد کے باہر گداگری اور اشیا کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے-

    اسلام آباد پولیس نے مساجد انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے لیے دیئے گئے مراسلے پر جواب جاری کر دیا،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں عبادت کے اوقات میں کم از کم ایک سکیورٹی گارڈ تعینات کیا جائے، سکیورٹی گارڈ کو اسلحہ مسجد کی حدود میں رکھنے کی اجازت ہو گی، مسجد کے داخلی و خارجی راستوں اور اردگرد پارکنگ کی اجازت نہیں ہو گی، مساجد، امام بارگاہوں میں داخل اور نکلنے کیلئے ایک ہی راستہ ہو گا مساجد کے مین گیٹ کے باہر ریڑھی بانوں ، گداگر، ٹوپیاں اور دیگر اشیا کی فروخت پر پابندی ہو گی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد میں مشکوک شخص، سرگرمیوں یا مشکوک سامان کی فوری اطلاع دی جائے ، مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ تمام ہدایات پر فوری عمل کریں، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہو گی۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کی ترلائی مسجد آمد، خودکش حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ترلائی مسجد آمد، خودکش حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ترلائی مسجد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے خودکش حملے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی –

    وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ میں خودکش حملہ انسانیت دشمنی کی بدترین مثال ہے،صوبائی حکومت اس افسوسناک سانحے پر لواحقین کے غم میں شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد ہے اور ایسے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ ترلایہ مسجد و امام بارگاہ میںحملہ گزشتہ جمعے کو ہوا، جس میں کم از کم 32 افراد شہید اور 169 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جب مسجد میں نمازیوں کے اجتماع کے وقت خود کش دھماکا ہوا، یہ اسلام آباد میں گزشتہ دہائی کے دوران سب سے شدید حملوں میں سے ایک تھا۔

  • اسلام آباد دھماکہ، مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کی شدید مذمت

    اسلام آباد دھماکہ، مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کی شدید مذمت

    اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے پر مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے واقعے کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیا ہے-

    ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے اپنے بیان میں کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا اور عبادت گاہوں پر حملے کرنا بدترین دہشتگردی ہے، جس کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا،ایسے سفاکانہ واقعات انسانی اقدار اور دینی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں،ملک دشمن قوتیں دہشتگردی کے ذریعے وطنِ عزیز پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم یہ عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

    ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور ایسے واقعات قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ممکن ہو۔

    واضح رہے کہ جمعے کے روز ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے بعد ہوا، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر روکا گیا، جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا واقعے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیج اور تصاویر میں امام بارگاہ کے داخلی دروازے کے قریب لاشیں بکھری ہوئی دکھائی دیں، جبکہ عبادت گاہ کے اندر اور باہر زخمی افراد مدد کے لیے پکار رہے تھے اس حملے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ عالمی سطح پر بھی متعدد ممالک اور تنظیموں نے مذمت کی۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ حملے کے مرکزی منصوبہ ساز سمیت چار سہولت کاروں کو خیبر پختونخوا میں رات گئے کارروائیوں کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد اداروں نے مشترکہ تحقیقات کے بعد کارروائیاں کیں اور علی الصبح تمام مرکزی کرداروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

    وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری تھا اور داعش سے منسلک تھا، جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ کارروائیوں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کا ایک اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئےدہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور بھارت کی جانب سے مالی معاونت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔