Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا کیس ، اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی عافیہ صدیقی سے امریکی جیل میں ملاقات طے پا گئی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی دو اور تین دسمبر کو عافیہ صدیقی سے امریکہ میں ملاقات کریں گی سینیٹر مشتاق اور سینیٹر طلحہ بھی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ہوں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی

    امریکہ میں عافیہ صدیقی کے وکیل بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے ،اور کہا کہ عافیہ صدیقی امریکہ کی ایک بد ترین جیل میں قید ہیں ،ہماری کوشش یہ ہے کہ عافیہ صدیقی کو جلد از جلد دوسری جیل منتقل کیا جائے ،

    کیس کی سماعت کے بعد وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ عافیہ صدیقی کے کیس کی سماعت آج ہوئی،عدالت کو عافیہ صدیقی کے وکلا کی طرف سے بتایا گیا کہ دو تین دسمبر کو فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے ہوئی ہے، فوزیہ صدیقی کی امریکہ میں سیکورٹی کنسرن ہیں،حکومت سیکورٹی یقینی بنائے،عدالت نے احکامات جاری کئے ہیں،اس وقت سب سے بڑ ا مسئلہ ہمیں در پیش ہے کہ عافیہ صدیقی بدنام ترین جیل کے ایک سیل میں قید ہیں، چھوٹا سا سیل ہے، ان پر بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے شکایات مل رہی ہیں کہ وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ انکا جیل تبدیل کیا جائے کسی ایسے جیل میں رکھا جائےجہاں دنیا کے مسلمہ قوانین کی روشنی میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ہو،انکو اذیت سے نجات دلائی جائے، امریکہ میں عافیہ کے وکیل آج آن لائن عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے دو ہفتے کا افغانستان کا دورہ کیا اور کچھ ثبوت ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہیں، تفصیلات ابھی تک نہیں بتائی جا سکتیں،

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    عافیہ صدیقی کیس،ساتویں آٹھویں سماعت حکومت اس حوالے سے کچھ کرنا نہیں چاہتی،عدالت

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

  • فیض آباد کیس: ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز  بھی کمیشن میں شامل

    فیض آباد کیس: ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز بھی کمیشن میں شامل

    اسلام آباد: فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا جبکہ ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز کو بھی کمیشن میں شامل کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ڈپٹی سیکرٹری وزرات داخلہ محمد ایاز بطور سیکرٹری کمیشن مقرر کردئیے گئے ہیں، سابق آئی جی طاہر عالم تاحال والدہ کی بیماری کے باعث کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے، فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کے لیے متعدد ویڈیو حاصل کرلی ہیں۔

    خیال رہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن سابق آئی جی اختر علی شاہ کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے،قبل ازیں فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا جس کی صدارت سابق آئی جی اختر شاہ نے کی تھی جبکہ کمیشن کے ایک رکن سابق آئی جی طاہر عالم اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، انکوائری کمیشن نے ابتدائی طور پر تمام ریکارڈ طلب کر لیا اور ساتھ ہی فیض آباد دھرنے کے بارے میں ہوئی انکوائری رپورٹ بھی طلب کر لیں، انکوائری کمیشن نے فیض آباد دھرنے سے متعلق پیمرا سے ویڈیو ریکارڈ لینے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ کمیشن کے آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ انتظامی افسران کوبلانے کا فیصلہ ہوگا۔

    غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آغاز جمعہ کی صبح کیا جائے گا،قطر

    راولپنڈی: خاتون سے مبینہ زیادتی کر نیوالے 2 ملزمان گرفتار

    پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے، 82ویں فارمیشن …

  • اسلام آباد میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد(محمداویس) وفاقی دارالحکومت کی فضا ء صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہوگئی،پاک ای پی اے کی سرکاری رپورٹ نے تصدیق کردی،سرکاری رپورٹ کے مطابق زہریلے ذراتPM2.5کی مقدار88µg/m³ سے تجاوزکرگئی جبکہ وفاقی دارالحکومت میں نجی شعبے کی طرف سے لگائے گئی مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق PM2.5 کی مقدار 191µg/m³ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ائیرکوالٹی انڈکس241تک گئی ہے فضاء میں زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدارکسی صورت 35µg/m³سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ڈیٹا کے تجزیہ سے معلوم ہواہے کہ صبح دفتری اوقات اور مغرب سے رات تک ائیرکوالٹی انڈکس خطرناک حد تک چلاجاتاہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ائیرکوالٹی زہریلی ہونے کے باجود وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پاک ای پی اے نے کسی قسم کی ایڈوائزی جاری نہیں کی جبکہ پاک ای پی اے نے رپورٹ جاری کرنابھی بندکردی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فضاء میں زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدارخطرناک حد تک بڑھ گئی جو کسی صورت 35µg/m³سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے،زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدرمقررہ حدسے تجاوز سانس کی بیماریاں پھیپھڑوں کاکینسراور اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔یہ زیریلے ذرات گاڑیوں اورفیکٹریوں میں فوصل فیول کے جلنے سے خارج ہوتے ہیں۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی(پاک ای پی اے) نے فضائی آلودگی کی21نومبرکی رپورٹ جاری کی ہے۔ جس کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آّباد کی فضا ء میں آلودہ زرات PM2.5کی مقدار مقررہ حد سے تجاوزکرگئی ہے مقررحد 35µg/m³ہے جبکہ ان کی مقدار67µg/m³ تک اوسط بتائی گئی ہے21نومبر کو پاک ای پی اے نے(ائیرکوالٹی) فضائی آلودگی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی جس کے بعد سے ڈیلی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔21نومبرکو سرکاری رپورٹ کے مطابق زہریلی ذرات PM2.5 کی مقدار 88µg/m³ تک گئی ہے۔رات 1بجے سے صبح 8 بجے تک 51µg/m³ اوسط جبکہ صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک62µg/m³اورشام 4 بجے سے رات 12 بجے تک 88µg/m³ی اوسط مقرار رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں سرکار ی طورپر فضاء میں زہریلی ذرات کی ذیادتی کے باوجود پاک ای پی اے نے کسی قسم کی رپورٹ وایڈوائزی جاری نہیں کی البتہ روزانہ کی بنیادپر بننے والی رپورٹ جاری کرنا روک دی ہے اس حوالےسے پاک ای پی اے کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا وفاقی دارالحکومت میں نجی شعبے کی طرف سے لگائے گئی مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق PM2.5 کی مقدار 191µg/m³ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ائیرکوالٹی انڈکس241تک گئی ہے ۔ڈیٹا کے تجزیہ سے معلوم ہواہے کہ صبح دفتری اوقات اور مغرب سے رات تک ائیرکوالٹی انڈکس خطرناک حد تک چلاجاتاہے۔

    بیجنگ یونیورسٹی کے سینٹر فار پروڈکٹیو میڈیسین کی معروف جریدے جرنل انوائرمینٹل انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کی فضائی آلودگی سے مردوں اورخواتین دونوں میں بانجھ پن کاخطرہ نمایاں حدتک بڑھ جاتاہے طبی تحقیق کے دوران فضائی آلودگی سے آبادی کے لیے بڑھنے والے خطرات کاتجزیہ کیاگیا۔ ماہرین نے چین کے 18 ہزارجوڑوں کے اعدادوشمار کاتجزیہ کرنے پر دریافت ہواکہ ایسے علاقے جہاں چھوٹے ذرات کی آلودگی کی شرح زیادہ ہوتو ان علاقوں میں بانجھ پن کاخطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتاہے تحقیق میں یہ تعین نہیں کیاجاسکاکہ فضائی آلودگی کس طرح بانجھ پن کاباعث بن سکتی ہے مگر یہ پہلے سے معلوم ہے کہ آلودہ ذرات سے جسم میں ورم بڑھ جاتاہے جس سے مردوں ناورخواتین کاتولیدی نظام متاثر ہوسکتاہے۔رپورٹ کے مطابق بانجھ پن دنیا بھر میں لاکھوں جوڑوں کی زندگی کومتاثرکرتاہے مگر اس حوالے سے فضائی آلودگی کے اثرات پر اب تک کچھ خاص کام نہیں ہواہے۔فضائی آلودگی سے قبل ازوقت پیدائش اور پیدائش کے قت کم وزن جیسے مسائل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہناہے کہ زہریلی ذرات PM2.5کی مقداراگر 35µg/m³سے بڑھ جائے تویہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں اس سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتاہے اور خاص کردمہ کے مریضوں کوسانس لینے میں دشوار ی ہوتی ہے آنکھ ناک اورگلے میں سوزش،پھیپھڑوں کاکینسر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ شہری گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک لازمی استعمال کریں۔غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔(محمداویس)

  • سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ ،بحریہ ٹاؤن عدم ادائیگی کا معاملہ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کا فیصلہ لکھوایا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاون کے وکیل نے بتایا انہیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں سولہ ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ملنا تھی، اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا،بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460ارب روپیے ادا کرنا تھے،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق جو زمین دی گئی اس پر ہائی پاور بجلی کی تاریں گیس پائپ لائنز، نالے اور کئی گوٹھ ہیں،سندھ حکومت نے لندن سے سپریم کورٹ کو موصول رقم پر بھی دعویٰ کردیا اور کہا کہ برطانیہ سے آئی رقم بھی سندھ حکومت کو دی جائے،سروے رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کا تین ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ ہے۔ بحریہ ٹاؤن نے یکطرفہ طور پر اقساط کی ادائیگی روک دی،بحریہ ٹاؤن نے اضافی زمین پر بھی قبضہ کررکھا ہے۔متعلقہ حکام کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔سرکاری حکام نے عوام اور صوبے کے مفاد کو سرینڈر کیا۔سرکاری حکام نے اپنے آفس کا غلط استعمال کیا۔سرکاری حکام کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ایڈوکیٹ جنرل یقین دہانی کروائی کہ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے متفق ہیں یہ رقم سپریم کورٹ اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی درخواستیں مسترد کر دیں،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ کل 65ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب وفاقی حکومت کو ملیں گے،بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو ملیں گے،سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب سات سال میں ادا کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم برقرار رکھا، ترمیم کی بحریہ ٹاؤن کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی.

    بحریہ ٹاؤن کیس کے دوران 190ملین پاؤنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے خارج کر دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب پہلے ہی اس کیس کی انکوائری کر رہا ہے، عدالت کی آبزرویشن نیب تحقیقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے، نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنے دیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ سے آئے 190 ملین پاؤنڈ ملک ریاض کے نہیں عوام کے ہیں،عوام کا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کا تعلق صرف 460 ارب روپے کی ادائیگی سے ہے،سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ جانے اور عدالت جانے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ درخواست گزار نے معلومات دینی ہیں تو نیب کو دے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ نے ملک ریاض کا ویزا منسوخ کرکے داخلے پر پابندی عائد کی، برطانیہ نے 140 ملین پاؤنڈ اور نو بنک اکاؤنٹ منجمند کیے،منجمند کیے گئے اثاثوں میں پچاس ملین پاؤنڈ کی جائیداد بھی شامل تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رقم جمع کرانے والوں کو نوٹس کر چکے ہیں،درخواست گزار کا حق دعوی نہیں بنتا، درخواست میں سپریم کورٹ کو معزز عدالت لکھا ہوا ہے،یہ معزز عدالت نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جج جج ہوتا ہے جج صاحب نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ساتھی جج لگتا ہے مجھے چھیڑ رہے ہیں،

    قبل ازیں سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ کی احکامات کی روشنی میں کمشنر کراچی کی سربراہی میں 10 رکنی سروے ٹیم نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے،مشرق بنک کے وکیل راشد انور روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے خط کے مطابق لندن کے ویسٹ منسٹر عدالت کے مجسٹریٹ نے اکاؤنٹ فریزنگ آرڈر کالعدم قرار دیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اکاونٹ ہولڈر کون ہے؟ وکیل مشرق بینک نے کہا کہ اکاونٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک، ملک ریاض کی بہو ہیں، اکاؤنٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک نے رقم نیشنل کرائم ایجنسی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود سے پاکستان بھجوائی تھی،مبشرہ علی ملک نے مشرق بنک لندن برانچ سے 19 ملین سے پاونڈز سے زائد رقم سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں منتقل کرائی،وکیل راشد نور نے کہا کہ مبشرہ علی ملک نے 6 نومبر 2019 کو 19 ملین پاونڈ سے زائد رقم برطانیہ سے پاکستان بھجوائی، تفصیلات حاصل ہونے پر عدالت نے مشرق بنک کی حد تک معاملہ نمٹا دیا،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ مشرق بنک کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی،متفرق درخواست 18 اکتوبر کے عدالتی حکمنامے کی روشنی میں دائر ہوئی، مشرق بنک کے وکیل نے عدالت کو بتایا لندن کے مجسٹریٹ کے حکم کی روشنی میں نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نے اکاؤنٹ بحال کیا،اکاؤنٹ بحالی کے بعد بنک نے 190ملین پاؤنڈ کی رقم مبشرہ علی ریاض کے اکاؤنٹ میں آئی، مبشرہ علی ریاض کے زریعے رقم رجسٹرار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی، مشرق بنک کے وکیل نے کہا بھیجی گئی 190ملین پاؤنڈ کی رقم بینک کا کوئی دعویٰ نہیں ہے،مشرق بنک کی مزید نمائندگی درکار نہیں ہے، عدالت نے مشرق بنک کو نوٹس دینے کی حد معاملہ نمٹا دیا

    بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پڑھ کر سنا دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سرکاری زمین کی بات کر رہے ہیں یا اس میں بحریہ ٹاؤن کی نجی زمین بھی شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نجی زمین بحریہ ٹاؤن کے پاس موجود بھی ہے یا نہیں،جو اضافی زمین ہے اس پر ڈپٹی کمشنر سے پوچھیں اس کی ملکیت کس کی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر آپ ریاست کے افسر ہیں سیدھا جواب دیں،ڈپٹی کمشنر صاحب صاف بتائیں کتنی زمین سرکاری ہے اور کتنی پرائیویٹ ، ڈی سی ملیر نے عدالت میں کہا کہ 1775 ایکڑ زمین سرکاری ہے جبکہ 37.2 ایکڑ نجی زمین اضافی زمین میں شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی زمین پر کوئی نشان لگے ہوئے ہیں کہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ ڈی سی ملیر نے کہا کہ باؤنڈری وال زمین پر موجود ہے،

    سروے آف پاکستان کے حکام عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں تکنیکی طور پر بتائیں سروےکیسے کرتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ ہم گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم سے سروے کرتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سروے ریکارڈ سے مطمئن ہیں؟ حکام نے کہا کہ جی ہم اس سروے سے مطمئن ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بحریہ ٹاون نے نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو مسئلہ ہی نہیں ہے، نیشنل پارک پر قبضہ کے خلاف درخواست دائر کرنے والے شہریوں کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین صاحب سروے کہہ رہا نیشنل پارک کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میں اس سروے رپورٹ کا تقابلی جائزہ لوں گا،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان اسلم بٹ کو روسٹرم پر بلا لیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کے سامنے ایک غلط الزام لگایا تھا،آپ نے کہا کم زمین ملی لیکن آپ کے پاس تو زیادہ زمین نکلی ،آپ درخواست لائے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ کے پاس زیادہ زمین ہونے کی اس سروے رپورٹ کو کس بنیاد پر مسترد کریں،آپ کے پاس کیا شواہد ہیں کہ آپ کو کم زمین ملی،چیف جسٹس نے وکیل بحریہ ٹاؤن کی سرزنش کر دی

    وکیل بحریہ ٹاؤن نےمیمو گیٹ کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں سیاسی تقریر نہ کریں،ہم آپ سے بحث کرنے نہیں بیٹھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے شواہد فائل کرنے دیں گے تو کچھ کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین چار سال گزر گئے ہیں آپ کب فائل کریں گے، آپ اپنی جو درخواست لائے تھے اسے اب آگے چلائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اجازت دیں تو میں آپ کا آٹھ نومبر کا آرڈر پڑھوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو مرضی پڑھیں،اب اگر آپ نے جازت دیں کے الفاظ استعمال کیے تو میں جرمانہ کروں گا،ہم تھک گئے ہیں یہ الفاظ سن سن کر،ہم سن رہے ہیں آپ سنائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے اس سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی کم زمین دینے کی درخواست خارج کر دینگے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ دلائل سنے بغیر درخواست کیسے خارج کی جا سکتی ہے؟رپورٹ پر اعتراض کرنا ہر فریق کا حق اور قانونی طریقہ ہے، میمو کمیشن رپورٹ پر بھی اعتراضات جمع ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی تقریر باہر جا کر کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ یہ سیاسی تقریر نہیں قانونی بات ہے،وکیل سلمان بٹ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ بول لیں پھر جواب دوں گا، آپ کا احترام کرتا ہوں اس لئے درمیان میں نہیں بولوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ احترام چھوڑیں قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں،

    وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عدالتی آڈرکے مطابق سرے 16 ہزار 8 سو ایکڑ کا ہونا تھا وہ ملی یا نہیں،رپورٹ کے مطابق وہ سروے تو کیا ہی نہیں گیا،میرا حق ہے مجھے سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیا جائے، میں نے ابھی رپورٹ پڑھی بھی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے سامنے ہم نے یہاں رپورٹ پڑھی آپ کہہ رہے ہیں ابھی نہیں پڑھی، آپ خود اس کیس میں عدالت آئے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ نے کوئی چیز فائل نہیں کی ہم نے اس پر سروے کروا لیا،اعلی سطح کی ٹیم نے وہ سروے کیا آپ اسکا حصہ تھے،دس حکومتی افسران نے رپورٹ پر دستحط کئے کیا ساری دنیا آپ کے خلاف ہے؟ آپ بس ہر چیز پر اعتراض کررہے ہیں،عدالت آپ کو کوئی اضافی وقت نہیں دے گی، بات ختم،کئی سالوں سے عملدرآمد کیس مقرر نہیں ہوا تو آپ نے جلد سماعت کی درخواست کیوں نہیں دائر کی؟ بحریہ ٹاون کو اس کیس کے مقرر ہونے میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ کئی ایسے کیسز جانتا ہوں جہاں سو سو جلد سماعت کی درخواستیں دائر ہوئیں لیکن مقرر نہیں ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ روز جلد سماعت کی درخواست کرتے تو بوجھ عدالت پر ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ حکومتی اداروں نے وقت لگا کر سروے کیا،آپ اس مشق کا حصہ تھے آپ نے تب اعتراض کیوں نہیں کیا؟اب ایک چیز آپ کے خلاف آگئی تو آپ اس پر اعتراض کررہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ایک رپورٹ آگئی ہے مجھے اس پر جواب کا وقت دیں صرف یہ گزارش ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں عدالت آپکو مزید وقت نہیں دے گی۔وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ آپ میرا فئیر ٹرائل کے تحت حاصل کیا ایک حق پھر ختم کردیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضروری نہیں ہم اپ کی ہر بات سے اتفاق کریں۔وکیل نے کہا کہ میں نے چالیس سال وکالت میں ایسا واقع نہیں دیکھا،ایک رپورٹ آئی ہو اس پر اعتراضات داخل کرنے کا وقت بھی نہ دیا جائے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اعتراض بھی صرف اس پر کررہے ہیں کہ آپ نے نجی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔آپ کے پاس دستاویزات ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاونٹس میں آئے پیسے مزید رکھے نہیں جا سکتے، اگر کوئی بھی فریق سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آئی رقم کا دعوی نہیں کرتا تو حکومت پاکستان کو ٹرانسفر کر دیں گے، پیسہ سرکار کے پاس جائے تو سرکار جانے اور بحریہ ٹاون جانے، سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی مد میں آئے پیسے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنے اکاونٹ میں یوں پیسے رکھنا غیر آئینی عمل ہے.وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ یہ پیسہ زمین مالکان کو جانا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مثال ہے جس کا آپ برا نہ منائیے گا، ایک ڈاکا پڑتا ہے اور ڈاکو پیسے بحریہ ٹاون کی جگہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ڈال دیتا ہے،کیا سپریم کورٹ ڈاکے کے پیسے رکھ کر شریک جرم بن سکتی ہے؟ جو پیسے مشرق بنک کے ذریعے آئے وہ تو ضبط شدہ رقم تھی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ابھی تک کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کی نہیں کر رہے ایک مفروضے کی بات کر رہے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن ے کہا کہ برطانیہ سے وہ رقم ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے لیے آئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ رقم آپ کی نہیں تھی وہ ضبط ہوئی تھی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ نہیں میں وہ آرڈرز پڑھ دیتا ہوں ایسا نہیں ہوا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےوکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ باتوں کو بار بار مت دہرائیں،آپ کسی چیز سے رنجیدہ ہیں تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں،آپ سینئر وکیل ہیں پیچھے بیٹھے جونیئر وکلا نے بھی آپ سے سیکھنا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں آپ جس فیصلے پر عملدرآمد کروا رہے ہیں وہ درست نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم عملدرآمد نہیں کروا رہے آپ خود اس معاہدہ میں شامل ہوئے تھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس رضامندی سے ہوئے معاہدہ کو ختم کر دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے ایک لفظ کو بھی نہیں بدل سکتے،وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے وہ کسی بھی فیصلے کو واپس کرسکتی ہے، وکیل بحریہ ٹاون نے دوہزار پندرہ کے فیصلے کا حوالہ دیاجس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ نظرثانی کے دائرہ اختیار میں ہوسکتا ہے،وکیل نے کہا کہ کہیں کسی کےساتھ زیادتی ہورہی ہو تو عدالت خود فیصلہ واپس لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی،آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے،پوری بات سن لیں،آپکے پاس کوئی شواہد نہیں کہ آپکے ساتھ زیادتی ہوئی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں نے دستاویز لگا رکھے کہ معاہدے کے مطابق زمین ہمیں نہیں ملی،

    دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان بٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ آہستہ آواز میں بات کریں تو جواب دوں گا، مجھے یہ گوارا نہیں کہ عدالت سمیت کوئی بھی مجھ پر چلائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں چلانے پر مجبور کر رہے ہیں، ہم چلا نہیں رہے تحمل سے سوال پوچھ رہے ہیں، سینئر وکلاء کا یہ رویہ ہے تو وکالت کے شعبہ پر ترس آ رہا، جج پر انگلی اٹھانا آسان اور اپنی غلطی تسلیم کرنا سب سے مشکل کام ہے، بحریہ ٹاؤن نے کم زمین ملنے کا دعویٰ 2019 میں کیا تھا،درخواست کےساتھ جو شواہد دکھا رہے ہیں وہ 2022 کے ہیں،جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب نے کارروائی شروع کی تو بحریہ ٹائون 460ارب روپے پر آمادہ ہوا، بحریہ ٹائون نے 460 ارب پر رضامندی کچھ سوچ سمجھ کر ہی دی ہوگی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سرکار کے منظور کردہ نقشوں سے ثابت کر رہا ہوں کہ پوری زمین نہیں ملی، معاہدے کے تحت 16896 ایکڑ کا قبضہ ملنا تھا لیکن 11547 ایکڑ زمین ملی، انصاف کا تقاضا ہے کہ سروے رپورٹ پر موقف سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انصاف کی باتیں باہر میڈیا پر جا کر کریں، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میڈیا پر کبھی بولا نہ ہی کبھی میڈیا کیلئے عدالت میں بات کرتا ہوں، مناسب ہوگا کہ آج مزید سماعت نہ کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت آج ہی مکمل کرینگے، اتنے عرصے بعد درخواستیں مقرر ہوئی ہیں تو کیس چلائیں،وکالت کے دوران سندھ میں مقدمہ مقرر ہونے پر ہی ہم بہت خوش ہوتے تھے، مقدمہ کا فیصلہ جو بھی ہو وہ بعد کی بات ہوتی تھی،مجھے قانون کے شعبے سے وابستہ ہوئے 41 سال ہو گئے ہیں،کچھ عزت دیں ،آپ ایسے ہی جاری رکھیں گے تو نتائج کیلیے بھی تیار رہیں،آپ کو ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کے آوٹ منظوری کا خط کب جاری کیا؟ وہ خط جاری نہیں کر رہے تھے تو آپ انہیں لکھ دیتے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ 16 ہزار ایکڑ زمین سے متعلق دوبارہ آرڈر کردیں اس کا جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اور کوئی آرڈر نہیں دیں گے،آج ہی کیس مکمل کریں گے،ہم رات تک بیٹھے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں مزید کھڑا نہیں رہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپکو کرسی دے دیتے ہیں،بیٹھ کر دلائل دے دیں،چیف جسٹس نے عدالتی اسٹاف کو وکیل سلمان اسلم بٹ کو کرسی دینے کی ہدایت دی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کرسی کی آفر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی کرسی نہیں چاہیے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ یہاں قانون کی بات کریں،باقی باتیں کرنی ہیں تو باہر میڈیا پر جاکر کریں،سلمان صاحب پلیز دلائل دیں کیوں اس کو پیچیدہ بنارہے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کیا جارہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو بات سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق نہیں وہ ہم نہیں سنیں گے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ نہیں سننا چاہتے تو میں بند کر کے بیٹھ جاتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں بے شک، وہ زمانے گئے جب کیس اپنی مرضی سے چلایا جاتا تھا،آپ کہتے ہیں کسی اور کو زمین مفت دے دی تو آپ کو بھی حکومت مفت دے،آپ کو زمین مفت نہ ملی تو کیا یہ آپ سے غیر منصفانہ ہو گیا،وکیل نے کہا کہ درخواست ہے کہ باہر سے آئی رقم پر نیب تحقیقات کر رہا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جس معاملے پر نیب تحقیقات کر رہا ہے تو مناسب ہو گا اس پر ہم بات نہ کریں،وکیل نے کہا کہ بس میری بھی یہ ہی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج آپ ایک سچ بول دیں کہ حکومت سندھ بہت کمزور ہے،کرپٹ عناصر مضبوط ،کرسیوں پر لوگ صرف مال بنانے بیٹھے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 16 ہزار ایکڑ سے زیادہ جس زمین پر تجاوز کیا گیا وہ آپ واپس لے لیتے،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم قانون کیمطابق کارروائی کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سندھ میں ایک مختار کار بھی حکومت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہےکیا ہم اپنے بچوں کو یہ معاشرہ دینا چاہتے ہیں ،سندھ حکومت شاید لوگوں کی خدمت نہیں کرنا چاہتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ریاست الیٹ کی خدمت کیلئے ہیں،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے نمائندے کو روسٹرم پر بلا لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب کوئی پلاٹ خریدے تو اسے کیا دیتے ہیں،نمائندہ بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ الاٹمنٹ دیتے ہیں اور مکمل ادائیگی پر قبضہ بھی دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیگل ایڈوائزر پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کسی چیز کی تنخواہ لیتے ہیں،؟ دنیا میں حکومتوں کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔یہاں حکومت کا مقصد شاید افسران کو امیر بنانا ہے، ایک شیخص پلاٹ خریدے اسے کاغذ کا ایک ٹکڑا ملتا ہے،کل کوئی دوسرا کہہ دے یہ پلاٹ میرا ہے سندھ حکومت اسے کیا تحفظ دے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے لیگل ایڈوائیزر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہہمارے لیگل جسٹس سسٹم کی ریٹنگ 130 نمبر پر درست ہی ہوئی ہے،ہمارے ملک میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیا جاتا،بڑے آدمی کا گھر ریگولرائز ہوجاتا ہے عام آدمی کی جھونپڑی گرا دی جاتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی ڈویلپر ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ دو سو لوگوں کو دے کر نکل جائے تو کیا تحفظ ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہاکہ بحریہ ٹاون الاٹمنٹ کا ایک کاغذ کا ٹکڑا دیتا ہے جس کا ریکارڈ بھی بحریہ کے پاس ہی ہوتا ہے،کئی لوگ پلازے پہلے بیچ دیتے ہیں،اور زمین پھر الاٹمنٹ سے حاصل پیسے سے بعد میں خرید رہے ہوتے ہیں،ججز مشاورت کیلئے کمرہ عدالت سے اٹھ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ تحریر کریں گے

    بینک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرادیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار

    تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے دیا.

    تحریک انصاف کےانٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے دیئے گئے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

    الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی کو 2 اگست کو نوٹس جاری کیا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو بلے کے نشان کے لیے نااہل کیوں نہ کیا جائے،سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین میں ترمیم سے پہلے ہوئے، بعد میں ہم نے ترامیم واپس لے لی ہیں، الیکشن کمیشن کی ڈی ڈی لاء صائمہ جنجوعہ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ کیس میں پی ٹی آئی کو درگزر کر دے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 13 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کریں گے، تحریک انصاف
    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا، بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے بہت افسوس ہوا ، الیکشن کمیشن نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے، الیکشن کمیشن نے یہ نہیں کہا تھا کہ پارٹی الیکشن آئین کے مطابق نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ڈاکومنٹس پورے نہیں ہیں، آج کے فیصلے سے بڑا دکھ ہوا ،کسی خاص مقصد کیلئے اس فیصلے میں تاخیر کی گئی ، بلے کا نشان ہمارے پاس رہے گا ، اس آرڈر کو ہم مناسب فورم پہ چیلنج کریں گے،

    تجزیہ کاروں کے مطابق عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات 20 روز میں ہر صورت کرانے ہونگے،توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے باعث عمران خان چئیرمین کے عہدے کیلئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،انٹرا پارٹی انتخابات 20 دن میں کروانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے سے عمران خان پارٹی سربراہی بھی جائیں گے۔ سزا یافتہ شخص پارٹی کا سربراہ نہیں رہ سکتا ، نواز شریف کے معاملے میں عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔بلا بچانا ہے تو تحریک انصاف کو عمران خان کی جگہ کسی اور کو پارٹی کا سربراہ بنانا ہوگا.

    انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروائے تو تحریک انصاف عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی
    سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے نجی ٹی وی سےبات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل میں کہاکہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن دو سال سے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کر رہاتھاعمران خان جب پاکستان کے وزیراعظم تھے اس وقت بھی جون 2021میں الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیلئے نوٹس جاری کیا تھا،کہ آپ انٹراپارٹی انتخابات کروا لیں ورنہ آپ کی پارٹی کو غیرقانونی قرار دے دیں گے،اس وقت پی ٹی آئی نےایک سال کی مہلت مانگی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ کورونا وبا ہے ہمارے ارکان جمع نہیں ہو پا رہے،کورونا کی وجہ سے آپ ریلیف دے دیں،جس پر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ریلیف دے دیا،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے انٹراپارٹی انتخابات کرانے کیلئے اعظم سواتی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن تشکیل دیا،اس کے باوجود انہوں نے انتخابات نہیں کرائے، جب یہ پارٹی اقتدار سے محروم ہو گئی تھی،اس وقت بھی الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا کہ انٹراپارٹی انتخابات کرائے جائیں ، نوٹس کے باوجود پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کروائے اور ٹال مٹول سے کام لیا،الیکشن کمیشن دو ڈھائی سال سے پی ٹی آئی کو ریلیف دیتا آر ہا ہے،آج کے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو 20روز کا ریلیف دیا ہے، انکو چاہئے کہ اس دوران متبادل قیادت سامنے لے آئیں الیکشن ایکٹ کی دفعات میں انٹراپارٹی انتخابات اہم شق ہے،پی ٹی آئی نے انتخابات نہ کروائے تو انتخابات میں حصہ لینے کی مجاز نہیں ہوگی.

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • غزہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے،امام کعبہ

    غزہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے،امام کعبہ

    امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خادمین الحرمین الشریفین اور علما سعودی عرب کا سلام آپ کو پیش کرتا ہوں،

    امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید کا کہنا تھا کہ انسانی جان کا قتل حرام ہے،غزہ میں انسانی حقوق کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے،غزہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے،بین الاقوامی طاقتیں انسانی جانوں کی حرمت کا پاس رکھیں اور غزہ میں جرائم کو رکوائیں،رب کریم ظالموں کو سخت ترین سزا دے،فلسطین کے مسلمانوں کی سختی کے خاتمے کی دعا کرتا ہوں

    امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی اور اسلامی یونیورسٹی کی خدمات قابل ستائش ہیں،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی تعریف کرتا ہوں کہ اہم ترین موضوع پر کانفرنس کا اہتمام کیا،اسلامی فقہ اکیڈمی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا جاری تعاون اہم ہے،مسلم ممالک کے تعلیمی و تحقیقی ادارے باہمی اشتراک و تعاون پر توجہ دیں،پاکستان مہمان نواز ملک ہے،انسانی جان کی حرمت پر اسلام میں خصوصی توجہ دی گئی،شریعت اسلامی میں دین اور انسانی جان کی عقیدہ کی تفریق کے بغیر خاص اہمیت ہے،رب کریم نے انسانی جان کی قسم تک اٹھائی ہے،دین اسلام انسانی جان کے ضیاع کو سختی سے منع کرتا ہے،انسانی جان کو بلاوجہ قتل کرنے والے کے لیے جہنم کی وعید ہے،امید ہے کہ کانفرنس کے موضوع پر مقالات اور سکالرز کے ذریعے اہم تجاویز اور سفارشات سامنے آئیں گی

    اس موقع پر نگران وزیرتعلیم مدد سندھی نے کہا کہ پورا پاکستان آپ کا دورے پر مشکور ہے،نوجوان امت مسلمہ کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون جاری رہےگا،آج امت مسلمہ فلسطین کی حالت زار پر مغموم ہے،انسانی جان کی حفاظت پر کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے ،اسلام پر امن بقاے باہمی اور امن کا درس دیتا ہے،سیرت النبی کے موضوع پر اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کریں گے.

    واضح رہے کہ امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید 6 روزہ دورے پر گزشتہ روز پاکستان پہنچے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی، وزیر تعلیم مدد علی سندھی،وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور سعودی سفیر نواف بن سید المالکی نےامام کعبہ کا استقبال کیا،امام کعبہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، امام کعبہ فیصل مسجد میں نماز جمعہ بھی پڑھائیں گے.

    سابق امام کعبہ کو سزا سنا دی گئی، 2018 میں آئے تھے پاکستان

    جمعہ کے خطبہ کے دوران امام کعبہ پر حملہ کی کوشش

    امام کعبہ کی طرف سےخطبہ جمعہ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری کے اشارے:یروشلم پوسٹ کادعویٰ‌ 

    مفتی عبدالقوی کے امام کعبہ کو چیلنج پر صارفین کی شدید تنقید

  • وفاق تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے،نگران وزیراعظم کی ہدایت

    وفاق تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے،نگران وزیراعظم کی ہدایت

    اسلام آباد:: نگراں وزیرِاعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے۔

    باغی ٹی وی: نگراں وزیرِاعظم انوارالحق کاکڑ کی صدارت میں خیبر پختونخوا میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہدا کے خاندانوں کی بہبود کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں نگراں وزیرِاعلی خیبر پختونخوا جسٹس (ر)ارشد حسین شاہ اور دیگر نے شرکت کی، نگراں وزیرِاعظم کو بجلی چوری کے سد باب کے لیے جاری آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا، انوارالحق کاکڑ نے صوبائی انتظامیہ، واپڈا اور آپریشن میں حصہ لینے والے اداروں کے اہلکاروں کے اقدامات کو سراہا۔

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 2 اہلکار شہید

    پن بجلی کے منصوبوں کی آمدن کی خیبر پختونخوا حکومت کو ادائیگی پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا نگراں وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ نے واپڈا کو معاملے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کوجلد از جلد دور کرنےکی ہدایت کردی،انوار الحق کاکڑ نےخیبر پختونخوا کو ہائیڈل منصوبوں کےحوالے سے تمام تر بقایا جات کی ادائیگی فوری یقینی بنانے کی ہدایت اور کہا کہ واپڈا ادائیگیوں کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔

    نگراں وزیر اعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت اور مرکزی بجلی خرید ادارہ کے مابین تمام حل طلب معاملات کو جلد حل کیا جائے، وفاق کی ذمہ داری ہے کہ تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے، وفاقی حکومت خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

    باجوڑ میں دھماکا، انصار الاسلام کے سابق امیر جاں بحق

    نگراں وزیرِاعظم کو ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا میں جاری پن بجلی کے منصوبوں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا،ملک میں آبی ذخائر اور پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے، پاکستان کو اللہ رب العزت نے پانی کے وسیع وسائل سے نوازا ہے جن کا استعمال بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    اجلاس میں نگراں وزیرِ اعظم کو خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی انوار الحق کاکڑ نے شہدا ویلفیئر فنڈ کو فوری طور پر شہدا کے اہلِ خانہ تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہدا نے ملک کی بقا او ر دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والوں کے خاندان اس قوم کے محسن ہیں، ان کی بہبود کے لیے مختص رقم کی ادائیگی میں کسی قسم کا تعطل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    پاکستان اور قزاخستان کے درمیان ریاستی میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر …

  • امام کعبہ پاکستان پہنچ گئے، فیصل مسجد میں جمعہ بھی پڑھائیں گے

    امام کعبہ پاکستان پہنچ گئے، فیصل مسجد میں جمعہ بھی پڑھائیں گے

    امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید 6 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی، وزیر تعلیم مدد علی سندھی،وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور سعودی سفیر نواف بن سید المالکی نےامام کعبہ کا استقبال کیا،امام کعبہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، امام کعبہ فیصل مسجد میں نماز جمعہ بھی پڑھائیں گے،امام کعبہ پاکستان میں چھ روز قیام کریں گے

    اپنے دورے کے دوران امام کعبہ پاکستان میں اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔امام کعبہ شیخ صالح حمید حفظہ اللہ کی پاکستان آمد کے موقع پر مرکزی جمعیت اہلحدیث کے وفد سے ملاقات ہوئی، پروفیسر ساجد میر کی قیادت میں وفد نے امام کعبہ سے ملاقات کی.

    امام کعبہ فضیلت الشیخ صالح بن عبد اللہ بن حمید سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی،مولانا عبدالغفورحیدری نے امام کعبہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ مملکت سعودی عربیہ نے فلسطین اور اسرائیل جنگ میں مظلوم فلسطینیوں کی صحیح ترجمانی کرکے پوری امت مسلمہ کی نمائندگی کی ۔ سعودی عربیہ مرکز اسلام ہے سعودی عربیہ کی آواز تمام امت مسلمہ کی آواز ہے ۔وفد میں مفتی ابرا احمد، حماد حیدری ، محمد کاکڑ ودیگر شامل تھے.

  • شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق وزیر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی ،وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، پولیس کی جانب سے وکیل طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورے اسلام آباد میں کئی لوگوں پرکریمنل کیسز ہیں صرف شیریں مزاری کا نام کیوں شامل کیا گیا ، پولیس کے وکیل نے کہا کہ شیریں مزاری کے خلاف سات مقدمات درج ہیں ،جن کے پاس کھانا پینا نہیں ہوتا انھوں نے تو بیرون ملک نہیں جانا ہوتا ،شیریں مزاری کی ٹریول ہسٹری کافی زیادہ ہے،ان لوگوں سے کوئی ڈر نہیں ہوتا جن کی ٹریول ہسٹری نہ ہو یا کھانے پینے کی کمی ہو،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسز درج ہیں یا ٹریول ہسٹری زیادہ ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیریں مزاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • الیکشن کا ماحول 2018 کے الیکشن سے بہتر ہو گا،خواجہ آصف

    الیکشن کا ماحول 2018 کے الیکشن سے بہتر ہو گا،خواجہ آصف

    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کو مار پڑتا دیکھ کر خوش نہیں ہیں،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لیول پلینگ فیلڈ کا ہر بندے کا اپنا فارمولا ہے، جو الیکشن میں حصہ لے رہا ہے اسکو موقع ملنا چاہئے،الیکشن کا ماحول 2018 کے الیکشن سے بہتر ہو گا، سیاسی جماعت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، چیئرمین اندر اور باقی تو سب باہر ہیں، ہم نے مشرف کے وقت بھی اور عمران خان کے وقت بھی اس طرح خاموشی اختیار نہیں کی جس طرح پی ٹی آئی نے کی، اگر انکے لیڈر خود رویوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں تو کیا کریں، شاہد خاقان عباسی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، انکے بارے میں سوال پر کمنٹ نہیں کروں‌گا

    چودھری نثار کی واپسی پر پارٹی فیصلہ کرے گی،حنیف عباسی
    ن لیگی سینیر رہنما سابق ایم این اے حنیف عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم چئیرمن پی ٹی آئی ، ورزش کریں ،سہولیات سے لطف اندوز ہوں ،چئیرمین پی ٹی آئی کو لوٹ مار کا حساب دینا ہوگا ،انتخابات میں پی پی پی ، سمیت تمام جماعتیں سے مقابلہ ہوگا،چودھری نثار کی واپسی پر پارٹی فیصلہ کرے گی ،شہباز شریف نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا،آئندہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ہوگی،نواز شریف چوتھی مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بننے جارے ہیں ،لوگوں کی محبت نواز شریف کی وطن واپسی ثبوت ہے ن لیگ حکومت بنائے گی، ملک کو مشکل سے میاں نواز شریف نکال سکتے ہیں،2024 کا الیکشن ن لیگ جیتے گی،پی پی پی محنت کرے حسد نہ کرے ،اپنے وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ کو حقیقی حکمران سمجھا ہے ،ہم نے اپنے حلقے کے لوگوں کے لیے ڈیلیور کیا،بلاول بھٹو زرداری الیکشن ہارتا دیکھ رہے ہیں ،شیخ رشید احمد سسرال جانے سے کوئی نہیں گھبراتا، شیخ رشید احمد نے کہاں جیل کاٹی ،شیخ رشید احمد پاکستان کی سیاست میں جھوٹا سیاست دان ہے،فوارہ چوک میں شیخ رشید احمد سے ڈیبیٹ کرنے کے لیے تیار ہوں ،شیخ رشید احمد اپنے سسرال جائیں، عوامی نمائیندہ کا فیصلہ عوام کرے گی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان