Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر

    نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر پاکستان بار کا رد عمل تاریخ کا حصہ بن جائےگا۔ پاکستان بار کونسل کےرہنما حسن رضا پاشا نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس عدلیہ کی تقسیم اور بار کے ردعمل کی وجہ سے نہ ہوسکا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ اور ان کے دور میں کیے گئے کیسز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ججز کو اہم کیسزمیں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے کیس میں یوٹرن لیا گیا، پہلے ووٹ دینا، پھر ووٹ کی گنتی کو غیر آئینی قرار دیا گیا، فیصلے سے 12 کروڑ عوام کی حکومت تبدیل ہوگئی جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ظلم تو ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں، الیکشن کیلئے نئی حلقہ بندیاں لازمی ہیں، علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل کے رہنما حسن رضا پاشا نے کہا کہ معزز ججز کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس ہوتا ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال بھی ریٹائر ہو رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی ریٹائرمنٹ پر بھی امید تھی کہ فل کورٹ ریفرنس ہوگا، ہم اظہار خیال کریں گے، بینچ اور بار کے درمیان رشتہ اہم ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    حسن رضا پاشا کے مطابق پاکستان بار کونسل نے 4 بار فل کورٹ بینچ بنانے کا مطالبہ کیا، لیکن پاکستان بار کونسل کی درخواست کو مسترد کیا گیا، پاکستان بار کونسل کے رہنما نے فیصلے کو آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا حکم دیا گیا، ہم نے آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کیا۔

  • قاضی فائز عیسیٰ  حلف برداری کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر

    قاضی فائز عیسیٰ حلف برداری کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حلف اٹھانے سے روکنے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کردی گئی جبکہ مقامی وکیل ہاشم صابر راجہ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر درخواست میں اعلیٰ عدلیہ کے دیگر چار ججز کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی گئی اور شکایت میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کی جائیدادوں کی وضاحت دینے میں ناکام رہے.

    https://x.com/MalikRamzanIsra/status/1702382843115327874
    جبکہ شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ انصاف فراہم کرنے والوں کو شفاف اور کسی بھی الزام سے پاک ہونا چاہیے، جسٹس فائز عیسیٰ کسی بھی طرح جج اور چیف جسٹس کے معیار پر پورا نہیں اترتے علاوہ ازیں شکایت کنندہ نے کہا کہ جسٹس مظاہر نقوی اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کے مرتکب ہوئے، جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفسز میں رشتے دار بھرتی کرائے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور جسٹس علی ضیاء باجوہ نے بھی اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے مرتکب ہوئے،ڈیل کے نتیجہ میں پرویز مشرف کو سزا سنانے والی عدالت کا قیام کالعدم قرار دیا گیا،ڈیل کے نتیجہ میں ہی جسٹس مظاہر نقوی کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا،جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفس میں رشتے دار بھرتی کرائے،جسٹس امین الدین خان اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب قرار پائے۔شکایت میں مزید کہا گیاہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور جسٹس علی ضیاء باجوہ نے بھی اختیارات کا غلط استعمال کیا،دونوں ججز نے اثر رسوخ استعمال کرکے جم خانہ کلب کی ممبرشپ خلاف ضابطہ حاصل کی،سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کرتے ہوئے ججز کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کرے۔

  • سائرہ بھارتی؛ میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی؛ میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    https://x.com/MalikRamzanIsra/status/1702352127035920588
    ہندوستان کی معروف ادیبہ و شاعرہ سائرہ بھارتی کا اصل نام سائرہ خان ہے وہ 24 دسمبر 1973 میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام رشید احمد اور والدہ محترمہ کا نام زیب النساء ہے اور وہ دونوں وفات پا چکے ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہندی رسم الخط میں شاعری لکھتی تھی مگر اردو کی محبت مجھے اردو رسم الخط کی طرف لے آئی۔ سائرہ نے تعلیمی سلسلے میں ایم اے اور بی ایڈ کر رکھا ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری میں فرید شمسی صاحب ان کے استاد ہیں جن کا تعلق رام پور اتر پردیش سے ہے۔

    سائرہ شاعری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی کرتی ہیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک قصر ادبی ایوارڈ، شری غزل ایوارڈ سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں ادبی ایوارڈز کے علاوہ سماجی ایوارڈ بھی شامل ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999 میں والدین کی مرضی سے ایک بزنس مین نسیم الدین صدیقی صاحب کے ساتھ شادی سے ہوا۔

    ان کے خاوند محترم کا شعر و ادب سے تعلق نہیں ہے مگر اپنی شریک حیات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاء اللہ وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے خوش قسمت والدین ہیں۔ سائرہ بھارتی نے پرانے دور کے روایتی مشاعروں اور موجودہ دور کے آن لائن مشاعروں دونوں کو شعر و ادب کے فروغ کیلئے مفید اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پرانے دور کے مشاعروں میں بھی شعراء اور شاعرات کے ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی تھی اور نئے شعراء کی تربیت ہوتی تھی تو آجکل کے سوشل میڈیا کے آن لائن و دیگر مشاعروں میں بھی شامل ہونے والے شعراء گھر بیٹھے دور دور سرحد پار ممالک کے مشاعروں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے اپنے کلام پیش کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں ۔ سائرہ کی نظمیہ شاعروں پر مشتمل ایک شعری مجموعہ” یادوں کے سائے” 2008 میں شائع ہو چکا ہے

    جبکہ اردو غزلوں پر مشتمل ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ زیر طباعت ہے۔ سائرہ کی شاعری کا مقصد سماج میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور اپنی تہذیب و تمدن اور مثبت روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور ورثے کے طور پر منتقل کرنا ہے۔ سائرہ صاحبہ کے پسندیدہ ادباء و شعراء اور شاعرات میں غالب، میر، مومن، ذوق، فراز ، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر بشیر بدر، پروین شاکر، کشور ناہید ، منشی پریم چند اور سعادت منٹو شامل ہیں۔ سائرہ کی شاعری مختلف اخبارات و رسائل اور فیس بک وغیرہ میں شائع اور شامل ہوتی رہتی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ظلمت یہ وحشت یہ نفرت کے سائے
    کہیں بن نہ جائیں…… بغاوت کے سائے

    ये ज़ुल्मत ये वहसत ये नफ़रत के साये
    कहीं बन न जाएँ…… बग़ावत के साये

    کڑی دھوپ میں ہے سفر نفرتوں کا
    کہاں کھو گئے ہیں محبت کے سائے

    कड़ी धूप में है ……..सफ़र नफ़रतों का
    कहाँ खो गए हैं…….. मुहब्बत के साये

    شرافت ہی نام و نشاں ہے ہمارا
    تعاقب میں رہتے ہیں ذلت کے سائے

    शराफ़त ही नामो…….. निशां है हमारा
    तअक़्क़ुब में रहते हैं. ज़िल्लत के साये

    ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا خود ہی
    بھٹکنے لگے ہیں قیادت کے سائے

    हमें रास्ता ढूँढना……….. होगा ख़ुद ही
    भटकने लगे हैं ……….क़यादत के साये

    ہوا نفرتوں کی بڑھا دے گی نفرت
    پریشاں بہت ہیں محبت کے سائے

    हवा नफ़रतों की…… बढ़ा देगी नफ़रत
    परीशां बहुत हैं ……….मुहब्बत के साये

    جُھلسنا پڑے گا ہمیں اور کتنا
    بدلنے پڑیں گے سیاست کے سائے

    झुलसना पड़ेगा……. हमें और कितना
    बदलने पड़ेंगे ……….सियासत के साये

    مجھے گرمیء حشر کا خوف کیوں ہو
    مرے ساتھ ہیں ماں کی خدمت کے سائے

    मुझे गर्मी ए हश्र …….का ख़ौफ़ क्यूँ हो
    मिरे साथ हैं माँ की… ख़िदमत के साये

    اسے سائرہ بھول جانا ہے مشکل
    مرے ساتھ ہیں اُس کی چاہت کے سائے

    سائرہ بھارتی
    उसे सायरा भूल…… जाना है मुश्किल
    मिरे साथ हैं उसकी….. चाहत के साये

    सायरा भारती
    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    حقیقت مرے دل کو دیتی ہے راحت
    میں خوابوں کی دنیا بساتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

  • اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں کوئی باندھا ہوا بستر کھولے

    تحریر ۔ آغا نیاز مگسی ۔

    تاریخ پیدائش :14 ستمبر 1951ء
    تاریخ وفات:24 اکتوبر 2017ء

    اردو شاعر 14 ستمبر 1951 کو کوئٹہ میں قاضی مظفر الحق ظفر کے ہاں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم بھی کوئٹہ ہی میں حاصل کی میٹرک 1968ء میں کیا۔ شاعری آپ کو باپ دادا سے وراثت میں ملی آپ نے آغا صادق حسیں نقوی سے اصلاح لی پھر ان کی وفات کے بعد اخگر سہارنپوری سےبھی اصلاح لی آپ نے شناختی کارڈ کے محکمے سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ریٹائرمنٹ لی پھر صحافت کے میدان کو چنا آپ روزنامہ زمانہ کوئٹہ۔اس کے بعد روزنامہ جنگ کوئٹہ اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں جنگ میگزین کے انچارج تھے آپ کانعتیہ کلام دریائے نور 2011ء میں منظر عام پر آیا اسکے بعد دوسرا شعری مجموعہ جو غزلیہ شعری مجموعہ ہے سیل جنوں 2015ء میں شائع ہوا۔ آپ کی پہلی شادی 1971ء میں ہوئی۔ اس شادی سے آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد آپ نے دوسری شادی ممتاز شاعرہ تسنیم صنم صاحبہ سے کی۔ آپ کو استاد الاساتذہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ آپ پختہ گو شاعر تھے۔ حمد۔نعت۔غزل۔نظم۔رباعی۔گیٹ۔ ہائیکو جیسی اصناف سخن پر مکمل عبور حاصل ہونے کے ساتھ قطعہ تاریخ میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ ان کا انتقال24 اکتوبر 2017ء میں ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کولمبو ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا،میچ میں ایک بار پھر بارش کی انٹری
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    غزل
    ۔۔۔
    دیوار میں امکان کا اک در کوئی کھولے
    اوجھل ہے جو آنکھوں سے وہ منظر کوئی کھولے
    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں باندھا ہوا بستر کوئی کھولے
    رقصاں ہو تو پھر نیند سے اٹھنے نہیں دیتی
    اس بادِ صبا کی ذرا جھانجھر کوئی کھولے
    جب ان سنی ہر بات کے ہونے کا یقیں ہو
    کیوں اپنی شکایات کا دفتر کوئی کھولے
    آسیب کے آجانے سے کچھ پہلے عزیزو
    ممکن ہو تو اس دل کا ہر اک گھر کوئی کھولے
    اب شہر کے ہر شخص کی خواہش ہے یہ صائمؔ
    جو باندھ کے رکھا ہے سمندر کوئی کھولے

  • پی آئی اے نجکاری کا عمل تیز کرنےکی ہدایت

    پی آئی اے نجکاری کا عمل تیز کرنےکی ہدایت

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے متعلقہ حکام کو قومی ائیرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل تیز کرنےکی ہدایت کردی ہے جبکہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیرصدارت پی آئی اے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں نگران وزیراعظم کو پی آئی اے کی نج کاری اور دیگر معاملات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق نگران وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیز کرنےکی ہدایت کی اور ان کا کہنا تھا کہ معیاری ہوائی سفر کی فراہمی کے لیے پی آئی اے کی جلداز جلد نجکاری ضروری ہے جبکہ اجلاس میں وزیراعظم نے فواد حسن فواد کو اپنی ٹیم میں شمولیت پر خوش آمدید کہا اور انہوں نے فواد حسن فواد کو پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فرح گوگی سمیت17 افراد، ای سی ایل میں ڈالنےکی منظوری
    کولمبو ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا،میچ میں ایک بار پھر بارش کی انٹری
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    جبکہ اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی، طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور ائیر بس نے طیاروں کے پرزے فراہم کرنے کا پروگرام بند کردیا تھا اور پی آئی اے کے اعلیٰ انتظامی افسر نے بتایا تھا کہ آئندہ دو دن میں پی آئی اے کو فنڈز نہ ملے تو 15 ستمبر سے پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن جاری نہیں رہ سکے گا۔

  • فرح گوگی سمیت17 افراد، ای سی ایل میں ڈالنےکی منظوری

    فرح گوگی سمیت17 افراد، ای سی ایل میں ڈالنےکی منظوری

    وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) نے فرح گوگی سمیت 17 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنےکی منظوری دے دی اور وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کا اجلاس ہوا جس میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، وزیرمواصلات و ریلویز شاہد اشرف تارڑ کے علاوہ وزارت داخلہ ، وزارت قانون اور دیگر اداروں کے افسران نے شرکت کی، اجلاس میں ای سی ایل سے متعلق مختلف نوعیت کےکیسز کا جائزہ لیا گیا۔

    صحافی اعزاز سید کے مطابق کمیٹی نے17 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنےکی منظوری دی، یہ نام مختلف محکموں اور ایجنسیوں کی طرف سے بھیجےگئے تھے جبکہ ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ کی دوست فرحت شہزادی (فرح گوگی) اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالنےکی منظوری دی گئی، نیب نے ان دونوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی وزارت دفاع کے 2 اہلکاروں کو دی گئی سزائے موت پر عمل
    کولمبو ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا،میچ میں ایک بار پھر بارش کی انٹری
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    تاہم اجلاس میں7 مختلف نوعیت کے کیس ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش بھی کی گئی، نظر ثانی کے لیے پیش کی گئی اپیلوں میں سے 5 افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کی گئی، ذیلی کمیٹی کی سفارشات حتمی منظوری کے لیے نگران وفاقی کابینہ کو بھیجی جائیں گی۔

  • اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بجلی غائب

    اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بجلی غائب

    اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو ) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 132 کے وی گرڈ اسٹیشن میں تکنیکی خرابی ہوگئی ہے، گرڈ اسٹیشن میں خرابی کے باعث مختلف گرڈ اسٹیشنز پر لوڈ مینجمنٹ جاری ہے۔ ترجمان آئیسکو کا کہنا ہے کہ متاثرہ گرڈ اسٹیشن میں راولپنڈی کے علاقے شامل ہیں۔

    جبکہ گرڈ اسٹیشنز سے منسلک فیڈرز پر 60 میگاواٹ کی لوڈمینجمنٹ کی جارہی ہے، ترجمان کے مطابق آئیسکو کی ٹیمیں فالٹ کلیئر کرنے کے لیے گرڈ اسٹیشن میں موجود ہیں۔ بجلی منقطع ہونے کی بہت ساری وجوہات ہیں جس میں ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بجلی کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے مرمتی کام انجام دینا ہو۔ بجلی بند کیے بغیر بہت سارا کام انجام دیا جا سکتا ہے، لیکن کبھی کبھار بجلی کو تھوڑی دیر کے لیے بند کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

    اگر آپ کے بجلی کے نیٹ ورک آپریٹر کو منصوبہ بندی کردہ مرمت کے لیے آپ کی بجلی بند کرنے کی ضرورت ہوئی، تو وہ آپ کو ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ نوٹس فراہم کریں گے۔ وہ آپ کو کم از کم 48 گھنٹوں کا نوٹس دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر کسی ایمرجنسی کے سبب کام انجام دینا پڑے، تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو پیشگی اس سے آگاہ کرنا ممکن نہ ہو۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر بیچنے والوں کو تنگ نہ کیا جائے تاکہ دوبارہ بلیک مارکیٹ نہ چلے جائیں۔ ملک بوستان
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    غیر منصوبہ بندی کردہ بجلی کے انقطاع اس وقت وقوع پذیر ہوتے ہیں جب بجلی کے نیٹ ورک پر کوئی مسئلہ ہو۔ جیسا کہ آپ کے گھر میں ٹرپ سوئچ ہونا، وہ حفاظتی آلہ جو بجلی کے نیٹ ورک کے پاس ہے جو مسئلے کی نشاندہی ہونے پر بجلی بند کر دیتا ہے۔ ایسا اس وقت ہو سکتا ہے کہ کسی نے یا کسی چیز نے کسی تار، کیبل یا بجلی کے سامان کے کسی دیگر حصے کو نقصان پہنچایا ہو۔

  • ڈالر  بیچنے والوں کو  تنگ نہ کیا جائے تاکہ  دوبارہ  بلیک  مارکیٹ نہ چلے جائیں۔ ملک بوستان

    ڈالر بیچنے والوں کو تنگ نہ کیا جائے تاکہ دوبارہ بلیک مارکیٹ نہ چلے جائیں۔ ملک بوستان

    چیئرمین پاکستان فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن ملک بوستان نے مطالبہ کیا ہےکہ ڈالر بیچنے کے لیے آنے والوں کو تنگ نہ کیا جائے تا کہ وہ دوبارہ بلیک مارکیٹ نہ چلے جائیں جبکہ کراچی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ کریک ڈاؤن پر آرمی چیف کو قوم کی مبارک باد، آرمی چیف نے یہ بیڑا اٹھایا جو سول حکومت کو اٹھانا تھا، کریک ڈاؤن کی وجہ سے آج پاکستان میں چینی کے ریٹ کم ہو رہے ہیں، بجلی، پیٹرول کے ریٹ بھی کم ہوں گے، ڈالرکا ریٹ مسلسل کم ہو رہا ہے، آپریشن جاری اور اسمگلنگ بند رہتی ہے تو ڈالر 250 روپے تک بھی جاسکتا ہے۔

    جبکہ ملک بوستان کا کہنا تھا کہ جب سےکریک ڈاؤن شروع ہوا ہے ایکسچینج کمپنی کی سپلائی بہت بڑھ گئی ہے، آج ایکسچینج کمپنی نے 15 ملین ڈالر انٹربینک میں فروخت کیے ہیں، ماضی میں انٹربینک میں ڈالرکی فروخت 5 سے 10 ملین ڈالر سے اوپر نہیں جا رہی تھی، امید ہے آنے والے دنوں میں انٹربینک میں ڈالر کی فروخت 20 ملین یومیہ ہوجائےگی، امید ہے اس ماہ ہم 500 ملین سے زیادہ ڈالر انٹر بینک میں سرنڈرکریں گے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرنسی تبدیل کرانے والوں کو تحفظ دیاجائے، تنگ نہ کیا جائے، ایکسچینج کمپنیوں میں کرنسی سیل کرنے والےکلائنٹس کی آمدکم ہوگئی ہے،کمی کی وجہ ایجنسی والوں کی طرف سے ان کا ڈیٹا اکھٹا کرنا ہے، ڈالر بیچنے آنے والوں کو تنگ نہ کیا جائے اور پورٹل کے ذریعے ریکارڈ رکھاجائے، ڈالر بیچنے والوں کو کوئی تنگ کرے تو شکایت نمبر بھی ہونا چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    خیال رہے کہ ملک بوستان کا کہنا تھا کہ میں نے ڈی جی ایف آئی اے محسن بٹ سے بھی بات کی ہے، ڈالر بیچنے والوں کا پورٹل بنایا جائے تاکہ انہیں کوئی سرکاری اہلکار نہ روکے، پورٹل میں رجسٹریشن نمبر دیا جائے، نمبر دکھائیں اور کرنسی جمع کرائیں یا تبدیل کرائیں اور انہوں نےکہا کہ کرنسی تبدیل کرنے والوں کو تنگ نہ کریں تا کہ وہ دوبارہ بلیک مارکیٹ نہ چلے جائیں، اس طرح ہماری اور آرمی چیف کی محنت ضائع چلی جائےگی، آرمی چیف نے جو بیڑا اٹھایا ہے اسےہم پار کریں گے۔

  • نوجوانوں کی بھرپور شرکت ملک کا روشن مستقبل ہے. اسپیکر قومی اسمبلی

    نوجوانوں کی بھرپور شرکت ملک کا روشن مستقبل ہے. اسپیکر قومی اسمبلی

    اسپیکر قومی اسمبلی قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کا تسلسل اور جمہوریت میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت ملک کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے، پاکستان میں جمہوریت شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی عظیم قربانیوں کی مرہون منت ہے. اسپیکر قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت نے خود کو بہترین طرز حکومت کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کی پاسداری اور ان پر عمل درآمد کرنے والے ممالک خوشحالی اور ترقی کی بلندیوں کو چھو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللّه تعالی نے پاکستان کو باصلاحیت نوجوانوں سے نوازا ہے جو پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔

    اسپیکر نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کے لیے قوم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی پاکستانی عوام جمہوری نظام کے بقاء کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ قوم کی تقدیر کا تعین کرنے کے تمام اختیارات عوام کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ واحد سیاسی لیڈر تھے جنہوں نے ملک کو پہلا جمہوری اور متفقہ آئین دیا۔ انہوں نے دختر مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید بی بی ہمیشہ جمہوریت کے تسلسل اور آئین کی بالادستی کی بات کرتی تھیں۔انہوں نے اس سال کے یوم جمہوریت کے موقع پر نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان میں بلاول بھٹو زرداری جیسے نوجوان اور متحرک رہنما موجود ہیں جو ملک کی ترقی، خوشحالی اور جمہوری مستقبل کی امید ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنے آباؤ اجداد کی طرح پر امن، ترقی پسند اور جمہوری پاکستان کا داعی ہیں۔

    اسپیکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے انتخابات کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ آئین میں انتخابات کے حوالے سے واضح رہنما اصول موجود ہیں اور ہر ادارے کا فرض ہے کہ وہ ان پر مکمل طور پر عمل کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان جمہوری نظام کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔انہوں نے پارلیمانی نظام کے تسلسل پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے فروغ کے ذریعے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا۔

    انہوں نے نام نہاد جمہوریت کا پرچار کرنے والے ملک بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہے اور مقبوضہ جموں کشمیر میں لوگوں کے جمہوری حق خود ارادیت کو صلب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو کشمیری عوام کی حالت زار کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارتی جارحیت اور ظلم کو روکنے کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں دنیا کے جدید اصولوں کے منافی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نوجوانوں کو جمہوری نظام میں شامل کرنے کے لیے پروگرام شروع کرنے میں سب سے آگے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا پارلیمنٹ ہے جس نے آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کے موقع پر بچوں، خواتین، اقلیتوں، نوجوانوں، خواجہ سراؤں اور ملک کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام کے لیے قومی اسمبلی کے ایوان کے دروازے کھولے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے بچوں کے حقوق پر پہلی پارلیمانی کاکس کا قیام عمل میں لایا اور چھوٹے بچوں کے لیے پہلی سمر انٹرن شپ کا اجراء کیا جس میں موک پارلیمنٹ کا انعقاد کیا گیا اور بچوں کی اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام شروع کیے گئے ہیں جس کا مقصد نوجوانوں میں آئین اور پارلیمان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نوجوانوں کو جمہوری اور پارلیمانی عمل میں شامل کرنے کے لیے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر آئینی یادگار کا افتتاح، باغِ دستور، ڈاک ٹکٹ، آئینی کتاب کے اصل رسم الخط کی نمائش، آئینی ایپ کا اجراء بھی کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو آئین پاکستان کا مطالعہ کرنے میں دشواری کا سامنا نا کرنا پڑے۔

  • اسٹیٹ بینک  نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے اور شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھا ہے جبکہ مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود 22 فیصد پر برقرار رہے گی اور اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ مئی میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی تھی جبکہ اگست میں مہنگائی کی شرح 27.4 فیصد رہی۔


    جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگر چہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے مگر مہنگائی کم ہونے کا تخمینہ ہے اور مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے 27 فیصد پر آنے کی وجہ سے پالیسی ریٹ برقرار رکھا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا

    تاہم واضح رہے کہ اس سے قبل 31 جولائی کو مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا، اور تب بھی شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھا گیا تھا۔ شرح سود 21 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کرنے کا فیصلہ 26 جون کو ہوا تھا جب مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی جاری کی تھی۔

    دوسری جانب گولڈ مافیا کےخلاف بڑے کریک ڈاؤن کا آغازکردیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز پر مشتمل ٹاسک فورس بنادی گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ گولڈ مافیا اور اسمگلرز کے خلاف فیصلہ کن ایکشن لینے کے لئے ٹاسک فورس بنادی گئی ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹاسک فورس کا مقصد گولڈ مافیا کےخلاف کارروائی کرنا ہے، ٹاسک فورس نے سونے کے اسمگلرز کی فہرست تیار کرلی، ذرائع کا کہنا ہے کہ گولڈ ڈیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے بھی اقدامات کئےگئے ہیں۔ سونے کی خرید و فروخت کو کمپیوٹرائزڈ کرنے پر کام کا آغاز بھی کردیا گیا۔