Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے،نگران وزیراعظم

    بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا، نگراں حکومت بلاخوف و خطر کارروائی کر رہی ہے کچے کے حوالے سے آپریشنل کمانڈ نے فیصلہ کرنا ہے ، 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نظام کو بحال کیا ہے، روز گار کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے ، غیر قانونی طور پر کسی کو بھی پاکستان میں قیام کی اجازت نہیں، غیر قانونی رہائشی غیر ملکیوں کو جلد ان کے ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجلی چوری ،ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو،میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت گورننس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے ذخیرہ اندوزی، مہنگائی اورسمگلنگ کے حوالے سے صوبوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرحکمت عملی وضع کی گئی ہے لوگوں میں یہ تاثرتھا کہ یہ ایک ہفتے یا چند دن کی مہم ہے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ہفتے دو ہفتے کی بات نہیں ہے جو اقدامات کئے جارہے ہیں انہیں مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے متعلقہ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے پہلے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کس کا کام ہے اس رجحان کوبدلنے کی ضرورت ہے بیورو کریسی ، پولیس اورمتعلقہ ادارے مل کرکام کریں گے اور گورننس کے لئے جہاں ضرورت ہوگی فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی, سول اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا جو وقت کی ضرورت ہے سول اداروں کی استعداد کارمیں اضافے سے ان کی کارکردگی اور کردار میں بہتری آتی جائے گی

    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی ہدایت پرملک بھرمیں بجلی چوری کے خاتمہ اورواجبات کی وصولی کے لئے مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے اور8 دنوں میں بجلی چوروں کے خلاف 5 ہزارسے زائد ایف آئی آرزدرج کرکے گرفتاریاں کی گئی ہیں اورواجبات کی وصولی1 ارب 74 کروڑ80 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے ،ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بجلی چوری اور واجبات کی وصولی کے لئے مہم کا آغاز 7 ستمبر سے کیا گیا اور پہلے 7 دنوں میں نادہندگان سے 80 کروڑ روپے کی وصولیاں ہوئیں جبکہ صرف پچھلے 2 دنوں میں یہ وصولیاں 90 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں ،اس سلسلے میں تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے جس کے تحت وہ لائن لاسز میں کمی ، واجبات کی وصولی اوربجلی کی چوری میں ملوث عناصرکے خلاف دن رات کریک ڈائون کررہی ہیں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے 

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کابینہ مختصر رکھیں گے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا پہلا اہم کیس،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقررکر دیا گیا

    سپریم کورٹ کا لارجر بینچ 18 ستمبر کو اہم کیس کی سماعت کریگا ،نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں لارجر بینچ کیس کی سماعت کرے گا،رجسٹرار آفس نے سپریم کورٹ پریکٹس ایکٹ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی کاز لسٹ جاری کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے سپریم کورٹ پریکٹس بل پر 13 اپریل کو عمل در آمد روک دیا تھا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    سپریم کورٹ نے 8 جون کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ترامیم کیخلاف کیس سننے کیلٸے فل کورٹ تشکیل دینے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فیصلے تک کارروائی روکنے کی رائے دی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آج آٹھ مقدمات کی سماعت کی

    چیف جسٹس کے ساتھ بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل تھیں ،مقدمات میں پیش ہونے والے وکلا نے چیف جسٹس کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا شکریہ، میں بھی آپ کیلئے دعا گو ہوں ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ جس نے مجھے موقع دیا،میڈیا نے مجھے متحرک رکھا، میڈیا کی تنقید کو بھی ویلکم کرتا ہوں،عدالتی فیصلوں پر تنقید ضرور کریں، جج پر تنقید کریں تو یقینی بنائیں وہ سچے حقائق پر مبنی ہو، بارز کی جانب ملنے والے تعاون پر شکر گزار ہوں ،اللہ کی خوشنودی کو ذہن میں رکھ کر کام کیا، کالے کوٹ کا ہمیشہ بار سے تعلق رہتا ہے، وکلا سے اب ان شا اللہ بار روم میں ملاقات ہو گی،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کل 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے،نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • چودھری پرویز الہی کی ضمانت ایک بار پھر منظور

    چودھری پرویز الہی کی ضمانت ایک بار پھر منظور

    پرویز الٰہی کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس کی سماعت ہوئی

    اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے پرویز الٰہی کی درخواست ضمانت منظور کرلی ، پرویز الہٰی کی جانب سے وکیل بابر اعوان اور سردار عبدالرازق عدالت میں پیش ہوئے ، پراسیکیوٹر راجہ نوید نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ریکارڑ تھوڑی دیر میں پہنچ جائے گا، اس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہےعدالت شروع ہو گئی اور ریکارڈ نہیں پہنچا، آپ دلائل کا آغاز کریں،بابر اعوان نے پرویز الہیٰ کی ضمانت منظور کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پرویز الہیٰ ایک مشہورسیاست دان ہیں اور انکی گرفتاری شک کی بنیاد پر ڈالی گئی ایف آئی آر میں شریک تمام ملزمان کی ضمانت دے دی گئی ہے ، سرادر عبدالرازق نے دلائل میں مختلف عدالتی فیصلوں کی کاپیاں فراہم کیں اور کہا کہ ایف آئی آر کے درج ہونے کے 6 ماہ بعد پرویز الہیٰ کا نام ڈالا گیا ،اس کیس میں نامزد ملزماں اسد عمر، چیئرمین پی ٹی آئی سمیت دیگر تمام کی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں، پرویز الہیٰ کی ضمانت بھی منظور کی جائے

    پراسیکیوشن کی جانب سے پرویز الہٰی کی ضمانت کی مخالفت کی گئی پراسیکیوٹر راجا نوید نے کہا کہ ایف آئی آر جن دفعات کے تحت درج کی گئی وہ ناقابل ضمانت ہیں، مخبر کی اطلاع پر پرویز الہیٰ کو گرفتار کیا گیا ،عدالت نے پرویز الہی کی 20 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی، جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ریماکس دیے کے ایف آئی آر میں پرویز الہٰی نامزد نہیں ہیں، 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران بھی کوئی چیز برآمد نہیں کی گئی۔

    دوسری جانب چوہدری پرویز کو مزید کسی مقدمہ میں گرفتاری کا خدشہ،پرویز الہی نے آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا،پرویز الہی کے وکیل سردار عبد الرازق درخواست دائر کریں گے ،وکیل کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد دوبارہ ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے درخواست دائر کر رہے ہیں ،تھوڑی دیر میں پرویز الہی کی طرف سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کریں گے ،

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی میں گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے،صدر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن نے گرفتار کیا-

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • منیشا گلیانی؛ کتھک کی مشہور ڈانسر

    منیشا گلیانی؛ کتھک کی مشہور ڈانسر

    منیشا گلیانی بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ہندوستانی رقاصہ ہیں جو بنیادی طور پر ہندوستانی کلاسیکی رقص "کتھک” پیش کرتی ہے۔ منیشا کی پیدائش اور پرورش ہندوستان کے گلابی شہر جے پور میں ہوئی۔ اس نے 7 سال کی کم عمری میں جے پور کتھک مرکز میں کتھک کی تربیت شروع کی۔

    اس کے بعد اس نے ہندوستان کے مختلف نامور اداروں سے کتھک رقص میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں، وہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی پر مختلف مضامین لے کر آئی ہیں اور ڈی پی ایس سوسائٹی جے پور اور بھارتیہ ودیا بھون کے لیے بطور ڈانس انسٹرکٹر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ اس نے تھرک اتسو نامی سالانہ آرگنائزڈ انڈین کلاسیکل ڈانس فیسٹیول کی کیوریٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    اپنے کیریئر کے دوران، اس نے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بیرون ملک بھی مختلف تقریبات میں پرفارم کیا ہے۔ وہ ایک ہونہار رقاصہ تھیں اور اس کے لیے اس نے خود کو مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا ہے۔ اس نے حکومت ہند کی طرف سے جونیئر اور سینئر دونوں سطحوں پر قومی اسکالرشپ حاصل کی۔ انہیں مختلف بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

  • 30 ستمبر کو جڑانوالہ میں  آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد

    30 ستمبر کو جڑانوالہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد

    ورلڈ مینارٹیز الائنس کے کنوینئر اور سابق وفاقی وزیر جے سالک کا کہنا ہے جڑانوالہ کا نام تبدیل کر کے میثاق آباد رکھنا چاہیے، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی بڑا قومی لیڈر جڑانوالہ نہیں گیا، 30 ستمبر کو جڑانوالہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کریں گے اور ورلڈ مینارٹیز الائنس کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

    جبکہ کانفرنس میں ورلڈ مینارٹیز الائنس کے کنوینیر جے سالک کا کہنا تھا جڑانوالہ میں جو کچھ یوا یہ ہونا تھا، کیونکہ ہمارے اندر نہ اسلامک ازم اور نہ نیشنل ازم ہے، ان کا کہنا تھا 30 ستمبر کو جڑانوالہ میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں علماء، سکھ برادری اور ہندو کمیونٹی کے نمائندے بھی شرکت کرینگے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    خیال رہے کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے چرچ کے اندر کابینہ اجلاس منعقد کیا تھا۔ جس میں جڑانوالہ واقعہ کیلئے 20 لاکھ روپے فی گھر امداد کی منظوری دی گئی تھی۔ محسن نقوی نے کہا تھا کہ سارے چرچ بحال کئے جائیں گے۔ سابق ممبر اقلیتی کمیشن آف پاکستان البرٹ ڈیورڈ نے کہا تھا کہ ریاست کو مسیحی برادری کو تحفط دینا ہوگا۔

  • نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر

    نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر پاکستان بار کا رد عمل تاریخ کا حصہ بن جائےگا۔ پاکستان بار کونسل کےرہنما حسن رضا پاشا نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس عدلیہ کی تقسیم اور بار کے ردعمل کی وجہ سے نہ ہوسکا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ اور ان کے دور میں کیے گئے کیسز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ججز کو اہم کیسزمیں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے کیس میں یوٹرن لیا گیا، پہلے ووٹ دینا، پھر ووٹ کی گنتی کو غیر آئینی قرار دیا گیا، فیصلے سے 12 کروڑ عوام کی حکومت تبدیل ہوگئی جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ظلم تو ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں، الیکشن کیلئے نئی حلقہ بندیاں لازمی ہیں، علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل کے رہنما حسن رضا پاشا نے کہا کہ معزز ججز کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس ہوتا ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال بھی ریٹائر ہو رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی ریٹائرمنٹ پر بھی امید تھی کہ فل کورٹ ریفرنس ہوگا، ہم اظہار خیال کریں گے، بینچ اور بار کے درمیان رشتہ اہم ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخابات ہونے ہیں. خرم دستگیر
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    حسن رضا پاشا کے مطابق پاکستان بار کونسل نے 4 بار فل کورٹ بینچ بنانے کا مطالبہ کیا، لیکن پاکستان بار کونسل کی درخواست کو مسترد کیا گیا، پاکستان بار کونسل کے رہنما نے فیصلے کو آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا حکم دیا گیا، ہم نے آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کیا۔

  • قاضی فائز عیسیٰ  حلف برداری کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر

    قاضی فائز عیسیٰ حلف برداری کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حلف اٹھانے سے روکنے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کردی گئی جبکہ مقامی وکیل ہاشم صابر راجہ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر درخواست میں اعلیٰ عدلیہ کے دیگر چار ججز کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی گئی اور شکایت میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کی جائیدادوں کی وضاحت دینے میں ناکام رہے.

    https://x.com/MalikRamzanIsra/status/1702382843115327874
    جبکہ شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ انصاف فراہم کرنے والوں کو شفاف اور کسی بھی الزام سے پاک ہونا چاہیے، جسٹس فائز عیسیٰ کسی بھی طرح جج اور چیف جسٹس کے معیار پر پورا نہیں اترتے علاوہ ازیں شکایت کنندہ نے کہا کہ جسٹس مظاہر نقوی اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کے مرتکب ہوئے، جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفسز میں رشتے دار بھرتی کرائے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور جسٹس علی ضیاء باجوہ نے بھی اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے مرتکب ہوئے،ڈیل کے نتیجہ میں پرویز مشرف کو سزا سنانے والی عدالت کا قیام کالعدم قرار دیا گیا،ڈیل کے نتیجہ میں ہی جسٹس مظاہر نقوی کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا،جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفس میں رشتے دار بھرتی کرائے،جسٹس امین الدین خان اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب قرار پائے۔شکایت میں مزید کہا گیاہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور جسٹس علی ضیاء باجوہ نے بھی اختیارات کا غلط استعمال کیا،دونوں ججز نے اثر رسوخ استعمال کرکے جم خانہ کلب کی ممبرشپ خلاف ضابطہ حاصل کی،سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کرتے ہوئے ججز کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کرے۔

  • سائرہ بھارتی؛ میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی؛ میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    https://x.com/MalikRamzanIsra/status/1702352127035920588
    ہندوستان کی معروف ادیبہ و شاعرہ سائرہ بھارتی کا اصل نام سائرہ خان ہے وہ 24 دسمبر 1973 میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام رشید احمد اور والدہ محترمہ کا نام زیب النساء ہے اور وہ دونوں وفات پا چکے ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہندی رسم الخط میں شاعری لکھتی تھی مگر اردو کی محبت مجھے اردو رسم الخط کی طرف لے آئی۔ سائرہ نے تعلیمی سلسلے میں ایم اے اور بی ایڈ کر رکھا ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری میں فرید شمسی صاحب ان کے استاد ہیں جن کا تعلق رام پور اتر پردیش سے ہے۔

    سائرہ شاعری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی کرتی ہیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک قصر ادبی ایوارڈ، شری غزل ایوارڈ سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں ادبی ایوارڈز کے علاوہ سماجی ایوارڈ بھی شامل ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999 میں والدین کی مرضی سے ایک بزنس مین نسیم الدین صدیقی صاحب کے ساتھ شادی سے ہوا۔

    ان کے خاوند محترم کا شعر و ادب سے تعلق نہیں ہے مگر اپنی شریک حیات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاء اللہ وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے خوش قسمت والدین ہیں۔ سائرہ بھارتی نے پرانے دور کے روایتی مشاعروں اور موجودہ دور کے آن لائن مشاعروں دونوں کو شعر و ادب کے فروغ کیلئے مفید اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پرانے دور کے مشاعروں میں بھی شعراء اور شاعرات کے ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی تھی اور نئے شعراء کی تربیت ہوتی تھی تو آجکل کے سوشل میڈیا کے آن لائن و دیگر مشاعروں میں بھی شامل ہونے والے شعراء گھر بیٹھے دور دور سرحد پار ممالک کے مشاعروں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے اپنے کلام پیش کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں ۔ سائرہ کی نظمیہ شاعروں پر مشتمل ایک شعری مجموعہ” یادوں کے سائے” 2008 میں شائع ہو چکا ہے

    جبکہ اردو غزلوں پر مشتمل ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ زیر طباعت ہے۔ سائرہ کی شاعری کا مقصد سماج میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور اپنی تہذیب و تمدن اور مثبت روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور ورثے کے طور پر منتقل کرنا ہے۔ سائرہ صاحبہ کے پسندیدہ ادباء و شعراء اور شاعرات میں غالب، میر، مومن، ذوق، فراز ، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر بشیر بدر، پروین شاکر، کشور ناہید ، منشی پریم چند اور سعادت منٹو شامل ہیں۔ سائرہ کی شاعری مختلف اخبارات و رسائل اور فیس بک وغیرہ میں شائع اور شامل ہوتی رہتی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ظلمت یہ وحشت یہ نفرت کے سائے
    کہیں بن نہ جائیں…… بغاوت کے سائے

    ये ज़ुल्मत ये वहसत ये नफ़रत के साये
    कहीं बन न जाएँ…… बग़ावत के साये

    کڑی دھوپ میں ہے سفر نفرتوں کا
    کہاں کھو گئے ہیں محبت کے سائے

    कड़ी धूप में है ……..सफ़र नफ़रतों का
    कहाँ खो गए हैं…….. मुहब्बत के साये

    شرافت ہی نام و نشاں ہے ہمارا
    تعاقب میں رہتے ہیں ذلت کے سائے

    शराफ़त ही नामो…….. निशां है हमारा
    तअक़्क़ुब में रहते हैं. ज़िल्लत के साये

    ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا خود ہی
    بھٹکنے لگے ہیں قیادت کے سائے

    हमें रास्ता ढूँढना……….. होगा ख़ुद ही
    भटकने लगे हैं ……….क़यादत के साये

    ہوا نفرتوں کی بڑھا دے گی نفرت
    پریشاں بہت ہیں محبت کے سائے

    हवा नफ़रतों की…… बढ़ा देगी नफ़रत
    परीशां बहुत हैं ……….मुहब्बत के साये

    جُھلسنا پڑے گا ہمیں اور کتنا
    بدلنے پڑیں گے سیاست کے سائے

    झुलसना पड़ेगा……. हमें और कितना
    बदलने पड़ेंगे ……….सियासत के साये

    مجھے گرمیء حشر کا خوف کیوں ہو
    مرے ساتھ ہیں ماں کی خدمت کے سائے

    मुझे गर्मी ए हश्र …….का ख़ौफ़ क्यूँ हो
    मिरे साथ हैं माँ की… ख़िदमत के साये

    اسے سائرہ بھول جانا ہے مشکل
    مرے ساتھ ہیں اُس کی چاہت کے سائے

    سائرہ بھارتی
    उसे सायरा भूल…… जाना है मुश्किल
    मिरे साथ हैं उसकी….. चाहत के साये

    सायरा भारती
    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    حقیقت مرے دل کو دیتی ہے راحت
    میں خوابوں کی دنیا بساتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

  • اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں کوئی باندھا ہوا بستر کھولے

    تحریر ۔ آغا نیاز مگسی ۔

    تاریخ پیدائش :14 ستمبر 1951ء
    تاریخ وفات:24 اکتوبر 2017ء

    اردو شاعر 14 ستمبر 1951 کو کوئٹہ میں قاضی مظفر الحق ظفر کے ہاں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم بھی کوئٹہ ہی میں حاصل کی میٹرک 1968ء میں کیا۔ شاعری آپ کو باپ دادا سے وراثت میں ملی آپ نے آغا صادق حسیں نقوی سے اصلاح لی پھر ان کی وفات کے بعد اخگر سہارنپوری سےبھی اصلاح لی آپ نے شناختی کارڈ کے محکمے سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ریٹائرمنٹ لی پھر صحافت کے میدان کو چنا آپ روزنامہ زمانہ کوئٹہ۔اس کے بعد روزنامہ جنگ کوئٹہ اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں جنگ میگزین کے انچارج تھے آپ کانعتیہ کلام دریائے نور 2011ء میں منظر عام پر آیا اسکے بعد دوسرا شعری مجموعہ جو غزلیہ شعری مجموعہ ہے سیل جنوں 2015ء میں شائع ہوا۔ آپ کی پہلی شادی 1971ء میں ہوئی۔ اس شادی سے آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد آپ نے دوسری شادی ممتاز شاعرہ تسنیم صنم صاحبہ سے کی۔ آپ کو استاد الاساتذہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ آپ پختہ گو شاعر تھے۔ حمد۔نعت۔غزل۔نظم۔رباعی۔گیٹ۔ ہائیکو جیسی اصناف سخن پر مکمل عبور حاصل ہونے کے ساتھ قطعہ تاریخ میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ ان کا انتقال24 اکتوبر 2017ء میں ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کولمبو ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا،میچ میں ایک بار پھر بارش کی انٹری
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    غزل
    ۔۔۔
    دیوار میں امکان کا اک در کوئی کھولے
    اوجھل ہے جو آنکھوں سے وہ منظر کوئی کھولے
    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں باندھا ہوا بستر کوئی کھولے
    رقصاں ہو تو پھر نیند سے اٹھنے نہیں دیتی
    اس بادِ صبا کی ذرا جھانجھر کوئی کھولے
    جب ان سنی ہر بات کے ہونے کا یقیں ہو
    کیوں اپنی شکایات کا دفتر کوئی کھولے
    آسیب کے آجانے سے کچھ پہلے عزیزو
    ممکن ہو تو اس دل کا ہر اک گھر کوئی کھولے
    اب شہر کے ہر شخص کی خواہش ہے یہ صائمؔ
    جو باندھ کے رکھا ہے سمندر کوئی کھولے